Baaghi TV

Tag: رمضان

  • رمضان میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ

    رمضان میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ

    ضلعی انتظامیہ کی جانب سے لاہوریوں کے لیے اچھی خبر۔۔ڈی سی لاہور رافعہ حیدر نے رمضان المبارک میں اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں کمی کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے نوٹفکیشن جاری کر دیا۔

    عوام کو گراں فروشی سے بچانے کے حوالے سے تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور مجسٹریٹس کو ہدایات جاری کر دی گئیں۔تفصیلات کے مطابق ڈی سی لاہور رافعہ حیدر نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے کامیاب مشاورت کرتے ہوئے رمضان المبارک میں اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ا س حوالے سے ڈپٹی کمشنر لاہور کا کہنا تھا کہ ماہ مارچ میں دالوں،گوشت،دودھ،دہی،روٹی اور نان کی قیمتوں کو برقرار رکھا جائے گا۔ماہ مبارک میں اشیاء خورونوش کی قیمتوں میں ہرگز اضافہ نہیں کیا جائے گا۔رافعہ حیدر نے تمام اسسٹنٹ کمشنرز اور مجسٹریٹس کو ہدایات کرتے ہوئے کہا کہ رمضان میں شہریوں کو ہر صورت گراں فروشی سے بچانا ہے۔زیادہ قیمت وصول کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ماہ مارچ اور رمضان المبارک کی نئی ریٹ لسٹ جاری کر دی ہے۔

    ڈی سی لاہور نے بتایا کہ نئی لسٹ کے مطابق چاول باسمتی سپر نیا 3سو روپے فی کلو،دال چنا باریک پہلے 250اوردال چنا اسپیشل270روپے میں فروخت کی جا رہی تھی جبکہ نئی قیمت 20روپے کمی کے ساتھ 230اور 250 روپے میں دستیاب ہوگی۔مزید برآں دال مسور موٹی 255روپے فی کلو، دال ماش دھلی 405روپے، دال ماش چھلکے والی 370روپے فی کلو،مونگ دال چھلکے والی250 روپے،کالا چنا 2سو 20 روپے فی کلو،سفید چنا موٹا 30روپے کمی کے ساتھ 330 روپے فی کلو اور بیسن245روپے فی کلو میں فروخت ہو گا۔رافعہ حیدر کا مزید کہنا تھا کہ سادہ روٹی 15روپے، نان 25 روپے،دودھ 140روپے اور دہی 165روپے میں دستیاب ہو گا۔

    عدالت نے کہا کہ میں کیوں ایسا حکم جاری کروں جو سسٹم ہے اسی کے مطابق کیس فکس ہوگا،

    عمران خان نے باربار قانون کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں جواب دینا ہوگا

    چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ آپ کا اپنا کیا دھرا ہے 

  • ماہ رمضان کیلئے5 ارب روپے کی سبسڈی پر مشتمل ریلیف پیکج تیار

    ماہ رمضان کیلئے5 ارب روپے کی سبسڈی پر مشتمل ریلیف پیکج تیار

    اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ماہ رمضان کے لیے 5 ارب روپے کی سبسڈی پر مشتمل ریلیف پیکج تیار کر لیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ذرائع وزارت صنعت وپیداوار کے مطابق رمضان کے لیے 19 اشیائے ضروریہ پر حکومت کی جانب سے سبسڈی فراہم کی جائے گی جبکہ رمضان پیکج کے تحت سبسڈی بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ افراد کے لیے ہوگی۔

    رمضان کے لیے اشیائے ضروریہ پر سبسڈی یوٹیلٹی اسٹورز پر فراہم کی جائے گی، پیکج کے تحت آٹا، گھی، دالوں، چینی اور دیگر اشیائے ضروریہ پر رمضان پیکج کے تحت سبسڈی دی جائے گی۔

    واضح رہے کہ مہنگائی کے باعث عوام بالخصوص نچلے طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت نے سبسڈی کا فیصلہ کیا ہے۔

    دوسری جانب انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز پر ہی ڈالر کی قدر میں بڑا اضافہ ہوگیا ڈالر کی قیمت میں انٹربینک مارکیٹ میں 3 روپے 50 پیسے اضافہ ہوا، جس کے بعد ڈالر 265 روپے کا ہو گیا ہے گزشتہ روز انٹربینک میں ڈالر 261 روپے 50 پیسے پر بند ہوا تھا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 267 روپے ہے۔

  • رمضان کےروزے رکھنا ذیا بیطس میں مبتلا افراد کی صحت کیلئے مفید ،مفتی تقی عثمانی

    رمضان کےروزے رکھنا ذیا بیطس میں مبتلا افراد کی صحت کیلئے مفید ،مفتی تقی عثمانی

    کراچی: معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی نے کہا ہے کہ ذیابطیس میں مبتلا ہونا رمضان کے روزے نہ رکھنے کا جواز نہیں۔

