Baaghi TV

Tag: رضوانہ

  • خواجہ آصف  کم سن ملازمہ پر تشدد کرنے والی جج کی اہلیہ کو ضمانت ملنے پرنالاں

    خواجہ آصف کم سن ملازمہ پر تشدد کرنے والی جج کی اہلیہ کو ضمانت ملنے پرنالاں

    اسلام آباد: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سول جج کی اہلیہ کے مبینہ تشدد سے شدید زخمی ہونے والی رضوانہ تشدد کیس کی مرکزی ملزمہ کو ضمانت ملنے کے عدالتی فیصلے پر شدید تنقید کی ہے۔

    باغی ٹی وی : گزشتہ روز اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز کورٹ نے کم سن ملازمہ رضوانہ تشدد کیس میں مرکزی ملزمہ اور سول جج کی اہلیہ سومیہ عاصم کی 1 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض 7 اگست تک عبوری ضمانت منظور کی تھی۔


    خواجہ آصف نے ٹویٹرپر عدلیہ پر تنقید کی اور بظاہر ان کا اشارہ رضوانہ تشدد کیس میں مرکزی ملزمہ کو ضمانت دیے جانے کے بارے میں تھا وفاقی وزیر نے ٹوئٹ میں لکھا کہ عدلیہ کے فیصلے ایسے حالات بنا رہے ہیں کہ بچی کے والدین ان حالات کے جبر سے مجبور ہو کر ظلم کے آگے ہتھیار ڈال دیں یہاں ہر ایک کی برادری ہے جو اپنے ظالم کی بھی پناہ گاہ بن جاتی ہے،غریب کی کوئی برادری نہیں جو اسے پناہ دے، ریاست بھی صاحب وسائل کی پناہ گاہ ہے۔

    فلم ”باربی“ کوپنجاب سینسر بورڈ کی جانب سے نمائش کی اجازت مل گئی

    واضح رہے کہ منگل کو رضوانہ تشدد کیس کی مرکزی ملزمہ نے ضمانت قبل از گرفتاری کیلئے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد سے رجوع کیا عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا تھا کہ سومیہ نے کبھی رضوانہ کو تشدد کا نشانہ نہیں بنایا، عدالت ملزمہ کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرے درخواست گزار پڑھی لکھی ہیں اور سول جج کی اہلیہ ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ رضوانہ اپنے والدین کی مرضی سے ان کے یہاں کام کرتی تھی لیکن اس کے علاوہ ایف آئی آر میں جو کچھ درج ہے وہ جھوٹ ہے رضوانہ کی عمر 17 برس ہے اور سومیہ نے ہمیشہ اس کے ساتھ نرمی سے کام لیا اور رضوانہ سے اسی طرح کا برتاؤ کیا جو وہ اپنے 7 سے 12 برس کے تین بچوں کے ساتھ کرتی تھیں۔

    ترکیہ میں سویڈن کے اعزازی قونصل خانے پرفائرنگ،عملے کی خاتون شدید زخمی

    واضح رہے کہ سرگودھا سے تعلق رکھنے والی رضوانہ نو روز سے لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج ہے گزشتہ روز رضوانہ کے علاج کیلئے بنائے گئے میڈیکل بورڈ کا اہم اجلاس ہوا۔ جس میں فیصلہ کیا گیا کہ رضوانہ کو خون لگایا جائے گا ، پینٹاگلوبیلنٹ نامی انجکشن بھی رضوانہ کو لگے گا۔

    میڈیکل بورڈ کے سربراہ پروفیسر جودت سلیم کا کہنا تھا کہ رضوانہ کے جسم میں خون کی شرح 9 فیصد ہے، خون کی بوتل لگائی جائے گی رضوانہ کے کمر کے زخم میں پیپ بھر گئی تھی، جسے فوری صاف کر دیا ہے، رضوانہ کو خصوصی ہوا والے بیڈ پر لٹایا گیا ہے پینٹا گلو بیلنٹ والا انجکشن بھی شروع کیا جائے گارضوانہ کا وزن لگ بھگ 30 کلو کے قریب ہے، وزن کی مناسبت سے انجکشن کی خوراک لگائی جائے گی۔

    بلوچستان میں بارشوں کے باعث 332 مکانات تباہ،پنجاب میں 7 اگست تک بارشیں متوقع

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ کالج الفرید ظفر نے بتایا کہ انجکشن 5 لاکھ مالیت کا ہے ، یہ سرکاری طور پر مفت لگائے جائیں گے، انجکشن سے جسم میں انفیکشن ختم ہونے میں مدد ملے گی نگراں وزیر صحت نے انجکشن لگانے کی ہدایت دی ہے، بچی کو وینٹی لیٹر کی فی الوقت ضرورت نہیں لیکن وینٹی لیٹر تیار رکھا گیا ہے۔

