Baaghi TV

Tag: رحیم یارخان

  • مستونگ :ٹریک پر دھماکا، جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں  پٹری سے اتر گئیں

    مستونگ :ٹریک پر دھماکا، جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں

    کوئٹہ: مستونگ کے قریب ریلوے ٹریک پر دھماکے کے نتیجے میں جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں،جبکہرحیم یارخان میں بھی خان پور سٹی پھاٹک پر عوام ایکسپریس کی 3 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔

    ریلوے حکام کے مطابق جعفر ایکسپریس کوئٹہ سے پشاور کے لیے صبح 9 بجے روانہ ہوئی تھی کہ سپیزنڈ مستونگ کے قریب ریلوے ٹریک پر اس وقت دھماکا ہو گیا جب جعفر ایکسپریس گزر رہی تھی،ہ دھماکے سے جعفر ایکسپریس کی 6 بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں تاہم کوئی مسافر زخمی نہیں ہوا۔

    چند روز قبل سبی میں بھی ریلوے ٹریک پر دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں جعفر ایکسپریس حادثے سے بال بال بچ گئی تھی۔

    لندن : فلسطین کے حق میں مظاہرہ ، پولیس کا کریک ڈاؤن، 466 افراد گرفتار

    دوسری جانب رحیم یارخان میں بھی خان پور سٹی پھاٹک پر عوام ایکسپریس کی 3 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔

    ریلوے حکام کے مطابق ٹرین پشاور سے کراچی جا رہی تھی ، خان پور سٹی پھاٹک پر حادثے کا شکار ہو گئی ، حادثے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی، حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم ڈاؤن ٹریک ٹرینوں کی آمد و رفت کیلئے معطل ہو گئی ہے ، ٹریک کو جلد بحال کر دیا جائے گا۔

    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا دورہ امریکا، اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے ملاقاتیں

  • دو کم سن بھائیوں کا زیادتی کے بعد قتل

    دو کم سن بھائیوں کا زیادتی کے بعد قتل

    رحیم یارخان میں دو کم سن بھائیوں کی نہرسے لاشیں ملیں جنہیں زیادتی کے بعد قتل کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے-

    باغی ٹی وی : پولیس ذرائع کے مطابق آدم صحابہ نہر سے ملنے والی دو بچوں کی لاشوں کی میڈیکل رپورٹ جاری کردی گئی جس کے مطابق دونوں کم سن بھائیوں کو قتل کیا گیا اور 5 سالہ چھوٹے بھائی کو زیادتی کا بھی نشانہ بنایا گیا دونوں بھائیوں کا گلا گھوٹ کر قتل کرنے کے بعد لاشیں نہر میں پھینک دی گئیں۔

    پولیس نے اغوا کا مقدمہ درج کیا مگر بچوں کو نہر میں تلاش کرتی رہی ورثا نے لاشیں ملنے پر پوسٹ مارٹم کرایا تو حقیقت سامنے آگئی جاں بحق بھائیوں میں 9 سالہ فہد اور پانچ سالہ عبداللہ شامل ہیں۔

    غیر اخلاقی حرکات بارے والدین کو کیوں بتایا؟ قاری نے بچی کو قتل کر دیا

    قبل ازیں تھانہ رتہ امرال کے علاقہ حافظ آباد میں گیارہ سالہ طالبہ کے بہیمانہ قتل کا معاملہ پولیس نے بہیمانہ قتل کے ملزم قاری عادل کو عدالت میں پیش کردیا کیس کی سماعت علاقہ مجسٹریٹ مبشر حسین نے کی ،پولیس نے ملزم قاری عادل کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کی ،عدالت نے ملزم قاری عادل کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرکے ملزم کو پولیس کی تحویل میں دے دیا

    اسلام آباد ڈاکوؤں کیلیے جنت بن گیا، یکے بعد دیگرے آٹھ وارداتیں

    21 سالہ قاری عادل 12 سال کی بچی کو سپارہ پڑھانے کے لیے اس کے گھر جاتا تھا، مقتولہ طالبہ نے والدین سے چند روز قبل ملزم کی غیر اخلاقی حرکات کے بارے میں شکایت کی، والدین نے پڑھانے سے روک دیا بچی محلے کے ٹیوشن سینٹر گئی تو قاری نے بچی کی گردن پر تیز دھار آلے سے وار کرکے اسے قتل کردیا-

