نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمد اعظم خان نے صوبے میں جانی و مالی نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا ہےوزیر اعلی نےجاں بحق افراد کی معفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا، اور جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اوردلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے
متاثرین کے دکھ درد میں برابر کے شریک ہیں، اس حوالے سے وزیر اعلی کا چیف سیکرٹری اور متعلقہ ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے ساتھ رابطہ ہوا ہے جس میں متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی کارروائیاں شروع کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہیں متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیاں بغیر کسی تاخیر کے شروع کی جائیں، وزیر اعلی اعظم خان نےمتاثرہ آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور انہیں فوری ریلیف فراہم کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کا حکم دیا ہیں، اور اس مقصد کے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں، محمد اعظم خان نے کہا ہیں کہ نگران صوبائی حکومت مشکل کی اس گھڑی میں متاثرین کے ساتھ ہیں، متاثرین کو ریلیف اور امداد کی فراہمی کے لئے ہر ممکن اقدامات اُٹھائے جائیں گے، وزیر اعلی نے مزید کہا تمام اضلاع میں ہونے والی جانی و مالی نقصانات پر دلی افسوس ہوا، لہذا صوبائی حکومت متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی۔ وزیر اعلی کی محکمہ صحت کے حکام کو متعلقہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے اور زخمیوں کو بروقت طبی امداد کی فراہمی یقینی کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں، دوسری جانب خیبرپختونخوا میں طوفانی بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، اور وزیر اعظم کو بنوں اور لکی مروت کی صورتحال سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے صورتحال سے نمٹنے کیلئے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اور این ڈی ایم اے حکام کو ہنگامی اقدامات کرنے کی ہدایت کی، زاہد اکرم درانی نے شہباز شریف سے شہداء اور زخمیوں کیلئے وزیراعظم پیکیج کے تحت مالی امداد کا مطالبہ کیاہیں،
Tag: ریسکیو 1122

کے پی کے نگران وزیر اعلیٰ کی طوفانی بارشوں سے متاثرہ عوام کے ساتھ اظہار ہمدردی

ننکانہ : ریسکیو اہلکاروں کا ماہانہ فزیکل ٹیسٹ لیا گیا
ننکانہ صاحب باغی ٹی وی( نامہ نگار احسان اللہ ایاز)پنجاب ایمرجنسی سروس ڈیپارٹمنٹ ریسکیو 1122ضلعی ہیڈ کوارٹر ننکانہ صاحب کی جانب سے تمام ریسکیو اہلکاروں کے لئے گورنمنٹ گورو نانک ہائی سکول ننکانہ صاحب کے گراؤنڈ میں ماہانہ فزیکل فٹنس ٹیسٹ کا انعقاد کیا جس کی قیادت ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو1122محمد اکرم پنوار نے کی۔