Baaghi TV

Tag: رحم مادر

  • 61 سال ماں کے پیٹ میں رہنے والا بچہ پتھرکا بن گیا

    61 سال ماں کے پیٹ میں رہنے والا بچہ پتھرکا بن گیا

    خاتون کو اپنی اولاد کو دیکھنے کیلئے 61 سال انتظار کرنا پڑا،یہ ایک نایاب حالت ہے جو کسی ہارر فلم کی طرح لگتا ہے کہ ایک جنین مر جاتا ہے، اور پھر اس کی ماں کے جسم کے اندر بنیادی طور پر پتھر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی: چین کی ایک خاتون ہوانگ ییجون نے 92 سال کی عمر میں بچے کو جنم دیا، مگر جب ڈاکٹروں نے ان کے بچے کو دیکھا تو ان کے ہوش اڑ گئے، کیونکہ ان کا بچہ پتھر بن چکا تھا،دراصل ہوانگ 1948 میں 31 سال کی عمر میں ماں بننے والی تھیں، مگر کچھ ایسا ہوا کہ انہیں اپنا بچہ 61 سال تک پیٹ میں رکھنا پڑاجب انہیں پتہ چلا کہ وہ ماں بننے والی ہیں تب انہیں خوشی توکافی ہوئی،مگر جب ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کی ایکٹوپک پریگنینسی ہے تو وہ فکر مند ہوگئی تھیں۔


    ہیلتھ لائن کے مطابق اس حالت میں فرٹیلائز ایگ ماں کے رحم سے چپک نہیں پاتا اس حالت میں ماں اور بچہ دونوں کیلئے کافی خطرات ہوتے ہیں ان حالات میں پیدا ہونے والے بچوں میں پیدائشی نقائص کا 21 فیصد امکان ہوتا ہے بنیادی طور پر حفاظتی ایمنیوٹک سیال کی عدم موجودگی اور رحمِ مادر کے اندر نارمل بچوں کے مقابلہ میں انہیں اضافی دباؤ جھیلنا پڑتا ہے۔

    بی سی سی آئی صدر راجر بنی نے دورہ پاکستان کی تصدیق کر دی

    ہوانگ کے معاملے میں بچہ زندہ نہیں بچا ان کے پیٹ میں پرورش پا رہا بچہ اتنا بڑا ہوگیا تھا کہ اس کا جسم خود بخود باہر نہیں نکل سکتا تھا ڈاکٹروں نے اس سے نجات کیلئے سرجری کرانے کا مشورہ دیا تھا، کیونکہ اس کو رکھنے سے بعد میں صحت سے وابستہ پریشانیاں لاحق ہوسکتی تھیں لیکن سرجری کی لاگت خاتون اور اس کے اہل خانہ کیلئے کافی زیادہ تھی ہوانگ نے آپریشن کو نظر انداز کرنے کا فیصلہ کیا۔

    ایک ڈاکٹر نے این بی سی نیوز کو بتایا کہ جب ایسے معاملات میں بچہ اتنا بڑا ہوجاتا ہے کہ جسم قدرتی طور پر اسے باہر نہیں نکال پاتا تو مردہ بافتوں کے پاس کیلشیم جمع ہوجاتا ہے۔ اس تبدیلی کے نتیجہ میں ایک ’اسٹون بے بی‘ بنتا ہے۔ جو خواتین اس کا تجربہ کرتی ہیں وہ اکثر اس سے انجان رہتی ہیں۔

    تاہم، ہوانگ کے غیر معمولی معاملے میں وہ پتھر کے بچے کی موجودگی کے بارے میں بخوبی واقف تھیں، لیکن وہ اس کو ہٹانے کا رسک نہیں اٹھا سکتی تھیں۔

    خیبرپختونخوا میں ضمنی بلدیاتی انتخابات کیلئے ووٹنگ جاری

    آخر کار 2009 میں 92 سال کی عمر میں انہوں نے 60 سال سے رحم مادر میں موجود جنین کو ہٹانے کیلئے سرجری کروائی اور جب بچہ باہر نکلا تو اسے دیکھ کر ڈاکٹرز بھی حیران رہ گئے، کیونکہ وہ مکنمل طور پر پتھر بن چکا تھا۔

