Baaghi TV

Tag: رپورٹ

  • پلڈاٹ کی رپورٹ نے الیکشن 2024 کی شفافیت پہ کئی سوال اٹھا دیئے

    پلڈاٹ کی رپورٹ نے الیکشن 2024 کی شفافیت پہ کئی سوال اٹھا دیئے

    پلڈاٹ نے عام انتخابات 2024 بارے رپورٹ جاری کر دی، پلڈاٹ کی رپورٹ نے الیکشن 2024 کی شفافیت پہ کئی سوال اٹھا دیئے ہیں،

    پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) نے 2024 کے عام انتخابات کے بارے میں اپنا جائزہ رپورٹ جاری کیا ہے جو پچھلے انتخابی ادوار کے مقابلے میں شفافیت کے اسکور میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔
    2024 کے عام انتخابات کے حوالے سے رپورٹ ایک سوالنامے کے ساتھ آزادانہ تجزیے پر مبنی ہے جسے سول سوسائٹی کے ایک آزادانہ رائے رکھنے والے گروپ نے بنایا تھا، جس میں سیاستدان، وکلاء، انسانی حقوق کے کارکن، ماہرین تعلیم، ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور ریٹائرڈ فوجی حکام کے ساتھ ساتھ سیاسی طور پر آگاہ نوجوان شامل تھے۔اس رپورٹ میں، پلڈاٹ نے مندرجہ ذیل اہم مسائل پر روشنی ڈالی ہے جنہوں نے 2024 کے عام انتخابات کے معیار کو منفی طور پر متاثر کیا ہے:

    پلڈاٹ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پولنگ سے قبل انتخابات کے شیڈول میں تاخیر، سیاسی جبر، نگران حکومت کی جانب سے غیر جانبداری کا فقدان دیکھا،خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال تھی، پولنگ کے دن موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی نے نہ صرف ای ایم ایس کو متاثر کیا بلکہ انتخابی عمل میں عوام کی شرکت کے لیے بھی مشکلات پیدا کیں،پولنگ مکمل ہونے کے بعد غیر حتمی نتائج کے اعلان میں تاخیر نے انتخابات کی ساکھ پر سنگین سوالات کو جنم دیا،فارم-45 اور فارم-47 کے درمیان بڑے پیمانے پر فرق کے الزامات نے بھی انتخابات کی ساکھ کے بارے میں خدشات کو بڑھا دیا ہے،الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ پر فارم 45، 46، 48 اور 49 کی اشاعت میں تاخیر ہوئی،الیکشنز ایکٹ 2017 کے سیکشن 95 (10) کی خلاف ورزی نے الیکشن کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچایا ہے، سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستوں کی الاٹمنٹ پولنگ کے دن سے لے کر 25 دنوں تک ایک بڑا تنازعہ بنی رہی ،دیگر تمام سیاسی جماعتوں کو مخصوص نشستیں الاٹ کی گئیں،

    پلڈاٹ کی رپورٹ کے مطابق عام انتخابات 2024ء میں سب سے کم منصفانہ اسکور ریکارڈ کیا گیا، یہ پچھلے انتخابی ادوار کے مقابلے میں شفافیت کے اسکور میں کمی کی نشاندہی کرتا ہے، پری پول مرحلے کے لیے تشخیص کا اسکور 50 فیصد تھا جو 2013ء کے 62 فیصد کے اسکور سے نمایاں طور پر کم ہے، الیکشن کے دن پولنگ کے عمل کا اسکور 58 فیصد رہا، یہ 2018ء کے اسکور سے کم تھا جو 64 فیصد تھا، ووٹنگ، پولنگ عملے کی کارکردگی اور پولنگ اسٹیشنز کا معیار 2018ء کے عام انتخابات کے مقابلے میں زیادہ خراب ہے، مجموعی طور پر عام انتخابات 2024ء کے معیار نے 49 فیصد اسکور کیا ہے، معیار کا اسکور نہ صرف 50 فیصد سے کم ہے بلکہ پچھلے 2 انتخابات کے مجموعی اسکور سے بھی کم ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ووٹوں کی گنتی، نتائج مرتب کرنا، ٹرانسمیشن، استحکام، عارضی نتائج کا اعلان اور انتخابات کے بعد کے عمل کو کم از کم 40 فیصد اسکور ملا، الیکشن کمیشن 2024ء کے عام انتخابات میں ہونے والی بےضابطگیوں کی مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرے،الیکشن کمیشن عبوری نتائج کی ترسیل، استحکام اور اعلان میں تاخیر کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا اعلان کرے،الیکشن مینجمنٹ سسٹم کے ناکارہ ہونے کی صورت میں نتیجہ جاری کرنے کی آخری تاریخ کو پورا کرنے کے لیے ہنگامی منصوبہ بندی کی کمی کو تسلیم کرے اور متبادل سسٹم بنایا جائے۔الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت مطلوبہ فارم 45، 46، 48 اور 49 کی دستخط شدہ کاپیاں شائع کرنے میں ناکامی کو تسلیم کرے۔پلڈاٹ یہ بھی سفارش کرتا ہے کہ عام انتخابات 2024 سے متعلق تنازعات کو ختم کرنے کے لیے، ایک واضح راستہ طے کیا جائے۔ غور کرنے کے لیے صرف دو ممکنہ راستے ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ الیکشن ٹربیونلز کو ہر کیس کی بنیاد پر تنازعات حل کرنے کی اجازت دی جائے۔ اگرچہ الیکشن ٹربیونلز کو انتخابی درخواستوں پر فیصلہ کرنے کے لیے 180 دن کی قانونی ڈیڈ لائن دی گئی ہے، لیکن بہت سی درخواستوں کا فیصلہ کرنے میں کافی زیادہ وقت لگتا ہے۔ پلڈاٹ کو اس بات پر گہری تشویش ہے کہ پنجاب میں 2018 کے عام انتخابات کے بعد بنائے گئے آٹھ کے مقابلے میں صرف دو الیکشن ٹربیونلز بنائے گئے ہیں اور مبینہ طور پر اس بار الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے نو درخواستیں دائر کی گئی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس بار انتخابی درخواستوں کے فیصلے میں زیادہ تاخیر متوقع ہے۔ پلڈاٹ پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ الیکشن ٹربیونلز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کیا جائے تاکہ تمام انتخابی درخواستوں کا فیصلہ 180 دنوں کی قانونی ڈیڈ لائن کے اندر کیا جا سکے۔ دوسرا، الیکشن ٹربیونلز کے علاوہ، عام انتخابات 2013 کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے کمیشن کی طرح انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے

    واضح رہے کہ آٹھ فروری کو ملک بھر میں عام انتخابات ہوئے، الیکشن میں‌دھاندلی کے حوالہ سے تمام سیاسی جماعتوں نے احتجاج کیا، آزاد امیدوار انتخابات میں بڑی تعداد میں جیتے،

    رپورٹ، محمد اویس، اسلام آباد

    انتظار کی گھڑیاں ختم، انتخابات کے ایک ماہ بعد الیکشن کمیشن نے فارم 45 جاری کر دیئے

    الیکشن کمیشن نے میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر فیصلے نہیں دینے، ثبوت دیں چیف الیکشن کمشنر

    موبائل بندش سے نتائج تاخیر کا شکار،دھاندلی بھی ہوئی، الیکشن کمیشن کی تصدیق

    الیکشن 2024: پاکستان میں صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہوا،اپسوس سروے

    متنازع انتخابات، کمزور اتحادی حکومت،پاکستان کو معاشی چیلنجز کا سامنا ہوگا، موڈیز

    انتخابات کے دوران سوشل میڈیا پر مذموم مہم چلانے والوں کیخلاف کاروائی کا فیصلہ

    انتخابات کالعدم قرار دینے کی درخواست سپریم کورٹ سے خارج

    عام انتخابات، اپنی ہار تسلیم کرنیوالے سیاستدان

    دعا اور خواہش ہے حالیہ انتخابات ملک میں معاشی استحکام لائیں،آرمی چیف

  • پرویز الہیٰ کا  8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    پرویز الہیٰ کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

    لاہور کی احتساب عدالت نے تحریک انصاف کے صدر پرویز الہیٰ کا مزید 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہیٰ کے خلاف سرکاری ٹھیکوں میں گھپلوں اور کک بیکس کے کیس کی سماعت زبیر شہزاد کیانی نے کی۔ ملزم پرویز الہیٰ کو 6 روزہ جسمانی ریمانڈ پر عدالت پیش کیا گیا-

    پرویز الہی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کو حکم دیا تھا کہ 21 اگست تک فیصلہ کریں مگر ابھی تک ہائیکورٹ میں کیس نہیں سنا گیا عدالت اگر مناسب وقت کیلئے پرویز الہٰی کا ریمانڈ منظور کر لیتی ہے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔

    شاہ محمود قریشی کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا پر فیصلہ محفوظ

    پرویز الہٰی نے دوران سماعت عدالت کو بتایا کہ میری کمر میں شدید تکلیف ہے، پاؤں بھی سوجے ہوئے ہیں، ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت دی جائے جس پر عدالت نے کہا کہ اس معاملے کو دیکھ لیتے ہیں اورنیب کی جانب سے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے 8 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔

    آئی جی پنجاب کا مینٹل ہیلتھ کا دورہ ،کانسٹیبل شاہد عباس کی جلد صحت …

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پرویز الہیٰ نے کہا ہے کہ میں اور پی ٹی آئی فوج کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں فوج کی اس ملک کے لیے بڑی قربانیاں ہیں، میں دل کی گہرائیوں سے عدلیہ اور قانون کی حکمرانی کیلئے کردار ادا کرنے پرمیڈیا کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں اسمبلیوں کی عدم موجودگی میں ان کا ظلم میڈیا دکھا رہا ہے،شاہ محمود قریشی کا نام سائفر میں ڈالنا انتہائی افسوس کی بات ہے ،میرا پیغام ہے پی ٹی آئی کے ساتھ کھڑے رہیں، الیکشن وقت پر نہیں ہو رہے ، اس حوالے سے عدالت سے رجوع کریں گے-

    نیب نے پرویز الہی کے خلاف انکوائری رپورٹ تیار کرلی

    واضح رہے کہ پرویز الہٰی کیخلاف سرکاری ٹھیکوں میں مبینہ گھپلوں اور کک بیکس کی نیب انکوائری رپورٹ منظر عام پر آ گئیرپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پرویز الہٰی کرپشن میں ملوث پائے گئے، پرویز الہٰی نے بطور وزیر اعلیٰ خاص مقاصد کے لیے شریک ملزمان سے ملکر گجرات کیلئے 116 سکیمیں منظور کروائیں، اوراپنے عہدے کا ناجائز استعمال بھی کیا پرویز الہٰی نے اثرو رسوخ استعمال کر کے سکیموں کے ٹھیکے من پسند کٹریکٹرز کو دے کر اپنے فرنٹ مین کے ذریعے رشوت، کک بیکس لئے، اس کے علاوہ گجرات میں غیر ضروری طور پر درجنوں سکیمیں شروع کروائیں۔

    نئی مردم شماری پرالیکشن کمیشن کیجانب سے حلقہ بندیوں کا آغاز آج سے ہوگا

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سکیموں کیلئے ایڈوانس فنڈز جاری کرنا پرویز الہٰی کی بدنیتی تھی، انہوں نے دوسری سکیموں کے فنڈز بھی گجرات کی سکیموں کیلئے مختص کئے، سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے صوبے کا سربراہ ہونے کے ناطے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا اور کک بیکس لئے۔

  • پشاور  حیات آباد میں خودکش دھماکے کی ابتدائی رپورٹ

    پشاور حیات آباد میں خودکش دھماکے کی ابتدائی رپورٹ

    پشاور کے علاقے حیات آباد میں خود کش دھماکے کی تحقیقات میں پیش رفت ہوئی ہے۔ذرائع کے مطابق خود کش حملہ آور کا چہرہ صاف ہے جس سے اسکی نشاندہی آسانی سے ہوسکتی ہے، حملہ آور کے چہرے کی تصاویر شناخت کیلئے نادرا بھیج دی گئی ہے۔ دوسری جانب بم ڈسپوزل یونٹ نے بھی تحقیقات مکمل کرلی ہیں۔ بم ڈسپوزل یونٹ کے مطابق دھماکے میں 20 سے 25 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا، باروی مواد گاڑی کی سی این جی ٹینکی میں رکھا گیا تھا۔حیات آباد دھماکہ. خود کش حملہ آور کالے رنگ کے پاسو گاڑی میں سوار تھا جس نے پہلے سے فرنٹیئر کور کی گاڑی کو اپنا ہدف بنایا،
    زرائع کے مطابق پشاور حیات آباد بم دھماکہ میں ملوث خود کش حملہ آور کے بدن کے اعضاء مل گئے جو جوان العمر لڑکا تھا گاڑی کا نمبر پلیٹ اور چیسزز نمبرز حاصل کرلے گئے ہے، دھماکے کے باعث دو گاڑیاں مکمل تباہ جبکہ دو گاڑیوں کو جزوی نقصان. اور آٹھ افراد شدید زخمی ہوئے.ابتدائی تحقیقات میں بی ڈی یو حکام کے مطابق دھماکے میں دھماکے میں ہائی ایکسپلسیو بارود استعمال کیا گیا، اسکے علاوہ دھماکے میں خود کش جیکٹ استعمال نہیں ہوا،

  • کچے میں آپریشن کے دوران  208 ڈاکوؤں کوگرفتار کیا گیا،3 ماہ کی رپورٹ آئی جی سندھ کو پیش

    کچے میں آپریشن کے دوران 208 ڈاکوؤں کوگرفتار کیا گیا،3 ماہ کی رپورٹ آئی جی سندھ کو پیش

    سندھ پولیس کی جانب سے گھوٹکی، کشمور اورسکھر کے کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن جاری ہے۔

