Baaghi TV

Tag: رحیم یار خان

  • کچے کے علاقوں میں آپریشن جاری،ملزمان کے 7 ٹھکانوں کو نذر آتش

    کچے کے علاقوں میں آپریشن جاری،ملزمان کے 7 ٹھکانوں کو نذر آتش

    رحیم یار خان اور راجن پور کے کچے کے علاقوں میں پنجاب پولیس کا آپریشن جاری ، پولیس نے ملزمان کے 7 ٹھکانوں کو نذر آتش کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی: پولیس کےمطابق اب تک سات خطرناک مجرموں کےٹھکانوں کاخاتمہ کردیاگیا ہے پولیس کےمطابق کریمنلز نذیرلاٹھانی، ارشاد لاٹھانی، شبیرا لاٹھانی، فریدا کوکانی ، اسحاق جھوبرا سکھانی ، عبداللہ سکھانی اور حافظ مہر دین سکھانی کے ٹھکانوں کو نذر آتش کردیا گیا ہے۔

    سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پشاور میں تین روز کیلئے دفعہ 144 نافذ

    پولیس کی جانب سے کچہ کے علاقوں میں مجرموں کے ٹھکانوں کو ختم کرنے کے بعد متعدد کیمپس قائم کر دئیے گئے ہیں اندرونی علاقوں میں دیگر خفیہ ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے پیش قدمی جاری ہے کچہ کے داخلی و خارجی راستوں پر چیکنگ شروع کر کے سنائپر تعینات کردیئے ہیں کچے کے علاقوں میں پولیس گشت کررہی ہے داخلی اورخارجی راستوں پرناکہ بندی کی گئی ہے اورآنےجانےوالوں کی چیکنگ بھی کی جا رہی ہے۔

    لاہور: نامعلوم افراد مبینہ اجتماعی زیادتی کے بعد لڑکی کو سڑک پر پھینک کر فرار

    ترجمان نےبتایا ہے کہ پولیس کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہےڈاکوؤں کے خفیہ ٹھکانوں پر ٹارگٹڈ کارروائیاں بھی جاری ہیں آپریشن میں 3 ڈاکو ہلاک اور 28 کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ ان سے اسلحہ بھی آمد ہوا ہے۔

    مسافروں سے لوٹ مار میں مصروف بدنام زمانہ ڈاکو پولیس کی فائرنگ سے ہلاک

    دوسری جانب ڈی پی او محمد ناصر سیال نے بتایا ہے کہ راجن پور میں پولیس کے دستوں نے کچہ میانوالی ون کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے کچہ میانوالی ون میں ڈاکوؤں کے ٹھکانوں، کمین گاہوں کو تباہ کر دیا گیا اور علاقے میں پولیس چوکیاں قائم کر دی گئی ہیں یہاں اب تک 4 ڈاکو ہلاک، 8 زخمی ہوئے ہیں جبکہ 5 ڈاکوؤں کو اسلحے سمیت گرفتارکیاگیا ہے جبکہ ڈاکوؤں کے 20 سہولت کار بھی گرفتارکیے جا چکے ہیں۔

    گھوٹکی:ڈاکوؤں نے دو افراد کو اغوا کرلیا،دو افراد مزاحمت پر زخمی

  • کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ

    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ

    رحیم یار خان میں کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کے دوران آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گیا۔

    باغی ٹی وی: رحیم یار خان میں کچے کے علاقے میں آئی جی پنجاب عثمان انور کی زیر نگرانی ڈاکوؤں کے خلاف گرینڈ آپریشن جاری ہے، آرپی او بہاولپور رائے بابر سعید اور ڈی پی او رضوان عمر گوندل بھی آئی جی پنجاب کے ہمراہ موجود ہیں آپریشن کے دوران ڈاکوؤں کی جانب سے آئی جی پنجاب اور ڈی پی او رحیم یار خان پر فائرنگ کی گئی، ڈاکووں کی فائرنگ سے ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گیا۔

