Baaghi TV

Tag: راہول گاندھی

  • راہول گاندھی نے مودی کے جعلی مینڈیٹ کا بھانڈا پھوڑ دیا

    راہول گاندھی نے مودی کے جعلی مینڈیٹ کا بھانڈا پھوڑ دیا

    بہار الیکشن سے پہلے ہی راہول گاندھی نے مودی کے جعلی مینڈیٹ کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

    بھارت کے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے، جس سے مودی کے انتخابی فراڈ کا پردہ چاک ہوگیا، راہول گاندھی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کروڑوں لوگوں کو انتخابات میں دھاندلی کا شک تھا، کیونکہ بی جے پی کو کبھی عوامی ناراضی کا سامنا نہیں ہوا رائے شماری اور ایگزٹ پولز کچھ اور دکھاتے تھے، لیکن اصل نتائج بالکل مختلف آتے تھے۔

    راہول گاندھی نے کہا کہ الیکشن نتائج کے بعد مودی لاڈلی بہنا، آپریشن سندور اور پلواما جیسے قومی سلامتی کے ڈرامے رچا کر جھوٹا بیانیہ بناتا ہے پہلے پورے ملک میں ایک دن میں ووٹنگ ہوتی تھی، اب ای وی ایم کے باعث انتخابات مہینوں تک جاری رہتے ہیں ہریانہ، مہاراشٹر اور مدھیا پردیش میں پولز کے نتائج ہمیشہ مختلف نکلے۔

    کچے کے ڈاکوؤں کو اسلحہ سپلائی کرنیوالے 4 ملزمان گرفتار

    انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے ووٹروں کی تعداد بڑھانے کے لیے جعلی ووٹرز کو شامل کیا جا رہا ہے مہاراشٹر میں صرف 5 ماہ میں اتنے نئے مشکوک ووٹرز شامل ہوئے جتنے پچھلے 5 سالوں میں نہیں ہوئے تھے لوک سبھا میں اپوزیشن اتحاد جیتا، لیکن اسی ریاست کے اسمبلی الیکشن میں اپوزیشن کا صفایا ہو گیا،مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں ایک کروڑ سے زائد نئے ووٹرز نے ووٹ دیا جو لوک سبھا میں رجسٹر نہیں تھے الیکشن کمیشن نے کہا شام 5:30 بجے زبردست ووٹنگ ہوئی، مگر پولنگ اہلکاروں نے کہا اس وقت لائنیں یا ہجوم نہیں تھا۔ یہ پہلا واضح اشارہ تھا کہ ووٹنگ کے عمل میں کچھ سنجیدہ گڑبڑ ہوئی ہے۔

    راہول گاندھی کے مطابق کئی بار درخواستوں کے باوجود، الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ ڈیجیٹل فارمیٹ میں دینے سے انکار کر دیا۔ الیکشن کمیشن نے 200 سے 300 کلو وزنی کاغذی ریکارڈ فراہم کیا، ڈیجیٹل ڈیٹا دینے سے انکار کیا الیکشن کمیشن کا سی سی ٹی وی فوٹیج 45 دن میں تباہ کرنے کا فیصلہ، مشکوک حرکت اور راز چھپانے کی کوشش تھی،ڈیجیٹل دور میں جہاں ڈیٹا محفوظ کرنا آسان ہے، الیکشن کمیشن کا ثبوت مٹانے کا منصوبہ ناقابل فہم تھا تحقیقات بعد میں کرناٹک منتقل ہوئیں، جہاں کانگریس کو 16 نشستوں کی امید تھی، مگر صرف 9 ملیں۔ کرناٹک کی ایک اسمبلی میں 1,02,500 جعلی ووٹوں کا انکشاف انتخابی نظام پر سوالیہ نشان ہے۔

    اے این ایف اور کسٹمز کی کارروائی ، کروڑوں روپے مالیت کی منشیات برآمد، 8 ملزمان گرفتار

