Baaghi TV

Tag: روس-یوکرین مذاکرات

  • استنبول میں روس یوکرین مذاکرات شروع، جنگ بندی  کی امید

    استنبول میں روس یوکرین مذاکرات شروع، جنگ بندی کی امید

    ترکیہ میں روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا تیسرا دور شروع ہو گیا ہے۔

    استنبول میں دونوں ممالک کے وفود نے بات چیت کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ روسی اور یوکرینی وفود کے سربراہان کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی ہوئی ہے۔روسی خبر رساں اداروں کے مطابق مذاکرات کا مقصد موجودہ جنگی صورتِ حال میں کمی لانا اور ممکنہ جنگ بندی کے لیے مشترکہ راہ تلاش کرنا ہے۔

    مذاکرات کے آغاز سے قبل ترک وزیر خارجہ نے میڈیا سے گفتگو میں امید ظاہر کی کہ دونوں فریقین پہلے سے طے شدہ میمورنڈم کی بنیاد پر نتیجہ خیز بات چیت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ کا بنیادی مقصد خونریز جنگ کو جلد از جلد ختم کرانا ہے۔اس سے قبل یوکرینی وفد نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے انقرہ میں ملاقات کی تھی، جس میں امن عمل اور مذاکراتی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ یوکرین امن قائم کرنے اور مکمل جنگ بندی کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے کو تیار ہے۔بین الاقوامی برادری ان مذاکرات کو روس-یوکرین جنگ کے حل کی جانب اہم پیش رفت قرار دے رہی ہے۔

    پاکستان اور آذربائیجان کا ماحولیاتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

    بھارت میں جعلی سفارتخانے کا انکشاف، لاکھوں کی کرنسی اور لگژری گاڑیاں برآمد

    روس اور طالبان حکومت کے وزرائے خارجہ کا رابطہ، تجارتی تعاون بڑھانے پر اتفاق

  • یوکرین کا روس پرسب سے بڑا ڈرون حملہ: عالمی سطح پر نیوکلیئر جنگ کا خطرہ؟

    یوکرین کا روس پرسب سے بڑا ڈرون حملہ: عالمی سطح پر نیوکلیئر جنگ کا خطرہ؟

    یوکرین نے روس کے دو حساس اور دور دراز ملٹری ایئر بیسز پر "آپریشن اسپائیڈر ویب” کے نام سے ایک غیر معمولی اور خفیہ ڈرون حملہ کر کے دنیا بھر کو حیران کر دیا۔ یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا جب عالمی برادری ترکی میں روس-یوکرین مذاکرات سے امن کی امید باندھ رہی تھی۔ تاہم اس حملے نے حالات کو مزید خطرناک رخ دے دیا ہے۔

    سینئر صحافی اور اینکر مبشر لقمان کے انکشافات کے مطابق یوکرین نے ہزاروں کلومیٹر دور سائبریا اور آرکٹک ریجن میں روسی ایئر بیسز پر FPV ڈرونز سے حملہ کیا۔ یہ ڈرونز یوکرین سے روانہ نہیں ہوئے بلکہ unmarked وینز کے ذریعے روسی کھیتوں میں چھپا کر لانچ کیے گئے، جس نے روس کی دفاعی لائنز کو بری طرح ناکام کر دیا۔ ان حملوں میں روس کے اربوں ڈالر کے ملٹری اثاثے تباہ ہوئے اور 34 فیصد اسٹریٹجک کروز کیریئرز کو نقصان پہنچا۔

    یوکرین کی SBU انٹیلیجنس ایجنسی نے اس آپریشن کی تصدیق کی ہے، جس میں چار اہم ملٹری ایئر فیلڈز پر چالیس سے زائد جنگی اور جاسوسی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں روسی میڈیا اور دفاعی حلقوں میں ہنگامہ برپا ہو گیا ہے، اور صدر ولادیمیر پیوٹن نے فوری طور پر نیشنل سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    روسی دفاعی تجزیہ کاروں اور پرو-کریملن میڈیا میں اس حملے کے بعد نیوکلیئر ردعمل کی باتیں زور پکڑ چکی ہیں۔ مبشر لقمان کے مطابق روس کی نیوکلیئر ڈاکٹرین میں واضح ہے کہ اگر ملکی عسکری انفراسٹرکچر کو سنگین نقصان پہنچے تو نیوکلیئر ہتھیاروں کا استعمال جائز ہو جاتا ہے۔

    لقمان نے اس حملے کو "روس کا پرل ہاربر” قرار دیا ہے، جبکہ ٹیکٹیکل نیوکلیئر ویپنز کے استعمال کے امکان کو بھی خارج نہیں کیا جا رہا۔ یہ ہتھیار محدود فاصلے پر تباہی مچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن تابکاری کے اثرات عالمی ماحول پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

    یوکرین کا یہ قدم، بقول تجزیہ کاروں کے، نہ صرف ایک عسکری فتح ہے بلکہ یہ مغربی دنیا کی روس مخالف حکمت عملی کا حصہ ہو سکتا ہے۔ برطانیہ سمیت بعض یورپی ممالک کا نام بھی سامنے آ رہا ہے جو یوکرین کی پس پردہ مدد کر رہے ہیں۔

    اگر روس کی طرف سے نیوکلیئر ردعمل سامنے آتا ہے تو یہ نہ صرف یورپ بلکہ پوری دنیا کو جنگ کی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ حالات نہایت نازک ہو چکے ہیں اور دنیا ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑی ہے۔

    پاکستان میں مئی کے دوران دہشتگردی میں معمولی اضافہ، بڑی کارروائیاں ناکام

    یوکرین کے ڈرون حملے: روس کے سائبیریا میں 40 سے زائد جنگی و جاسوس طیارے تباہ

    مائیکروسافٹ کی حمایت یافتہ برطانوی اے آئی اسٹارٹ اپ دیوالیہ ہو گیا

    پاکستان کی شاندار فتح، محمد حارث کی سنچری سے بنگلہ دیش کو کلین سوئپ