Baaghi TV

Tag: رفح

  • میکسیکو سٹی میں  اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے رفح آپریشن کیخلاف احتجاج،  بوتل بموں سے حملہ

    میکسیکو سٹی میں اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے رفح آپریشن کیخلاف احتجاج، بوتل بموں سے حملہ

    میکسیکو ،غزہ: رفح میں اسرائیلی فوج کے پے درپے حملوں کے بعد کوئی علاقہ بھی محفوظ نہ رہا،اسرائیلی فوج نے رفح کے گنجان آباد علاقوں میں حملے تیز کردیے ہیں اسی دوران پیش قدمی کرتے ٹینک رہائشی عمارتوں پر گولہ باری کرتے جارہے ہیں،جبکہ میکسیکو میں مظاہرین کی بڑی تعداد نے غزہ میں جنگ بندی نہ کرنے پر اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے شدید مظاہرہ کیا

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میکسیکو کے دارالحکومت میکسیکو سٹی میں سینکڑوں کی تعداد میں مظاہرین نے اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے URGENT ACTION FOR GAZAکے نام سے ہونے والے مظاہرے میں شرکت کی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اس موقع پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا اور پتھراؤ بھی کیا گیا جبکہ مظاہرین کی جانب سے سفارتخانے کے باہر لگے حفاظتی بیرئیر ہٹانے کی کوشش کی گئی اور اسرائیلی سفارتی حدود میں بوتل بم پھینکے گئے جس سے آگ بھڑک اٹھی تاہم اسرائیلی سفارتخانے کی عمارت حملے میں مکمل طور پر محفوظ رہی۔

    شمالی کوریا نے کچرے سے بھرے تھیلے غباروں سے باندھ کر جنوبی کوریا میں …

    rafah
    اسرائیلی میڈیا کے مطابق مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں میں متعدد پولیس اہلکار اور مظاہرین زخمی بھی ہوئے جبکہ بس اسٹیشنوں، پولیس کی وین اور کاروبار کو بھی نقصان پہنچا،مظاہرین کی جانب سے اسرائیل کو نازیوں سے بھی تشبیہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر رفح میں جنگ بندی کی جائے اور فلسطینیوں کا قتل عام روکا جائے۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی فورسز نے اتوار کے روز رفح میں اقوام متحدہ کی جانب سے سیف زون قرار دیے گئے مہاجرین کے کیمپ پر شدید بمباری کی تھی جس کے نتیجے میں 45 فلسطینی جل کر شہید اور درجنوں جھلس کر زخمی ہو گئے تھے-

    اسرائیلی کابینہ کے رکن نے نیتن یاہو حکومت کو بری طرح ناکام قرار دیا

    رفح میں اسرائیلی فوج کے پے درپے حملوں کے بعد کوئی علاقہ بھی محفوظ نہ رہا۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے رفح کے گنجان آباد علاقوں میں حملے تیز کردیے ہیں اسی دوران پیش قدمی کرتے ٹینک رہائشی عمارتوں پر گولہ باری کرتے جارہے ہیں،اسرائیلی فوجیوں نے رفح کے گنجان آباد علاقوں میں ایمبولینس پر بم مارکر ریسکیو کارروائیوں میں شریک2 اہلکاروں کو ہلاک کردیا جب کہ اسرائیل کے حملوں میں مزید 37 فلسطینی شہید ہوئے۔

    اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والے بیشتر افراد خیموں میں مقیم تھے۔

    امدادی گروپ سیو دی چلڈرن کا کہنا ہےکہ عالمی عدالت کے حکم کے بعد تقریباً ایک ہفتے میں اسرائیل نے رفح کے محفوظ قرار دیے گئے علاقوں میں حملے کیے جس میں 66 فلسطینی جان سے گئے جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں امدادی گروپ نے رفح اور غزہ کی پٹی میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہریوں کے قتل عام پر فوری کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