فزیکل ٹیسٹ میں تمام ریسکیو افسران اور ریسکیو اہلکاروں نے بھر پور حصہ لیا فزیکل ٹیسٹ میں ایک میل کا فاصلہ 7 منٹس میں طے کرنے کے ساتھ ساتھ جسمانی مشقیں بھی پاس کرنا تھا اس موقعہ پر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر محمد اکرم پنوار کا کہنا تھا کہ فزیکل ٹییسٹ منعقد کروانے کا مقصد ریسکیو اہلکاروں کو جسمانی طور پر فٹ رکھنا ہے تا کہ حادثات میں درپیش خطرات کو خندہ پیشانی سے ڈیل کیا جا سکے اور متاثرہ لوگوں کی موؑثر انداز میں مدد کی جا سکے انہوں نے مزید کہا کہ ریسکیو اہلکار کٹھن حالات میں اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر مشکل میں گھرے لوگوں کی مدد کرتے ہیں اور ان کو ریلیف فراہم کرتے ہیں اس صورتحال میں اگر ریسکیو اہلکار جسمانی طور پر فٹ نہیں ہوں گے تو وہ دوسروں کی مدد کی بجائے خود حادثے کا شکار ہو جائیں گے اس لیے ریسکیورز کا ہر لحاظ سے فٹ رہنا ضروری ہے


مستقبل کے عارضی مستقل شہر — انجنئیر ظفر اقبال وٹو
آپ نے ملک بھر کے سیلاب زدہ علاقوں میں سیلابی پانیوں سے گھری قدرے محفوظ جگہوں پر مختلف اداروں کی طرف سے قائم خیمہ بستیاں دیکھی ہوں گی۔یہی ہمارے مستقبل کے عارضی مستقل شہروں کی لوکیشن ہے۔قدرت نے ہمارا کام آسان کردیا ہے۔
تمام موسمیاتی اور ماحولیاتی گُرو بتا رہے ہیں کہ پاکستان میں بڑے سیلاب جو پے چار پانچ سال کے وقفے سے آتے تھے اب ہرسال آئیں گے اور اسی طرح زور آور آئیں گے۔ لہذا بچت اب اس سیلابی صورت حال کے مطابق ڈھل جانے والی تدبیر اپنانے کی ہے۔
قدرتی آفات کی روک تھام کے ادارے NDMA کو ملک کے سیلاب زدہ علاقوں میں قائم ان خیمہ بستیوں کی جگہوں پر باقاعدہ طور پر مون سون سیزن کے لئے مستقل طور پر محفوظ عارضی پناہ گاہیں بنا دینی چاہئیں۔
حج کے دوران منی میں قائم عارضی خیمہ بستی شہر کا ماڈل اس کام کے لئے سامنے رکھا جا سکتا ہے جہاں ہر سال بیس سے پچیس لاکھ لوگوں کے پانچ روزہ قیام کے لئے زبردست بندوبست ہوتا ہے۔
بیماری سے پہلے احتیاط کے اصول پر سیلابی موسم سے پہلے محفوظ خیمہ بستیوں میں عارضی ہجرت سے جانی و مالی نقصانات، بیماریوں ، حادثات اور کرب سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے۔ الخدمت جیسی فلاحی تنظیم اس وقت تن تنہا سیلاب زدہ علاقوں میں 40 سے زیادہ خیمہ بستیاں چلا رہی ہے جہاں کھانے پینے، علاج معالجے اور بنیادی طبی امداد کا بندوبست ہے۔اللہ اکبر اور دیگر بہت سی اور فلاحی تنظمی بھی میدان عمل میں ہیں جنہیں اعتماد میں لے کر NDMA بڑے پیمانے پر لوگوں کو سیلابی موسم میں عارضی پناہ گاہوں میں ہجرت پر آمادہ کر سکتا ہے۔
اس سلسلے میں نادرہ کی مدد سے ان خیمہ بستیوں میں مقیم لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کرکے اگلے سال کے لئے ان کے خاندان اور جانوروں کی ضرورت کی جگہ ان خیمہ بستیوں میں ابھی سے الاٹ کی جاسکتی ہے۔ جو لوگ عارضی ہجرت میں تعاون کریں انہیں بھرپور سپورٹ کی جائے۔
بہت سی فلاحی تنظیمیں لوگوں کے گھروں کی بحالی پر بھی بڑی تیزی سے کام کر رہی ہیں جوکہ شائد اگلے سیلاب میں پھر گر جائیں گے۔ لہذا ضرورت ہے کہ اب سیلابی پانی سے بچاو کرنے والے گھر بنائے جائیں جوکہ سیلابی پانی کے لیول سے اونچے ہوں۔ اس سلسلے میں بنگلہ دیش اور مالدیپ جیسے ملکوں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ کم ازکم تمام حکومتی اداروں (سکول، ہسپتال۔ دفاتر) کی عمارتیں تو ضرور اس ڈیزائن پر بنائی جائیں جن میں سیلاب کے دوران ایمرجنسی طور پر پناہ لی جا سکے۔ ان عمارتوں کو چھتیں پیدل چلنے والوں کے لئے پل بنا کر آپس میں جوڑ دی جائیں۔
اس سال سیلاب کے گندے پانی کو پینے کے قابل بنانے والے بہت سے مقامی فلٹر پلانٹ سامنے آئے ہیں جنہیں بھر ہور سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔خشک خوراک اور ادویات کے واٹر پروف پیکٹ اور تین چار کلومیٹر رینج میں ڈرون سے اون سپاٹ ڈیلیوری بھی کی جا سکتی ہے۔
