Baaghi TV

Tag: ریحان زیب

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ریحان زیب کے خاندان سے ملاقات

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ریحان زیب کے خاندان سے ملاقات

    وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے ریحان زیب کے خاندان سے ملاقات کی ہے

    اس موقع پر منسٹر سوشل ویلفیئر،عشر وزکوٰۃ مشال یوسفزئی بھی موجود تھے ۔وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور نے ریحان زیب شہید فیملی سے اظہار تعزیت کیا اور ایصال ثواب کیلئے دعا کی، وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے ریحان زیب شہید تینوں بھائیوں کے لیے سرکاری نوکریاں ،والد،والدہ اور بھائی کیلئے حج وعمرہ ،فیملی کیلئے اپنا گھر ،ورکر پیکج ، شہدا پیکج اور دیگر مراعات کا اعلان کیا، علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ تمام حکام کو احکاماتِ بھی جاری کئے ہیں کہ ریحان زیب شہید قاتلوں کو گرفتار کیا جائے اور سی ٹی ڈی ڈی آئی جی سے فیملی ملاقات کیلئے بھی کہا گیا ہے،

    وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ میں نے وعدہ کیا تھا کہ انکی فیملی کے لیے آواز بنوں گا ،میں نے صدق دل سے تمام لیڈر شپ نوٹس میں لایا اور بھرپور مطالبہ بھی کیا باقی ٹکٹ میرے ہاتھ میں نہیں ہے ۔پی ٹی آئی رہنما یوسف دانش کا کہنا تھا کہ فیصلہ باجوڑ عوام نے کرنا ہے کہ وہ کس کو ووٹ دیتے ہیں اور ریحان زیب شہید فیملی فیصلہ کرے گا کہ وہ آزاد الیکشن لڑتے ہیں یا دستبردار ہوتے ہیں ۔

    واضح رہے کہ ریحان زیب کو31 جنوری کو انتخابی مہم کے دوران قتل کیا گیا تھا،مقتول تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر کےخلاف الیکشن لڑ رہے تھے، ریحان زیب کے قتل کے بعد تحریک انصاف نے انہیں پارٹی کا حمایت یافتہ اُمیدوار قرار دیا اور پھر بیان ہٹا دیا تھا۔باجوڑ میں قتل کیے گئے آزاد امیدوار ریحان زیب نے ٹکٹ تقسیم پر سوال اٹھائے تھے، انہیں قومی، صوبائی اسمبلی کیلئے تحریک انصاف نے ٹکٹ نہیں دیا تھا، ریحان زیب بطور آزاد امیدوار قومی، صوبائی اسمبلی الیکشن میں حصہ لے رہے تھے۔قومی اسمبلی کے حلقے این اے 8 میں تحریک انصاف نے قومی اسمبلی کا پارٹی ٹکٹ گل ظفر خان کو جبکہ پی کے 22 میں ٹکٹ گل داد خان کو جاری کیا تھا۔ریحان زیب نے 12 جنوری کو خیبر پختونخوا حکومت میں کرپشن کا بھی انکشاف کیا تھا، ان پر چند روز سے تحریک انصاف سے منسلک ٹرول اکاؤنٹس سے تنقید کی جا رہی تھی۔

    باجوڑ این اے 108 میں آزاد امیدوار ریحان زیب کے قاتل گرفتار نہ ہو سکے

  • آزاد امیدوار ریحان زیب کے قاتل گرفتار نہ ہو سکے

    آزاد امیدوار ریحان زیب کے قاتل گرفتار نہ ہو سکے

    باجوڑ این اے 108 میں آزاد امیدوار ریحان زیب کے قاتل گرفتار نہ ہو سکے

    ریحان زیب کو دو روز قبل گولیاں مار کر قتل کیاگیا تھا،ریحان زیب تحریک انصاف کے امیدوار کے مقابلے میں آزاد الیکشن لڑ رہے تھے،ا نہوں نے تحریک انصاف کے ٹکٹ کے لئے درخؤاست دی تھی تا ہم پی ٹی آئی نے انہیں ٹکٹ نہیں دیا تھا,ریحان زیب کی موت کے بعد تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ وہ تحریک انصاف کا حمایت یافتہ امیدوار تھا تا ہم حقیقت اسکے برعکس ہے، ریحان زیب کو ٹکٹ نہیں ملا تھا بلکہ وہ آزاد امیدوار اور پی ٹی آئی امیدوار کے مقابلے میں الیکشن لڑ رہے تھے.

