Baaghi TV

Tag: را

  • بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسی  را منشیات  اسمگلنگ میں بھی ملوث نکلی،پاکستانی ایجنسیوں نے ہندوستانی ایجنسیوں کا منصوبہ ناکام بنا دیا

    بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسی را منشیات اسمگلنگ میں بھی ملوث نکلی،پاکستانی ایجنسیوں نے ہندوستانی ایجنسیوں کا منصوبہ ناکام بنا دیا

    بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسی را منشیات اسمگلنگ میں بھی ملوث نکلی،پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ہندوستانی ایجنسیوں کا منصوبہ ناکام بنا دیا-

    باغی ٹی وی: بھارتی فوج اور خفیہ ایجنسی را منشیات اسمگلنگ میں بھی ملوث نکلی ،بھارتی فوج اپنی ہی عوام کو چونا لگانے میں پیش پیش ہے،بھارتی فوج اپنے ہی سینئر افسران کو دھوکہ دینے لگی،جھوٹ، جعلی مقابلے اور ماورائے عدالت قتل ہندوستانی فوج کی پہچان ہے-

    بھارتی فوج، را اورمقبوضہ جموں کشمیر پولیس میں مودی سرکار کے سامنے نمبر بنانے کامقابلہ جاری ہے ،بھارتی فوج مودی سرکار کی خوشامد کے چکر میں ہتھیار اسمگل کر کے آزادی پسندوں کے سر منڈھنے لگی-

    ابتدائی طور پر اسلحہٰ اور منشیات کی چھوٹی کھیپ کو کشمیر پولیس سے خفیہ رکھ کر سمگل کیا جاتا۔ کامیابی کی صورت میں ایک بڑی کھیپ) 50 رائفل، 30 پستول، 20 دستی بم، 50 کلوگرام منشیات (کا آزاد کشمیر سے سمگلنگ کا ڈرامہ رچایا جاتا)۔


    بھارتی فوجی افسران پروموشن، تمغوں اور رپورٹ کے چکر میں کشمیریوں کے خون سے کھیلنے لگ گئے،منصوبے کے مطابق مجبور کشمیریوں کو پیسے کا لالچ دے کر اسمگلنگ پر آمادہ کیا جاتا،موقع ملنے پر بے خبر ’اسمگلر‘ کو جعلی آپریشن میں مار دیا جاتا-

    آپریشن کارنگ دے کر ذاتی تشہیرکی جاتی اور الزام پاکستان کے سر تھوپ دیا جاتا،اسلحہٰ اور منشیات کی چھوٹی کھیپ کو کشمیر پولیس سے خفیہ رکھ کر اسمگل کیا جاتا،آزاد کشمیر سےا سمگلنگ کا ڈرامہ رچایا جاتا،جعلی اسمگلرزکوبھارتی فوج کےہاتھوں مروا دیاجاتا،آپریشن میں ملوث افسران کو انعام کے طور پر ہتھیار اور آوٹ اسٹینڈنگ رپورٹ سے نوازا جاتا-

    سی آئی ڈی کشمیر کا جموں و کشمیر پولیس کے سر براہ کو مراسلہ منظر عام پر۔مراسلے میں سی آئی ڈی کشمیر کا سربراہ جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ کو منصوبے سے آگاہ کرتے ہوئے اسے نظر اندازکرنے کی ہدایات دے رہا ہےمراسلے میں 3راجپوت کے حاجی پیر سیکٹر، 12جاٹ کے اڑی سیکٹر اور لیفٹیننٹ کرنل اکشنت کا ضلع کپواڑہ میں جعلی آپریشن کا ذکر ہے۔

    ایک اورمراسلے میں CID ‘K’فورس کا اہلکار کمانڈنگ آفیسر کے غیر آمادہ رویے کو مبینہ طور پرایس پی بارہ مولا اور 12جاٹ رجمنٹ کے درمیان ہونے والے آپریشن کی ناکامی کی وجہ بتا رہا ہے۔ مراسلے میں مزید یہ بھی کہا گیا کہ کمانڈنگ آفیسر کے چھٹی جانے کی صورت میں سیکنڈ ان کمانڈ اس جعلی آپریشن پر رضا مند ہے۔

    بھارت تحریکِ آذادی کے کشمیر کو دبانے اور پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے پہلے بھی یہ حربے آزما چکا ہے۔ 26 فروری 2019 کو بی جے پی کی انتخابات میں جیت یقینی بنانے کیلئے جعلی سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ رچایا گیا۔