این ڈی ایم اے ، PDMA , ریسکیو 1122 اور اس جیسے دوسرے اداروں کے ذریعے مقامی لوگوں کو ایمرجنسی طور پر تیراکی، کشتی بنانے اور ڈوبتے کو ریسکیو کرنے کی تربیت دینی چاہئے۔ ان علاقوں کے اسکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹی کے طلبا پر ان مہارتوں کو سیکھنا لازمی ہواور این سی سی کی طرح اس کے نمبر ان کے ایف ایس سی کے رزلٹ یا یونیورسٹی کے داخلے میں شامل ہوں۔
خیمہ بستی والی اونچی جگہوں پر ایمرجنسی میں چند گھنٹے کے نوٹس پر خیمہ بستی قائم کرنے کا بندوبست، خوراک ادویات اور مشینری وقت سے پہلے موجود ہو۔ اس سکسلے میں ایک مرتبہ پھر الخدمت پہل کرلے تو دوسروں کے لئے بھی ایک مثال قائم ہوجائے گی۔
سیلابی صورت حال سے وقت سے پہلے آگاہ کرنے اور اس سے بچاو کے لئے راہنمائی کرنے والی ایپ اب بہت ضروری ہے جس میں تمام نشیبی علاقوں اور پناہ گاہوں کی نہ صرف نشاندہی ہو بلکہ اس علاقے میں کام کرنے والی تمام فلاحی تنظیموں اور محکموں کی معلومات اور آن لائن روابط ہوں اور ریسکیو کے لئے موجود لوگوں اور کشتیوں کی لوکیشن اوبر اور کریم طرز پر آرہی ہو اور قریب ترین کشتی کو بلا کر ریسکیو کیا جائے۔ اس سلسلے میں کسی بھی مناسب پروپوزل کو گوگل میپ، اوبر ، کریم اور فیس بک یقیناً سہورٹ کریں گے اور اپنے اپنے پلیٹ فارم پیش کریں گے۔
کیا ہم آنے والے کل کے لئے تیار ہونا چاہتے ہیں؟

وزیراعلیٰ پنجاب کا ریسکیو 1122 کا دائرہ کار مزید بڑھانے کا فیصلہ
لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی نے ریسکیو 1122 کا دائرہ کار مزید بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے اس ضمن میں تمام تحصیلوں میں ریسکیو1122 کو توسیع دینے کی منظوری دے دی گئی ہے-
باغی ٹی وی : وزیر اعلی پرویز الہٰی کا کہنا ہے کہ رواں برس پنجاب کی مزید 86 تحصیلوں میں ایمرجنسی سروس کا دائرہ کاربڑھایا جائے گا، حکومت ایمرجنسی سروس کی توسیع پنجاب کی تمام تحصیلوں تک کرے گی-
بلوچستان میں سیلاب،وزیراعظم کا جاں بحق افراد کے لواحقین کو10لاکھ دینے کا اعلان
انہوں نے کہا کہ موٹر بائیک ریسکیو سروس کا دائرہ کار رواں برس پنجاب کے مزید 27 اضلاع تک بڑھا یاجائے گا، پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 صوبے کا قابل قدر او رباعث فخر ادارہ ہے۔
قبل ازیں وزیراعلی نے ڈیرہ غازی خان، راجن پور، مظفر گڑھ اور میانوالی کے سیلاب متاثرین کے لئے مالی امداد کااعلان کیا تھا وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے کہا تھا کہ پنجاب حکومت سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین کو 8،8لا کھ روپے مالی امداد دے گی، گھروں، فصلوں او رمویشیوں کے نقصانات کا تخمینہ لگا کر متاثرہ افراد کی مالی معاونت کی جائے گی، سیلاب متاثرہ علاقوں میں سب سے پہلے ریسکیو 1122کا عملہ پہنچا۔
چودھری پرویز الٰہی کا سیلاب متاثرین کے لئے مالی امداد کااعلان
وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے متاثرہ علاقوں میں سڑکوں کی جلد تعمیر ومرمت کاحکم دیاتھا ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں کی بحالی کا کام جنگی بنیادوں پر شروع کیاجائے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں میڈیکل کیمپس لگانے کی ہدایت بھی کی.