    بھارتی انتخابات میں دھاندلیوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے راہول گاندھی نے مزید کہا کہ کرناٹک اسمبلی میں فارم 6 کے 33,692 غلط اندراج، 11,965 ڈپلیکیٹ ووٹرز اور جعلی پتے انتخابی دھاندلی کا ثبوت ہیں۔ مہادیواپورہ اسمبلی حلقہ میں بی جے پی نے 1,14,000 ووٹ کی برتری حاصل کی، جب کہ وہ اس حلقے کی 7 میں سے 6 اسمبلیاں ہار گئے تھے،بنگلور سینٹرل میں ایک لاکھ سے زائد ووٹ جعلی طریقوں سے ڈالے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ ڈپلیکیٹ ووٹر، جعلی پتے اور فارم 6 کا غلط استعمال انتخابی نظام پر سنگین سوال اٹھاتا ہے۔ 33,692 نئے ووٹروں کی فہرست میں ایک بھی نوجوان شامل نہیں، تمام نام جعلی شناخت کے تھے۔ الیکشن کمیشن کا سارا نظام ہی بی جے پی کے مفادات کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    نان فائلرز کے بینک سے رقم نکلوانے پر ٹیکس کٹوتی میں اضافے کا اطلاق

  • راہول گاندھی کی مودی حکومت پر تنقید،بھارت عالمی سطح پر تنہا ہو چکا ہے

    راہول گاندھی کی مودی حکومت پر تنقید،بھارت عالمی سطح پر تنہا ہو چکا ہے

    بھارتی اپوزیشن لیڈر اور کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی نے ایک بار پھر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق راہول گاندھی نے پاک-بھارت کشیدگی کے تناظر میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان جاری کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے سخت سوالات کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی ملک نے بھارت کا ساتھ نہیں دیا، جو اس ناکامی کا ثبوت ہے۔راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی غیر مؤثر اور کمزور خارجہ پالیسی نے بھارت کو عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سفارتی محاذ پر بھارت کا اثر و رسوخ کم ہوتا جا رہا ہے اور یہ ملک کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہے۔

    راہول گاندھی کے اہم سوالات:

    پاکستان کے خلاف بین الاقوامی سطح پر بھارت کو کسی بھی ملک کی حمایت کیوں حاصل نہیں ہوئی؟
    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی پیشکش کس نے کروائی تھی؟ کیا وزیر خارجہ قوم کو اس کا جواب دیں گے؟

    واضح رہے کہ اپوزیشن لیڈر کی اس بیان بازی نے بھارت میں سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا ہے، جبکہ مودی حکومت کی خارجہ پالیسی پر سوالات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔

    پاکستان کی مسجد اقصیٰ اور غزہ پر اسرائیلی اقدامات کی شدید مذمت

    سعودی عرب میں ذوالحجہ کا چاند نظر آگیا، وقوف عرفات 5 جون کو ہوگا

    مسلسل دوسرے روز سونے کی قیمت میں بڑی کمی

  • حملے سے پہلے پاکستان کو مطلع کیا ؟ راہول گاندھی کا مودی حکومت پر سخت ردعمل

    حملے سے پہلے پاکستان کو مطلع کیا ؟ راہول گاندھی کا مودی حکومت پر سخت ردعمل

    بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے اس انکشاف پر کہ پاکستان پر حملے سے قبل اسلام آباد کو مطلع کیا گیا تھا، بھارت میں سیاسی ہلچل مچ گئی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق جے شنکر کے بیان نے تنازع کھڑا کر دیا ہے، جس میں انہوں نے تسلیم کیا کہ بھارتی حملوں سے قبل پاکستان کو باقاعدہ اطلاع دی گئی تھی۔ بھارت میں اپوزیشن جماعت کانگریس کے سینئر رہنما راہول گاندھی نے اس بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے "سنگین سیکیورٹی معاملہ” قرار دیا ہے۔ ردعمل دیتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ اگر واقعی حملے سے قبل دشمن ملک کو آگاہ کیا گیا، تو یہ انتہائی تشویش ناک اور ملکی سلامتی کے لیے خطرناک عمل ہے۔ عوام کو بتایا جائے کہ ایسا کرنے کا اختیار کس نے دیا؟”

    راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ مودی حکومت کی یہ پالیسی ملک کی دفاعی خودمختاری کے خلاف ہے اور اس پر خاموشی نہیں برتی جا سکتی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت واضح کرے کہ حملے کے بعد بھارتی فضائیہ کو کیا نقصان اٹھانا پڑا، اور کیا اس "اطلاع دینے” کے عمل کا اس نقصان سے کوئی تعلق ہے؟