    باغی ٹی وی : پولیس نے کچےمیں جاری آپریشن کی 3 ماہ کی رپورٹ آئی جی سندھ کو پیش کردی آپریشن کے دوران 208 ڈاکوؤں کوگرفتار کیا گیا ہےرپورٹ کے مطابق گھوٹکی میں 63 مقابلوں میں 5 ڈاکو ہلاک، 4 زخمی حالت میں گرفتار کیے گئے ہیں جبکہ سکھرمیں 53 مقابلے کے دوران 8 ڈاکو ہلاک اور27 کو زخمی حالت میں گرفتارہوئے ہیں۔

    صادق آباد ،کچے میں پولیس آپریشن گیارہویں روز بھی جاری، ڈاکوؤں کے نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ

    رپورٹ میں مزید بتایا کہ کشمور میں 42 مقابلے میں 6 ڈاکو ہلاک اور3 زخمی حالت میں گرفتارکیے گئے ہیں اور شکار پور میں31 پولیس مقابلوں میں 5 ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار گئے ہیں-

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ کچےمیں آپریشن کے دوران 208 ڈاکوؤں کو گرفتار کیا اور 3ماہ کے دوران 30 شہریوں کو ہنی ٹریپ سے تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
    https://twitter.com/DMCSindhPolice/status/1648932473131384833?s=20

    بھتہ خوری اور اغواء میں ملوث سی ٹی ڈی ایس ایچ او سمیت 4 اغواء …

    آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے صوبہ سندھ میں موجود کچے کے علاقوں میں ڈاکوؤں کے خلاف پولیس ایکشن اور کارکردگی پر مشتمل رپورٹ کا جائزہ لیتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ عوام کے جان ومال اور عزت وآبرو کے تحفظ کے ضمن میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور جاری انٹیلی جینس بیسڈ آپریشنز میں مذید تیزی لاتے ہوئے کچے کے علاقوں سے ڈاکوؤں کے خاتمے کو یقینی بنایا جائے۔
    https://twitter.com/DMCSindhPolice/status/1648932478898561027?s=20

    سرگودھا : آر پی او شارق کمال صدیقی کی تھانہ نورپور میں کھلی کچہری

  • دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری

    نیویارک: سائنسدانوں نے دنیا بھر میں ماحولیاتی خطرے سے بچاؤ کی آخری وارننگ جاری کر دی۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی”دی گارڈین” کے مطابق سائنسدانوں نے آب و ہوا کے بحران پرایک "حتمی انتباہ” پیش کیا ہے، کیونکہ بڑھتے ہوئے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج نے دنیا کو ناقابل تلافی نقصان کے دہانے پر دھکیل دیا ہے جسے صرف تیز اور سخت کارروائی ہی روک سکتی ہے بین الحکومتی پینل آن کلائمیٹ چینج (آئی پی سی سی)، جو کہ دنیا کے سرکردہ موسمیاتی سائنسدانوں پر مشتمل ہے، نے پیر کو8,000 صفحات پرمشتمل اپنی بڑی چھٹی تشخیصی رپورٹ کا حتمی حصہ مرتب کیا۔

    جنگلات کےساتھ مشروم کی افزائش موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کم کر سکتی ہے،تحقیق

    دنیا کے معروف سائنس دانوں نے بین الحکومتی پینل کی چوتھی اور آخری قسط میں خبردار کیا ہے کہ سیارہ قریب قریب میں صنعتی سطح سے پہلے کی سطح کےبعدسے 1.5 سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا "زیادہ امکان” ہے،جس کے نتیجے میں "بڑھتے ہوئے ناقابل واپسی نقصانات” ہوں گے 8,000 صفحات پر مشتمل رپورٹ جسے سنتھیسس رپورٹ کہا جاتا ہےکو اب تک مرتب کی گئی موسمیاتی تبدیلی کا سب سے زیادہ جامع، بہترین دستیاب سائنسی جائزہ سمجھا جاتا ہے۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا یے کہ دنیا تیزی سے تباہ کن گرمی کی جانب بڑھ رہی ہےاور بروقت اقدامات نہ کیے گئےتو ہم بین الاقوامی ماحول کے اہداف سےبہت دور ہو جائیں گےدنیا کےسینکڑوں سائنسدان اس رپورٹ کی تیاری میں 8 برس سے مصروف تھے تاکہ اندازہ لگایا جا سکے کہ موسمیاتی بحران کس طرح سامنے آ رہا ہے۔

    سائنسدانوں نے بین الاقوامی ماحولیاتی نتائج پر کہا ہے کہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے موسمیاتی بحران کس طرح سے سامنے آ رہا ہے۔ دنیا بھر کے موسم میں شدت آ رہی ہے،گرمی کی شدت سے ہزاروں اموات ہو چکی ہیں جبکہ قحط اور سیلاب سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں زمین کو گرم کرنے والی آلودگی کے اثرات بہت زیادہ شدید ہیں اور ہم تیزی سے خطرناک نتائج کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    مسلسل بڑھتا درجہ حرارت،برطانیہ اور آئرلینڈ کے 53 فیصد مقامی پودے تنزلی کا شکار