  • تاریخ کا بڑا ٹرانسپلانٹ،بانجھ خواتین کے لیے بچے پیدا کرنے کے امکانات کھل گئے

    تاریخ کا بڑا ٹرانسپلانٹ،بانجھ خواتین کے لیے بچے پیدا کرنے کے امکانات کھل گئے

    برطانیہ میں پہلی بارایک خاتون کے رحم کی کامیاب پیوند کاری کی ہے جس سے ہر سال درجنوں بانجھ خواتین کے لیے بچے پیدا کرنے کے امکانات کھل گئے ہیں رحم کی عطیہ کنندہ خاتون کی بہن ہے۔

    باغی ٹی وی : سرجنوں نے برطانیہ میں ایک خاتون پر رحم کا پہلا ٹرانسپلانٹ کیا ہے،ابتدائی طریقہ کار کے پیچھے موجود طبی ٹیم کے مطابق، 34 سالہ نوجوان خاتون آپریشن کی کامیابی پر”ناقابل یقین حد تک خوش تھی، اب وہ آئی وی ایف کے ذریعے دو بچے پیدا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    برطانیہ کے آکسفورڈ ٹرانسپلانٹ سینٹر کے ماہرسرجنز نے 34 سالہ خاتون کے رحم مادر کے ٹرانسپلانٹ کا کامیاب آپریشن 9 گھنٹے میں مکمل کیا برطانوی شادی شدہ خاتون شادی کے بعد کئی سالوں سے اولاد کی خواہشمند تھیں لیکن رحم میں کچھ پیدائیشی پیچیدگیوں کے باعث ماں نہیں بن سکتیں تھیں خاتون کی 40 سالہ بہن رحم کی عطیہ دہندہ ہیں، ان کے پہلے ہی اپنے دو بچے تھے۔

    اب تک سویڈن، امریکہ، سعودی عرب، ترکی، چین، چیک جمہوریہ، برازیل، جرمنی، سربیا اور بھارت سمیت بین الاقوامی سطح پر 90 سے زائد رحم کی پیوند کاری کی گئی ہے اس کے نتیجے میں تقریبا 50 بچے پیدا ہوئے ہیں۔

    برظانوی ماہرین کے مطابق یہ ایک پیچیدہ سرجری تھی، جس میں ان کی میڈیکل ٹیم کے ایکسپرٹس نے بھر پور حصہ لیا اس کامیاب سرجری کے بعد ان خواتین کی حوصلہ افزائی ہوگی جو عرصہ دراز سے ماں بنننے کی خواہشمند ہیں۔

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے ہسپتالوں کے ایک حصے، آکسفورڈ ٹرانسپلانٹ سنٹر کی ایک کنسلٹنٹ سرجن، شریک لیڈ سرجن ازابیل کوئروگا نے کہا کہ وہ "پرجوش” اور "انتہائی فخر” ہیں کہ سرجری کامیاب رہی مریضہ "ناقابل یقین حد تک خوش” ہے امید کر رہی ہے کہ وہ ایک نہیں بلکہ دو بچے پیدا کر سکتی ہے اس کا رحم بالکل ٹھیک کام کر رہا ہے اور ہم اس کی پیشرفت کو بہت قریب سے مانیٹر کر رہے ہیں۔

    اس موسم خزاں میں دوسری خاتون پر یوکے میں رحم کی پیوند کاری ہونے والی ہے، جس کی تیاری کے مراحل میں مزید مریض ہیں۔ سرجنوں کے پاس 10 آپریشنز کی منظوری ہے جس میں دماغی مردہ عطیہ دہندگان کے علاوہ زندہ ڈون ر سمیت پانچ شامل ہیں۔

    چیریٹی وومب ٹرانسپلانٹ یوکے کے کلینکل لیڈ اور امپیریل کالج لندن کے کنسلٹنٹ گائنی سرجن کے شریک سرجن پروفیسر رچرڈ اسمتھ نے کہا کہ یہ آپریشن "بڑی کامیابی” رہا ہے۔