    شمالی وزیرستان میں سکول جلانے میں استاد کے ملوث ہونےکا انکشاف

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہےکہ اس نے مصر کے ساتھ غزہ بارڈر کی پوری پٹی پر کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔

    دوسری جانب رفح میں اسرائیلی فوج کو مزاحمت کا بھی سامنا ہے جس دوران 3 اسرائیلی فوجیوں کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی ہے جس کے پیش نظر اسرائیلی وزیراعظم کے مشیر نے غزہ جنگ پورا سال جاری رہنے کا کہا ہے۔

    ادھر اسرائیلی پارلیمنٹ نے فلسطینیوں کیلئے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی انروا کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی تجویز کی ابتدائی منظوری
    دے دی ہے اور 30 دن میں مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے سے نکل جانے کا حکم جاری کیا ہے-

    واضح رہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی بربریت میں اب تک 36 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 80 ہزار سے زخمی ہو چکے ہیں۔

    گوجرانوالہ : 5 جون سے پنجاب بھر میں پلاسٹک بیگز پر پابندی عائد کر دی …

  • رفح میں اسرائیلی ٹینکوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کے کیمپوں کو روند ڈالا ،21 فلسطینی شہید

    رفح میں اسرائیلی ٹینکوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کے کیمپوں کو روند ڈالا ،21 فلسطینی شہید

    غزہ: رفح میں مہاجر کیمپ پر اسرائیل کے ایک اور حملے میں 21 فلسطینی شہید ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا کے مطابق رفح کے علاقے میں اسرائیلی ٹینکوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کے کیمپوں کو روند ڈالا جس کے نتیجے میں 13 خواتین سمیت 21 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے، اسرائیلی جارحیت کے باعث بے گھر ہو کر کیمپوں پر رہنے والوں پر اسرائیل کا یہ دوسرا حملہ ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے رفح کے علاقےالمساوی کو محفوظ قرار دیا تھا اور فلسطینیوں کو وہاں منتقل ہونے کو کہا تھا۔ رفح میں اسپتال نہ ہونے کے باعث میتوں اور زخمیوں کو فیلڈ اسپتال منتقل کیا گیا،دو روز قبل بھی اسرائیلی فوج نے رفح میں پناہ گزین کیمپ پر بمباری کی تھی جس میں 75 سے زائد فلسطینی زندہ جل کر شہید اور درجنوں جھلس کر زخمی ہوگئے تھے-

    ڈنمارک کے طلبا کا غزہ میں اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج رنگ لے آیا

    دوسری جانب فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے قائم اقوام متحدہ کے ادارے ‘اونروا’ نے بتایا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں میں رفح سے دس لاکھ فلسطینی اسرائیلی فوج کی بمباری کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے جائزوں کے مطابق غزہ جنگ کے دوران 15 لاکھ فلسطینیوں نے غزہ کے انتہائی جنوب میں واقع شہر رفح میں پناہ لی تھی، مئی کے شروع میں اسرائیلی فوج نے رفح پر حملہ کیا جس کا مقصد حماس کے جنگجووں کا خاتمہ بتایا گیا تھا، اسرائیلی فوج نے فلسطینی پناہ گزینوں کو کہا کہ وہ رفح شہر خالی کر دیں، رفح سے نکلنے والے فلسطینی پناہ گزین نہیں جانتے تھے کہ ان کی اگلی منزل کیا ہوگی۔

    بلوچستان:واشک میں مسافر کوچ کھائی میں جا گری،خواتین اور بچوں سمیت 24 افراد ہلاک

    ‘اونروا’ حکام کے مطابق ‘پناہ گزین نہیں جانتے کہ رفح سے نکل کر انہیں کہاں جانا ہے، ان کے پاس خوراک ہے نہ پانی، ان کی حالت انتہائی نازک ہے۔ فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد و حفاظت ناممکن ہے