    باغی ٹی وی : اینڈ حج اسٹڈی گروپ کی جانب سے منعقدہ آٹھویں انٹرنیشنل ڈائیبیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس 2020 کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں ماہرین کا کہنا تھا ذیابطیس کے مرض میں مبتلا زیادہ تر افراد نہایت آسانی کے ساتھ رمضان کے روزے رکھ سکتے ہیں لیکن اس سلسلے میں انھیں ڈاکٹروں اور ماہرین صحت سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کیلئے بہترین ناشتہ جو خون میں شکر کی مقدار کم رکھتا ہے

    دو روزہ بین الاقوامی ڈائبیٹیز اینڈ رمضان کانفرنس بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی اور ڈائبٹیز اینڈ رمضان انٹرنیشنل لائسنس کے تعاون سے منعقد کی گئی اس کانفرنس سے ڈائبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل پروفیسر عبد الباسط، پروفیسر یعقوب احمدانی، پروفیسر اعجاز وہرہ، متحدہ عرب امارات سے پروفیسر ڈاکٹر محمد حسنین، لاہور یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید اکرم، برطانیہ سے ڈاکٹر سلمہ مہر، ڈاکٹر سیف الحق، ڈاکٹر زاہد میاں سمیت دیگر ماہرین نے خطاب کیا۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ ماہرین صحت کی رائے اور جدید تحقیق سے ثابت ہوا ہےکہ ذیابیطس سمیت بلڈ پریشر اور موٹاپے میں مبتلا افراد آسانی سے روزے رکھ سکتے ہیں، بلکہ جدید تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہےکہ ذیابیطس اور اس طرح کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے رمضان کے روزے رکھنا ان کی صحت کے لیے نہایت مفید ہے۔

    ذیا بیطس اور موٹاپے میں مبتلا خواتین میں بریسٹ کینسرکا خطرہ بڑھ سکتا ہے تحقیق

    مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ چند لوگوں کو یہ غلط فہمی ہے کہ شریعت میں ہر طرح کی بیماری میں مبتلا افراد اور ہر طرح کے سفرکرنے والوں کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، ان کا کہنا تھا کہ صرف وہ لوگ جنھیں روزہ رکھنے سےکسی جسمانی ضرر کا اندیشہ ہو انہیں ماہرین صحت کے مشورے کے بعد روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اور وہ اس کی قضا ادا کرسکتے ہیں۔

    کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماہر صحت پروفیسر اعجاز وہرہ کا کہنا تھا کہ روزہ نہ صرف تزکیہ نفس کا ایک اہم ذریعہ اور جسمانی عبادت ہے بلکہ یہ انسانی صحت کیلیے انتہائی مفید عمل ہے، ذیابطیس کے مریضوں کو اپنے معالج کے مشورے سے روزے رکھنے چاہیے جس کے نتیجے میں ان کی شوگر کا کنٹرول بہت بہتر ہو سکتا ہے، روزے کی حالت میں شوگر چیک کرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور اگر کسی شخص کی شوگر 70 سے کم ہو جائے، دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو جائے، گھبراہٹ ہو اور پسینے آنا شروع ہوجائیں تو ایسے مریض کیلئے روزہ توڑنا جائز ہے۔

    ذیا بیطس کے مریضوں کے لئے مفید پھل

    معروف ماہر ذیابطیس اور ڈائبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سیکریٹری جنرل پروفیسر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ 2008 سے قبل 90 فیصد ماہرین صحت ذیابطیس میں مبتلا لوگوں کو روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دیتے تھے جس کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا اکثر لوگ اس اہم جسمانی روحانی عبادت سے محروم رہ جاتے تھے۔

    پروفیسر یعقوب احمدانی کا کہنا تھا وہ پچھلے 14سال سے رمضان اور حج کے حوالے سے ذیابطیس کے مریضوں میں آگاہی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اب تک آٹھ کانفرنسز منعقد کروا چکے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے کئی سالوں سے عوامی آگاہی کے پروگرامات سمیت ڈاکٹروں کی تربیت پر بھی توجہ دے رہے ہیں تاکہ ذیابیطس میں مبتلا مریضوں کو حج، عمرہ اور رمضان کی عبادات سے بھرپور استفادہ کرنے کے لیے لیے مدد فراہم کی جاسکے۔

    منہ کا خشک رہنا کس خطرناک بیماری کی علامت ہے؟

  • اوکاڑہ، اعتکاف میں بیٹھے لڑکے کو سانپ نے ڈس لیا۔ لڑکا جاں بحق

    اوکاڑہ، اعتکاف میں بیٹھے لڑکے کو سانپ نے ڈس لیا۔ لڑکا جاں بحق

    اوکاڑہ (نامہ نگار) محلہ اختر ٹاون جمعہ خاں روڈ حویلی لکھا کا رہائشی انس عباس نامی لڑکا جوکہ نواحی علاقے کوڑھا جھنگ شیشم کی ایک مسجد میں اعتکاف کے دوران سویا ہوا تھا کہ رات کو مشتبہ طور پر سانپ کے ڈسنے سے ہلاک ہوگیا۔