    پہلگام میں مبینہ فالس فلیگ آپریشن اور حالیہ بیانات کے بعد بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور کانگریس کے درمیان سیاسی محاذ آرائی شدت اختیار کر گئی ہے۔ کانگریس رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بی جے پی حب الوطنی کے دعوے کرتی ہے مگر حقیقت میں ایسی پالیسیاں اپنا رہی ہے جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

    راہول گاندھی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جو لوگ کل تک مودی حکومت کے گُن گا رہے تھے، وہ آج کانگریس کی سوچ کو یاد کر رہے ہیں۔
    واضح رہے کہ بھارتی میڈیا میں بھی جے شنکر کے بیان پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جبکہ بعض سیکیورٹی ماہرین اسے ایک سفارتی اور اسٹریٹجک غلطی قرار دے رہے ہیں۔

    کراچی میں شدید گرمی کے دوران 14 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ، شہری پریشان

    امریکہ میں بم دھماکہ، ایک شخص ہلاک، واقعہ دہشت گردی قرار

    اپووا اور ادیبوں کی افواج پاکستان سے یکجہتی.تحریر:طارق نوید سندھو

  • بھارتی پارلیمنٹ کا ہنگامہ خیز سیشن ختم

    بھارتی پارلیمنٹ کا ہنگامہ خیز سیشن ختم

    بھارت کی پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس قانون سازوں کی طرف سے ہنگامہ خیز دلائل اور تشدد کے الزامات کے بعد ختم ہوا ۔

    غیرملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی خبر کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی دائیں بازو کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دو قانون سازوں کو جمعرات کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ پولیس نے اپوزیشن کانگریس پارٹی کے رہنما راہول گاندھی کے خلاف باضابطہ تحقیقات کا آغاز کردیا جب کہ حکمراں پارٹی کے 2 قانون سازوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر ہونے والے مظاہروں کے دوران جھڑپوں میں دھکا دیا گیا اور زخمی کیا گیا۔کانگریس پارٹی نے اس واقعہ کو سیاسی حربہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا اور پولیس کو شکایت بھی درج کرائی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کے تجربہ کار قانون ساز، پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں اپوزیشن کے رہنما ملکارجن کھرگے بھی جمعرات کو اسی احتجاج میں زخمی ہوئے۔ایوان بالا کے چیئرمین نائب صدر جگدیپ دھنکھر نے اجلاس کے ناخوشگوار اختتام سے قبل قانون سازوں کی سرزنش کی اور کہا کہ بطور پارلیمنٹرین ہم پر بھارتی لوگوں کی طرف سے شدید تنقید کی جا رہی ہے اور وہ ایسا کرنے میں حق بجانب ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ مسلسل رکاوٹیں ہمارے جمہوری اداروں پر عوام کے اعتماد کو مستقل ختم کر رہی ہیں، اب وقت آگیا ہے کہ ہم بامعنی بات چیت اور تباہ کن تعطل میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔بھارت کی آزادی کے رہنما اور پسی ہوئی دلت برادری کے ہیرو بھیم راؤ رام جی امبیڈکر کے حوالے غیر مہذب دعووں کے بعد گرما گرمی شروع ہوئی۔راہول گاندھی کی کانگریس پارٹی نے رواں ہفتے وزیر داخلہ اور وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی ساتھی امیت شاہ پر الزام لگایا کہ انہوں نے پارلیمنٹ میں ایک تقریر کے دوران تحریک آزادی کے ہیرو کی بے عزتی کی۔امیت شاہ، نریندر مودی اور بی جے پی نے الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ حزب اختلاف بد نیتی پر مبنی جھوٹوں کا سہارا لے رہی ہےبھارت کے آئین کی تیاری میں اہم کردار ادا کرنے والے رہنماؤں میں شامل بھیم راؤجی امبیڈکر بھارت کی پسماندہ عوام میں بہت قابل احترام سمجھے جاتے ہیں اور کئی اہم سماجی اصلاحات کا سہرا وہ ان کے سر باندھتے ہیں۔یاد رہے کہ نریندر مودی رواں برس تیسری بار اقتدار حاصل کرنے میں تو کامیاب رہے لیکن انہیں اس بار وہ اکثریت نہیں ملی جو انہیں گزشتہ 2 ادوار میں میسر تھی جس کی وجہ سے انہیں اس بار حکومت سازی کے لیے اتحادیوں کا سہارا لینا پڑا۔اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے ایوان زیریں میں اتنی نشستیں حاصل کرلیں جن کی بدولت راہول گاندھی قائد حزب اختلاف بن سکیں جب کہ یہ عہدہ 2014 سے خالی تھا۔

