Baaghi TV

Tag: راہول

  • بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،رکن پارلیمنٹ مکیش راجپوت زخمی،آئی سی یو داخل

    بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،رکن پارلیمنٹ مکیش راجپوت زخمی،آئی سی یو داخل

    بھارتی سیاست میں ایک نیا تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا جب بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے حوالے سے ایک متنازعہ بیان دیا، جس پر اپوزیشن جماعتوں میں شدید احتجاج دیکھنے کو ملا۔

    جمعرات کو پارلیمنٹ میں اس تنازعے پر ہنگامہ بڑھ گیا، اور اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ کے "مکڑ دروازے” پر شدید احتجاج کیا۔ اس دوران کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی پر الزام ہے کہ انہوں نے دو بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ کو دھکیل دیا، جس کے نتیجے میں دونوں ارکان زخمی ہو گئے۔بی جے پی کے دو ارکان پارلیمنٹ، پرتھاپ سرنگی اور مکیش راجپوت، پارلیمنٹ کی عمارت کے قریب ہونے والے اس تصادم میں زخمی ہو گئے۔ مکیش راجپوت کو شدید چوٹیں آئیں اور انہیں دہلی کے رام منوہر لوہیا اسپتال میں آئی سی یو میں داخل کرایا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ اسپتال کے مطابق، پرتھاپ سرنگی کو بھی سر میں شدید چوٹ آئی تھی اور انہیں بھی اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

    پرتھاپ سرنگی نے واقعہ کے بارے میں بتایا، "راہل گاندھی نے ایک ایم پی کو دھکیل دیا، اور وہ مجھ پر گر گیا جس سے میں گر گیا۔ میں سیڑھیوں کے قریب کھڑا تھا جب راہل گاندھی آیا اور اس ایم پی کو دھکیل دیا جس کے نتیجے میں وہ مجھ پر جا گرا۔”

    راہل گاندھی نے بی جے پی ارکان کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ کی عمارت کے داخلی دروازے کو روکنے کی کوشش کر رہے تھے اور انہیں دھکیلنے کی کوشش کی۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، "میں پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا اور بی جے پی کے ارکان مجھے روکنے، دھکیلنے اور دھمکانے کی کوشش کر رہے تھے۔” جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مالیکار جن کھڑگے اور پریانکا گاندھی کو بھی دھکیل دیا گیا تھا، تو انہوں نے جواب دیا، "ایسا ہوا ہے، مگر ہمیں ان دھکیلنے کی حرکتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”

    بی جے پی اور کانگریس کے درمیان الزامات اور جوابی الزامات
    بی جے پی اور کانگریس دونوں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہے ہیں کہ مخالف فریق نے پارلیمنٹ میں تشویش پیدا کرنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا۔ بی جے پی ارکان کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی اور اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے داخلی راستے پر ان پر حملہ کیا، جبکہ اپوزیشن نے بی جے پی پر الزامات عائد کیے کہ وہ پارلیمنٹ میں امبیڈکر کے حوالے سے امیت شاہ کے بیانات کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    یہ تمام واقعات وزیر داخلہ امیت شاہ کے بی آر امبیڈکر سے متعلق ایک بیان کے بعد سامنے آئے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "امبیڈکر اب فیشن بن چکے ہیں”۔ اس بیان پر اپوزیشن جماعتیں شدید ناراض ہو گئیں اور انہوں نے امیت شاہ سے معافی کی درخواست کی۔ اپوزیشن جماعتوں، خاص طور پر کانگریس اور انڈیا اتحاد کے ارکان نے امیت شاہ کے خلاف پارلیمنٹ میں احتجاج کیا اور ان کی استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔

    انڈیا اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ نے پارلیمنٹ میں بی آر امبیڈکر کے مجسمے کے سامنے احتجاج کیا اور "جے بھیم” اور "امیت شاہ معافی مانگو” کے نعرے لگائے۔ احتجاج کے دوران، کانگریس کے مالیکار جن کھڑگے، راہل گاندھی اور پریانکا گاندھی سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے نیلے رنگ کے کپڑے پہن کر احتجاج میں شرکت کی۔ یہ نیلا رنگ ڈاکٹر بی آر امبیڈکر سے جڑا ہوا ہے، جو بھارت کے آئین کے معمار تھے۔دوسری طرف، بی جے پی کے اراکین نے بھی پارلیمنٹ میں مارچ کیا اور اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ وہ امبیڈکر کی توہین کر رہے ہیں۔ بی جے پی نے مطالبہ کیا کہ اپوزیشن پارٹیوں کو امبیڈکر کے حوالے سے اپنے رویے پر معافی مانگنی چاہیے۔

    اس ہنگامے کے بعد، لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کی کارروائی کو معطل کر دیا گیا۔ اپوزیشن نے امیت شاہ سے معافی کا مطالبہ کیا اور ان کے خلاف کارروائی کرنے کی بات کی۔ اس کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں دونوں جانب سے شدید نعرے بازی کا سامنا رہا۔

