Baaghi TV

Tag: رسومات

  • شادی بیاہ کے معاملات اور ہمارا معاشرہ.تحریر: نصیر الدین

    شادی بیاہ کے معاملات اور ہمارا معاشرہ.تحریر: نصیر الدین

    ہر ملک اور ہر علاقے میں جہیز مختلف صورتوں میں دیا جاتا ہے۔ جو عام طور پر زیورات، کپڑوں، نقدی اور روزانہ استعمال کے برتنوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں جہیز کی یہ مروجہ رسم ہندو اثرات کی وجہ سے داخل ہوئی اور ایک لعنت شکل اختیار کر گئی۔ برصغیر میں تو گاڑی بائک سونا زیور اور گھر کا فرنیچر پردے قالین وغیرہ تک مانگ لیا جاتا ہے
    دلہن کے مہر کے بدلے کے طور پر بھی جہیز کے تعین کی کوشش کی جاتی ہے
    اگرغور کیا جاۓ تو جہیز کے مطالبے کو رشوت کی ایک قسم کہا جا سکتا ہے
    آج کل ہر کوئی جہیز کو لعنت قرار دیتا ہے
    حالانکہ نبی پاک صلی اللہ الہ وسلم نے بھی اپنی بیٹی کو جہیز دیا تھا نبی ص کی سنت کو لعنت کیسے قرار دیا جا سکتا ہے دراصل لعنت تو اسے ہم نے خود بنا دیا ہے محض جہالت اور لالچ کی وجہ سے،لڑکے والے خاص طور پر سامان اور کپڑوں کی لسٹیں بنا کر باقاعدہ ڈیمانڈ کرتے ہیں اور ا س بات پر ذرا سی بھی شرمندگی محسوس نہیں کرتے….اپنے چار پانچ سو دوست، رشتےدار بھی شادی میں کھانے پر ضرور بلاتے ہیں اور ان باتوں کو اپنا حق سمجھتے ہیں شادی پر وی آئی پی مہمان نوازی کی توقع کرتے ہیں وجہ یہ کہ ہم لڑکے والے ہیں، ہونا تو یہ چاہٸے کہ لڑکی والے اپنی استطاعت کے مطابق اپنی لڑکی کو کچھ نئی زندگی کی شروعات کے لۓ شادی پر دیں ،نہ کہ لڑکے کے مہمانوں کو کھلانے پلانے کے ساتھ ساتھ سازو سامان کی بھی ذمہ داری اٹھایں_نجانے لڑکے والوں کو یہ خیال کیوں نہیں آتا کہ وہ ماں باپ جنہوں نے اپنی لخت جگر بیٹی کو بیس بائیس سال تک پالا پوسا، لاکھوں روپے خرچ کر کے تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کیا اوراب وہ اپنی لاڈلی بیٹی ایک دوسرے خاندان کے حوالے کرنے کا رسک لے رہے ہیں کہ نجانے لڑکا اور اسکا خاندان آگے جا کر کیسےنکلیں ، لڑکے والوں کو ایک ایسی شخصیت مل رہی ہے جو نہ صرف انکے خاندان کی نسل کو آگے بڑھائے گی بلکہ انکا گھر بھی سنبھالے گی

    اگر لڑکے والے صرف اتنا ھی سوچ لیں تو شاید طرح طرح کے مطالبات کر کے لڑکی والوں پر بوجھ نہ ڈالیں ایسی سوچ لڑکے کی تربیت، تعلیم غیرت اور خاندانی ہونے پر منحصر ہے بےغیرت اور کم نسل لڑکے کو ایسی سوچ نہیں آتی نہ ہی شرمندگی ہوتی ہے، گو کہ رشتہ طے کرنے سے پہلے دونوں طرف سے چھان بین ہوتی ہے لیکن پھر بھی کل کا کسے پتہ………. اسلام شادی بیاہ میں لڑکی والوں پر اس قسم کی کوئی پابندی نہیں عائد کرتا کہ وہ شادی میں لڑکے کے مہمانوں کو کھانا کھلائیں اور لژکے والوں کی شرطیں پوری کرتے پھریں بلکہ لڑکے کی ذمہ داری ہے شادی اور شادی کے بعد کی ضروریات زندگی سے متعلق ہر چیز کا پہلے سے خود بندوسبت کرکے رکھے پھر شادی کرے نہ کہ لڑکی سے کپڑے، کھانا اور سامان مانگے …… شادی کی خوشی میں وہ دعوت ولیمہ کا اہتمام کرے اور تمام دوست رشتےداروں کو کھانا کھلائے شادی میں لڑکی والوں پر کھاناکھلانے کابوجھ نہ ڈالےاگر اپنے رشتے داروں کو بلانے کا بہت شوق ہے تو شادی میں بھی انکے کھانے کا بندوبست لڑکااپنی جیب سے خود ہی کرے…….لڑکے والوں کو چاہیئے اگر ان کی یا انکے لڑکے کی اتنی حیثیت نہیں ہے تو شادی کو اس وقت تک کے لئے موخر کر دیں جب تک اس قابل نہ ہو جائیں تاکہ لڑکی والوں کے آگے ننگا اوربھوکا نہ بننا پڑے شادی کے معاملات نمٹانے کا صحیح طریقہ جانننے کیلۓ اپنے بزرگوں کے ساتھ ساتھ علماۓ دین سے بھی پوچھا اور مشورہ کیا جاۓ.

