Baaghi TV

Tag: روسی صدر

  • اسرائیل اور ایران کے درمیان  تنازع کو ختم کرانے میں ثالث کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں،روسی صدر

    اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع کو ختم کرانے میں ثالث کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں،روسی صدر

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کو ختم کرانے میں ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع ایک نازک معاملہ ہے، مگر میری رائے میں اس کا حل نکالا جا سکتا ہے، ماسکو، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع کو ختم کرانے میں ثالث کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور ایک ایسا معاہدہ ممکن ہے جس کے تحت تہران کو پُرامن جوہری پروگرام جاری رکھنے کی اجازت دی جا سکے، جب کہ اسرائیل کے سلامتی کے خدشات کو بھی دور کیا جا سکے۔

    اسرائیل، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو قتل کر نے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ میں ایسی کسی ممکنہ صورتحال پر بات کرنا بھی نہیں چاہتا‘ ،ماسکو کی تجاویز ایران، اسرائیل اورامریکا کو پیش کر دی ہیں ہم کسی پر کوئی چیز مسلط نہیں کر رہےہم صرف یہ بتا رہے ہیں کہ ہمارے خیال میں اس صورت حال سے نکلنے کا ایک ممکنہ راستہ کیا ہو سکتا ہے، مگر اس کا حتمی فیصلہ ان ممالک کی سیاسی قیادت کا ہے۔

    افغانستان میں اسکولوں اور مدارس میں اسمارٹ فونز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد

    انہوں نے کہا کہ روس نے ایران کا پہلا جوہری پاور پلانٹ مکمل کرنے میں مدد دی اور اس وقت 2 مزید ری ایکٹرز کی تعمیر میں بھی تعاون کر رہا ہے، جس پر کام جاری ہےہمارے 200 سے زائد ماہرین وہاں موجود ہیں، ہم نے اسرائیلی قیادت سے ان کی سلامتی کے تحفظ پر بھی بات کی ہے جب کہ اسرائیل نے ایرانی جوہری پلانٹ پر کام کرنے والے روسی ماہرین کی سلامتی کی یقین دہانی کرا دی ہے۔

    قبل ازیں ایک بیان میں روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے کہا تھا کہ ایران کو پُرامن جوہری تنصیبات رکھنے کا حق حاصل تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا، اور یہ تنصیبات اب حملوں کی زد میں ہیں۔

    پاک بحریہ کا سمندر میں زخمی بھارتی عملے کو بچانے کیلئے کامیاب ریسکیو آپریشن

    روسی خبر رساں ادارے ’تاس‘ کے مطابق روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جوہری خطرہ کوئی مفروضہ نہیں بلکہ حقیقی اور عملی پہلو رکھتا ہے، جو نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرے کا باعث ہےیہ سب کچھ نہ صرف کشیدگی میں اضافہ کر رہا ہے، بلکہ خطے اور دنیا کے لیے براہ راست خطرہ بن چکا ہے، کیوں کہ پُرامن ایٹمی یا جوہری تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں، جوہری خطرہ مفروضاتی نہیں بلکہ عملی حقیقت بن چکا ہے، ایران کو پُرامن جوہری تنصیبات رکھنے کا حق حاصل تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا، اور یہ تنصیبات اب حملوں کی زد میں ہیں۔

  • روسی فتح کی 80 ویں سالگرہ، صدر مملکت نے  روس کے تعمیری کردار کو سراہا

    روسی فتح کی 80 ویں سالگرہ، صدر مملکت نے روس کے تعمیری کردار کو سراہا

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے روسی فتح کی 80 ویں سالگرہ کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے روسی صدر، حکومت اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس موقع پر اپنے خطاب میں صدر مملکت نے اپنے 2011 کے دورۂ روس کو یادگار قرار دیا اور پاک روس دوستی کے فروغ میں روسی صدر کے کردار کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی تبادلوں نے بہتر تعلقات اور افہام و تفہیم کی بنیاد رکھی ہے۔ صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان روس کو ایک اہم عالمی طاقت اور علاقائی امن و استحکام میں کلیدی عنصر کے طور پر دیکھتا ہے۔ انہوں نے خطے میں بالخصوص پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں روس کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس اس صورتحال کو بہتر بنانے میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے اور کر رہا ہے۔