  • عالمی ردعمل کے باوجود   رفح میں اسرائیلی حملے جاری،مزید 45 فلسطینی شہید

    عالمی ردعمل کے باوجود رفح میں اسرائیلی حملے جاری،مزید 45 فلسطینی شہید

    غزہ: رفح میں اسرائیلی حملے جاری ہیں جن میں مزید 45 فلسطینی شہید ہوئے ہیں-

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 230 سے زائد فلسطینیوں کے قتل عام اور عالمی ردعمل کے باوجود اسرائیل کے تازہ حملے جاری ہیں، اسرائیلی فوج نے رفح شہر کے علاقے تل السلطان، سعودی، تل زروب اور الحشاشین کو نشانہ بناتے ہوئے گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس میں متعدد فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے تازہ حملوں کا سلسلہ رات گئے سے جاری ہے جہاں اسرائیلی فوج نے رفح میں محفوظ قرار دیے گئے علاقے میں بے گھر فلسطینیوں کے خیموں پر گولے برسائے جس میں 45 فلسطینی شہید ہوگئے جن میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی شامل ہے غزہ میں لڑائی کے باعث 20 دنوں میں 10 لاکھ سے زیادہ فلسطینی بے گھر ہوگئے۔

    آج سے ملک کے مختلف علاقوں میں بارشیں شروع

    دوسری جانب غیر مستقل رکن الجزائر کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب کر لیا گیا ہے، بند کمرا اجلاس میں رفح میں فلسطینیوں کے قتل عام پر بحث ہوگی۔

    دہلی سے وارنسی جانے والی ’انڈیگو‘ کی فلائٹ میں ’بم کی افواہ‘

  • اسرائیلی فوج کا رفح میں رہائشی عمارت پر حملہ ،230 سے زائد فلسطینی شہید ،دنیا بھر میں مظاہرے

    اسرائیلی فوج کا رفح میں رہائشی عمارت پر حملہ ،230 سے زائد فلسطینی شہید ،دنیا بھر میں مظاہرے

    غزہ: فلسطینی پناہ گزینوں کے خیموں پر بمباری کے بعد اسرائیلی فوج نے رفح میں رہائشی عمارت پر حملہ کردیا جس کے بعد گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 230 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے جبکہ ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

    باغی ٹی وی :رفح کا کویتی اسپتال بھی اسرائیلی حملوں کی وجہ سے بند کردیا گیا، اسپتال ڈائریکٹر نے کہا کہ اسرائیلی حملوں میں دو اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد اسپتال کو بند کیا جا رہا ہے،اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے رفح میں فلسطینی پناہ گزینوں پر بمباری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اب کوئی جگہ محفوظ نہیں رہی ہے۔

    رفح حملے کے بعد بیلجیئم کے نائب وزیراعظم نے اسرائیل پر پابندیاں لگانے کا مطالبہ کردیا ہے جبکہ کینیڈین وزیر خارجہ نے بھی رفح میں اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رفح میں اسرائیلی فضائی حملہ انتہائی خوفناک ہے الجزائر نے رفح قتل عام پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کردیا ہےجکہ جرمنی نے کہا کہ رفح میں فضائی حملے میں بچوں سمیت جلی ہوئی لاشوں کی تصاویر ناقابل برداشت ہیں، شہری آبادی کو بہتر طور پر تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔

    شمالی کوریا جاسوس سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے کا مشن ناکام

    پیرس، نیویارک، بارسلونا، تیونس اور مانچسٹر سمیت دنیا کے مختلف شہروں میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے مظاہرے کیے گئے، مظاہرین نے عالمی برادری سے اسرائیل پر سخت پابندیوں کا بھی مطالبہ کردیا، پیرس میں پولیس اور فلسطین کے حامی مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں مظاہرین نے فرانسیسی حکومت سے اسرائیل کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کردیا۔