    اللہ تعالی ہم سب کو شادی بیاہ کے معاملات میں سمجھداری اوردین اسلام کے اصولوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے لڑکے اور اسکے خاندان کو بے غیرت کے بجائے غیرتمند، سمجھدار اور دوسروں کا احساس کرنے والا بنائے آمین…….. اسلام نے نکاح کو جتنا آسان بنایا ہے موجودہ معاشرتی ماحول نے اسے اتنا ہی مشکل تر بنا دیا ہے ………ادھار قرضے لے کرغیر ضروی رسموں سہرا, بارات مہندی, بری, شو بازی , فنکشن, دکھاوا وغیرہ جو شادی کو مشکل تر بناتے ہیں ختم کر کے سادگی اپناٸی جاۓ مسجد میں نکاح کا اہتمام ہو اور اس کے بعد سادہ سی شادی کی دعوت تک محدود رہا جاۓ جو آج کے دور میں سمجھداری اور عزت بچانے کا بہترین طریقہ ہے

  • سابق سویت یونین صدرگورباچوف کی آخری رسومات:روسی صدرولادی میرپوتین کی شرکت سے معذرت

    سابق سویت یونین صدرگورباچوف کی آخری رسومات:روسی صدرولادی میرپوتین کی شرکت سے معذرت

    ماسکو: روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے سابق سوویت یونین کے پہلے اور آخری صدر میخائل گورباچوف کی آخری رسومات ریاستی اعزاز کے ساتھ کرنے سے روک دیا۔ بتایا جارہاہےکہ یہ فیصلہ سیکورٹی کی وجہ سے کیا گیا ہے

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق سویت یونین کے صدر میخائل گورباچوف کی آخری رسومات کل ہونی ہیں تاہم روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے آنجہانی رہنما کو ریاستی اعزاز کے ساتھ آخری دفنانے سے محروم کردیا البتہ خیال کیا جا رہا ہے کہ میخائل گورباچوف کو فوجی اعزاز کے ساتھ دفن کیا جائے گا۔

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    ادھر روسی صدارتی دفتر کریملن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ روسی صدر اپنے کام کے شیڈول کے باعث سابق سوویت صدر گورباچوف کی آخری رسومات میں شرکت نہیں کرسکیں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    جس کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ میخائل گورباچوف کی تدفین ہفتے کے روز ہال آف کالمز میں ایک عوامی تقریب کے بعد کی جائے گی جس میں سوویت یونین کے رہنما ولادیمیر لینن، جوزف اسٹالن اور لیونیڈ بریزنیف کریں گے۔

    دوسری جانب سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ ماسکو کے سینٹرل کلینیکل اسپتال میں ولادیمیر پوٹن نے رسمی طور پر میخائل گورباچوف کے تابوت پر سرخ گلاب بھی رکھا۔ تابوت کو ہاتھ لگایا اور صلیب کا نشان بنایا۔

    واضح رہے کہ 2 روز قبل سابق سوویت یونین کے پہلے اور آخری صدر میخائل گورباچوف 91 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

  • وادی کیلاش کی مخصوص رسومات

    وادی کیلاش کی مخصوص رسومات

    وادی کیلاش کے لوگ اپنے قدرتی حسن، مخصوص ثقافت، نرالے دستور، رنگا رنگ تقریبات اور نہایت دلچسپ رسومات کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ کیلاش لوگ خوشی کے ساتھ ساتھ غمی پر بھی اپنی مخصوص رسومات ادا کرتے ہیں اور خصوصی طور پر اخروٹ والی روٹی بناکر فوتگی والے گھر بھجواتے ہیں اور اسی طرح خوشی و غمی میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹھاتے ہیں۔ تفصیل کیلئے چترال سے باغی ٹی وی کے نمائندے گل حماد فاروقی کی رپورٹ