    رپورٹ میں کہا گیا کہ زمین کو گرم کرنے والی آلودگی کے اثرات پہلے ہی توقع سے زیادہ شدید ہیں اور ہم تیزی سے خطرناک نتائج کی طرف بڑھ رہے ہیں،فضا میں کاربن کی آلودگی 20 لاکھ سالوں سے اپنی بلند ترین سطح پر ہے اور گزشتہ نصف صدی کے دوران درجہ حرارت میں اضافے کی شرح 2 ہزار سالوں میں سب سے زیادہ ہےموسمیاتی تبدیلی کے زیادہ اثرات غریب اور کمزور ممالک پر زیادہ پڑ رہے ہیں۔

    اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوئتریس نے پیر کو موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے رپورٹ پر بین الحکومتی پینل کے آغاز کے موقع پر کہا کہ انسانیت پتلی برف پر ہے اور وہ برف تیزی سے پگھل رہی ہے ماحولیاتی بہتری کے لیے ہر ملک کو ہر شعبے میں کوشش کرنا ہو گی۔

    کاربن ڈائی آکسائیڈ اخراج کرنے والے ممالک کی فہرست جاری

    فرینڈز آف دی ارتھ انٹرنیشنل میں پروگرام کوآرڈینیٹر سارہ کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیش آنے والے خطرات کا اندازہ لگانے کے حوالےسے اب تک کی سب سے زیادہ خوفناک اور پریشان کن رپورٹ ہے۔

  • عمران دور میں کرپشن 6 درجے تک بڑھ گئی تھی. رپورٹ

    عمران دور میں کرپشن 6 درجے تک بڑھ گئی تھی. رپورٹ

    پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہو گیا، ن لیگ کے مقابلے میں پی ٹی آئی دور میں زیادہ کرپشن ہوئی. رپورٹ

    نئی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان (Pakistan ) میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد پاکستان کرپٹ ممالک کی فہرست میں 41 ویں نمبر پر آگیا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل (Transparency International ) کی جانب سے آج مورخہ 31 جنوری بروز منگل کرپشن ( Corruption ) پرسیپشن انڈیکس 2022 کی رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق دنیا کے 95 فیصد ممالک کرپشن میں کمی لانے میں ناکام ہوئے ہیں اور 2 تہائی ممالک میں بدعنوانی سنگین مسئلہ بن گئی ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بنگلا دیش کے سی پی آئی اسکور میں حالانکہ کوئی فرق نہیں آیا تاہم یہ ممالک کالے قوانین کے ذریعے آزادی اظہار رائےاور حکومت پر تنقید کرنے والوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ پاکستان کے حوالے سے ٹرانسپرنسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے، 10سال میں پہلی بار کرپشن پرسپشن انڈیکس کم ہوکر27 ہوگیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا کرپشن اسکور 10سال کی کم ترین سطح پر آگیا ہے، عمران دور میں کرپشن 6 درجے تک بڑھ گئی تھی۔ عمران خان کے دور میں کرپشن بڑھتی رہی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں
    امریکا جانے والا ایک شخص لاپتہ ہوگیا
    شیخ رشید کی رہائش گاہ لال حویلی کو سیل کردیا گیا
    بجلی بریک ڈاؤن پر نئی رپورٹ نے حکومتی بیانات کا بھانڈا پھوڑ دیا
    ہماری طرف آئیں ہم اچھے میزبان ہیں آپ کو دکھائیں گےکہ ہم کیسے نظر آتے ہیں،عدنان صدیقی کا بھارتی فلم ’مشن مجنوں‘ پر ردعمل
    عدالت نے مونس الہٰی کی اہلیہ کے وکیل کو جواب جمع کروانے کیلئے وقت دے دی
    قابل اعتراض مواد جو ہٹا سکتے تھے ہٹا دیا،بیرون ملک مواد کیلئے متعلقہ حکام سے رجوع کیا ہے،پی ٹی اے
    نگراں کابینہ غیرسیاسی اور غیر جانبدارہوگی، شوکت یوسفزئی
    رپورٹ میں درجہ بندی کے حوالے سے پاکستان کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 180ممالک کی فہرست میں پاکستان کی رینکنگ 140 ویں نمبر پر برقرار ہے۔ جب کہ سال 2012 میں پی پی دور میں پاکستان کا اسکور 100میں سے 27تھا۔ سال 2018 میں پاکستان کا کرپشن اسکور 33 ، اور سال 2019 میں پاکستان کا کرپشن اسکور 32 تھا۔ اسی طرح سال 2020 میں پاکستان کا کرپشن اسکور 31 رہا، 2021میں پاکستان کا کرپشن اسکور 28 پر پہنچ گیا تھا۔ 2022، میں پی ٹی آئی او پی ڈی ایم دور میں کرپشن اسکور مزید گر کر 27تک آگیا۔

  • ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی

    ہماری زمین پر چیونٹیوں کی تعداد کتنی ہے؟ محققین نے رپورٹ جاری کر دی

    محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ ہماری زمین پر 20 کواڈرِلین(2 لاکھ کھرب) چیونٹیاں رِینگ رہی ہیں۔

    باغی ٹی وی :چیونٹیاں تقریباً ہر گھر میں کہیں نہ کہیں موجود ہوتی ہیں، یہ سڑکوں پر یا دیواروں کے کناروں پر بھی نظر آتی ہیں۔ مگر کبھی آپ نے ان کی تعداد جاننے کی کوشش کی ہے؟ تاہم اس کرہ ارض پر کتنی تعداد میں چیونٹیاں موجود ہیں،سائنس دانوں نے اس کا کسی حد تک اندازہ لگا لیاہے-

    ایک نئی تحقیق میں سائنس دانوں نے چونٹیوں کی اب تک کی عالمی آبادی کا ایک جائزہ پیش کیا ہے جس میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں دو لاکھ کھرب چیونٹیاں ہیں-

    جرمنی کے شہر وزبرگ میں قائم جولیس میکسیملین یونیورسٹی کے محققین نے دعویٰ کیا ہے کہ ہماری زمین پر 20 کواڈرِلین(2 لاکھ کھرب) چیونٹیاں رِینگ رہی ہیں،چیونٹیوں کی اس تعداد کو اگر انسانوں کی تعداد سے دیکھا جائے تو ہر انسان کے مقابلے میں تقریباً 25 لاکھ چیونٹیاں ہیں۔

    تحقیق کی سربراہ مصنفہ سبین نُوٹین کا کہنا تھا کہ محققین کے اندازے کے مطابق چیونٹیوں کی تعداد20 کواڈرِلین ہے۔ یعنی 20 کے آگے پندرہ صفر لگائے جائیں۔

    تحقیق میں محققین نے لکھا کہ چیونٹیوں کی تقسیم اور بہتات ماحولیات اور دیگر حیاتیات کے لیے ان کے کردار کی اہمیت سمجھانے میں مرکزی حیثیت رکھتی ہے اگرچہ چیونٹیوں جیسے کیڑے جو ہر جگہ موجود ہوتے ہیں اور ماحولیاتی اعتبار سے ان کی اہمیت ہوتی ہے،لیکن ان کی موجودہ حقیقی کُل تعداد یا ان کی کسی مخصوص خطے میں موجودگی کا اندازہ نہیں ہے۔

    اس تخمینے تک پہنچنے کے لیے محققین کی ٹیم نے چیونٹیوں پر کیے جانے والے گزشتہ 489 مطالعات کا جائزہ لیا جو تمام برِاعظموں، بڑی آماجگاہوں اور مختلف ماحولوں پر مبنی تھے تحقیق کے نتائج میں معلوم ہوا کہ زمین پر 20 کواڈرِلین چیونٹیاں موجود ہیں جن کا وزن 12 میگا ٹن یعنی 12 ارب کلو گرام خشک کاربن کے مجموعی وزن کے برابر ہے۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    تحقیق کے شریک مصنف ور کیڑوں کے ماہر ماحولیات سبین نوٹین کے مطابق یہ وزن دنیا میں موجود جنگلی پرندوں اور مملیوں کے مجموعی وزن سے زیادہ ہے جبکہ انسانوں کے مجموعی وزن کا 20 فی صد ہے، اس سے آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے اثرات کا پیمانہ کیا ہے۔

    اس تحقیق کے شریک مصنف اور ماہر حیاتیات پیٹرک شوئتھیس کہتے ہیں کہ ”چیونٹیاں تقریباً ہر زمینی ماحولیاتی نظام میں ایک مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ غذائی اجزا کی سائیکلنگ، گلنے کے عمل، مٹی کے ذرات کو اِدھر اُدھر کرنے کے لیے بہت اہم ہیں۔ چیونٹیاں بھی کیڑوں کا انتہائی متنوع گروہ ہیں، جس کی مختلف اقسام ہیں جو وسیع پیمانے پر کام کرتی ہیں۔ لیکن سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کا اتنی بڑی تعداد میں ہونا انہیں اہم ماحولیاتی کھلاڑی بناتی ہے۔

    پیٹرک شوئتھیس کہتے ہیں کہ ہمارا ڈیٹا سیٹ ہزاروں سائنس دانوں کی بڑے پیمانے پر کی گئی کوششوں کو ظاہر کرتا ہےہم اس کی بنیاد پر ہی دنیا کے مختلف خطوں کے لیے چیونٹیوں کی تعداد کو معلوم کرنے اور ان کی مجموعی عالمی تعداد اور بایوماس کا تخمینہ لگانے کے قابل ہوئے ہیں۔