    صدر زرداری نے کہا کہ نازی ازم کے خلاف روسی عوام کی فتح عوامی طاقت، امن و خوشحالی کے لیے روس کے پختہ عزم کی مظہر ہے۔ انہوں نے اس موقع پر یاد دلایا کہ دوسری جنگ عظیم کے دوران موجودہ پاکستان کے علاقوں سے بھی بہت سے افراد نے نازی ازم کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا۔پاکستان روس کو ایک اہم عالمی طاقت اور علاقائی امن و استحکام میں کلیدی عنصر کے طور پر دیکھتا ہے۔ انہوں نے خطے میں بالخصوص پاکستان اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں روس کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس اس صورتحال کو بہتر بنانے میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے اور کر رہا ہے۔

    شہیر آفریدی کا وطن واپسی پر شاندار استقبال،فتح پاک فوج کے نام کر دی

    اسرائیل کی یمن پر بمباری، تین افراد مارے گئے

    شرجیل میمن سے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے وفد کی ملاقات

    پیپلز پارٹی کے وقار مہدی سندھ سے سنیٹر منتخب ہو گئے

  • ٹرمپ حلف برداری،روسی صدر کا چینی ہم منصب  سےٹیلفونک  رابطہ

    ٹرمپ حلف برداری،روسی صدر کا چینی ہم منصب سےٹیلفونک رابطہ

    ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد روس چین اعلی سطحی رابطہ ، روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے چینی ہم منصب شی جن پنگ کو فون پر کہا کہ باہمی تعلقات کو اعلی سطح پر لے جائیں گے ۔

    رپورٹ کے مطابق شی جن پنگ اور پوٹن نے فون پر بات چیت کی اور امریکا کے ساتھ مستقبل کے تعلقات، یوکرین اور تائیوان کی جنگ پر تبادلہ خیال کیا۔ چینی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈیڑھ گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی بات چیت کے دوران، دونوں نے ایک دوسرے کو "پیارے دوست” کہہ کر پکارا اور باہمی مفادات کے دفاع کے لیے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم پر زور دیا۔ صدر شی جن پنگ نے زور دیا کہ روس اور چین کو "تزویراتی تعاون کو فروغ دینا ہوگا جبکہ دونوں کو ایک دوسرے کی حمایت کیلئے کھڑا ہونا اور دونوں ممالک کے جائز مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے۔ ٹیلی فونک گفتگو کے دوران صدر پوٹن نے کہا ہے کہ یوکرین کے کسی بھی تصفیے کیلئے روسی مفادات کا احترام کرنا چاہیے۔روسی صدر نے تائیوان پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تائیوان چین کی سرزمین کا ایک ناقابل تقسیم حصہ ہے۔

    بھارتی لابی متحرک، ٹرمپ اور مودی ملاقات اگلے ماہ کروانے کی کوششیں

    محکمہ اطلاعات سندھ کے شعبہ اشتہارات میں جدید میڈیا مینجمنٹ سسٹم کا افتتاح

    امداد کی61 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ کرم پہنچ گیا

    روزانہ 2ہزار پاکستانی بہتر روزگار کیلئے ملک سے جا رہے ہیں

  • روسی صدر پوتن  نے  ڈونلڈ  ٹرمپ کو مبارکباد دیدی

    روسی صدر پوتن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد دیدی

    روس کے صدر پوتن نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد دی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ٹرمپ کے حلف برداری سے عین قبل روس کی سلامتی کونسل کے ارکان کے ساتھ ایک ویڈیو کال کے دوران بات کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ "ہم ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے ارکان کی جانب سے روس کے ساتھ براہ راست روابط بحال کرنے کی خواہش کے بارے میں بیانات سنے ہیں ، جو سبکدوش ہونے والے انتظامیہ نے ہماری کسی غلطی کے بغیر ختم کردیے تھے۔

