Baaghi TV

Tag: روبیو

  • تہران کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا،مارکو روبیو

    تہران کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا،مارکو روبیو

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ امریکا کو آج ایران کی جانب سے جواب موصول ہونا چاہئیے، تہران کی جانب سے ابھی تک کوئی جواب موصول +نہیں ہوا۔

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نےروم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن ایران کی جانب سے سنجیدہ تجاویز کا منتظر ہے اور امید کرتا ہے کہ ایران موجودہ صورتِ حال میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گا،ایران کا داخلی نظام اس وقت شدید تقسیم اور غیر مؤثر صورتِ حال کا شکار ہے، جس کی وجہ سے فیصلہ سازی میں تاخیر ہو سکتی ہے،امید کی جا رہی ہے کہ ایران کی جانب سے ایسا مؤقف سامنے آئے جو سنجیدہ مذاکرات کے آغاز کا باعث بنے۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات کی رپورٹس کے مطابق ایران آبنائے ہرمز میں ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے کوئی نیا ادارہ قائم کرنے یا اس کی کوشش کر رہا ہے، جو کہ ان کے بقول ناقابلِ قبول اور سنگین مسئلہ ہوگا، واشنگٹن چاہتا ہے کہ موجودہ صورتِ حال ایک ایسے سفارتی عمل میں تبدیل ہو جس کے ذریعے کشیدگی کم ہو اور بامعنی مذاکرات شروع کیے جا سکیں، عالمی برادری نہیں چاہتی کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں، جب کہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش عالمی تجارت اور انسانی جانوں کے لیے شدید خطرہ بن سکتی ہے۔

    روبیو نے کہا کہ ایران کے خلاف گزشتہ روز کی گئی امریکی فوجی کارروائی، پہلے سے جاری آپریشن ایپک فیوری سے الگ اور مختلف تھی امریکا کی تازہ کارر وائی مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی تھی آپریشن ایپک فیوری ایک جارحانہ کارروائی تھی جس کا مقصد ایران کے میزائل لانچنگ نظام، بحریہ اور فضائیہ کو نشانہ بنانا تھا اور ان کے بقول یہ آپریشن پہلے ہی ختم ہو چکا ہے۔

    مارکو روبیو نےکہا کہ ایران کی یہ حرکت بحری قزاقی ہے اور تہران بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہےہرمز میں کشیدگی کے باعث کارگو کے ساتھ انسانی زندگیاں بھی ضائع ہو رہی ہیں کئی ممالک نے امریکا سے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کی درخواست کی، اسی لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان ممالک کی مدد کے لیے کھڑے ہوئے۔

    امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ گزشتہ روز امریکی جنگی جہاز بین الاقوامی پانیوں سے گزر رہے تھے کہ اس دوران ایرانی جانب سے فائرنگ کی گئی، جس کے جواب میں امر یکا نے اپنے دفاع میں کارروائی کی،ہم نے صرف دفاع میں جواب دیا تاکہ اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں صرف احمق ممالک ہی اس وقت جواب نہیں د یتے جب ان پر فائرنگ ہو رہی ہو اور ہم کوئی احمق ملک نہیں ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ امریکا کا مؤقف واضح ہے کہ اگر ایران نے امریکی شہریوں یا مفادات کو خطرے میں ڈالا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گاہم ان پر حملے نہیں کر رہے بلکہ حملوں کا جواب دے رہے ہیں، جو کچھ بھی ہو رہا ہے دفاع میں ہو رہا ہے صرف ہمارے پاس یہ اقدام کرنے کی قوت ہے اور امر یکا خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہا ہے۔

    امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ دو امریکی مرچنٹ جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں اور اگر امریکی جہازوں پر فائرنگ کی گئی تو امریکا بھی بھرپور جواب دے گا امریکی فورسز پہلے ہی ایران کی 7 فاسٹ بوٹس تباہ کر چکی ہیں ایران میں مہنگائی 70 فی صد تک پہنچ چکی ہے جب کہ ایرانی کرنسی شدید بحران کا شکار ہے آبنائے ہرمز کی بندش سے ایران کو روزانہ 500 ملین ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے اور اس کی 90 فی صد ایکسپورٹ متاثر ہو چکی ہے صدرٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکا کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں، آبنائے ہرمز پر ایران کا کوئی حق نہیں۔

  • مذاکرات میں ناکامی کا ڈر ،روبیو  جان بوجھ کر ایران جیسے پیچیدہ  معاملے سے فاصلہ رکھ رہے ہیں،برطانوی اخبار

    مذاکرات میں ناکامی کا ڈر ،روبیو جان بوجھ کر ایران جیسے پیچیدہ معاملے سے فاصلہ رکھ رہے ہیں،برطانوی اخبار

    برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کے مشیر مارکو روبیو اہم عالمی معاملات خصوصاً ایران جنگ سے پیدا ہونے والے بحران میں غیر معمولی طور پر پس منظر میں نظر آ رہے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اپنے داماد جیراڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو پاکستان بھیج رہے ہیں جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس بھی گزشتہ دنوں اسلام آباد میں بات چیت کی قیادت کرتے رہے تاہم اس تمام عمل میں مارکو روبیو کی عدم موجو دگی نمایاں رہی، اگرچہ روبیو کو ٹرمپ کی انتظامیہ میں وفادار ساتھی سمجھا جاتا ہے لیکن اہم خارجہ پالیسی فیصلوں میں ان کا کردار محدود دکھائی دیتا ہے، ان کا زیادہ فوکس لاطینی امریکا پر رہا ہے جبکہ ایران جیسے بڑے بحران میں دیگر شخصیات کو آگے رکھا جا رہا ہے۔

    ماہرین کے مطابق روبیو جان بوجھ کر ایران جیسے پیچیدہ اور غیر مقبول معاملے سے فاصلہ رکھ رہے ہیں تاکہ ممکنہ ناکامی کا بوجھ ان پر نہ آئے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ مستقبل میں صدارتی امیدوار بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔

    ہینری کسنجر کے بعد روبیو واحد شخصیت ہیں جو بیک وقت دو اہم عہدوں پر فائز ہیں تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ان کے اختیارات اور اثر و رسوخ اس تاریخی مثال کے مقابلے میں کم دکھائی دیتے ہیں۔

    دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روبیو ہر اہم قومی سلامتی کے معاملے میں شامل ہوتے ہیں لیکن فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق عملی طور پر ٹرمپ انتظامیہ میں خارجہ پالیسی کا انداز بدل چکا ہے جہاں روایتی سفارت کاری کے بجائے مخصوص ایلچیوں اور محدود حلقے پر زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے۔