Baaghi TV

Tag: رضوانہ

  • گھریلو تشدد کا شکار رضوانہ  جنرل ہسپتال میں  یوم خواتین تقریب کی مہمان خصوصی

    گھریلو تشدد کا شکار رضوانہ جنرل ہسپتال میں یوم خواتین تقریب کی مہمان خصوصی

    پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ دین اسلام نے خواتین کو خصوصی عزت و احترام اور حقوق سے نوازا ہے جن کی پاسداری ہم سب پر واجب ہے جبکہ دین اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے خواتین کو وراثت کا حق دے کر اُن کی محرومیوں کا ہمیشہ کے لئے ازالہ کر دیا۔

    ان خیالات کا اظہار پروفیسر الفرید ظفر نے لاہور جنرل ہسپتال میں خواتین کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں گھریلو تشدد کی شکار رضوانہ جو ایل جی ایچ میں زیر علاج رہی، کو بطور مہمان خصوصی شرکت کے لئے بلایا گیا جبکہ سینئر خواتین ڈاکٹرزنے رضوانہ کے ساتھ مل کر کیک بھی کاٹا۔ اس موقع پر پرنسپل سمز پروفیسرزہرہ خانم، پروفیسر عائشہ شوکت،پروفیسر ندرت سہیل، پروفیسر شمسہ ہمایوں، پروفیسر طیبہ وسیم، ڈاکٹر لیلیٰ شفیق، ڈاکٹر مہوش الیاس اور ڈاکٹر نادیہ ارشد سمیت خواتین ڈاکٹرز و نرسز نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کے جدید دور میں خواتین اعلیٰ تعلیم، ٹیکنالوجی،میڈیکل سائنس، بزنس، ڈیفنس،عدلیہ سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی میں خدمات سر انجام دے کر اپنی صلاحیتوں کو منوا رہی ہیں اور یہ بات ثابت ہوگئی کہ خواتین مردوں سے کسی بھی طرح کم نہیں اور اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل و شعورسمیت اُن تمام صلاحیتوں سے نواز ا ہے جو انہیں معاشرے میں ممتاز کرتی ہیں۔پروفیسر الفرید ظر نے مزید کہا کہ کوئی بھی معاشرہ تب ہی ترقی کرے گا جب خواتین کو اُن کے جائز حقوق ملیں گے اورانہیں ملکی و قومی ترقی میں انہیں کردارادا کرنے کے قابل سمجھا جائے گا۔پرنسپل پی جی ایم آئی نے اعلان کیا کہ لاہور جنرل ہسپتال، اے ایم سی اور پی جی ایم آئی میں ڈے کئیر سینٹر اور بریسٹ فیڈنگ کے کیلئے جگہ مختص کی جائے گی تاکہ خواتین ڈاکٹرز،نرسز دکھی انسانیت کی خدمت کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی بہتر نگہداشت کر سکیں۔

    پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر و دیگر مقرر ین نے کہا کہ قبل از اسلام بیٹیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ دفن کر دیا جاتا تھا اس انسانیت سوز اور قبیح رسم کو اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ نے آکر ختم کر دیا اور بیٹی کو اللہ تعالیٰ کی رحمت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی خواتین کو اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ﷺ اور دین اسلام کا احسان مند ہونا چاہیے جنہوں نے انہیں قدیم غلامی سے نجات دلا کر معاشرے میں بلند مقا م دلوایا اور ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی یعنی ماں کی خدمت سے انسان جنت کا حقدار ٹھہرتا ہے۔ تقریب کے اختتام پر مہمان گرامی کو اعزازی شیلڈ سے بھی نوازا گیا۔ رضوانہ کے اہل خانہ نے اُن کی بیٹی کو صحت یاب ہونے اور گھریلو شدد کا شکار ہونے کے بعد معمول کی زندگی میں واپس آنے پر شکریہ ادا کیا

  • رضوانہ تشدد کیس، سول جج کی اہلیہ پر فرد جرم عائد

    رضوانہ تشدد کیس، سول جج کی اہلیہ پر فرد جرم عائد

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے رضوانہ تشدد کیس میں سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ ملزمہ صومیہ عاصم پر فرد جرم عائد کردی ہے

    عدالت میں کیس کی سماعت سول جج عمر شبیر نے کی،کمسن ملازمہ رضوانہ کی والدہ اور ملزمہ صومیہ عاصم اپنے اپنے وکلا کے ساتھ عدالت پیش ہوئیں،دوران سماعت عدالت نے فردجرم پڑھ کر سنائی،ملزمہ صومیہ عاصم نے صحت جرم سے انکار کر دیا ،عدالت نے ملزمہ صومیہ عاصم کے خلاف ٹرائل کا باقاعدہ آغاز کردیا ہ، عدالت نے اگلی سماعت پر گواہان کو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کر لیا، عدالت نے کیس کی سماعت 20 مارچ تک ملتوی کردی،

