Baaghi TV

Tag: ریسکیو آپریشن

  • جانے کب ہوں گے کم — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    جانے کب ہوں گے کم — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    دنیا کے کسی بھی علاقےمیں کسی بھی وقت کوئی قدرتی آفت آسکتی ہے لیکن دیگر قدرتی آفات جیسے زلزلہ یا کو ویڈ وغیرہ کے برعکس سیلاب ایسی آفت ہے جسکی اس کے آنے کے وقت سے بہت پہلے بہت واضح انداز میں اور بڑی صحیح صحیح نشاندہی کی جا سکتی ہے۔

    دنیا میں سائنسی ترقی کی وجہ سے ایسے زبردست کمپیوٹر پروگرام بن چکے ہیں کہ جو مستقبل کے بارش اور اس سے آنے والے سیلاب کے زیر آنے والے علاقوں کی بہت ٹھیک ٹھیک نشاندھی کر سکتے ہیں اور یہ ماڈل اس وقت بھی پاکستان کے قومی اور نجی اداروں کے زیر استعمال بھی ہیں۔

    اس سال محکمہ موسمیات پاکستان نے مئی کے شروع میں ہی تباہ کن بارشوں کی پیش گوئی کر دی تھی۔ تحفظ ماحولیات کی وزیر شیریں رحمان نے بھی 19 جون کی پریس کانفرنس میں بالکل واضح انداز میں اس سال غیر معمولی بارشوں کی وجہ سے 2010 کے سیلاب سے بھی بڑا سیلاب آنے کی بات کردی تھی لیکن متعلقہ اداروں کی طرف سے اس آفت سے بچاو کے لئے کوئی خاص عملی اقدامات نہ کئے گئے۔

    مئی سے جولائی تک کے دو مہینے ضائع کر دئے گئے۔ یہ شائد ہماری اس ذہنیت کا شاخسانہ ہے کہ جب سر سے پانی گزرتا ہے تو ہم بیدار ہوتے ہیں اور پھر اگلے پانی تک سو جاتے ہیں۔ غلطی سے سبق نہیں سیکھتے اور ایڈوانس پلاننگ یا وقت سے پہلے تدبیر نہیں کرتے۔

    اور کچھ نہیں تو کچھ سادہ سے طریقوں سے لوگوں کے جانی اور مالی نقصان کو ضرور کم کیا جا سکتا تھا۔ مثلاً

    ۱- مئی میں ہی محکمئہ موسمیات کی وارننگ کے بعد 2010 کے سیلاب زدہ علاقوں کے نقشے کے اندر موجود تمام آبادیوں کے لوگوں کو پرنٹ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے ذریعے محفوظ مقامات پر رضاکارانہ طور پر چلے جانے کے پیغامات نشر کئے جاتے۔ اس طرح کے آگاہی پیغامات کوویڈ کے دنوں میں بہت موثر ثابت ہو چکے ہیں۔

    ۲- نشیبی سیلابی علاقوں میں موجود اونچی محفوظ جگہوں یا آبادیوں کی نشاندہی کرکے وہاں پناہ گاہیں بنانے کی ایسی منصوبہ بندی ہوتی کہ بارش سے سیلاب کی صورت میں چند گھنٹوں میں وہ اپنا کام شروع کر دیتیں اوروہاں انسانوں اور جانوروں کی رسائی آسانی سےممکن ہوتی۔ اس سلسلے میں این ایچ کے روڈ اور سرکاری عمارات کا انتخاب کیا جاسکتا تھا۔

    ۳- ریسکیو آپریشن کے تمام لوازمات مکمل ہوتے ۔ مٹی اور پتھرکی کھدائی کا کام کرنے والی مشینری ان علاقوں میں موجود ہوتی۔ مناسب تعداد میں کشتیاں ، پاور بوٹس اور ہیلی کاپٹر ز کا بندوبست ہوتا۔