    16جنوری2021کو "دی وائر” کی رپورٹ میں ارناب گوسوامی کی لیک واٹس ایپ چیٹ کے مطابق پلوامہ حملے میں مودی سرکار خود ملوث تھی 18 جولائی 2020 کو بھارتی فوج نے تین کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دے کر شہید کر ڈالا۔شور مچنے پر نام نہاد انصاف کا پرچار کیا۔لیکن جنوری 2021میں اسی واقعے میں ملوث بریگیڈیر کٹوچ کو ’یدھ سیوا میڈل‘ سے نوازا گیا۔

    3 فروری 2022کو بھارتی فوج نے شبیر احمد کو چند گیر، بانڈی پورہ سے اسلحہ سمیت گرفتار کیا جبکہ کشمیرسی آئی ڈی کے مطابق شبیر احمد 19 جنوری سے زیرِ حراست تھا2010 میں مچھل میں تین نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کر ڈالا 14مارچ 2022کو جعلی مقابلے میں ابرار نامی شخص کو اسلحہ سمیت زخمی حالت میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا۔

    28نومبر 2022 کو بھارتی فوج نے ضلع کپواڑہ کے گاؤں پنج ترن میں ایک گھر کے نزدیک اسلحہ چھپایا۔ جسے مکان مکین نے فون میں ریکارڈ کر لیا ویڈیومیں بھارتی فوجیوں کو اسلحہ چھپاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے30نومبر کو بھارتی فوج نے چھاپہ مار کر وہی ہتھیار برآمد کرلیے اور الزام پاکستان پر لگا دیا۔

    ہندوستانی فوج کے افسران، سینئر افسران کی چاپلوسی کے لئے منشیات اور اسلحہ اسمگل کررہے ہیں کشمیر میں 1279 دن کے غیر قانون محاصر ے کے باوجود بہادر کشمیری آج بھی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں کشمیریوں کی تحریک آزادی سے توجہ ہٹانے اور2023 میں 9 ریاستوں کے انتخابات جیتنے کے لئے، ہندوستانی فوج ان ہتھکنڈوں کا استعمال کررہی ہے۔

    باراک اوباما نے اپنی کتاب، The Promised Land میں لکھا تھا کہ پاکستان مخالف موقف پر ہندوستانی انتخابات جیتتا ہےعالمی میڈیا کئی بار ان جعلی مقابلوں پر آواز اٹھا چکا ہے۔

    2010 اور 2015میں بی بی سی نے کشمیر میں ہونے والے جعلی مقابلوں پر سوال اٹھایا تھا۔ رپورٹ کے مطابق 25مارچ 2020کو کابل میں سِکھ گُردوارے پر حملے میں بھی بھارتی دہشتگرد ملوث تھے اور بھارتی قوانین ایسے جرائم میں ملوث فوجیوں کا تحفظ بھی کرتے ہیں۔

    امریکی جریدے فارن پالیسی نے بھی بھارتی دہشت گردی کے حوالے سے بھارت کو بے نقاب کیا تھا جس میں داعش اور بھارتی روابط کو دُنیا کے سامنے لایا گیاتھا اور اس گٹھ جوڑ کو عالمی اور علاقائی خطرہ قرار دیا گیا جبکہ 30دسمبر 2020 کوٹی آر ٹی ورلڈ نے بھی بھارتی جعلی مقابلوں کا پردہ چاک کیا تھا۔

    سکھ یاتریوں کی بھارت میں ہی مودی کے خلاف نعرے بازی

    بھارتی ہٹ دھرمی، ایک بار پھرپاکستان آنیوالے سکھ یاتریوں کوروک دیا گیا

    خالصتانی ہوں،حکومت مودی کے دباؤ کا شکارہے، گوپال سنگھ چاولہ کی باغی ٹی وی سے گفتگو

    سکھ برادی کا خالصتان بارے ریفرنڈم 2020، وینا ملک نے بڑا اعلان کر دیا

    آسٹریلوی حکومت نے میلبرن میں خالصتان ریفرنڈم رکوانے سے انکار کردیا۔

     علیحدگی پسند گروپ سکھس فار جسٹس (SFJ) نے میلبورن آسٹریلیا میں خالصتان ریفرنڈم مہم کا آغاز کیا ج

    انٹرپول نے خالصتان کے رہنما کے ریڈ وارنٹ جاری کرنے کی بھارت کی درخواست مسترد کردی

    ٹورنٹو:کینیڈا میں خالصتان ریفرنڈم کے حوالے سے تاریخ رقم ، خالصتان ریفرنڈم میں ایک لاکھ 10 ہزار سکھوں نے ووٹ کاسٹ کی