    گزشتہ برس24 جولائی کو تھانہ ہمک میں سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ پر ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ درج ہوا ،کمسن بچی رضوانہ کو ملازمت پر رکھنے کے الزام کی صفائی دینے تاحال سول جج شامل تفتیش نہ ہوئے۔ کمسن بچی کو ملازمت پر رکھنے اور تشدد سے محفوظ رکھنے کے الزام میں سول جج کو شامل تفتیش کرنا تھا۔ پہلے لاہور ہائیکورٹ پھر سیشن جج راولپنڈی کے ذریعے سول جج سے تفتیش کا کہا گیا۔ سول جج عاصم حفیظ جے آئی ٹی سربراہ اور تفتیشی کو بلا کر تحقیق کا حصہ بننا چاہتے ہیں،سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ بچی پر سونا چوری کرنے اور بچے کو نیند کی گولیاں دینے پر تشدد کرتی رہیں۔

    عاصم حفیظ کو لاہور ہائیکورٹ او ایس ڈی بنا چکی ہے، جس کے بعد انہیں طلب کیا گیا تھا، تا ہم وہ نہیں پیش ہو رہے،جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

    گھریلو تشدد کی شکار بچی رضوانہ کو 4 ماہ تک جنرل اسپتال میں زیر علاج رکھنے کے بعد ڈسچارج

  • گھریلو تشدد کا شکار15 سالہ رضوانہ ہسپتال سے ڈسچارج،چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے سپرد

    گھریلو تشدد کا شکار15 سالہ رضوانہ ہسپتال سے ڈسچارج،چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے سپرد

    گھریلو تشدد کی شکار بچی رضوانہ کو 4 ماہ تک جنرل اسپتال میں زیر علاج رکھنے کے بعد ڈسچارج کرکے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے سپرد کردیا گیا ہے، رضوانہ نے صحتیابی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں بہت خوش ہوں، سب نے میرا بہت خیال رکھا ہے،ڈاکٹرز اور نرسز نے میرا بہت خیال رکھا ہے اب میری طبیعت بہتر ہو چکی ہے۔ نئی زندگی ملنے پر بہت خوش ہوں

    گھریلو تشدد کی شکار ہو کر لاہور جنرل ہسپتال میں 18ہفتے زیر علاج رہنے کے بعد رو بصحت ہو کر رخصت ہونے پر رضوانہ کیلئے پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر الفرید ظفر کا منفرد اور شاندار اقدام سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے رضوانہ کے لئے ہسپتال سے ڈسچارج ہونے پر اُسے سکول بیگ، کتابوں، یونیفارم اور ضروریات زندگی پر مشتمل اشیاء کے تحائف دیے ہیں اور متاثرہ بچی کے اہل خانہ کو یقین دلایا ہے کہ وہ آئندہ بھی رضوانہ کی تعلیم اور دیگر ضروریات کے لئے ہر ممکن تعاون کریں گے۔پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ بچیاں ہم سب کی بیٹیاں ہیں اور اُن کے ساتھ معاشرے میں ایسے حادثات کا ہونا بلا شبہ افسوسناک امر ہے لیکن ضرورت اس اقدام کی ہے کہ ہم سب اپنی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے رضوانہ جیسی بچیوں کے لئے اعلیٰ تعلیم حاصل کر نے کا بندوبست کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے معاشرے میں رضوانہ جیسی بچیاں خود کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکیں جس کے لئے علم کی شمع کا روشن ہونا بہت ضروری ہے اسی لیے رضوانہ کو کتابوں،سکول بیگ اور دیگر اشیاء کے تحائف دیے گئے ہیں تاکہ وہ خود کو معاشرے کا سود مند شہری بنا سکیں۔پرنسپل پی جی ایم آئی نے مزید کہا کہ اس وقت معاشرے میں غربت کے باعث بڑھتی ہوئی چائلڈ لیبر میں بھی کمی لانے کی ضرورت ہے اور اُس کا بھی واحد راستہ یہی ہے کہ ہم کام کرنے والے بچوں کے ہاتھوں میں اوزار کی بجائے قلم دیں اور انہیں تعلیم کی طرف راغب کریں۔

