Baaghi TV

Tag: رضوان عباسی

  • ایسا لگتا ہے  عدالت مخصوص ذہن کیساتھ کارروائی چلا رہی ہے،رضوان عباسی کا جج سے مکالمہ

    ایسا لگتا ہے عدالت مخصوص ذہن کیساتھ کارروائی چلا رہی ہے،رضوان عباسی کا جج سے مکالمہ

    اسلام آباد ہائی کورٹ،شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار خان کے خلافِ قانون گرفتاری پر ڈپٹی کمشنر اور پولیس افسران کے خلاف توہینِ عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس بابر ستار نے کیس کی سماعت کی،ڈپٹی کمشنر راولپنڈی اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل عدالتی حکم پر عدالت میں پیش ہوئے، جسٹس بابر ستار نےڈپٹی کمشنر راولپنڈی سے استفسار کیا کہ میرے حکم پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے کہا کہ ریکارڈ کیپر چھٹی پر تھا اس لئے تاخیر ہو گئی، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ تو آپ خود ریکارڈ دے آتے، ہائیکورٹ نے حکم دیا تھا، یہ کیسے ہو سکتا ہے ہائیکورٹ آرڈر کرے اور اس پر عملدرآمد نہ ہو، جاسلام آباد والے بھگت رہے ہیں کیا آپ بھی بھگتنا چاہتے ہیں؟یقینی بنائیں کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد ہو اسی لیے ہائیکورٹس یہاں بیٹھی ہیں،

    ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی آپریشنز کے وکلاء نے جسٹس بابر ستار پر اعتراض اٹھا دیا ،وکیل ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پراسیکیوٹر نے عدالت میں جو ریکارڈ پیش کیا اس کی کاپی ہمارے پاس نہیں،وکیل ایس ایس پی نے کہا کہ میری جانب سے بھی اعتراض ہے عدالت کے سامنے رکھنا ہے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ اس عدالت کی کارروائی میں یہ تکنیکی چیزیں نہیں ہونگی، وکیل شاہ خاور نے کہا کہ ہماری استدعا ہے کہ کیس دوسری عدالت کو منتقل کر دیا جائے،پراسکیوٹر کی جانب سے جو دستاویزات پیش کی گئی وہ ہمیں فراہم نہیں کی گئیں ،یہ دستاویزات ہمیں پہلے سے فراہم کی جانی چاہئیے تھیں،تاکہ اعتراضات اٹھا سکتے، وکیل ایس پی سٹی نے کہا کہ دنیا میں کہیں نہیں ہوتا کہ پراسکیوٹر خود گواہ کا ریکارڈ پیش کرے،جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ کریمنل ٹرائل نہیں ہے ،اس میں کوئی پرائیویٹ ڈاکیومنٹ نہیں ہے ،سارا سرکاری ریکارڈ ہے،کوئی تکنیکی معاملات میں نہیں جائیں گے ،ہم آپ کے اعتراضات سنیں گے،وکیل شاہ خاور نے کہا کہ ہم اس حوالے سے باقاعدہ درخواست نہیں دینا چاہتے لیکن یہ ہماری استدعا ہے ،

    ایس ایس پی جمیل ظفر کے وکیل ایڈووکیٹ شاہ خاور نے کیس دوسری عدالت کو ٹرانسفر کرنے کی استدعا کردی، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ ایک سادہ سا کیس ہے ،رول آف لا کا معاملہ ہے،اس کیس کو کسی اور جج کو ٹرانسفر نہیں کررہے ، آپ دلائل دیں، اگر ان کے ایم پی او آرڈرز ٹھیک تھے تو فیصلہ آجائے گا، انہوں نے کئی دن تک اس ملک کے شہریوں کو جیل میں رکھا ہے،عدالتی آرڈرز موجود ہیں ان کا کوئی ایم پی او آرڈر برقرار نہیں رہا ،ایڈوکیٹ شاہ خاور نے کہا کہ مشکل حالات میں ڈیوٹی کررہے ہوتے ہیں ،ان پر بھی کئی قسم کے دباؤ ہوتے ہیں جسٹس بابر ستار نے کہا کہ ہم اب یہ کہیں کہ پولیس آفیسر اور دیگر کسی گریٹ گیم میں مہرے بن جائیں ؟ رضوان عباسی ایڈوکیٹ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ عدالت ایک مخصوص ذہن کیساتھ کارروائی چلا رہی ہے، جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ نے اعتراضات اٹھائے تو ہم نے نوٹ کرادیئے ، شہادتیں ریکارڈ کرلیتے ہیں ،پھر تمام کاپیاں آپ کو بھی فراہم کردیں گے،شہادتیں مکمل ہونے کے بعد سماعت انتخابات کے بعد کرلیں گے ،عدالت نے مکمل ریکارڈ کی فراہمی کے لیے کیس کی سماعت کل تک کیلئے ملتوی کردی

    پی آئی اے کی نجکاری کے عمل کو جلد از جلد تکمیل تک پہنچانے کی ہدایت

    پائلٹس کی ابتدائی 8 سے 10 ماہ کی تربیت پر 15000 سے 20000 ڈالر کا خرچ

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کو مجموعی طور پر 383 بلین کا خسارہ ہے 