    گیس اور اسٹریٹ کرائم پر بیان دینے پر لوگ مجھ پر تنقید کرتے ہیں،گورنر سندھ

    آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ کچے کے علاقے میں پولیس چوکیاں مکمل بحال ہیں اور ڈاکوؤں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن جاری ہے، پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے،آج اندرونی علاقوں میں پیش قدمی کی جائے گی، کچے کے علاقےسےمجرموں کے ٹھکانوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور ریاست اور قانون کی رٹ کو بحال کیا جائے گا آپریشن میں جدید اسلحہ اور بکتر بند گاڑیاں بھی استعمال کی جائیں گی۔

    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت …

    عثمان انور کا کہنا تھا کہ پنجاب سے 2 ہزار جوانوں پر مشتمل نفری بھجوائی گئی ہے، مجموعی طور پر 11 ہزار جوان آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں، سندھ پولیس بھی اپنے علاقوں میں آپریشن کا آغاز کر رہی ہے۔

  • رحیم یار خان: ڈاکو سوشل میڈیا پر سستی گاڑیوں اورانعامات کا لالچ دے کرشہریوں کو اغوا کرنے لگے

    رحیم یار خان: ڈاکو سوشل میڈیا پر سستی گاڑیوں اورانعامات کا لالچ دے کرشہریوں کو اغوا کرنے لگے

    رحیم یار خان میں کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے آپریشن جاری

    باغی ٹی وی:رحیم یار خان میں کچے کے ڈاکوؤں کے خلاف جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے آپریشن جاری ہے،ڈی پی او رحیم یار خان کے مطابق اینٹی ہنی ٹریپ سیل کےذریعے 200 سے زائد افراد کو اغوا ہونےسےبچایا گیابچائے جانے والے شہریوں میں خیبرپختونخوا کا پولیس اہلکار بھی شامل ہے-

    اوکاڑہ ۔ ڈاکوؤں نے ہوٹل کے ڈلیوری بوائے کو بھی لوٹ لیا

    ڈی پی او کے مطابق ڈاکو سوشل میڈیا پر سستی گاڑیوں اورانعامات کا لالچ دے کر بلوا کر اغوا کر لیتے ہیں، خیبرپختونخوا کے 2 شہری اشتہار دیکھ کر سستی گاڑی کے لالچ میں کچے جارہے تھے،سرحدی چیک پوسٹ کے قریب وین روک کر شہریوں کو اغوا ہونے سے بچا لیا گیا –

    ڈی پی او نے شہریوں کوہدایت کی کہ شہری سوشل میڈیا پر اشتہارات کو دیکھ کر گھوٹکی ،کشمور اور راجن پور کے علاقے میں نہ جائیں

    دوسری جانب کندھ کوٹ پولیس نے ڈاکوؤں کی جانب سے چیک پوسٹ پر حملہ کرکے اغوا کیے گئے 2 اہلکاروں کوبازیاب کرالیا۔
    ایس ایس پی کندھ کوٹ کے مطابق ڈاکوؤں سے مقابلے کے بعد اہلکاروں کوبازیاب کرایا گیا، جوابی فائرنگ میں بھیوگینگ کے ڈاکو اہلکاروں کو چھوڑ کرفرار ہوگئے۔

    ملک کے مختلف شہروں میں کارروائیاں ،منشیات اور اسلحہ برآمد،ملزمان گرفتار</h4

    ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے ڈاکوؤں کی گرفتاری کے لیے گھرگھرتلاشی جاری ہے، اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کچے کے درانی مہر میں آپریشن کیا گیا جس دوران ڈاکوؤں کے ٹھکانوں کو گرا کر آگ لگا دی۔

    واضح رہے کہ اہلکار عبدالغفار اور سجادجکھرانی کو 2 روز قبل دوڑ چیک پوسٹ سے اغوا کیا گیا تھا۔

    کندھ کوٹ : پولیس اہلکاروں کی بازیابی کے لیے ،پولیس نے کچے میں آپریشن …

  • رحیم یار خان : کچہ ماچھکہ میں پولیس مقابلہ،2 ڈاکوہلاک،ایک زخمی،3 پولیس ایلکاربھی زخمی

    رحیم یار خان : کچہ ماچھکہ میں پولیس مقابلہ،2 ڈاکوہلاک،ایک زخمی،3 پولیس ایلکاربھی زخمی