    اس موقع پر پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر نے اٹھارہ ہفتے تک علاج کرنے والے ڈاکٹرز،نرسز اور طبی عملے کے لئے تعریفی سرٹیفکیٹس کا بھی اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ رضوانہ صرف ایک مرض میں مبتلا نہیں تھی بلکہ اسے بیک وقت کئی بیماریاں اور خطرات لا حق تھے اورہسپتال انتظامیہ نے اس کیس کو چیلنج کے طور پر لیا اور وزیر اعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی اور وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم کی ہدایات کی روشنی میں ڈاکٹرز اور طبی عملے نے بہترین ٹیم ورک کا مظاہرہ کرتے ہوئے رضوانہ کی دیکھ بھال میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جس پر یہ سارا عملہ مبارکباد کا مستحق ہے۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہیلتھ پروفیشنلز نے دن رات اور سرکاری تعطیلات کے دوران بھی رضوانہ کی صحت یابی کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائے رکھی اور آج الحمد اللہ ہم اپنے مشن میں سرخرو ہوئے ہیں جس پر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجا لاتے ہیں

    چئیرپرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو سارہ احمد نے رضوانہ کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو منتقل کر دیا۔چیئرپرسن سارہ احمد کا کہنا تھا کہ عدالتی حکم پر رضوانہ کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی تحویل میں لیا گیا۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں رضوانہ کی مکمل دیکھ بھال کی جائے گی۔ تشدد کا شکار رضوانہ کی تعلیم اور بہتر نگہداشت کے مکمل انتظامات کئے جائیں گے۔

    24 جولائی کو تھانہ ہمک میں سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ پر ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ درج ہوا ،کمسن بچی رضوانہ کو ملازمت پر رکھنے کے الزام کی صفائی دینے تاحال سول جج شامل تفتیش نہ ہوئے۔ کمسن بچی کو ملازمت پر رکھنے اور تشدد سے محفوظ رکھنے کے الزام میں سول جج کو شامل تفتیش کرنا تھا۔ پہلے لاہور ہائیکورٹ پھر سیشن جج راولپنڈی کے ذریعے سول جج سے تفتیش کا کہا گیا۔ سول جج عاصم حفیظ جے آئی ٹی سربراہ اور تفتیشی کو بلا کر تحقیق کا حصہ بننا چاہتے ہیں،سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ بچی پر سونا چوری کرنے اور بچے کو نیند کی گولیاں دینے پر تشدد کرتی رہیں۔

    عاصم حفیظ کو لاہور ہائیکورٹ او ایس ڈی بنا چکی ہے، جس کے بعد انہیں طلب کیا گیا تھا، تا ہم وہ نہیں پیش ہو رہے،جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • گھریلو تشدد کا شکار15 سالہ رضوانہ صحت یاب

    گھریلو تشدد کا شکار15 سالہ رضوانہ صحت یاب

    لاہور جنرل ہسپتال میں چار ماہ قبل سرگودھا سے انتہائی تشویشناک حالت میں منتقل کی جانے والی گھریلو تشدد کا شکار 15سالہ رضوانہ مکمل طور پر صحت یاب ہو گئی ہے،

    متاثرہ بچی کو نامور فزیشن ڈاکٹر جاوید اکرم کے طبی معائنے کے بعد ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا جائے گا۔ متاثرہ کے علاج معالجے اور بحالی میں وزیر اعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی نے خصوصی دلچسپی لی اور پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر سے مسلسل رابطے میں رہے جنہیں ہسپتال انتظامیہ نے بچی کی صحت کے بارے میں لمحہ بہ لمحہ آگاہ رکھا جبکہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم بھی بطور فزیشن گاہے بگاہے رضوانہ کا معائنہ کرتے رہے اور اپنی ماہرانہ رائے سے ڈاکٹرز کی علاج معالجے میں رہنمائی کی۔ ہسپتال انتظامیہ، ڈاکٹرز اور نرسز نے علاج معالجے اور نگہداشت میں 120دن تندہی کے ساتھ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں نبھائیں،اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور ڈاکٹرز کی دن رات مہارت سے بالآخر 4ماہ بعد بچی اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو گئی، سونیا اپنی چھوٹی بہن رضوانہ کو بغیر سہارے چلتا دیکھ کر خوشی سے نہال دکھائی دی۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومت پنجاب ضرورت کے مطابق وقتاً فوقتا ًرضوانہ کے علاج اور اُس کے اہل خانہ کو سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں ہسپتال انتظامیہ ہدایات جاری کرتے رہے جس کی روشنی میں لڑکی کے اہل خانہ کو 4ماہ تک رہائش اور کھانے کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔

    ہسپتال ریکارڈ کے مطابق جس وقت رضوانہ کو جنرل ہسپتال لایا گیا تو اُس کی حالت تشویشناک تھی اور اندرونی اعضاء بھی متاثر تھے۔ دوران علاج بچی کا آکسیجن لیول غیر متوازی چلتا رہا اور بعض اوقات حالت انتہائی تشویشناک مرحلے میں بھی داخل ہوئی لیکن اب الحمداللہ رضوانہ مکمل طور پرصحت یاب ہو چکی ہے۔بچی کے بہترین علاج معالجے اور مسلسل دیکھ بھال سے ایک مرتبہ پھر زندگی کی طرف لوٹ آنے پر گھریلو تشدد کا شکار 15سالہ رضوانہ کے والدین نے وزیر اعلیٰ پنجاب سید محسن نقوی اور جنرل ہسپتال انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا اور اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ جھولیاں بھر بھر کر وزیر اعلیٰ پنجاب اور ہسپتال انتظامیہ کو دعائیں دے رہے ہیں۔ صحافیوں سے گفتگو میں پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے سر خرو کیا اور ہیلتھ پروفیشنلز مبارکباد کے مستحق ہیں اور مستقبل میں بھی مریضوں کو بہتر سے بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کا سلسلہ جاری رکھیں گے

    24 جولائی کو تھانہ ہمک میں سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ پر ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ درج ہوا ،کمسن بچی رضوانہ کو ملازمت پر رکھنے کے الزام کی صفائی دینے تاحال سول جج شامل تفتیش نہ ہوئے۔ کمسن بچی کو ملازمت پر رکھنے اور تشدد سے محفوظ رکھنے کے الزام میں سول جج کو شامل تفتیش کرنا تھا۔ پہلے لاہور ہائیکورٹ پھر سیشن جج راولپنڈی کے ذریعے سول جج سے تفتیش کا کہا گیا۔ سول جج عاصم حفیظ جے آئی ٹی سربراہ اور تفتیشی کو بلا کر تحقیق کا حصہ بننا چاہتے ہیں،سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ بچی پر سونا چوری کرنے اور بچے کو نیند کی گولیاں دینے پر تشدد کرتی رہیں۔

    عاصم حفیظ کو لاہور ہائیکورٹ او ایس ڈی بنا چکی ہے، جس کے بعد انہیں طلب کیا گیا تھا، تا ہم وہ نہیں پیش ہو رہے،جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • گھریلو تشدد کی روک تھام سے متعلق کیس،وزارت انسانی حقوق و دیگر کو نوٹس جاری

    گھریلو تشدد کی روک تھام سے متعلق کیس،وزارت انسانی حقوق و دیگر کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ ، کم سن رضوانہ تشدد کیس ،سول جج عاصم حفیظ کو عہدے سے ہٹانے ، گھریلو تشدد کی روک تھام سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی.

    عدالتی معاون زینب جنجوعہ عدالت میں پیش ہوئیً،وزارت انسانی حقوق کی نمائندہ اور اسٹیٹ کونسل ذوہیب گوندل عدالت میں پیش ہوئے،سول جج عاصم حفیظ اور انکی اہلیہ کی جانب سے وکیل قیصر امام عدالت میں پیش ہوئے

    عدالت نے آئندہ سماعت کے لیے وزارت انسانی حقوق و دیگر کو نوٹس جاری کر دیئے، عدالت نے فریقین کو چائلڈ ویلفئیر ، چائلڈ پروٹیکشن سے متعلق گذارشات جمع کرانے کی ہدایت کر دی، چیف جسٹس عامر فاروق نے سول جج کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس سے رضوانہ تشدد کیس کے ٹرائل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ،یہ کسی سے متعلق کوئی ذاتی نوعیت کا کیس نہیں بلکہ ایسے واقعات کو مستقبل میں روکنا مقصد ہے ، یہ مفاد عامہ کا کیس ہے اسکی روک تھام ضروری ہے ، ہمارا مقصد اس مسئلے کو ہائی لائٹ کرنا ہے کسی کو ٹارگٹ کرنا نہیں ،یہ سوشل ایشوز ہیں انکی روک تھام کے لیے حل نکالنا ہے ،طیبہ تشدد کیس بھی ہوا تھا اب یہ والا کیس سامنے آیا ہے ہم نے چائلڈ لیبر اور بچوں پر تشدد کے معاملے کو تفصیلی دیکھنا ہے ،بچوں کو پیسے کمانے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے ،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے وکیل قیصر امام سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کس کی طرف سے آئے ہیں ، وکیل قیصر امام نے کہا کہ میں سول جج عاصم حفیظ اور انکی اہلیہ کی جانب سے میں پیش ہوا ہوں ، آرفن کئیر سنٹر بنانے چاہیے تاکہ کم عمر بچوں کو کام پر بھیجے سے بچایا جائے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک میں کئی انسٹیٹیوٹ ہوتے ہیں جس میں بچے کام کرکے کوئی مکینک بن جاتا ہے کوئی اور ہنر سیکھ جاتا ہے ہمارے پاس پرائیویٹ سیکٹر میں ایسے کچھ انسٹیٹوٹ ہیں جنھیں دیکھنا چاہیے ،