  • جہیز مانگنے والوں کے سماجی  بائیکاٹ کا فیصلہ

    جہیز مانگنے والوں کے سماجی بائیکاٹ کا فیصلہ

    جہیز مانگنے والوں کے سماجی بائیکاٹ کا فیصلہ

    اپر چترال ،لاسپور گاؤں میں قائدین کا جرگہ ہوا جس میں جہیز مانگنے والوں کے سماجی بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے

    قائدین کی جانب سے جرگہ میں غیرضروری رواج ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے ،جرگے میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ شادی میں دلہن کے گھروالوں سے کوئی مطالبہ نہیں کیا جائے گا دعوت میں کھانوں پر کم سے کم خرچہ کیا جائے گا ،شادی بیاہ پر فضول خرچی سے گریز کیا جائے گا ،جرگے میں کہا گیا کہ جہیز اور غیرضروری اخراجات کی وجہ سے لڑکیوں کی رخصتی نہیں ہو پاتیں ضلعی انتظامیہ جرگے کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے تعاون کرے ،

    "جہیز "عربی زبان کے لفظ جہاز کی بگڑی ہوئی صورت ہے۔ جس کے معنی ہیں "سازوسامان پہنچانا” اصطلاح میں اس سے مراد وہ سازوسامان ہے جو والدین شادی بیاہ کے موقع پر اپنی بیٹی کو نقدی،کپڑوں،زیور یا سامان خانہ داری کی صورت میں دیتے ہیں۔برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں جہیز کی موجودہ رسم ہندو معاشرے کی پیداوار ہے ۔

    مسلمانوں اور ہندوؤں کے آزادانہ میل جول کا عرصہ تقریباً ایک ہزار سال کا ہے۔ اس طویل عرصے کے دوران ” تخم تاثیر صحبت اثر” کے مصداق مسلمانوں اور ہندوؤں نے ایک دوسرے کو بہت متاثر کیا اور ہندو معاشرے کی بہت سی بری رسومات مسلمانوں نے اپنالیں

    اگر اسلامی تعلیمات کو پرکھا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کو ان کے نکاح کے موقع پر بہت معمولی سامان بطورِ جہیز دیاتھا۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کےساتھ رشتہ ازواج میں منسلک ہونے سے قبل حضور صلی اللّٰہ علیہ وآلہِ وسلم کے ساتھ ہی رہتے تھے اور ان کا اپنا کوئی گھر نہ تھا۔شادی کے بعد جب انھوں نے اپنا گھر بنایا تو اس میں گھریلو سامان کی ضرورت فطری امر تھا۔ لہذا اگر حضور نے اپنی بیٹی کو جہیز دیا تو اس سنت کا اطلاق انھی حالات میں ہوگا جن حالات میں حضور نے اپنی بیٹی کو یہ سامان دیا۔اس سے ثابت ہوا کہ لڑکی کا گھر بسانے کے لیے اسے ضروری ساز و سامان مہیا کرناسنت کے عین مطابق ہے مگر اس سلسلے میں حد سے تجاوز کرنا محض رسم پرستی اور اسراف ہے۔ اسی اسراف سے بعد ازاں بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں

    ہمارے ہاں آج کل یہ رسم بد اس قدر پھیل چکی ہے کہ ایک غریب شخص جو اپنا اور اپنے اہلِ خانہ کا پیٹ بمشکل پالتا ہے۔ بیٹی پیدا ہوتے ہی یہ فکر اس کے دامن گیر ہو جاتی ہے کہ خواہ جہیز کے لیے قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے مگر بیٹی کی شادی کے موقع پر ساکھ قائم رہے اور برادری میں ناک رہ جائے۔ خود بھلے فاقوں کا سامنا کرنا پڑے ۔مگر بچی کا جہیز تو شان دار ہونا چاہیے۔