    سعودی عرب نے رواں سال حج کیلئے خطیب کے نام کا اعلان کردیا

    بارسلونا میں یورپی کمیشن کے صدر دفتر اور میڈرڈ میں وزارت خارجہ کے باہر سینکڑوں مظاہرین نے اسرائیل کے خلاف سخت پابندیوں کا مطالبہ کیا،تیونس میں ہزاروں افراد نے فلسطینی پرچم لہرا کر فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے اسرائیلی حملے رکوانے پر زور دیان،نیویارک شہر میں سینکڑوں فلسطینی حامی مظاہرین نے بارش کے باوجود مارچ کرتے ہوئے رفح میں اسرائیلی حملے پر غم و غصے کا اظہار کیا،جبکہ مانچسٹر یونیورسٹی کے تاریحی کیمپس پر اسرائیل مخالف مظاہرین نے فلسطینی پرچم لہرا دیا۔

    شانگلہ:جیپ کھائی میں گرنے سے ایک ہی خاندان کے 8 افراد جاں بحق

  • رفح پر حملہ :اسرائیل کو جوابدہ بنانے کیلئے ہر  ممکن اقدامات کریں گے،ترک صدر

    رفح پر حملہ :اسرائیل کو جوابدہ بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے،ترک صدر

    استنبول: ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہےکہ اسرائیلی وزیر اعظم اور ان کا قاتلانہ ٹولہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کیلئے قتل عام کررہا ہے کیونکہ وہ مزاحمتی قوتوں کے خلاف جنگ ہار چکے ہیں-

    باغی ٹی وی : ترک صدر نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے باوجود رفح پر حملے نے اسرائیل کا گھناؤنا چہرہ واضح کردیا ہے، اسرائیلی وزیر اعظم اور ان کا قاتلانہ ٹولہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کیلئے قتل عام کررہا ہے کیونکہ وہ مزاحمتی قوتوں کے خلاف جنگ ہار چکے ہیں-

    طیب اردوان کا کہنا تھا کہ ہم عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے باوجود رفح پر حملہ کرنے پر اسرائیل کو جوابدہ بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات کریں گے، نیتن یاہو کو بھی ہٹلر اور ان دیگر حکمرانوں کی طرح ملامت کرکے یاد کیا جائےگا جن کی وہ پیروی کر رہے ہیں.

    دوسری جانب سعودی وزیرخارجہ فیصل بن فرحان نے اسرائیل کے لیے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا ضروری قرار دے دیا،بیلجیم کے دارالحکومت برسلز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے کہا اسرائیل کا فلسطینی ریاست کے وجود کو تسلیم کیا جانا ضروری ہے اور یہ اس کے مفاد میں بھی ہے۔

    انہوں نے کہا اسرائیل تسلیم کرےکہ وہ فلسطینی ریاست کے وجود کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا مگر یہ حقیقت ہے کہ موجودہ اسرائیلی حکومت اس بات کو نہیں سمجھ رہی اور یہ تشویش کی بات ہے مغویوں کی رہائی ہونی چاہیے، دو ریاستی حل فلسطین اور اسرائیل دونوں کے مفاد میں ہے، فریقین کو چاہیے کہ فوری مذاکرات کریں، غزہ کے لوگ زیادہ انتطار نہیں کرسکتے۔

    سعودی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اسرائیل یہ فیصلہ نہیں کرے گا کہ فلسطینیوں کو حق خود ارادیت ملے گا یا نہیں بلکہ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور عالمی قوانین سے جڑا ہے، یہ بہت ضروری ہے کہ اسرائیل تسلیم کرے کے فلسطینی ریاست کے وجود کے بغیر اسکا وجود بھی نہیں ہوسکتا۔

    واضح رہے کہ رفح میں اسرائیلی فوج نے اقوام متحدہ کی جانب سے محفوظ قرار دیے گئے کیمپ پر بمباری کی جس کے نتیجے میں 75 سے زائد فلسطینی زندہ جل کر شہید اور درجنوں جھلس کر زخمی ہو گئے۔