    چیٹ جی پی ٹی بھی واٹس ایپ پر آگیا، نمبر جاری

    بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان

    ججز تقرریوں میں سیاسی مداخلت کیخلاف درخواست، عدالت نے سوالات اٹھا دیے

    مرحوم ملازمین کی اولاد کیلئے ملازمت کا کوٹہ ختم

  • بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،راہول گاندھی کیخلاف تھانے میں مقدمہ کی درخواست

    بھارتی لوک سبھا میں لڑائی،راہول گاندھی کیخلاف تھانے میں مقدمہ کی درخواست

    نئی دہلی: لوک سبھا میں اس وقت شدید ہنگامہ برپا ہو گیا جب بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ نے کانگریس کے رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کو پارلیمنٹ کے اندر داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔

    راہل گاندھی نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی کے ارکان نے نہ صرف انہیں روکنے کی کوشش کی بلکہ دھمکیاں بھی دیں۔ یہ تنازعہ اس وقت بڑھا جب راہل گاندھی اور دیگر اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ، جن میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے، پرینکا گاندھی اور دیگر خواتین ارکان شامل تھیں، پارلیمنٹ کے احاطے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔راہل گاندھی نے اس واقعہ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’میں پارلیمنٹ میں اپنے آئینی حق کے تحت داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن بی جے پی کے ارکان نے مجھے دھکیلنا شروع کر دیا اور میرے ساتھ بدسلوکی کی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ حملہ غیر جمہوری ہے اور ہم اپنے حق کے لیے پارلیمنٹ میں جائیں گے، ہمیں دھکم پیل سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بی جے پی ہمیں روک نہیں سکتی۔ ‘‘ راہل گاندھی نے اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ یہ سب کچھ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کیا گیا تاکہ اپوزیشن کو پارلیمنٹ کی کارروائی سے باہر رکھا جا سکے۔ ’’یہ تمام کوششیں آئین کے خلاف ہیں اور بی جے پی اپنی تانا شاہی کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے،‘‘

    دوسری طرف، بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ پرتاب سنگھ سارنگی نے الزام عائد کیا کہ راہل گاندھی نے انہیں دھکیل کر سیڑھیوں سے گرایا جس کی وجہ سے ان کے سر پر چوٹ آئی۔ سارنگی نے کہا کہ ’’راہل گاندھی نے ایک رکن پارلیمنٹ کو دھکیل دیا، جس کے نتیجے میں وہ گر گئے اور زخمی ہو گئے۔‘‘ تاہم، راہل گاندھی نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا کسی کو دھکیلنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

    کانگریس نے اس معاملے پر بی جے پی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس واقعے سے بی جے پی کے ارکان کی غنڈہ گردی سامنے آئی ہے۔ کانگریس نے اس واقعے کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس میں صاف طور پر دکھایا گیا ہے کہ بی جے پی کے ارکان نے پارلیمنٹ میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے اپوزیشن ارکان کو روکا اور دھکم پیل کی۔ کانگریس نے اس رویے کو ’’جمہوری قدروں کے خلاف‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی تانا شاہی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اپوزیشن پارٹیوں نے وزیر داخلہ امت شاہ کے ایک حالیہ بیان کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ امت شاہ نے بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کی شخصیت اور ان کے کام کے بارے میں توہین آمیز تبصرے کیے ہیں، جس کے خلاف وہ احتجاج کر رہے ہیں۔

