Baaghi TV

Tag: رقیہ غزل،

  • قومیں تقریروں سے نہیں ہنر مند ہاتھوں سے بنتی ہیں،تحریر:رقیہ غزل

    قومیں تقریروں سے نہیں ہنر مند ہاتھوں سے بنتی ہیں،تحریر:رقیہ غزل

    قوموں کی ترقی محض قدرتی وسائل، جغرافیائی محلِ وقوع یا آبادی کی کثرت سے مشروط نہیں ہوتی بلکہ اصل قوت انسانی سرمایہ ہوتا ہے۔ دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جن ممالک نے اپنی افرادی قوت کو تعلیم، مہارت اور پیشہ ورانہ تربیت سے آراستہ کیا، وہی ترقی کی دوڑ میں آگے نکلے۔ چین، جاپان، سنگاپور اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں، جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود اپنے عوام کو ہنرمند بنا کر عالمی معیشت میں نمایاں مقام حاصل کیا۔چین کی معاشی ترقی کا آغاز اس وقت ہوا جب وہاں کی قیادت نے یہ ادراک کر لیا کہ اگر آبادی کو بوجھ بننے سے بچانا ہے تو اسے زراعت، صنعت اور ٹیکنالوجی سے جوڑنا ہوگا۔ تعلیم کو محض ڈگری تک محدود رکھنے کی بجائے فنی تربیت کو قومی ترجیح بنایا گیا۔ کرپشن کے خلاف سخت قوانین نافذ کیے گئے، بدعنوانی کو ناقابلِ معافی جرم قرار دیا گیا اور نتیجتاً عوام کا ریاست پر اعتماد بحال ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ آج چین دنیا کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ملک بن چکا ہے اور عالمی معیشت میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔اسی طرح جاپان کی ترقی بھی کسی معجزے کا نتیجہ نہیں بلکہ علم و ہنر کے امتزاج کا ثمر ہے۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ جاپانی ماہرین نے صدیوں قبل چین سے فنی مہارتیں سیکھیں اور بعد ازاں مغربی ٹیکنالوجی کو اپنے ہنر سے ہم آہنگ کیا۔ یہی حکمتِ عملی جاپان کو جدید صنعتی ریاست بنانے کا سبب بنی۔بدقسمتی سے پاکستان، جسے اللہ تعالیٰ نے قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور اسٹریٹجک محلِ وقوع جیسی بے شمار نعمتوں سے نواز رکھا ہے، آج بھی معاشی بدحالی اور بیروزگاری کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔ ہماری تعلیمی پالیسیاں زیادہ تر نظریاتی اور کتابی حد تک محدود ہیں، جن کا عملی زندگی سے براہِ راست تعلق کمزور ہے۔ نتیجتاً ہر سال لاکھوں نوجوان ڈگریاں حاصل کر کے روزگار کی تلاش میں در بدر پھرتے ہیں، جبکہ مارکیٹ کو درحقیقت ہنرمند افراد کی ضرورت ہوتی ہے۔یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ حکومت اتنی ملازمتیں پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی جتنے گریجویٹس تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔ اس خلا کو پُر کرنے کا واحد راستہ ووکیشنل اور ٹیکنیکل ایجوکیشن ہے، جو نوجوانوں کو خود کفیل بنانے کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت میں عملی کردار ادا کرنے کے قابل بناتی ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی ہنر سیکھنے کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے، حالانکہ ترقی یافتہ ممالک میں فنی تعلیم کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے۔


    تاہم اس گھپ اندھیرے میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو شکوہ نہیں کرتے بلکہ عمل سے چراغ جلاتے ہیں۔چند روز قبل صحافیوں کے ایک وفد کو ایک ایسے آفاقی وژن کے حامل شخص کے منصوبے دیکھنے کا موقع ملا۔وفد کی قیادت صحافیوں کی ایک تنظیم(ساک)کے جنرل سیکیرٹری ضمیر آفاقی نے کی اورلیفٹیننٹ کمانڈر راشد محمود (ر)پاکستان نیوی بھی ہمارے ساتھ تھے جو کہ سوشل میڈیا انٹلیکچوئل انفلوئنسر ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی تنظیم (کاسب) کے پلیٹ فارم سے ملت کے مقدر کے ستارے بھی تراش رہے ہیں کیونکہ ان کا پختہ یقین ہے کہ ہنر مند ہاتھو ں سے مقدر بدلا جا سکتا ہے درحقیقت ایسے ہی ہنر مند ہاتھوں کی جستجو اور قدر افزائی کے لیے دانشوروں کا یہ قافلہ نکلا تھا تاکہ قوم کے اصل اثاثوں کو سامنے لایا جا سکے۔