  • تعلیم یافتہ، باوقار خاتون ہوں،ملازمہ پر تشدد نہیں کیا،جج کی اہلیہ کی ضمانت کی درخواست دائر

    تعلیم یافتہ، باوقار خاتون ہوں،ملازمہ پر تشدد نہیں کیا،جج کی اہلیہ کی ضمانت کی درخواست دائر

    ڈسٹر کٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں کم سن ملازمہ تشدد کے کیس میں ملزمہ کی ضمانت قبل از گرفتارکی درخواست کی سماعت ہوئی ،

    سول جج کی اہلیہ اورمرکزی ملزمہ خود عدالت میں پیش ہوئیں جبکہ متاثرہ کمسن ملازمہ کی جانب سے جہانگیر جدون عدالت میں پیش ہوئے ۔ جج ڈاکٹر عابدہ سجاد نے استفسار کیا کہ مرکزہ ملزمہ کا شناختی کارڈ کہاں ہے ؟ شناختی کارڈ لائیں تا کہ پہچا ن کر سکوں کہ یہی درخواست گزار ہیں ،سیشن عدالت نے ملزمہ کا اصل شناختی کارڈ عدالت میں جمع کروانے کا حکم جاری کر دیا

    رضوانہ تشدد کیس میں جج کی اہلیہ سومیہ عاصم کی ضمانت منظورکر لی گئی،سول جج عاصم حفیظ کی اہلیہ سومیہ عاصم کی اسلام آباد کہچری سے ایک لاکھ روپے مچلکوں کے عوض 7 اگست تک ایڈیشنل سیشن جج ڈاکٹر عابدہ سجاد نے عبوری ضمانت منظور کر لی

    ملزمہ ضمانت ملنے پر عدالت سے روانہ ہو گئی، ملزمہ سے صحافیوں نے سوالات کئے تا ہم سومیہ عاصم کی جانب سے کسی بھی سوال کا جواب نہ دیا گیا

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس ،14 سالہ کم سن بچی پر جج کی اہلیہ کے بدترین تشدد کا معاملہ ،جج کی اہلیہ نے ضمانت قبل از گرفتاری کے لئے اسلام آباد ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس سے رجوع کر لیا ،کیس کی سماعت کونسی عدالت میں ہوگی، ڈیوٹی جج کچھ ہی دیر میں فیصلہ کریں گی ،ملزمہ سومیا عاصم نے ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع کرلیا ملزمہ سومیا عاصم نے کہانی من گھڑت قرار دے دی،سومیا عاصم نے عدالت میں دائر درخواست میں کہا کہ رضوانہ اپنے والدین کی مرضی سے میرے گھر میں ملازمہ تھی ، ایف آئی آر میں بیان کی گئی کہانی درست نہیں ، رضوانہ پر کبھی بھی تشدد نہیں کیا، تفتیش میں اپنے موقف کو درست ثابت کروں گی،رضوانہ کی عمر سترہ سال سے زائد ہے، رضوانہ کیساتھ اپنے نو سے بارہ سال کے تین بچوں کی طرح ہمیشہ نرمی سے پیش آتی رہی ہوں ،مبینہ وقوع سے پہلے جب سے رضوانہ میرے پاس کام کررہی ہے کبھی کوئی شکایت نہیں تھی، حقائق کو توڑ مروڑ کر میرے خلاف استعمال کیا جارہا ہے،میں بھی منفی مہم کی متاثرہ ہوں جو میرے اچھی شہرت کے حامل شوہر سول جج کیخلاف چلائی جارہی ہے، اس ذہنی ٹراما کی وجہ سے مجھے شدید مشکلات کا سامنا ہے،تعلیم یافتہ اور باوقار خاتون ہوں بدنیتی کی بنیاد پر کیس میں پھنسایا جارہا ہے، پولیس کے سامنے شامل تفتیش ہونے کو تیار ہوں ،ضمانت قبل از گرفتاری منظور کی جائے