    پوتن نے کہا کہ ہم ان کے یہ بیانات بھی سنے ہیں کہ تیسری جنگ عظیم کو روکنے کے لیے سب کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ہم یقینی طور پر اس طرح کے نقطہ نظر کا خیرمقدم کرتے ہیں اور منتخب امریکی صدر کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔روسی صدر نے مزید کہا کہ ماسکو یوکرین میں ممکنہ امن تصفیہ پر بات چیت کے لیے تیار ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اسے مختصر جنگ بندی نہیں بلکہ دیرپا امن کی طرف لے جانا چاہیے اور روس کے مفادات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے سب سے معمر صدر بن گئے

    کے فور منصوبہ جولائی 2026 تک مکمل کرلیا جائے گا،سعید غنی

    سنہرے دور کا آج سے آغاز ہو گیا ہے،ٹرمپ کا خطاب

    ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب جاری، نائب صدر جے ڈی وینس نے حلف اٹھالیا

    کراچی انٹر بورڈ میں غنڈہ عناصر سرگرم، طلبا سے رقم لیکر کام کرانے لگے،

  • عالمی عدالت کے وارنٹ کے باوجود روسی صدر کامنگولیا میں پرتپاک استقبال

    عالمی عدالت کے وارنٹ کے باوجود روسی صدر کامنگولیا میں پرتپاک استقبال

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن دو روزہ دورے پر منگولیا پہنچے، جہاں ان کا خصوصی استقبال کیا گیا
    یوکرین نے گزشتہ سال بین الاقوامی فوجداری عدالت کے فیصلے کے مطابق ان کی گرفتاری کی درخواست کی تھی لیکن ماسکو نے کہا کہ وہ اس بارے میں فکر مند نہیں ہیں،آئی سی سی کے وارنٹ کے باوجود پیوٹن کا منگولیا میں شاندار استقبال کیا گیا۔ روس کے صدر ولادیمیر پوتن کا منگل کو منگولیا کے سرکاری دورے پر سرخ قالین پر استقبال کیا گیا، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ کے تحت انہیں گرفتار کرنے میں ناکامی کو یوکرین نے انصاف کے خلاف ایک دھچکا قرار دیا تھا۔روسی صدر دارالحکومت اولانبتار میں اپنی لیموزین سے باہر نکلے تو، ان کا استقبال ان کے منگول ہم منصب نے گھوڑے پر سوار رسمی محافظوں کی قطار کے سامنے کیا۔

    بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے گزشتہ سال پیوٹن کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے جس میں عدالت کے 124 رکن ممالک بشمول منگولیا کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ روسی صدر کو گرفتار کریں اور اگر وہ اپنی سرزمین پر قدم رکھتے ہیں تو مقدمے کے لیے اسے دی ہیگ منتقل کریں۔یوکرائنی وزارت خارجہ کے ترجمان ہیورہی تیکھی نے کہا کہ منگولیا کی جانب سے اس پر عمل کرنے میں ناکامی "بین الاقوامی فوجداری عدالت اور فوجداری قانون کے نظام کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھا”۔منگولیا نے ایک ملزم مجرم کو انصاف سے بچنے کی اجازت دی ہے،

    آئی سی سی کے وارنٹ میں پیوٹن پر یوکرین سے سینکڑوں بچوں کو غیر قانونی طور پر ملک بدر کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ کریملن نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سیاسی طور پر محرک ہے۔کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ ماسکو کو وارنٹ کے سلسلے میں کسی کارروائی کی کوئی فکر نہیں ہے، کیونکہ روس کا منگولیا کے ساتھ ’’زبردست بات چیت‘‘ ہے اور اس دورے کے تمام پہلوؤں پر پہلے سے بات چیت کی گئی تھی۔منگولین رہنما نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون کو فروغ ملے گا۔

