Baaghi TV

Tag: رویہ

  • اتنے پریشان کیوں ہو؟ — حافظ گلزارعالم

    اتنے پریشان کیوں ہو؟ — حافظ گلزارعالم

    مسائل دو طرح کے ہیں۔ اختیاری اور غیر اختیاری۔ یعنی ایک وہ مسائل جنھیں آپ حل کرسکتے ہیں۔ مثلا : امتحان میں ناکامی، تعلیمی قابلیت میں کمی، غربت، وقتی بیماری، بے روزگاری، خاندانی جھگڑے وغیرہ۔ اور دوسرے وہ مسائل جو آپ چاہتے ہوئے بھی حل نہیں کرسکتے۔ مثلا : یتیم ہونا، ضعیف ہونا، معذوری،مستقل بیماری، مناسب رشتہ نہ ملنا وغیرہ

    پہلی قسم کے مسائل کا حل: ٹھنڈے دماغ سے سوچ و بچار اور مخلص سمجھدار لوگوں سے مل کر ان مسائل پر بات کیجئے۔ اور حل تلاش کیجئے۔ آپ کو نہ صرف ایک، بلکہ ایک ہی مسئلے کے کئ حل مل جائینگے۔ ان میں سے جو مناسب اور آسان لگے، اسے اختیار کیجئے۔ اور ہمت کرکے اسے مستقل مزاجی کے ساتھ اپنائے رکھیں۔

    دوسری قسم کے مسائل کا حل: ان مسائل کو قبول کیجئے۔ اپنے گردوپیش نظر دوڑائیے۔ انہی مسائل کے یا ان جیسے مسائل کا شکار بیشمار افراد ملیں گے۔ ان افراد میں سے جو ان مسائل کے باوجود کامیاب اور خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ ان سے ملئے، یا ان کے بارے میں جانئے کہ وہ کیسے کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ یقینا آپ بھی انکے اصول اور عادات و اطوار کو اپنا کر اچھی زندگی گزارنے لگیں گے۔

    امید ہے ان باتوں پر عمل کرکے آپ کے مسائل کم ہونگے۔ مگر یاد رکھیں۔ یہ مسائل کم تو ضرور ہوسکتے ہیں۔ ختم نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ یہ دنیا، دنیا ہے۔ جنت نہیں۔ یہ تو جنت کی خوبی ہے کہ وہاں نہ کوئ خوف ہوگا نہ حزن۔ لہذا جب یہ دنیا ہے ہی ایسی کہ یہاں کے مسائل ختم نہیں ہوسکتے، تو ان مسائل کے ساتھ ہی جینا سیکھئے۔

    وہ مرد نہیں جو ڈر جائے حالات کے خونی منظر سے
    جس دور میں جینا مشکل ہو اس دورمیں جینا لازم ہے

    اور بحیثیت مسلمان ہمیں ہر حال میں صبر و شکر کی عادت اپنانی چاہیئے۔یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ سارے دین کا خلاصہ ہی صبر و شکر ہیں۔ کیونکہ ہر انسان ان دو ہی حالتوں میں ہوتا ہے۔ تنگدستی یا فراخی۔ تنگدستی ہے تو صبر کریں۔ اللہ کی تقدیر پر راضی ہوں۔ فراخی ہے تو اللہ کا شکر ادا کریں۔ صابرین کے لیے اللہ کا اعلان ہے:

    اِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ
    بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔

    اور شکر کرنے والوں کے لئے یہ خوشخبری ہے:

    لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ
    اگر تم میرا شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ عطا کروں گا۔

    ہر لمحہ ہر پل خدا تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں ہم پر بارش کے قطروں کی طرح برس رہی ہے۔ ان نعمتوں کو یاد کیجئے، ان پر شکر ادا کیجئے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی ناشکرا ہے۔ جب راحت ہی راحت ہو، آسانیاں ہوں۔ تو کبھی ان نعمتوں کا احساس تک نہیں کرتا۔ اور ایسا رویہ اختیار کرتا ہے جیسے یہ راحتیں، آسانیاں اس کا حق ہیں، اور اسے ہمیشہ ملنی چاہئیں۔ لہذا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔ اور جب کوئ پریشانی آتی ہے تو واویلا شروع کردیتا ہے۔