    اسرائیلی بمباری سے رفح کے پناہ گزین کیمپ میں آگ لگ گئی جس میں بڑی تعداد میں شہادتیں آگ میں جھلسنے کی وجہ سے ہوئیں، شہدا میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے، پناہ گزین کیمپ میں شمالی غزہ سے بے دخل فلسطینیوں کی بڑی تعداد میں مقیم ہے، آگ میں جھلسنےکے باعث کئی افراد کی حالت نازک ہے، شہداء کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے غزہ میں یو این کیمپوں پر دسواں حملہ کیا ہے، 24 گھنٹوں میں 230 سے زائد فلسطینیوں کا قتل عام کیا گیا، اس سے قبل اسرائیل نے جبالیہ، نصیرت اور غزہ سٹی میں کیمپوں پر حملوں میں 160 فلسطینیوں کا قتل کیا رفح میں کیمپ پر 900 کلو سے زائد وزنی بموں کا استعمال کیا گیا، فلسطینی اتھارٹی نے مصر سے زخمیوں کو نکالنے کےلیے ایمبولینسز بھیجنے کی اپیل کی ہے۔

    فلسطینی اتھارٹی نے رفح میں یواین کیمپ پر اسرائیلی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حملہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کیخلاف کھلا چیلنج ہے۔

    اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے رات رفح میں حماس کے ایک کمپاؤنڈ پر حملہ کیا، حملےکے مقام پر حماس کے اہم ارکان ٹھہرے ہوئے تھے تاہم حملے سے دو روز پہلے ہی عالمی عدالت نے اسرائیل کو رفح میں فوجی کارروائی سے روکا تھا۔

    دوسری جانب امریکی رکن کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو فوری طور پر رفح میں فوجی کارروائی روکنی چاہیے جبکہ اسرائیلی قانون ساز ایڈا توما سلیمان نے بھی رفح پر تازہ ترین حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلےکو پامال کیا جا رہا ہے اسرائیلی حکومت عالمی ٹربیونل کے تمام احکامات ماننے سے انکاری ہے، اسرائیلی حکومت پاگل پن، انتقامی کارروائیوں کو نئی مجرمانہ سطح پر لےجا رہی ہے۔

    اقوا م متحدہ کی امدادی ایجنسی برائے فلسطین انروا کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا یو این کیمپ کو نشانہ بنانا حیران کن نہیں، اسرائیل ایک عام ریاست کے طور پر کام نہیں کر رہااسرائیل انروا کے متعدد اسکولوں پر بمباری کر رہا ہے، اسرائیل انروا کے صحت مراکز، پناہ گاہوں پر بھی بمباری کر چکا ہے، اسرائیلی بمباری میں اقوام متحدہ کے 193 کارکن مارے جا چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں میں 7 اکتوبر سے اب تک 36 ہزار فلسطینی شہید ہوچکے ہیں،غزہ کی وزارت صحت کا بتانا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 81 ہزار 26 ہوگئی ہے۔

  • اپنے لوگوں کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں،حماس

    اپنے لوگوں کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں،حماس

    غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے کہا ہے کہ رفح میں آپریشن اسرائیلی فوج کے لیے پکنک ثابت نہیں ہوگا، اپنے لوگوں کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی فوج کی رفح میں زمینی آپریشن کی تیاریوں پر ردعمل دیتے ہوئے حماس کا کہنا ہے کہ اپنے لوگوں کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں، حماس کے رہنما عزت الرشق نے کہا کہ رفح میں اسرائیل کا زمینی آپریشن جنگ بندی مذاکرات کو خطرے میں ڈال دےگا،حماس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ رفح میں اسرائیلی آپریشن رُکوانے کے لیے فوری اقدامات کرے۔

    واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے رفح میں پناہ لینے والے عام شہریوں کو فوری علاقہ چھوڑنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں جس کے نتیجے میں مشرقی رفح سے شہریوں نے انخلا شروع کردیا ہے،غزہ میں اسرائیلی حملوں سے خوفزدہ 15 لاکھ فلسطینی شہریوں نے رفح میں پناہ لے رکھی ہے۔

