Baaghi TV

Tag: ریاست مدینہ

  • عمران خان پاکستان میں‌ ریاست مدینہ کی طرزکی حکومت چاہتا ہے:سابق حکمران بتائیں انہوں نےکیاکیا؟طاہراشرفی

    عمران خان پاکستان میں‌ ریاست مدینہ کی طرزکی حکومت چاہتا ہے:سابق حکمران بتائیں انہوں نےکیاکیا؟طاہراشرفی

    لاہور: عمران خان پاکستان میں‌ ریاست مدینہ کی طرز کی حکومت چاہتا ہے:سابق حکمران بتائیں انہوں نے کیا کیا:طاہراشرفی کا اعلان ، اپوزیشن ناراض ، خوش کپتان ،اطلاعات کے مطابق معاون خصوصی علامہ طاہرمحمود اشرفی نے کہا ہے کہ فضل الرحمان ، ن لیگ ،پیپلزپارٹی کا مدینہ کی ریاست کا ‏ہی نعرہ تھا جب کہ عمران خان ریاست مدینہ کےلئے موذن کا کردار ادا کررہے ہیں۔

    لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی آزادی اطمینان بخش ہے ‏اسلام جبر کی بنیاد پر مسلمان بنانے کا قائل نہیں کوئی جبری مذہبی تبدیل کرنےکی کوشش کرےتو اسلام کانمائندہ ‏نہیں جبر کی بنیاد پر کلمہ پڑھانے والوں کی مذمت کرتے ہیں۔

    طاہر اشرفی نے کہا کہ نابالغ اور جبری شادیاں ناقابل قبول ہیں فیصلہ کیا ہے ایک وفد تمام مذاہبی قائدین ‏سےملکرمسائل کاحل نکالےگا 4 دسمبر کو لاہور میں مسیحی برادری کے مقتدر قائدین سے ملاقات کریں گے بیٹی ‏کسی بھی مذہب سے ہوقوم کی بیٹی ہے تحفظ سب کی ذمہ داری ہے 16رکنی کمیٹی میں تمام مذاہب کے لوگ ‏شامل ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ مسیحی برادری کے پاس جاکر حقیقی مسائل سن کر حل کریں گے ذاتی مسئلے کے مسائل کو ‏مذہب سے نہیں جوڑا جاسکتا متحدہ علما بورڈ نے 113 کیسز کا فیصلہ کیا ہے ناموس رسالت توہین مذہب کو ‏باہمی بات چیت سےحل کرناہوگا عمران خان نے انٹرویو میں کہا اسلام جبر کا قائل نہیں کسی بھی مذہب سے ‏متعلق پروپیگنڈا نہیں ہونا چاہئے۔

     

  • خیبر پختونخواہ حکومت نے عمران خان کے ویژن کے مطابق عوام کو سہولیات فراہم، وزیر اطلاعات و ہائرایجوکیشن کامران خان بنگش

    خیبر پختونخواہ حکومت نے عمران خان کے ویژن کے مطابق عوام کو سہولیات فراہم، وزیر اطلاعات و ہائرایجوکیشن کامران خان بنگش

    خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات و ہائرایجوکیشن کامران خان بنگش کی لاہور پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں شرکت
    خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات و ہائرایجوکیشن کامران خان بنگش نے لاہور پریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں شرکت کی۔ لاہورپریس کلب کے صدر ارشد انصاری ، سیکرٹری زاہد چوہدری ، جوائنٹ سیکرٹری خواجہ نصیر ، ممبر ان گورننگ باڈی نفیس احمد قادری ، فوزیہ غنی اور سینئرجرنلسٹ نعیم مصطفی نے معززمہمان کو کلب آمد پر خوش آمدید کہا۔ خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات و ہائرایجوکیشن کامران خان بنگش نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ میں آج لاہور رپریس کلب آکربہت خوش ہوں اور پریس کلب کی نو منتخب گورننگ باڈی کو مبارکباد پیش کرتاہوں۔ انھوںنے حکومت کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے بتایاکہ خیبر پختونخواہ حکومت نے ریاست مدینہ کے ویژن کے مطابق صحت کارڈ دئیے، صحت کارڈ کے تحت دس لاکھ تک علاج مفت کرایاجاسکتاہے، پشاور بی آر ٹی پر سیاست کی گئی مگر ہم عوام کو سہولت دے رہے ہیں،خیبر پختونخواہ حکومت نے عمران خان کے ویژن کے مطابق عوام کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں،مولانا فضل الرحمن، امیر مقام اور اسفندر یار بھی صحت کارڈ سے دس لاکھ روپے کا علاج کروا سکتے ہیں، ۔ انھوںنے مزیدبتایاکہ ہمارے بی آر ٹی کو ناکام بنانے کی کوشش کی گئی جو ہمارا کامیاب منصوبہ ہے ،ہم روزانہ دو لاکھ تک افراد کو ٹرانسپورٹ مہیا کر رہے ہیں، سوات ایکسپریس وے فیز ون کو مکمل کیا،کے پی کے جنوبی اضلاع پہلے نظر انداز کئے جا رہے تھے جہاں پہلے ڈی آئی خان موٹروے بنا رہے ہیں،پچھلے دو ماہ میں گلیات میں سات لاکھ سے زائد سیاح آئے، وزیراعظم کے ویژن کے مطابق آٹھ نئے سیاحتی زون بنانے کے ٹارگٹ میںسے چار سیاحتی مقامات کو ہم بنا چکے ہیں، تیس سال ایک جنگ سے گزرے ہیں، معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے تحت 17 اکنامک زون بنا دئیے گئے ہیں، کے پی کے پہلا صوبہ ہے جہاں رسکئی اکانومی زون میں دو لاکھ لوگوں کو روزگار ملے گا جو چین کے تعاون سے بنایا ہے، اسی طرح کے پی کے میں ماربل انڈسٹری کو فروغ دینے کے لئے چکرال اکانومک زون بنا رہے ہیں جبکہ توانائی کے شعبے میں انقلابی اقدامات کئے ہیںاور ساڑھے تین سو چھوٹے پن بجلی کے منصوبے بنائے ہیں،خیبر پاس اکانومک زون ہمارے لوگوں کے لئے نئی معاشی سرگرمیاں لے کر آئے گا،چشمہ رائٹ بنک کنال سے صوبے میں زرعی انقلاب آئے اور 2 لاکھ 60 ہزار ایکڑ سے زائد زمین قابل کاشت بن جائے گی، تعمیراتی شعبے میں ترقی کی جانب بڑھتے ہوئے نئی رہائشی سوسائٹیاں بنائی جارہی ہیں اور کے پی کے میں بلند و بالا عمارتیں بنانے کی اجازت دے دی ہے۔ ان کا کہناتھاکہ علماءکرام کو حکومت جون 2021 سے فی کس ماہانہ دس ہزار روپے دے گی جس سے وہ عزت نفس کو برقرار رکھتے ہوئے ضروریات زندگی کو بہتراندازمیں ادا کرسکیں گے۔ انھوں نے کہاکہ صوبے میں سات پناہ گاہیں بنائی ہیں اب ہم اس کو چونتیس اضلاع میں لے کر جا رہے ہیں۔فاٹاکے سات قبائل ختم ہو کر کے پی کے کا حصہ بن چکے ہیں جہاں کبھی 20 ارب روپے سے زائد کے ترقیاتی منصوبے نہیں ہوئے اسے ہم 70 ارب روپے تک لے کر جائیں گے فاٹا انضمام پر سیاسی پنڈت اسے نا مکمن قرار دیتے تھے لیکن ہم نے وہ کر کے دکھایا ہے،اب قبائل میں ایف سی آر کا قانون ختم کیا،ہم سیاسی کرپٹ ٹولوں کا خاتمہ اپنی کارکردگی سے ختم کیا،17 ارب یونٹس بجلی کے نیشنل گرڈ میں جاتے ہیں ۔ ان کا کہناتھاکہ بھاشا ڈیم اور کالا باغ ڈیم کا ایک غیر متنازع تجزیہ ہونا چاہیے ،کالا باغ ڈیم اور بھاشا ڈیم پر ایک نیوٹرل کمیشن بننا چاہئیے تاکہ جو بھی اس پر سیاست کرے اس کا احتساب ہو ،پشاور اور گومل یونیورسٹی خسارے میں اس کے لئے ہم بہترین اقدامات کرنے جا رہے ہیں، مالم جبہ اسکینڈل کو ایک پروپیگنڈا ٹول بنا کر پیش کیا جارہا ہے،مالم جبہ پر ٹیکنیکل ایشو آرہا ہے، دلیپ کمار اور راج کار کی حویلیوں کے بارے مالکان کیساتھ رابطے میں ہیں، پنجاب اور کے پی کے وزیر اعلیٰ دونوں ہی عاجز اور کام سے مخلص اور ایماندارہیں دونوں وزرا اعلی 24 میں سے 18 گھنٹے کام کرتے ہیں،خوش شکل ہونا اتنا معنی نہیں رکھتا جتنا کہ عاجز ہونا رکھتا ہے ، کے پی کے لوگ بکاو ¿ نہیں ہیں۔ صدر ارشد انصاری اور سیکرٹری زاہد چوہدری نے معززمہمان کی کلب آمد پر ان کا شکریہ اداکیا اور ان کی جانب سے حکومت کے ترقیاتی کاموں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہاکہ بطورپاکستانی اورصحافی ہم کے پی کے میں ہونے والے ترقیاتی کاموں سے خوش ہیںاور اس میں مزید ترقی کے لئے دعاگوہیںاورجس طرح آپ نے ہمیں فراخدلانہ طورپرکے پی کے میں ہونے والی ترقیاتی کاموں کاجائزہ لینے کی دعوت دی ہے ہم اس کے لئے آپ کے مشکورہیں۔خیبر پختونخواہ کے وزیر اطلاعات و ہائرایجوکیشن کامران خان اور ان کے ساتھ آئے خیبرپختونخواہ کے ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنزبہرامند درانی کو کلب کی جانب سے یادگاری شیلڈزپیش کی گئیں۔