  • :3مارچ پاکستان میں بھارت کی دہشتگردکارروائیوں کی تلخ یاد دہانی کا دن:مگربھارت پھرباز نہ آیا

    :3مارچ پاکستان میں بھارت کی دہشتگردکارروائیوں کی تلخ یاد دہانی کا دن:مگربھارت پھرباز نہ آیا

    اسلام آباد ::3مارچ پاکستان میں بھارت کی دہشتگردکارروائیوں کی تلخ یاد دہانی کا دن ہے ،تاریخ شاہد ہے کہ 03 مارچ 2009لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں جنہیں بھارتی خفیہ ایجنسی را کی مالی سرپرستی میں حاصل تھی کے جان لیوا حملے اور 2016میں پاکستان میں دہشتگردی کے ماسٹر مائنڈ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کی تلخ یاد دہانی کادن ہے ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ دونوں واقعات میں براہ راست بھارت ملوث ہے جن کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا تھا۔

    سری لنکن کرکٹ ٹیم پر بھارتی ایجنٹوں نے 3مارچ 2009کو لاہور میں دہشت گرد حملہ کیاتھا جس کامقصد عالمی سطح پر پاکستان کو کھیلوں کے مقابلوں کے انعقاد کیلئے پاکستان کو خطرناک ملک ثابت کرنا تھا ۔بعد ازاں 3مارچ 2016کو بھارتی جاسوس اور خفیہ ایجنسی را کے دہشت گردکمانڈر کلبھوشن یادیو جو بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر ہے کو بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے ایرانی پاسپورٹ پر پاکستان جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بھارت لاہور میں سری لنکن ٹیم پر حملے سمیت پاکستان میں دہشت گردی کی مذموم کارروائیوں میں ملوث ہے ۔

    کلبھوشن نے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے بارے میں چونکا دینے والے انکشافات کئے ہیں۔ بھارتی جاسوس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ وہ صفورا بس حملہ کے ماسٹر مائنڈ سے بھی رابطہ میں تھا، جس میں مسلح افراد نے 45 اسماعیلی فرقے کے لوگوں کو گولی مار کرقتل کیا تھا۔ گرفتار بھارتی جاسوس کے اعترافی بیان سے ثابت ہو گیا ہے کہ بھارت پڑوسی مسلم ملک پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔

    بھارت کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کو پاکستان کے خلاف اپنے مذموم عزائم کے لیے پراکسی کے طور پر استعمال کررہا ہے اور پاکستان نے ایک ڈوزئیر کے ذریعے عالمی برادری کو پاکستان میں بھارت کی کی دہشت گردانہ کارروائیوں سے آگاہ بھی کیا ہے۔