    آج لوک سبھا میں اپوزیشن کے اراکین، جن میں کانگریس کے رہنما راہل گاندھی بھی شامل تھے، وزیر داخلہ امت شاہ کے امبیڈکر پر دئیے گئے حالیہ بیان کے خلاف پارلیمنٹ میں شدید احتجاج کر رہے تھے۔ اپوزیشن نے امت شاہ سے معافی اور ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ اس دوران راہل گاندھی نیلی ٹی شرٹ پہنے ہوئے تھے، جبکہ پرینکا گاندھی نے بھی نیلی ساڑی زیب تن کی تھی، جو بابا صاحب امبیڈکر کے ساتھ اظہار یکجہتی کی علامت تھی۔لوک سبھا میں اپوزیشن رہنماؤں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کی قیادت میں انڈیا بلاک کے اراکین نے پارلیمنٹ کے احاطے میں بابا صاحب امبیڈکر کی مورتی کے سامنے احتجاجی مارچ نکالا۔ پرینکا گاندھی نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی نے بابا صاحب کا مذاق اُڑایا ہے اور ان کی تصویر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی ہے، جو ان کے مطابق بابا صاحب کے وقار کی توہین ہے۔

    پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بھی شدید ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ اپوزیشن اراکین نے ’’جئے بھیم‘‘ کے نعرے لگائے اور لوک سبھا و راجیہ سبھا میں امبیڈکر کے خلاف بی جے پی کے بیانات پر احتجاج جاری رکھا۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے اجلاس کے آغاز میں ایک رکن کو سالگرہ کی مبارکباد دی، تاہم اپوزیشن کا احتجاج مسلسل جاری رہا۔ دونوں ایوانوں کی کارروائی، جن میں لوک سبھا اور راجیہ سبھا شامل ہیں، امت شاہ کے بیان پر شدید ہنگامے کی وجہ سے متعدد بار ملتوی کی گئی۔

    دوسری جانب بی جے پی نے بھی دہلی سنسد مارگ پر واقع پولیس اسٹیشن میں راہل گاندھی کے خلاف شکایت درج کرادی ہے۔ انوراگ ٹھاکر،بانسری سوراج تھانہ پہنچے تھے جہاں انہوں نے کانگریس کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔اب پولیس اس پورے معاملے کی تحقیقات کرے گی۔

    ڈی جی سپورٹس بورڈ کی تعیناتی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

    نیو گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ کو آپریشنل کرنے کی تیاریاں آخری مراحل

  • لوک سبھا میں 10 سالوں سے خالی اپوزیشن لیڈر کا عہدہ راہول گاندھی کو مل گیا

    لوک سبھا میں 10 سالوں سے خالی اپوزیشن لیڈر کا عہدہ راہول گاندھی کو مل گیا

    نئی دہلی: لوک سبھا میں 10 سالوں سے خالی اپوزیشن لیڈر کا عہدہ راہول گاندھی کو مل گیا ہے۔

    بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینیو گوپال کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ میں کانگریس رہنما راہول گاندھی کو اپوزیشن کا پارلیمانی لیڈر مقرر کر دیا گیا ہےراہول گاندھی پارلیمنٹ میں بھارتی عوام کی مضبوط آواز ہوں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ حکومت ہر وقت جواب دہ رہے۔

    واضح رہے کہ بھارتی لوک سبھا میں پارلیمانی لیڈر کا عہدہ گزشتہ 10 سالوں سے خالی تھا کیونکہ بھارت میں اپوزیشن کی کسی جماعت کو اپوز یشن لیڈر کا عہدہ حاصل کرنے کے لیے ایوان کی کل نشستوں کا 10 فیصد یعنی 54 نشستیں حاصل کرنی ضروری ہیں تاہم گزشتہ 10 سالوں سے اپوزیشن کی کوئی جماعت اتنی نشستیں حاصل نہیں کرسکی تھی ،بھارت میں اپوزیشن لیڈر کو کابینہ کے رکن کا درجہ حاصل ہوتا ہے، اس کے علاوہ اپوزیشن لیڈر چیف الیکشن کمشنرز، الیکشن کمشنرز اور سی بی آئی ڈائریکٹر کو منتخب کرنے والے پینل میں بھی شامل ہوتا ہے۔

    چین چاند کے دور دراز علاقے سے خلائی نمونے لانے میں کامیاب

    ملک میں ہم آہنگی اور اتحاد کی ضرورت ہے،شرجیل انعام میمن

    اسرائیل مغربی کنارے میں جو کچھ کر رہا وہ بہت خطرناک ہے،یورپی یونین

  • راہول گاندھی کو لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے قرارداد منظور

    راہول گاندھی کو لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے قرارداد منظور