  • وزیراعظم کےحکم پر ریاست مدینہ کےحوالے سے ورکنگ گروپ قائم ، جوسفارشات بھی پیش کرے گا عمل درآمد بھی کرائے گا:چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل

    وزیراعظم کےحکم پر ریاست مدینہ کےحوالے سے ورکنگ گروپ قائم ، جوسفارشات بھی پیش کرے گا عمل درآمد بھی کرائے گا:چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل

    اسلام آباد : وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اپنے ویژن ریاست مدینہ کی طرز پر پاکستان کو بنانے کے عزم پر عملی اقدامات اٹھاتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کو ہدایت کردی ہےکہ وہ جلد از جلد اس عزم کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اقدامات کرے ،

    باغی ٹی وی کے مطابق انہیں‌اقدامات کے حوالے سے اسلام نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ ریاست مدینہ کے حوالے سے ورکنگ گروپ تشکیل دے دیا ہے جبکہ اعلامیے میں حکومتی کمیٹی کی جانب سے کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کی حیثیت کی تبدیلی کی سفارش کو غیر آئینی قرار دے دیا۔

    اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کے 216 ویں اجلاس کے اختتام پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا کہ ریاست مدینہ کے حوالے سے ورکنگ گروپ بنایا گیا ہے اور آئندہ مہینوں میں لائحہ عمل اور ورکشاپس کا انعقاد کریں گے۔