    راجنپور باغی ٹی وی نامہ نگار (کنور اویس) رحیم یار خان کچہ ماچھکہ میں پولیس مقابلہ، ڈی پی او آختر فاروق پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ خود موقع پر پہنچ گئے ،پولیس اور ڈاکووں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ،ایک ڈاکو زخمی، دو ڈاکو مارے گئے ،فائرنگ کے تبادلہ میں تین پولیس ملازم بھی زخمی ہوئے ، ڈی پی او آختر فاروق اوراے ایس پی شاہ زیب چاچڑ پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر موجود،پولیس اور ڈاکووں کے درمیان پولیس مقابلہ کچہ ماچھکہ کھروڑ کے علاقے میں پیش آیا، ،مقابلے میں خطرناک سیلرا گینگ کے دو ڈاکو مارے گئے ایک زخمی، مزید کاروائی جاری ، ترجمان پولیس کاکہناہے کہ مقابلے میں پولیس کے تین جوان بھی زخمی ہوئے ، پولیس نے تینوں زخمی اہل کاروں کو علاج معالجہ کے لیئے کشمور ہسپتال منتقل کر دیا ، جنکی حالت خطرے سے باہر ہے ،پولیس کی بھاری نفری موقع پر مزید کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے ،

  • رحیم یار خان:محکمہ صحت کی مبینہ غفلت نےایک ہی خاندان کے12 افراد کی جان لے لی

    رحیم یار خان:محکمہ صحت کی مبینہ غفلت نےایک ہی خاندان کے12 افراد کی جان لے لی

    رحیم یارخان:رحیم یارخان میں محکمہ صحت کی مبینہ غفلت نے ایک ہی خاندان کے 12افراد کی جان لے لی۔رحیم یار خان کے نواحی علاقے رکن پور میں دو ہفتوں کےدوران بخار سے6 بچوں اور 4 خواتین سمیت 12افراد انتقال کرگئے۔مقامی لیڈی ہیلتھ ورکر نے محکمہ صحت کےضلعی افسران کوصورتحال سے آگاہ کیا،لیکن کسی پر کوئی اثر نہ ہوا۔

    ٹھٹھہ : یوسی بجھورا کے وائس چیئرمین کے آزاد امیدوار گن پوائنٹ پر لوٹ لیاگیا

    میڈیا پر خبرنشر ہونے پرانتظامیہ، محکمہ صحت اور شیخ زاید اسپتال کے ڈاکٹرز حرکت میں آئے اور ٹیمیں رکن پور روانہ کی گئیں جہاں معلوم ہوا کہ لوگوں کی ہلاکتیں گردن توڑ بخار کی وجہ سےہوئیں۔

    گھرمیں گھس کر ڈاکٹر کوچھریوں کے وار سے کیا گیا قتل، بیوی سمیت تین افراد گرفتار

    محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق بنیادی صحت کے مرکز میں تشخیص اور اخلاقیات کا فقدان ہے۔ورثا نے محکمہ صحت کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

    برطانوی شہزادے ہیری نےہیلی کاپٹرحملےمیں25 بےگناہ افغان قتل کردیئے

    گردن توڑ بخار کوئی نئی یا پر اسرار بیماری نہیں لیکن محض بخار میں ایک ہی خاندان کے 12 افراد کی ہلاکت نے محکمہ صحت کی کارکردگی، بروقت تشخیص کے فقدان اور دیہی علاقوں میں بنیادی صحت کی سہولتوں پر سوالیہ نشانات کھڑے کردیےہیں۔

  • رحیم یار خان، پراسرار بیماری 15 دن میں ایک ہی گھر کے 12 افراد جاں بحق

    رحیم یار خان، پراسرار بیماری 15 دن میں ایک ہی گھر کے 12 افراد جاں بحق

    رحیم یار خان، رکن پور میں پر اسرار بیماری ،چند روز میں ایک ہی خاندان کے 12 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں

    ترجمان شیخ زید اسپتال کا کہنا ہے کہ 3 افراد کو بخار میں مبتلا ہونے پراسپتال منتقل کیا گیا تھا جنکی موت ہوگئی، متاثرہ گھر سے کھانے پینے کی اشیا برتنوں اورمتاثرہ افراد کے خون کے نمونے لیے، رپورٹ سامنے آنے پر موت کی وجہ بیان کی جا سکتی ہے،دیگرافراداسپتال میں زیرعلاج ہیں، اب تک 12 افراد کی موت ہو چکی ہے اب تک جاں بحق ہونے والوں میں 10 سالہ صائمہ ، 12 سالہ عمیرہ ، 16 سالہ اعجاز ، زبیدہ بی بی ، مقصود احمد ، رابعہ بی بی ، عائشہ بی بی ، شہناز بی بی ، نذیراں بی بی اور بشیراں بی بی شامل ہیں جبکہ 7 سالہ آصف اور 2 سالہ خدیجہ کو تشویشناک حالت میں شیخ زید ہسپتال رحیم یارخان داخل کروا دیا گیا ہے

    سیکرٹری صحت پنجاب نے بھی واقعہ کا نوٹس لیا ہے اور رحیم یار خان حکام سے رپورٹ طلب کی ہے، بیماری سے مرنیوالوں کی عمریں 2 سے 30 سال کے درمیان ہیں، مرنیوالے کو بخار ہوتا اور اگلے دو سے تین دن میں انکی موت ہو جاتی ہے، بخار کے بعد موت، طبی عملے نے بھی اس حوالہ سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے,بخار کے ساتھ گلے میں بھی درد ہوتا ہے، کئی افراد اس بیماری میں مبتلا ہو چکے ہیں محکمہ صحت کی ٹیموں نے گھر کا دورہ کیا اور خوراک سمیت دیگر چیزوں کا معائنہ کیا ہے،

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

  • پولیس اہلکار کی مبینہ فائرنگ سےشہری جاں بحق، ورثا کا احتجاج

    پولیس اہلکار کی مبینہ فائرنگ سےشہری جاں بحق، ورثا کا احتجاج

    رحیم یار خان: پولیس اہلکار کی مبینہ فائرنگ سے شہری جاں بحق ہو گیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق رحیم یار خان میں تھانہ بی ڈویژن میں محافظ اسکواڈ کے اہلکار کی مبینہ فائرنگ سے نوجوان جاں بحق ہوگیا، ورثا نے احتجاج کرتے ہوئے اسپتال سے لاش لینے سے انکار کردیا۔

    کراچی میں ہجوم نے 2 افراد کو بچوں کا اغواکارسمجھ کر قتل کردیا

    لواحقین نے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ پولیس اہلکار سے 15دن پہلے بھائی کی ہاتھا پائی ہوئی تھی۔

    ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول بلال کو 15روز قبل جھوٹی اطلاع دینے کے مقدمے میں گرفتار کیا تھا جیل سے رہا ہونے کے بعد بلال تھانے میں اپنا سامان لینے آیا تھا۔ پولیس اہلکار سے پستول کی صفائی کے دوران گولی چلی۔

    ترجمان پولیس کے مطابق غفلت برتنے پر 3 پولیس اہلکار معطل کرکے انکوائری کمیٹی قائم کر دی گئی۔

    راجن پور : گھریلو تنازعہ ،بیوی کوگولی مارنے کے بعد خاوند کی خود کشی

    قبل ازیں صوبائی دارالحکومت میں ناخلف بیٹوں نے گھریلو ناچاقی پر فائرنگ کرکے اپنےوالد کو قتل کردیا تھا پولیس کےمطابق کوٹ لکھپت کے علاقے میں گھریلو ناچاقی پر جھگڑے کے دوران بیٹوں نے باپ کو گولی مار کر قتل کردیا۔

    پولیس کا کہنا تھا کہ 50 سالہ شوکت کے ساتھ اس کے بیٹوں حسنین، عابد اور بیوی کا جھگڑا ہوا تھا گھر والوں کے مابین لڑائی کے دوران طیش میں آ کر بیٹوں نے باپ پر گولی چلا دی، جس کے نتیجے میں شوکت موقع پر جاں بحق ہوگیا۔ دونوں بیٹے عابد اور حسنین الگ گھروں میں رہتے ہیں اور دونوں کو ماں نے فون کرکے بلوایا تھا۔

    ٹھٹھہ : مجھے انصاف چاہئے ہے، میرے بیٹے کے قتل کی انکوئیری شفاف طریقے سے کی جائے-…

