Baaghi TV

Tag: روبوٹ

  • سعودی عرب:روبوٹ کے ذریعے مرگی کے مریض کے دماغ میں چپ لگا دی گئی

    سعودی عرب:روبوٹ کے ذریعے مرگی کے مریض کے دماغ میں چپ لگا دی گئی

    ریاض: سعودی عرب میں روبوٹ کا استعمال کرتے ہوئے مرگی کے مریض کے دماغ میں ای ای جی چپ لگا دی گئی۔

    باغی ٹی وی:عرب میڈیا کے مطابق جدہ میں مریض کو لاحق مرگی کا مرض روایتی علاج سے ختم نہیں ہو رہا تھا کہ کنگ فیصل اسپیشلسٹ اسپتال اور ریسرچ سینٹر روبوٹ کا استعمال کرتے ہوئے مریض کے دماغ میں چپس لگانے میں کامیاب ہو گیا۔

    مریض کو لاحق مرگی کا مرض روایتی علاج سے ختم نہیں ہو رہا تھا ڈاکٹروں نے مریض کے دماغ میں مرگی کی نشاندہی کرنے کے مقصد کے لیے ای ای جی چپ لگائی جسے بعد میں ہٹا دیا جائے گا یہ ایک جدید طبی طریقہ کار ہے جس کا استعمال مشرق وسطیٰ میں پہلی مرتبہ کیا گیا۔

    شمالی کوریا کا ایک اور کروز میزائل کا تجربہ

    اس ٹیکنالوجی کے ذریعہ کھوپڑی میں 2 ملی میٹر سے زیادہ نہ بڑھنے والے متعدد سوراخ بنا کر الیکٹرو اینسفالوگرافی چپس دماغ میں لگائی جاتی ہیں جس کا مقصد سر کے اندر سے برقی سرگرمی کی پیمائش کرنا اور مرگی کے پیدا ہونے کے مقامات کی تشخیص کرنا ہوتا ہے۔

    روبوٹ ٹیکنالوجی ضروری پیمائشوں کا حساب لگانے اور سوراخ کرنے کے لیے صحیح جگہوں کا تعین کرنے میں روایتی “لیکسیل فریم” طریقہ سے بہتر ثابت ہوئی ہے روایتی طریقہ میں وقت بھی زیادہ لگتا اور محنت بھی دوگنا ہوجاتی ہے۔

    واضح رہے کہ روبوٹ کا استعمال صرف دماغ میں سلائسس لگانےتک ہی محدود نہیں بلکہ اعصابی امراض سےمتعلق متعدد دیگر سرجریوں میں بھی روبوٹ کا استعمال کیا جا رہا ہے،روبوٹک سرجری دنیا کے معروف طبی مراکز میں ایک حالیہ طبی رجحان ہے اس سے ڈاکٹروں کو زیادہ درستی، لچک اور کنٹرول کے ساتھ بہت سے پیچیدہ آپریشن کرنے کی سہولت مل گئی ہے۔

    ٹک ٹاک اور ٹیلی گرام پر پابندی لگانے کا فیصلہ

    یہ کامیابی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی خصوصی کوششوں کے نتیجے میں حاصل ہوئی ہے اسی طرح یہ کامیابی مریض کے تجربے اور آپریٹنگ کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیز کو استعماال کرنے کی کوششوں کے مرہون منت ہے۔

  • اسپین میں روبوٹ نے پھیپھڑوں کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کر لیا

    اسپین میں روبوٹ نے پھیپھڑوں کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کر لیا

    اسپین میں روبوٹ نے پھیپھڑوں کا کامیاب ٹرانسپلانٹ کر لیا۔

    باغی ٹی وی: "روئٹرز” کے مطابق روبوٹ کی جانب سے پھیپھڑوں کے کامیاب ٹرانسپلانٹ کے بعد اب ٹرانسپلانٹ کے لیے سینہ کھولنے اور پسلیوں کو الگ کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔

    ایرانی صدر کی سعودی فرمانروا کو ایران کے دورے کی دعوت

    رپورٹس کے مطابق بارسلونا کے وال ڈی ہیبرون ہسپتال کے سرجنوں نے 4 بازو والے "Da Vinci” نامی روبوٹ کا استعمال کرتے ہوئے مریض کی جلد، چربی اور پٹھوں کے ایک چھوٹے سے حصے کو کاٹ کر تباہ شدہ پھیپھڑوں کو ہٹایاروبوٹ نے مریض کے سینے پر صرف 8سینٹی میٹر کا چیرا لگایا، پہلے اس ٹرانسپلانٹ کے لیے 30سینٹی میٹر کا چیرا لگایا جاتا تھا۔

    اگرچہ کچھ ہسپتال پہلے ہی پھیپھڑوں کی پیوند کاری کے لیے چھوٹے چیرا استعمال کر رہے ہیں، یہ پہلا موقع تھا جب سرجن چیرا کو نرم بافتوں تک محدود رکھنے میں کامیاب ہوئے ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ یہ نیا طریقہ علاج روایتی طریقے سے نہ صرف زیادہ محفوظ ہے بلکہ اس سے مریض کو تکلیف کم اور زخم آسانی سے بھر جاتا ہے۔

    ڈی ہیبرون ہسپتال کے ڈاکٹرزکا کہنا ہےکہ ہمیں یقین ہے کہ یہ ایک ایسی تکنیک ہےجو مریضوں کےمعیار زندگی کو بہتر بنائےگی، سرجری کے بعد کی مدت اوردرد کو کم کرے گی البرٹ جوریگوئی، تھوراسک سرجری اورپھیپھڑوں کے ٹرانسپلانٹس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ یہ تکنیک بالآخر مزید ہسپتالوں میں بھی استعمال کی جائے پھیپھڑوں کے ٹرانسپلانٹ کے لیے اس عضو کو آپریٹنگ تھیٹر میں "ڈیفلیٹ” کیا گیا تھا تاکہ یہ سخت چیرا کے ذریعے داخل ہو سکے-

    30 ہزار سال سے برف میں محفوظ پراسرار کھال کی گیند گلہری نکلی

    جوریگوئی نے کہا کہ یہ جسم کا ایک حصہ ہے جس کی جلد بہت لچکدار ہونے کا فائدہ ہے، جو کسی ایک پسلی کو چھوئے بغیر کھلنے کو چوڑا کرنے کی گنجائش فراہم کرتی ہےتاہم، روبوٹ کے بازوؤں اور 3D کیمروں کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے پسلی کے پنجرے کے پہلو میں چھوٹے کٹ بھی کیے گئے تھے وقت کے ساتھ اس تکنیک کا اطلاق دو پھیپھڑوں پر مشتمل ٹرانسپلانٹ پر کیا جا سکتا ہے، جس کےلیے ایک ہی معمولی چیرا کافی ہوگا۔

    ابتدائی طریقہ کار، جو اب تک صرف پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے، ایک 65 سالہ شخص زیویئر پر انجام دیا گیا جسے پلمونری فائبروسس کی وجہ سے پھیپھڑوں کی پیوند کاری کی ضرورت تھی زیویئر نے کہا کہ اسے نئی تکنیک سے فائدہ ہوا میں ہوش میں آیا اور جنرل اینستھیزیا سے بیدار ہوا، مجھے درد نہیں تھا۔

    چیرا چھوٹا ہونے کی وجہ سے، مریض نے آپریشن کے بعد صرف پیراسیٹامول لیا۔ روایتی پھیپھڑوں کے ٹرانسپلانٹس میں عام طور پر اوپیئڈ درد کش ادویات کے ساتھ سرجری کے بعد کے علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔

    تیونس نے آئی ایم ایف کے قرضوں کو مسترد کر دیا، برکس میں شامل ہونے …

  • روبوٹ اب آلو اور پیاز کے فرائز تیار کرے گا

    روبوٹ اب آلو اور پیاز کے فرائز تیار کرے گا

    کیلیفورنیا: کیلیفورنیا کی ایک کمپنی نے فلپی 2 کے نام سے ایسے روبوٹ تیار کرنا شروع کردیئے ہیں جو خود کار انداز میں آلو اور پیاز کے فرائز تیار کر لینے کے علاوہ دیگر کھانے بھی تیار کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یک روبوٹک بازو خود کار پلانٹس میں کیمروں اور مصنوعی ذہانت کے حرکت میں آتا ہے۔ فریزر سے آلو اور پیاز کے منجمد شدہ کے فرائز نکال انہیں ابلتے ہوئے تیل میں ڈال دیتا ہے صرف یہی نہیں اس کے بعد ان تیار شدہ فرائز کو ٹرے میں منتقل کرتا ہے اور کھانے لیے پیش کر دیتا ہے۔

    سائنسدانوں نے زمین پر نیا سمندر دریافت کر لیا؟

    فلپی 2 کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اس کے علاوہ بھی متعدد کھانے مختلف ریسپیز کے ساتھ بیک وقت تیار کر لیتا ہےاس کی بدولت کیٹرنگ کرنے والے سٹاف کی پہلے جتنی ضرورت نہیں رہی ہے۔ کہ یہ آرڈرز کی تکمیل زیادہ تیزی کے ساتھ کر سکتا ہے۔

    روبوٹ بنانے والی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مائیک بیل نے ایک انٹرویو میں بتایا ‘ جب ریستوران کے سسٹم کے ذریعے کسی کھانے کا آرڈر آتا ہے تو یہ سسٹم خود کار طریقے سے یہ آرڈر روبوٹ کو منتقل کر دیتا ہے یہ مقابلتا زیادہ تیزی کے ساتھ کام کرتا ہے، زیادہ قابل بھروسہ ہے، حتیٰ کہ انسانوں سے زیادہ خوش بھی رہتا ہے۔

    انہوں نے بتایا اس روبوٹ کی تیاری میں پانچ سال لگ گئے ہیں اور اب یہ کاروباری پیمانے بروئے کار ہے روبوٹ کا نام اس سے قبل تیار کردہ ایک روبوٹ سے لیا گیا ہے، جسے فلپ برگرز کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

    مریخ پر پانی کی موجودگی کے نئے شواہد

    لیکن روبوٹ بنانے والی ٹیم نے اسے ایک مرحلے پر چھوڑ دیا تھا کہ ایک مشکل پیدا ہو گئی تھی۔ کیونکہ وہ روبوٹ رات کے وقت بطور خاص فرائی سٹیشن پر اچھی ورکنگ نہیں کر پاتا تھا۔ لیکن اب فلپی 2 نے بہتر نتائج دیئے ہیں ، پرانے مسئلے حل کر لیے گئے ہیں اب تو کئی ریستورانوں نے اپنے فرائی سٹیشنون کے لیے یہ روبوٹ حاصل کر لیے ہیں۔

    مائیک بیل کے بقول تین بڑی امریکی فوڈ چینز نے بھی روبوٹس کی مدد لےلی ہےتاہم وہ اس امر کی احتیاط کی وجہ سے کہ اس سے انسانوں کے بے روزگار ہونے کی باتیں ہوں گی اپنے زیر استعمال روبوٹس کی مشہوری نہیں کر رہی ہیں۔

    بیل کے مطابق جوکام انسان جلدی سے چھوڑنے کو تیار ہوجاتے ہیں وہ فرائی سٹیشن کا کام ہےلیکن وہ وقت دور نہیں جب اس طرح ہر جگہ روبوٹس کو کام کرتے دیکھیں گے اور پھر انسانوں کو یاد کریں گے کہ ایک دور تھا جب یہ کام انسان کیا کرتے تھے-

    فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش

  • ٹیسلا کا  تیار کردہ انسان نما روبوٹ متعارف

    ٹیسلا کا تیار کردہ انسان نما روبوٹ متعارف

    دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے اپنی ٹیسلا الیکٹرک کار کمپنی کی جانب سے تیار کردہ انسان نما روبوٹ کے جدید ترین پروٹو ٹائپ کی رونمائی کی ہے،اس پروٹوٹائپ کو سالانہ منعقد ہونے والے ٹیسلا اے آئی ڈے (مصنوعی ذہانت) پریزنٹیشن کے دوران سٹیج پر متعارف کروایا گیا۔