  • ریاست مدینہ

    ریاست مدینہ

    حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ کے دور میں ایک بدو آپ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ملنے مدینے کو چلا، جب مدینے کے پاس پہنچا تو آدھی رات کا وقت ہو چکا تھا ساتھ میں حاملہ بیوی تھی تو اس نے مدینے کی حدود کے پاس ہی خیمہ لگا لیا اور صبح ہونے کا انتظار کرنے لگا، بیوی کا وقت قریب تھا تو وہ درد سے کراہنے لگی، حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ اپنے روز کے گشت پر تھے اور ساتھ میں ایک غلام تھا، جب آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے دیکھا کے دور شہر کی حدود کے پاس آگ جل رہی ہے اور خیمہ لگا ہوا ہے تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے غلام کو بھیجا کہ پتہ کرو کون ہے

    جب پوچھا تو اس نے ڈانٹ دیا کہ تمہیں کیوں بتاؤں، آپ رضی اللہ تعالی عنہ گئے اور پوچھا تو بھی نہیں بتایا آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ اندر سے کراہنے کی آواز آتی ہے کوئی درد سے چیخ رہا ہے بتاؤ بات کیا ہے تو اس نے بتایا کہ میں امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ سے ملنے مدینہ آیا ہوں میں غریب ہوں اور صبح مل کے چلا جاؤں گا، رات زیادہ ہے تو خیمہ لگایا ہے اور صبح ہونے کا انتظار کر رہا ہوں، بیوی امید سے ہے اور وقت قریب آن پہنچا ہے تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ جلدی سے پلٹ کر جانے لگے کہ ٹھہرو میں آتا ہوں، آپ رضی اللہ تعالی عنہ اپنے گھر گئے اور فوراً اپنی زوجہ سے مخاطب ہوئے کہا کہ اگر تمہیں بہت بڑا اجر مل رہا ہو تو لے لو گی زوجہ نے کہا کیوں نہیں تو آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا چلو میرے دوست کی بیوی حاملہ ہے،وقت قریب ہے چلو اور جو سامان پکڑنا ہے ساتھ پکڑ لو،

    آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی بیوی نے گھی اور دانے پکڑ لئے اور آپ رضی اللہ تعالی عنہ کو لکڑیاں پکڑنے کا کہا آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے لکڑیاں اپنے اوپر لادھ لیں،،، سبحان اللہ ۔۔۔ (یہ کوئی کونسلر، ناظم ، ایم پی اے یا ایم این اے نہیں یہ اس کا ذکر ہو رہا ہے جو کہ 22 لاکھ مربع میل کا حکمران ہے جس کے قوانین آج بھی چلتے ہیں جو عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ ہے ) جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو فوراً کام میں لگ گئے بدو ایسے حکم چلاتا جیسے آپ شہر کے کوئی چوکی دار یا غلام ہیں،، کبھی پانی مانگتا تو آپ دوڑے دوڑے پانی دیتے کبھی پریشانی میں پوچھتا کہ تیری بیوی کو یہ کام آتا بھی ہے تو آپ جواب دیتے،، جبکہ اس کو کیا پتہ کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ خود ہیں،

    جب اندر بچے کی ولادت ہوئی تو آپ کی زوجہ نے آواز لگائی یا امیر المومنین بیٹا ہوا ہے تو یا امیر المومنین کی سدا سن کر اس بدو کی تو جیسے پاؤں تلے زمین نکل گئی اور بے اختیار پوچھنے لگا کیا آپ ہی عمر فاروق امیر المومنین ہیں ؟؟ آپ عمر رضی اللہ تعالی عنہ ہیں ؟ وہی جس کے نام سے قیصر و کسریٰ کانپتے ہیں آپ وہ ہیں وہی والے عمر رضی اللہ تعالی عنہ ہیں جس کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا کہ آپ کے لئے دعا کرتا ہوں اور جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا مانگ کر اسلام کے لئے مانگا وہی والے نا؟؟
    آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا ہاں ہاں میں ہی ہوں اس نے کہا کہ ایک غریب کی بیوی کے کام کاج میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ کی بیوی،خاتون اول لگی ہوئی ہے اور دھوئیں کے پاس آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی داڑھی لپیٹ لی اور میری خدمت کرتے رہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ رو پڑے اس بدو کو گلے سے لگایا اور کہا تجھے پتا نہیں توں کہاں آیا ہے ؟ ؟ یہ مدینہ ہے میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مدینہ یہاں امیروں کے نہیں غریبوں کے استقبال ہوتے ہیں، غریبوں کو عزتیں ملتی ہیں، مزدور اور یتیم بھی سر اٹھا کر چلتے ہیں !!
    سبحان اللہ
    یہ ہے ریاست مدینہ