    دوسری جانب باجوڑ اسکاؤٹس بلڈنگ سول لائن پر پتھراؤ کے واقعے پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے،پولیس کے مطابق پتھراؤ کرنے والے 25 سے زائد افرادکے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ،ایف آئی آر کے مطابق امیدوار ریحان زیب کے قتل پر شرپسندوں نے باجوڑ اسکاؤٹس بلڈنگ سول لائن پر پتھراؤ کیا تھا،مخصوص سیاسی جماعت کے شرپسندوں نے قتل کو سیاسی مقاصدکے لیے استعمال کیا، مخصوصی سیاسی جماعت کے شرپسندوں نے مقامی افراد کو جمع کرکے مشتعل کیا، مشتعل افراد نے دروازہ توڑنےکی کوشش کی اور ریاست مخالف نعرے بھی لگائے،مظاہرین کے خلاف تھانہ خار ضلع باجوڑ میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے

    این اے 8 باجوڑ میں امیدوار کا قتل ،الیکشن کمیشن نے انتخابی امیدوار کے قتل کا نوٹس لے لیا
    الیکشن کمیشن نے آئی جی اور چیف سیکرٹری خیبر پختون خواہ سے فوری رپورٹ طلب کر لی ، الیکشن کمیشن نے حکم دیا کہ قتل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔باجوڑ میں عام انتخابات ملتوی کردیے گئے، باجوڑ میں آزاد امیدوار کے قتل کے بعد مذکورہ حلقے میں الیکشن ملتوی کئے گئے،ریحان زیب پر قاتلانہ حملے کے بعد حلقہ این اے 8 اور پی کے 22 پر الیکشن ملتوی ہوگیا۔ الیکشن کمیشن باجوڑ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا

  • باجوڑ میں قتل ہونیوالے آزاد امیدوار ریحان زیب کی نماز جنازہ ادا

    باجوڑ میں قتل ہونیوالے آزاد امیدوار ریحان زیب کی نماز جنازہ ادا

    باجوڑ سے آزاد امیدوار ریحان زیب کی نماز جنارہ ادا کر دی گئی

    نماز جنازہ انکے آبائی علاقے برشاہ نرے میں ادا کی گئی، نماز جنازہ میں کثیر تعداد میں اہل علاقہ نے شرکت کی، اس موقع پر شرکاء نے قاتلوں کی گرفتاری کا بھی مطالبہ کیا ،ریحان زیب آزاد امیدوار تھے جو این اے 8 اور پی کے 22 سے انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔

    سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے باجوڑ میں امیدوار قومی اسمبلی ریحان زیب کے قتل کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ مرحوم کا قتل افسوسناک ہے، کے پی کا امن تباہ وبرباد کردیا گیا، الیکشن کمیشن اور سیکورٹی اداروں کے لئے ایسے واقعات سوالیہ نشان ہیں، دعاء ہے کہ اللہ کریم مرحوم کی مغفرت فرمائے، اہل خانہ کے غم میں برابر کا شریک ہوں ۔

    ریحان زیب کے قتل پر ہسپتال انتظامیہ نے میڈیکل رپورٹ جاری کی ہے، ڈی ایچ کیو خار نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) ہیلتھ کو رپورٹ جاری کردی، جس میں کہا گیا کہ باجوڑ کے علاقے صادق پھاٹک میں ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ پیش آیا، واقعہ میں ریحان زیب مردہ حالت میں اسپتال لائے گئے، فائرنگ کے واقعہ میں 3 افراد زخمی بھی ہوئے، واقعہ میں زخمی طلحہ کو سینے پر زخم آئے، جس کا علاج جاری ہے، جبکہ سلطان روم کو دائیں ہاتھ اور ابن امین کو بائیں ہاتھ پر زخم آیا ہے.

    این اے 8 باجوڑ میں امیدوار کا قتل ،الیکشن کمیشن نے انتخابی امیدوار کے قتل کا نوٹس لے لیا
    الیکشن کمیشن نے آئی جی اور چیف سیکرٹری خیبر پختون خواہ سے فوری رپورٹ طلب کر لی ، الیکشن کمیشن نے حکم دیا کہ قتل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔باجوڑ میں عام انتخابات ملتوی کردیے گئے، باجوڑ میں آزاد امیدوار کے قتل کے بعد مذکورہ حلقے میں الیکشن ملتوی کئے گئے،ریحان زیب پر قاتلانہ حملے کے بعد حلقہ این اے 8 اور پی کے 22 پر الیکشن ملتوی ہوگیا۔ الیکشن کمیشن باجوڑ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا

    باجوڑ میں ریحان زیب کو گزشتہ روز قتل کر دیا گیا، وہ قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدوار تھے،تحریک انصاف کے ٹکٹ کے لئے درخواست دی تھی تاہم تحریک انصاف نےٹکٹ نہ دیا تو آزاد الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا، ریحان زیب اپنے حلقے میں انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے تھے، انکو دن دہاڑے انکو گولیاں ماری گئیں، ریحان زیب کی موت کے بعد تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ وہ تحریک انصاف کا حمایت یافتہ امیدوار تھا تا ہم حقیقت اسکے برعکس ہے، ریحان زیب کو ٹکٹ نہیں ملا تھا بلکہ وہ آزاد امیدوار اور پی ٹی آئی امیدوار کے مقابلے میں الیکشن لڑ رہے تھے.

  • امیدوار نامزد نہ ہونے پر  پی ٹی آئی قیادت پر تنقید،پھر آزاد الیکشن لڑنیوالا امیدوار قتل

    امیدوار نامزد نہ ہونے پر پی ٹی آئی قیادت پر تنقید،پھر آزاد الیکشن لڑنیوالا امیدوار قتل

    باجوڑ میں ریحان زیب کو قتل کر دیا گیا، وہ قومی و صوبائی اسمبلی کے امیدوار تھے،تحریک انصاف کے ٹکٹ کے لئے درخواست دی تھی تاہم تحریک انصاف نےٹکٹ نہ دیا تو آزاد الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا، ریحان زیب اپنے حلقے میں انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے تھے، آج دن دہاڑے انکو گولیاں ماری گئیں، ریحان زیب کی موت کے بعد تحریک انصاف کا کہنا ہے کہ وہ تحریک انصاف کا حمایت یافتہ امیدوار تھا تا ہم حقیقت اسکے برعکس ہے، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر صحافی و اینکر غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ ،کیسے لوگ ہیں بھئی ۔۔ نوجوان مخلص کارکن ریحان زیب کو پارٹی ٹکت دیا تک نہیں بلکہ اُس کی جگہ امیر کارکن گُل داد کو ٹکٹ دیا جس نے عمران خان کو 160ملین روپے دیے؛ اور اب ریحان زیب کے قتل کو “کیش” کروانے کیلئے اُسے باجوڑ سے اپنا قومی اسمبلی امیدوار بنا رہے ہیں۔۔۔ استغفراللہ۔۔۔! PTI نے تو ریحان زیب کو ٹکٹ دیا ہی نہیں، ریحان آزاد امیدوار کھڑا ہو رہا تھا۔ PTI کے اپنے پورٹل پر بھی اس حلقے سے گُل داد کا نام موجود ہے۔ PTI کے اپنے لوگ ریحان زیب کیخلاف مہم چلاتے رہے اسے رانگ نمبر کہتے رہے۔۔۔ اور اب معصوم نوجوان قتل ہو گیا تو اس کے قتل کو مذموم مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔۔۔ تاکہ اپنے امیدوار کو بچایا بھی جا سکے؛ کیونکہ گل داد کے لوگوں نے ریحان زیب کو قتل کیا؛ اور اس قتل کو سیاسی مقاصد اور ہمدردی حاصل کرنے کیلئے “استعمال” بھی کیا جا سکے۔۔۔۔ کیسا malicious, despicable ایجنڈا ہے۔۔۔۔

    ریحان زیب کاقتل سے پہلے ہی قاتلوں کےبارے میں انکشاف،ویڈیو سامنے آ گئی
    باجوڑ سے آزاد امیدوار ریحان زیب کی ایک ویڈیو صحافی امجد بخاری نے ٹویٹر پر پوسٹ کی ہے، ساتھ پیغام میں لکھا ہے کہ
    ریحان زیب کاقتل سے پہلے ہی قاتلوں کےبارے میں انکشاف، ریحان زیب نے اس خطرے کا اظہار موت سے دو دن پہلے کیا تھا کہ علی آمین گنڈا پور۔ گل ظفر باغی اور گل داد خان مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں۔ گنڈا پور نے گل ظفر اور گل داد خان سے بحریہ ٹاون کے ایک بنگلے میں سات کروڑ روپے لے کر ٹکٹس دیئے

    https://twitter.com/AmjadHBokhari/status/1752673705216671826

    ایک صارف حیات اللہ کہتے ہیں کہ میرا تعلق باجوڑ سے ہے اور ریحان زیب میرا بہترین دوست تھا ٹکٹ نہ ملنے کے باوجود وہ تحریک انصاف کے امیدواران سے زیادہ مقبول تھے کیونکہ وہ سابق ایم این ایز کے کرپشن پر کھل کر بات کرتے تھے اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین ثم آمین