  • یاد گار/ افطاری : ایس پی ڈولفن عائشہ بٹ نےاہلکاروں کے ساتھ فلائی اوور پر یاد گار افطاری کا اہتمام کیا۔

    یاد گار/ افطاری : ایس پی ڈولفن عائشہ بٹ نےاہلکاروں کے ساتھ فلائی اوور پر یاد گار افطاری کا اہتمام کیا۔

    ایس پی ڈولفن عائشہ بٹ ڈولفن جوانوں کے ساتھ افطاری کے لیے مینار پاکستان فلائی آوور پر پہنچ گئیں۔

    آن جان سیکٹر انچارجز و ڈولفن اہلکاروں میں روزہ افطاری کے پیکٹس تقسیم کیے۔

    ڈی ایس پی سٹی ڈولفن میر کاشف خلیل بھی ہمراہ تھے۔

    مینار پاکستان کے سامنے فلائی آوور پر افطاری کا لطف دوبالا ہو گیا۔ ڈولفن ٹیمز

    ڈولفن سکواڈ کے جوانوں کے ساتھ روزہ افطار کرنا اپنے لیے اعزاز سمجھتی ہوں۔ ایس پی ڈولفن

    روزہ کی حالت میں اپنے فرائض انجام دینے والے اہلکاروں کا جذبہ دیدنی ہے۔ عائشہ بٹ

    ڈولفن سکواڈ و دیگر اہلکاروں کیلئے روزہ افطاری کا اہتمام کرنا قلبی سکون و تسکین کا باعث ہے۔ایس پی ڈولفن عائشہ بٹ

  • رمضان المبارک دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے از مبشر لقمان

    رمضان المبارک دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے از مبشر لقمان

    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    اور جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو آپ فرما دیجیے کہ میں قریب ہی ہوں۔ دعا مانگنے والوں کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھ سے دعا مانگیں۔ پس انہیں میرا حکم ماننا چاہیے اور مجھ پر ایمان لانا چاہیے تاکہ وہ نیک راہ پر آجائیں۔
    یہ سورت بقرہ کی آیت نمبر 186ہے۔ اس سے پہلے تین آیتوں میں روزے اور رمضان کے احکام اور فضائل کا ذکر ہے۔ روزو ں اور رمضان المبارک کے ذکر کے ساتھ دعا مانگنے کا تذکرہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ رمضان کا مہینہ دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو نہ صرف دعا مانگنے کا حکم دیا بلکہ دعا کو بھی ایک عبادت اور بندگی کا ذریعہ قرار دیا ہے جو کہ اس امت کا خاص اعزاز ہے ورنہ حضرت کعب احبار کی روایت کے مطابق پہلے زمانہ میں یہ خصوصیت انبیاء کی تھی۔ انبیاء لوگوں کے لیے دعا کرتے، اللہ تعالیٰ قبول فرماتا لیکن امت محمدیہ کی خصوصیت ہے کہ یہ حکم پوری امت کے لیے عام قرار دیا اور فرمایا
    ترجمہ
    اور تمہارے رب نے کہا کہ تم مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔

    حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم منقول ہے کہ
    دعاء مومن کا ہتھیار ہے۔ ظاہر ہے کہ ہتھیار صحیح کام تب ہی دکھاتا ہے جب ہتھیار بھی تیز ہو اور چلانے والا بھی طاقتور ہو۔
    اب دعا کیسے طاقتور بنے اس کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آداب سکھلائے۔ اور وہ اوقات بتائے جن میں دعائیں زیادہ قبول ہوتی ہیں ان میں ایک موقعہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے ہماری دعائیں کیسے طاقتور بنیں اس کے لیے بنیادی اصول اللہ تعالیٰ نے سورت اعراف کی آیت نمبر ۵۵ میں فرمایا
    یعنی تم اپنے رب سے دعا کیا کرو عاجزی کے ساتھ اور پوشیدہ طریقے سے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ دعا کرنے والا خشوع و خضوع یعنی عاجزی اور اللہ کے دھیان کے ساتھ دعا مانگے اور دوسرا ادب یہ معلوم ہوا کہ آہستہ آواز سے دعا مانگے اگر عام مقتدی دعاؤں سے ناواقف ہوں تو پھر امام کے لیے اونچی آواز سے دعا مانگنے میں کوئی حرج نہیں۔
    دعاء کی قبولیت کو مزید موثر بنانے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ وہ دعائیں مانگی جائیں جو قرآن مجید میں مختلف انبیاء کے حوالے سےمذکور ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ دعائیں قبول فرمائی ہیں۔ یا احادیث میں جو دعائیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہیں وہ مانگی جائیں۔
    لیکن قرآن و حدیث کے عربی جملے جن میں دعائیں ہیں اگر ان کا ترجمہ اور مطلب معلوم ہو تو پھر وہی دعائیں مانگنا افضل اور بہتر ہے لیکن عام حالات میں اگر ان دعاؤں کا مطلب معلوم نہ ہو تو پھر مانگنے والے کو تو معلوم نہیں کہ ان دعائیہ جملوں سے ہم اللہ سے کیا مانگ رہے ہیں۔ لہٰذا ان دعاؤں کے پڑھنے کا ثواب تو ضرور ملے گا لیکن اسے دعا مانگنا نہیں کہیں گے بلکہ دعا پڑھنا کہیں گے اس لیے دعا مانگتے وقت پہلے مسنون دعائیں بھی پڑھ لی جائیں پھر جو دعاؤں کا مفہوم نہ جانتا ہو وہ اپنی زبان میں بھی دعائیں مانگ سکتا ہے۔

