Baaghi TV

Tag: رپورٹنگ

  • اسحاق ڈار کے پھسلنے کا واقعہ ، سوشل میڈیا صارفین پاکستانی میڈیا کی ذمہ دارنہ رپورٹنگ کے معترف

    اسحاق ڈار کے پھسلنے کا واقعہ ، سوشل میڈیا صارفین پاکستانی میڈیا کی ذمہ دارنہ رپورٹنگ کے معترف

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایک اہم سفارتی تقریب کے دوران گر کر زخمی ہو گئے تاہم انہوں نے دن بھر اپنی سرکاری ذمہ داریاں جاری رکھیں جس پر حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ ذمہ داری کی اعلیٰ مثال ہے۔

    دوسری جانب سوشل میڈیا پر پاکستانی میڈیا کے کردار کو بھی سراہا جا رہا ہے کہ اس نے ریٹنگ کے لیے واقعے کو بار بار نشر کرنے سے گریز کیا اور خبروں کا مرکز مذاکرات اور سفارتی اجلاس کو رکھا صارفین نے کہا کہ یہ عمل قابل تعریف ہے اور میڈیا کے اس ذمہ دار رویے کی تعریف کی جانی چاہیے کیونکہ یہ دن پاکستان کے لیے اہم تھا اور عالمی نظریں ملک پر مرکوز تھیں۔

    ایکصارف کا کہنا تھا کہ ہم پاکستانی میڈیا پر بہت تنقید کرتے ہیں مگر یہی میڈیا اس حوالے سے قابل تعریف ہے کہ کل جب اسحاق ڈار کے گرنے کا واقعہ ہوا تو میڈیا نے اسے ریٹنگ کے لیے بار بار نہیں چلایا، یہ عمل قابل تعریف ہے ایک صارف نے کہا کہ کل کے واقعے میں میڈیا نے ریٹنگ کے بجائے ذمہ داری کو ترجیح دی، اسحاق ڈار کے گرنے کو بار بار نشر نہ کرنا واقعی سراہنے کے قابل ہے۔

    علاوہ ازیں سینئیر صحافیوں نے بھی میڈیا کے اس عمل کی تعریف کی سینیئر صحافیوں کا کہنا تھا کہ یہ عمل قابلِ تعریف ہے اور میڈیا کے اس ذمہ دارانہ رویے کی تعریف کی جانی چاہیے کیونکہ یہ دن پاکستان کے لیے اہم تھا اور عالمی نظریں ملک پر مرکوز تھیں۔

    سابق چیئرمین پیمرا و سینیئر صحافی ابصار عالم نے کہا کہ میڈیا نے اس معاملے میں غیر ضروری سنسنی اور تضحیک سے گریز کرتے ہوئے ایک حد تک پیشہ ورانہ بلوغت کا مظاہرہ کیا، ماضی میں اکثر ایسے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا رہا، تاہم اس بار میڈیا نے نسبتاً ذمہ داری دکھائی کیونکہ اب میڈیا پر پیچھے سے ہدایات دینے والے عناصر کی گرفت پہلے کی نسبت کم دکھائی دیتی ہے جب میڈیا پر دباؤ کم ہوتا ہے تو ادارے خود اپنے ادارتی فیصلے کرنے کے قابل ہوتے ہیں، جس سے پیشہ ورانہ معیار بہتر ہوتا ہے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میڈیا کی ساکھ، جو ماضی میں مختلف اثر و رسوخ کے باعث متاثر ہوئی، اس کی مکمل بحالی میں وقت درکار ہوگا اور مزید میچورٹی کی ضرورت ہے۔

  • مقدمات کی رپورٹنگ کریں لیکن فیصلے نہ سنا دیا کریں،عدالت

    مقدمات کی رپورٹنگ کریں لیکن فیصلے نہ سنا دیا کریں،عدالت

    اسلام آباد ہائیکورٹ،جسٹس محسن اختر کیانی کے خلاف الزامات کی تشہیر پر توہینِ عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور جسٹس ارباب محمد طاہر نےسماعت کی،وکیل پیمرا نے کہا کہ پیمرا کی طرف سے پروگرام کا ٹرانسکرپٹ جمع کروا دیا گیا ہے، پیمرا یہ معاملہ کونسل آف کمپلینٹ کو بھیج رہی ہے، پیمرا کا کونسل آف کمپلینٹ سماء ٹی وی پر چلنے والے پروگرام کی حد تک معاملہ دیکھ سکتا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا نے جو کرنا ہے آزادانہ کرے، ہم اس پر کچھ ڈائریکٹ نہیں کرینگے، ہم کسی جج کے خلاف ریفرنس دائر کرنے سے نہیں روک سکتے، پاکستان کا قانون ہر شہری کو ریفرنس دائر کرنے کا اختیار دیتا ہے، مقدمات کی رپورٹنگ کریں لیکن فیصلے نہ سنا دیا کریں،

    صحافی مطیع اللہ جان نے پروگرام کا ٹرانسکرپٹ جمع کروادیا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ زیر التواء کیسز پر ضرور رپورٹنگ کریں، آزاد اظہار رائے کی آڑ میں کسی کی تضحیک نہیں ہونی چاہیے،