    منگولیا ایک بڑی پائپ لائن کے منصوبہ بند راستے پر ہے جسے روس اپنے یامال علاقے سے چین تک سالانہ 50 بلین کیوبک میٹر قدرتی گیس لے جانے کے لیے تعمیر کرنا چاہتا ہے۔پاور آف سائبیریا 2 نامی یہ منصوبہ روس کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے کہ یوکرین کی جنگ کے آغاز کے بعد سے یورپ میں گیس کی فروخت میں ہونے والے نقصان کی تلافی کی جائے۔نیا منصوبہ طویل عرصے سے گیس کی قیمتوں جیسے اہم مسائل پر الجھا ہوا ہے۔ تاہم،روسی صدرنے اپنے دورے کے موقع پر کہا کہ تیاری کا کام، بشمول فزیبلٹی اور انجینئرنگ اسٹڈیز، طے شدہ کے مطابق آگے بڑھ رہے ہیں۔

    روسی صدر کا یہ دورہ جاپانی فوج پر سوویت منگول فوجیوں کی مشترکہ فتح کی 85ویں سالگرہ کے موقع پر ہو رہا ہے۔ منگولیا روس کا پڑوسی ملک ہے، روسی صدر پیر کی شام منگولیا کے دارالحکومت اولانبٹار پہنچے۔روسی صدر کے منگولیا پہنچتے ہی ان کی گرفتاری کے مطالبات اٹھنے لگے، کیونکہ منگولیا بین الاقوامی فوجداری عدالت کا رکن ہے اور عدالت کی جانب سے روسی صدر کے وارنٹ جاری ہیں،ولادیمیر پوتن نے سال 2019 کے بعد پہلی بار منگولیا کا دورہ کیا ہے۔

    روسی صدرولادیمیر پوتن دنیا کے دوسرے طاقتور ترین ملک کے صدر ہیں اس لیے امید نہیں کہ وہ آئی سی سی کے احکامات پر عمل کریں گے۔ روس پہلے ہی آئی سی سی کو تسلیم نہیں کرتا، اس لیے ولادیمیر پوتن کو روس کے اندر گرفتار نہیں کیا جا سکتا، اس کے علاوہ اگر وہ ملک میں نہیں ہیں تو ان پر مقدمہ چلانا ممکن نہیں۔

    پی ایچ ڈی کے لئے بیرون ملک جانیوالے 57 اساتذہ واپس نہ آئے

    جعلی سفری دستاویزات پر بیرون ملک جانے والے 2 مسافر گرفتار

    اوورسیز پاکستانیوں کیلئے خوشخبری،بیرون ملک بیٹھ کر اپنی پراپرٹی ٹرانسفر کرسکیں گے

    بیرون ملک پاکستانیوں کے شرمناک کام،50 فیصد جرائم میں ملوث

    بیرون ملک 29ہزار سے زائد پاکستانی جیلوں میں قید

    بھارت کی صنم فیس بک پر پاکستانی لڑکےکو دل دے بیٹھی،کر لی شادی

    بلاول کامیانمار میں تین پاکستانی نوجوانوں کے مبینہ اغوا کا نوٹس

    سعودی عرب میں 7 پاکستانیوں سمیت 106 افراد کو موت کی سزا

    کرغستان میں 1200 غیرقانونی پاکستانی ہیں جن کو جلد ڈی پورٹ کیا جائے گا، اسحاق ڈار

    پاکستانی سفارتکار کے باورچی کی شرمناک حرکت،بھارت نے ملک بدر کر دیا

    امریکا کے ساتھ میچ سے قبل پاکستانی کھلاڑی امریکا میں کیا "گلُ ” کھلاتے رہے؟

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

  • وزیراعظم شہباز شریف کی روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف کی روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات

    آستانہ: وزیراعظم شہباز شریف کی روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات ہوئی ہے

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں میں دو طرفہ تعلقات سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ صدر پیوٹن کو دوبارہ منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، پاکستان کے روس کے ساتھ باہمی تعلقات ہیں، کئی برسوں میں دونوں ملکوں کے تعلقات مزید مستحکم ہوئے ہیں، آپ کے تجربےسے مزید فائدہ اٹھا کر تجارت کو بڑھانا چاہتے ہیں، دونوں ملکوں کی باہمی تجارت ایک ارب ڈالر کے قریب ہے، پاکستان روس کے ساتھ تعلقات کو مستقبل میں مزید بڑھانا چاہتا ہے، آج وہ وقت ہے کہ ہم تجارت کو بڑھا کر تعلقات کو مزید مستحکم کریں،پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات کسی اور ملک کی وجہ سے متاثرنہیں ہوں گے،

    دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کی بدولت دو طرفہ تعلقات میں مزید بہتری آئی ،روسی صدر
    روسی صدر نے وزیراعظم پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے دوبارہ مل کر بہت خوشی ہو رہی ہے، دو سال پہلے ہم شنگھائی تعاون تنظیم کے ہی اجلاس کے موقع پر سمر قند میں ملے تھے؛ ہم نے دو طرفہ امور کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی تھی ،پاکستان اور روس کے درمیان بہترین تعلقات ہیں،دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط کی بدولت دو طرفہ تعلقات میں مزید بہتری آئی ہے ،توانائی اور زراعت کے شعبوں میں ہم اپنے تعاون کو بڑھا سکتے ہیں ،غذائی تحفظ کے شعبے میں بھی پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھائیں گے .

    قبل ازیں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف قازقستان کے دارالحکومت آستانہ پہنچے،آستانہ کے نور سلطان نذر بائیوف بین الاقوامی ہوائی اڈے پر قازقستان کے وزیرِاعظم اولہاز بیکٹونوف، قازقستان کے نائب وزیرِاعظم علی بیک بیکایوف، آستانہ شہر کے میئر زہینس قاسم بیک، قازقستان میں تعینات پاکستان کے سفیر نعمان بشیر اور دیگر سفارتی عملے نے وزیرِاعظم کا استقبال کیا۔وزیرِاعظم 3 اور 4 جولائی 2024 کو آستانہ، قازقستان میں شنگھائی تعاون تنظیم کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ اجلاس (CHS) اور ایس سی او پلس SCO Plus کے سربراہی اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔وزیرِاعظم سربراہی اجلاس کے موقع پر شریک رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔

    شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان کی کونسل کے اجلاس میں وزیرِاعظم اہم علاقائی اور عالمی مسائل پر پاکستان کے نقطہِ نظر پیش کریں گے۔ وزیرِاعظم ایس سی او پلس سمٹ سے بھی خطاب کریں گے.وزیرِاعظم اہم علاقائی اور عالمی مسائل پر پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کریں گے۔ وزیرِاعظم ایس سی او خطے کے لوگوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے شنگھائی تعاون تنظیم کی اہمیت کو اجاگر کریں گے۔وزیرِاعظم سربراہی اجلاس کے موقع پر شریک رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کریں گے۔آج پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے مابین سہ فریقی بات چیت کا دور کا دور ہو گا جس میں وزیرِاعظم کی شرکت بھی متوقع ہے۔وزیرِاعظم آج شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان کے اعزاز میں قازقستان کے صدر عزت مآب قاسم جومارت توکائیوف کی جانب سے دیئے جانے والے عشائیے میں بھی شرکت کریں گے۔

    وزیرِاعظم شہباز شریف سے تاجکستان کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کے چیئرمین کی ملاقات
    قبل ازیں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے تاجکستان کی پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں کے چیئرمین کی ملاقات ہوئی ہے،تاجکستان کی مجلس اولیٰ (تاجک پارلیمنٹ) کی مجلسی نموینداگون (ایوانِ زیریں) کے چیئرمین جناب محمد طائر زاکر زادہ نے آج دوشنبہ میں وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی سطح پر تعاون کے حوالے اطمینان کا اظہار کیا اور دوطرفہ تعلقات کو مزید بڑھانے کے لیے پہلے سے قائم پارلیمانی فرینڈشپ گروپس اور باقاعدہ پارلیمانی تبادلوں کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔وزیرِاعظم نے اس بات پر زور دیا کہ اراکینِ پارلیمنٹ دونوں ممالک کی عوام کو قریب لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور تاجکستان کے اراکینِ پارلیمنٹ کی مسلسل بات چیت اور روابط کی اہمیت پر زور دیا۔وزیرِاعظم نے جمہوریہ تاجکستان کے آئین کی 30 ویں سالگرہ پر چیئرمین کو مبارکباد بھی دی۔ وزیراعظم تاجکستان کے صدر عزت مآب امام علی رحمٰن کی دعوت پر تاجکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبہ میں ہیں۔