  • رحیم یارخان میں کانگو وائرس کا ایک مشتبہ مریض جاں بحق

    رحیم یارخان میں کانگو وائرس کا ایک مشتبہ مریض جاں بحق

    رحیم یار خان میں کانگو وائرس کا ایک مشتبہ مریض دم توڑ گیا۔

    باغی ٹی وی : شیخ زید اسپتال رحیم یار خان میں کانگو وائرس کا ایک مشتبہ مریض دم توڑ گیا اسپتال ترجمان کا کہنا ہےکہ اسپتال میں کانگو وائرس کے3 مزید مشتبہ مریض زیر علاج ہیں دوسری جانب محکمہ صحت نے بتایا ہےکہ وائرس کی تصدیق کے لیے مریضوں کےنمونے قومی ادارہ صحت کوبھیج دیئےگئے ہیں۔

    کانگو وائرس جس کا سائنسی نام کریمین ہیمریجک کانگو فیور یا کریمین ہیمریجک کانگو بخار ہے۔ یہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا مرض ہے ،کانگو وائرس مختلف جانوروں مثلاً بھیڑ، بکری، گائے، بھینس اور اونٹ کی جلد میں پایا جاتا ہے کانگو وائرس سے متاثرہ جانور ذبح کرنے کے دوران کسی شخص کے ہاتھ میں کٹ لگ جائے تو یہ وائرس انسانی خون میں شامل ہو جاتا ہے۔

    اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں مارکیٹوں سے متعلق دفعہ 144 کےتحت پابندیوں کا اطلاق

    اس وائرس کی چار اقسام ہیں –

    ڈینگی وائرس(Dengue)، ایبولا وائرس(Ebola)، لیسا وائرس(LASSA)، ریفٹی ویلی وائرسRiftVally)

    اگر کسی کو کانگو وائرس لگ جائے تو اس سے انفیکشن کے بعد جسم سے خون نکلنا شروع ہوجاتا ہے۔ خون بہنے کے سبب ہی مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ یہ وائرس زیادہ تر افریقی اور جنوبی امریکا ‘مشرقی یورپ‘ایشاء اورمشرقی وسطی میں پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے پہلے کانگو سے متاثرہ مریض کا پتہ انہی علاقوں سے چلا اسی وجہ سے اس بیماری کو افریقی ممالک کی بیماری بھی کہا جاتا ہے۔ سب سے پہلے1944کو کریمیا میں سامنے آنے کی وجہ سے اس کا نام کریمین ہیمرج رکھا گیا۔

    ماہرین صحت اور معالجین کا کہنا ہے کہ کانگو وائرس کے ٹکسTick ( ایک قسم کا کیڑا)مختلف جانوروں مثلاًبھیڑ، بکریوں، بکرے، گائے، بھینسوں اور اونٹ کی جلد پر پائے جاتے ہیں۔ ٹکس جانور کی کھال سے چپک کر اس کا خون چوستا رہتا ہے۔ اور یہ کیڑا ہی اس بیماری کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ کیڑا اگر انسان کو کاٹ لے یا پسو سے متاثرہ جانور ذبح کرتے ہوئے بے احتیاطی کی وجہ سے قصائی کے ہاتھ پر کٹ لگ جائے تو یہ وائرس انسانی خون میں شامل ہو جاتا ہے۔ اور یوں کانگو وائرس جانور سے انسانوں اور ایک انسان سے دوسرے جانور میں منتقل ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے چھوت کا مرض بھی خیال کیا جاتا ہے اور یہ کینسر سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ کانگو میں مبتلا ہونے والا مریض ایک ہفتہ کے اندر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے-

    سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو ڈاکٹروں نے سفر سے منع کردیا

    عللامات:
    کانگووائرس کامریض تیزبخارمیں مبتلا ہو جاتا ہےاسےسردرد، متلی، قے، بھوک میں کمی، نقاہت، کمزوری اورغنودگی، منہ میں چھالے ،اورآنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہےتیز بخار سے جسم میں وائٹ سیلز کی تعدادانتہائی کم ہوجاتی ہےجس سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ مریض کے جسم سے خون نکلنے لگتا ہے اورکچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑے تک متاثر ہوجاتے ہیں، جبکہ جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