  • کھیل کے میدان میں نفرت کی جنگ ۔۔۔ طارق محمود عسکری

    کھیل کے میدان میں نفرت کی جنگ ۔۔۔ طارق محمود عسکری

    گزشتہ ہفتہ کے روز پاکستان اور افغانستان کے درمیان کرکٹ ورلڈ کپ کا میچ کھیلا گیا دونوں ملکوں کے کرکٹ شائقین نے انتہائی دلچسپی اور جوش و خروش سے اپنی اپنی ٹیموں کو نعرے بازی اور جھنڈے لہرا کر سپورٹ کیا اس میچ کے دوران لڑائی جھگڑے کے چند ایک ناخوشگوار واقعات بھی پیش ائے۔ ویسے تو اس طرح کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں خاص طور پر چند یورپی ممالک کی فٹ بال ٹیموں کے درمیان اسٹیڈیم میں لڑائی مار کٹائی کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن گزشتہ کرکٹ میچ کے دوران اسٹیڈیم کے اندر اور باہر پاکستانی شائقین پر تشدد کے واقعات بلکل الگ نوعیت کے ہیں کیونکہ ان واقعات میں ملوث پشتون قوم کی نام نہاد نمائندہ جماعت پی ٹی ایم ہے جس نے انتہائی منصوبہ بندی کے تحت پروپیگنڈہ کرنے اور مارکٹائی کے لیے کرکٹ میچ کو منتخب کیا۔ اسی میچ کے دوران ہوائی جہاز اسٹیڈیم کے اوپر سے گزرا جس کے پیچھے بینرز پر پاکستان مخالف تحریریں درج تھیں ان واقعات کے بعد پاکستانی عوام میں بھی افغانیوں کے خلاف شدید غم و غصہ پایا گیا اور سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز پوسٹوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جو تاحال جاری ہے پی ٹی ایم اس سے پہلے بھی پاکستان اور اس کی افواج کو اپنے زہریلے پروپیگنڈہ کا نشانہ بناتی رہی ہے اور اب تو مسلح کارروائیوں کا آغاز بھی کر دیا ہے جن میں سے ایک کا تزکرہ میں نے اپنے گزشتہ کالم میں کیا تھا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا واقعی پی ٹی ایم کے پاس اتنے وسائل موجود ہیں کہ وہ یورپ اور امریکہ میں جا کر اس طرح کے متشدد پاور شو کر سکتی ہے؟ دراصل حقائق اس کے منافی ہیں کرکٹ میچ کے دوران لڑائی مارکٹائی، پاکستان مخالف نعرے بازی اور جہاز کے پیچھے بینرز لہرانا اس کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ پی ٹی ایم کے جھنڈے تلے انڈین انٹیلیجنس ایجنسی راء اور افغانستان کی این ڈی ایس پاکستان کے خلاف نبرد آزما ہیں افغانیوں اور پاکستانی پختونوں سے بہادر، مہمان نواز اور وفادار قوم دنیا میں کہیں اور کوئی نہیں ہے دشمن (انڈیا، امریکہ، اسرائیل اور چند پچھلی صفوں میں شامل مسلم ممالک) اپنے اپنے مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے چند پختونوں (پی ٹی ایم) کو خریدنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور ان کے چہرے کے پیچھے پاکستان کے خلاف سازشوں کے جال بچھائے جا رہے ہیں کرکٹ میچ میں بھی شرپسند افغانی، انڈین اور پی ٹی ایم کا بکائو مال تھا تاکہ پاکستانیوں کو پختونوں اور پختونوں کو پاکستانیوں کے خلاف کر کے نفرت کی آگ کو بھڑکایا جائے اور پاکستان میں قومیت اور فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوں ایک بار پھر کہتا ہوں پاکستانی پختونوں اور افغانیوں سے زیادہ پاکستان کا وفادار اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ لہذا پختونوں اور افغانیوں کو برا مت کہیں بلکہ پاکستانی اداروں کو پی ٹی ایم، این ڈی ایس اور راء کے خلاف اپنی کارروائیوں کو مزید موثر بنانا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ قارئین جس وقت میرا یہ کالم پڑھ رہے ہوں اس وقت پی ٹی ایم کے جھنڈے کے پیچھے امریکہ، اسرائیل، انڈیا اور افغانستان کی این ڈی ایس امریکہ میں قوام متحدہ کے دفتر کے سامنے پاکستان مخالف زہریلا احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہوں جس میں ممکنہ طور پر مظاہرین ان پاکستانی سیاسی جماعتوں کے کارکنان بھی ہو سکتے ہیں جو اس وقت پی ٹی ایم کے نہاد لیڈروں کے پروٹیکشن آرڈرز کی فکر میں ہیں اور ان کو بہادر بچے کہتی ہیں۔ آخر میں پاکستانی قوم سے کہنا چاہتا ہوں کہ ہر پختون یا افغانی پی ٹی ایم نہیں ہے ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیں اور پاکستان کے اصل دشمنوں انڈیا، امریکہ، اسرائیل، این ڈی ایس اور ان کے ایجنٹوں کو پہچانئے۔ دشمن پاکستان میں قومیت کی بنیاد پر اور فرقہ وارانہ فسادات چاہتا ہے آپ اس سازش کو ناکام بنائیں اور پاکستانی افواج کے ساتھ کھڑے رہیں۔
    پاکستان ذندہ باد