    چیونٹیوں کی 12 ہزار سے زائد معلوم اقسام ہیں اور یہ عموماً سیاہ، بھوری اور سرخ رنگ کی ہوتی ہیں جب کہ ان کے جسم کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ان کا سائز ایک ملی میٹر سے تین سینٹی میٹر تک ہوتا ہے چیونٹیاں عام طور پر مٹی، پتوں کی گندگی یا سڑنے والے پودے اور کچنز میں رہتی ہیں۔

    دنیا بھرمیں موجود چیونٹیوں کی تعداد کا اندازہ لگانے کے لیے کی جانے والی تحقیق PNAS نامی جرنل میں شائع ہوئی-

    اداسی محسوس ہو تو دریا یا نہر پر چلے جانا مزاج کو بہتر کر سکتا ہے،تحقیق

  • پلڈاٹ نے صوبائی اسمبلیوں کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی

    پلڈاٹ نے صوبائی اسمبلیوں کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی

    چوتھے پارلیمانی سال میں پلڈاٹ کی طرف سے صوبائی اسمبلیوں کی کارکردگی رپورٹ جاری کردی گئی۔ خیبرپختونخوا اسمبلی نے سب سے زیادہ اجلاس بلائے۔

    پلڈاٹ رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس 60 دن ہوئے، کے پی اسمبلی نے دیگر صوبائی اسمبلیوں کے مقابلے میں زیادہ دن کام کیا۔بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کا اجلاس 53 دن ہوا، پنجاب اسمبلی کا اجلاس 42 دن جبکہ سندھ اسمبلی کے سب سے کم 41 دن اجلاس ہوئے۔

    ایک سال میں ہر اسمبلی اجلاس کے اوقات کار کی تعداد مجموعی طور پر بہت کم ہے۔خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس 126.05 گھنٹے جبکہ سندھ اسمبلی کے اجلاس 111.51 گھنٹے جاری رہے۔

    بلوچستان اسمبلی کے اجلاس 91.10 گھنٹے جاری رہے جبکہ پنجاب اسمبلی اجلاس سب سے کم صرف 76.31 گھنٹے ہوئے۔بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ نے اسمبلی اجلاسوں میں سب سے زیادہ 30 فیصد شرکت کی۔

    جام کمال خان نے 2 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی جبکہ میر عبدالقدوس بزنجو نے 28 فیصد میں شرکت کی۔عثمان بزدار، حمزہ شہباز، پرویز الہٰی کی مشترکہ حاضری 21 فیصد ہے۔

    وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے 15 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی، محمود خان نے صرف 8 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی ہے۔قائد حزب اختلاف سندھ حلیم عادل شیخ نے 51.22 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی۔

    قائد حزب اختلاف بلوچستان ملک سکندر خان نے 50.94 فیصد اجلاسوں میں شرکت کیاپوزیشن لیڈر کے پی کے اکرم خان درانی نے 18 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی۔سب سے کم حاضری پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی 10 فیصد ہے۔

    خیبر پختونخوا اسمبلی میں 60 قوانین منظور ہوئے، پنجاب اسمبلی نے35 بل، سندھ اسمبلی نے 28 بل جبکہ بلوچستان اسمبلی نے27 بل منظور کیے۔خیبر پختونخوا اسمبلی میں 24 بار کورم کی نشاندہی کی گئی، پنجاب اسمبلی میں 7 بار کورم کی نشاندہی کی گئی۔

    بلوچستان اسمبلی میں 4 بار کورم کی نشاندہی کی گئی، سندھ اسمبلی میں کورم کی نشاندہی نہیں کی گئی۔

  • الیکشن کمیشن نے ایک رپورٹ کسی کی فرمائش پر شامل کی،عمران خان

    الیکشن کمیشن نے ایک رپورٹ کسی کی فرمائش پر شامل کی،عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ الیکشن کمشنر نے ہمیں فارن فنڈڈ کہہ کر ہماری توہین کی ہے۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ جیسی رپورٹ نہیں دیکھی، الیکشن کمیشن نے دو رپورٹیں بنائیں، ایک رپورٹ کسی کی فرمائش پر شامل کی، جس میں کہا کہ پی ٹی آئی فارن فنڈڈ ہے، الیکشن کمیشن حکومت کے ساتھ سازش میں ملوث ہے۔

    پی ٹی آئی کو فارن فنڈنگ پارٹی ڈکلیئر کرنے کا فیصلہ کرنا ہے،رانا ثناء اللہ

    عمران خان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور آصف زرداری الیکشن میں ہار کے ڈر سے انتخابات کا اعلان نہیں کر رہے، یہ ملک کا نہیں، صرف اپنی دولت بچانے کا سوچ رہے ہیں، ہم الیکشن میں بھرپور حصہ لیں گے، سب سیٹوں پر الیکشن کروائے جائیں۔

    چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ فیصلہ کرنا ہے آرمی چیف کون بنے گا، یا یہ کہ ملک کو دلدل سے کیسے نکالنا ہے؟ فوج نیشنل سیکیورٹی کا بہت بڑا حصہ ہے، پاکستان کی پوزیشن گزرتے دن کے ساتھ نیچے جا رہی ہے، الیکشن کی تاریخ دے دیں تو ہم ہر قسم کی بات کرنے کو تیار ہیں۔

     

    حکومتی اتحادی جماعتوں کا عمران خان کو نااہل قراردینےکیلئے ریفرنس دائرکرنےکا فیصلہ

     

    عمران خان نے کہا کہ الیکشن کمشنر کی سلیکشن پر لوگوں نے شور مچایا کہ یہ ن لیگ کا آدمی ہے، الیکشن کمیشن ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی فنڈنگ سامنے نہیں لا رہا، ہم الیکشن کمشنر کے خلاف سپریم جوڈیشل کمیشن میں جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کے سامنے پر امن احتجاج کریں گے، ریڈ زون میں نہیں جائیں گے۔

     

    ممنوعہ فنڈنگ کا فیصلہ بد نیتی پر مبنی ہے، تحریک انصاف

     

    انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے بڑے بڑے سیٹھ پالے ہوئے ہیں جن سے وہ پیسے لیتے ہیں، یوسف رضا گیلانی کے سینیٹ الیکشن میں پیسہ استعمال ہوا، ملک کو اس دلدل سے نکالنا ہے تو فوری الیکشن ضروری ہیں۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو سزائیں ملنی تھی، انہی کو سازش کے تحت ہمارے اوپر بٹھا دیا، آج ان کی وجہ سے ہماری نیشنل سیکیورٹی کو خطرہ لاحق ہے۔ اکنامک سیکیورٹی متاثر ہوگی تو نیشنل سیکیورٹی بھی متاثر ہوگی۔

  • خیبرپختونخوا میں جنگلات کو آگ لگنے کی  مشاہداتی رپورٹ جاری

    خیبرپختونخوا میں جنگلات کو آگ لگنے کی مشاہداتی رپورٹ جاری

    پشاور: محکمہ جنگلات، ماحولیات اور جنگلی حیات نے خیبرپختونخوا میں جنگلات کو آگ لگنے کی رپورٹ جاری کردی۔

    باغی ٹی وی :خیبر پختونخوا کے جنگلات میں آگ لگنے کی مشاہداتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 283 مقامات پر آگ لگنے کے واقعات رونما ہوئے جن میں سے60 فیصد سے زیادہ آگ لگنے کی وجوہات معلوم نہیں ہو سکیں جب کہ 26 فیصد سے زائد آگ لگنے کے واقعات میں لوگ ملوث تھے باقاعدہ یا محفوظ جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات کم ہوئے۔

    کراچی: نظارت خانےمیں آتشزدگی،500 سے زائد موٹر سائیکلیں، بس، رکشے اور گاڑیاں جل…

    مشاہداتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ لگنے کے واقعات میں 56 ایف آئی آر درج ہیں جن میں 32 نامزد ملزمان ہیں جب کہ 25 نامعلوم افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ آگ بجھانے کے عمل میں 3 افراد جاں بحق ہوئے-

    رپورٹ کے مطابق درجۂ حرارت میں غیر معمولی اضافہ بھی آگ لگنےکی وجہ بنا، جبکہ بارشوں کا کم ہونا بھی آگ لگنے کی وجہ ہو سکتا ہے ہائی رسک، میڈیم رسک اور کم خطرے والے علاقوں کی شناخت ہونی چاہیے ریسکیو 1122 کے خصوصی یونٹس کی ہائی رسک ایریاز تک رسائی ضروری ہے۔

    خیبر پختونخوا میں جنگلات کو جان بوجھ کر آگ لگائے جانے کا انکشاف،12 ملزمان گرفتار

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگ لگائے جانے کی ایک وجہ یہ افواہ بھی تھی کہ سرکار جلنے والے جنگلات کی رقم دیتی ہے مشاہداتی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ مستقبل کے لیے قدرتی حادثات سے نمٹنے والے جہاز کی خریداری کی جائے۔

    رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ موسم سرما کی برف تقریباً ایک ماہ پہلےپگھلنا شروع ہوگئی جس سے جنگلات طویل عرصے تک خشک رہے، مارچ 2022 کے لیے قومی بارشیں معمول سے 62 فیصد کم تھیں-

    نوشہرہ میں ٹرانسفارمر پھٹنے سے آگ لگ گئی،13 سالہ لڑکے سمیت 3 راہ گیرشدید زخمی