    جب یہ کہا جاتا ہے کہ رمضان المبارک دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے تو دل میں ایک خیال آجاتا ہے کہ ہم نے بہت سی دعائیں مانگی ہیں ہماری دعا قبول ہی نہیں ہوتی لہٰذا پھر وہ انسان دعا مانگنے کی طرف متوجہ نہیں رہتا۔
    اس بارے میں ایک بات تو یہ قابل ذکر ہے کہ ارشادات نبوی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حرام مال کھانے اور حرام لباس استعمال کرنے اور حرام کمائی کرنے والے کی دعاء قبول نہیں ہوتی لیکن اس کے علاوہ ہر شخص کی دعا قبول ہوتی ہے۔
    لیکن وہ بات پھر ذہن میں رہتی ہے کہ ہم نے بہت کچھ مانگا ہمیں تو نہیں ملا اس کا جواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح سمجھایا۔
    کہ مومن کی دعاء ضرور قبول ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ اس بندہ کے لیے کیا چیز بہتر ہے۔
    ارشاد باری تعالیٰ ہے
    ترجمہ
    کہ بسا اوقات تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہوتی ہے۔ اور بسااوقات تم کسی چیز کو پسند کرتے ہو اور وہ تمہارے لیے بری ہوتی ہے۔
    اس لیے انسان کا کام ہے اللہ سے دعائیں کرتے رہنا، مانگتے رہنا، یا تو اللہ تعالیٰ بندہ کو وہی چیز دیتا ہے یا اس کا نعم البدل عطاء فرما دیتا ہے یا دنیا میں اس دعا کا کوئی اثر ظاہر نہیں ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں کی بدولت اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور جب گناہ ختم ہو جائیں تو پھر ان دعاؤں کو اس بندہ کی نیکیاں شمار کر لیا جاتا ہے۔

    ایک حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن بندہ نیکیوں کے ایک ڈھیر کو دیکھ کر کہے گا یہ نیکیاں تو میری نہیں ہیں۔اسے بتایا جائے گا کہ یہ تمہاری وہ دعائیں ہیں جو دنیا میں قبول نہیں ہوئی تھیں ان کے بدلہ میں نیکیاں ملی ہیں اس وقت بندہ کہے گا کہ کاش دنیا میں میری کوئی دعا قبول نہ ہوتی سب کا بدلہ یہاں آخرت میں ملتا۔
    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاؤں کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بہت سے لوگ جلد بازی کی وجہ سے اپنی دعائیں ضائع کر دیتے ہیں۔ صحابہ کرامؒ نے عرض کیا جلد بازی سے کیا مراد ہے؟ فرمایا دعا مانگنے کے بعد یہ کہنا کہ میری دعا قبول نہیں ہوتی، دعا کو ضائع کرنا ہے۔
    لہٰذا رمضان کے اس بابرکت مہینہ میں خوب دعائیں مانگیں اور اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہی ہماری دعائیں قبول کرنے والا ہے، دعا میں اپنے لیے، اپنے والدین کے لیے اور دوسرے مسلمان بھائیوں کے لیے دعا کریں۔ پوری انسانیت کی ہدایت کے لیے دعا مانگیں، پختہ عزم سے دعا مانگیں اور بار بار دعا کریں،
    اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
    ترجمہ
    رمضان کا یہ مہینہ ایسا ہے کہ اس کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے اور درمیانہ عشرہ بخشش کا ہے اور آخری حصہ جہنم کی آگ سے آزادی کا ہے۔
    اس رحمت کے عشرے میں خوب دعائیں مانگیں اس یقین کے ساتھ کہ اللہ تعالی دعاوں کو قبول کرنے والا ہے۔