    کانگو وائرس کا مریض تیز بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اسے سردرد، متلی، قے، بھوک میں کمی، نقاہت، کمزوری اور غنودگی، منہ میں چھالے، اورآنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہے۔۔ تیز بخار سے جسم میں وائٹ سیلز کی تعداد انتہائی کم ہوجاتی ہے جس سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ مریض کے جسم سے خون نکلنے لگتا ہے اورکچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑے تک متاثر ہوجاتے ہیں، جبکہ جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

    احتیاطی تدابیر:

    کانگو سے بچاؤ اور اس پر قابو پانا تھوڑ ا مشکل ہے کیوںکہ جانوروں میں اس کی علامات بظاہر نظر نہیں آتیں تاہم ان میں چیچڑیوں کو ختم کرنے کے لیے کیمیائی دوا کا اسپرے کیا جائے کانگو سے متاثرہ مریض سے ہاتھ نہ ملائیں مریض کی دیکھ بھال کرتے وقت دستانے پہنیں۔
    مریض کی عیادت کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھوئیں لمبی آستینوں والی قمیض پہنیں جانورمنڈی میں بچوں کوتفریحی کرانے کی غرض سے بھی نہ لے جایا جائے مویشی منڈی میں جانوروں کے فضلے کے اٹھنے والا تعفن بھی اس مرض میں مبتلا کر سکتا ہے کپڑوں اور جلد پر چیچڑیوں سے بچاؤ کا لوشن لگائیں۔

    جانوروں کی خریداری کے لیے فل آستیں والے کپٹرے پہن کر جائیں کیونکہ بیمار جانوروں کی کھال اورمنہ سے مختلف اقسام کے *حشرت الارض چپکے ہوئے ہوتے ہیں جو انسان کوکاٹنے سے مختلف امراض میں مبتلا کرسکتے ہیں جانوروں کی نقل وحمل کرتے وقت دستانے اور دیگر حفاظتی لباس پہنیں، خصوصاً مذبح خانوں ،قصائی اور گھر میں ذبیحہ کرنے والے افراد لازمی احتیاطی تدابیراختیار کریں مذبح میں جانوروں کے طبی معائنہ کے لیے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کا ہونا بہت ضروری ہے جو ایسے جانوروں کی نشان دہی کر سکیں مذبح خانوں کی صفائی کاخاص خیال رکھیں۔

    نیو جرسی: امریکی پاکستانی نے ڈسٹرکٹ جج کا منصب سنبھال لیا

  • کار نہر میں گرنے سے ایک ہی خاندان کے 7 افراد جاں بحق، فائرنگ سے 5  خواجہ سرا زخمی

    کار نہر میں گرنے سے ایک ہی خاندان کے 7 افراد جاں بحق، فائرنگ سے 5 خواجہ سرا زخمی

    رحیم یار خان میں کار نہر میں گرنے سے ایک ہی خاندان کے 7 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : ریسکیو ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک حادثہ کوٹ سمابہ کے قریب 86 والا پل پر پیش آیا ہے جہاں مین روڈ پر ٹریفک بلاک ہونے پرنہر کنارے کچہ راستہ استعمال کرتے ہوئے کار نہر میں جاگری جس میں 2 خواتین اور 2 بچوں سمیت 7 افراد ڈوب کر جاں بحق ہوگئے ۔

    ریسکیو حکام کے مطابق حادثے میں جاں بحق ہونےوالے تمام افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے جن کی لاشیں نہر سے نکال لی گئی ہیں۔

    دوسری جانب مانسہرہ میں خواجہ سرا کے ڈیرے پر فائرنگ سے 5 خواجہ سرا زخمی ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق واقعہ بائی پاس روڈ پر پیش آیا جس کے نتیجے میں زخمی ہونے والے پانچوں خواجہ سراؤں کو ایوب میڈیکل کمپلیکس ایبٹ آباد منتقل کیا گیا ہےاسپتال ذرائع کے مطابق زخمی حالت میں لائے گئے خواجہ سراؤں میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔

    بھائی کی شادی پر رقص کیوں کیا؟ بیوی کے بال اور ناک کاٹنے کی کوشش پر شوہر گرفتار

    پولیس حکام کے مطابق ایک زخمی خواجہ سرا نے الزام لگایا کہ ملزم سبطین جنسی تعلقات رکھنا چاہتا تھا پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرتے ہوئے تفتیش شروع کردی۔