    این اے 8 باجوڑ میں امیدوار کا قتل ،الیکشن کمیشن نے انتخابی امیدوار کے قتل کا نوٹس لے لیا
    الیکشن کمیشن نے آئی جی اور چیف سیکرٹری خیبر پختون خواہ سے فوری رپورٹ طلب کر لی ، الیکشن کمیشن نے حکم دیا کہ قتل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔باجوڑ میں عام انتخابات ملتوی کردیے گئے، باجوڑ میں آزاد امیدوار کے قتل کے بعد مذکورہ حلقے میں الیکشن ملتوی کئے گئے،ریحان زیب پر قاتلانہ حملے کے بعد حلقہ این اے 8 اور پی کے 22 پر الیکشن ملتوی ہوگیا۔ الیکشن کمیشن باجوڑ نے نوٹیفکیشن جاری کردیا

    الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کل بروز جمعرات کو اہم اجلاس طلب کر لیا،اجلاس میں وزیر داخلہ، سیکرٹری داخلہ،بلوچستان ،خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹریز، آئی جی صاحبان اور دیگر انٹیلی جینس ایجنسیوں کے نمائندوں کو مدعو کیا گیا ہے.

    باجوڑ میں تحریک انصاف کے رہنما ریحان زیب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے جاں بحق ہو گئے ہیں،ریحان زیب الیکشن بھی لڑ رہے تھے،پی ٹی آئی نے ریحان زیب کو امیدوار نامزد نہیں کیا تھا تاہم وہ آزاد الیکشن لڑ رہے تھے، امیدوار ریحان زیب نامعلوم افراد کے فائرنگ سے زخمی ہوئے، جنہیں زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا تا ہم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ جان کی بازی ہار گئے.وہ این اے آٹھ سے امیدوار تھے،

    این اے آٹھ میں پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار گل ظفر ہیں جبکہ ریحان زیب بھی آزاد الیکشن لڑ رہے تھے، انہوں نے گل ظفر کو امیدوار نامزد کرنے کے فیصلے کی مخالفت کی تھی، ریحان زیب اپنے آپ کو پی ٹی آئی کا امیدوار کہہ رہے تھے جس پر سوشل میڈیا پر انکی مخالفت کی جا رہی تھی اور انکو رانگ نمبر کہا جا رہا تھا،ارسلان بلوچ نے ٹویٹر پر کہا تھا کہ باجوڑ سے یہ رانگ نمبر ہے۔