    باغی ٹی وی : برطانوی خبررساں ادارے بی بی سی کے مطابق اس روبوٹ کا نام ’اوپٹیمس‘ رکھا گیا ہے جو سلیکون ویلی میں منعقدہ ایک پروگرام میں سٹیج پر نمودار ہوا جہاں اس نے سامعین کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا اور اپنے گھٹنے اوپر کو اٹھائے۔

    نئی ٹیکنالوجیز کے بغیر دنیا موسمیاتی تبدیلیوں کے بحران کا مقابلہ نہیں کرسکے گی،بل…


    ایلون مسک کا کہنا ہے کہ ابھی اس روبوٹ پر کام جاری ہے لیکن چند سالوں میں اسے مارکیٹ میں فروخت کے لیے لایا جا سکتا ہے مسک کا کہنا ہے کہ ان روبوٹس کو بہت زیادہ تعداد میں تیار کیاجائےگا اورایک روبوٹ کی قیمت 20 ہزار ڈالر (17900 پاؤنڈ) سے کم رکھی جائے گی اور یہ تین سے پانچ سال میں دستیاب ہوں گے یہ انسانی تہذیب میں ایک بنیادی اور اہم تبدیلی ہے-

    ٹیسلا اب اپنی توجہ روبوٹس پر رکھےگا لیکن اس پر سرمایہ کاروں اور مالیاتی تجزیہ کاروں نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیسلا کو الیکٹرک کاروں کے کاروبار سےجڑے منصوبوں پر توجہ دینی چاہیےتاہم مسک کا کہنا ہےکہ وہ مصنوعی ذہانت کے مشکل ترین مسائل میں سے ایک کو حل کرنا چاہتے ہیں یعنی ایسی مشین کیسے بنائی جائے جو انسان کی جگہ لے سکے۔

    فیس بک اور انسٹاگرام کو ایک ہی ایپلیکیشن سے چلانے کے نئے فیچر کی آزمائش


    انھوں نے بلاک بسٹر فلم میں کلر سائبروک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’ہم ہمیشہ محتاط رہنا چاہتے ہیں تاکہ ہم ٹرمینیٹر کے راستے پر نہ چلے جائیں ٹیسلا حفاظتی اقدامات کے ساتھ روبوٹ بنا رہا ہے جن میں ایک سٹاپ بٹن بھی ہے جس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ یا اسے ہیک نہیں کیا جا سکے گا۔

    مسک نے دعویٰ کیا کہ شیئر ہولڈر اس بات کا تعین کریں گے کہ آیا عوامی سطح پر تجارت کرنے والی کمپنی سماجی طور پر بھی ذمہ دار ہے یا نہیں۔

    کمپنی کے انجینئرز کا کہنا ہے کہ ٹیسلا کے روبوٹس کو کار بنانے والی فیکٹریوں میں کام کرنے والے ملازمین کے متبادل کے طور پر ٹیسٹ کیا جائے گا-

    امریکہ نے پاکستان کو اسلحہ فراہمی سے متعلق بھارتی اعتراض یکسر مسترد کر دیا

  • لطیفے سن کر روبوٹ بھی ہنسنے لگا

    لطیفے سن کر روبوٹ بھی ہنسنے لگا

    روبوٹ کی انسان کے ساتھ مشابہت کو بڑھانے کے لیے اب اسے لطیفوں پر ہنسنا بھی سِکھا دیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : جاپان کی کیوٹو یونیورسٹی کےمحققین روبوٹس کو لطیفےسن کر اُنہیں سمجھنے اور ان پر بالکل ایک انسان کی طرح ردِعمل دینے کے بارے میں تربیت دینے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کا استعمال کر رہےہیں اس تربیت کےدوران روبوٹس کو زور سے ہنسنے اور چیخیں مارنے کے درمیان فرق بھی سمجھایا جائے گا۔