    جبکہ تھانہ وراث خان کے علاقے لڑکی کے اغواء اور زیادتی کے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ،زیادتی اور اغواء کے مقدمے میں ملزمان ارسلان اور احمد کو نامزد کیا گیا ملزمان نے 15 سالہ لڑکی کو مکھ سنگھ اسٹیٹ پارک سے اغواء کیا، ملزمان نے لڑکی کو اغواء کر کہ کمرے میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا، والدہ کا کہنا ہے کہ ملزمان نے میری بیٹی کی نازیبا تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائی،واقعے پر اعلی افسران نوٹس لیں اور انصاف فراہم کریں-

    وجیہہ سواتی قتل کیس، پہلےشوہرکی بند فائل 7سال بعد دوبارہ کھل گئی

  • "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    "صلاح الدین کا مبینہ قتل ریاست کے سر پر ہے” محمد عبداللہ

    عمران خان صاحب آپ نے سانحہ ساہیوال پر کہا کہ میں بیرون ملک سے واپس آکر اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچاؤں گا اگر آپ واپس آچکے تو آپ کو خبر ہو کہ اب اک اور بے گناہ اور معصوم نوجوان صلاح الدین ان پولیس والوں کی درندگی کی بھینٹ چڑھ گیا. ہنسنے مسکرانے والا صلاح الدین جو خود تو چلا گیا لیکن اس نظام پولیس پر ایک ایسا زناٹے دار تھپڑ رسید کرگیا جو شاید اس کی موت کی ہی وجہ بن گیا. چہرے پر بچوں کی سی معصومیت لیے بھولے لہجے میں اپنے تفتیشی افسران سے کہنے لگا کہ جان کی امان پاؤں تو اک بات عرض کروں. اذن سوال ملنے پر جو بولا تو اس نظام پولیس اور درندگی کو عیاں کرگیا کہنے لگا کہ آپ نے انسانوں کو مارنا کہاں سے سیکھ لیا. اور پھر مبینہ طور پر جان کی امان نہ مل سکی اور سفید ریش بوڑھے باپ کو صلاح الدین کی میت ہی ملی جس پر مبینہ طور پر غیر انسانی تشدد کے آثار واضح ہیں. پولیس کی زیر حراست یہ موت پورے نظام پولیس اور ریاست کے سر پر ہے. اس مبینہ قتل کی ذمہ دار ریاست پاکستان ہے، یہ نظام تفتیش اور نظام پولیس ہے جو نہ جانے کتنی ماؤں کے لعل کھاگیا، کتنی بیویوں کے سہاگ اجڑ گئے، کتنی بہنیں اپنے بھائیوں کی راہ تکتی رہ گئیں اور کتنے ہی باپ اپنے بڑھاپے کے سہارے کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہوئے.
    عمران خان صاحب، جناب قمر جاوید باجوہ صاحب، چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ صاحب، چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی صاحب، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر صاحب ، عثمان بزدار صاحب، آئی جی پنجاب پولیس، مکمل پارلمینٹ، تمام قومی اداروں کے سربراہان صلاح الدین کا مبینہ قتل یہ ریاست پاکستان پر ہے آپ سب کے سر ہے اور پوری قوم کے سر پر ہے. آخر کب تک اس قوم کے بیٹے تفتیش کی اس درندگی کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے. پولیس کے سپاہی اور افسران کب تک ترقیوں کے چکر میں بے گناہوں کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرتے رہیں گے؟ ذہنی معذور صلاح الدین کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے..
    اپنے دوستوں سے جو معصوم صلاح الدین کو ملک چوروں اور ڈکیتوں سے ملا رہے ہیں یا موازنہ کر رہے ہیں چھوٹا اور بڑا چور کہہ کر میں ان سے گزارش کرتا ہوں صلاح الدین چور نہیں تھا. وہ تو اس کیفیت میں تھا جس میں شریعت اسلامی بھی فرائض تک میں درگزر کرجاتی ہے. خدارا صلاح الدین کو چور کہہ کر اس کے والدین اور ورثاء کے دلوں پر چھریاں نہ چلائیں جو صلاح الدین سے پہلے ہی دو جواں سال بیٹے اس دھرتی کے لیے قربان کرچکے ہیں.

    Muhammad Abdullah