    عدالتی معاون زینب جنجوعہ نے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن سنٹر موجود ہیں جنہیں کردار ادا کرنا چاہیے ، نیشنل کمیشن ہیومن رائٹس بھی موجود ہیں ،وزارت انسانی حقوق بھی اس سارے معاملے کو دیکھتی ہے ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وزارت انسانی حقوق سے توقع ہے کہ وہ اس مسئلے پر اپنا کردار کرے گی وزارت انسانی حقوق بھی اپنا تفصیلی جواب جمع کروائے کہ کیسے گھریلو تشدد کے واقعات کو روکا جائے ،عدالت نے وزارت انسانی حقوق و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 13 نومبر تک ملتوی کردی

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • دو ماہ گزر گئے،گھریلو ملازمہ رضوانہ کو انصاف نہ مل سکا

    دو ماہ گزر گئے،گھریلو ملازمہ رضوانہ کو انصاف نہ مل سکا

    دو ماہ گزر جانے کے باوجود گھریلو ملازمہ رضوانہ کو انصاف نہ مل سکا

    24 جولائی کو تھانہ ہمک میں سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ پر ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ درج ہوا ،کمسن بچی رضوانہ کو ملازمت پر رکھنے کے الزام کی صفائی دینے تاحال سول جج شامل تفتیش نہ ہوئے۔ کمسن بچی کو ملازمت پر رکھنے اور تشدد سے محفوظ رکھنے کے الزام میں سول جج کو شامل تفتیش کرنا تھا۔ پہلے لاہور ہائیکورٹ پھر سیشن جج راولپنڈی کے ذریعے سول جج سے تفتیش کا کہا گیا۔ سول جج عاصم حفیظ جے آئی ٹی سربراہ اور تفتیشی کو بلا کر تحقیق کا حصہ بننا چاہتے ہیں،سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ بچی پر سونا چوری کرنے اور بچے کو نیند کی گولیاں دینے پر تشدد کرتی رہیں۔

    عاصم حفیظ کو لاہور ہائیکورٹ او ایس ڈی بنا چکی ہے، جس کے بعد انہیں طلب کیا گیا تھا، تا ہم وہ نہیں پیش ہو رہے،جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    واضح رہے کہ عاصم حفیظ کی اہلیہ سومیہ عاصم پر گھریلو ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ زیرسماعت ہے بچی لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج ہے

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • رضوانہ تشدد کیس، سول جج کی اہلیہ کو رہا کرنے کا حکم

    رضوانہ تشدد کیس، سول جج کی اہلیہ کو رہا کرنے کا حکم

    کم عمر ملازمہ رضوانہ تشدد کیس میں سول جج کی اہلیہ سومیا عاصم کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور کر لی گئی،

    اسلام آباد آباد کی سیشن کورٹ نے ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض سول جج کی اہلیہ ملزمہ کو رہا کرنے کا حکم دے دیا، سومیا عاصم اس وقت اڈیالہ جیل میں ہے ایڈیشنل سیشن جج محمد ہارون نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ،ملزمہ سومیا عاصم نے ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کر رکھی تھی

    دوسری جانب رضوانہ تشدد کیس میں جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے،کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ تشدد کیس میں جے آئی ٹی نے سول جج عاصم حفیظ کو تحقیقات کے لئے طلب کیا تھا، جے آئی ٹی پانچ بار طلب کر چکی مگر عاصم حفیظ پیش ہونے کا نام نہیں لے رہے، عاصم حفیظ کا کہنا ہے کہ جب تک ہائیکورٹ کا تحریری حکم نامہ نہیں ملے گا جے آئی ٹی کے سامنے تحقیقات کے لئے پیش نہیں ہوں گا،

    عاصم حفیظ کو لاہور ہائیکورٹ او ایس ڈی بنا چکی ہے، جس کے بعد انہیں طلب کیا گیا تھا، تا ہم وہ نہیں پیش ہو رہے،جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    واضح رہے کہ عاصم حفیظ کی اہلیہ سومیہ عاصم پر گھریلو ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ زیرسماعت ہے بچی لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج ہے جہاں اس کے سر کے گہرے زخم کا علاج اور دیگر شدید چوٹوں کے باعث پلاسٹک سرجری کی جارہی ہے، اس دوران سرجری کے لئے بچی کو معیاری کریمیں لگائی جارہی ہیں،پلاسٹک سرجری کے سیشنز ڈاکٹر رومانہ کی سربراہی میں ٹیم کر رہی ہے