  • روسی صدر کا 24 برس بعد شمالی کوریا کا دورہ،امریکا کا اظہار تشویش

    روسی صدر کا 24 برس بعد شمالی کوریا کا دورہ،امریکا کا اظہار تشویش

    روسی صدر ولادیمیر پیوٹن شمالی کوریا کے دو روزہ دورے پر پیانگ یانگ پہنچ گئے ہیں

    روسی صدر کے پیانگ یانگ پہنچنے پر شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے خیر مقدم کیا، روسی صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، روسی صدر اور شمالی کوریا کے رہنما ایک ہی گاڑی میں ایئر پورٹ سے ہوٹل تک گئے،غیرملکی میڈیا کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے 24 سال بعد دورہ شمالی کوریا سے قبل پیانگ یانگ کی سڑکوں کو روسی جھنڈوں اور پوسٹروں سے سجایا گیا تھا،روسی صدر ولادیمیر پوٹن کا کہنا ہے کہ ماسکو اور پیانگ یانگ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کریں گے۔

    1999 میں روس کے صدر بننے کے اگلے ہی سال ولادیمیرپوتن شمالی کوریا گئے تھے۔ روسی صدر نے کم جونگ ان کے والد کم جونگ ال سے ملاقات کی تھی ولادیمیرپوتن اب 24 سال بعد شمالی کوریا کا دورہ کر رہے ہیں۔

    روسی صدر کے دورہ شمالی کوریا کے حوالہ سے غیر ملکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ روس اور شمالی کوریا عالمی تنہائی کا شکار ہونے کی وجہ سے مختلف معاہدے سائن کر سکتے ہیں، روس یوکرین کے خلاف اپنی جنگ برقرار رکھنے کے لیے پیانگ یانگ سے ہتھیار حاصل کر سکتا ہے،روسی صدر کے دورہ شمالی کوریا سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات مزید مضبوط ہوں گے.

    روسی صدر کے دورہ شمالی کوریا پر امریکہ کا بھی ردعمل سامنے آیا ہے،امریکی حکومت نے روسی صدر کے دورہ شمالی کوریا پر تشویش کا اظہار کیا ہے،امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان پیٹ رائڈر کا کہنا ہے کہ روس اور شمالی کوریا کے درمیان گہرے تعاون پر تشویش کی ضرورت ہے،خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو جزیرہ نما کوریا میں امن اور استحکام کو برقرار رکھنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔لیکن روسی جارحیت کے خلاف لڑنے والے یوکرین کے لوگوں کی حمایت کرنا بھی چاہتے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا ہے کہ روس شمالی کوریا کی جانب سے ہتھیاروں کی فراہمی کی وجہ سے یوکرین میں جنگ چھیڑنے میں کامیاب ہوا،ہم اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ کسی بھی ملک کو ولادیمیرپوتن کو اس جارحانہ جنگ کو فروغ دینے کے لیے پلیٹ فارم فراہم کرنا چاہیے جو ہم یوکرین اور روس کے درمیان دیکھ رہے ہیں۔ یہ جنگ واضح طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے اور بین الاقوامی نظام کو کمزور کر رہی ہے۔

    مبصرین کے مطابق اس دو روزہ دورے میں دیگر چیزوں کے علاوہ پیانگ یانگ سے ہتھیاروں کی سپلائی پر توجہ دی جائے گی، جسے روس یوکرین کے خلاف اپنی جنگ میں استعمال کرنا چاہتا ہے۔

  • روسی صدر کا 2030 تک حکمرانی کا ہدف

    روسی صدر کا 2030 تک حکمرانی کا ہدف

    روسی صدر ولادی میر پوتن نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں آئندہ 2024 کے صدارتی انتخابات لڑنے کا بھی اعلان کیا، یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جس سے وہ کم از کم 2030 تک اقتدار میں رہیں گے۔ یہ انتخابات 15 سے 17 مارچ 2024تک ہوں گے، اور ان الیکشن میں تقریباً 110 ملین ووٹرز اپنی رائے دیں گے، تاہم، تاریخی رجحانات کم ٹرن آؤٹ دکھاتے ہیں، 2018 کے انتخابات میں 67.5 فیصد ووٹرز کی شرح ریکارڈ کی گئی۔

