Baaghi TV

Tag: رشوت

  • گھناؤنا کام کرنیوالا سرکاری ملازم تیرہ برس بعد قانون کے شکنجے میں آ گیا

    گھناؤنا کام کرنیوالا سرکاری ملازم تیرہ برس بعد قانون کے شکنجے میں آ گیا

    محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کا ملازم تیرہ سال بعد قانون کے شکنجے میں آ گیا

    ڈی جی اینٹی کرپشن گوہر نفیس کا کہنا تھا کہ اشتہاری مجرم طارق حسین کو اینٹی کرپشن گوجرانوالہ نے گرفتار کر لیا ،طارق حسین محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن آفس گھکڑ کا ملازم تھا۔ طارق حسین کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعات 420/468/471 اور 467 کے تحت مقدمہ نمبر 171/09 تھانہ گکھڑ منڈی میں درج تھا۔ طارق حسین نے 2009 میں خاتون آسیہ فرخندہ کی دکانوں پر قبضہ کروایا، طارق حسین نے جعلی کاغذات بنائے اور جعلسازی سے دیگر ملزمان کے نام ملکیت درج کروائی،

    دوسری جانب اینٹی کرپشن بہاولپور نے کارروائی کی اور پٹواری رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتارکر لیا گیا،سرکل آفیسر نے ٹریپ ریڈ کے ذریعے 10 ہزار روپے رشوت وصول کرتے ہوئے امجد علی کو گرفتار کیا، ملزم امجد علی چولستان سی ڈی اے میں تعینات تھا جس نے شہری محمد ساجد سے وراثت کا انتقال درج کرنے کیلئے رشوت وصول کی۔ ریڈنگ مجسٹریٹ نئیر مصطفیٰ کی سربراہی میں سرکل آفیسر اینٹی کرپشن بہاولپور محمد صادق ڈھلوں نے کارروائی کی ملزم امجد علی کے خلاف تھانہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ بہاولپور میں مقدمہ نمبر 01/2022 درج ہے۔

    قبل ازیں راولپنڈی میں اینٹی کرپشن نے کارروائی کرتے ہوئے دو بھائیوں جمیل خان اور جمال خان کو گرفتار کر لیا،ملزمان نے میونسپل کارپوریشن کے عملہ کی ملی بھگت سے غیر قانونی کمرشل عمارت تعمیر کی،بلڈنگ پلان کے خلاف ورزی کرتے ہوئے عمارت کی تعمیر سے سرکاری خزانے کو 44 لاکھ سے زیادہ نقصان ہوا، ملزمان کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 420 اور انسداد بد عنوانی قانون کی دفعہ 5(2) کے تحت مقدمہ درج ہے،عدالت نے 31 جنوری کو مقدمہ نمبر 18/2021 میں ملزمان کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا،

    لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو، وزیراعظم عمران خان کا نوٹس، بڑا حکم دے دیا

    عثمان مرزا کی جانب سے لڑکی اور لڑکے پر تشدد کے بعد نوجوان جوڑے نے ایسا کام کیا کہ پولیس بھی دیکھتی رہ گئی

    نوجوان جوڑے پر تشدد کیس، پانچویں ملزم کو کس بنیاد پر گرفتار کیا؟ عدالت کا تفتیشی سے سوال

    ویڈیو کس نے وائرل کی تھی؟ عدالت کے استفسار پر سرکاری وکیل نے کیا دیا جواب

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کو عدالت نے کہاں بھجوا دیا؟

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے والدین بھی عدالت پہنچ گئے

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ملزم عثمان مرزا کے ریمانڈ میں توسیع

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،ریاست کو مدعی بننا چاہئے،صارفین

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس، وزیراعظم نے بڑا اعلان کر دیا