    سول جج کے گھر تشدد کا نشانہ بننے والی رضوانہ جنرل ہسپتال میں زیر علاج ہے،سربراہ میڈیکل بورڈ پروفیسر جودت سلیم کا کہنا ہے کہ رضوانہ کی صحت کل کے مقابلے میں بہتر ہو گئی ہے ، سانس لینے میں جو مشکلات آرہی تھیں اور آکسیجن لگائی گئی اس کی ضرورت اب کم ہو رہی ہے ،رضوانہ کو جن انفکیشن کی وجہ سے مشکلات تھیں اب ان کے رزلٹ میں بہتری آئی ہے ، بچی نے آج ٹھوس غذا کھانے کے لیے مانگی ہے ،رضوانہ نے آج نرم غذا بھی شروع کر دی ہے۔ رضوانہ کو جوسز اور پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ رضوانہ کے ہوش و حواس میں تھوڑی بہتری آئی ہے اور وہ بات چیت کر رہی ہے ،رضوانہ سرجیکل آئی سی یو میں رہے گی،رضوانہ کو سانس لینے میں تکلیف ہے، رضوانہ کو آکیسجن لگائی گئی ہے،آکسیجن کی مقدار کو کم کر دیا ہے،ٹوٹے ہوئے بازوؤں پر فل الحال پلاسٹر لگا دیا ہے،زخموں کی نوعیت جانچنے کے لیے فرانزک والوں سے ٹیسٹ کروا رہے ہیں،

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    پولیس نے بچی اور اسکے والد کا بیان ریکارڈ کر لیا

    میری اہلیہ سخت مزاج ہے لیکن اس نے مارپیٹ نہیں کی ہے

    وزیراعظم نے کہا ہے کہ بچی کوعلاج کی بہترین سہولیات کی فراہم کی جائیں

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،

  • قائمہ کمیٹی نے گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کا نوٹس لے لیا

    قائمہ کمیٹی نے گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کا نوٹس لے لیا

    رضوانہ کی صحت کل کے مقابلے میں بہتر ہو گئی ہے،سربراہ میڈیکل بورڈ

    سول جج کے گھر تشدد کا نشانہ بننے والی رضوانہ جنرل ہسپتال میں زیر علاج ہے،سربراہ میڈیکل بورڈ پروفیسر جودت سلیم کا کہنا ہے کہ رضوانہ کی صحت کل کے مقابلے میں بہتر ہو گئی ہے ، سانس لینے میں جو مشکلات آرہی تھیں اور آکسیجن لگائی گئی اس کی ضرورت اب کم ہو رہی ہے ،رضوانہ کو جن انفکیشن کی وجہ سے مشکلات تھیں اب ان کے رزلٹ میں بہتری آئی ہے ، بچی نے آج ٹھوس غذا کھانے کے لیے مانگی ہے ،رضوانہ نے آج نرم غذا بھی شروع کر دی ہے۔ رضوانہ کو جوسز اور پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ رضوانہ کے ہوش و حواس میں تھوڑی بہتری آئی ہے اور وہ بات چیت کر رہی ہے ،رضوانہ سرجیکل آئی سی یو میں رہے گی،رضوانہ کو سانس لینے میں تکلیف ہے، رضوانہ کو آکیسجن لگائی گئی ہے،آکسیجن کی مقدار کو کم کر دیا ہے،ٹوٹے ہوئے بازوؤں پر فل الحال پلاسٹر لگا دیا ہے،زخموں کی نوعیت جانچنے کے لیے فرانزک والوں سے ٹیسٹ کروا رہے ہیں،

    دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے سول جج کی اہلیہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بننے والی کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ پر تشدد کا نوٹس لے لیا۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس بدھ کو طلب کیا گیا ہےدوسری جانب لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج تشدد کا شکار گھریلو ملازمہ بچی کی حالت بدستور تشویشناک ہے میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد سول جج کی اہلیہ پر درج مقدمے میں اقدام قتل اور جسم کے بیشتر اعضا کی ہڈیوں کو توڑنے کی دفعات شامل کرلی گئیں۔

    واضح رہے کہ 24 جولائی کو تشدد کی شکار 14 سالہ بچی رضوانہ کا معاملہ سامنے آيا تھا، بچی کی ماں نے جج کی اہلیہ پر تشدد کا الزام لگایا تھا، جب بچی کو اسپتال پہنچایا گیا تو اس کے سر کے زخم میں کيڑے پڑ چکے تھے اور دونوں بازو ٹوٹے ہوئے تھے اور وہ خوف زدہ تھی تشدد کا شکار گھریلو ملازمہ بچی رضوانہ 7 روز سے لاہور کے جنرل اسپتال میں زیر علاج ہے جس کی حالت تشویش ناک ہے –