    نئی دہلی: بھارتی سیاسی جماعت کانگریس نے پارٹی رہنما راہول گاندھی کو لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے قرارداد منظور کرلی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق کانگریس ورکنگ کمیٹی نے پارٹی رہنما راہول گاندھی کو لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے قرارداد منظور کی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس کے بعد پارٹی رہنما کماری سیلجا نے کہا کہ پارٹی کی ورکنگ کمیٹی کی یہ خواہش ہےکہ راہول گاندھی لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ سنبھالیں۔

    گزشتہ ماہ 3 ارب 20 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات زر موصول

    کانگریس کے سینئر رہنما اور نومنتخب رکن کے سی وینگوپال نے کہا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی نے اتفاق رائے سے راہول گاندھی سے یہ درخواست کی ہے کہ وہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کی ذمہ داریاں لیں،ورکنگ کمیٹی کی قرارداد میں الیکشن مہم میں راہول گاندھی کی انتھک محنت کو بھی سراہا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ بھارت میں لوک سبھا کے انتخابات میں بی جے پی کے اتحاد این ڈی اے نے حکومت بنانے کے لیے درکار نشستیں حاصل کیں جس کے بعد نریندر مودی تیسری مرتبہ بھارت کے وزیراعظم بنیں گے جب کہ اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ نے مودی کے مینڈیٹ کو بڑا جھٹکا دیا اور لوک سبھا کی 234 نشستیں جیتیں،جبکہ راہول گاندھی نے رائے بریلی اور کیریلا کے علاقے ویاناد سے کامیابی حاصل کی۔

    وزیرداخلہ محسن نقوی کی یو این سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سےملاقات

    دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے اتحاد، نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے ) کے قانون سازوں کی جانب سے نریندر مودی کو باضابطہ طور پر تیسری بار وزیراعظم نامزد کر دیا گیا،جس کے بعد بھارتی صدر دروپدی مرمو نے مودی کو کل اتوار کو حکومت سازی کی دعوت دے دی ہے،نریندر مودی جواہر لال نہرو کے بعد تیسری بار وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہونے والے دوسرے بھارتی سیاستدان ہوں گے۔

    نیشنل ڈیموکریٹک الائنس کے اجلاس میں نریندر مودی نے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیا اور خاص طور پر کانگریس پارٹی کا نام لے کر تنقید کا نشانہ بنایا، مودی نے اس بات کا خیال بھی نہیں رکھا کہ انتخابات اب ختم ہوچکے ہیں اور اس اہم موقع پر جب انہیں تیسری بار وزیراعظم نامزد کیا جارہا ہے، وہ جمہوریت کی کامیابی کی بات کرنے کے بجائے اپوزیشن پرتنقید کرتے رہے، شاید انہیں لگتا ہے کہ نئی لوک سبھا میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے تک وہ غیر محفوظ ہیں۔

    چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے قطر کا دورہ کیا

  • نریندر مودی کو ‘پنوتی’ کہنے پر  راہول گاندھی کو نوٹس جاری

    نریندر مودی کو ‘پنوتی’ کہنے پر راہول گاندھی کو نوٹس جاری

    نئی دہلی: بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کو ‘پنوتی’ کہنے پر بھارتی الیکشن کمیشن نے کانگریس کے رہنما راہول گاندھی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔

    باغی ٹی وی:بھارتی میڈیا کے مطابق الیکشن کمیشن نے جمعرات کو کانگریس لیڈر راہول گاندھی کو وزیر اعظم نریندر مودی کو ‘پنوتی’ (منحوس) اور ‘جیب کترا’ کہنے پر نوٹس جاری کیا ہے،راہول گاندھی نے ایک جلسے میں تقریر کرتے ہوئے طنزاً کہا تھا کہ اچھا خاصا ٹیم ٹورنامنٹ کا ہر میچ جیت رہی تھی اور فائنل بھی جیت جاتی لیکں پنوتی میچ دیکھنے پہنچ گئے۔
    https://x.com/AshishSinghKiJi/status/1726916077945602507?s=20
    بی جے پی نے راہول گاندھی کے وزیراعظم نریندر مودی سے متعلق بیان کی مذمت کرتے ہوئے ان پر شدید تنقید کی اور ان کے خلاف شکایت درج کروائی تھی-

