Baaghi TV

Tag: رضوانہ تشدد کیس

  • رضوانہ تشدد کیس، سول جج کی اہلیہ فرد جرم کے لئے طلب

    رضوانہ تشدد کیس، سول جج کی اہلیہ فرد جرم کے لئے طلب

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،کمسن گھریلوملازمہ رضوانہ پر تشدد کیس کی سماعت ہوئی

    ملزمہ سول جج کی اہلیہ سومیہ عاصم کو فرد جرم کی کاروائی کیلئے طلب کرلیاگیا۔کیس کی سماعت سول جج عمر شبیرکی عدالت نے کی۔ملزمہ سومیہ عاصم عدالت پیش نہ ہوئی جبکہ ملزمہ کے وکیل عدالت پیش ہوئے، پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر ریکارڈ سمیت عدالت پیش ہوئے، تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ چالان رپورٹ عدالت جمع کرادی گئی ہے، جوفائل میں موجود ہے۔پراسیکیوٹر نے کہا کہ چالان عارضی ہے حتمی نہیں ہے،لیکن ٹرائل شروع کرنے اور فردجرم کیلئے کافی ہے۔

    عدالت نے چالان نقول کی تقسیم کیلئے ملزمہ کو طلب کرلیا۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت9 دسمبر تک ملتوی کردی۔

    24 جولائی کو تھانہ ہمک میں سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ پر ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ درج ہوا ،کمسن بچی رضوانہ کو ملازمت پر رکھنے کے الزام کی صفائی دینے تاحال سول جج شامل تفتیش نہ ہوئے۔ کمسن بچی کو ملازمت پر رکھنے اور تشدد سے محفوظ رکھنے کے الزام میں سول جج کو شامل تفتیش کرنا تھا۔ پہلے لاہور ہائیکورٹ پھر سیشن جج راولپنڈی کے ذریعے سول جج سے تفتیش کا کہا گیا۔ سول جج عاصم حفیظ جے آئی ٹی سربراہ اور تفتیشی کو بلا کر تحقیق کا حصہ بننا چاہتے ہیں،سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ بچی پر سونا چوری کرنے اور بچے کو نیند کی گولیاں دینے پر تشدد کرتی رہیں۔

    عاصم حفیظ کو لاہور ہائیکورٹ او ایس ڈی بنا چکی ہے، جس کے بعد انہیں طلب کیا گیا تھا، تا ہم وہ نہیں پیش ہو رہے،جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    جج عاصم حفیظ بار بار طلبی کے باوجود جے آئی ٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے

     اسد شاہ کی بیوی حنا شاہ کے بہت مظالم برداشت کئے،

    13 سالہ گھریلو ملازمہ عندلیب فاطمہ تشدد کیس کی سماعت

    راجہ پرویز اشرف نے بچوں پر تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان پر اظہار تشویش کیا

  • لاہورہائیکورٹ نے سول جج عاصم حفیظ کواو ایس ڈی بنا دیا،نوٹیفکیشن جاری

    لاہورہائیکورٹ نے سول جج عاصم حفیظ کواو ایس ڈی بنا دیا،نوٹیفکیشن جاری

    رضوانہ تشدد کیس،سول جج کو او ایس ڈی بنانے کے بعد تفتیش کی نئی راہ ہموار
    سول جج کی اہلیہ کا گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کیس،سول جج کو او ایس ڈی بنانے کے بعد تفتیش کی نئی راہ ہموار ہو گئی

    وفاقی پولیس نے سول جج عاصم حفیظ کو بیان ریکارڈ کروانے کیلے دوبارہ طلب کر لیا ،پولیس جے آئی ٹی کو جج کو شامل تفتیش کرنے کی رکاوٹ بھی دور ہو گئی جے آئی ٹی کو بھی ملزمہ کے شوہر سے بطور جج کوشامل کرنا مشکل تھا ،جے آئی ٹی کی جانب سے جج کو شامل تفتیش کرنے کیلئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع بھی کیا گیا تھا،جے آئی ٹی متاثرہ بچی کے والدین اور ملزمہ کا بیان ریکارڈ کر چکی ہے

    گھریلو ملازمہ کو تشدد بنانے کا معاملہ ،آئی جی اسلام آباد نے سول جج عاصم حفیظ کو شامل تفتیش کرنے کیے لیے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کو درخواست کردی ،آئی جی اسلام آباد نے استدعا کی کہ سول جج عاصم حفیظ کو شامل تفتیش کرنا چاہتے ہائیکورٹ اجازت دے .

    چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ نے سول جج عاصم حفیظ کو آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی (او ایس ڈی) بنا دیا۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے سول جج عاصم حفیظ کو او ایس ڈی بنانے کے حکم کے بعد رجسٹرار ہائیکورٹ نے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کردیا نوٹیفکیشن کے مطابق سول جج کو راولپنڈی میں او ایس ڈی تعینات کیا ہے،انہیں 19 اگست سے قبل راولپنڈی میں چارج سنبھالنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ عاصم حفیظ کی اہلیہ سومیہ عاصم پر گھریلو ملازمہ پر تشدد کا مقدمہ زیرسماعت ہے بچی لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج ہے جہاں اس کے سر کے گہرے زخم کا علاج اور دیگر شدید چوٹوں کے باعث پلاسٹک سرجری کی جارہی ہے، اس دوران سرجری کے لئے بچی کو معیاری کریمیں لگائی جارہی ہیں،پلاسٹک سرجری کے سیشنز ڈاکٹر رومانہ کی سربراہی میں ٹیم کر رہی ہے جب کہ متاثرہ بچی کی پٹیاں 24 سے 48 گھنٹے بعد تبدیل کی جاتی ہیں،ڈیڑھ ماہ تک رضوانہ کے زخموں کی بھرائی کا عمل جاری رہےگا اور بچی کی پلاسٹک سرجری کی رپورٹ نگراں وزیر صحت ڈاکٹر جاوید اکرم کو پیش بھی کی جائے گی۔

    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری

    پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ زخموں کی صفائی اور گرافٹنگ ایک مشکل عمل ہے اوررضوانہ کی صحت بارے صوبائی وزیر صحت کو روزانہ کی بنیاد پر آگاہ کرتے ہیں۔میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر جودت سلیم نے کہا کہ رضوانہ کے سراورکمرکے زخم صاف کرکے پٹی کی گئی ہے اور پلیٹ لیٹس اور خون کی مقدار بہتر ہو چکی ہے-

    خیال رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لے کر آئی-

    لاطینی امریکہ میں دھماکا، 27 افراد ہلاک اور 59 زخمی

  • گھریلو ملازمہ تشدد کیس،سول جج کی اہلیہ جے آئی ٹی کو مطمئن نہیں کر سکی

    گھریلو ملازمہ تشدد کیس،سول جج کی اہلیہ جے آئی ٹی کو مطمئن نہیں کر سکی

    اسلام باد: گھریلو ملازمہ رضوانہ تشدد کیس میں نامزد سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ سومیہ عاصم جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہو گئیں۔

    باغی ٹی وی : پولیس ذرائع کے مطابق سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ رضوانہ تشدد کیس میں جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوئیں جہاں ان سے ملازمہ پر بہیمانہ تشدد کے متعلق سوالات کیے گئے سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ کے پاس اپنی صفائی میں کوئی جواب نہیں تھا، جج کی اہلیہ سے بچی پرتشدد کی وجہ پوچھی گئی تو جواب میں انہوں نے الزامات کی بوچھاڑ کر دی-

    پولیس ذرائع کے مطابق جج کی اہلیہ نے کہا کہ بچی ہمارے گھر پر ملازمہ نہیں تھی نہ ہی کام کرتی تھی بلکہ بچی کو ہم نے تربیت کے لیے رکھا ہوا تھا، بچی کے والدین کو امداد کے طور پر اب تک 60 ہزار روپے بھیجے، پیسے اپنے شوہر عاصم حفیظ کے موبائل ایزی پیسہ سے بھیجے۔

    چین میں 5.5 شدت کا زلزلہ.عمارتئں منہدم متعدد افراد زخمی

    سومیہ عاصم نے کہا کہ بچی پر کوئی تشدد نہیں کیا، اسے اسکن الرجی تھی، جج کی اہلیہ نے کہا بچی کے سر پر چوٹ کیسے لگی ہمیں نہیں معلوم، بچی آنکھوں اور جسم پرخارش کرتی رہتی تھی، بچی کو دوا لا کردی لیکن وہ دوا آنکھوں یا جلد پر نہیں لگاتی تھی، بچی کو ڈنڈے مارنے سے پھیپھڑوں کا انفیکشن تو نہیں ہونا تھا، بچی کا بازو ہمارے گھر سے ٹوٹا ہوا نہیں گیا۔

    ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر سول جج کی اہلیہ کسی سوال کے جواب میں مطمئن نہیں کر پائیں، سول جج کی اہلیہ کو دوبارہ جے آئی ٹی کے سامنے طلب کریں گے-

    ہزارہ ایکسپریس کی بوگیاں نوابشاہ کے قریب پٹری سے اتر گئیں،50 سے زائد افراد زخمی