Baaghi TV

Tag: رواں مالی سال

  • تنخواہ دار طبقہ ٹیکس ادائیگی میں سب سے آگے،  499 ارب روپے جمع

    تنخواہ دار طبقہ ٹیکس ادائیگی میں سب سے آگے، 499 ارب روپے جمع

    رواں مالی سال کے ابتدائی 11 مہینوں میں تنخواہ دار طبقے نے تمام شعبوں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے سب سے زیادہ ٹیکس ادا کیا۔

    ذرائع کے مطابق نوکری پیشہ افراد نے حکومت کو 499 ارب روپے ٹیکس کی مد میں ادا کیے، جو کہ تمام دیگر شعبوں سے حاصل ہونے والے ٹیکس سے زیادہ ہے۔ٹیکس وصولی کی تفصیلات کے مطابق برآمدات کے شعبے سے 96 ارب 36 کروڑ روپے، جائیداد کی فروخت پر 110 ارب 18 کروڑ روپے، جائیداد کی خریداری پر 109 ارب 68 کروڑ روپے، تھوک کاروبار سے 22 ارب 36 کروڑ روپے اور پرچون کاروبار سے 33 ارب 30 کروڑ روپے ٹیکس حاصل کیا گیا۔

    اعداد و شمار کے مطابق حکومت کی ٹیکس وصولی کا سب سے بڑا انحصار تنخواہ دار طبقے پر رہا، جس نے اپنی ذمہ داری بھرپور طریقے سے نبھائی۔

    مثالی قدم، ملیر جیل سے فرار قیدی کو ماں نے خود جیل حکام کے حوالے کر دیا

    سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے میں تناؤ بڑھا سکتی ہے، طارق فاطمی

    امارات میں میڈیا قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے، پاکستانیوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت

    امارات میں میڈیا قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے، پاکستانیوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت

  • برآمدات میں 10.52 فیصد کا اضافہ

    برآمدات میں 10.52 فیصد کا اضافہ

    رواں مالی سال کے چھ ماہ میں برآمدات میں 10.52 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ادارہ شماریات نے بیرونی تجارت کے اعداد و شمار جاری کردیے ہیں ،ادارہ شماریات کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال اسی عرصے میں 14 ارب 98 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی برآمدات تھیں، جولائی تا دسمبر درآمدات میں 6.11 فیصد کا اضافہ ہوا۔ جولائی تا دسمبر برآمدات کا حجم 16 ارب 56 کروڑ ڈالر سے زیادہ رہا۔ادارہ شماریات نے بتایا کہ چھ ماہ میں درآمدات کا حجم 27 ارب 73 کروڑ ڈالر سے زیادہ رہا جب کہ گذشتہ مالی سال اسی عرصے میں 26 ارب 13 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی درآمدات تھیں۔ادارہ شماریات نے مزید بتایا کہ چھ ماہ میں ملکی تجارتی خسارہ 11 ارب 17 کروڑ ڈالر سے زیادہ رہا، رواں مالی سال گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تجارتی خسارے میں 0.18 فیصد کا اضافہ ہوا۔

    پاک بحریہ کا کامیاب آپریشن، 1 ملین ڈالر کی منشیات برآمد

    سعودی عرب میں 6 ایرانیوں کے سر قلم

  • رواں سال پاکستان کی بیشتر ممالک کیلئے برآمدات میں اضافہ ہوا

    رواں سال پاکستان کی بیشتر ممالک کیلئے برآمدات میں اضافہ ہوا

    رواں مالی سال کے ابتدائی 2 ماہ پاکستان کی بیشتر ممالک کے لیے برآمدات میں اضافہ ہوا ہے، سنگاپور کے لیے برآمدات میں سب سے زیادہ 585 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ امریکا کے لیے برآمدات کا حجم سب سے زیادہ 98 کروڑ ڈالر رہا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق مالی سال کے پہلے 2 ماہ میں سنگاپور کے لیے برآمدات میں 585 فیصد، قازقستان کے لیے 528 فیصد جبکہ فلپائن کے لیے برآمدات میں 148 فیصد کا اضافہ ہوا۔جولائی اور اگست 2024 میں متحدہ عرب امارت کے لیے برآمدات 56 فیصد بڑھیں جبکہ اسی مدت میں سری لنکا کے لیے برآمدات میں 50 فیصد، افغانستان کے لیے 42 فیصد اور بنگلہ دیش کے لیے برآمدات میں 34 فیصد اضافہ ہوا۔مالی سال کے پہلے 2 ماہ میں اومان کے لیے برآمدات میں 35 فیصد جبکہ سعودی عرب کے لیے 24 فیصد اضافہ ہوا۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جولائی، اگست 2024 میں امریکا کے لیے برآمدات میں 12.5 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ اسی دوران اٹلی کے لیے برآمدات میں 12.6 فیصد، جرمنی کے لیے 12.3 فیصد اور برطانیہ کے لیے برآمدات میں 5.4 فیصد اضافہ ہوا۔ذرائع کے مطابق مالی سال کے پہلے دو ماہ میں کینیا، بیلجیئم، اسپین، آسٹریلیا، کینیڈا سمیت دیگر ممالک کے لیے بھی برآمدات میں اضافہ ہوا۔مالی سال کے پہلے 2 ماہ میں امریکا کے لیے برآمدات کا حجم سب سے زیادہ 98 کروڑ ڈالر رہا جبکہ برطانیہ کے لیے برآمدات کا حجم 37 کروڑ ڈالر اور چین کے لیے 31 کروڑ ڈالرز رہا۔ذرائع کے مطابق مالی سال کے ابتدائی دو ماہ میں متحدہ عرب امارات کے لیے برآمدات کا حجم 29 کروڑ 35 لاکھ ڈالر اور جرمنی کے لیے 28کروڑ ڈالر رہا۔

    معاشرے سے منیشات کےخاتمے کے لئے ہر کسی کو تعاون کرنا ہوگا، شرجیل انعام میمن

    صدر مملکت سے روسی فیڈریشن کونسل کی چیئرپرسن کی ملاقات

    کراچی:ہسپتال کی دیوار گرنے سے ڈاکٹر، سابق پولیس افسر جاں بحق، متعدد زخمی

    بریگیڈیئر (ر) اسلم گھمن کو پی ٹی آئی نے پارلیمانی پارٹی اجلاس سے باہر نکال دیا

  • رواں مالی سال کیلئے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ میں توسیع

    رواں مالی سال کیلئے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ میں توسیع

    اسلام آباد: رواں مالی سال کےلیے ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ میں توسیع کردی گئی۔

    باغی ٹی وی: ایف بی آر نے انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرانےکی آخری تاریخ آج 30 ستمبر رکھی تھی ذرائع کے مطابق 19 لاکھ افراد نے ٹیکس ریٹرن فائل کیے ہیں،اب ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ میں توسیع کردی گئی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانےکی تاریخ میں توسیع کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی تاریخ میں 31 اکتوبر تک توسیع کی گئی ہے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع تجارتی اداروں، ٹیکس بار ایسوسی ایشن کی درخواست پر کی گئی۔

    کراچی: افغانستان سے بحرین کے پارسل سےساڑھے 14 کلو گرام آئس ہیروئن برآمد

    دوسری جانب ایف بی آر ذرائع کا کہنا ہےکہ ستمبر کا ٹیکس ہدف حاصل کرلیا گیا ہے، ستمبر میں 834 ارب روپےکا ٹیکس اکٹھا کیا گیا، ستمبر کا ٹیکس ہدف 799 ارب روپے تھاجولائی سے ستمبر تک 2041 ارب روپے کا ٹیکس جمع کیا گیا، جولائی سے ستمبر تک ٹیکس ہدف 1977 ارب روپے تھا گزشتہ مالی سال اسی عرصےکےدوران 18 لاکھ 75 ہزارٹیکس ریٹرن فائل ہوئےتھے۔

    دوسری طرف سندھ ریونیو بورڈ کے ٹیکس کلیکشن میں اضافہ ہوگیا۔ بورڈ نے ستمبر 2023 میں 21.58 ارب روپے کا ریونیو وصول کیا،رواں سال ستمبر میں جمع ہونے والا ریونیو گزشتہ سال دوہزار بائیس میں حاصل ہونے والے 15.64 ارب روپے کے مقابلے میں 38 فیصد زائد ہے۔

    حقائق نے بار بار ثابت کیا ہے کہ امریکا "جھوٹ کی

    رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بھی سندھ ریونیو بورڈ کی وصولی میں 44 فیصد اضافہ ہوا تھا،رواں مالی کی پہلی سہ ماہی میں سندھ ریونیو بورڈ نے 52.12 ارب روپے کی کلیکشن کی تھی، جبکہ گزشتہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں 36.12 ارب روپے کا ریونیو جمع ہوا تھا۔

  • آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی کارکردگی سے متعلق رپورٹ جاری کردی

    آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی کارکردگی سے متعلق رپورٹ جاری کردی

    عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی معاشی کارکردگی سے متعلق رپورٹ جاری کردی ۔

    باغی ٹی وی: آئی ایم ایف کی رپورٹ میں آئی ایم ایف رواں مالی سال بیروزگاری کم ہونے کے علاوہ اوسط مہنگائی بھی کم ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے،رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال سال 2023-24 میں معاشی شرح نمو 2.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ گزشتہ مالی سال معاشی کارکردگی منفی 0.5 فیصد رہی جبکہ حکومت نے جی ڈی پی گروتھ 0.3 فیصد مثبت رہنے کا دعویٰ کیا تھا حکومت نے نئے بجٹ میں معاشی ترقی کا ہدف ساڑھے3 فیصد مقررکررکھا ہے۔

    رپورٹ میں آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ سال 2024 میں پاکستان میں بیروزگاری ساڑھے 8 فیصد سے کم ہوکر 8 فیصد پرآجائے گی ۔ اس کے علاوہ رواں مالی سال میں اوسط مہنگائی بھی 29.6 فیصد سے کم ہو کر 25.9 فیصد پرآنے کی پیشگوئی کی گئی ہے رپورٹ کے مطابق رواں سال مالی خسارہ معمولی کمی سے ساڑھے 7 فیصد رہنے کا امکان ہے، پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 0.4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے ذمہ قرضوں کا حجم 81.8 فیصد سے کم ہو کر 74.9 فیصد پر آجائے گا۔

    ننکانہ :ممکنہ سیلاب، ناگہانی صورتحال،نمٹنے کے لیے ریسکیو 1122 ہائی الرٹ ہے

    دوسری جانب آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی) کرسٹالینا جارجیوا نے کہا ہے کہ نیا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پروگرام پاکستان کے لیے میکرو اکنامک استحکام لانے کا موقع ہے اور پاکستان کو اس پروگرام پر پوری لگن سے عمل کرنا ہوگااکستان کو توانائی کے شعبے میں اصلاحات کی ضرورت ہے اور پاور سیکٹر میں ٹارگٹڈ سبسڈی بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام پر پوری لگن سے عمل کرنا ہو گا اور غیرضروری اخراجات سے متعلق مالیاتی نظم ونسق پر عمل کیا جائے۔ بیرونی دباؤ کا سامنا کرنے کے لیے مارکیٹ بیسڈ ایکسچینج ریٹ اہم ہے اسٹینڈبائی ایگریمنٹ پاکستان کے لیے استحکام حاصل کرنے کا موقع ہے جبکہ سماجی اور ترقیاتی اخراجات کے لیے ریونیو میں بہتری کی ضرورت ہے۔

    دبئی: پاکستان پیپلزپارٹی کو گلف و مڈل ایسٹ میں مزید مضبوط بنائیں گے- میاں منیر …

  • صوبہ سندھ کا رواں ماہ مالی سال کا بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا

    صوبہ سندھ کا رواں ماہ مالی سال کا بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا

    کراچی: صوبہ سندھ کا مالی سال 2023-24 کا بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی: محکمہ خزانہ کے حالیہ اعلان کے مطابق صوبہ سندھ کا مالی سال 2023-24 کا بجٹ10 جون کو پیش کیا جائے گا،بجٹ وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ صبح 11 بجے پیش کریں گے۔

    پی سی بی نیوزی لینڈ میں وائٹ بال کرکٹ سیریز کھیلنے پر رضا مند

    سیکرٹری سندھ اسمبلی کو لکھے گئے خط میں محکمہ خزانہ نے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ اور وقت کی تصدیق کردی، یہ سالانہ مالیاتی منصوبہ بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ آئندہ مالی سال کے لیے فنڈز کی تقسیم اور حکومتی ترجیحات کا خاکہ پیش کرتا ہے۔

    واضح رہےکہ مالی سال وفاقی بجٹ سندھ کے بجٹ کےاعلان سے ایک روز قبل 9 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، وفاقی اور صوبائی بجٹ کے درمیان ہم آہنگی خطے میں وسائل کی تقسیم اور ترقیاتی اقدامات کے تعین میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    نیب کا بشریٰ بی بی کو گواہ بنانے کا فیصلہ

    سندھ کے بجٹ کی پیش کش میں بیان کردہ بجٹ کے فیصلوں اور پالیسیوں کےمختلف شعبوں بشمول تعلیم،صحت کی دیکھ بھال، انفراسٹرکچر اور سماجی بہبود پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔

  • پی آئی اے نے رواں سال کی  پہلی سہ ماہی کے مالی نتائج جاری کردیئے

    پی آئی اے نے رواں سال کی پہلی سہ ماہی کے مالی نتائج جاری کردیئے

    کراچی : پی آئی اے نے مارچ 2023 کو ختم ہونے والی پہلی سہ ماہی کے مالی نتائج جاری کردیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرزکی جانب سے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے حسابات کی منظوری کے بعد جاری کردہ مالیاتی رپورٹ کے مطابق جنوری تا مارچ 2023 پی آئی اے کی آمدنی 59 ارب روپے رہی۔

    بھارت میں مسلمانوں کو برا اورغلط سمجھنا فیشن بن چکا ہے،نصیر الدین شاہ

    جاری مالیاتی رپورٹ کے مطابق جنوری تا مارچ 2023 پی آئی اے کی آمدنی 59 ارب روپے رہی گزشتہ سال 2022 کی پہلی سہ ماہی میں ہونے والی آمدنی کی نسبت پی آئی اے کو رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں ہوئی آمدنی میں 24 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔

    اس طرح گزشتہ سال کے مقابلہ میں پی آئی اے کو اس سال کے پہلے 3 ماہ میں قبل از ٹیکس 5 ارب کا گراس پرافٹ ہوا لیکن آمدنی کے مقابلے میں بےقابو اخراجات کی وجہ سے پی آئی اے کو رواں مالی سال کے پہلے 3 ماہ میں 36 ارب 77 کروڑ روپے کا خالص نقصان ہوا ہے۔

    جاری مالیاتی رپورٹ کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں پی آئی اے کا فی حصص نقصان 2 روپے 60 پیسے سے بڑھ کر 7 روپے 2 پیسے تک پہنچ گیا ہے مارچ 2023 کی سہ ماہی میں پی آئی اے نے طیاروں کیلئے 25 ارب 60 کروڑ روپے کا ایندھن خریدا، نقصان میں بڑا حصہ دگنا ہوجانے والے ایندھن کے اخراجات کا ہے۔

    مئی میں ترسیلات زر میں 12.9 فیصد کمی واقع ہوئی،وزارت خزانہ کی ماہانہ آؤٹ لک …

    پی آئی اے نے تنخواہوں اورجاری اخراجات کی مد میں 28 ارب 55 کروڑ روپےخرچ کیےجبکہ گزشتہ سہ ماہی میں پی آئی اےنے تنخواہوں اور جاری اخراجات کی مد میں 21 ارب روپے خرچ کیے تھے ایندھن اور ڈالر مہنگا ہونے، شرح سود میں اضافہ اور اخراجات پر قابو نہ پانے سے پی آئی اے کا نقصان بڑھا گزشتہ سال 2022 کے اسی عرصے کے مقابلے پی آئی اے کا نقصان 171 فیصد زائد ہے-

    رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کو روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت بڑھنے سے 21 ارب روپے کا نقصان ہوا ہےپی آئی اے کو 2022 کے پہلے تین ماہ کے مقابلے میں رواں مالی سال 2023ء کے خسارے میں 171 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔

    رواں سال کے پہلے تین ماہ کے دوران پی آئی اے صرف 61 ارب روپے کی آمدنی کرسکا پی آئی اے کے آپریٹنگ اخراجات 15 ارب روپے اضافہ کے بعد بڑھ کر 43 ارب روہے ہوگئے ہیں۔

    گورنرہاﺅس سندھ میں ایک لاکھ نوجوانوں کومفت آئی ٹی کورسزکرانےکا اعلان

  • رواں مالی سال کے پہلے8 ماہ کےدوران  مالیاتی خسارہ 553 ارب سےبڑھ کر1862 ارب روپے ہو گیا

    رواں مالی سال کے پہلے8 ماہ کےدوران مالیاتی خسارہ 553 ارب سےبڑھ کر1862 ارب روپے ہو گیا

    اسلام آباد: رواں مالی سال 22-2021 کے پہلے 8 ماہ کے دوران مہنگائی کی شرح ساڑھے 10 فیصد رہی ہے –

    باغی ٹی وی : وزارت خزانہ کی جانب سے گذشتہ روز(پیر)ملکی معیشت پرجاری کردہ ماہانہ اپ ڈیٹ آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 22-2021 کے پہلے 8 ماہ کے دوران ملک کا مالیاتی خسارہ 553 ارب روپے سے زائد اضافے کے ساتھ بڑھ کر 1862 ارب روپے جبکہ تجارتی خسارہ 13 ارب 60 کروڑ ڈالر اضافے کے ساتھ بڑھ کر 27.3 ارب ڈالرہوگیا ہے۔

    جبکہ رپورٹ کے مطابق مہنگائی کی شرح ساڑھے 10 فیصد رہی ہے جو کہ گزشتہ مالی سال 21-2020 کے اسی عرصے میں8.3 فیصد تھی علاوہ ازیں گزشتہ ماہ (فروری2022) کی مہنگائی کی شرح 12.2 فیصد رہی ہے جو کہ گزشتہ برس فروری 2021 میں 8.7 فیصد تھی۔

    رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال 21-2020 کے پہلے 8 ماہ کے دوران ترسیلات زر 7.6 فیصد اضافے سے 20.1 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی ہیں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 6.1 فیصد اضافے سے 1.26 ارب ڈالر رہی، پورٹ فولیو سرمایہ کاری مثبت رجحان کے ساتھ 90 کروڑ49 لاکھ ڈالر ہو گئی مجموعی غیر ملکی سرمایہ کاری مثبت رجحان کے ساتھ ایک ارب84 کروڑ77 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

    پاکستان میں پہلا روزہ اتوار 3 اپریل جبکہ عیدالفطر 3 مئی 2022 کو ہوگی،رویت ہلال ریسرچ کونسل

    دوسری جانب گزشتہ روز سروس لانگ مارچ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا ہے کہ پاکستانی برآمدات بڑھانے کی صلاحیت بیش بہا ہے ماضی میں کئی وجوہات کے سبب ہم اپنی صلاحیت سے بھرپور استفادہ نہ کرسکے، بینک دولت پاکستان کا قیمت و مالی استحکام اور نمو کا ویژن ہے کووڈ وبا کے دوران کاروباری طبقے میں خوف تھا بینک دولت پاکستان نے اس وقت سرمایہ کاری کے لیے ’’ٹف‘‘ اسکیم فراہم کی۔ ’’ٹف‘‘اسکیم سے 435 ارب روپے قرض کی منظوری دی جاچکی ہے۔

    رضا باقر نے کہا کہ سروس لانگ مارچ نے بھی ’’ٹف‘‘ اسکیم سے قرض لے کر ایکسپورٹس کا منصوبہ لگایا ہے۔ سروس لانگ مارچ ہماری ایکسپورٹس کو تنوع فراہم کرے گا۔ انھوں نے کہاکہ پاکستان عالمی ویلیوچین کا حصہ کیسے بنے سروس لانگ مارچ اس کی اچھی مثال ہے۔

    مہنگائی کا عذاب نازل کرنے والوں کو آخری دھکا دیں،شہباز شریف

  • 8 ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالرتک پہنچ گیا

    8 ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالرتک پہنچ گیا

    اسلام آباد: رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالرتک پہنچ گیا-

    باغی ٹی وی : پاکستان بیورو آف اسٹیٹیکس کے گزشتہ روز جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جولائی تا فروری تجارتی خسارہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 82 فیصد یا 14.4 ڈالر زائد رہا۔

    تھر کول پلانٹ میں دھماکہ،5 افراد زخمی

    آٹھ ماہ کے دوران تجارتی خسارے میں 82.26 فیصد اضافہ ہوا،وفاقی حکومت نے تجارتی خسارے کا سالانہ ہدف 28.4 ارب ڈالر مقرر کیا تھا جو 7مہینوں ہی میں پورا ہوگیا اس عرصے کے دوران درآمدات 55 فیصد اضافے کے ساتھ 52ارب 50 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز رہیں-

    جولائی تا فروری برآمدات میں 26 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 20 ارب 54 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز رہیں جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں برآمدات کا حجم 16.3 ارب ڈالر رہا تھا۔

    راولپنڈی: بارش کے باعث پاکستان اورآسٹریلیا کی ٹیموں کا پریکٹس سیشن منسوخ

    8 ماہ میں درآمدات میں 55.08 فیصد اضافہ ہوا، اس عرصے میں برآمدات میں 25.88 فیصد اضافہ ہوا وزارت تجارت نے اب تخمینہ لگایا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام پر برآمدات 31 ارب ڈالر کی سطح پر پہنچ سکتی ہیں۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق جنوری کی نسبت فروری میں تجارتی خسارے میں 9.69 فیصداضافہ ہوا، فروری 2022 میں تجارتی خسارہ 3 ارب 9 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز رہا، فروری میں درآمدات 5 ارب 90 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز رہیں،جو گذشتہ برس کے اسی ماہ کے مقابلے میں 28.3 فیصد یا 1.3 ارب ڈالر زیادہ ہے اس عرصے میں برآمدات 2 ارب 80 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز رہیں جو گذشتہ سال کی زیرتبصرہ مدت سے 36 فیصد یا 74 کروڑ ڈالر زائد ہے۔

    بھارت کی پاکستان کو اپنے متنازعہ منصوبوں کےدورے کی یقین دہانی

  • مالی سال 2021: 5 ماہ میں ترسیلات زر 10 فیصد اضافے کے بعد 13 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

    مالی سال 2021: 5 ماہ میں ترسیلات زر 10 فیصد اضافے کے بعد 13 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں

    رواں مالی سال کے 5 ماہ ترسیلات زر 10 فیصد اضافے کے بعد 13 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں-

    باغی ٹی وی : نجی خبررساں ادارے کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانی کارکنوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر میں نومبر میں ماہانہ بنیادوں پر 6.6 فیصد کمی آئی لیکن رواں مالی سال کے پہلے پانچ مہینوں میں اس میں تقریباً 10 فیصد اضافہ ہوا۔

    رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے جاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ نومبر میں ملک کو 2 ارب 35 کروڑ ڈالر، اکتوبر میں 2 ارب 51 کروڑ 70 لاکھ ڈالر جبکہ ستمبر میں 2 ارب 70 کروڑ ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئی تھیں تاہم مجموعی طور پر جولائی تا نومبر کے عرصے میں بھیجی گئی رقوم 9.7 فیصد بڑھ کر 12 ارب 90 کروڑ ڈالر ہوگئیں جو گزشتہ برس 11 ارب 70 کروڑ ڈالر تھیں۔

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے نئی زری پالیسی کا اعلان آج ہوگا،شرح سود میں اضافے کا امکان