    اسی کو باری تعالیٰ نے فرمایا:

    فَأَمَّا الْإِنْسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ[15] وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ[16]
    ترجمہ: پس لیکن انسان جب اس کا رب اسے آزمائے، پھر اسے عزت بخشے اور اسے نعمت دے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے عزت بخشی۔ [15] اور لیکن جب وہ اسے آزمائے، پھر اس پر اس کا رزق تنگ کردے تو کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا۔ [16]

    ایک اور جگہ فرمایا:

    اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لِرَبِّہٖ لَکَنُوۡدٌ ۚ﴿۶﴾
    ترجمہ:
    انسان اپنے پروردگار کا بڑا ناشکرا ہے۔

    ( آسان ترجمۂ قرآن مفتی محمد تقی عثمانی)

    اللّٰہ تعالیٰ نے غازیوں کے گھوڑوں کی قَسمیں ذکر کر کے فرمایا : بیشک انسان اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا بڑا ناشکرا ہے ۔

    حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’ناشکرے سے مراد وہ انسان ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں سے مکر جاتا ہے اوربعض مفسرین نے فرمایا کہ ناشکرے سے مراد گناہگار انسان ہے اور بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ انسان ہے جو مصیبتوں کو یاد رکھے اور نعمتوں کو بھول جائے۔( خازن، العادیات، تحت الآیۃ: ۶، ۴ / ۴۰۲)

  • ہمارا رویّہ اور اس کے اثرات — عاشق علی بخاری

    ہمارا رویّہ اور اس کے اثرات — عاشق علی بخاری

    "رویہ” ایک ایسا لفظ ہے جسے ہم روزانہ کئی بار استعمال کرتے ہیں. اگر ہم اسے اپنے لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو اس سے مراد انسان کا اپنے ماحول کی جانب توجہ یا جھکاؤ کہہ سکتے ہیں اب ہم اسے تین مختلف قسموں میں تقسیم کرتے ہیں.

    (1) سوچنا
    (2)محسوس کرنا
    (3)برتاؤ

    ان میں سے پہلے دو ہمارے کردار کو بنانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں. اگر ہم بہت زیادہ منفی سوچتے ہیں یا محسوس کرتے ہیں تو ہم اپنی شخصیت کو بگاڑ کی طرف دھکیل رہے ہوتے ہیں.تیسرا پہلو برتاؤ ہے، جس کا تعلق براہ راست ہمارے ارد گرد لوگوں سے ہوتا ہے.

    برتاؤ کے بھی دو پہلو ہیں:

    مثبت یامنفی.

    مثبت اور منفی رویوں کی پہچان کے لیے ہم چند مثالیں پیش کرتے ہیں.

    اندھے شخص کو سڑک پار کروانا، ریڑھی بان کو کھانا اور پانی مہیا کرنا، سڑک کنارے درخت لگانا، سردیوں میں غریب و مساکین میں گرم کپڑے دینا وغیرہ وغیرہ. یہ سب مثبت پہلو ہیں.

    اگر منفی مثالوں کی بات کریں تو سڑک کنارے درختوں کو اکھاڑنا، گندگی پھیلانا، کسی ضروت مند کو دھتکارنا، اگر آپ کی گاڑی سے کوئی ٹکرا جائے تو اسے اٹھانے کے بجائے برا بھلا کہنا یہ ہمارے منفی پہلو ہیں.

    اگر ہم مثبت رویے اپناتے ہیں تو ہم ایک بہترین معاشرہ تشکیل دے رہے ہوتے ہیں جو ہر ایک کے لیے فائدہ مند ہے. اگر منفی سوچ، منفی برتاؤ بڑھتا چلا جائے تو معاشرہ جنگل کے معاشرے سے کم دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ایک معاشرے کی بنیاد انسانی رویوں پر ہی قائم ہوتی ہے.