    خصوصاً قیام پاکستان کے بعد تو یہ رسم اس قدر بڑھ گئی ہے کہ زیادہ سے زیادہ جہیز دینے کے لیے لوگ ہرطرح کے غیر قانونی اور ناجائز ذرائع مثلاً چوری،رشوت،سمگلنگ وغیرہ کو بھی استعمال میں لانے لگے ہیں۔ اس طرح امراء کی دیکھا دیکھی زیاده جہیز دینے کی دوڑ میں غریب اپنی غربت کی چکی میں میں پس کر رہ جاتے ہیں۔

    صورت حال یہ ہے کہ بہت سے غریب گھرانوں کی شریف زادیاں شادی کی عمر ہونے کے باوجود تمام عمر گھر میں گھل گھل کر گزارنے پر مجبور ہیں کیوں کہ ان کے والدین لڑکے والوں کے حسب منشا جہیز دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔گویا یہ ایک ایسی رسم ہے کہ جس نے بہت سی بیٹیوں اور بہنوں کی زندگیاں برباد کر ڈالی ہیں ۔

    22 لاکھ کا جہیز،27 تولہ سونا واپسی کی درخواست پر عدالت نے کہا کہ بتائیں لڑکی کا والد کیا کام کرتا ہے

     خاتون کو مبینہ طور جہیز نہ دینے پر زندہ جلا دیا گیا

    جہیز کی ڈیمانڈ پر بیوی نے کی خود کشی، لو میرج کرنیوالے کو سنائی عدالت نے سزا

    سب مان گئے، اب ہو گی ان ہاؤس تبدیلی، پہلے جائے گا کون؟ فیصلہ ہو گیا

    اور حکومت شہباز شریف کے آگے جھک گئی،مدد مانگ لی

    ان ہاؤس تبدیلی نہیں بلکہ نئے انتخابات، مولانا فضل الرحمان کا بلاول کو مشورہ

    ان ہاؤس تبدیلی، اہم شخصیت حکومتی اراکین کی فہرست لے کر نواز شریف سے ملنے پہنچ گئی

    شیخ رشید کی نواز شریف کو آفر، پی ڈی ایم سے تاریخ بدلنے کی اپیل

    نواز شریف کی واپسی، شہباز شریف نے بڑا اعلان کر دیا

  • کترینہ اور وکی کی شادی کس مذہب کے تحت ہوں گی؟

    کترینہ اور وکی کی شادی کس مذہب کے تحت ہوں گی؟

    ممبئی:بھارتی میڈیا میں اس وقت اداکارہ کترینہ کیف اور وکی کوشل کی شادی موضوع بحث بنی ہوئی ہے جبکہ جوڑی کے مداح یہ جاننے کے لیے بے تاب ہیں کہ ان شادی کی رسومات کون سے مذہب کے مطابق ہوں گی۔

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق وکی کوشل ایک ہندو پنجابی فیملی سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ کترینہ کیف ایک مسلم برٹش ہیں اگر وکی پیڈیا کو دیکھا جائے تو وہاں موجود معلومات کے مطابق کترینہ کیف کی والدہ مسیحی مذہب سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے والد کا تعلق مسلم مذہب سے ہے لیکن کترینہ نے آج تک یہ نہیں بتایا کہ وہ کس مذہب کو فالو کرتی ہیں۔

    تاہم بالی ووڈ اداکارہ کو اپنی فلموں کی ریلیز سے قبل مندر، چرچ اور درگاہوں پر جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے اسلئے لوگوں کو یہ تجسس ہے کہ آخر ان دونوں کی شادی کی رسومات کون سے مذہب کے مطابق ہوں گی یہی وجہ ہے کہ ابتدا میں خبریں آرہی تھیں کہ دونوں کورٹ میرج کریں گے۔

    اب بھارتی میڈیا میں خبریں گردش ہیں کہ وکی اور کترینہ کی شادی دو طریقوں سے ہوگی پہلے دونوں کی شادی ہندو مذہبی رسوم رواج کے مطابق ہوگی جس میں سات پھیرے بھی ہوں گے جبکہ دوسری ’’وہائٹ ویڈنگ‘‘ ہوگی یعنی مسیحی رسوم و رواج کے مطابق۔

    رپورٹس میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اداکار جوڑے کی شادی کیلئے جو مہمان راجستھان پہنچ چکے ہیں ان میں فلم ساز کبیر خان، گلوکار شنکر مدھاون، اداکار رنویر سنگھ، اداکارہ ملائیکا اروڑا، روینہ ٹنڈن اور نیہا دھوپیا سمیت کئی دیگر شوبز شخصیات شامل ہیں