    پوتن نے 1999 میں بورس یلسن کی جگہ صدارت سنبھالی تھی اور اس کے بعد وہ جوزف اسٹالن کے بعد روس کے سب سے طویل عرصے تک صدر رہنے والے رہنما بن گئے ہیں۔ مارک گیلیوٹی کی کتاب، "Putin’s Wars” میں 2000 کی دہائی سے اب تک کی روس کی فوجی مصروفیات کا ایک جامع جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ روسی سیاسی اور سلامتی کے امور کے معروف اسکالر Galeotti نے دو چیچن جنگوں، شامی تنازعے میں روسی مداخلت، جارجیا پر حملہ، کریمیا کا الحاق، اور یوکرین میں وسیع تنازعات کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
    Galeotti کا کام حالیہ تنازعات سے آگے بڑھتا ہے، جو روس کی اعلیٰ ترین اور فرسودہ مسلح افواج کو دوبارہ منظم کرنے میں کامیاب وزراء دفاع کو درپیش چیلنجوں کا جائزہ لے رہے ہیں، پوتن کے پہلے وزیر دفاع، سرگئی ایوانوف (2001–2007) نے فوجی جرنیلوں کی مزاحمت کا سامنا کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر بھرتی کرنے پر ایک کنٹریکٹ آرمی کی وکالت کی۔

    میں قارئین کی توجہ ایک نقطے کی طرف مبذول کرانا چاہوں گی، غزہ میں نسل کشی کی وجہ سے،ارد گردجانے کے لیے بہت کچھ ہے۔ یوکرین کے مغربی اتحادیوں کی طرف سے امداد بند ہو رہی ہے۔ حماس نے ایرانی مالی معاونت سے یہ حملہ شروع کیا جو آگ کی طرح پھیل گیا، غزہ کو قبضے میں لے لیا گیا، بالکل اسی وقت جب سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان معاہدہ ہونے والا تھا جس سے فلسطینیوں کو زیادہ فائدہ اور یقیناً ایران کو نقصان ہوگا، اس حملے کے بعد آگ پھیل گئی، اسرائیل کی طرف سے ردعمل کو شاید اچھی طرح سمجھا گیا تھا، اس تباہی کے گرد گھومنے کے لئے ابھی بہت کچھ باقی ہے جس نے دنیا کو ٹکرایا، یوکرین کو ذیلی متن میں لے گیا اور آخر کار اسے روس سے لڑنے کے لیے کمزور بنا دیا۔
    آخر سیاست ایک گندا کھیل ہے

  • روسی صدر کے ایک اور مخالف، سابق روسی جنرل کی پراسرار موت

    روسی صدر کے ایک اور مخالف، سابق روسی جنرل کی پراسرار موت

    روس اور یوکرین جنگ کی وجہ سے دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو گئی، روسی صدر کو جنگ کی وجہ سے مسلسل تنقید اور مخالفت کا سامنا ہے،ایسے میں روسی صدر کے مخالف افراد کی پراسرار طریقے سے موت کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں

    اب حالیہ وقعہ میں روسی صدر کے ایک مخالف،سابق روسی جنرل ولادیمیر سویریدوف کی لاش ملی ہے، سابق روسی جنرل کی لاش ایک خاتون کی لاش کے ہمراہ بستر سے ملی، امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق سابق روسی جنرل ولا دیمیر یدوف نے فضائیہ کی ٹریننگ کے حوالے سے روسی صدر پیوتن کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، اب سابق روسی جنرل کی لاش ملی،خاتون ،کی شناخت سابق جنرل کی بیوی کے طور پر ہوئی، سابق جنرل ولادیمیر کی عمر 68 برس تھی،