    برصغیر کی ایک بے مثال و باکمال اداکارہ اور شاعرہ مینا کماری

    پرنسپل پوسٹ گریجویٹ کالج پروفیسر الفریدظفر کا کہنا ہے کہ بار بار طبیعت بگڑنے پر آکسیجن لگانا پڑتی ہے،رضوانہ کے جگرکے انفیکشن میں معمولی کمی آئی ہے جب کہ گردوں کی انفیکشن ختم ہو چکی ہے، سائیکولوجسٹ بھی رضوانہ کے علاج میں شامل ہے اس کی روازانہ کونسلنگ کی جارہی ہے۔

    پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ بچی کے خون میں انفکیشن کی بیماری ہے جو سارے جسم میں پھیل چکی ہے، رضوانہ کے پلیٹ لیٹس 12ہزار سے بڑھ کر 24 ہزار ہوگئے ہیں اور جسم میں خون کی شرح 7 ہےرضوانہ کی والدہ نے اپنی بیٹی کو زہر دینے کا خدشہ ظاہر کیا ہے جس پر زہر کا ٹیسٹ بھی کروا لیا ہے، رپورٹس آنے پر ہی کچھ واضح ہوگا۔

    توشہ خانہ کیس،عمران خان کے نہ آنے پر سماعت میں وقفہ

  • سراج الحق کی لاہور میں زیرعلاج گھریلو تشدد کا شکار بچی کی عیادت

    سراج الحق کی لاہور میں زیرعلاج گھریلو تشدد کا شکار بچی کی عیادت

    لاہور: امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور پیپلز پارٹی کے وفد نے گھریلو تشدد کا شکار بچی رضوانہ کی جنرل اسپتال لاہور میں عیادت کی۔

    باغی ٹی وی: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے جنرل ہسپتال لاہور میں اسلام آباد کے سول جج کے گھر میں تشدد کا شکار ہونے والی بچی رضوانہ کی عیادت کے موقع پر والدین کے ہمراہ میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ رضوانہ پر تشدد کا واقعہ ایک جج کے گھر میں ہوا جو پور ی قوم کے لیےشرمناک ہے،یہ واقعہ ایسے گھر میں ہوا جس کا سربراہ لوگوں کو قانون کا درس دیتا تھا، اس جج کا کام لوگوں کو انصاف دلانا تھا لیکن اُس کے گھر کا ماحول ہی شرمناک تھا انہوں نے رضوانہ کے اہلخانہ کو انصاف دلانےکے لیے بھرپور تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔

    سیلفی بناتےہوئے3 دوست سیلاب میں بہہ گئے

    دوسری جانب پیپلز پارٹی کے وفد نے بھی قومی اسمبلی میں چیئرپرسن ویمن کاکس شاہدہ رحمانی کی قیادت میں جنرل اسپتال میں زیر علاج گھریلو ملازمہ رضوا نہ کی عیادت کی شاہدہ رحمانی کا کہنا تھا کہ رضوانہ پر بہیمانہ تشدد کا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھایا جائے گا اور متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے، حکومت بھی ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

    دوسری جانب جنرل اسپتال لاہور کے پرنسپل ڈاکٹر الفرید ظفر کا کہنا ہے کہ تشدد کا نشانہ بننے والی گھریلو ملازمہ رضوانہ کی حالت پہلے کی نسبت بہتر ہے تاہم اسے اب بھی آکسیجن کی ضرورت پڑ رہی ہے، اسے نرم غذا دینا شروع کر دی ہے رضوانہ 5روزسے زیر علاج ہے ،آکسیجن لیول بہتر ہونے پرآکسیجن اتار دی جاتی ہے ، طبعیت خراب ہوتو آکسیجن دوبارہ لگا دیتے ہیں 5 روز سے جنرل اسپتال میں زیر علاج رضوانہ کے پلیٹ لیٹس کافی کم ہیں جنہیں بہتر کرنے کی کوشش جاری ہے رضوانہ کے کینسر کے بلڈ سیمپل کی رپورٹ کلیئرہے تاہم بچی کو خون کی بھی شدید کمی ہے,ڈرپس لگنے کے بعد اب اس کا بلڈ پریشر لیول نارمل ہے۔

    راولپنڈی: نجی پلازہ میں آتشزدگی ،25 دکانیں جل کرخاکسترایک شخص جاں بحق

    واضح رہے تشدد کی شکار بچی کا معاملہ 24 جولائی کو سامنے آيا تھا، بچی کی ماں نے جج کی اہلیہ پر تشدد کا الزام لگایا تھا، جب بچی کو اسپتال پہنچایا گیا تو اس کے سر کے زخم میں کيڑے پڑ چکے تھے اور دونوں بازو ٹوٹے ہوئے تھے اور وہ خوف زدہ تھی۔