چودھری پرویز الٰہی کا کہنا تھا کہ میڈیکل کیمپس میں سیلاب متاثرین کو وبائی امراض سے بچاؤ کی ویکسین بھی لگائی جائے، سانپ کاٹنےاور ہیضہ سے بچاؤ کی ادویات میڈیکل کیمپس میں دستیاب ہونی چاہئیں، سیلاب متاثرین میں خشک راشن تقسیم کیاجائے، ڈی واٹرنگ پمپس کے ذریعے سیلابی پانی کی نکاسی کو یقینی بنایا جائے-
سکھر بیراج سے مزید 12 لاشیں برآمد

وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں ریسکیو 1122 ایمبولینس سروس کا افتتاح کردیا
کراچی : وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں ریسکیو 1122 ایمبولینس سروس کا افتتاح کردیا۔
باغی ٹی وی : وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے ایم سی اسپورٹس کمپلیکس پہنچے جہاں انہوں نے ایمبولینس سروس ریسکیو 1122 کا افتتاح کیا ورلڈ بینک کے ڈائریکٹر نے وزیراعلیٰ سندھ کو ایمبولنس کی چابی پیش کی، ان کے ہمراہ وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچوہو اور دیگر بھی موجود تھے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ایمبولینس سروس ریسکیو 1122 کراچی کے علاوہ جلد ہی دیگر شہروں میں بھی مرحلہ وار شروع کریں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھاکہ آج سے 50 ایمبولینسز سڑکوں پر ہوں گی اور یہ تعداد 233 تک بڑھائی جائے گی پولیس، ایمبولینس اور فائر بریگیڈ سروس کو یکجا کیا جارہاہے۔
ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ 1122 پر فون کرنے پر ہماری ٹیم مکمل مدد فراہم کرے گی، کسی بھی ایمرجنسی میں اس سروس کو استعمال کیا جاسکے گا۔
مراد علی شاہ نے کہاکہ کراچی کی 2 کم عمر بچیوں نےپنجاب میں جاکر شادی کی، ایک کو کل کورٹ میں پیش کیا گیا دوسری بچی دعا زہرا کو پیش نہ کرنے پر عدالت نے آئی جی سندھ کو ہٹانے کا کہاہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں لیکن نامناسب فیصلہ تھاعدالت کو پتہ ہونا چاہیئے کہ آئی جی تقرری وفاق کی مشاورت سے ہوتی ہے، ہم نے سنئر ترین افسرکو قائمقام آئی جی سندھ لگایامستقل آئی جی لگانےکیلئے وفاق سے بات چل رہی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے صحت مند ہوں، مجھےکوئی تکلیف نہیں ، علاج کیلئے امریکا نہیں گیا تھا، ورلڈاکنامکس فورم میں شرکت کیلئے گیا تھا، پہلی مرتبہ ڈیوس کانفرنس میں کسی صوبے کو مدعو کیا گیا تھا، ایپکس کمیٹی قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کیلئے بنی تھی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ سندھ کےعوام کے حق کی بات کرتے رہیں گےہم نے کراچی میں جمہوری احتجاج پر اعتراض نہیں کیا تاہم اشتعال انگیزی کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جاسکتی، سندھ کا بجٹ 14 جون کو پیش کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی میں ریسکیو1122 سینٹر کا افتتا ح کردیا
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں ریسکیو1122 سینٹر کا افتتا ح کردیا
