Baaghi TV

Tag: رفیع

  • معروف عالم دین مفتی رفیع عثمانی کی نماز جنازہ ادا، بڑی تعداد میں عوام کی شرکت

    معروف عالم دین مفتی رفیع عثمانی کی نماز جنازہ ادا، بڑی تعداد میں عوام کی شرکت

    کراچی: معروف عالم دین مفتی محمد رفیع عثمانی مرحوم کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔اطلاعات کے مطابق مفتی رفیع عثمانی مرحوم کی نماز جنازہ ان کے بھائی مفتی تقی عثمانی نے پڑھائی، مفتی رفیع عثمانی مرحوم کی نماز جنازہ میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    مفتی رفیع عثمانی کی تدفین دارالعلوم کورنگی کے احاطے میں ہی کی جائے گی، مفتی رفیع عثمانی کی تدقین ان کے والد مفتی شفیع عثمانی اور والدہ کی قبر کے درمیان کی جائے گی۔

    یاد رہے کہ مفتی محمد رفیع عثمانی دو روز قبل 86 برس کی عمر میں دار فانی سے کوچ کر گئے تھے۔

    مفتی رفیع عثمانی ،مفتی تقی عثمانی کے بڑے بھائی تھے، مرحوم رفیع عثمانی مفتی اعظم پاکستان تھے، مرحوم مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع عثمانی کے بیٹے اور مفتی تقی عثمانی کے بڑے بھائی تھے۔

    مرحوم مفتی رفیع عثمانی وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست بھی تھے۔ مفتی رفیع عثمانی 21 جولائی 1936 کو دیوبند میں پیدا ہوئے۔

     

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • مفتی اعظم پاکستان و صدر جامعہ دارالعلوم کراچی مفتی رفیع عثمانی انتقال کرگئے

    مفتی اعظم پاکستان و صدر جامعہ دارالعلوم کراچی مفتی رفیع عثمانی انتقال کرگئے

    کراچی :مفتی اعظم پاکستان و صدر جامعہ دارالعلوم کراچی مولانا مفتی رفیع عثمانی انتقال کرگئے۔مفتی رفیع عثمانی ،مفتی تقی عثمانی کے بڑے بھائی تھے، مرحوم رفیع عثمانی مفتی اعظم پاکستان تھے، مرحوم مفتی اعظم پاکستان مفتی شفیع عثمانی کے بیٹے اور مفتی تقی عثمانی کے بڑے بھائی تھے۔

    مرحوم مفتی رفیع عثمانی وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سرپرست بھی تھے۔ مفتی رفیع عثمانی 21 جولائی 1936 کو دیوبند میں پیدا ہوئے۔

     

    مفتی زبیر کا کہنا تھا کہ مفتی رفیع پورے دنیا میں پاکستان کا مقدمہ لڑتے تھے، ان کا انتقال ریاست کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مفتی رفیع عثمانی کا انتقال اتنا بڑا نقصان ہے جو بیان نہیں کیا جاسکتا۔

    گورنرسندھ نے مفتی محمد رفیع عثمانی کے انتقال پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ کامران ٹیسوری کا کہنا ہے کہ ان کے انتقال سے پیدا ہونے والا خلاء ایک عرصہ تک پر نہیں ہوسکے گا۔

     

    کامران ٹیسوری نے کہا کہ دینی تعلیمات کےفروغ کیلئےمفتی صاحب کی خدمات بے مثال ہیں، یہ نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کیلئےعظیم نقصان ہے۔

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے کا کیس، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    چائلڈ پورنوگرافی میں‌ ملوث ملزم گرفتار،کتنی اخلاق باختہ ویڈیوز شیطان صفت کے پاس برآمد ہوئیں

    لڑکی کو نازیبا ،فحش تصاویر بھیجنے والا ملزم گرفتار

  • اور جب رفیع نے اپنی ایک دن کی کمائی ایک سازندے کو دیدی

    اور جب رفیع نے اپنی ایک دن کی کمائی ایک سازندے کو دیدی

    محمد رفیع بہت ہی سادہ طبیعت کے مالک تھے ان کی طبیعت میں کسی قسم کی لالچ نہیں تھی ہوتی تو وہ لتا منگیشکر کے ساتھ رائلٹی کے حصول کے معاملے میں‌کھڑے ہوتے. اسی طرح سے کہا جاتا ہے کہ کانگریس سرکار کا رفیع کا بہت احترام کرتی تھی اور اس کی وجہ پنڈت جواہر لال نہرو سے رفیع صاحب کا پیار اور احترام کا رشتہ تھا، ایک بار جواہر لال نہر و نے کہا کہ رفیع صاھب بتائیے میں آپ کے لئے کیا کر سکتا ہوں تو رفیع نے کسی مالی فائدے کی بات کرنے کی بجائے کہا کہ ریڈیو پر میرا نام رفیع بلایا جاتا ہے برائے مہربانی مجھے محمد رفیع بلایا جائے بس اتنی پابندی کروا دیجیے. پھر ایک بار یوں ہوا کہ رفیع ایک گانے کی ریکارڈنگ کے لئے کسی سٹوڈیو پہچنے وہاں دیکھا کہ ایک سازندہ باہر کھڑا ہے رفیع نے اس سے پوچھا بھئی