    https://twitter.com/balochi5252/status/1748650896513179861

    ریحان زیب نے پی ٹی آئی امیدواروں کی نامزدگی کا اعلان ہونے کے بعد ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسلام علیکم پی ٹی آئی فیملی ( پاکستان کے اندر باہر سب)۔ اس ٹویٹ کو غور سے پڑھے اور سمجھنے کی کوشش کریں، میں صرف اپنا خوف اور نقطہ نظر شیئر کرہا ہوں، مانے یا نہ مانے اپکے مرضی ہے۔ ہم نے عمران خان کو دیکھ کر پرویز خٹک بھی پختونخواہ کا بادشاہ بنایا تھا، ہم نے عمران خان کو دیکھ کر محمود خان کو بھی بادشاہ بنایا۔۔ لیکن یہی دونوں خان کیلئے پختونخواہ میں کھڈے کھول رہے ہیں۔ اس طرح بہت سے لوگوں کو گلی کوچوں سے اٹھا کر ہم نے ایم این ایز ، ایم پی ایز ، وزیر اور مشیر بنائے، ہم نے کسی ذات پات کو نہیں دیکھا۔ باجوڑ میں ہم نے 2018 الیکشن میں 2 میں سے 2 ایم این اے کی سیٹس نکالے، 2019 کی الیکشن میں تین میں 2 ایم پی ایز نکالے۔۔ لیکن پر وہی ہوا باجوڑ کو ملنی والی ترقیاتی فنڈز پاک پی ڈبلیو ڈی کی دفاتر میں بانٹے گئے، ایس ڈی جیز کی اربوں فنڈ غائب کردی گئی، نوکریوں کی خرید و فروخت ہوئی، میرٹ کو سرعام کچل دیا گیا۔ کرپشن ایک طرف قومی اور صوبائی سطح پر انکی نمائندگی بھی بدترین رہی۔۔ یہ وجہ تھا کہ خان صاحب نے نومبر 2022 کو زمان پارک میں ایک ملاقات میں مجھے الیکشن لڑنے اور ان کرپٹ لوگوں کو سسٹم سے نکالنے کا کہا تھا، اور خان صاحب نے یہ بھی کہا تھا، کہ ان جیسے لوگوں ٹکٹس دینے پر افسوس ہے ( جس کے گواہ شبلی فراز اور اعظم سواتی صاحب ہے)۔
    پارٹی قیادت اور خاص کر علامہ نور الحق قادری صاحب، جنید اکبر و دیگر سے حلفا پوچھئے کہ 9 مئی سے پہلے خان صاحب نے جن 70 امیدواروں کی لسٹ جاری کرکے انکو ٹکٹس نہ دینے کا کہا تھا اس میں خیبرپختونخوا اور ملاکنڈ ڈویژن کے کون کون لوگ شامل تھے۔۔؟ اگر صابقہ پارلیمنٹیرینز کو ٹکٹس دینے کی بات ہے تو پھر پرویز خٹک اور محمود خان بھی سابقہ پارلیمنٹیرین میں سے ہے۔ اب یہ ڈرامے بلکل چھوڑ دینا چاہئے اور یہ بتائیں کہ کس بنیاد پر پارٹی ٹکٹس جاری ہوئی؟
    میں اللہ تعالٰی کو حاضر ناظر جان کر یہ اقرار کرتا ہوں کہ مجھے اس بات سے دکھ نہیں کہ مجھے ٹکٹ کیوں نہیں ملا۔ مجھے دکھ اس بات کا ہے پارٹی رانگ نمبرز اور ایکٹرز کی ہاتھوں یرغمال ہوچکا ہے۔ مجھے باجوڑ سے ٹکٹ ہولڈرز ( 2 بندو کے علاوہ ) کے کوئی تصویر یا ویڈیو دیکھائے کہ وہ رجیم چینج اپریشن یا 9 مئی کے بعد کونسی مقدمات کا سامنا کیا اور کس جگہ ورکرز کے ساتھ کھڑے رہیں؟ یہ مخصوص ٹولہ اب ٹکٹس کی وقت اچانک کیسے نمودار ہوا؟ بھاڑ میں جائے ہماری مشکلات اور خدمات، بھاڑ میں جائے ٹکٹس۔۔ لیکن یہ بتائیں کہ خان نے کب کہا ہے کہ ایک خاندان میں 2، 2 اور 3، 3 ٹکٹس بانٹے جائے اور وہ بھی ان لوگوں میں جس کو نظریئے کی A, B , C کا بھی علم نہیں ہو۔ میں تو آج بھی فخر کی ساتھ خان کی ساتھ کھڑا ہوں اور پختونخواہ میں سب سے زیادہ مقدمات کا سامنا کیا اور مشکل ترین جیلیں کاٹے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم نے یہ جنگ کس لئے لڑا اور لڑ رہے ہیں؟ اگر خان کیلئے لڑا تو ان لوگوں کو ٹکٹس کیو ں جاری ہوئی جو آج بھی ان لوگوں کے بغل بچے ہیں جن لوگوں نے میرے قائد پر زمین تنگ کیا ہے۔۔۔ خیر کہانی لمبی ہے لیکن میں ان دو شرائط پر اپنی کاغذات نامزدگی( این اے 8، پی کے 22 اور پی 20 سے) سے واپس لوں گا۔
    شرط نمبر 1: کہ برسٹر گوہر، عمیر نیازی یا شیر افضل مروت صاحب اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ بتائیں کہ خان صاحب نے ہی باجوڑ کے ان دو خاندانوں میں 5 ٹکٹس بانٹنے کا کہا ہے۔ اور ٹکٹس کی تقسیم میں ہم نے میرٹ اور انصاف کیا ہے۔
    شرط نمبر 2: باجوڑ میں جن جن کو ٹکٹس ملے ہیں وہ قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر باجوڑ کے نوجوانوں کے ساتھ یہ عہد کریں کہ سیٹس جیتنے کے بعد ہم خان صاحب کے خلاف کبھی نہیں جائیں اور نہ کسی سازش یا فاروڈ بلاک کا حصہ بنیں گے۔
    ان 2 شرائط قبول ہونے کی صورت میں اپنے کاغذات نامزدگی واپس لوں گا۔ بصورت دیگر میں اپنے نظریئے، نوجوانوں کی محنت اور خوابوں پر کسی کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کروں گا۔
    ہاں جہاں تک عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے یا نظریئے کا سوال ہے تو یہ وقت ثابت کرے گا کہ کون کہا کھڑا تھا۔

    عمران خان پائندہ باد ،پاکستان زندہ باد