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ریسکیو1122سینٹر کا قیام اہم تھا،امیدہے سروس سے شہری مستفید ہوں گے،شہریوں کو سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے،پیپلزپارٹی قیادت کا ویژن عوام کی خدمت ہے،آج سے ریسکیو1122کی 50ایمبولینسز سڑکوں پرہوں گی جدید ایمبولینسزاورتربیت یافتہ اسٹاف کے ساتھ سروس کا آغاز کردیا گیا۔جلد سندھ کے بڑے شہروں میں یہ سروس شروع کی جائے گی۔ہم نے قائم مقام آئی جی لگا یا ہوا ہے،عدالتی فیصلوں کا احترام کرتے ہیں ہائی کورٹ کے تمام احکامات کو عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، آئی جی کی تقرری وفاقی حکومت کی مشاورت سے کی جاتی ہے،آئی جی سندھ کے تقرری کے لیے وفاقی حکومت سے مشاورت جاری ہے سندھ میں پانی کی کمی اورزرعی مسائل کا سامنا ہے عوام کاتحفظ یقینی بنانے کیلئے اقدامات کررہے ہیں
دعا زہرہ نہیں ملی بلکہ صرف نکاح نامہ ملا،پولیس
میں کئی دن سے سوئی نہیں،دعا زہرا کی والدہ کا ویڈیو پیغام
کراچی سے لاپتہ ہونے والی لڑکی دعا زہرہ کا ویڈیو بیان منظرعام پرآگیا
دعا زہرہ نے نکاح کے بعد والد کے خلاف استغاثہ دائر کردیا۔
دعا زہرا کے نکاح نامے پر لکھے پتے پر کون مقیم ؟دعا گھر سے کیسے نکلی تھی
نکاح نامے پر غلط پتہ،پولیس پھر دعا زہرہ تک کیسے پہنچی؟
کراچی سے بھاگ کر شادی کرنیوالی دعا زہرا کو عدالت نے بھی بڑا حکم دے دیا

سندھ حکومت کا ریسکیو 1122 سروس شروع کرنے کا فیصلہ
سندھ حکومت نے اگلے چند ہفتوں میں ایمرجنسی رسپانس سروس شروع کرنے کا اعلان کردیا۔
باغی ٹی وی : حکومتی ذرائع کے مطابق عالمی بینک سے لیے گئے 7 کروڑ ڈالرز قرض سے ریسکیو 1122 شروع کی جائے گی ریسکیو 1122 کا کام صوبائی ڈسزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ذریعے کیا جا رہا ہے-
صحرائے چولستان میں شدید گرمی،تالاب خشک ہوگئے،پینے کا پانی نایاب،درجنوں بھیڑیں مر گئیں
ذرائع کا کہنا ہے کہ دو سو اٹھاسی نئی ایمبولینس آگئيں ہیں ایمبولنسز آئندہ ہفتے محکمہ صحت کے سپرد کی جائیں گی جبکہ ریسکیو 1122 کے تحت ایمبولنس سروس امن فاونڈیشن اور فائر بریگیڈ محکمہ بلدیات کے زیر انتظام کام کرے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں پی ڈی ایم اے کی مشینری اور عملہ طلب کیا جائے گا جبکہ ریسکیو 1122 کے ریجنل دفاتر تمام ڈویژنل ہیڈکوارٹرز میں قائم ہوں گے کراچی میں ریسکیو 1122 کے پانچ دفاتر قائم ہوں گے۔
آٹے اور چینی کی قیمتیں کم گھی پر سبسڈی دینے کا فیصلہ
اس کے علاوہ سندھ حکومت نے کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کے تحت شہر کے2 ہزار مقامات پر 10 ہزار کیمرے لگانے کی منظوری بھی دے دی ہے مذکورہ کیمرے شمسی توانائی سے چلیں گے۔ٕ
واضح رہے کہ گزشتہ برس پنجاب ایمرجنسی سروس بل کے تحت ریکسیو 1122 کو خود مختار ادارہ بنا دیا گیا تھاجسے ڈویژن اور ضلع کی سطح پر ایمرجنسی آفیسر کی تعیناتی کا اختیار بھی ہوگا پنجاب اسمبلی کا اجلاس اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی کی زیر صدارت ہوا تھا جس میں صوبائی ایمرجنسی سروس کا ترمیمی بل 2021 کثرت رائے سے منظور کیا گیا تھا-