    چیمپئنز ٹرافی پر ہم وہی کریں گے جو حکومت ہمیں کہے گی، …

    اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا ہےکہ ہم متوقع زمینی آپریشن سے پہلے مشرقی رفح سے ایک لاکھ لوگوں کو نکال رہے ہیں، غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مصر نے بھی رفح میں متوقع اسرائیلی آپریشن کے پیش نظر شمالی صحرائے سینا میں غزہ کی سرحد کے ساتھ اپنی فوج کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔

    اسرائیلی فوج کے رفح میں فضائی حملے شروع، 8 بچوں سمیت 26 فلسطینی شہید

  • اسرائیلی فوج کے رفح میں فضائی حملے شروع، 8 بچوں سمیت 26 فلسطینی شہید

    اسرائیلی فوج کے رفح میں فضائی حملے شروع، 8 بچوں سمیت 26 فلسطینی شہید

    رفح: اسرائیلی فوج نے انخلا کے احکامات جاری کرنے کے بعد رفح شہر کے مشرقی علاقوں کے جوار میں فضائی حملے شروع کردئیے ہیں۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق ان فضائی حملوں میں 8 بچوں سمیت 26 فلسطینی شہید ہو گئے،اسپتال ذرائع سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق اسرائیلی فوج نے گزشتہ رات سے رفح کے مختلف علاقوں میں فضائی حملوں میں 11 گھروں کو نشانہ بنایا۔

    دوسری جانب اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع رفح کے مشرق میں بعض محلوں کو خالی کرانے کے احکامات کے بعد صبح کے وقت علاقے میں مقیم فلسطینیوں نے علاقہ چھوڑنا شروع کردیا تھا بارش کے موسم کے باوجود سینکڑوں فلسطینی، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، تھیلوں اور بیگوں میں مختصر سامان کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئے، جن کے پاس گاڑیا ں تھیں وہ اپنی گاڑیوں کے ساتھ دوسرے علاقوں کو چلے گئے۔

    حماس کے مطالبات تسلیم کرنا اسرائیلی ریاست کے لیے ایک بدترین شکست ہوگی،نیتن یاہو

    عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے پیر کے روز جنوبی غزہ شہر میں متوقع فوجی کارروائی سے قبل فلسطینی علاقے میں مشرقی رفح کے باشندوں کو "توسیع شدہ انسانی علاقے” کی طرف زبردستی بھیجنا شروع کر دیا،فوج نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی دفاعی افواج مشرقی رفح کے باشندوں کو توسیع شدہ انسانی علاقے کی طرف بڑھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔

    اسرائیلی فوج نے پیر کو کہا کہ وہ مشرقی رفح سے تقریبا ایک لاکھ افراد کو نکال رہی تھی،کتنے لوگوں کو نکالا جارہا تھا؟ اس سوال پر ایک فوجی ترجمان نے صحافیوں کو بتایا، "اندازاً تقریباً ایک لاکھ افراد ہوں گے۔”

    عالمی ادارہ صحت کے مطابق فی الحال تقریبا 1.2 ملین افراد رفح میں پناہ گزین ہیں، رفح میں حملے کے امکان پر عالمی امدادی گروپوں اور عالمی رہنماؤں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    اسرائیل میں قطری ٹی وی چینل الجزیرہ کی نشریات معطل کردی گئیں

    امریکی سکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن نے جمعہ کے روز کہا کہ اسرائیل نے ابھی تک "حقیقی طور پر اُن شہریوں کی حفاظت کے لئے ایک قابلِ اعتماد منصوبہ پیش نہیں کیا جنہیں نقصان پہنچنے کا امکان ہے” اور ایسے منصوبے کے بغیر واشنگٹن "رفح میں کسی بڑی فوجی کارروائی کی حمایت نہیں کر سکتا۔”

    7 اکتوبر کو غزہ میں جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد ہی اسرائیل نے غزہ کے شمال میں رہنے والے فلسطینیوں سے کہا کہ وہ اس علاقے کے جنوب میں "محفوظ زون” بشمول رفح میں منتقل ہو جائیں، لیکن رفح پر بار بار فضائی بمباری کی گئی ہے اور فلسطینی باقاعدگی سے کہتے رہے ہیں کہ غزہ کا کوئی بھی علاقہ محفوظ نہیں ہے۔