    نوجوان جوڑے کو برہنہ کرنے کا کیس،جوڑے کے وارنٹ گرفتارری جاری

    عثمان مرزا کیس،لڑکے اور لڑکی کو برہنہ کرنے کی ویڈیو عدالت میں چلا دی گئی

  • پاسپورٹ آفس میں سرعام رشوت وصولی

    پاسپورٹ آفس میں سرعام رشوت وصولی

    قصور
    پاسپورٹ آفس میں اندھیر نگری چوپٹ راج،سرعام رشوت کا بازار گرم،سیکیورٹی گارڈ و دیگر عملہ لوگوں سے سرعام رشوت لینے لگا،دفتر میں لوگوں کو موبائل استعمال کرنے سے منع کیا جانے لگا

    تفصیلات کے مطابق قصور پاسپورٹ آفس میں اندھیر نگری اور چوپٹ راج قائم ہو گیا ہے
    سرعام رشوت وصول کی جانے لگی ہے
    افسران بالا نے کلیم نامی سیکیورٹی گارڈ کو ساتھ ملایا ہوا ہے اور سرعام رشوت وصول کی جا رہی ہے
    کل دوسری تحصیل سے ایک شہری پاسپورٹ بنوانے آیا تو اس سے کہا گیا کہ اپنے والدین کو ساتھ لے کر آؤ یا پھر 1500 روپیہ رشوت دو
    سائل نے امر بامجبوری 1500 روپیہ دیئے تو اندر جانے دیا گیا
    ہر سائل کو حیلے بہانوں سے تنگ کیا جاتا ہے اور رشوت کا تقاضہ کیا جاتا ہے جبکہ کسی بھی سائل کے موبائل استعمال کرنے پر عملہ فوری چوکس ہو جاتا ہے اور موبائل کے استعمال سے روکا جاتا ہے تاکہ کوئی تصویر کھینچ کر رشوت ستانی کا بھانڈا نا پھوڑ دے
    شہریوں نے ڈپٹی کمشنر قصور آسیہ گل سے نوٹس لے کر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • ایکسیئن کے آتے ہی رشوت کا بازار گرم ہو گیا

    ایکسیئن کے آتے ہی رشوت کا بازار گرم ہو گیا

    قصور

    ایکسئین واپڈا کے آتے ہی رشوت کا بازار گرم لوگ سخت پریشان
    تفصیلات کے مطابق ایکسین واپڈا قصور
    محمد شاہد نےآتے ہی کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ٹی اے مشتاق اور عمران کے ذریعے ملازمین کو بلیک میل کیا جاتا ہے اگر کوئی ملازمین ان کی ڈیمانڈ نہ پوری کرے تو اسے تبدیل کر دیا جاتا ہے یا اسے شوکاز نوٹس دے دیا جاتا ہے کئی ملازمین کو تو معطل بھی کر دیا جاتا ہے ٹی اے مشتاق اور عمران دفتر میں کھلے عام رشوت لیتے ہے ایکسئین سٹی کے دفتر میں کھلم کھلا کرپشن جاری ہے اپنے دفتر میں ایکسین سٹی محمد شاہد عمران مشتاق کے ساتھ صبح آتے ہیں لین دین کی میٹنگ جاری ہوتی ہے اگر کوئی شہری واپڈا افسران کو بجلی چوری کی شکایت کرتا ہے اس پر نوٹس لینے کی بجائے بجلی چور سے پیسہ وصول کر لیا جاتا ہیں بعد میں سب اچھے کی رپورٹ بنا دی جاتی ہے

  • ایس او پیز کی آڑ میں پولیس نے کمائی شروع کر دی

    ایس او پیز کی آڑ میں پولیس نے کمائی شروع کر دی

    قصور ماہ صیام میں بھی قصور پولیس کے کارنامے نا بدلے تھانہ ایس ایچ او مصطفی آباد شریف ایس آئی کی ایما پر چوکی انچارچ دفتو ارشاد نکا تھانیدار اور محرر عبدالمنان مال اکٹھا کرنے لگے۔