    پاک بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل (ر) محمد آصف سندیلہ نے ریٹائرمنٹ کے بعد بیرونِ ملک آرام دہ زندگی اختیار کرنے کے بجائے اپنے وطن کے پسماندہ طبقات کی خدمت کو مقصدِ حیات بنایا۔ شیخوپورہ کے نواحی علاقے مہموں والی میں دو سرکاری اسکولوں کو اڈاپٹ کر کے انہوں نے جو سفر شروع کیا، وہ آج ایک قومی ماڈل کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ان اسکولوں میں نہ صرف تعلیمی معیار نمایاں طور پر بہتر ہوا بلکہ ان کے ساتھ قائم ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز نے نوجوانوں کو باعزت روزگار کے قابل بنا دیا۔

    شیخوپورہ کے ایک گاؤں سے شروع ہونے والا یہ سفرمعاون فاؤنڈیشن کے زیر انتظام آج ملک کے مختلف حصوں میں پھیل چکا ہے۔ یہاں بچے صرف کتابیں نہیں پڑھتے، بلکہ زندگی جینے کا ہنر سیکھتے ہیں۔ یہاں بچیاں صرف تعلیم حاصل نہیں کرتیں بلکہ خودمختار بننے کی تیاری کرتی ہیں۔ یہاں سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات تقریباًاسی فیصد تک نجی شعبے میں باعزت روزگارحاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ مزید برآں“اخوت”کے تعاون سے بلاسود قرضوں کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ نوجوان اپنا روزگار خود شروع کر سکیں۔وفاقی و صوبائی تعلیمی محکموں، نجی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے اشتراک سے چلنے والے یہ منصوبے اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ اگر نیت درست ہو تو پسماندگی کو شکست دی جا سکتی ہے۔یہ ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز دراصل ان نوجوانوں کے لیے نئی زندگی کا دروازہ ہیں جو حالات کے ہاتھوں تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔ سلائی مشین سے کمپیوٹر لیب تک، کلاس روم سے ورکشاپ تک ہر جگہ ایک ہی پیغام ہے کہ ہنر عزت دیتا ہے، خودداری سکھاتا ہے۔


    یہ ادارے خاص طور پر ان بچوں اور بچیوں کے لیے امید کا سہارا ہیں جو غربت، گھریلو ذمہ داریوں یا وسائل کی کمی کے باعث تعلیم ادھوری چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہاں تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر کوجزو لازم بنایا گیا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ اس وقت اس نیٹ ورک کے تحت ملک بھر میں تقریباً تین سوسے زائد تعلیمی و ووکیشنل ادارے کام کر رہے ہیں، جہاں سے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نجی شعبے میں روزگار حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ان اداروں کی ایک نمایاں خصوصیت طالبات کی بڑی تعداد ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر ماحول محفوظ اور شفاف ہو تو والدین اپنی بچیوں کو تعلیم اور ہنر حاصل کرنے سے نہیں روکتے۔ مزید برآں، بلاسود قرضوں اور نجی و سرکاری اداروں کے تعاون نے اس ماڈل کو مزید مؤثر بنا دیا ہے۔یہ تمام حقائق اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کو اگر معاشی خودمختاری اور سماجی استحکام درکار ہے تو اسے تعلیم کے ساتھ پیشہ ورانہ تربیت کو قومی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا۔

    ایڈمرل (ر) محمد آصف سندیلہ کے منصوبے اس بات کا واضح پیغام ہیں کہ درست سمت، مخلص قیادت اور عملی اقدامات سے قومی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ان اداروں سے نکلنے والے نوجوان جب اپنے خاندان کا سہارا بنتے ہیں تو اصل ترقی کی تصویر سامنے آتی ہے۔بلاشبہ ایڈمرل (ر) محمد آصف سندیلہ کے تعلیمی و تربیتی منصوبے پاکستان کے لیے روشنی کے مینارہیں جو حکمرانوں کو واضح پیغام دے رہے ہیں کہ پیشہ ورانہ تربیت سے ہی قومی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔یہ منصوبے ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ قوموں کا مستقبل تقریروں، سوالوں اور موازنوں میں نہیں بلکہ ہنر مند ہاتھوں، باعمل ذہنوں اور مخلص قیادت میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ یہی وہ ماڈل ہے جو بتاتا ہے کہ اگر نیت درست ہو تو وسائل خود راستہ بنا لیتے ہیں۔شاید یہی وہ چراغ ہیں جن کی روشنی ایک دن پورے معاشرے کو منور کرے گی۔اب سوال یہ نہیں کہ پاکستان چین یا جاپان بن سکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کب اپنی صلاحیتوں پر یقین کر کے ہنر مند پاکستان کی بنیاد رکھیں گے۔کیونکہ قومیں تقریروں سے نہیں ہنر مند ہاتھوں سے بنتی ہیں۔

    رقیہ غزل
    رقیہ غزل