    سول ایوی ایشن اتھارٹی دو حصوں میں تقسیم،نوٹیفکیشن جاری

    بی جے پی کے ارکان اسمبلی نے الیکشن کمیشن میں شکایت درج کرائی کہ راہول گاندھی نے اپنی تقریر میں یہ بھی کہا کہ پی ایم کا مطلب پرائم منسٹر نہیں بلکہ پنوتی مودی ہے،جس پر الیکشن کمیشن نے کانگریس لیڈر راہول گاندھی کو ایک نوٹس بھیج دیا اور جواب کے لیے ہفتے کی شام تک کا وقت دیا گیا ہے بصورت دیگر انتخابی ضابطہ اخلاق کے اصول و ضوابط کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

    اس سے قبل مودی کو تنقید کا نشانہ بنانے پر کانگریس لیڈر راہول گاندھی کی رکنیت بھی معطل کرکے ان کے انتخابی جلسوں میں شرکت پر پابندی لگائی تھی تاہم سپریم کورٹ نے انھیں 4 ماہ بعد بحال کردیا تھا۔

    فرحت اللہ بابر پیپلزپارٹی پارلمینٹیرینز کے سیکرٹری جنرل کےعہدے سےمستعفی

  • ملک کا نام انڈیا سے بدل کر بھارت کرنے کا منصوبہ "مضحکہ خیز” ہے،راہول گاندھی

    ملک کا نام انڈیا سے بدل کر بھارت کرنے کا منصوبہ "مضحکہ خیز” ہے،راہول گاندھی

    برسلز: بھارت کے اپوزیشن لیڈراورکانگریس رہنما راہول گاندھی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ملک کا نام انڈیا سے بدل کر بھارت کرنے کا منصوبہ "مضحکہ خیز” ہے۔

    باغی ٹی وی: "الجزیرہ” کے مطابق بھارت کے اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی ان دنوں یورپ کے دورے پر ہیں جہاں برسلز میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ان سے جی 20 کانفرنس کے دعوت نامے پرانڈیا کی بجائے بھارت لکھے جانے پر سوال کیا گیا،جس پر راہول گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت کا انڈیا نام تبدیل کرنا تقسیم کی ایک حکمت عملی ہے۔

    راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ یہ بہت دلچسپ ہے کہ ہم ہر وقت گوتم اڈانی کے سرمایہ دارانہ نظام پر آواز اٹھاتے ہیں اور وزیراعظم مودی اب ایک نئی ڈرامائی تقسیم کے ساتھ سامنے آئے ہیں مودی حکومت کی جانب سے آئینی طور پر انڈیا کا نام تبدیل کرنا ایک بے تکا پن ہے، حکو مت کا نام تبدیل کرنے کا منصوبہ ایک ہتھکنڈہ ہے۔

    پشاورمیں سیکیورٹی فورسز کی گاڑی کے قریب دھماکا

    کانگریس پارٹی کے لیڈر نے مودی پر بڑے صنعت کاروں کی حمایت کا الزام لگایا ہے اور اڈانی گروپ کو کنٹرول کرنے والے ارب پتی اڈانی کے خلاف مبینہ مالیاتی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

    اڈانی گروپ، جو بھارت بھر میں بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کو چلاتا ہے، حال ہی میں اس وقت سرخیوں میں ہے جب ایک تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے اپنے حصص کی قیمت کو بڑھانے کے لیے آف شور ٹیکس پناہ گاہوں کا استعمال کیا۔

    گاندھی یورپی یونین کے قانون سازوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور بیلجیئم، ہالینڈ، فرانس اور ناروے میں مقیم ہندوستانی باشندوں سے ملنے کے لیے یورپ میں ہیں۔

    سعودی عرب اوریورپ تک نئی راہداری کابھارتی نقشہ جعلی ثابت

    واضح رہےکہ مودی حکومت آئینی طور پر انڈیا کا نام تبدیل کرکے ’ری پبلک آف بھارت‘ رکھنے کی تیاری کررہی ہے جس ضمن میں آئین میں ترمیم کے لیے پارلیمنٹ کا اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے جب کہ جی 20 سمٹ میں بھارتی صدر کے دفتر سے جاری دعوت نامے میں ری پبلک آف انڈیا کی بجائے ری پبلک آف بھارت استعمال کیا گیا ہے۔

