Baaghi TV

Tag: رضوان رضی

  • تحریک انصاف دھوکہ دینے کے علاوہ کیا دے سکتی ہے؟ عبداللہ حمید گل

    تحریک انصاف دھوکہ دینے کے علاوہ کیا دے سکتی ہے؟ عبداللہ حمید گل

    جنرل حمید گل (ر) کے صاحبزادے اور چئیرمین تحریک جوانان پاکستان عبداللہ حمید گل نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی دھوکے کے علاوہ اور کیا دے سکتی ہے

    365 نیوز کے پروگرام کھرا سچ میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کے سوال کے جواب میں عبداللہ حمید گل کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کیا دے سکتی ہے حکومت کو، تحریک انصاف دھوکہ دینے کے علاوہ کیا دے سکتی ہے؟ قوم کو دھوکہ، کشمیریوں کو دھوکہ، 1 کروڑ نوکریوں کا دھوکہ، 50 لاکھ گھروں کا دھوکہ،پی ٹی آئی ایک دفعہ پھر دھوکہ دینے کیلئے تیار بیٹھی ہے، یہ ہمیشہ یوٹرن لیتے ہیں، یوٹرک تھوک کر چاٹنے کے مترادف ہے ،کیا قرآن میں یوٹرن ہے نفی، اسکا مطلب ہے کہ یوٹرن جھوٹے کی نشانی ، پاکستان کبھی بھی کمزور نہیں ہوا، پاکستان عالم اسلام میں اولین کردار ادا کر رہا ہے، ہمارا کردار اب بڑھ رہا ہے کیونکہ ہم اپنی منزل کی جانب بڑھ رہے ہیں، پاکستان ہمیشہ سے لیڈر تھا، عالم اسلام کے اندر، دنیا کے اندر پاکستان کا ممتاز مقام ہے، دنیا کے فیصلوں‌کو مرکز و محور پاکستان تھا اور رہے گا، کون تھا جو اس میں رخنہ ڈال رہا تھا اس پر بات کی جائے، جو بھنگڑے ڈال رہے تھے کہ پاکستان میں پابندیاں لگ گئیں، ان پابندیوں میں بھی پاکستان نے دفاعی کام کیا، میزائل بنائے،پاکستان پر اب براہ راست جنگ مسلط نہیں کی جا سکتی تھی، اسلئے اندرونی طور پر پاکستان کے اندر لوگوں کو بھڑکایا گیا، سیاسی جماعتوں کو سوشل میڈیا کا استعمال کیا گیا، لوگوں کے ذہنوں کو بدلا گیا،

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میری جب دوستی ہوتی تھی تو بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیراعظم ہاؤس بلایا،اور کہا کہ لقمان کیا میں یوٹرن لیتا ہوں،جس پر میں نے کہا کہ نہیں، عمران نے کہا ٹی وی پر کیوں نہیں کہتے،جس پر میں نے کہا کہ یو آرآن راؤنڈ اباؤٹ ،تم تو ایک ہی جگہ گول گھومے جا رہے ہو،

    کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

  • رضوان رضی کو ایف آئی اے نوٹس،لاہور ہائیکورٹ نے حکم دےد یا

    رضوان رضی کو ایف آئی اے نوٹس،لاہور ہائیکورٹ نے حکم دےد یا

    لاہور ہائیکورٹ میں سینئر صحافی و تجزیہ کار رضوان رضی کو ایف آئی اے کے نوٹسز بھجوانے کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اسجد جاوید گھرال نے رضوان رضی کی آئینی درخواست پر سماعت کی،سرکاری وکیل کی طرف سے رضوان رضی کی درخواست کی مخالفت کی گئی،دوران سماعت عدالت نے شہریوں کیخلاف ایف آئی اے کے رویے پر برہمی کا اظہار کیا،جسٹس اسجد جاوید گھرال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ میرے خلاف کوئی الزامات ہیں، تو ان الزامات کی لسٹ تو دیں، اداروں کو کارروائی سے کوئی نہیں روک سکتا لیکن قانون کے مطابق تو چلیں، شہریوں کو بلا کر بٹھائے رکھنا ایف آئی اے، اینٹی کرپشن سمیت دیگر اداروں کی عادت بن گئی ہے،ادارے شہریوں کو بلاکر اس لئے بٹھائے رکھتے ہیں کیونکہ انکوائریز آگے چلانے کا کوئی مواد نہیں ہوتا، ایف آئی اے پہلے عدالت میں جواب جمع کرائے، پھر اس معاملے کو دیکھتے ہیں، عدالت نے ایف آئی اے کو دو ہفتوں میں تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا

    دوران سماعت درخواست گزار رضوان رضی کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ نوٹس بھیجنے پر رضوان رضی ایف آئی اے کے روبرو پیش ہوئے، درخواستگزار نے ایف آئی اے سے الزامات کی فہرست مانگی جو آج تک نہیں دی گئی، الزامات کی فہرست دیے بغیر اب ایف آئی اے نے 29 اگست کو یکطرفہ کارروائی کا نوٹس دے دیاہے،ایف آئی اے شہریوں کو طلب کر کے سارا دن بٹھا کر تضحیک کرتا ہے،خدشہ ہے کہ ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوئے تو صحافی رضوان رضی کو گرفتار کر لیا جائیگا،عدالت نے دلائل سننے کے بعد رضوان رضی کو ایف آئی اے کی پیشی سے استثنی دے دیا

    رضوان رضی ایف آئی اے میں پیش،صحافیوں کا اظہار یکجہتی،کی گئی گل پاشی

    رضوان رضی کو ایف آئی اے نے طلب کر لیا،صحافیوں کا احتجاج

  • رضوان رضی ایف آئی اے میں پیش،صحافیوں کا اظہار یکجہتی،کی گئی گل پاشی

    رضوان رضی ایف آئی اے میں پیش،صحافیوں کا اظہار یکجہتی،کی گئی گل پاشی

    سینئر صحافی و اینکر رضوان رضی ایف آئی اے میں پیش ہو گئے

    رضوان رضی کو ایف آئی اے نے طلب کیا تھا، اس موقع پر صحافیوں کی بڑی تعداد رضوان رضی کے ساتھ یکجہتی کے لئے ایف آئی اے آفس کےباہر موجود تھی، صحافیوں کی جانب سے رضوان رضی پر گل پاشی کی گئی،ایف آئی اے حکا م کے جانب سے رضوان رضی سے جواب طلب کیا گیا جس پر رضوان رضی نے تحریری سوال نامہ مانگا جو نہیں دیا گیا، ایف آئی اے حکام کی جانب سے کہا گیا کہ تحریری سوال نامہ آپ کو دے دیا جائے گا

    صحافی محسن بلال نے ایکس پر لکھا کہ رضوان رضی المعروف رضی دادا اور سنئیر صحافی سعید چوہدری ایڈووکیٹ میاں داؤد کے ہمراہ ایف آئی اے کی پیشی بھگت آئے۔ صحافی الفت مغل کی جانب سے گلپاشی کی گئی،دونوں پر مبینہ الزام یہ ہے کہ جسٹس بابر ستار کے حوالے سے مہم جوئی کی۔ محاذ تو گرم ہوگا

    رضوان رضی کو ایف آئی اے نے طلب کر لیا،صحافیوں کا احتجاج

  • رضوان رضی کو ایف آئی اے نے طلب کر لیا،صحافیوں کا احتجاج

    رضوان رضی کو ایف آئی اے نے طلب کر لیا،صحافیوں کا احتجاج

    صحافی و اینکر رضوان رضی کو ایف آئی اے نے نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کر لیا

    رضوان رضی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایف آئی اے کی جانب سے طلبی کو بھجوایاگیا نوٹس شیئر کیا،رضوان رضی کو عدلیہ کے خلاف توہین آمیز پوسٹ کرنے پر طلب کیا گیا ہے،رضوان رضی کو 26 جولائی کو ایف آئی اے لاہور آفس میں طلب کیا گیا ہے،رضوان رضی نے ایکس پر کہا کہ احباب کے توجہ دلانے پر ذاتی معلومات چھپا کرکے دوبارہ اپ لوڈ کیا جا رہا ہے۔ تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔ یکجہتی کے لئے پوسٹ کرنے والے احباب بھی اس پر توجہ رکھیں ۔

    ممتاز صحافی و قانوندان میاں داؤد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ سینئر صحافی رضی دادا کو ایف آئی اے کی طرف سے عدلیہ کی توہین پر جاری کردہ نوٹس قابل مذمت ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود حکومتی ایجنسیوں کو توہین عدلیہ پر اتنی تکلیف کیوں ہوتی ہے کہ ہر مرتبہ صحافیوں بالخصوص رضی دادا جیسے صحافیوں کو ہی ٹارگٹ کیا جاتا ہے؟اگر عدلیہ کو عدالت کے کسی بھی عدالتی فیصلے یا انتظامی حکم پر کسی شہری کی تنقید، سخت تنقید، سخت ترین تنقید توہین توہین لگتی ہے تو اخلاقی ہمت کر کے توہین عدالت کا براہ راست نوٹس جاری کریں تاکہ شہریوں اور بالخصوص صحافیوں کو بھی پتہ چلا کہ عدلیہ مضبوط ادارہ ہے یا ایک کمزور ترین ادارہ ہے جو ہر مرتبہ ایف آئی اے، پولیس کے پیچھے چھپ کر وار کرتا ہے۔