    مکیش راجپوت، جو اس واقعہ کے دوران زخمی ہوئے، بی جے پی کے ایک نمایاں رکن پارلیمنٹ ہیں اور فی الحال اتر پردیش کے فریدآباد سے لوک سبھا کے ممبر ہیں۔ انہوں نے حالیہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں سماج وادی پارٹی کے امیدوار، نوال کشور شکیا کو شکست دی تھی۔ راجپوت نے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی ہے اور ان کی سیاسی سرگرمیاں خاصی فعال ہیں۔

    بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،راہول گاندھی کیخلاف تھانے میں مقدمہ کی درخواست

    بھارت:بھکاریوں کو بھیک دینے والوں کیخلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ

  • والدہ کو دیئے گئے کتے کے بچے کا نام نوری رکھنے پر راہول گاندھی کیخلاف درخواست

    والدہ کو دیئے گئے کتے کے بچے کا نام نوری رکھنے پر راہول گاندھی کیخلاف درخواست

    بھارت میں کانگریس رہنما راہول گاندھی نے والدہ کو تحفے میں کتے کا بچہ دیا،راہول نے کتے کا نام نوری رکھا ہوا تھا جس پر راہل گاندھی کے خلاف درخواست دائر کر دی گئی ہے

    اترپریش کے علاقے پریاگ راج میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے ریاستی ترجمان محمد فرحان نے راہول گاندھی کے خلاف درخواست دائر کی ہے،وکیل نے دائر درخواست میں کہا کہ کتے کا نام نوری رکھنے پر ہمارے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں،لفظ نوری مسلم مذہب سے خاص ہے،نوری کا لفظ قرآن مجید کی سورہ نور میں بھی موجود ہے،مسلمان لڑکیوں کے نام بھی نوری رکھے جاتے ہیں،راہول کو کتے کا نام بدلنے کا کہا لیکن اس نے نہیں بدلا، راہول نے کتے کا نام نوری رکھ کر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائی،

    درخواست دائر ہونے کے بعد عدالت نے آٹھ اکتوبر کو درخواست گزار کا بیان ریکارڈ کرنے کے لئے طلب کیا ہے، وکیل کا کہنا ہے کہ کیس میں راہول گاندھی کو بھی طلب کیا جا سکتا ہے

    واضح رہے کہ راہول گاندھی نے والدہ سونیا گاندھی کو کتے کا بچہ تحفہ دینے کی ویڈیو شیئر کی تھی، راہول کا کہنا تھا کہ جب وہ گوا کے دورے پر گئے تو وہاں اسے کتےکا بچہ تحفے میں دیا گیا جو اس نے اپنی والدہ کو دیا ، ویڈیو میں راہول کا کہنا تھا کہ میں اپنے خاندان کو نوری سے ملوانا چاہتا ہوں،اس موقع پر راہول نے کتے کا بچہ خاندان کے سامنے رکھا.

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

    ہسپتال پر ‘اسرائیلی حملہ’ ایک ‘گھناؤنا جرم’ ہے،سعودی عرب

    ہسپتال پر بمباری،فلسطینی صدر کی جوبائیڈن سے ملاقات منسوخ

  • بی جے پی نے بھارت میں نفرت کی کئی فیکٹریاں قائم کررکھی ہیں: راہول گاندھی

    بی جے پی نے بھارت میں نفرت کی کئی فیکٹریاں قائم کررکھی ہیں: راہول گاندھی

    نئی دہلی:بھارت میں کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے نفرت کی کئی فیکٹریاں قائم کررکھی ہیں اور ’Tek Fog‘ ایپ ان میں سے ایک ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق راہول گاندھی نے ہندی میں ایک ٹویٹ میں کہا کہ ایک مخصوص مذہب کی خواتین کو نشانہ بنانے والے”بلی بائی“ ایپ کیس کے ملزمان کی عمرکی دیکھتے ہوئے پورا ملک حیران ہے کہ اتنی نفرت کہاں سے آرہی ہے۔ ”بلی بائی ایپ کیس کے ملزم کی کم عمری کو دیکھ کر پورا ملک پوچھ رہا ہے کہ اتنی نفرت کہاں سے آتی ہے۔

    انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہاکہ دراصل بی جے پی نے نفرت کی کئی فیکٹریاں قائم کررکھی ہیں اور ٹیک فوگ ان میں سے ایک ہے۔انہوں نے ایک رپورٹ کو ٹیگ کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ٹیک فوگ بی جے پی کی معاون ایپ ہے جس نے سائبر آرمی کو نفرت پھیلانے اور سوشل میڈیا پرٹرینڈز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کی طاقت دی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ کانگریس پہلے ہی اس ایپ کے حوالے سے حکومت سے جواب طلب کر چکی ہے اور بھارتی سپریم کورٹ سے مداخلت کا مطالبہ کرچکی ہے۔ ’بلّی بائی‘ کیس میں سیکڑوں مسلم خواتین کی تصاویر کو ’نیلامی‘ کے لیے ’بلّی بائی‘ نامی ایپ پر اپ لوڈ کیا گیا تھا۔