    ہمارے مثبت اور منفی رویوں میں زبان کے استعمال کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے، وہ اس وجہ سے کہ کبھی تو اس زبان سے نکلنے والے الفاظ انسان کو بلندیوں کی طرف لیجاتے ہیں اور کبھی انسان زبان کے نشتر برداشت نہیں کرپاتا اور اپنی ہی زندگی کا خاتمہ کردیتا ہے.غم کے وقت تسلی دینا، ہار کی صورت میں حوصلہ دینا، انسان کو اس بات کے لیے ابھارتے رہنا کہ تم کرسکتے ہو دوسرے انسان کے لیے کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے.

    اب اس واقعے کو ہی دیکھ لیں اور یہ ہمارے معاشرے کا بدترین پہلو کہیں تو غلط نہ ہوگا.

    کہا جاتا ہے کہ ایک عرب تاجر جو اچھے اخلاق اور عمدہ کپڑوں اور خوشبوؤں کے استعمال کی وجہ سے مشہور تھا. ایک دن اس کے دوستوں نے اس سے مذاق کرنے کا سوچا، یہ چیز ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ ہمارا یہ مذاق اس قدر خطرناک ثابت ہوگا. سو جب وہ اپنی دکان کی طرف جارہا تھا تو راستے میں ملنے والا پہلا دوست کہتا ہے کیا ہی بہترین کپڑے پہنے ہوئے ہیں، مجھے بھی آسمانی رنگ بہت پسند ہے. اور یہ تم نے عمامہ الٹا کیوں پہنا ہوا ہے؟ یہ اسے سمجھاتا ہے کہ نہیں بھائی یہ تو سفید رنگ کے ہیں اور عمامہ بھی سیدھا ہے لیکن وہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا. اس کے بعد دونوں اپنے راستے پر چل پڑتے ہیں لیکن وہ عرب تاجر بار بار اپنے کپڑوں کو دیکھتا ہے کہ یہ تو سفید رنگ کے ہیں اور عمامہ بھی سیدھا ہے، وہ اس خیال کو جھٹک کر آگے بڑھ جاتا ہے. جیسے ہی وہ سڑک پار کرتا ہے تو ایک دوسرے دوست سے سامنا ہوتا ہے، علیک سلیک کے بعد وہی باتیں جو پہلے دوست نے کہی تھیں یہ بھی کہتا ہے، تاجر کبھی کپڑے دیکھتا ہے تو کبھی عمامہ اتار کر سیدھا پہنتا ہے، اب اسے بھی کھٹکا لگ جاتا ہے کہ کہیں میرے کپڑوں کا رنگ مختلف تو نہیں، انہی سوچوں میں گم وہ دکان ابھی کھول ہی رہا ہوتا ہے کہ تیسرا دوست منصوبے کے مطابق اس کے پاس پہنچ جاتا ہے، اور وہ بھی وہی باتیں دہراتا ہے جو اس کے دیگر دو دوستوں نے کہی تھیں. اب اس عرب تاجر کا سر گھومنے لگتا ہے ایک ہی بات کو بار بار سننے کے بعد وہ اپنے حواس پر قابو نہیں پا سکتا. عمدہ کپڑے پہننے والا، بہترین خوشبو استعمال کرنے والا پاگل ہوجاتا ہے، نہ اسے کپڑوں کی پرواہ رہتی ہے اور نہ چاروں طرف بھنبھناتی مکھیوں کی.

    دیکھیے یہ دوستوں کے لیے ایک مذاق تھا لیکن بیٹوں سے باپ، بیوی سے شوہر الغرض خود اس کے لیے زندگی کا ایک تباہ کن حادثہ بن گیا. اب اس کے دوست مہنگے ڈاکٹروں کو دکھائیں یا پھر رات رات بھر آہیں بھرتے رہیں اب کسی کام کی نہیں.

    اپنے رویوں سے کسی کی زندگی اجاڑنے کے بجائے خوشیوں، مسکراہٹوں اور کامیابیوں کا سبب بنیں. کوشش کریں دوسروں کی زندگیوں سے کانٹیں چنیں نہ کہ دوسروں کی زندگیوں میں کانٹیں بچھائیں.