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • رضوانہ اور فاطمہ: خراب نظام کے دو شکار

    رضوانہ اور فاطمہ: خراب نظام کے دو شکار

    سول جج کے گھر میں کمسن 14 سالہ ملازمہ رضوانہ کے دلخراش کیس نے قوم کو صدمے میں ڈال دیا۔ اس تکلیف دہ واقعے نے جج کی اہلیہ کے ہاتھوں شدید جسمانی تشدد کی وجہ سے عوام کی توجہ حاصل کر لی، سول جج کی اہلیہ کی شناخت مرکزی مجرم کے طور پر کی گئی ۔ رضوانہ کو دوران ملازمت ڈنڈوں سے بے تحاشا مارنے کے ساتھ ساتھ جج کی بیوی کی طرف سے لاتیں اور تھپڑ بھی مارے جاتے ہیں۔ حیران کن طور پر، تشدد میں دن بدن اضافہ ہوتا رہا اور وہ کئی دنوں تک ایک کمرے میں بند رہتی تھی، اسے بھوکا رکھا جاتا تھا، اور کمرے سے باہر کسی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا تھا۔ رضوانہ نے یہاں تک انکشاف کیا کہ ملازمت کے دوران اسے اپنے والدین سے ملنے کا حق نہیں دیا گیا اور اس کے زخموں کا علاج نہیں کیا گیا۔

    کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کے بعد تحقیقات کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) قائم کی گئی۔ رضوانہ کو ملازم رکھنے والے سول جج کو سوالات کے جوابات دینے کے لیے بلایا گیا، لیکن وہ جے آئی ٹی میں پیش نہیں ہوئے۔ اس حوالے سے خدشات پیدا ہوتے ہیں کہ قانونی نظام میں موجود افراد بھی قانون کا احترام نہیں کرتے۔ ان کی اہلیہ، صومیہ عاصم کو گرفتار کر لیا گیا لیکن 100,000 روپے کے ضمانتی مچلکے دینے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ اس نے رضوانہ پر تشدد اور ناروا سلوک کے تمام الزامات کی تردید کی، جبکہ معجزانہ طور پر رضوانہ اس خوفناک آزمائش سے بچنے میں کامیاب ہو گئی۔

    افسوسناک بات یہ ہے کہ رانی پور سے تعلق رکھنے والی 9 سالہ فاطمہ کی کہانی بھی اسی طرح کی اور ایک تاریک داستان بیان کرتی ہے، فاطمہ کو ایک امیر مقامی مذہبی رہنما کے گھر میں ایک وحشیانہ انجام کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاں اسے نہ صرف انتہائی جسمانی تشدد بلکہ جنسی زیادتی کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔ اس کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے، اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے عصمت دری کے بھی ثبوت ملے۔ چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ اسے پوسٹ مارٹم کے بغیر ہی دفن کر دیا گیا تھا، لیکن بعد میں اس کی لاش کو نکالا گیا۔ میڈیکل رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے جسم سے ڈی این اے ٹیسٹ اور سیرولوجی کے لیے نمونے جمع کیے گئے تھے، جن میں حویلی میں رہنے والے ممکنہ مجرموں بشمول مالک، پیر اسد شاہ کی شناخت کی گئی تھی،

    رضوانہ اور فاطمہ کے کیس اس پریشان کن حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انصاف کے نظام مستقل طور پر انصاف کے وعدے کی پاسداری نہیں کرتے۔ یہ مقدمات بچوں کے حقوق اور بہبود کے تحفظ کے لیے نظام عدل کے اندر جامع اصلاحات کی فوری ضرورت کی واضح یاد دہانی کے طور پر کام کرتے ہیں، اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ گھناؤنے کاموں کے ذمہ داروں کو ان کے اعمال کے لیے جوابدہ ٹھہرایا جائے۔

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • رضوانہ کے والدین کہتے ہیں اگر انصاف نہ ملا تو ہم احتجاج کریں گے،وکیل

    رضوانہ کے والدین کہتے ہیں اگر انصاف نہ ملا تو ہم احتجاج کریں گے،وکیل

    رضوانہ تشدد کیس کی ملزمہ کے ریمانڈ میں عدالت نے توسیع کر دی ہے.