    ایس بی پی کے مطابق ورکرز کی ترسیلات زر جون 2020 سے 2 ارب ڈالر سے زائد کی ماہانہ سطح برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

    بڑھتے ہوئے درآمدی بل کے شدید دباؤ سے ملک کو قرض دہندگان کی جانب سے مشکل صورتحال کا سامنا ہے جبکہ امریکی ڈالر کے مقابلے روپےکی قدر میں مسلسل کمی معیشت کے کمزور ہونے کی عکاس ہے بالخصوص بیرونی محاذ پر۔

    مالی سال 2022 میں اوسط ماہانہ درآمدی بل تقریباً 6 ارب 50 کروڑ ڈالر ہے جو اس بات کا اشارہ ہے کہ ملک کو رقوم کی آنے اور جانے میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے اس کے علاوہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے تقریباً ایک ارب ڈالر موصول ہونے کی توقع ہے جبکہ سکوک (اسلامی بانڈز) کے اجرا سے ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔

    ملک بھرمیں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا امکان

    تاہم، بڑھتا ہوا تجارتی فرق کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (CAD) کو مزید بڑھا سکتا ہے جو حکومت کے لیے ایک سلگتا ہوا مسئلہ رہا ہے حکومت سال 2018 میں 20 ارب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو سال 2021 میں ایک ارب 90 کرور ڈالر تک لانے میں کامیاب رہی تھی لیکن رواں مالی سال کے 4 ماہ (جولائی تا اکتوبر) میں یہ دوبارہ بڑھتے ہوئے 5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔

    فوٹو بشکریہ ڈان اخبار
    ترسیلات زر کی تفصیلات ظاہر کرتی ہیں کہ جولائی سے نومبر کے دوران سب سے زیادہ 3 ارب 27 کروڑ ڈالر ترسیلات زر سعودی عرب سے موصول ہوئیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں موصول ہونے والے 3 ارب 33 کروڑ ڈالر سے 1.8 فیصد کم تھیں۔

    سعودی عرب نےبھی حال میں اسٹیٹ بینک میں 3 ارب ڈالر رکھے ہیں تا کہ زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط کیا جاسکے جو جولائی سے کم ہورہے تھے۔

    حریت انگیز طور پر یورپی یونین کے ممالک سے ترسیلات زر 41 فیصد اضافے کے بعد رواں مالی سال کے پانچ ماہ میں ایک ارب 44 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہیں جبکہ گزشتہ برس کے اسی عرصے میں یہ ایک ارب 2 کروڑ ڈالر تھیں۔

    او آئی سی اجلاس کا مقصد افغانستان کی سنگین صورتحال پرغور کرنا ہے ،وزیر خارجہ

    اسی عرصے کے دوران متحدہ عرب امارات سے بھی ترسیلات زر 0.4 فیصد بڑھ کر 2 ارب 45 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہوگئی جبکہ برطانیہ سے موصول ہونے والی ترسیلات زر 14 فیصد اضافے کے بعد ایک ارب 76 کروڑ 80 لاکھ ڈالر، امریکا سے 30 فیصد اضافے کے بعد ایک ارب 30 کروڑ ڈالر رہیں۔

    خلیج تعاون کونسل کے ممالک میں کام کرنے والے پاکستانیوں نے جولائی سے نومبر کے دوران ایک ارب 55 کروڑ 20 لاکھ ڈالر پاکستان بھجوائے جس میں گزشتہ برس کے مقابلے 8.5 فیصد اضافہ ہوا۔

    کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ سخت قوانین اور غیر قانونی چینلز کے ذریعے لین دین کے خلاف سخت نگرانی کی وجہ سے ترسیلات زر کی بڑھتی ہوئی آمد معمول کی بات ہے۔ تاہم، ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ زیادہ درآمدی بل بھی معمول کی بات ہے کیونکہ سمگلنگ پر قابو پا لیا گیا ہے اس لیے درآمد کنندگان سرکاری طور پر بل کر رہے ہیں۔

    پیسوں کی وجہ سے پی ایس ایل 7 سے دستبردار نہیں ہوا، کامران اکمل