    ۴- موبائل فیلڈ ہسپتال اور ڈسپنسریاں کشتیوں پر قائم کر دی جاتیں۔ ویٹنری ڈاکٹر اور موبائل فیلڈ ہسپتال ہوتے۔

    ۵- صاف پانی کے ذرائع کو سیلابی پانیوں سے بچانے کا خصوصی بندوبست ہوتا تاکہ سیلاب کی صورت میں بھی مقامی طور پر پینے کے پانی کا بندوبست ہوتا۔ خشک خوراک کے واٹر پروف پیکٹ تیار ہوتے۔

    ۶۔ سیٹلائٹ ڈیٹا اور پچھلے سیلابوں کے پانی کے راستوں کو دیکھتے ہوئے پانی کے راستوں کی صفائی کر دی جاتی اور تمام پکی رکاوٹوں جیسے سڑک یا غیر قانونی تعمیرات کو کاٹ دیا جاتا۔

    ۷۔ آج بھی متعلقہ محکمے ایک ایپ بنا کر اس پر آج تک کے تمام سیلابی پانیوں کے راستے اور اونچی جگہوں جہاں پر پناہ لی جا سکے ان کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ اسی ایپ میں اوبر کریم طرز پر قریب ترین موجود موبائل ریسکیو یونٹ، فیلڈ ہسپتال، موبائل راشن اور لنگر سپلائی اور ان علاقوں میں کام کرنے والے رضاکارانہ تنظیموں کی لوکیشن ڈال کر بہت سا کام آسان کرسکتے ہیں تاکہ موجودہ آفت کے ساتھ ساتھ آئندہ کے لئے بھی کارآمد رہے۔

    پاکستان میں تمام متعلقہ محکمے روٹین میں ہر سال مون سون کی آمد سے پہلے اپریل یا مئی میں ہی اپنے اپنے مون سون سے نپٹنے کے مقامی پروگرام بنا کر حکومت کو جمع کرواتے ہیں لیکن لگتا ہے اس سال ملک میں اسی دوران جاری سیاسی سرکس کی کی وجہ سے اس روٹین کے کام کو بھی شائد اس کی روح کے مطابق نہیں کیا گیا حالانکہ اس دفعہ روٹین سے ہٹ کر ہنگامی بنیادوں پر کام ہونا چاہئے تھا۔

    بہرحال آفت آچکی ہے اور پانی سر سے گزر چکا ہے۔ عوام جانی اور مالی نقصانات اٹھا چکی ہے اور عمر بھر کے جذباتی صدمات اٹھا رہی ہے۔

    دنیا پاکستان سے افسوس کر رہی ہے اور پاکستانی عوام کی مدد کرنے کو تیار ہے۔

    کیا ہم اگلے سال کی مون سون کے لئے تیار ہوں گے یا حسب عادت سب کچھ بھول کر ایک اور آفت کےآنے تک بے فکر رہیں گے۔

  • کالام اورکمراٹ میں پھنسے ہوئے لوگوں کیلئے ریسکیوآپریشن شروع،  35 افراد کو بچا لیا گیا

    کالام اورکمراٹ میں پھنسے ہوئے لوگوں کیلئے ریسکیوآپریشن شروع، 35 افراد کو بچا لیا گیا

    وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان کے احکامات اور کمشنر ملاکنڈ ڈویژن کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر سوات اور دیر اپر نے کالام اور کمراٹ میں پھنسے ہوئے لوگوں کے لئے ریسکیو شروع کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اب تک کالام اور کمراٹ سے 35 افراد کانجو ائیرپورٹ اور شرینگل یونیورسٹی شفٹ کئے گئے ہیں۔ شفٹ کئے گئے افراد میں بچے اور خواتین شامل ہیں۔

    ملک بھر میں بارش اور سیلاب سے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1 ہزارسے زائد ہو گئی

    دونوں اضلاع میں ہیلی کے ذریعے بیک وقت ریسکیو و ریلیف آپریشن جاری ہے کمراٹ جنگل سے چار خواتین سیاحوں کو ہیلی سروس سے شرینگل یونیورسٹی شفٹ کیا گیا، ڈی سی اپر دیر موقع پر موجود تھے، سیاحوں کو ریسیو کیا-

    کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شوکت علی یوسفزئی کے مطابق سیاحوں کی محفوظ گھروں تک منتقلی ترجیح ہے،مقامی متاثرہ آبادی کو فوڈ اور شیلٹر ہنگامی بنیادوں پر فراہم کررہے ہیں،تحصیل لیول پر فود سٹوریج ہنگامی بنیادوں پر قائم کررہے ہیں-

    آرمی چیف آج سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے

    کمشنر ملاکنڈ ڈویژن کےمطابق ریلیف کے لئے تمام حکومتی مشینری کا استعمال یقینی بنا رہے ہیں،پولیس اور دیگر ادارے ریلیف سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں،منقطع پہاڑی علاقوں میں میڈیسن اور دیگر ضروری اشیاء بھیجے جارہے ہیں-

    شوکت علی یوسفزئی کے مطابق ملاکنڈ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز فیلڈ میں موجود ہیں، تمام ریسکیو و ریلیف اقدامات کی خود نگرانی کررہا ہوں، 132 دیگر پھنسے افراد کو آرمی ریسکیو سروس کے ذریعے محفوظ جگہ منتقل کیا گیا سول اور ملٹری حکام مشترکہ طور پر اقدامات کرہرے ہیں پاک آرمی کی کاوشیں قابل تحسین ہیں-

    لوئر کوہستان: سیلابی ریلے سےشاہراہ قراقرم پر قائم کیہال پل کو خطرہ

  • آئیس لینڈ کےکوہ پیما کےخاندان کی طرف سےریسکیو آپریشن پرپاک فوج ،قوم اور حکومت وقت کا شکریہ:

    آئیس لینڈ کےکوہ پیما کےخاندان کی طرف سےریسکیو آپریشن پرپاک فوج ،قوم اور حکومت وقت کا شکریہ:

    اسلام آباد :گذشتہ سردیوں میں کے ٹو چوٹی سر کرنے کی کوشش کے دوران اپنے دیگر کوپیماء ساتھیوں پاکستان کے علی سدپارہ اور ر جوان پابلوکے ہمراہ اپنی جان سے ہاتھ بیٹھنے والے آئس لینڈ کے کوہ پیماء جان سنوری کی فیملی نے ریسکیو آپریشن پرپاکستانی فوج ، حکومت اورقوم کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا ہے کہ فروری 2021 ءمیں رونما ہونے والے واقعات ہمارے لیے بطور خاندان اور علی سدپارہ اور جوان پابلو کے خاندانوں کے لیےبہت مشکل تھے۔

     

    جان کے کھونے کے بعد سے میں اور بچے جس دکھ کے سفر پر تھے اس کی وضاحت کرنا آسان نہیں ہے۔نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں جان سنوری کی بہنوںکیرن،کرسٹین ، بیٹی ہللا کیرن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے جان سنوری کی اہلیہ لینا موٹ کا کہنا تھا کہ جان اسنوری اور پاکستان کے کوہ پیمائی کے ہیرو اور لیجنڈ مسٹر علی سدپارہ کے درمیان دوستی اتنی مخلص اور مضبوط تھی کہ ہم نے بطور خاندان پاکستان کا دورہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ذاتی طور پر ان لوگوں کا شکریہ ادا کریں جنہوں نے پیشہ ورانہ اور ذاتی طور پر ہمارا ساتھ دیا۔ پاکستان کے حصوں کا دورہ کرناجا ن سنوری کو اتنا ہی پیار اتھا جتنا کہ آئس لینڈ میں اپنے خاص مقامات سے۔ ہم نے یہاں اس امید پر سفر کیا کہ اگر جان کو K2 کی چوٹی کی طرف جانے والے راستے سے اس کے دوست اور کوہ پیمائی کے ساتھی علی اور ان کے کوہ پیمائی ساتھی جوآن پابلو کے قریب ایک آرام گاہ پر لے جانے کا موقع ملے گا۔