    اجمل جامی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ قبلہ رضوان رضی کو ایک بار پھر ایف آئی اے نے یاد فرمایا ھے۔ افسوس ھے کہ الزام اب یہ لگا کہ آپ اعلی عدلیہ کے خلاف قابل اعتراض اور دھمکی آمیز مہم کا حصہ ہیں۔رضی صاحب کی سیاسی فکر یا تجزیاتی اپروچ سے اختلاف ہو سکتا ھے مگر یہ الزام اور پھر نوٹس تک کی کہانی ناقابل فہم ھے۔ اگر ایسا کچھ واقعی جناب نے ارشاد فرمایا تو وہ نظر سے نہیں گزرا۔ لیکن آس پاس دستیاب دیگر کھلم کھلے لب و لہجے انہیں یاد کیوں نہ آئے۔۔؟

    صحافی نوید چودھری نے ایکس پر لکھا کہ جناب رضوان رضی کو نوٹس جاری ہونے کے بعد زیادہ شدت سے لازم ہوچکا ہے کہ پارلیمنٹ ججوں کے تقرر کا از سر نو جائزہ لے ، پاشا سے فیض دور تک بھرتی کردہ چھانٹیوں کے مستحق ہیں ۔ ڈگریاں اور پراپرٹیاں چیک کراکے مقدمات چلائے جائیں ، توہین عدالت قانون فی الفور ختم کیا جائے

    صحافی محمد عاصم نصیر نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ جو پسند ہو اسکو ہر طرح کی آزادیُ دے دو۔ وہ جن کے مرضی کپڑے اتار دیتے ہیں پگڑیاں اچھالتے ہیں ملک کو توڑنے میں مصروف عمل ہیں مگر انکو آزادی ہےاور جو دہائیوں سے شعبہ صحافت سے منسلک ہیں انکو نوٹسز پر نوٹس جاری کئے جاتے ہیں ہم رضوان رضی اور سعید چوہدری کو دبانےکے نوٹسز کی مذمت کرتےہیں

  • رضوان رضی کی الزام تراشیوں اورپراپیگنڈے پرایف آئی اے نے طلبی کرلی

    رضوان رضی کی الزام تراشیوں اورپراپیگنڈے پرایف آئی اے نے طلبی کرلی

    لاہور:رضوان رضی کی الزام تراشیوں اورپراپیگنڈے پراکسی پرایف آئی اے نے طلبی کرلی،اطلاعات کے مطابق لاہور کے ایک معروف مگرمتنازعہ صحافی جنہیں رضوان رضی کے نام سے لاہوری جانتے ہیں ایک بار پھرایف آئی اے کے ریڈار پرآگئے ہیں‌

    اطلاعات ہیں کہ ایف آئی اے نے مخالفین کے خلاف من گھڑت پراپیگنڈے اور الزام تراشیوں پر جواب طلب کرلیا ہے اور کہا ہے

     

    کہا جارہا ہےکہ رضوان رضی صاحب کو ایک بار پھر FIAنے طلب کرلیا ہے اور درخواست گزار نے ثبوت بھی پیش کردیئے ہیں ، دوسری طرف رضوان رضی نے اپنا دفاع کرنے کے لیے ایف آئی اے اور درخواست گزار کے خلاف سوشل میڈیا وار شروع کردی ہے اور مختلف قسم کے الزامات بھی عائد کرنا شروع کردیئے ہیں ،یہ بھی چیزیں سامنے آرہی ہیں کہ ن لیگ کا سوشل میڈیا اس وقت رضوان رضی کی حمایت میں بہت زیادہ مہم چلا رہا ہے

    یاد رہے کہ اس سے پہلے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے صحافی رضوان الرحمٰن رضی عرف رضی دادا کو ٹویٹر میں عدلیہ، حکومتی اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیز کے خلاف ‘ہتک آمیز اور نفرت انگیز’ مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا

    ایف آئی اے کی جانب سے 8 فروری کو درج کی گئی ایک ایف آئی آر کے مطابق رضوان رضی کو انکوائری کے لیے ‘طلب’ کیا گیا تھا اور بیان ریکارڈ کیا گیا۔