    مبشرلقمان

  • اوکاڑہ میں رمضان المبارک کے باوجود مہنگائی اور ملاوٹ عروج پر

    اوکاڑہ میں رمضان المبارک کے باوجود مہنگائی اور ملاوٹ عروج پر

    اوکاڑہ( علی حسین ) رمضان المبارک میں یہاں چھٹے روز کے بعد بھی مہنگائی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ روزبروز مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے اور عوام جو لاک ڈاون کیوجہ سے پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں، مزید تنگ اور دکھی ہوگئے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے چند دکانداروں کو جرمانوں کے علاوہ کوئی موثر اور پائیدار اقدامات بروئے کار نہیں لائے گئے۔ ناقص اور مضر صحت اشیاء کا چلن بھی عام ہے۔ضلع بھر میں اکثر جگہوں پر مضرصحت دہی اور دودھ کی فروخت بہت بڑھ گئی ہے۔ انتظامیہ کے علاوہ فوڈ اتھارٹی کو بھی متحرک ہونا چاہیے۔

  • رمضان آگیا,آئیے خود کو بدلیں…تحریر :خنیس الرحمٰن

    رمضان آگیا,آئیے خود کو بدلیں…تحریر :خنیس الرحمٰن

    وہ موقع آن پہنچا ہے جس کا ہر مسلمان کو بے تابی سے انتظار تھا. آپ سمجھ تو گئے ہونگے. وہ برکتوں, سعادتوں اور رحمتوں والا مہینہ…..!
    سحری و افطاری کا اہتمام کرنا .. !
    دن بھر کا بھوکا رہنا….!
    ہر اس کام سے رک جانا جس کا اللہ اور نبی ذیشان صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا….!
    امر بالمعروف کے لیے اپنی کمر کو کس لینا….!
    قرآن کی کثرت سے تلاوت کرنا…!
    تراویح کا اہتمام کرنا…. !
    رب کے حضور اپنی التجائیں پیش کرنا….!
    صدقات وخیرات کا ادا کرنا….!
    اپنی انا کی قربانی دینا…. !
    تمام ان رشتوں کو پھر سے گلے لگا لینا جن سے گلے شکوے ہوا کرتے تھے….!
    توبہ و استغفار کے لیے اپنے رب کے آگے ہاتھ پھیلانا….!
    بھوکوں اور مستحقین کو روزہ افطار کروانا …!
    دوستوں اور رشتہ داروں کو افطار کرانا…..!
    رمضان المبارک کا محبتوں بھرا مہینہ اللہ پاک بھی پھر اپنے بندے سے خوش ہوجاتے ہیں کہ اللہ کا بندہ اللہ کے احکامات کو کس طرح سے بجالارہا ہے…. اللہ رب العزت اپنے بندے پر انعامات کی بارش برسا دیتا ہے….اللہ کہے گا اے میرے بندے تو نے دن بھر بھوک کے ساتھ میری خاطر گزارا جا میں تجھ سے جنت کا وعدہ کرتا ہوں… اے میرے بندے تو نے میری خاطر روزہ رکھا تیرے دل میں دنیا کا لالچ نہیں تا صرف میری رضا مقصود تھی میں تیرے سارے گذشتہ سال کے گناہ معاف کرتا ہوں…. اللہ اپنے بندے سے کہے گا تو نے میری خاطر روزہ رکھا, رات کا قیام کیا, نمازیں ادا کیں , زکوۃ ادا کی جا میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں روز قیامت تجھے صدیقین اور شہداء کے ساتھ کھڑا کروں گا….. اللہ اپنے بندے سے کہے گا تو نے میری خاطر روزہ رکھ کر نہ کسی کی غیبت کی ,نہ جھوٹ بولا, نہ کسی کو زبان سے تکلیف پہنچائی تیرے منہ کی بو میرے ہاں کستوری سے زیادہ پاکیزہ ہے….. اللہ اپنے بندے سے کہے گا تو جو مانگنا چاہتا ہے میں عطاء کروں گا تو مانگ کر تو دیکھ….. !
    آئیے اس سعادت سے محروم نہ رہ جائیں آگے بڑھ کر اپنے رب سے جنت کا سودا کریں….!
    اس ماہ مبارک میں زیادہ سے زیادہ اپنے رب کو راضی کرنے کی کوشش کریں….!
    میں اللہ سے دعاگو ہوں کہ مالک سب سے پہلے مجھے اور اس کے بعد آپ سب کو عمل کرنے کی توفیق دے آمین….
    گنہگار ہیں سب…. اللہ ہمیں موقع دے رہا ہے ہم اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اس سے ضائع نہ ہونے دیں….

