کراچی: رجب بٹ کے خلاف ایف آئی آر درج نہ ہونے پر کراچی میں وکلانے بدھ کے روز سٹی کورٹ میں ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔
صدر کراچی بار عامر نواز وڑائچ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہڑتال کے دوران پولیس اہلکارو افسران کے داخلہ پر مکمل پابندی ہوگی، جب تک رجب بٹ، ندیم نانی والا، میاں علی اشفاق سمیت دیگر پر مقدمہ درج نہ ہوا احتجاج جاری رہے گا بدھ کے روز کسی بھی پولیس اہلکار کو سٹی کورٹ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا جب تک وکلا کی درخواست پر رجب بٹ کے خلاف مقدمہ درج نہیں ہوتا، احتجاج جاری رہے گا-
صدر کراچی بار عامر وڑائچ نے کہا ہے کہ وکلا کی مدعیت میں فوری طور پر رجب بٹ و دیگر کیخلاف مقدمہ درج کیا جائے اور جے آئی ٹی تشکیل دی جائے جو دونوں فریقین کا موقف سنے،جے آئی ٹی فیصلہ کرے اور جس کی بھی غلطی ہو اسے سزا دے، پروپیگنڈے کے تحت وکلا کو بدنام کرنے کی سازش کرکے وکلاء کی کردار کشی کے لیے مہم چلائی جارہی ہے۔
سال 2026 معاشی بہتری کا سال ،حالات میں مزید بہتری کی امید ، گیلپ
وکلا نے کل صبح 11 بجے سٹی کورٹ میں ہنگامی اجلاس بھی طلب کر لیا ہے،صدر کراچی بار کے مطابق اجلاس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔
اس سے قبل عامر وڑائچ کا کہنا تھا کہ آج صبح معلوم ہوا کہ وکلا کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ وکلا کی جانب سے بھی ایف آئی آر درج ہونی چاہیے،اگر ایسا نہ ہوا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔
وکلا کی جانب سے سٹی کورٹ کے باہر ایم اے جناح روڈ پر احتجاج کیا گیا، جس کے باعث ایم اے جناح روڈ اور ملحقہ سڑکوں پر ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی،وکلا برادری نے الزام عائد کیا کہ ملزم رجب بٹ نے وکلا کی توہین کی ملزم رجب بٹ کے وکیل نے اس معاملے میں کئی وکلا ساتھیوں پر غلط مقدمہ درج کرایا ہے، جب ہم اپنے موقف پر مقدمہ درج کرانے گئے تو پولیس ایف آئی آر درج نہیں کررہی ہے۔
فرانس اور برطانیہ کے درمیان چلنے والی یورو اسٹار ٹرین سروس غیر معینہ مدت تک منسوخ
واضح رہے کہ گزشتہ روز سٹی کورٹ میں یوٹیوبر رجب بٹ پر تشدد کے واقعے کے بعد 15 سے زائد وکلا کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا یہ مقدمہ رجب بٹ کے وکیل میاں علی اشفاق ایڈووکیٹ نے تھانہ سٹی کورٹ میں درج کروایا، جس میں تشدد، مارپیٹ، جان سے مارنے کی دھمکیاں اور دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمے میں ریاض علی سولنگی، فتح چانڈیو سمیت دیگر افراد کو نامزد کیا گیا ہے،مقدمے کے متن کے مطابق تشدد کے دوران رجب بٹ کے 3 لاکھ روپے بھی غائب ہو گئے۔