    ادھر کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں فیکٹری ملازم کے قتل میں ملوث دو پولیس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا مقدمہ گبول ٹاون تھانے میں قتل کی دفعہ 302/34 کے تحت مقتول اسماعیل کے چچا زیدی گل کی مدعیت میں پولیس اہلکاروں کے خلاف درج کیا گیا۔

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق مقدمے میں پولیس اہلکار توصیف الرحمن اور عبدلعلی کو نامزد کیا گیا ہے مقتول کے چچا زیدی گل کے مطابق اسماعیل فیکٹری سے گھر کھانا کھانے آیا تھا کہ پولیس اہلکاروں نے گولی مار دی، مقتول اسماعیل تولیہ فیکٹری میں ملازمت کرتا تھا اہلکاروں کی فائرنگ سے اسماعیل زخمی ہوا اور اسپتال منتقلی کے دوران جاں بحق ہوگیا۔

    بچوں پرجنسی تشدد کیس کے مجرم کو سزائے موت دینے کی تجویز کا مسودہ تیار

  • گھر کے قریب سےکیوں گزرے؟ ملزمان نے شخص کو برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

    رحیم یار خان میں گھر کے قریب سے گزرنے پر ایک شخص کو ملزمان نے برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق واقعہ لیاقت پور کے علاقے نور والا میں پیش آیا۔ملزمان نے متاثرہ شخص پر بدترین تشدد کرکے اسے برہنہ کیا اس کی مونچھیں، بال اور بھنویں بھی کاٹ دیں پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ شخص کو شیخ زید اسپتال منتقل کرکے 10 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے ملزمان کی گرفتاری کیلئے کارروائی کی جارہی ہے۔

    پڑھانے کیلئے آنیوالے معلم نے 8 سالہ طالبعلم سے کیں نازیبا حرکات

    دوسری جانب قصبہ اکوال علاقہ تھانہ صدر تلہ گنگ گھر میں پڑھانے کے لئے آنے والے معلم حافظ عبیدالرحمن نے 8 سالہ طالبعلم ریحان سے نازیبا حرکات کیں حافظ عبیدالرحمن جو کہ اکوال گاؤں میں ایک 8 سالہ بچے ریحان کو قرآن پاک پڑھانے آتا تھا اس کیساتھ نازیبا حرکات شروع کردیں جس کے بعد وہاں سے فرار ہوگیا واقعہ کی اطلاع پر محمد بن اشرف ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چکوال نے فوری نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کرنے کے احکامات صادر کیے ،راجہ زوہیب علی SHO تھانہ صدر تلہ گنگ نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کے خلاف مقدمہ زیر دفعہ 377 ت پ درج کرلیا اور ملزم کی گرفتاری کیلئے ریڈ کئے گئے اور ملزم کو گرفتار کرلیا گیا،محمد بن اشرف ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چکوال کی جانب سے تمام ٹیم کو شاباش دی گئی-

    اسلام آباد جرائم کا گڑھ بن گیا، روز پولیس مقابلے، ڈکیتیاں، وجہ کیا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    قبل ازیں روڈ بلاک کرکے شادی کے فنکشن میں شیشہ سموکنگ کے نشہ میں رقص کی محفل سجانے والے گرفتارکر لئے گئے،نواں کوٹ پولیس نے کارروائی کی، رات کے آخری پہر روڈ بلاک کرکے لوگوں کو تنگ کرنے والے ملزمان گرفتار کئے گئے، پولیس نے 02 خواجہ سراء سمیت 37 ملزمان گرفتارکر لئے، نواں کوٹ پولیس کو اطلاع ملی کہ روڈ بلاک کرکے اونچی آواز میں سپیکر لگے ہیں شادی کے فنکشن میں خواجہ سراء اور منچلے فحش حرکات میں مگن تھے ملزمان کے قبضہ سے 02 عدد حقہ شیشہ۔02 عدد ساؤنڈ سسٹم۔سپیکر۔02 ڈیجیٹل کیمرے اور ہزاروں روپے نقدی برآمد کی گئی ہے-