    تفصیلات کے مطابق قصور کی چوکی دفتوہ کے انچارج ارشاد تھانیدار اور محرر منان کورونا ایس او پیز کے نام پر دوکانداروں کو بلیک میل کرکے ان سے ہفتہ لینے لگے رشوت نا دینے پر پولیس اہلکار آئے روز آکر دوکان بند کروا دیتے اور مقدمات درج کرنے کی دھمکیاں بھی دیتے تھے ماجد نامی شہری نے الزام عائد کیا کہ چوکی انچارج ایس ایچ او کی ایما پر شریف شہریوں حبس بے جاں میں رکھتا ہے اور رشوت لیکر چھوڑ دیتا ہے رشوت نا دینے پر مختلف مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں دیتا ہے پولیس اہلکار کو رشوت دیتے ہوئے شہری نے ویڈیو بنالی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ویڈیو میں واضح طور پر پولیس اہلکار کو رشوت لیتے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ارشاد تھانیدار شہری کو دھمکیاں دیتا رہا کہ تمھیں میں نہیں چھوڑوں گا ماجد نامی شہری نے تنگ آکر ڈی پی او قصور اور محکمہ اینٹی کرپشن کو درخواست گزار دی اور ساتھ ہی یہ الزام عائد کیا کہ ایس ایچ او مصطفی آباد مہر شریف چند دن بعد دوبارہ یہاں تعینات ہوا ہے کرپٹ اور نااہل ہے جو شفارش پر دوبارہ تعینات ہوا ہے پہلے اس کے پاس بطور ایس ایچ او کوئی تجربہ بھی نہیں بلکہ اس کے خلاف کرپشن اور بے ضابطگی کی ڈھیروں شکایات ہیں اور اس کے خلاف انکوائریاں بھی چل رہی ہیں ارشاد اے ایس آئی اور محرر اس کے کار خاص ہیں جو مال بنانے میں ایس ایچ کی پالیسی میں اس کے ساتھی ہیں نکے تھانیدار کو ویڈیو کا علم ہونے کے بعد ایس ایچ او اور تھانیدار نے محرر کا تبادلہ تھانہ کھڈیاں کروا دیا تاکہ ان کا پول نا کھل سکے شہری نے ڈی پی او قصور اور محکمہ اینٹی کرپشن سے انکوائری کرکے کاروائی کا مطالبہ کر دیا جبکہ ڈی پی او قصور نے سخت کاروائی کرنے کا عندیہ دیا اور محرر عبدالمنان کو معطل کردیااور کہا کہ ایسی کالی بھیڑوں کی محکمے میں کوئی جگہ نہیں ہے شہریوں نے آئی جی پنجاب سمیت وزیر اعلی پنجاب سے نوٹس لے کر ایس ایچ شریف اور ارشاد تھانیدار کے خلاف بھی سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے اور محکمہ پولیس کی ان کالی بھیڑوں کے خاتمے کی اپیل کی ہے تاکہ محکمہ پولیس سے رشوت کرپشن اور سفارش کا کلچر ختم ہو سکے اور محکمہ پولیس کا مورال بلند ہو سکے

  • طور خم گیٹ وے پر سیاسی رشوت میں اضافہ، ایماندار تاجر پریشان، مسئلہ کمیٹی میں پیش