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے رضوانہ تشدد کیس میں ملزمہ سومیاعاصم کے جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کر دی، ملزمہ کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14دنوں کی مزید توسیع کی گئی ،

    رضوانہ تشدد کیس میں فیصل جٹ ایڈوکیٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 14 روز کا جوڈیشل ریمانڈ آج مکمل ہوا ،ملزمہ صومیہ کا ابھی تک انتظار کر رہے ہیں ،خیرپور میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا ،رضوانہ کی سرجری ہوئی اس کی پنڈلی سے گوشت لیکر چہرے کی سرجری کی گئی ،بچی کی حالت ایسی ہے جیسے کوئی ڈھانچہ ہوتا ہے ،پوری قوم سے درخواست ہے کہ بیٹی رضوانہ کے لیے دعا کریں رضوانہ کے والدین کہتے ہیں اگر انصاف نہ ملا تو ہم احتجاج کریں گے ،جے آئی ٹی میں جتنی دفعہ ہمیں بلایا گیا ہم پیش ہوئے سابقہ سول جج صاحب ابھی تک جے آئی ٹی میں پیش نہیں ہوئے کوئی بھی جے آئی ٹی سے بالاتر نہیں ہے ،ہمیں جے آئی ٹی پر مکمل اعتماد ہے

    قبل ازیں چیئرپرسن نیلوفر بختیار نے ٹیم کےہمراہ لاہورکے ہسپتال میں رضوانہ کی خیریت دریافت کی.اس موقع پر پرنسپل پی جی ایم آئی ڈاکٹر فرید ظفر نے بچی کی صحت پر تفصیلی بریفنگ دی.کمیشن نے بچی کی والدہ کو مکمل قانونی مدد کا یقین دلایا اور امید ظاہر کی کہ بچی کو انصاف ضرور ملے گا

    واضح رہے کہ عاصم حفیظ کی اہلیہ سومیہ عاصم پر گھریلو ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ زیرسماعت ہے بچی لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج ہے جہاں اس کے سر کے گہرے زخم کا علاج اور دیگر شدید چوٹوں کے باعث پلاسٹک سرجری کی جارہی ہے، اس دوران سرجری کے لئے بچی کو معیاری کریمیں لگائی جارہی ہیں،پلاسٹک سرجری کے سیشنز ڈاکٹر رومانہ کی سربراہی میں ٹیم کر رہی ہے جب کہ متاثرہ بچی کی پٹیاں 24 سے 48 گھنٹے بعد تبدیل کی جاتی ہیں،ڈیڑھ ماہ تک رضوانہ کے زخموں کی بھرائی کا عمل جاری رہےگا اور بچی کی پلاسٹک سرجری کی رپورٹ نگراں وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم کو پیش بھی کی جائے گی

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • بال پکڑ کرمیرا سردیوار کے ساتھ مارا جاتا تھا،رضوانہ نے بیان ریکارڈ کروادیا

    بال پکڑ کرمیرا سردیوار کے ساتھ مارا جاتا تھا،رضوانہ نے بیان ریکارڈ کروادیا

    کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کا معاملہ، بچی نے اسلام آباد پولیس کو بیان ریکارڈ کروا دیا

    اسلام آباد پولیس حکام نے کمسن بچی رضوانہ کا ہسپتال میں ہی بیان ریکارڈ کیا، رضوانہ نے اپنے اوپر ہونے والے تشدد کی ساری آب بیتی سنا دی، رضوانہ نے تفتیشی حکام کو بتایا کہ جج کی اہلیہ سومیہ عاصم مجھ پر روزانہ تشدد کرتی تھیں، مجھے ڈنڈوں، لوہے کی سلاخوں سمیت دیگر چیزوں سے مارا جاتا تھا، جج کی اہلیہ مجھے لاتیں، ٹھڈے بھی مارتی تھی، میرے بال پکڑ کر میرا سر دیوار کے ساتھ مارا جاتا تھا، کمرے میں بند کر دیا جاتا اور کھانا بھی نہیں دیا جاتا، جج جب گھر والوں کے ساتھ باہر جاتے تو مجھے ایک ایک ہفتہ گھر میں بند رکھا جاتا،جج کی اہلیہ تشدد بارے گھر والوں سے ذکر نہ کرنے کا کہتیں اور دھمکاتیں،میرے زخموں کی مرہم پٹی بھی نہیں کراتے تھے،