  • بچے، مسجد میں ۔۔۔ حافظ ابتسام الحسن

    بچے، مسجد میں ۔۔۔ حافظ ابتسام الحسن

    بچوں کی تعلیم و تربیت پر ہر قوم زور دیتی ہے، لیکن اسلام اور مسلمان اس حوالے سے بطور خاص حساس ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچوں کی تربیت پر بہت زور دیا ہے، اور تربیت میں بھی نماز کو اولین ترجیح دی ہے کہا کہ اگر بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز سکھلاؤ اور پڑھنے کی ترغیب دلاؤ اور دس سال کے ہو جائیں تو ان پر نماز کو فرض عین کر دو، اگر نہ پڑھیں تو ان کی پٹائی کرو، غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اللہ کے رسول نے کسی اور معاملہ میں بچوں پر کبھی نہ سختی کی اور نہ کرنے کا حکم دیا، بلکہ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : "دس سال رسول اللہ کی خدمت کی (آپ نے کسی موقع پر) کبھی اف تک نہ کہا ۔” ایسے حلیم الطبع اور بچوں پر مشفق نبی نماز کے مسئلہ پر اگر بچوں پر سختی کا کہہ رہے ہیں تو ثابت ہوتا ہے کہ اسلام میں حکمِ نماز کتنا اہم اور حساس ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بچے بڑے ذوق و شوق سے مسجد میں جایا کرتے تھے، بلکہ جناب عبداللہ بن عمر کہتے ہیں بچپنے سے لے کر کنوارے رہنے تک ہم سویا بھی مسجد میں ہی کرتے تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی چھوٹے بچوں کو مسجد میں لانے سے نہیں روکا۔ حدیث میں آتا ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "میرا دل کرتا ہے کہ میں نماز میں قرأت کو لمبا کروں، پھر میں بچوں کے رونے کی آوازوں کو پاتا ہوں تو میں قرأت کو مختصر کر دیتا ہوں۔ ” اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قرأت مختصر کردی مگر بچوں کو مسجد میں لانے سے منع نہیں کیا۔
    موجودہ دور بے راہ روی کا دور ہے، اس میں بچے تو کیا بچوں کے والدین بہت کم مسجد میں آتے ہیں۔ مسجدیں اپنے حجم کے حساب سے تقریبا ویران رہتی ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ بچوں اور ان کے والدین کو مساجد میں لا کر مساجد کی رونق کو دو بالا کیا جائے ۔اس حوالے سے ترکی نے سرکاری سطح پر ایک زبردست اقدام کیا، پہلے تو انہوں نے اپنی مساجد میں بچوں کے لیے کھیلنے کے لیے چھوٹے چھوٹے پلے گراؤنڈ بنائے، کہ سات سال سے چھوٹے بچے وہاں کھیلتے رہیں اور ان کے والدین با اطمینان نماز میں مشغول رہیں، پھر سات سال سے اوپر کے بچوں کے لیے یہ اعلان کیا کہ جو بچے چالیس دن نمازیں باجماعت ادا کریں گے انہیں بطور انعام سائیکلیں دی جائیں گی، جو کہ دی بھی گئیں ۔ان بچوں کی سائیکلوں کے ہمراہ تصاویر سوشل میڈیا پر کافی وائرل بھی ہوئی تھیں ۔ترکی کے بعد پاکستان کی کئی مساجد نے اپنے طور پر اس کار خیر کو اپنایا ۔ان میں گوجرانوالہ کی ایک مسجد کا پوسٹر مجھے دیکھنے کا اتفاق ہوا ۔اس کے بعد مسجد حلیمہ سعدیہ الرحمان گارڈن فیز ٹو نے یہ قدم اٹھایا، پہلے پہل تو یقین نہ آیا لیکن جب بچوں کو انعامات لیتے اور سائیکلوں کو سرپٹ دوڑاتے دیکھا، تو یقین مانیے دل کو بہت مسرت ہوئی ۔جامع مسجد حلیمہ سعدیہ الرحمان گارڈن فیز ٹو وہی مسجد ہے جہاں مجھے اس سال رمضان المبارک میں قرآن مجید سنانے کی سعادت حاصل ہوئی تھی، فللہ الحمد ۔
    اس مسجد میں رمضان المبارک سے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ جو بچے پورا رمضان مغرب، عشاء اور فجر کی نمازیں باجماعت مسجد حلیمہ سعدیہ میں ادا کریں گے انہیں انعام میں سائیکلیں دی جائیں گی اور دیگر قیمتی انعامات بھی دیے جائیں گے ۔اس خبر کے نشر ہوتے ہی ٹاؤن کے بچوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، وہ بڑھ چڑھ کر اپنا نام درج کروانے لگے
    پچاس بچوں نے اس میں حصہ لیا جو کہ بہت زبردست اور حوصلہ افزا تعداد تھی ، ماشاءاللہ ان پچاس بچوں کی مسجد آمد سے مسجد میں اچھی خاصی رونق ہوجاتی تھی، جس سے اس بات کی خوشی ہوتی تھی کہ ہم اپنی اگلی نسل تک دین پہنچا رہے ہیں ۔ان بچوں کی باقاعدہ حاضری لگتی تھی، جس کی ذمہ داری مسجد ہذا کے صدر ماسٹر مشتاق صاحب بڑی باقاعدگی سے نبھاتے رہے، جس پر وہ بھی اللہ کے ہاں یقینا اجر کے مستحق ہوں گے۔
    ان پچاس بچوں میں سے بیس بچے باقاعدگی سے آتے رہے اور ایک بھی نماز میں کمی نہیں کی ۔ان کی باقاعدگی کا یہ عالم تھا کہ یہ بچے اپنی نانی اماں اور دادی اماں کے ہاں افطاری پر بھی نہیں گئے، جس نے بھی دعوت دی اسے عید کے بعد کا وقت دیا، خوشی کی بات یہ ہے کہ یہ بچے طاق راتوں میں بھی مسجد میں جاگتے رہے ہیں اور عبادات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ہیں ۔الحمد للہ اس وجہ سے مسجد حلیمہ سعدیہ میں پورا رمضان رونقیں لگی رہیں ۔
    بالآخر رمضان کے آخر جمعہ میں نماز کے بعد بچوں میں سائیکلوں اور دیگر انعامات کی تقسیم کے لیے ایک پروقار تقریب منعقد کی گئی اور ان پابند بچوں میں نئی، اچھی اور معیاری سائیکلیں تقسیم کی گئیں، جنہیں پاکر بچوں کی خوشی دیدنی تھی اور دین پر عمل پیرا ہونے کے جذبات دوگنا ہو چکے تھے۔
    ان بیس بچوں کے علاوہ باقی تیس بچوں کو جن کی حاضری میں کچھ کمی تھی، ان میں حاضری کے بقدر انعامات بانٹے گئے جو کہ قیمتی بھی تھے اور اصلاحی بھی ۔جس میں دارالسلام کی دینی کتب، معیاری خوشبوئیں، منی فینز، گاڑیاں اور دیگر اچھی چیزیں تھیں۔
    اس کاوش میں سب سے اہم کردار اس مسجد کے خطیب پروفیسر حافظ عثمان ظہیر صدر جمیعت اساتذہ پنجاب کا ہے۔انہوں نے یہ اقدام اٹھایا اور سائیکلوں و انعامات کے لیے کافی متحرک بھی رہے ۔ماسٹر مشتاق ورک صاحب جو مسجد کے صدر ہیں، نے بڑی باقاعدگی سے تینوں اوقات میں بچوں کی حاضری لگائی۔ اسی طرح محترم حبیب کبریا صاحب برادر مکرم حافظ عبدالعظیم اسد صاحب کا کردار بھی لائق تحسین ہے جنہوں نے دارالسلام کی خوبصورت پروڈکٹس کے تحفے بچوں کے لیے عنایت کیے۔
    آخر میں پیغام ٹی وی کے زیر اہتمام تقریب نے اس پروجیکٹ کو چار چاند لگادیے ۔پیغام ٹی وی نے اس پروقار تقریب کی کوریج کی اور اسے چینل پر چلایا
    ہمیں امید ہے مسجد حلیمہ سعدیہ کا یہ منصوبہ دوسری مساجد کے منتظمین کو بھی تحرک دے گا اور وہ بھی اپنے علاقے کے بچوں کو مساجد میں لانے کے لیے ایسے ہی اقدامات کریں گے۔ اور یہ عمل نیکی کے فروغ میں مشعلِ راہ ثابت ہو گا۔

  • عید  کا  پیغام، پروفیسر زید حارث

    عید کا پیغام، پروفیسر زید حارث

    اللہ تعالی کے بندوں کو ایک پر مشقت عبادت کے بعد خوشی کا ایک دن میسر کیا گیا تا کہ وہ اللہ کا شکر ادا کریں اور اللہ کی تعریف کریں ۔ ولتكبروا الله على ما هداكم ولعلكم تشكرون: اللہ کی تعریف کہ اس نے ہم کو یہ مشقت و تعب والی عبادت کی توفیق دی اور اس بات پہ شکر کہ اس نے اہل اسلام کو کھلے میدانوں میں جمع ہونے کا حکم دے کر ہمیں محبت ومودت کی خوبصورت لڑی میں پرو دیا۔عید کا دن پیغام ہے ہر اس روزے دار کے لئے جس کے لئے کہ یہ دن واقعی جہنم سے آزادی کا دن قرار پا گیا ۔جس روزہ دار نے اپنے گناہ معاف کروا لئے۔جو اللہ کا ویسا بندہ بن گیا جیسا رمضان بنانا چاہتا تھا ۔جس کو رمضان نے حلیم و بردباری، عفو ودرگزر، تواضع و عاجزی اورعبادت و ریاضت کا پابند بنا دیا۔ جس روزہ دار کے دن اطاعت و فرمانبرداری سے اور راتیں قیام سے مزین ہو گئیں اور جو یہ سب نہ کما سکا وہ اپنا محاسبہ کر لے ۔ ابھی زندگی کی رونق باقی ہے۔ابھی سانس چل رہے ہیں ۔ ابھی تبدیلی کا امکان باقی ہے۔ صرف نئے کپڑے پہن کر عید کی خوشیوں میں شریک ہونے والا مسلمان یاد رکھے کہ حقیقی خوشی تو اس کی ہے جس کا دل اللہ کی محبت سے بھر چکا ہے جس کے دل میں گناہ سے نفرت کا مضبوط بیج بویا جا چکا ہے۔ عید کا دن مساکین وفقراء کے لئے خیر کاپیغام لے کر آیا ہے۔ہر روزے دار اپنے روزے کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ایک ایسا کام کرے گا کہ اس کے روزے کی کمی بھی پوری ہو جائے اور مسلمانوں کے معاشرے کا ہر فرد اس خوشی میں بھی شریک ہو جائے۔

    وہ فطرانہ ادا کرے گا جس کا ایک بنیادی مقصد حدیث میں کچھ یوں بیان کیا گیا کہ (طعمة المساكين) مساكین کے لئے کھانا بن جائے۔معزز مائیں اور بہنیں یاد رکھیں کہ یہ عید کا دن صرف میرے اور آپ کی تزیین وزیبائش کے لئے نہیں ہے ، ہم ایسے دین کے ماننے والے ہیں جو ہمیں اپنی ذات سے زیادہ دوسرے کی خواہش کے احترام کی تربیت دیتا ہے۔وہ مسکین جو آپ کے نئے کپڑے اور خوبصورت حالت وہیئت کو دیکھ کر آپ سے حسد شروع کر دیتا ہے خدارا اس کی مدد کر کے، اس کو اپنی خوشی میں شریک کر کے اس کو حسد سے محفوظ کیجئے اور اس کی دعاؤں کے مستحق بن جائیے جو کہیں بھی آپ کے لئے ایک مضبوط قلعہ ثابت ہو سکتی ہیں ۔عید کا پیغام ہے کہ ہم نے جس طرح رمضان میں اللہ کے حکم پہ حلال چیزوں کو اپنے لئے حرام کیے رکھا ،اب سرکش شیطانوں کے کھل جانے پہ کہیں ہم اپنے لئے حرام کو بھی حلال نہ کر لیں ۔عید کے تین دنوں میں رشتہ دار و اقارب کی دعوتوں پہ اسراف سے اجتناب کیجئے ۔ سارا مہینہ تو ہم اس بات پہ خوش رہے کہ شیطانوں کو جکڑ دیا گیا ہے لیکن ان تین دن کی دعوتوں کہیں ہم اس آیت کا مصداق تو نہیں بن جاتے "إن المبذرين كانوا إخوان الشياطين” یقینا فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں ۔رمضان نے شیطان سے نفرت کا جو جذبہ پیدا کیا تھا۔ اپنے عمل اور کردار سے اس نفرت کا ثبوت دیجئے۔ دعوت ضرور کیجئے لیکن اعتدال اور میانہ روی کا دامن نہ چھوٹنے پائے اور اپنے دستر خوانوں پہ مساکین کی جگہ ضرور رکھئے ۔اللہ ان میں برکتیں ڈال دے گا۔عید الفطر کا ایک اہم پیغام کہ تمام مسلمانوں کو ایک میدان میں جمع کر کے،عورتوں کو بھی نماز عید میں شامل ہونے کا حکم دے کر، نماز نہ پڑھنے والی عورتوں کو بھی مسلمانوں کی عید گاہ میں پہنچنے کا حکم دے کر اتفاق واتحاد کو عملی جامہ پہنانا ہے ۔اتفاق واتحاد کی ایک اعلی مثا ل پیدا کرنی ہے۔باہمی کدورتیں اور نفرتیں، قبائلی و علاقائی تعصبات، مسلکی وسیاسی تفریقات اور افتراقات کو بھلا کر ایک میدان میں اکٹھے ہو کر اہل اسلام کی یگانگت کا عملی مظاہرہ کیا جائے ۔اس قدر خوبصورت معاشرتی اقدار رکھنے والے دین کے پیروکار عید کے اس پر مسرت موقع پہ لسانیت و قومیت کا گھناؤنا کھیل کھیل کر ایک اسلامی ملک کے تشخص کو مسخ کرنا چاہتے ہیں یا اپنے کامل دین اسلام کی خوبصورت تصویر کو دنیا میں بدنما کرنا چاہتے ہیں یا ملک و ملت کے دشمنوں کے ایجنڈے کی تکمیل کرنا چاہتے ہیں؟ آئیے رمضان کے آخر میں عید کے پر مسرت موقع پہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کر کے اپنی قوم کے سر کو فخر سے بلند کیجیے۔