    طور خم گیٹ وے پر سیاسی رشوت میں اضافہ، ایماندار تاجر پریشان، مسئلہ کمیٹی میں پیش

    ایوان بالاء کی فنکشنل کمیٹی برائے کم ترقی یافتہ علاقہ جات کے مسائل کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں 3مارچ 2020کو منعقد ہونے والے کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد، چمن کسٹم گیٹ وے، بادینی کسٹم گیٹ وے اور طور خم کسٹم گیٹ وے پر گزشتہ 6ماہ کے دوران تمام ایمپورٹ ایکسپورٹ کی تفصیلات، چمن کسٹم گیٹ وے پر بے شمار کاروباری حضرات کو ایمپورٹ ایکسپورٹ کی اجازت نہ دینا، صوبہ بلوچستان سے خشک میوہ جات اور تربوز کی دیگر صوبوں میں ایکسپورٹ کی اجازت نہ دینے کی وجوہات، بزنس کمیونٹی کی ایمپورٹ ایکسپورٹ کی اشیاء اور خاص طور پر کوئٹہ اور کراچی کے شہروں میں کسٹم اتھارٹی کے سرپرائز وزٹ کے علاوہ یکم نومبر 202کو کراچی کی ٹائر شاپ مارکیٹ کے واقعہ کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑنے کہا کہ صوبہ بلوچستان ملک کا آدھا حصہ ہے پانی نہ ہونے کی وجہ سے 80فیصد زراعت ختم ہو چکی ہے۔ صوبے میں کان کنی کی بہتری کیلئے 63سال سے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔بد قسمتی کی بات ہے کہ ملک کا پسماندہ ترین صوبہ ہونے کے باوجود بھی اس صوبے کی اجناس خاص طور پر خشک میوجات،تربو ز، سبزیاں، فروٹ و دیگر فصلوں کو ملک کے باقی صوبے میں لے جانے کی اجازت نہیں ہے جگہ جگہ تنگ کیا جاتا ہے اور ٹرکوں سے سامان تک نکال لیا جاتا ہے۔ ہمارے صوبے سے چلغوزے کا پیکٹ 1800روپے میں خرید کر 8سے 10ہزار میں فروخت کیا جاتا ہے۔ کسانوں، زمینداروں کا کوئی پرسان حال نہیں رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہی حال صوبہ خیبر پختونخواہ اور فاٹا و پاٹا کی عوام کے ساتھ بھی ہے لوگوں کو بار بار تنگ کیا جاتا ہے۔ کسٹم حکام دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ ملکر مسائل حل کریں۔ جے ایس وزارت کامرس نے کہا کہ کسی بھی قانون کے تحت تاجروں کو روکنے کی اجازت نہیں ہے۔تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔

    کمیٹی اجلاس میں 3مارچ 2020کو منعقدہ کمیٹی اجلاس میں دی گئی سفارشات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ 25ویں ترمیم کے بعد سابق فاٹا و پاٹا کے اضلاع سمیت ژوب ڈویژن میں جون 2023تک انکم ٹیکس سے استثنیٰ دی گئی ہے اور سیل ٹیکس کے حوالے سے ان علاقوں کو جون 2023تک استثنیٰ حاصل ہے۔ جس پر چیئرمین و اراکین کمیٹی نے کہا کہ ان علاقوں کے مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے فنکشنل کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ ان علاقوں کو 2023کے بعد بھی مزید پانچ سال کے لئے استثنیٰ دی جائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صوبہ بلوچستان سے کرومائٹ را کی شکل میں ایکسپورٹ کیا جاتا ہے اگر اُس کی فینشنگ کی جائے تو ملک و قوم کو اربوں کا فائدہ ہو گا۔ پروسیسنگ پلانٹ کیلئے صوبائی حکومت سے بات کی ہے مگر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ 5.5ملین ڈالر کی ویلو ایڈیشن ہو سکتی ہے صرف ایک پلانٹ لگانے سے۔

    کمیٹی اجلاس میں چمن کسٹم گیٹ وے کو 24گھنٹے کھولنے کے حوالے سے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سٹاف کی کمی ہے 750آسامیوں کی سمری ایف پی ایس سی کے پاس پڑی ہے جبکہ تک بھرتی مکمل نہیں ہوتی بہتری ممکن نہیں ہے۔ فنکشنل کمیٹی نے ایف پی ایس سی کو کسٹم کی 750آسامیوں کی جلد سے جلد بھرتی مکمل کرنے کی ہدایت کر دی۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن کو بھی 2023تک ٹیکس سے استثنیٰ دی گئی تھی مگر مالاکنڈ ڈویژن سے ایف ای ڈی وصول کی جا رہی ہے۔ قائمہ کمیٹی نے فاٹا و پاٹا اور بلوچستان میں تمام ٹیکسز سے استثنیٰ کی سفارش کر دی۔