    دوسری جانب وفاقی پولیس نے سول جج عاصم حفیظ کو بیان ریکارڈ کروانے کیلے دوبارہ طلب کر لیا ،پولیس جے آئی ٹی کو جج کو شامل تفتیش کرنے کی رکاوٹ بھی دور ہو گئی جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    علاوہ ازیں چیئر پرسن چائلڈ پروٹیکشن بیورو پنجاب سارہ احمد نے کہا کہ تشدد کا شکار کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ کو صحتیابی کے بعد چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں رکھا جائے گا کیونکہ وہ اپنے والدین کے ساتھ محفوظ نہیں اور اس کو دوبارہ ملازمت پر رکھوا دیاجائے گا۔ وہ رضوانہ تشدد کیس سے متعلق کارروائی اورملک بھر میں بڑھتے ہوئے چائلڈ لیبر کے کیسز سے متعلق پریس کانفرنس کر رہی تھیں۔ چئیرپرسن سارہ احمد کے ہمراہ معروف اداکارہ اور چائلڈ رائٹس ایکٹیویسٹ نادیہ جمیل اور سسٹینبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کوثر عباس بھی موجود تھے۔ سارہ احمد نے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس کا مقصد تشدد کا شکار کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ اور فاطمہ کے لیے انصاف کا مطالبہ ہے۔ رضوانہ پر تشدد کے بعد سندھ میں معصوم بچی پر تشدد کا ایک اور واقعہ پیش آگیا جو کہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے کمسن بچیوں رضوانہ اور فاطمہ سمیت تمام گھریلو ملازمین پر تشدد کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ رضوانہ پر جتنا تشدد ہوا، اتنا تشدد کسی اور بچے پر نہیں دیکھا۔ اس کی تعلیم رہائش اور دیگر تمام ضروریات چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی جانب سے پوری کی جائیں گی۔

    سارہ احمد نے کہا کہ جب تک ملزمان کو سخت سے سخت سزا نہیں ملیگی تب تک ایسے کیسز کی روک تھام ممکن نہیں۔جب تک تمام ادارے اس پر سنجیدگی سے کام نہیں کرتے تب تک ایسے کیسز ہوتے رہے گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے کیسز میں ابھی تک مجرموں کو سزائیں نہیں ملی اور ایسے کیسز کے الگ سے کورٹ ہونے چاہئیں۔ہمارے قوانین میں سزائیں کم ہیں اس لیے سزائیں بڑھانے کی ضرورت ہے۔ چیئرپرسن نے کہا کہ ہم نے سوشل بائیکاٹ آف چائلڈ ایمپلائز کی مہم شروع کی جس میں لوگوں کو کہا گیا کہ وہ ایسے لوگوں سے ملنا چھوڑ دیں جنھوں نے بچوں کو ملازمت پر رکھا ہوا ہے۔ کمسن گھریلو ملازمین کو تشدد اور ظلم سے بچانے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کو مل کر سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو تشدد اور ظلم کا شکار گھریلو ملازمین کو تحفظ فراہم کر رہا ہے۔ ہم نے چیف جسٹس آف پاکستان سے رضوانہ تشدد کیس میں سو موٹو لینے کی درخواست کی ہے۔ چئیرپرسن سارہ احمد نے کہا کہ گھریلو ملازمین کو موثر قانون سازی کے ذریعے تشدد سے بچایا جا سکتا ہے۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی جانب سے تشدد کا شکار بچوں کو تعلیم کے ذریعے معاشرے کا مفید شہری بنایا جا رہا ہے۔ میری سب سے درخواست ہے کہ چائلڈ لیبر کے خاتمے اور بچوں کے تحفظ میں ہمارا ساتھ دیں۔ تشدد کا شکار گھریلو ملازمین کے بارے میں چائلڈ ہیلپ لائن 1121پر اطلاع دیں

    دوسری جانب اسلام آباد پولیس بھی رضوانہ تشدد کیس کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش کررہی ہے، اسلام آباد پولیس کی جانب سے بچی کو ملازمت پررکھوانے والے ٹھیکیدار کو شامل تفتیش کیا گیا ہے، رضوانہ کو ابتدائی طبی امداد دینے والے ڈاکٹر نے پولیس کو بیان دینے سے معذرت کرلی ، اسلام آباد پولیس کی تفتیشی ٹیم کے رکن پنجاب کے شہر سرگودھا میں بھی موجود ہیں جہاں رضوانہ کا گھر ہے، لاہور جہاں رضوانہ زیر علاج ہے وہاں بھی تفتیشی ٹیم کے رکن موجود ہیں،

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    پولیس نے بچی اور اسکے والد کا بیان ریکارڈ کر لیا

    میری اہلیہ سخت مزاج ہے لیکن اس نے مارپیٹ نہیں کی ہے

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ بچی کوعلاج کی بہترین سہولیات کی فراہم کی جائیں

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،