  • منظور پشتین محب وطن پشتونوں کو ورغلا کر ’را‘ کے لئے استعمال کررہا ہے

    منظور پشتین محب وطن پشتونوں کو ورغلا کر ’را‘ کے لئے استعمال کررہا ہے

    وہ تمام دوست جو سمجھتے ہیں کہ کالمز اور تجزیے بوٹ پالش کرنے لئے لکھے جاتے ہیں ان کے لئے اطلاعا عرض ہے کہ ملک ہمارا ہے ، ریاست ہماری ہے ، حکومت ہماری ہے تو فوج بھی ہماری ہے ۔ جہاں جائز تنقید ہو اس سے نہیں گھبراتا لیکن اگر ریاست کے حامی بیانئے پر کوئی بوٹ پالشیا بھی کہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ۔ منظور پشتین کا مسنگ پرسنز سے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کسی حد تک جائز ہے لیکن ان تحقیقات کے لئے عدالتوں کے دروازے کھلے ہیں ، ادارے اپنا کام کر رہے ہیں اور جمہوری نظام جیسے کیسے جاری ہے ۔ اگر واقعی پی ٹی ایم کے تحفظات ہیں تو انہیں بین الاقوامی برادری ، عالمی میڈیا اور بھارتی خٖفیہ ایجنسی را کے ہاتھوں آلہ کار بننے کی بجائے اپنے اداروں سے تعاون کرنا چاہیے ۔ تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی پانی ہو جائے ۔ لیکن یہ ۔ ۔ ۔ ’ کیپٹن میجر ۔ ۔ دہشت گرد‘ ۔ ۔ اور ۔ ۔ ’یہ جودہشت گردی ہے ۔ ۔ اس کے پیچھے وردی ہے ‘ جیسے نعروں کا پرچار کرتے ہوئے فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کردینا ، بین الاقوامی میڈیا پر خبروں کی زینت بننے کے لئے اپنے بندوں کو مروا دینا ۔ کس کے بیانئے کی عکاسی کرتا ہے ۔ یہ بالکل واضح ہوچکا ہے ۔ لنڈے کے لبرلز جورات کو امرت اور شام میں کالی کافی پی کر فیس بکی دانشوری جھاڑتے ہوئے برملا لکھ ڈالتے ہیں ’ہائے پی ٹی ایم کے ساتھ تو ظلم ہورہا ہے ‘ ۔ انہیں اگر زمینی حقائق کا علم نہیں تو اپنی دانشوری اپنے پاس رکھیں اور سچ اور جھوٹ کو سمجھنے کی کوشش کریں ۔ مظلوموں جیسا چہرہ بنا کر عالمی میڈیا کے سامنے دکھڑے رونے والی پی ٹی ایم کے پاکستانی میڈیا پرمبینہ بلیک آوٹ پر دانشوری جھاڑنے والے ذرا یہ بتائیں کہ بھارتی میڈیا خالصتان موومنٹ پر واویلا کرنیوالوں کو کتنی کوریج دیتا ہے ۔ یا عالمی میڈیا بھارت کے خلاف اس استحصال پر لب کشائی کیوں نہیں کرتا ۔ اسے چھوڑیں مقبوضہ وادی کشمیر کے حریت پسندوں کا موقف کونسے بھارتی میڈیا پر جاری ہوتا ہے ۔ بھارت حریت رہنماوں کو مکمل کوریج کیوں نہیں دیتا ۔ ۔ حیرت کی بات ہے کہ پاکستان کا پڑھا لکھا طبقہ کس طرح احمقانہ مطالبوں پر تلا ہوا ہے ۔ گزشتہ ایک سال میں سات سے زائد مرتبہ منظور پشتین کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ پاک فوج کے ساتھ بیٹھ کر تنازعے کو حل کرے ۔ موصوف ایک مرتبہ بھی بیٹھنے پر رضا مند نہیں ہوئے ۔ ریاست ایسے ریاست مخالف عناصر کے ساتھ اور کیا ہمدردی کرے کہ ریاست مخالف بیانئے کے باوجود پی ٹی ایم کی نمائندگی پارلیمنٹ میں ہے ۔ اگر ریاست اتنی ظالم ہوتی تو چند افراد پر مشتمل را کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے اس جتھے کو کچلنے میں دیر ہی کتنی لگنی تھی ۔ معاملہ بین الاقوامی مراعات ، کینیڈا اور جرمنی کی شہریت اور بھارت سے فنڈنگ کا ہے ۔ آپ اس بات سے اندازہ لگا لیجئے کہ برطانوی نشریاتی ادارہ لکھتا ہے کہ پی ٹی ایم کا موقف پاکستانی میڈیا سے غائب کیوں ہے ۔ کوئی لندن والوں سے پوچھے کہ رائل ملٹری تو دور کی بات اسکاٹ لینڈ یارڈ کی چوکی پر حملہ کرنے والے کسی بھی شدت پسند کا موقف آپ بی بی سی پر چلا کے دکھائیں ہم مان جائیں گے ۔ بی بی سی سمیت سارے بھارت نواز میڈیا کی توپوں کا رخ پاکستان کی جانب ہے اور اس سے صاف واضح ہے کہ پی ٹی ایم کو کس کی حمایت حاصل ہے ۔ ۔ یہ بین الاقوامی سازش ہے ، بھارت کی فنڈنگ ہے اور مقصد ریاست پاکستان اور ہماری افواج کو بلاوجہ کے ایشوز میں الجھائے رکھنا ہے ۔ نوجوان اور پڑھے پشتونوں اور لنڈے کے لبرلز سے گذارش ہے کہ عقل کے ناخن لیں ، سوچ سمجھ کے لکھیں کیونکہ نفرت کا یہ پرچار ملک کو بہت بڑے نقصان سے دوچار کر سکتا ہے