    چمن کسٹم گیٹ وے، بادینی کسٹم گیٹ وے اور طور خم کسٹم گیٹ وے پر گزشتہ 6ماہ کے دوران تمام ایمپورٹ ایکسپورٹ کی تفصیلات کے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ چمن گیٹ وے اور طور خم گیٹ وے پر سیاسی رشوت بہت بڑھ چکی ہے۔ گیٹ وے رات کو بند ہونے کے باوجود مخصوص لوگوں کی گاڑیاں آئس کا نشہ، منشیات، اسلحہ و دیگر چیز یں لے کر گزاری جاتی ہیں اور لاکھوں کی رشوت وصول کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تاجر جو حکومت کو ٹیکس دیتے ہیں انہیں بارڈر سے کراچی اور اسلام آباد پہنچنے کیلئے ہفتوں لگ جاتے ہیں۔ جگہ جگہ روک کر تنگ کیا جاتا ہے مگر جو من پسند لوگ ہیں جو ملک کو اربوں کا نقصان دے رہے ہیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں پرچی سسٹم فروغ پا چکا ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ صادق اچکزئی اور بنی بخش نامی افراد آئس، سیگریٹ، چھالیا اور دیگر منشیات پورے ملک میں سپلائی کر رہے ہیں اُنہیں کوئی پوچھتا تک نہیں ہے۔ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ تمام ایکسپورٹرایمپورٹر ٹیکس ادا کرتے ہیں اُن کو تنگ نہ کیا جائے اور سمگلرز کے ساتھ سخت کارروائی کی جائے جو ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ طور خم بارڈر پر سیکنرز لگائے گئے ہیں جس سے پھل اور سبزیاں نقصان دے ہو جاتی ہیں اس کو چیک کرنا چاہئے۔ ایکسپورٹ کی بجائے ٹراذٹ کو ترجیح دیجاتی ہے اور سیکنر والے 8گھنٹے کام کرتے ہیں پھر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں۔ طور خم سے پشاور آتے ہوئے مختلف اداروں کی جانب سے چیک پوسٹیں قائم کر کے بھی لوگوں کو بلاوجہ تنگ کیا جاتا ہے۔ ایک ہی جگہ تمام ادروں کے نمائندے چیکنگ کر سکتے ہیں۔ جے ایس وزارت مواصلات نے کہا کہ بار بار چیکنگ کا کام سے وزارت کا تعلق نہیں ہے متعلقہ اداروں کے ساتھ معاملہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کراچی میں پہلے ایک کنٹینر کا 60ڈالر کرایہ لیا جاتا تھا جس کو بڑھا کر چار سو سے زائد کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ایکسپورٹ ختم ہوتی جا رہی ہے اور خاص طور پر کرومائٹ کا بزنس تباہ ہو رہا ہے۔ متعلقہ ادارے اس مسئلے کو جلد سے جلد حل کریں۔

    چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ ہمارے علاقے کے لوگ سخت محنت کر کے اپنی حالت بہتر کرتے ہیں کراچی میں کپڑا ٹائر و دیگر کاروبار کرتے ہیں۔سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے دور میں بھی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق ہمارے لوگ اسلحہ منشیات وغیرہ کے کام نہیں کرتے بلکہ محنت سے روزگار کماتے ہیں۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ کسٹم حکام کے اہلکار افتخار حسن عرف بِلاملک و قوم کیلئے بدنامی کا باعث ہیں۔کاروباری حضرات کو تنگ کرنا اس کا وطیرا ہے۔ افتحار حسن نے منظور جو عرصہ سے کراچی میں ٹائروں کا کاروبار کرتا ہے اس پر فائرنگ کی اوراس کا سامان بھی غیرقانونی طور پر قبضے میں کر لیا۔ منظور تاجر کو افتخار حسن نے دفتر بولا کر کسی اور کا سامان منظور پر ڈال کر پرچہ درج کرا دیا۔ انھوں نے کہا ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں رہی اشرافیہ،سول بیروکریسی،چوہدریوں،نوابوں اور بڑے سرمایہ کاروں کے لئے یہ ملک جنت بن چکا ہے مگر عام عوام کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ افتحار حسن جیسے لوگوں کے سامنے ہمارے ادارے تک بے بس ہو چکے ہیں۔