    کیوں کھڑے ہو تو وہ بولا سر مجھے رات کو کہا گیا صبح تم آجانا میں آگیا ہوں تو اب کہا جا رہا ہے کہ ہمارے سازندے پورے ہو چکے ہیں میں اب کیا کروں. رفیع نے کہا کہ جب تک میں باہر نہ آجائوں تم کہیں نہ جانا وہ کھڑا رفیع کا انتظار کرتا رہا جب رفیع باہر آئے تو اپنے مینجر سے کہا اس کو آج کی ساری کمائی دیدو، مینجر نے دے تو دییے پیسے لیکن گاڑی میں جا کر کہا کہ رفیع صاحب یہ کیا کیا تو رفیع بولے جب وہ گھر سے نکلا ہو گا بیوی بچوں‌نے فرمائش کی ہوگی کہ یہ لیکر آنا وہ لیکر آنا، اگر یہ نہیں‌لیکر جا پائے گا تو وہ اداس ہوں گے، بیچارا بہت آس سے آیا تھا ہم نے مدد کر دی تو کیا فرق پڑتا ہے کوئی بات نہیں اور اس بات کو بھول جاو اب. رفیع کی سادگی اور انکی صلاحتیوں کے معترف ان کے حریف بھی تھے، کہا جاتا ہے کہ گلوکار طلعت محمود، محمد رفیع کے سینیئر تھے۔ لیکن محمد رفیع کے انتقال کے وقت وہ ان کے جسد خاکی سے لپٹ کر بین کر رہے تھے کہ پہلے تم نے میرا کریئر چھینا، اور پھر میرے حصے کی موت بھی چھین لی۔

  • محمد رفیع نے کیسے کشور کمار کے کیرئیر کو بچایا؟

    محمد رفیع نے کیسے کشور کمار کے کیرئیر کو بچایا؟

    محمد رفیع اور کشور کمار اپنی اپنی جگہ منفرد گلوکار تھے محمد رفیع کی آواز نہایت ہی سافٹ تھی یہی وجہ تھی کہ ہر دوسرے ہیرو کی خواہش ہوتی تھی کہ ان کی آواز میں گائے گیت ان پر فلمائے جائیں،. دوسری طرف کشور کمار بھی کم نہیں تھے ان کی بھی فین فالونگ تھی لیکن ظاہر ہے کہ اُن وقتوں میں محمد رفیع کا ڈنکا بج رہا تھا.کشور کمار فلموں میں اداکاری کے ساتھ گلوکاری کرتے تھے. پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ محمد رفیع کے گیت کم اور کشور کے زیادہ ہونے لگے لیکن رفیع کی مقبولیت مرتے دم تک قائم رہی وہ نمبر ون کی پوزیشن پر پہ رہے. اُس دور کے میڈیا نے بڑی کوشش کی کہ چوٹی کے ان دونوں

    گلوکاروں کے درمیان مقابلے کی فضا قائم کی جائے لیکن ایسا ہو نہ سکا. محمد رفیع کسی کے بھی ٹیلنٹ کو کھلے دل سے تسلم کرتے تھے. وہ کشور کمار کی گائیکی کی بھی تعریف کیا کرتے تھے.یہاں تک کہ جب کشور کمار پر برا وقت آیا تو محمد رفیع نے ان کا کیرئیر بچایا. ہوا یوں کہ 1975 میں جب کانگریس سرکار نے کشور کمار اور ان کے گیتوں پر آل انڈیا ریڈیو اور دور درشن پر چلنے پر پابندی عائد کر دی تھی۔ اس کا پس منظر یہ تھا کہ کانگریس سرکار اس وقت کی پرائم منسٹر اندرا گاندھی کی پالیسیوں کی تشہیر کے لیے جلسے اور ریلیاں منعقد کر رہی تھی جس کے لیے کشورکمار نے زیادہ پیسے مانگ لیے تھے۔جب یہ معاملہ بگڑا تو کشور کمار پر پابندی لگا دی گئی جس سے وہ بہت پریشان تھے۔ کانگریس میں چونکہ محمد رفیع کی سنی جاتی تھی انہوں نے رفیع کا مان رکھتے ہوئے کشور کمار پر سے پابندی اٹھا لی.محمد رفیع چاہتے تو موقع کا فائدہ اٹھا سکتے تھے کشور کمار کے کیرئیر کو اچھی خاصی بریک لگ سکتی تھی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا. کہا جاتا ہے کہ محمد رفیع انتقال پر کشور کمار ان کے پائوں پر سر رکھ کر کئی گھنٹے روتے رہے.