  • ریاست مدینہ اور پرعزم وزیراعظم

    ریاست مدینہ اور پرعزم وزیراعظم

    پی ٹی آئی کی حکومت بنتے ہی جو خواب وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب نے قوم کو دکھایا یقیناً ہر محب وطن پاکستانی کی دیرینہ خواہش ہے۔ اسی کو خان صاحب نئے پاکستان سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ اور جس مستقل مزاجی سے اس نئے پاکستان کی طرف سفر جاری ہے یقیناً عنقریب ہم اپنی منزل کو پہنچ جائیں گے۔ وزیراعظم پاکستان کے بہت سے اچھے اقدامات میں سے ایک عوامی رائے کو سننا اور قابل عمل بات کو اختیار کرنا بھی ہے اور یہ ان کی عوامی مقبولیت کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ بھی ہے اور ان کے
    مزاج میں رعونت و تکبر کے نہ ہونے کی علامت بھی۔
    گزشتہ دنوں پی ٹی آئی حکومت نے اپنا پہلا بجٹ پیش کیا۔ بجٹ اور اس کے بعد نشر کیے جانے والے وزیراعظم کے خطاب پر بہت سے ناقدین اور مبصرین نے تبصرہ کیا۔ مگر اکثر لوگ اس میں منفی نکات ہی ڈھونڈتے رہے۔ تنقید بذات خود بری نہیں ہے کیونکہ اس سے اصلاح کا موقع ملتا ہے مگر تنقید برائے تنقید اور ذاتی ناپسند پر مبنی تنقید سے سوائے وقت اور توانائی کے ضیاع کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ اسی لیے ہم اس فضول بحث میں پڑ کر اپنا وقت ضائع نہیں کرتے۔
    قریباً پون صدی سے اہلیان پاکستان ایسی قیادت کی تلاش میں تھے جو ملک خداداد میں بلاتفریق احتساب اور قانون کی بالادستی قائم کر سکے۔ اور اس عمل کو تسلسل کے ساتھ جاری بھی رکھ سکے۔ یقینی طور پر جب بات ہو احتساب اور قانونی بالادستی کی تو بہت سے افراد مخالفت پر اتر آتے ہیں اور ان کی مخالفت کو پس انداز کرتے ہوئے اپنے مقصد پر چلتے رہنے سے ہی کامیابی ممکن ہوتی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت وہ واحد جمہوری حکومت ہے جس نے اس اہم ترین امر کو یقینی بنایا۔ ملک کی کئی طاقتور اور با اثر شخصیات جو خود کو قانون سے بالا تر سمجھ کر مطلق العنانی کے گھمنڈ میں مبتلا تھیں آج احتساب کے شکنجے اور قانون کے کٹہرے میں ہیں۔ ملکی صورتحال روز بروز بہتر ہو رہی ہے۔ اور حکومت کی ملک دوست پالیسیوں کے سبب فوج اور سول حکومت ایک پیج پر ہیں دونوں ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے پر عزم ہیں۔ افواج پاکستان نے شبانہ روز اپنی جان پر کھیل کر اور رگ جاں اس دھرتی پر قربان کرتے ہوئے اس وطن کے دفاع کو نا قابل تسخیر بنا رکھا ہے اور حاکم وقت بھی اپنے عزائم میں مخلص اور ثابت قدم ہے۔ قوم پرامید رہے کہ جلد پاکستان ریاست مدینہ کا عملی نمونہ ہو گا۔ وہ ریاست مدینہ جس کی داغ بیل نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی اور اسے دنیا کی طاقتور ترین ریاست بنایا۔