    افتخار حسن کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے انٹرنل کمیٹی قائم کر کے کمیٹی کو رپورٹ فراہم کی جائے۔ فنکشنل کمیٹی کو منظور کے بھائی نے کراچی کے واقعہ پر تفصیلی آگاہ کیا کمیٹی نے کسٹم حکام کو ملوث لوگوں کے خلاف ایکشن لینے کی سفارش کر دی۔ کسٹم حکام نے کمیٹی کو یقین دہانی کروائی کہ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کر کے کمیٹی کو رپورٹ فراہم کر دی جائے گی۔ سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ پچھلے دنوں ایئرپورٹ پر 53 کلو سونا پکڑا گیادوسرے دن خبر موصول ہوئی کے تمام سونا جہاں حکام نے رکھوایا تھا چوری ہو گیا ہے اس کا آج تک کچھ معلوم نہیں ہو سکا اس میں با اثر لوگ ملوث ہیں جنہوں نے سونا چوری کیا ہے۔کراچی اور بلوچستان کے کاروباری حضرات کے نمائندوں نے کمیٹی کو بتایا کہ کسٹم ڈیوٹی دینے کو تیار ہیں کسٹم کے گوداموں میں اربوں روپے کا سامان پڑا ہے جو مختصر وقت میں خراب ہو جاتا ہے کسٹم حکام نے کہا کہ تمام مسائل کو تحریری طور پر لکھ کر دے دیں جلد مسائل حل کر لیئے جائیں گے۔

    فنکشنل کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹرز فدا محمد، سردار محمد شفیق ترین، محمد خالد بزنجواور نصرت شاہین کے علاوہ جوائنٹ سیکرٹری وزارت کامرس، چیف کسٹم ایف بی آر، ممبر کسٹم ایف بی آر، جوائنٹ سیکرٹری وزارت خزانہ، صوبہ بلوچستان اور کراچی کے کاروباری حضرات کے نمائندوں نے شرکت کی۔

  • بجلی کے گرے کھمبے دوبارہ نصب کرنے کی قیمت

    بجلی کے گرے کھمبے دوبارہ نصب کرنے کی قیمت

    قصور
    لیسکو سب ڈویژن مصطفی آباد للیانی کے شیر جوان رشوت لینے میں نمبر ون چار روز سے گرے بجلی کے کھمبے نصب کرنے کے پندراں ہزار وصول کر لئے
    تفصیلات کے مطابق 4 روز قصور میں شدید آندھی چلی جس کے باعث حویلی بارے کی میں بجلی کے کھمبے گر گئے جس سے سارا علاقہ تاریکی میں ڈوب گیا اگلے دن لیسکو واپڈا سب ڈویژن مصطفی آباد للیانی کے شیروں نے کھمبے گرنے والے علاقے پل جبومیل کی بجلی کی سپلائی لائن کاٹ کر باقی علاقے کی بجلی بحال کر دی اور گرے ہوئے کھمبے نصب کرنے کے پندراں ہزار بطور رشوت مانگ لئے جس پر مجبور ہوتے ہوئے پل جبومیل کے رہائشیوں نے پیسے بطور رشوت کل رات سب ڈویژن لیسکو مصطفیٰ آباد کے شیروں کو ادا کر دئے مگر ابھی تک کھمبے زمین پر جوں کے توں پڑے ہیں چار روز سے بجلی معطل ہونے سے کوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں
    لوگوں نے محکمہ اینٹی کرپشن،ڈی سی قصور اور ایس ای لیسکو قصور سے راشی اہلکاران کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • صدرگوگیرہ: اشیائے خورد و نوش کی کوالٹی چیک کرنیکی آڑ میں کرپشن ، شہریوں نے ایکشن کا مطالبہ کردیا

    صدرگوگیرہ: اشیائے خورد و نوش کی کوالٹی چیک کرنیکی آڑ میں کرپشن ، شہریوں نے ایکشن کا مطالبہ کردیا

