چیٹ جی پی ٹی بنانے والی کمپنی اوپن اے آئی نے تقریباً 90 سال سے حل طلب ایک پیچیدہ ریاضیاتی مسئلے، نیویئر-اسٹوکس مساوات کے وجود اور ہموا ری سے متعلق مسئلے، کا اہم حصہ صرف 88 گھنٹوں میں حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے-
اوپن اے آئی کے مطابق تقریباً 10 ہزار مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس نے مل کر اس مسئلے پر کام کیا اور 88 گھنٹوں کے دوران تقریباً 30 لاکھ پیغامات کا تبادلہ کیاکمپنی کا کہنا ہے کہ اس عمل میں تقریباً 130 ارب آؤٹ پٹ ٹوکنز استعمال ہوئےنیویئر-اسٹوکس مساوات سیال مادوں، جیسے پانی اور ہوا، کی حرکت اور بہاؤ کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں، ان مساوات کے بارے میں یہ بنیادی سوال کہ بعض حالات میں ان کے حل ہمیشہ موجود رہتے ہیں اور ہموار رہتے ہیں یا نہیں، کئی دہائیوں سے ریاضی دانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
اوپن اے آئی کے مطابق اگست کے آخر میں ایک نئے اندرونی اے آئی ماڈل کی تربیت شروع کی گئی، جس کے بعد یکم ستمبر کو تقریباً 10 ہزار اے آئی ا یجنٹس کو مشکل ریاضیاتی مسائل پر کام کرنے کے لیے استعمال کیا گیا،کمپنی کا دعویٰ ہے کہ 5 ستمبر تک ایجنٹس نے نیویئر-اسٹوکس مسئلے کے وجود اور ہموا ری سے متعلق ایک حل تیار کرلیا۔
کمپنی کے اندازے کے مطابق اس بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ کے عمل پر موجودہ ماڈلز کی قیمتوں کو سامنے رکھتے ہوئے تقریباً ایک کروڑ ڈالر خرچ ہوئے، او پن اے آئی نے اس پیشرفت کو مصنوعی ذہانت کی ریاضیاتی صلاحیتوں میں اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔
تاہم اس دعوے کو ابھی حتمی طور پر تسلیم نہیں کیا گیا کلی میتھمیٹکس انسٹی ٹیوٹ، جس نے نیویئر-اسٹوکس مسئلے کے حل پر 10 لاکھ ڈالر کا ملینیم پرائز مقرر کر رکھا ہے، نے بھی اوپن اے آئی کی پیش رفت کو باضابطہ طور پر حل کے طور پر تسلیم نہیں کیا، اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے تیار کردہ حل کی بنیاد پر اس انعام کا دعویٰ نہیں کرے گی۔
دوسری جانب نیویارک یونیورسٹی کے ریاضی کے پروفیسر ٹرسٹن بک ماسٹر اور اینتھروپک سے وابستہ ریاضی دان لیونٹ آلپوگے کی جانب سے بھی اوپن اے آئی کے دعوے پر تحفظات سامنے آئے ہیں بک ماسٹر کے مطابق دونوں ریاضی دان نیویئر-اسٹوکس مسئلے پر تحقیق کر رہے تھے اور اپنی تحقیق میں اوپن اے آئی کے کوڈیکس ٹول سے بھی مدد لے رہے تھے۔
بک ماسٹر کا کہنا ہے کہ 3 ستمبر کو انہیں معلوم ہوا کہ ان کے کام سے متعلق معلومات اوپن اے آئی تک پہنچ چکی ہیں اس کے بعد انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کمپنی نے ان کی تحقیق سے متعلق معلومات ملنے کے بعد اسی مسئلے پر کام شروع کیا۔
اوپن اے آئی نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے دونوں ریاضی دانوں کا کام عوامی سطح پر سامنے آنے سے پہلے نہیں دیکھا تھا کمپنی کے مطابق اس کے تیار کردہ ثبوت دونوں ریاضی دانوں کے کام سے نمایاں طور پر مختلف ہیں اور دونوں میں ثابت کیے گئے نتائج بھی ایک جیسے نہیں ہیں۔
اوپن اے آئی نے تاہم یہ امکان مکمل طور پر مسترد نہیں کیا کہ اس کی مصنوعات استعمال کرنے سے حاصل ہونے والے شناخت ظاہر نہ کرنے والے ڈیٹا نے اس کے ماڈلز کی تربیت اور بہتری میں کسی حد تک کردار ادا کیا ہو،یوں اوپن اے آئی کا دعویٰ مصنوعی ذہانت کی جانب سے مشکل ترین ریاضیاتی مسائل حل کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے اہم پیش رفت ضرور قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مسئلے کے حتمی حل کے لیے ریاضی کے ماہرین کی آزادانہ جانچ اور باضابطہ تصدیق ابھی باقی ہے۔