    فوجی بیان میں رفح کے قریب ساحلی علاقے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اسرائیلی دفاعی افواج نے غزہ کی طرف جانے والی امداد کی بڑھتی ہوئی سطح کے لئے المواسی میں انسانی ہمدردی کے علاقے میں توسیع کی ہے۔

    آسٹریلیا پولیس نے چاقو سے حملہ کرنیوالے نوجوان لڑکے کو گولی مار دی

  • رفح حملے کی زد میں،مصر کس طرح جوابی کارروائی کرے گا؟

    رفح حملے کی زد میں،مصر کس طرح جوابی کارروائی کرے گا؟

    غزہ کی 2.3 ملین آبادی میں سے نصف سے زیادہ دوسرے علاقوں میں لڑائی سے بچنے کے لیے رفح کی طرف گئی ہے، جہاں اقوام متحدہ کے زیر انتظام پناہ گاہیں اور وسیع خیمہ بستیاں قائم کی گئی ہیں،ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق مصر کو لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کی بڑے پیمانے پر آمد کا خدشہ ہے جنہیں شاید کبھی واپس جانے کی اجازت نہ دی جائے۔
    مصر نے رفح پر حملے کے امکان پر کہا ہے کہ اگر اس نے رفح میں فوج بھیجی تو وہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کو معطل کر دے گا، اس سے محصور علاقے میں سپلائی روٹ بند ہو جائے گا۔ رفح غزہ کی پٹی اور مصر کے درمیان سرحد پر پھیلا ہوا ہے۔

    تل ابیب نے دعویٰ کیا ہے کہ حماس بریگیڈ نے خود کو رفح میں رکھا ہوا ہے اور وہ اسرائیلی فوج پر نہ صرف فضائی حملے کر سکتے ہیں بلکہ اسے ایک زمینی اڈے کے طور پر بھی استعمال کرتے ہیں۔یہ صورتحال کسی اور ملک میں حماس اسرائیل جنگ کو بڑھا سکتی ہے۔ اپنے ملک سے فرار ہونے والے پھنسے ہوئے فلسطینیوں کو اسرائیل سینائی میں دھکیل سکتا ہے، جس سے مصر ان دس لاکھ سے زائد فلسطینی پناہ گزینوں کو سنبھالنے پر مجبور ہو گا جو ان کی داخلی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور ان کے خزانے پر معاشی بوجھ ڈال رہے ہیں۔

    مصر کو 40 ٹینکوں اور بکتر بند اہلکاروں کو غزہ کی سرحد پر منتقل کرنے پر مجبور کرنا پڑا تاکہ اس کی سرحدوں کے اندر کسی بھی منفی جھڑپ سے اس کے علاقے کی حفاظت کی جا سکے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل پہلے ہی رفح پر فضائی حملوں میں روزانہ 100 سے زیادہ افراد کو ہلاک کر رہا ہے۔ جگہ کی سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ رفح کے 64 مربع کلومیٹر میں سے ہر ایک میں 22,000 لوگوں کا ہجوم ہے۔ یہ علاقہ پناہ گزینوں سے بھرا ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے بیماریاں پھیلتی ہیں جن سے صحت کے خدشات پیدا ہوتے ہیں، خاص طور پر ہیپاٹائٹس اے کا پھیلنا،خارش اور دیگر بیماریاں پھیل رہی ہیں، مناسب بیت الخلاء اور نہانے کی سہولیات کے فقدان سے حالات مزید ابتر ہو رہے ہیں

    برطانیہ اور امریکہ نے تل ابیب پر زمینی حملے کے لیے دباؤ ڈالا ہے لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا اصرار ہے کہ یہ حماس کو ختم کرنا اور ان کے اڈے کو تباہ کرنا ہے۔ اقوام متحدہ اس سارے عمل میں غائب ہے، وہ کہاں ہے؟