    اوکاڑہ(علی حسین) اوکاڑہ کے نواحی علاقے صدر گوگیرہ میں شہریوں نے بتایا ہے کہ اشیائے خوردونوش کی کوالٹی چیک کرنے اور ناجائز منافع خوری کنٹرول کرنے والے بعض سرکاری اہلکار یہاں چھوٹے دکانداروں خاص طور پر پھلوں ، سبزیوں اور گوشت کی دکانوں وغیرہ سے پھل ، سبزی اور گوشت وغیرہ کے شاپر بھر کر لے جاتے ہیں ۔ چیکنگ کے دوران دو چار ملازمین نے خالی شاپر پکڑے ہوتے ہیں اور بھرتے رہتے ہیں ۔ بھرے ہوئے شاپر منتقل کرکے نئے سرے سے شاپر بھرنے لگتے ہیں ۔ اس عمل کی بہت سے لوگوں کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بنا لی ہیں ۔ جو دکاندار انکار کرے اُسے جرمانہ کردیا جاتا ہے۔ یہ لوگ بڑی دکانوں سے دور ہی رہتے ہیں ۔ چیکنگ کے علاوہ بھی دکانوں سے چیزیں لے آتے ہیں ۔ شہریوں نے اس عجیب سی کرپشن کے سدباب کا مطالبہ کیا ہے ۔ اہلکاروں نے شہریوں کی روک ٹوک پر موقف اختیار کیا ہے کہ اشیاء کی کوالٹی چیک کرنے کے لیے چیزیں لائی جاتی ہیں ۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ نہ چیزیں واپس دی جاتی ہیں اور نہ کوئی ایکشن لیا جاتا ہے ۔

  • پولیس کی جانب سے رشوت وصولی

    پولیس کی جانب سے رشوت وصولی

    قصور
    تحصیل چونیاں پولیس نے کرونا وائرس لاک ڈاؤن کمائی کا ذریعہ بنا لیا
    پولیس کی سرپرستی میں کئی ہوٹل کھلے عام کھانے پینے کی اشیاء فروخت کرنے میں مصروف شہریوں میں تشویش کی لہر،اعلیٰ احکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ
    تفصیلات کے مطابق چونیاں میں پولیس نے کرونا وائرس لاک ڈاؤن کمائی کا ذریعہ بنالیا حکومت پنجاب کی جانب سے کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے خدشات کی پیش نظر جزوی لاک ڈاؤن تحصیل چونیاں کے تمام پولیس تھانوں میں کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے تحصیل چونیاں کے مختلف شہروں الٰہ آباد،،کنگنپور،چونیاں،چھانگا مانگا،تلونڈی ودیگر علاقوں میں پولیس کی سرپرستی میں کھلے عام ہوٹلز مالکان چائے ودیگر کھانے پینے کا سامان فروخت کرنے میں مصروف دکھائی دے رہے ہیں رشوت نہ دینے والے دکان داروں سمیت ریڑھی بانوں کو گرفتار کر کے ان سے رہائی کے لیے مبینہ طور پر بھاری رشوت طلب کرنے کی بھی شکایات کی جارہی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کے واضح احکامات کے باوجود کریانہ سٹور،بیکری، سمیت دیگر ا شیاء و خوردو نوش کا سامان فروخت کرنے والے دکان داروں کو پریشان کررہی ہے تحصیل چونیاں میں پولیس کی جانب سے کرونا وائرس کے سے نمٹنے کی بجائے شہریوں اور دکان داروں کو تنگ کرنے سمیت سرپرستی میں چلنے والے ہوٹلز پر شہروں حلقوں میں گہری تشویش کی لہر دوڑرہی ہے عوامی وسماجی حلقوں نے مرکزی تحصیل پریس کلب چونیاں کے صحافیوں کو اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ احکام پولیس کی رشوت وصولی سرگرمیوں کا نوٹس لے کر ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لاکر شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا ہے