    اس طرح کی کارروائی میں حصہ لینے والوں کی حفاظت ہمیشہ ہمارے لیے انتہائی اہمیت کی حامل رہی ہے۔ تاہم آج ہمیں خبر ملی کہ منگما جی کی قیادت میں چار کوہ پیماؤں کی ایک ٹیم K2 کی چوٹی پر دو گھنٹے گزارنے کے بعد اپنی کوشش میں ناکام رہی ہے۔ ہمارے پاس موجود معلومات کی بنیاد پر پہاڑ پر کچھ نئی برف پڑنے سے برفانی تودے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ہم بطور خاندان اس بات کو اجاگر کرنا چاہیں گے کہ جان کو صرف اس انداز میں منتقل کیا جانا چاہیے جو اس میں شامل افراد اور پہاڑ پر دیگر کوہ پیماؤں کے لیے محفوظ ہو۔کو ہ پیماؤں کے طور پر ان کی زندگیاں اور کارنامے منفرد اور ایسے ہیں کہ دونوں قومیں، پاکستان اور آئس لینڈ دونوں ممالک کی کوہ پیمائی اور سرخیل تاریخ کے ذریعے انہیں یاد رکھیں گے۔ ہم ایک خاندان کے طور پر بہت سے لوگوں کی طرف سے زبردست حمایت اور گرمجوشی کے اظہار کے لیے شکر گزار ہیں۔

     

    ہم حکومت پاکستان، پاک فوج کے سربراہ اور 10 کور کے کمانڈر، پاکستان کے دفتر خارجہ، صوبہ گلگت بلتستان کی مقامی حکومت، جناب خالد خورشید وزیر اعلیٰ، جناب راجہ ناصر وزیر سیاحت کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں، جیسمین ٹورز میں مسٹر اصغر، علی سدپارہ کے اہل خانہ اور دوست، پاکستان کے اچھے لوگ، مقامی اور بین الاقوامی میڈیا ان کی مسلسل حمایت کے لیے۔ ہم اسکردو کے مقامی فوجی کمانڈروں اور پائلٹوں کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں جنہوں نے تلاشی مشن کی قیادت کی،پاکستان ہمیشہ میرے دل میں اور ہمارے بچوں کے دلوں میں رہے گا اور اس طرح ہم چند سالوں میں واپس آنے کا ارادہ رکھتے ہیں جب بچے بڑے ہو جائیں گے اور K2 بیس کیمپ تک ایک خاندان کے طور پر ساتھ چلیں گے۔

  • لاہور، سروبہ گارڈن حادثہ پیش آ گیا ، ریسکیو آپریشن جاری

    لاہور، سروبہ گارڈن حادثہ پیش آ گیا ، ریسکیو آپریشن جاری

    لاہور:ملبے سے ایک خاتون اور لڑکی کو زندہ ریسکیو کر لیا گیا ہے، نازیہ بی بی اور 8 سالہ لڑکی کو لاہور جنرل ہسپتال منتقل کردیا گیا.ریسکیو آپریشن میں 20 ریسکیور اور 6 ایمرجنسی وہیکل حصہ لے رہی ہیں، رہائشی لوگوں کے مطابق ایک یا 2 بچے ابھی ملبے تلے موجود ہیں، گرنے والے مکان میں ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا، ملبے سے 5 لوگوں کو ریسکیو کیا گیا، نازیہ عمر 35 سال، نیہا عمر 17 سال، رونی 10 سال، زوہی 2 سال کو زندہ ریسکیو کیا گیا، زین (عمر3.5 سال ) ملبے میں دبنے سے جاں بحق ہو گیا، تمام مریضوں کو ہاسپٹل منتقل کر دیا گیا ہے، زخمی بچوں کو چلڈرن ہاسپٹل شفٹ کردیا گیا، ریسکیو آپریشن میں 20 ریسکیور اور 6 ایمرجنسی وہیکل نے حصہ لیا.