    ٹیسلا کی نئی مائیکرو چِپ 2033 تک انسانوں سے زیادہ ذہین ہوجائے گی

    محققین نے فرنٹیئرز ان روبوٹکس اینڈ اے آئی نامی جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں ایریکا نامی ایک روبوٹ کے ساتھ گفتگو کو مزید دوستانہ بنانے کی امید ظاہر کی ہے۔

    کیوٹو یونیورسٹی کے انٹیلی جنس سائنس اور ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر کوجی انوئی کا کہنا ہے کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ہمدردی مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ہونے والی بات چیت کے اہم کاموں میں سے ایک ہے۔

    اُنہوں نے کہا کہ بلا شبہ گفتگو کا مطلب صرف کسی بات کا جواب دینا نہیں ہوتا بلکہ اس میں کئی مختلف عوامل شامل ہیں، اس لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ایک ربوٹ لوگوں کے ساتھ ان کی خوشیاں بانٹ کر ہمدردی کا اظہار بھی کر سکتا ہے۔

    محققین روبوٹ کو یہ سکھانے کے لیے کہ اسے کب ہنسنا ہے، کیسے ہنسنا ہے اور کس طرح کی ہنسی سب سے بہترین ہے، مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد لے رہے ہیں۔

    پرائیویسی قوانین کی خلاف ورزی پر جنوبی کوریا نے گوگل اور میٹا کمپنیوں پر جرمانہ عائد کر دیا

    اس تجربے کو آزمانے کے لیے محققین نے اپنے تیار کردہ روبوٹ ایریکا کی لوگوں کے ساتھ 2 سے 3 منٹ کی گفتگو بھی کروائی جس میں ایریکا نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔

    محققین کا کہنا ہے کہ روبوٹ کو صحیح سے ہنسنا سکھانے کے لیے ابھی اس تجربے پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    ڈاکٹر انوئی نےکہاکہ روبوٹس کا اصل میں ایک الگ کردار ہونا چاہیے، اور ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے گفتگو کے رویے، جیسے کہ ہنسنے، نظریں دیکھنے، اشاروں اور بولنے کے انداز سے یہ ظاہر کر سکتے ہیں۔

    محققین نے کہا کہ ہمیں نہیں لگتا کہ یہ کوئی آسان مسئلہ ہے، اور اس میں 10 سے 20 سال سے زیادہ کا وقت لگ سکتا ہے جب تک کہ ہم آخر کار روبوٹ کے ساتھ آرام سے بات چیت کر سکیں جیسا کہ ہم کسی دوست کے ساتھ کرتے ہیں۔

    بلیو اوریجن کا چاند پر جانے والا خلائی مشن حادثے کا شکار ہو گیا

  • شاہد کپور اور کریتی سینن روبوٹ فلم میں پہلی بار ایکساتھ نظر آئیں گے

    شاہد کپور اور کریتی سینن روبوٹ فلم میں پہلی بار ایکساتھ نظر آئیں گے

    شاہد کپور اور کریتی سینن پہلی بار دنیش وجن کی روبوٹ فلم میں اکٹھے کام کررہے ہیں کہا جا رہا ہے کہ شاہد کپور روبوٹکس آدمی کے روپ میں نظر آئیں گے جب کہ کریتی سینن روبوٹ کے منفرد کردار میں نظر آئیں گی۔ فلم کی ہدایت کاری ڈیبیو کرنے والے امیت جوشی کریں گے۔ امیت جوشی نے ماضی میں مدھر بھنڈارکر کی آنے والی فلم ببلی باؤنسر جیسی فلموں کے لیے اسکرین پلے لکھے. شاہد کپور کا کہنا ہےکہ ان کو یہ کردار پہلے کرداروں سے الگ اور منفرد ہے اور دوسری طرف کریتی سینن کا بھی کہنا ہے کہ وہ اپنے مداحوں کو بالکل ہی الگ روپ میں دکھائی دیں گی.یاد رہے کہ فلم میں اس فلم میں شاہد ایک روبوٹکس لڑکے کا کردار ادا کر رہے ہیں جب کہ کریتی ایک روبوٹ کے روپ میں نظر آئیں گی یہ کردار یقینا ہندی فلموں‌کے شائقین کے لئے دلچپسی کا باعث‌ ہوں گے.