  • 28 سال ملازمت کرنے والے مرحوم کے لواحقین سے رشوت کی طلبی

    28 سال ملازمت کرنے والے مرحوم کے لواحقین سے رشوت کی طلبی

    قصور محکمہ ایجوکیشن کے ملازمین کا پیسے مانگنے کا انکوکھا انداز 2016 تک کے غریبوں کےکیس رشوت کے لئے دبا رکھے
    قصور محکمہ ایجوکیشن کے ملازمین نے عبدالخالق نائب قاصد جو کہ دوران ڈیوٹی ملازمت کرتا فوت ہوگیا تھا کے آٹھ ماہ سے تمام واجبات روک رکھے ہیں ملازمین نے سی او ایجوکیشن کے احکامات ہوا میں اڑا دیے ملازمین اہل خانہ سے پیٹرول وغیرہ مانگتے ہیں
    قصور محکمہ ایجوکیشن کی نااہلی آٹھ ماہ گزر جانے کے باوجود عبدالخالق نائب قاصد مرحوم جو کہ دوران ڈیوٹی وفات پا گیا تھا اور 28 سال تک محکمہ ایجوکیشن کی خدمت کر کے فوت ہوا اس مرحوم کا ایک بھی کیس پایا تکمیل کو نہ پہنچ سکا مرحوم نے ساری زندگی محکمہ ایجوکیشن کی خدمت کی ہے 3 کیسز کے نوٹیفکیشن ہونے کے باوجود مرحوم کے واجبات بل نہیں بنائے گئے اور نہ ہی اکاونٹ آفس سے مرحوم کا اکاؤنٹ اس کے بیوہ کے نا ہی ٹرانسفر کیا گیا اہل خانہ نے کئی چکر لگائے کوئی بھی بات سننے کو تیار نہیں مرحوم کا بیٹا محمد مبین جو کہ دسویں جماعت کا طالب علم ہے اپنی عرضی لے کر سی او ایجوکیشن کےپاس لےکر گیا
    سی او ایجوکیشن کے حکم کے باوجود بھی ملازمین نے ایک بات بھی نہ سنی اور پیٹرول کے پیسے مانگنا شروع کر دیتے ہیں غریب کے اہل خانہ مایوس ہو چکے ہیں جہیز تکفین ۔گروپ انشورنس ۔گرانٹ آف ڈیتھ لیو انکیش منٹ۔ جی پی فنڈ ۔ پے منٹ آف سیلری کوئی بھی کیس آٹھ ماہ میں پایا تکمیل تک نہ پہنچا مرحوم کے اہل خانہ نے ڈپٹی کمشنر قصور اور سی او ایجوکیشن ناہید واصف اور اعلی حکام سے نوٹس کی اپیل کی ہے کہ ہماری داد رسی کی جائے

  • رشوت لی اور دھمکیاں دیں

    قصور
    سب ڈویژن راجہ جنگ کا واپڈا ملازم افضل خاں میٹر انسپکٹر کی رشوت ستانی عروج پر
    تفصیلات کے مطابق کوٹلی رائے ابوبکر کے زمیندار زین العابدین کا کہنا ہے ہمارے زرعی ٹیوب ویل کے میٹرنمبر 4511751306103u پر افضل نے 38277 یونٹ بوگس ڈال دئے جس پر میں نے افضل خان کو ریڈنگ درست کرنے کا کہا تو افضل خان نے مجھ سے ایک لاکھ روپے رشوت کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پیسے دو گے تو کام ہو گا ورنہ نہیں سو مجبوری کے تحت میں نے حامی بھر لی رشوت کے پیسے لینے افضل ہمارے کھیت آیا پیسے لینے کے بعد ہمارا بل ٹھیک نا کیا جس کی بابت میں نے اپنے پیسے واپس مانگے تو افضل غنڈا گردی پر اتر آیا مجھ کو سنگین دھمکیاں دیں اور کہا کہ میں نے تو اپنے علاقے کے بہت چوہدریوں کے پیسے کھائے ہیں جو میرا بال بھی ٹیڑھا نہیں کر سکے پھر تم کیا چیز ہو
    بل زیادہ ہونے سے ہم نے بل ادا نا کیا تو واپڈا ٹیم ہمارا میٹر بھی اتار کر لے گئ ہے اور افضل بھی سنگین نتائج کی دھمکیوں دے رہا ہے
    متاثرہ دیہاتی نے اعلی حکام سے اس راشی میٹر انسپکٹر کے خلاف سخت قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے