Baaghi TV

Tag: رمضان

  • رمضان اور ہماری منافقت … نوید شیخ

    رمضان اور ہماری منافقت … نوید شیخ

    رمضان مسلمانوں کے لیے سب سے متبرک مہینہ ہے ۔ اسی ماہ میں قرآن پاک کا نزول ہوا۔مگر پاکستان میں ہر سال اس ماہ میں لڑائی جھگڑے اور دیگر غلط کاموں میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ اس ماہ میں شیطان تو قید ہو جاتاہے مگر ہمارانفس آزادہوجاتاہے ۔ بے شک بابا بلھے شاہ نے درست فرمایاتھا کہ – میری بُکل دے وچ چور – یعنی میری چادر میں ہی چور چھپا ہے۔

    رمضان آتے ہی سب نماز،تروایح، باقاعدہ قرآن پاک تلاوت میں مشغول ہو جاتے ہیں . مساجد میں حاضری میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہو جاتاہے ۔ داڑھیاں بڑھا لی جاتی ہیں۔ہاتھ میں تسبیح اورسر پر ٹوپیاں بڑے اہتمام سے پہنی جاتی ہیں۔جو کہ بہت اچھی بات ہے ۔مگر جھوٹ،چغل خوری، سود ، حرام کمانا، ملاوٹ،ذخیرہ اندوزی،جعلی دوائیاں، رشوت لینا ، رشوت دینا،چوری چکاری،دھوکہ دہی،لعن طعن کرنا نہیں چھوڑتے ۔کسی کا حق مارنا ہو تو ہم میں سے کو ئی پیچھے نہیں رہتا۔ بھائی بھائی کاحق مار لیتا ہے بیٹا باپ کو مار دیتا ہے بھائی بہن کی زمین پر قبضہ کر لیتا ہے ۔

    مزید پڑھیے : ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

    بڑے بڑے رئیس۔ امیر کبیر۔ روزانہ سینکڑوں لوگوں کو سحری اور افطاری کروا کر نیکیاں تو کماتے ہیں مگر اپنے ورکروں کو وقت پر تنخواہ دیتے وقت ان کو موت پڑ جاتی ہے۔امیر تو پھر امیر ہیں- عام آدمی بھی کچھ کم نہیں ۔ورکر طبقہ روزہ رکھ کر اگر کام پر آہی جائے تو ایسا محسوس کروا تا ہے کہ جیسے اس کا کام پر آنا احسان ہو ،روزہ رکھ کر کام میں ڈنڈی مارنا ، جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا ، گالی گلوچ کرنا اُس نے سب روضے کے نام پر حلال کر لیا ہے۔

    دکان دار جہاں افطاریاں کرواتے ہیں وہیں قوم شعیب علیہ السلام کے وطیرہ پر پوری طرح عمل پیرا ہیں۔ ناپ تول میں کمی، مہنگائی، ملاوٹ پہلے سے بھی زیادہ کرتے ہیں۔ کیونکہ نیکیوں کے ساتھ ساتھ سیزن بھی تو سمیٹنا ہے۔ دوکانداروں کے لیے رمضان کی برکتیں ایسی ہوتی ہیں کہ باقی گیارہ مہینوں کے برعکس صرف اس ماہ میں ہر چیز دو گنا،تین گنازیادہ قیمت پر بیچی جاتی ہے۔جگہ جگہ گھٹیا تیل سے بنے پکوڑے، سموسے ، جلیبیاں، گلے سڑے پھلوں والی فروٹ چاٹ روزہ رکھ کر دھڑلے سے لوگوں کو بیچی جاتی ہیں ۔

    مزید پڑھیے: پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

    صدقہ ، زکوة، خیرات دیتے وقت ذاتی تشہیر پر زورزیادہ رہتا ہے ۔فیس بک ،ٹویٹر، اخبارات ایسی تصویروں سے بھرے ہوتے ہیں جس میں کبھی کوئی راشن تو کبھی عیدکے کپڑے غربیوں میں تقسیم کررہا ہوتا ہے۔ مسجدوں کی رونقیں خوب بحال کی جاتی ہیں ہر کوئی اس تیزی میں رہتا ہے کہ ہر حال میں نماز باجماعت ادا کی جائے ۔مگر کوئی یہ فکر نہیں کرتاکہ دن بھر اس نے روزہ رکھ کرکیسے کیسے دونمبریاں کی ہیں ۔ کتنے جھوٹ بولے ہیں ۔کتنے لوگوں کا حق مارا ہے ۔رمضان کے آخری عشرے میں جب ہر کوئی عید کے لیے نئے کپڑے اور جوتے خریدتا ہے ۔ لاری اڈوں پر پردیسیوں کا رش بڑھ جاتا ہے ۔ تب کاروباری حضرات اپنے ریٹس ایسے بڑھاتے ہیں جیسے یہ عید ان کی زندگی کی آخر عید ہو۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا ”جو آدمی روزہ رکھتے ہو ئے باطل کام اور باطل کلام نہ چھوڑے تو اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔(صحیح بخاری،جلدنمبر 1،صفحہ نمبر:255)

    رمضان کا مقدس مہینہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم کھانے پینے سے ہاتھ روک کے اپنے اردگرد بسنے والے غریبوں،مسکینوں اور بے سہاروں کا خیال کریں۔یہ سمجھنا ہوگا کہ اللہ پاک اپنے حقوق تو معاف کردے گا مگر جو دھوکا،مکر و فریب ، چور بازاری اور منافع خوری ہم اپنے بھائیوں سے کرتے ہیں وہ اللہ پاک ہر گز معاف نہیں کرے گا۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • ماہ رمضان کے تقاضے، تحریر: پروفیسر زید حارث

    ماہ رمضان کے تقاضے، تحریر: پروفیسر زید حارث

    رمضان مسلمانوں کی جسمانی و روحانی تربیت کا مہینہ ہے۔ اس مبارک اور مقدس مہینے کا ایک اہم تربیتی پہلو یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے مخلص کرے اور یہ اخلاص اس کے دل میں موجود ہو۔

    محترم قارئین: ہم درج ذیل سطور میں ان احادیث کا جائزہ لیتے ہیں جو اس پہلو کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تمہارے ساتھ کوئی جھگڑا کرے تو کہہ دو کہ "میں روزے سے ہوں "۔ ایک مسلمان روزے کی حالت میں اپنے آپ کو اس قدر متواضع بنا لے اور دوسرے انسان کے حق میں ایسا نرم ہو۔

    اور حدیث مبارکہ میں یہ ذکر نہیں کہ کوئی مسلمان گالی دے بلکہ فرمایا; فإن شتمه أحد ” اگر اس کو کوئی بھی گالی دے تو وہ کہے : میں روزہ دار ہوں۔ بلکہ بعض روایات میں فرمایا کہ ” اگر اس سے کوئی لڑائی بھی کرے یعنی معاشرے میں رہنے والا ہر فرد صرف اس کی برائی اور زیادتی سے محفوظ ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ زیادتی کرنے والے کو بھی جواب مسکراہٹ میں ملے گا۔ایک انسانی معاشرے کو ایسا شاندار حسن فراہم کرنے والی عبادت روزہ ہے کہ روزہ رکھنے والا پورا مہینہ اس بات پہ اپنی تربیت کرے کہ زیادتی گالی کا جواب پتھر سے نہیں بلکہ اخلاق کی اعلی اقدار کا مظاہرہ کرکے دیا جائے۔دنیا میں اس کردار سے بڑھ کر اعلی کردار کیا ہو سکتا ہے؟ لیکن افسوس کہ زندگی کے کئی رمضان گزارنے کے باوجود ہم اس کردار سے عاری اور ہمارا معاشرہ ان اقدار سے محروم نظر آتا ہے۔ دوسری حدیث میں تو روزہ ایک مسلمان کی زندگی کو صداقت و اخلاص کے اعلی معیار پہ لے جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة أن يدع طعامه و شرابه ".

    روزہ ایک مسلمان کی زندگی کے قول و فعل میں صداقت و سچائی پیدا کر دیتا ہے اور اگر ایک روزے دار اپنے اقوال یا اعمال میں سچائی کا رنگ پیدا نہیں کرتا تو اللہ کو اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔کیا ہم اپنے اقوال میں ہمیشہ سچ بولتے ہیں؟

    ہم تکلفا کہہ دیتے ہیں کہ نہیں جی مجھے بھوک نہیں میں نے کھانا کھا لیا ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہم مشورہ دینے میں بھی بہت زیادہ جھوٹ کا استعمال کر جاتے ہیں۔ بالخصوص دفاتر میں یا آفس میں افسر اور ذمہ دار کو مشورہ دینے کا وقت ہو تو ہم اپنا قیمتی اور خیرخواہی کا مشورہ نہیں بلکہ اس کے مزاج اور اس کی پسند کا خیال کرتے ہوئے اس کی رائے کا موافقت کرتے رہتے ہیں حالانکہ ہم جانتے بوجھتے ہوئے ایسا کر رہے ہوتے ہیں۔ اسی طرح عدالتوں کے دروازے اور کچہریوں کے ٹیبل گواہوں سے بھرے ہوئے ہیں ۔ہمیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ ہماری گواہی کا اثر کیا ہو گا۔ ہمیں صرف پیسہ کمانے سے غرض ہے۔

    اس طرح کی کئی ایک مثالیں ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔ ہمیں رمضان کی ابتدا ہی سے اپنے نفس کی تربیت پہ محنت کرنا ہو گی تاکہ رمضان کے آخر میں عبادات میں واضح تبدیلی کے ساتھ ساتھ حقوق العباد میں بھی تبدیلی کا واضح اثر ہمارے تعاملات اور سلوک میں موجود ہو۔ رمضان کا مقدس مہینہ حقوق العباد کی ادائیگی پہ ترغیب دیتے ہوئے ہمیں اس بات کا بھی درس دیتا ہے کہ ہم اپنے ارد گرد غرباء اور فقراء مساکین کا مالی تعاون کریں ۔صحیح مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں تیز آندھی سے بھی زیادہ رفتار سے سخاوت کرتے تھے۔

    تو اس سخاوت سے مراد ہر گز یہ نہیں کہ بہت زیادہ مال ودولت کی ملکیت کے بعد ہی اس پہ عمل ہو سکتا ہے۔

    بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کی حالت تو واضح ہے کہ بہت زیادہ وافر غذا یا مال میسر نہیں تھا ۔ اس کے باوجود جو کچھ موجود ہو اس میں سے اللہ کے رستے میں دیتے رہنا اور اپنے مال کو پاک کرنا اور اللہ کے بندوں کی پریشانی کو خوشی اور مسرت میں بدل دینا رمضان کا شعار ہے۔اسی طرح روزے دار کو افطاری کروانا بھی ایک روزے دار کے اجر کی مقدار کے برابر ہے۔

    اس میں بھی اس بات کا اہتمام کرنا چاہئے کہ ان لوگوں کو افطاری کروائی جائے جو مستحق ہیں۔ اس طرح رمضان کے مقدس مہینے میں ہم لوگوں کی بھوک دور کر کے اس معاشرے میں عدل اور اخوت کا ایک خوبصورت منظر پیش کر سکتے ہیں ۔ یہ مہینہ حقوق اللہ میں مسابقت اور حقوق العباد کی ادائیگی میں اپنی کمی و کوتاہی کو دور کرنے کا ایک سنہری موقع ہے۔

  • رمضان، ماہ قرآن ۔۔۔ حافظ ابتسام الحسن

    رمضان، ماہ قرآن ۔۔۔ حافظ ابتسام الحسن

    رمضان المبارک کے بے شمار فضائل و مناقب ہیں، ہزاروں فضیلتیں اور کئی بڑی بڑی عبادتیں اس سے منسلک ہیں، اس کے اعزازات میں سرکش شیاطین و مردود جنات کا جکڑ دیا جانا، ہولناک جہنم کے دروازوں کا بند ہونا اور نعمتوں سے بھرپور جنت کے ابواب کا کھل جانا بھی شامل ہے۔ اس ماہ مقدس میں گناہوں کی قلت اور نیکیوں کی کثرت ہوجاتی ہے، پھر نیکیوں کے اجر میں دس گنا سے سات سو گنا اور سات سو سے آگے جتنا اللہ چاہے اضافہ کرتا ہے۔ ہر دن اور رات میں کثیر تعداد میں لوگوں کو جہنم سے آزادیاں ملتی ہیں، جنت کے پروانے ملتے ہیں اور ان سب سے بڑھ کر رضائے الہی کا حصول ہوتا ہے ۔
    ان تمام کبار اعزازات کے ساتھ ساتھ رمضان المبارک کا ایک جداگانہ اعزاز یہ ہے کہ اس میں قرآن مجید و فرقان حمید ایسی لاریب کتاب کا نزول ہوا ہے ۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ رمضان کا اعزاز قرآن ہے اور قرآن کا اعزاز رمضان ہے۔ قرآن معجزہ ہے اور یہ معجزہ رمضان المبارک ایسے بابرکت اور پر رحمت مہینے اور مہینے کی بھی سب سے مقدس اور فضائل کے لحاظ سے سب سے افضل رات "لیلۃ القدر” جس کی عبادت کا ثواب ہزار مہینوں سے زیادہ ہے، میں رونما ہوا ۔اس کا خصوصی تذکرہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی سورۃ البقرۃ میں بھی کیا ہے ۔”ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق و باطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں۔”

    اس آیت سے معلوم ہوا کہ ماہ رمضان کا قرآن مجید کے ساتھ خاص تعلق ہے، اسی وجہ سے صاحب القرآن والشریعہ جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس مہینے میں قرآن کی تلاوت بکثرت کیا کرتے تھے، بلکہ فرشتوں کے سردار جبریل امین سے مل کر قرآن مجید کا دور کیا کرتے تھے۔صحیح بخاری میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیر کے سب سے زیادہ کام رمضان المبارک میں کیا کرتے تھے، اور رمضان المبارک کی ہر رات آپ کو جبریل امین ملتے تھے، اور جب بھی جبریل امین آپ کو ملتے آپ انہیں قرآن سناتے تھے۔”
    قرآن اور رمضان کا تعلق صرف دنیا میں ہی نہیں یوم آخرت میں بھی ہوگا ۔روزہ اور قرآن مجید دونوں مل کر بندوں کی سفارشیں کریں گے ۔مسند احمد میں روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : "روزہ اور قرآن دونوں بندے کے حق میں بروز قیامت شفاعت کریں گے ۔روزہ کہے گا! اے میرے رب! میں نے اس بندے کو کھانے پینے اور جائز ضروریات سے روکے رکھا ۔اے میرے رب اس کو بخش دے ۔پھر قرآن کہے گا! اے میرے رب! میں نے اسے رات کو سونے اور آرام سے روکے رکھا ۔اے میرے رب اس کے حق میں میری شفاعت قبول فرما اور اسے بخش دے ۔اللہ تعالیٰ دونوں کی شفاعت قبول کرتے ہوئے بندے کو بخش دیں گے اور بندہ جنت میں چلا جائے گا ۔”مذکورہ حدیث سے یہ بات ثابت ہوئی کہ رمضان المبارک میں قائم الیل و صائم النھار شخص یوم قیامت روزے اور قرآن کے ذریعے باآسانی خلاصی پا جائے گا ۔
    آج کے دور میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ قرآن سے دور ہوتے جارہے ہیں، اس کا اس طرح سے حق ادا نہیں کر رہے جس طرح کہ کرنا چاہیے ۔اکثریت اس معاملے میں خاصی کمزور اور سست دکھائی دیتی ہے ۔جب کہ اسلاف کا معاملہ رمضان المبارک میں قرآن کے حوالے سے خاصا مضبوط بھی تھا اور مربوط بھی۔وہ قرآن کی تلاوت کو پوری باقاعدگی ،دلجمعی اور خوش الحانی سے کیا کرتے تھے ۔ذیل میں کچھ حوالے درج کیے جا رہے ہیں جس سے ہمیں اندازہ ہوگا کہ اسلاف رمضان میں قرآن مجید کی تلاوت کے لیے کس کس انداز میں کوشاں تھے اور اس کے بغیر رمضان کی عبادات کو نامکمل سمجھتے تھے ۔
    جلیل القدر صحابی سیدنا عبداللہ بن مسعودؓ رمضان میں تین دنوں میں قرآن ختم کرتے تھے ۔ [سنن سعید بن منصور 150] تابعی امام علقمہؒ پانچ دنوں میں قرآن مجید مکمل کرتے تھے۔[ابن ابی شیبہ 8667]
    تابعی امام قتادہؒ عام دنوں میں سات ایام میں قرآن ختم کرتے تھے،جب رمضان آتا تو تین راتوں میں پورا قرآن پڑھ لیتے اور جب آخری عشرے میں داخل ہوتے تو ہر شب پورے قرآن کی قراَت کرتے۔ [حلیۃ الاولیاء]
    امام ابراہیم نخعیؒ رمضان میں تین دنوں میں قرآن ختم کر لیتے تھے لیکن آخری عشرے میں دو راتوں میں مکمل کرتے تھے۔ [مصنف عبدارزاق 5955]
    تابعی امام اسود بن یزیدؒ رمضان میں دو راتوں میں مکمل قرآن کی تلاوت فرماتےاور مغرب و عشاء کے مابین آرام کرتے تھے، جب کہ عام دنوں میں وہ چھ دنوں میں ایک قرآن ختم کرتے تھے ۔ [ابن ابی شیبہ 8667]
    امام زہریؒ فرماتے تھے رمضان قراَت قرآن اور کھانا کھلانے کا مہینا ہے۔
    امام مالکؒ رمضان کے آتے ہی طلباء کو پڑھانا بلکہ حدیث کی مجلس ہی چھوڑ دیتے تھے اور صرف قرآن مجید کی تلاوت میں مشغول ہو جاتے تھے اور فرماتے تھے یہ مہینا تو قرآن کا مہینا ہے ،اس میں تو ہم بس قرآن کی طرف ہی رجوع کریں گے ۔امام سفیان ثوریؒ رمضان میں تمام عبادات چھوڑ کر صرف قراَت قرآن میں مشغول رہتے ۔ امام احمد ابن حنبلؒ تمام کتابیں بند کر دیتے اور فرماتے کہ یہ قرآن کا مہینا ہے ۔ امام وکیع بن جراحؒ ہر شب میں مکمل قرآن اور مزید دس پاروں کی تلاوت کرتے۔
    تین دن سے کم میں ختم قرآن کی ممانعت کے حوالے سے امام ابن رجب حنبلیؒ نے یہ توجیہ کی ہے کہ یہ ممانعت عام دنوں کے دائمی معمول کے متعلق ہے لیکن زمان و مکان کی فضیلت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس سے کم میں بھی قرآن مکمل کیا جا سکتا ہے-امام احمد ، امام اسحاق اور دیگر متعدد ائمہ کا یہی موقف تھا اور اسی پر ان کا عمل بھی تھا ۔ [لطائف المعارف 183]
    قارئین کرام! مذکورہ آیات و احادیث اور عمل ائمہ و تابعین سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ رمضان کا مہینا فی الحقیقت کا قرآن کا مہینا ہے ۔جو لوگ قرآن کے بنا ہی رمضان کو گزارتے ہیں وہ صحیح معنوں میں حق رمضان نہیں ادا کرتے ۔رمضان کی رحمتوں اور برکتوں سے تبھی مستفید ہوسکتے ہیں جب اس میں قرآن کی تلاوت کا ایک بڑا حصہ شامل ہو ۔کوشش کریں کہ رمضان میں کم از کم ایک قرآن مجید لازمی ختم کیا جائے ۔

  • کیا خوشی ہے کہ رمضان آگیا ہے،وہ رمضان کہ جس کی برکتیں اور رحمیتں سیل رواں کی طرح بے قابو ہوتی ہیں ،اس سیل رواں سے نہ تو بچا جاتا ہے اور نہ اس کی لہروں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے بلکہ اس میں غوطہ زن ہوا جاتا ہے اور رحمتوں کہ لہروں کے بہاؤ کے ساتھ بہنے کے لیے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا جاتا ہے، رحمتوں اور برکتوں کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ جیسے ہی یہ ماہ مقدس شروع ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، آسمان کے دروازے سے مراد برکت کے دروازوں کا کھلنا ہے، اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ رمضان شروع ہوتے ہی ہر طرف اشیاء خوردونوش کی فروانی ہو جاتی ہے، موسمی پھلوں کی بہتات ہوتی ہے، کھجور جو پورا سال پتہ نہیں کہاں غائب ہوتی ہے رمضان میں جگہ جگہ میسر ہوتی ہے،دودھ دہی کی جتنی بکری اس ماہ میں ہوتی ہے کسی اور ماہ میں نہیں ہوتی، کپڑے اور جوتے کا کاروبار سب سے زیادہ اسی مہینے میں ہوتا ہے، غریب، امیر ہر گھر میں خوشحالی آتی ہے، اسی طرح تقریبا ہر چیز دوگنی ہوجاتی ہے مزید یہ کہ ہر شخص کی آمدنی دوگنی ہوجاتی ہے، ان سب سے رمضان کی برکتیں روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہیں ۔
    حدیث کے اگلے الفاظ یہ ہیں کہ "جنت کے سارے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور پورا مہینا ان میں سے ایک بھی بند نہیں رکھا جاتا ” ان الفاظ میں یہ واضح پیغام ہے کہ یہ مہینا جنت کمانے کا ہے، وہ جنت جو مسلمانوں کی منزل مراد اور ابدی قرار گاہ ہے، جس کے حصول کے لیے تمام عبادات کو بنیاد بنایا گیا ہے، جو نعمتوں سے بھرپور ہے، جس میں فواکہ، حور و غلمان اور سلسبیل و زنجبیل ہے، جس کا عرض دنیا وما فیہا سے زیادہ ہے، جس میں باغات ہیں اور ان کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، دودھ کی نہریں، شراب اور شہد کی نہریں ۔جس کا ایک ایک خیمہ ساٹھ ساٹھ میل لمبا ہے، جس کا لالچ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں جگہ جگہ دیا ہے، وہ جنت جس کا سب سے اونچا مقام "محمود ” ہے، جو کہ کائنات کی اعلی ترین ہستی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا جائے گا ۔اس جنت کے دروازے رمضان میں فقط اس لیے کھولے جاتے ہیں کہ مسلمانوں کو بتا دیا جائے کہ ان کا ٹھکانہ یہی اور بس یہی ہے، اس کے سوا اور کہیں نہیں جانا ہے، لہذا اس ماہ مقدس میں مسلمان اس جنت کے حصول کے لیے تگ و دو کریں، دعائیں کریں، جدوجہد کریں بلکہ قرآن مجید میں تو اللہ تعالیٰ کہتے ہیں ” دوڑو، بھاگو، لپکو اس جنت کی جانب ۔ایک مقام میں ہے "کہ اس جنت کے حصول کے لیے آپس میں مسابقہ کرو، ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو، چنانچہ پورا رمضان اس جنت کے حصول کے لیے کوشاں رہنے کا نام ہی رمضان ہے،اور اس میں جنت کے دروازوں کا کھلنا رمضان کی برکت اور رحمت ہے ۔
    حدیث کے اگلے الفاظ یہ ہیں کہ” جہنم کے سارے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور ان میں سے ایک بھی کھلا نہیں رکھا جاتا "اس میں بھی رمضان کے توسط سے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ اب تمہاری زندگی میں رمضان آگیا ہے، اب تم جہنم میں نہیں جا سکتے، جہنم کے دروازے بند کرنے کا پہلا اور آخری مقصد یہی ہے۔ یہ ہو نہیں سکتا کہ کسی شخص کی زندگی میں رمضان آجائے اور اس کے باوجود وہ جہنم میں چلا جائے ۔وہ جہنم جس کی ہولناکی اور ہیبت ناکی کی مثل اور کوئی شے نہیں ہے، وہ جہنم جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے، مطلب جتنے انسان اس میں ڈالتے جائیں گے اس کی آگ اتنی بھڑکتی جائے گی، وہ جہنم جس کی آگ دنیا کی آگ سے انہتر گنا زیادہ تیز ہے، وہ جہنم جس کا بعض بعض کو کھا رہا ہے، وہ جہنم جس کی آگ کے نام سقر، ھاویہ، سعیر ہے اور جو چمڑوں کو جلا دینے اور دلوں تک پہنچنے والی ہے، وہ جہنم جو رہنے کا سب سے برا ٹھکانہ ہے، وہ جہنم جو سانس باہر پھینکتی ہے تو دنیا گرمی سے جھلسنے لگ پڑتی ہے اور سانس اندر کھینچتی ہے تو دنیا سردی سے ٹھٹھرنے لگ پڑتی ہے، وہ جہنم جس کی گہرائی ستر سال کی مسافت جتنی ہے اور طول و عرض کا تو حساب ہی نہیں ۔ایسی ہولناک جہنم کے دروازے بند ہوتے ہیں تو فقط رمضان المبارک کی بدولت، یہ رمضان کی برکتیں اور رحمتیں ہی تو ہیں ۔
    حدیث کے اگلے الفاظ یہ ہیں کہ” ہر سرکش شیطان اور شریر جن کو قید کردیا جاتا ہے”ایسا کر کے بھی مسلمانوں کو یہ واضح پیغام دیا جاتا ہے کہ تمہارا ازلی وابدی دشمن سرکش شیطان زنجیروں میں جکڑ دیا گیا، لہذا اب تم نیکیاں کرنے کے لیے مکمل آزاد اور خود مختار ہو، تمہارے رستے کا سب سے بڑا کانٹا نکال دیا گیا ہے اور اٹکن ہٹا دی گئی ہے، اب تم شیطان کے وسوسوں، اس کی پھونکوں، بہکاووں اور تحریض سے پرے اور محفوظ ہو ،چنانچہ نیکیاں کرو، نمازیں پڑھو، دن کا صیام اور رات کا قیام کرو، صدقہ خیرات کرو، زکوہ ادا کرو، جہاد فی سبیل اللہ میں شریک ہو، غرض ہر طرح کی نیکی کرو اور ہر طرح کے گناہ سے بچو، کیونکہ شیطان جکڑ دیا گیا ہے، اور تمہارے پاس نیکی نہ کرنے اور گناہ سے نہ بچنے کا کوئی عذر اور جواز نہیں ہے، حیرت ہے اس شخص پر شیطان باندھ دیا گیا ہو، جہنم کے دروازے بند کردیے گئے ہوں اور جنت کے دروازے کھول دیے گئے ہوں اور وہ اس کے باوجود نیکی نہ کرے، تو سوائے محرومی کے اس شخص کے مقدر میں کچھ نہیں ۔
    قارئین کرام! حدیث کے اگلے الفاظ یہ ہیں کہ رمضان شروع ہوتے ہی ایک منادی لگانے والا یہ منادی لگاتا ہے، اے نیکیاں اور خیر چاہنے والے! آگے بڑھ، کر ہر وہ نیکی جو تجھے پسند ہے، کیونکہ رمضان آیا ہی نیکیوں کے لیے ہے، پھر وہ منادی اگلی منادی یہ کرتا ہے کہ اے گناہ کرنے اور شر چاہنے والے رک جا! بس کر جا، بہت گناہ کر لیے، اور کتنے کرے گا، اس غلاظت میں اور کتنا گندا ہوگا، اس گناہ کی بستی میں اور کتنا رسوا ہوگا، دیکھ رمضان آگیا ہے، نیکیوں کا موسم بہار آگیا ہے، اب گناہ ترک کر. معصیت چھوڑ، رسوائیوں والے اعمال کو ٹھوکر مار اور رشدو ہدایت، ایمان، اعمال صالحہ اور تقوی کی طرف آجا۔منادی کرنے والے کی روز کی یہ منادی بھی رمضان کی رحمتوں برکتوں میں شامل ہے

    قارئین کرام! رمضان المبارک وہ ماہ مقدس ہے جس کا انتظار اسلاف صلحاءکو سال بھر رہتا ہے ،جس کو پانے کی وہ اللہ سے دعائیں و التجائیں کرتے رہتے تھے، پھر جب رمضان کو پالیتے تو اس میں عبادات اتنی شدت سے کرتے کہ رمضان کا کما حقہ حق ادا کر دیتے تھے، آج وہ رمضان میری اور آپ کی زندگی میں آیا ہے، دیکھیے، شیاطین باندھ دیے گئے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیے ہیں اور جنت کے دروازے کھول دیے گئے ہیں ۔آگے بڑھیے! بذریعہ رمضان جنت کمالیجیے اور جہنم سے آزاد ہو جائیے۔

  • مقامی فلاحی تنظیم کی جانب سے ایک سو بیس خاندانوں میں رمضان پیکج کی تقسیم

    مقامی فلاحی تنظیم کی جانب سے ایک سو بیس خاندانوں میں رمضان پیکج کی تقسیم

    راولپنڈی :مقامی فلاحی تنظیم سدا بہار ویلفئیر ٹرسٹ کی جانب سے ڈھوک چوہدریاں میں رمضان پیکج تقسیم کیے گئے،جس میں ایک سو بیس خاندانوں میں چینی،چاول،آئل،چائے،مشروبات،آٹا،کھجور،سویاں،دالیں اور دیگر اشیاء تقسیم کی گئیں،اس موقع پر حافظ ماسٹر عبد الشکور،ڈاکٹر ربنواز راجہ،پوسٹ ماسٹر یاسر محمود راجہ،راشد محمود راجہ ودیگر موجود تھے.