    کریتی نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور ماڈل کیا۔ اس نے اپنی اداکاری کا آغاز 2014 میں تیلگوفلم سے کیا جبکہ بالی ووڈ میں فلم ہیروپنتی سے ڈیبیو کیا، جس کے لیے انہیں بہترین ڈیبیو ایکٹریس کا فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔ دوسری طرف شاہد کپور کافی عرصے سے زرا کم کم بڑی سکرین پر نظر آرہے ہیں ان کے مداحوں کےلئے یقینا یہ خوشخبری ہے کہ وہ انہیں اب بہت جلد بڑے پردے پر دیکھ سکیں گے.

  • افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار

    افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار

    واشنگٹن: امریکی سائنسدانوں نے افزائش نسل کرنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ تیار کر لیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ زندہ خلیات سے تیار کردہ دنیا کا پہلا روبوٹ “زینوبوٹ” اب افزائش نسل بھی کر سکے گا یہ روبوٹ اہم کام سرانجام دینے کے ساتھ خود کو پہنچنے والے نقصان کا بھی ازالہ کر سکتا ہے۔

    پنجے والے افریقی مینڈک (زینوپس لیوس) کے خلیاتِ ساق (اسٹیم سیل) کو بطورخام مال استعمال کیا گیا ہے۔ زینوبوٹ کی چوڑائی ایک ملی میٹر سے تھوڑی کم ہے اگرچہ 2020 میں اسے بنایا گیا تھا جو حرکت کرسکتا تھا، اپنے جیسے روبوٹ سے مل کر کام کرسکتا تھا لیکن اب اس میں ایک بالکل انوکھی خاصیت پیدا ہوگئی ہے۔

    سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان روبوٹس کو ارتقائی الگورتھم کا استعمال کرتے ہوئے سپرکمپیوٹر پر اس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ یہ دوا یا کسی اور چیز کو اپنے ہدف تک پہنچا سکتے ہیں یہ روایتی روبوٹ نہیں بلکہ جیتی جاگتی زندہ مشینیں ہیں اور یہ زندہ روبوٹس اپنی مزید نقول تیار کرسکتے ہیں۔

    ورمونٹ، ٹفٹس اور ہارورڈ یونیورسٹی نے مشترکہ طور پر اسی زینوبوٹ کے متعلق کہا ہے کہ انہوں نے اس روبوٹ میں مزید تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔ ان میں سب سے بڑی تبدیلی یہ ہے کہ اب یہ اپنی نسل بڑھا سکتا ہے لیکن اس کا انداز بالکل مختلف ہے جو کسی پودے اور جانور جیسی نہیں۔

    ٹفٹس یونیورسٹی کے مائیکل لیون اس کام کے اہم رکن ہے جو کہتے ہیں کہ ہم نے حیاتیاتی پیدائش (ری پروڈکشن) کا بالکل نیا طریقہ دیکھا ہے جو بہت حیرت انگیز ہے اگر کچھ خلیات کو باقی ماندہ بیضے (ایمبریو) سے الگ کرکے موزوں ماحول میں رکھا جائے تو نہ صرف وہ نئے انداز سے حرکت کرتے ہیں بلکہ نئے انداز سے نسل خیزی بھی کرسکتے ہیں۔

    اس میں حرف C کی شکل کا باپ زینو بوٹ ادھر ادھر بکھرے اسٹیم سیلز جمع کرتا ہے، ڈھیر لگاتا ہے اور وہ اگے چل کر بچے بن جاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ خلیاتِ ساق کی اقسام کے خلیات میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ زینوبوٹ بنانے کے لیے ماہرین نے انہیں مینڈکوں کے انڈوں سے الگ کیا اور انکیوبیٹ کرایا لیکن اس میں کوئی خاص جین شامل نہ تھا پیٹری ڈش میں سی شکل والے زینوبوٹ نے بہت سارے ننھے منے اسٹیم خلیات کو اپنے منہ میں رکھا اور چند روز بعد ان سے نئے نینو بوٹس وجود میں آئے تاہم یہ بہت ابتدائی مرحلے میں ہے لیکن زندہ روبوٹ کے ضمن میں ایک اہم پشرفت ہے۔

    ٹوئٹرپربغیر اجازت صارفین کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرنے پر پابندی

    واضح رہے کہ امریکی سائنسدانوں نے مینڈک کے جنین کے خلیوں کی مدد سے دنیا کا پہلا زینوبوٹ بنایا تھا جسے اپنی مرضی کے مطابق کام لیا جا سکتا ہے تاہم اب یہ روبوٹ افزائش نسل بھی کر سکے گا۔

    ان زینوبوٹس کو ایک مخصوص محلول میں رکھا جاتا ہے جہاں اگر ان کی کافی تعداد موجود ہو تو ان کی حرکت سے مینڈک کے جنین کوئی ڈھیلا خلیہ ان کے ‘پیک مین’ ویڈیو گیمز کی شکل والے منہ میں جمع ہوجاتا ہے جس کے بعد مزید خلیے جمع ہو کر ایک نیا زینو روبوٹ بنا لیتے ہیں۔

    کچھوے کا زہریلا گوشت کھانے سے بچے سمیت 7 افراد ہلاک

  • یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے ۔۔۔ فرحان شبیر

    یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے ۔۔۔ فرحان شبیر

    ہماری جنریشن کا مسئلہ یہ کہ ہماری جنریشن کا اب ایک ایک لمحہ محفوظ ہو رہا ہے ۔ میرے دادا، پردادا کا اپنے وقتوں میں کیا اوڑھنا بچھونا رہا یا ان کے نظریات و خیالات کیا تھے مجھے کچھ نہیں پتہ لیکن میرے نواسی نواسے اور پوتا پوتی میری ایک ایک دن کی حرکات و سکنات کو دیکھ سکیں گے ۔ ہمیں نہیں پتہ کہ ہمارے بزرگوں میں سے کس نے کس مقام پر ٹھوکر کھائی اور جدوجہد کر کے کھڑا ہوگیا یا کون سے چاچے مامے انقلابات زمانہ سے ڈر کے بیٹھ گئے اور کشمکش حیات سے فرار کی راہیں اختیار کر لیں ۔
    ہمارے لئیے تو بڑا مسئلہ ہمارا یہ ورچوئل ہمزاد ہے جو دنیا بھر کے مختلف کمپیوٹرز میں تشکیل پا رہا ہے ۔ میری لوکیشن ، میرے اسٹیٹس ، میرے خیالات سب کچھ ہی Google , Amazon, Ali baba ، یوٹیوب ، فیس بک ، گوگل کروم اور وغیرہ وغیرہ کے ڈیٹا سینٹرز میں محفوظ ہو رہا ہے ۔ انھی ڈیٹا کو پڑھنے والے Algorithm ہی ہماری preferences کی بنیاد پر یوٹیوب سے لیکر فیس بک پر ویڈیوز اور اشتہارات کو ہماری اسکرین پر چلنے والی ویڈیوز میں گھماتے ہیں ۔ آنے والے وقتوں میں موبائل میں لگے کیمروں سے آپکے چہرے کے تاثرات پڑھ کر آپ کو آپ کی ہی اسکرین پر گھماتے پھراتے ، فیس بک یو ٹیوب کی سجیشن کے ذریعے انھی اشتہارات سے لیکر انھی ویڈیوز تک پہنچادیا جائے گا جو یا آپ دیکھنا پسند کرتے ہوں گے یا مارکیٹنگ کمپنیاں آپکو دکھانا چاہتی ہوں گی ۔