    بھارت میں11 سالہ لڑکی سے اجتماعی زیادتی

  • امیر جماعت اسلامی کی رضوانہ پر تشدد کی پر زور مزمت

    امیر جماعت اسلامی کی رضوانہ پر تشدد کی پر زور مزمت

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے جنرل اسپتال میں جج کی بیوی کے تشدد کا شکار کم سن ملازمہ رضوانہ کی عیادت کی۔سراج الحق نے رضوانہ کے اہلخانہ کو ساتھ دینے کی یقین دہانی کروائی اور کہا کہ رضوانہ کو انصاف دلانے کیلئے بھرپور تعاون کریں گے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ جج کے گھر میں کمسن ملازمہ رضوانہ پر تشدد پوری قوم کیلئے شرمندگی کا باعث ہے، یہ شرمناک واقعہ ایک جج کے گھر میں ہوا۔ یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ راولپنڈی میں پہلے بھی ایسا ہو چکا ہے۔
    سراج الحق نے کہا کہ یہ واقعہ ایسے گھر میں ہوا ہے جس کا سربراہ لوگوں کو قانون کا درس دیتا تھا، اس جج کا کام لوگوں کو انصاف دلانا تھا لیکن اس جج کے گھر کا ماحول ہی شرمناک تھا۔

  • گھریلو ملازمہ پر تشدد،ملزمہ کو گرفتاری سے قبل ہی ملی ضمانت

    گھریلو ملازمہ پر تشدد،ملزمہ کو گرفتاری سے قبل ہی ملی ضمانت

    لاہور ہائیکورٹ: گھریلو ملازمہ بچی پر تشدد کا معاملہ ،عدالت نے سول جج کی اہلیہ سومیہ عاصم کی حفاظتی ضمانت منظور کرلی

    جسٹس فاروق حیدر نے سومیہ عاصم کی حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت کی ،عدالت نے سومیہ عاصم کی یکم اگست تک حفاظتی ضمانت منظور کرلی اور گرفتار کرنے روک دیا ،سومیہ عاصم کیخلاف اسلام آباد کے پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج ہے

    دوسری جانب کمسن گھریلو ملازمہ رضوانہ خوف کے مرض کا شکار ہوگئی ہے، رضوانہ ہسپتال میں داخل ہے اور جب کوئی اسکے قریب آتا ہے تو وہ چیختی اور چلاتی ہے کہ مجھے نہ مارو، والدین قریب آتے ہیں تو وہ انکو دیکھ کر بھی مسکرا نہیں پاتی، کمسن بچی کے سر کے زخم میں کیڑے ہیں، سر کا انفکیشن آنکھوں میں اتر گیا ہے، گردے اور جگر بھی متاثر ہوئے ہیں،

    پرنسپل جنرل ہسپتال کا کہنا ہے کہ سپیشل میڈیکل بورڈ میں پلاسٹک سرجری کا ڈاکٹر بھی شامل کر لیا گیا ہے زخموں کے انفیکشن اور جلد ریکوری کے لئے معیاری ادویات دی جا رہی ہیں روزانہ کی بنیادپر ڈاکٹر ز متاثرہ بچی کا طبی معائنہ جاری رکھیں گے بچی کی جلد صحت یابی کیلئے علاج معالجہ کی بہترین سہولیات و خصوصی نگہداشت جاری رکھی جائے

    طالبہ کے ساتھ جنسی تعلق،حمل ہونے پر پرنسپل نے اسقاط حمل کروا دیا

    ویڈیو بنا کر ہراساں کرنے کے ملزم کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ

    ناکے پر کیوں نہیں رکے؟ پولیس اہلکار نے شہری پر گولیاں چلا دیں

    بارہ سالہ بچی کی نازیبا ویڈیو بنانے والا ملزم گرفتار

    واقعہ کا اسلام آباد پولیس نے مقدمہ درج کر لیا

     ابتدائی طور پر بچی کے زخم پرانے ہیں تاہم حتمی فیصلہ میڈیکل بورڈ کی رپورٹ پر ہوگا

    واضح رہے کہ تشدد کا شکار 14 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ کا تعلق سرگودھا سے ہے تشدد کا واقعہ علاقہ تھانہ ہمک اسلام آباد میں پیش آیا ، بچی کو مضروب حالت میں اس کی والدہ اسلام آباد سے واپس سرگودھا لیکر آئی،