    ماسکو کی سیکورٹی سروسز سے منسلک روسی آؤٹ لیٹس بازا اور کومرسنٹ کی رپورٹ کے مطابق سابق روسی جنرل پر تشدد نہیں ہوا، نہ ہی انکی اہلیہ پر تشدد ہوا، کریملن نے سابق روسی جنرل کی موت پر کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق روسی جنرل اور اسکی اہلیہ کی لاشیں گھر میں ایک ہی بستر پر ملیں،سابق روسی جنرل نے 2007 میں روسی میگزین کو ایک انٹرویو دیا تھا جس میں انہوں نے روسی صدر پر تنقید کی تھی اور پائلٹوں کی ٹریننگ پر اظہار تشویش کیا تھا

    قبل ازیں ایک روسی تاجر جس نے یوکرین حملوں کے حوالہ سے روسی صدر کی مخالفت کی تھی کی لاش بھارتی ریاست اڈیشہ سے ملی تھی، 2015 میں سابق سوویت یونین کے عظیم سیاستدان سمجھے جانے والے روس کے نیمتسوف کو بھی قتل کر دیا گیا تھا، انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے وکیل اسٹینسلاو مارکیلوف کو بھی 2009 میں قتل کر دیا گیا تھا،

    روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

    ہ برطانیہ سمیت کئی دوسرے ممالک نے بھی اپنے شہریوں کو وہاں سے نکل جانے کی اپیل

    امریکی صدر جوبائیڈن سے جرمن چانسلر اولاف شُولس کی وائٹ ہاوس میں ملاقات

    وس نے یوکرین پر حملے کی 70 فیصد تیاری مکمل کرلی

    بھارت مکاری کا شہنشاہ:مفاد پرمبنی پالیسیاں:چین کے خلاف امریکہ کا اتحادی:یوکرین پرامریکہ کا مخالف

  • روس کو درپیش مشکل ترین آزمائش پر قابو پالیا گیا ہے،روسی صدر

    روس کو درپیش مشکل ترین آزمائش پر قابو پالیا گیا ہے،روسی صدر

    ماسکو: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ویگنر گروپ کے زیادہ ترکمانڈر اور فائٹر محب وطن روسی ہیں۔

    باغی ٹی وی: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روس کو درپیش مشکل ترین آزمائش پر قابو پالیا گیا ہے جبکہ ویگنر گروپ کے زیادہ ترکمانڈر اور فائٹر محب وطن روسی ہیں ویگنر کو اندھیرے میں رکھ کر بھائیوں کے خلاف لڑانے کی کوشش کی گئی اور جو ویگنر اہلکار بیلا روس جانا چاہتے ہیں وہ جا سکتے ہیں۔

    ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ ویگنر اہلکار وزارت دفاع یا کسی اور ادارے میں شامل ہوجائیں ورنہ ملازمت چھوڑ دیں جبکہ محاذ جنگ پر ناکام مخالفین بدلہ لینے کی خواہش میں ہاتھ ملتے رہ گئے ہیں غلطی کرنےوالوں کو سمجھنے میں وقت لگا کہ معاشرے نے انہیں مسترد کر دیا ہے اور باغیوں کو سمجھنے میں وقت لگا کہ انہیں ملک کے خلاف ایڈونچرمیں گھسیٹا گیا ہے شروع میں ہی احکامات دے دیئے تھے خون ریزی سے اجتناب برتا جائے اور ویگنر گروپ نے میدان جنگ میں جرات دکھائی اور ڈونباس کو آزاد کرایا۔

    ہمارا مقصد ماسکوحکومت کا تختہ اُلٹنا نہیں تھا،مسلح باغی ویگنر گروپ کے سربراہ کا پہلا بیان جاری

    قبل ازیں بغاوت کی کوشش ناکام ہونے کے بعد اپنے پہلے بیان میں نجی فوجی ملیشیا ویگنر گروپ کے سربراہ یووگینی پری گوژن کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنا مارچ ناانصافی کے خلاف شروع کیا تھا، ہمارا مقصد یوکرین میں جنگ کے غیر مؤثر طرز عمل پر احتجاج کرنا تھا، ہمارا مقصد ماسکوحکومت کا تختہ اُلٹنا نہیں تھا ہمارے مارچ سے روس میں سنگین سکیورٹی مسائل سامنے آئے، واپسی کا فیصلہ روسی فوجیوں کا خون بہانے سے بچانے کے لیے کیا۔

    روس سے سستے تیل کی دوسری کھیپ پاکستان پہنچ گئی