    تو ایسے میں ہمارا چھوڑا ہوا یہ ڈیجیٹل ورثہ ہماری آنے والی نسلوں کے سامنے ہماری ساری پول پٹیاں کھول کر رکھ سکتا ہے کہ لگڑ دادا زیادہ وقت پورن سائیٹس پر سرفنگ میں یا خواتین کو رجھانے والے اسٹیٹس لگانے میں لگاتے تھے یا زیادہ وقت کتابوں اور سیاحت میں گزارا کرتے تھے ۔ زمانے کی رو کے ساتھ بہتے چلے جاتے رہے یا اپنا کوئی فریش content بھی تھا ۔ خیالات فارورڈ لنکنگ تھے یا ماضی گزیدہ اور اسلاف پرستانہ ۔ یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے اچھی مثالیں ، اچھے خیالات و جذبات ، عقل و دانش پر مبنی تحریں اور ویڈیوز چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں کہ جنہیں دیکھ کر پڑھ کر آنے والی نسلیں فخر کر سکیں یا ایسا ڈیجیٹل ترکہ چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں کہ جس کو آنے والی نسلیں ڈیلیٹ فرام دا اسٹارٹ پر لگانا چاہیں ۔

    کیونکہ جب روبوٹس انسان کے کام کاج میں ہاتھ بٹانے لگے ہیں تو کون جانے کہ آنے والے ہزار دو ہزار سال بعد لوگ اپنے بچوں کے لئیے یا خود تنہائی کا مارا کوئی فرد اپنے لیے ایک دادا روبوٹ یا ایک نانی روبوٹ بھی بنوانے کے قابل ہوجائے ۔ جو ظاہر ہے کہ کسی حقیقی دادا نانا کی طرح consious being تو نہیں ہوگا لیکن اس کی ایک ڈیجیٹل ورچوئل یا روبوٹک کاپی تو ہوگا ۔ ہوگا تو انسان نہیں لیکن ہوگا کچھ نہ کچھ تو کمی پوری ہوگی جیسے آج ہم اپنے بچوں کو ان کے دادا پر دادا کی تصویریں دکھا کر ہی مطمئن ہوجاتے ہیں ۔کیا پتہ کہ آنے والے وقتوں میں لوگ خود اپنی ڈیجیٹل ہسٹری ، ساری زندگی کی آن لائین ایکٹیویٹیز، تھری ڈی ورچوئل ویڈیوز ، چھوٹے چھوٹے ویڈیو مسجز کو خود ہی اپنی آنے والی نسلوں کے لیے کسی CLOUD SERVER یا ڈیٹا سینٹر میں SAVE کرا کر جائیں جنہیں بعد میں آن ڈیمانڈ کسی گوشت پوست سے بنے روبوٹ میں فیڈ کرا دیا جائے اور اس دادا روبوٹ یا نانی روبوٹ یا محبوبہ روبوٹ کو ویسے ہی Behave کرائیں جیسا وہ شخص خود اپنی زندگی میں ان سامنے آنے والے Given circumstance میں Behave کرتا ۔

    ہم سے پچھلے والوں کے لیے کم از کم یہ امتحان تو نہیں تھے کہ آنے والی نسلوں کی بھی اسکروٹنی سے گزرنا پڑ سکتا ہے ۔ لیکن ہاں انہوں نے یہ سہولتیں بھی نہیں دیکھیں جن کا ہم آج مزہ اٹھا رہے ہیں اور جس طرح ہم اپنی آنے والی نسلوں کو متاثر کر سکتے ہیں اس طرح کا چانس ہمارے آباؤ اجداد کے پاس نہیں تھا ۔ دیکھا جائے تو زندگی تو ہر جنریشن کے لئیے ایک امتحان ہی یے ۔ قدرت نے اگر آپکو لیموں دیے ہیں تو آپ نے زندگی میں کھٹاس ہی بھرے رکھی یا کہیں سے شکر پکڑ کر لیمن کے ساتھ ملا کر اسکا لیمن مالٹ بنا کر انجوائے کر لیا ۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے ۔ آیا آپ اپنی صلاحیتوں کی نشونما اور نمود یعنی ان میں اضافہ کرتے ہیں یامقام انسانیت سے نیچے جا کر صرف دو وقت کی روٹی کا حصول اور حیوانی تقاضوں کی تکمیل میں جوڑا بناکر بچے پیدا کر کے مرجانے کو ہی زندگی کا حاصل گردانتے ہیں ۔ فیصلہ ہمارے اور آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہے ۔
    یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے
    پیش کر غافل اگر کوئی عمل دفتر میں ہے