  • راہول گاندھی کی”فلائنگ کس” پر رکن اسمبلی اور ادکارہ سمرتی ایرانی کا شدید ردعمل

    راہول گاندھی کی”فلائنگ کس” پر رکن اسمبلی اور ادکارہ سمرتی ایرانی کا شدید ردعمل

    نئی دہلی: بھارت کی مقبول اداکارہ اور بی جے پی کی رکن اسمبلی سمرتی ایرانی نے پارلیمنٹ میں راہول گاندھی کے “فلائنگ کس” پر شدید احتجاج کیا ہے-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی رکن اسمبلی ،وفاقی وزیر اور معروف ٹی وی اسٹار سمرتی ایرانی نے پارلیمنٹ میں اپنی تقریر میں کانگریس رہنما راہول گاندھی کے "فلائنگ کس” کے اشارے کو نازیبا قرار دیتے کو آڑے ہاتھوں لے لیا جبکہ حکمراں جماعت کے ارکان اسمبلی نے اپوزیشن لیڈر کے خلاف قرارداد بھی جمع کرادی۔

    وفاقی وزیر سمرتی ایرانی نے راہول گاندھی کا نام لیے بغیر کہا کہ صرف ایک بدتمیز آدمی ہی خواتین ارکان اسمبلی میں موجودگی کے باوجود پارلیمنٹ میں ’فلائنگ کس‘ کر سکتا ہے۔

    قبل ازیں مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے الزام لگایا تھا کہ راہول گاندھی نے تحریک عدم اعتماد پر اپنی تقریر کے بعد پارلیمنٹ سے باہر نکلتے ہوئے فلائنگ کس کیا تھاجس رکن اسمبلی کو کل ہی بحال کیا گیا ہے اس میں اقدار اور وقار کی کمی ہے۔ پارلیمنٹ نے کبھی بھی اس طرح کی “بدتمیزی” نہیں دیکھی گئی۔ جہاں خواتین کی عزت کے تحفظ کے لیے قوانین بنائے جاتے ہیں۔

    ماں نے 7 ہفتوں کے بچے کو چپ کرانے کیلئے فیڈر میں شراب پلا دی

    وزیر درشنا جردوش کا کہنا ہے کہ راہل گاندھی کی فلائنگ کس ‘ہماری ثقافت کے خلاف ہےہمیں یہ پسند نہیں آیا جب انہوں نے (راہل
    گاندھی) جاتے وقت فلائنگ کس دیا ک یہ ہماری ثقافت کے خلاف ہے۔ ہم پارلیمنٹ میں ایسی چیزوں کو برداشت نہیں کریں گے-

    بعد ازاں بی جے پی خواتین ارکان اسمبلی نے راہول گاندھی کے فلائنگ کس کے اشارے پر لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کے پاس قرارداد جمع کرادی۔

    دوسری جانب کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے بی جے پی پر ہمہ جہت حملہ شروع کیا جب انہوں نے آج اپوزیشن اتحاد انڈیا کی طرف سے لائی گئی بی جے پی کی زیرقیادت حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر بحث کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا، "انہوں نے منی پور میں ہندوستان کا قتل کیا ہے۔ وزیر اعظم منی پور کا دورہ نہیں کرتے کیونکہ وہاں ہندوستان کو قتل کیا گیا ہے-

    دفتری اوقات جب ملازمین زیادہ غلطیاں کرتے ہیں

    مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی نے راہول گاندھی کے ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے کہا، "منی پور تقسیم نہیں ہے، یہ ہندوستان کا حصہ ہے۔” راجیہ سبھا میں، ہندوستانی بلاک نے منگل کو ایوان کے قائد پیوش گوئل کے خلاف اپنے اراکین کو "غدار” کہنے پر استحقاق کی تحریک پیش کی عدم اعتماد کی بحث جمعرات تک جاری رہے گی جب توقع ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی اپنا جواب دیں گے۔

    یاد رہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف تحریک عدم اعتماد گزشتہ روز کانگریس کے رکن پارلیمنٹ گورو گوگوئی نے جمع کرائی تھی جس پر بحث جاری ہے اور کل بروز جمعرات کو تحریک عدم اعتماد کا جواب دیں گے۔

    برطانوی شہزادہ ہیری سے ایک اور لقب سے محروم ہو گئے