    کترینہ اور وکی کی شادی کے نشریاتی حقوق اسٹریمنگ ویب سائٹ کو 80 کروڑ میں فروخت

    رپورٹ کے مطابق شادی کی تقریب میں قریبی رشتے داروں اور دوستوں سمیت ٹوٹل 120 مہمان شرکت کریں گےایک ویب سائٹ کے مطابق وکی اور کترینہ کی شادی کی تقریب میں 400 خواتین اور لڑکیاں شرکت کریں گی کیونکہ جوڑے نے 400 مہندی کی کون کا انتظام کیا ہے۔

    واضح رہے کہ وکی کوشل اور کترینہ کیف راجستھان کے ضلع سوائی مادھور پور کے سکس سینسز فورٹ باروارہ ہوٹل میں 9 دسمبر کو شادی کے بندھن میں بندھیں گے دونوں اداکاروں کا استقبالیہ ممبئی کے تاج لینڈ میں 11 دسمبر کو منعقد کیا جائے گا-

    اس سے پہلے کترینہ کیف اور وکی کوشل کی شادی کو خفیہ رکھنے کے لیے نہ صرف کئی جتن کیے جا رہے تھے بلکہ شرکت کے لیئے درجنوں شرائط بھی رکھ دی گئی ہیں۔

    کترینہ کیف کی خود سے کم عمر نوجوان سے شادی ،کنگنا رناوت کا ردعمل

    بھارتی میڈیا کے مطابق شادی میں شرکت کے لیے مہمانوں کو خفیہ کوڈز دیے جائیں گے،کوڈز بتانے پر ہی تقریب میں انٹری کی اجازت ہوگی ان سب میں دلچسپ بات یہ کہ بالی وڈ کے معروف اور سینئر ادا کار نے بھی شادی میں شرکت کےلیے اپنی شرط رکھ دی بالی وڈ کے معروف اور سینئر اداکار گجراج راؤ نے بھی وِکی کوشل کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ شادی میں شرکت کریں گے تو صرف اپنی شرائط پرانہوں نے سوشل میڈیا پر وکی کوشل کو مینشن کرتے ہوئے لکھا کہ سیلفی نہیں لینے دے گا تو میں نہیں آرہا بیاہ میں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ شادی میں شرکت کرنے والے خصوصی مہمانوں کی شناخت بھی صیغہ راز میں رکھی جا رہی ہے جس کےلیے ہوٹل نے تمام مہمانوں کے ناموں کے بجائے کوڈز الاٹ کیے ہیں۔ ان کوڈز کی بنیاد پر مہمانوں کو مختلف خدمات فراہم کی جائیں گی، جیسے کہ روم سروس، سیکیورٹی وغیرہ حتی کہ ہوٹل کے کمروں تک رسائی بھی کوڈ کے ذریعے ہوگی اور شادی میں شرکت کے لیے ’نو فون پالیسی‘ لاگو ہوگی۔ جو اب سلیبریٹیز کی شادیوں میں ایک عام بات ہےمہمانوں کو شادی میں شرکت ظاہر نہ کرنے، فوٹو گرافی نہ کرنے، تصاویر اور لوکیشن سوشل میڈیا پر شیئر نہ کرنے کا بھی پابند کیا گیا ہے-

    کترینہ کیف اور وکی کی شادی،راستے بند کرنے پر مقامی وکیل تھانے پہنچ گیا

    تا ہم وکی اور کترینہ کی جانب سے شادی کے حوالے سے اتنی رازداری برتے جانے کی وجہ سامنے آئی کہ کترینہ کیف اور وکی کوشل نے بظاہر اپنی شادی کی تقریب کے نشریاتی حقوق مقبول ترین اسٹریمنگ ویب سائٹ ایمیزون پرائم ویڈیو کو 80 کروڑ روپے میں فروخت کردئیے ہیں یہی وجہ ہے کہ وکی کوشل اور کترینہ نے اپنی شادی کے حوالے سے اتنی زیادہ رازداری برتی ہوئی ہے یہاں تک کہ انہوں نے شادی میں شرکت کرنے والے مہمانوں سے ایک این ڈی اے (نان ڈسکلوژر معاہدہ) بھی سائن کروانے کی درخواست کی ہے یہ معاہدہ شادی کے حوالے سے کوئی بھی خبر لیک نہ کرنے سے متعلق ہے۔

    کترینہ اور وکی کی شادی: 700 سال پرانا قلعہ ہوٹل میں تبدیل