    ریفرنس دائر کرنے کے بعد پروپیگنڈا کیا جائے اور جج کی تضحیک کرے تو عدالت نوٹس لے سکتی ہے،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب
    جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ جب ریفرنس دائر کرنے کے بعد پروپیگنڈا کیا جائے اور جج کی تضحیک کرے تو عدالت نوٹس لے سکتی ہے، اس عدالت نے اسی معاملے پر نوٹس لیا ہے، مطیع اللہ جان اور طلعت حسین کسی اور سے بہتر قانون کو جانتے ہیں، مطیع اللہ جان سارا دن کورٹ میں ہوتا ہے، طلعت حسین عالمی شہرت کے صحافی ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی کو کوئی ڈائریکشن نہیں دے رہے یہ سادہ توہین عدالت کا کیس ہے،ہمارا دائرہ اختیار یہ ہے کہ اس بات کا تعین کیا جائے انہوں نے توہین عدالت کی ہے یا نہیں ، سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی گئی

    جسٹس بابر ستار کی ذاتی معلومات لیک کرنے پر ایکس انتظامیہ کو خط

    جسٹس بابر ستارکیخلاف مہم ، وزارت دفاع کی رپورٹ مسترد، دوبارہ جمع کرانے کا حکم

    وزارت تعلیم پنجاب اور کرومیٹک کے زیر اہتمام تمباکونوشی کیخلاف خصوصی تقریب

    پاکستان میں سگریٹ انڈسٹری نے تباہی مچا دی، قومی خزانے کو اربوں کا نقصان

    انسداد تمباکو نوشی مہم کے سلسلے میں چوتھے سالانہ پوسٹ کارڈ مقابلوں کا آغاز

    تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کیا جائے، ملک عمران

    حکومت بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے، شارق خان

    تمباکو جیسی مصنوعات صحت کی خرابی اور پیداواری نقصان کا سبب بنتی ہیں

    تمباکو سے پاک پاکستان…اک امید

    تمباکو سے پاک پاکستان، آئیے،سگریٹ نوشی ترک کریں

    تمباکو نشہ نہیں موت کی گولی، بس میں ہوتا تو پابندی لگا دیتا، مرتضیٰ سولنگی

    ماہرین صحت اور سماجی کارکنوں کا ماڈرن تمباکو مصنوعات پر پابندی کا مطالبہ

    تمباکو نوشی کے خلاف مہم کا دائرہ وسیع کریں گے،شارق خان

    تمباکو نوشی مضر صحت،پر پابندی کیوں نہیں؟ تحریر: مہر اقبال انجم

  • غلط اور غیر محتاط عدالتی رپورٹنگ سے عدلیہ کا وقار متاثر ہوتا ہے، فواد چوہدری

    غلط اور غیر محتاط عدالتی رپورٹنگ سے عدلیہ کا وقار متاثر ہوتا ہے، فواد چوہدری

    اسلام آباد :غلط اور غیر محتاط عدالتی رپورٹنگ سے عدلیہ کا وقارمجروح ہوا اور دنیا بھی اس پرہنستی ہے ، اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ غلط اور غیر محتاط عدالتی رپورٹنگ سے عدلیہ کا وقار متاثر ہوتا ہے۔اس حوالے سے انکا کہنا تھا کہ ذمہ داری کے ساتھ ساتھ عدالتی فیصلوں کوسمجھنا بھی ضروری ہے

    وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین سے پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کے وفد نے ملاقات کی جس میں چوہدری فواد حسین نے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد دی۔

    چوہدری فواد حسین نے کہا کہ درست عدالتی رپورٹنگ کے بغیر عدلیہ کا وقار اور عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ ممکن نہیں، عدلیہ کی کوریج کرنے والے صحافی ملک میں ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔

    انہوں نے کہا کہ عدالتی رپورٹنگ کی اہمیت دائر کردہ مقدمات جتنی ہے، مقدمات دائر ہونے سے پہلے درجنوں معاملات میں عدالتیں میڈیا رپورٹس پر ازخود نوٹس لیتی ہیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ غلط اور غیر محتاط عدالتی رپورٹنگ سے نہ صرف عوام درست اطلاعات کے حق سے محروم رہتے ہیں بلکہ قانون کی بالادستی اور عدلیہ کا وقار بھی متاثر ہوتا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کا احترام سب پر لازم ہے، جن خبروں پر عدلیہ نوٹس لیتی ہے ان خبروں کا مستند ہونا ضروری ہے، قانونی صحافت میں صحافت اور قانون دونوں شامل ہوتے ہیں۔

    چوہدری فواد حسین نے کہا کہ عدلیہ کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی تربیت ضروری ہے، اس ضمن میں حکومت صحافتی تنظیموں کے ساتھ مل کر لائحہ عمل مرتب کرے گی، صحافیوں کو ترجیحی بنیادوں پر صحت کارڈز فراہم کر رہے ہیں۔

    وفاقی وزیر اطلاعات نے پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کے وفد کے مسائل سنے اور ان کے حل کی یقین دہانی کرائی۔

    وفد میں پریس ایسوسی ایشن آف سپریم کورٹ کے صدر راجہ محسن اعجاز اور سیکریٹری جنرل عدیل سرفراز سمیت دیگر اراکین شامل تھے۔