    سپریم کورٹ نے پی آئی اے کو نئی 205 پروفیشنل بھرتیوں کی اجازت دیدی

    بھارتی طیارے کی کراچی ایئر پورٹ پر ہنگامی لینڈ نگ ہوئی ہے

    لاہور ائیرپورٹ پر دھند کے باعث فضائی آپریشن متاثر ہوا ہے

    پرواز میں تاخیر، مسافر نے پائلٹ کو تھپڑ مار دیا

  • قانونی جنگ  جیتنے پر مبشر لقمان کا ایڈوکیٹ رضوان عباسی  کے نام  خط

    قانونی جنگ جیتنے پر مبشر لقمان کا ایڈوکیٹ رضوان عباسی کے نام خط

    سینئر صحافی و اینکر پرسن ، پروگرام کھرا سچ کے میزبان مبشر لقمان نے نامور وکیل رضوان عباسی ایڈوکیٹ کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے اپنا کیس جیتنے پر عدالت میں نمائندگی کرنے پر رضوان عباسی ایڈوکیٹ کا شکریہ ادا کیا ہے

    سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے اپنے خط میں لکھا کہ میں اپنی حالیہ قانونی جنگ کے دوران اپنے وکیل رضوان عباسی کی شاندار قانونی نمائندگی کے لئے ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ اور ان کی لگن، مہارت اور میرے کیس کے لئے غیر متزلزل وابستگی نے ایک سازگار نتیجہ حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کو جتنا سراہا جائے کم ہے.

    سینئر اینکر نے اپنے خط میں رضوان عباسی بارے مزید کہا کہ "ہم نے ایک ساتھ جو سفر شروع کیا وہ ناقابل تردید طور پر چیلنجنگ اور جذباتی طور پر تکلیف دہ تھا اور جب میں آپ سے پہلی بار ملا تھا اسی وقت آپ کی پیشہ ورانہ مہارت، ہمدردی اور دانشمندی سے متاثر ہوگیا تھا۔ اور اس پیچیدہ قانونی معاملات کو واضح اور قابل فہم انداز میں بیان کرنے کی آپ کی صلاحیت کو بھی سراہتا ہوں‌ جس کی بدولت میرے کیس میں اچھے نتائج آئے ہیں.”

    مبشر لقمان نے یہ بھی لکھا کہ "میرے کیس کی تیاری میں وکیل رضوان عباسی کی انتھک کوششیں قابل تعریف ہیں جبکہ اسٹریٹجک سوچ اور قانونی بصیرت توواقعی قابل ذکر ہے جس نے مثبت فیصلے کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔ کمرہ عدالت کے اندر اور باہر عباسی صاحب کے حوصلہ افزا دلائل نے مجھ پر دیرپا اثر چھوڑا اور مجھے یقین تھا اور ہے کہ اس مہارت نے ہماری کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔” انہوں نے مزید برآں کہاکہ؛ میں آپ کی غیر معمولی صلاحیتوں کی تعریف کرنا چاہتا ہوں. آپ مستقل طور پر جوابدہ اور قابل رسائی تھے، فوری طور پر میرے خدشات کو دور کرتے تھے اور مجھے میرے کیس کی پیشرفت کے بارے میں لمحہ بہ لمحہ باخبر بھی رکھتے تھے جبکہ خدشات کے لمحات کے دوران اعتماد پیدا کرنے اور جذباتی مدد فراہم کرنے کی صلاحیت میرے اور میرے خاندان کے لئے انمول تھی۔

    سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ میں آپ کی پوری قانونی ٹیم اور معاون عملے کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا جو مستقل طور پر شائستہ ، موثر اور پیشہ ور رہے اور آپ کی فرم کے ساتھ کام کرنے کے مجموعی مثبت تجربے میں حصہ ڈالنے کیساتھ مددگار رہے۔ اس مقدمے کو جیتنے سے میری زندگی میں راحت کا احساس پیدا ہوا ہے جسے میں اپنے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا ہوں۔ جبکہ یہ آپ کی لگن اور مہارت کے بغیر ممکن نہیں تھا تاہم میری زندگی پر آپ کی صلاحیتوں کے اثرات اس قانونی کامیابی سے بھی کہیں زیادہ ہیں کیونکہ آپ نے انصاف کے نظام پر میرا اعتماد بحال کیا ہے.

    انہوں نے وکیل بارے خط میں واضح کیا کہ میرے قانونی مشیر کی حیثیت سے آپ نے ناصرف ایک سازگار نتیجہ حاصل کیا بلکہ قانونی پیشے میں میری امید اور اعتماد کو بھی بحال کیا اور میں آپ کی اس غیر متزلزل حمایت اور وکالت کے لئے ہمیشہ شکر گزار رہوں گا۔جبکہ انصاف کے تئیں آپ کی لگن، اپنے مؤکلوں کے ساتھ آپ کی وابستگی، اور آپ کی مثالی پیشہ ورانہ مہارت ہمیشہ تعریف کی مستحق ہے۔
    نو برس کی جدوجہد; مبشر لقمان کے حق میں عدالت کا بڑا فیصلہ
    ڈنڈا تیار، کورٹ مارشل کی گونج،پی آئی اے بند، مبشر لقمان نے کہانی کھول دی


    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں سینئر اینکر پرسن اور معروف ٹی وی پروگرام کھرا سچ کے میزبان مبشر لقمان کو مختلف عدالتوں میں 9 سال کی سخت جدوجہد کے بعد بالآخر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کے خلاف سیشن عدالت کے سزا کے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا تھا اور اس حوالے سے کورٹ نے حتمی فیصلہ بھی جاری کردیا تھا۔