گورنر پنجاب کو عہدے سے ہٹانے کے معاملے پر اٹارنی جنرل کا ردعمل

پنجاب میں ایک روز میں 925 ٹریفک حادثات ،7 اموات،964 زخمی
پنجاب میں ایک روز میں 925 ٹریفک حادثات ،7 اموات،964 زخمی
پنجاب ایمرجنسی سروس نے گذ شتہ 24گھنٹوں کے دوران پنجاب بھر میں 925ٹریفک حادثات پر ریسپانڈ کیا جس میں 595 افراد شدید زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر نزدیکی ضلعی اور تحصیل کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔369معمولی زخمی لوگوں کو ریسکیومیڈیکل ٹیمز کی جائے حادثہ پر بروقت طبی امداد فراہم کرنے کی وجہ سے ہسپتالوں پر بوجھ بھی کم ہوا۔ان حادثات میں زیادہ تر تعداد (71فیصد)موٹر سائیکلز حادثات کی ہے اس لیے وقت کی ضرورت ہے کہ روڈ ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح کو کم کرنے کے لیے ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے اوراولین کے نظم و ضبط کا خیال رکھیں۔ اعداد و شمار کے مطابق ریسکیو 1122کے صوبائی مانیٹرنگ سیل کو موصول ہونے والی ایمرجنسی کالز کے مطابق ان ٹریفک حادثات 480ڈرائیوز،کم عمرڈرائیور30مسافر399اور92پیدل چلنے والے افراد متاثر ہوئے۔اعدادو شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ234ٹریفک حادثات کی فون کالز لاہور کنٹر ول روم میں موصول ہوئیں، جن میں صوبائی درالحکومت 232 متاثرین کے ساتھ پہلے فیصل آباد58حادثات میں 67 متاثرین کے ساتھ دوسرے اورملتان58 حادثات میں 59متاثرین کے ساتھ تیسرے نمبرپررہا۔
واضح رہے کہ ان ٹریفک حادثات کے کل971متاثرین میں 792مرد اور179خواتین شامل ہیں جبکہ زخمی ہونیوالوں میں 168 فراد کی اوسط عمر18سال سے کم اور492افراد کی اوسط عمر 18سے 40سال کے درمیان جبکہ 311 زخمی افراد کی اوسط عمر 40سال سے زائد ہے۔ان ٹریفک حادثات کے بیشتر واقعات میں 846موٹر سائیکلز،72آٹو رکشے104موٹر کاریں، 25 وین06مسافربسیں،42ٹرک اور89دوسری اقسام کی گاڑیاں شامل ہیں۔
سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار
سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام
میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی
صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا
سپریم کورٹ نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کا نوٹس لے لیا
کسی کی اتنی ہمت کیسے ہوگئی کہ وہ پولیس کی وردیوں میں آکر بندہ اٹھا لے،اسلام آباد ہائیکورٹ
اتھارٹی بننے سے ہی حقوق کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے؟ فیصل جاوید صحافیوں کے حق میں بول پڑے

مسافر کوچ اور ٹرک کے درمیان خوفناک تصادم، 12 مسافر زخمی، 2 جاں بحق
پنجاب کے شہر مظفرگڑھ میں علی پور روڈ، حاجی واہ کے قریب تیز رفتار مسافر کوچ اور ٹرک کے درمیان خوفناک تصادم ہوا جس کے نتیجے میں خواتین سمیت 12 مسافروں کے زخمی ہونے کی اطلاع سامنے آ ئی ہے-
ریسکیو 1122 کے مطابق دو مسافر جاں بحق ہوگئے ہیں، جائے وقوعہ پر ریسکیو آپریشن جاری ہے، ریسکیو ترجمان کے مطابق مظفرگڑھ میں یہ حادثہ تیز رفتاری سے اوور ٹیک کرنے کے باعث پیش آیا۔ مسافر کوچ علی پور سے لاہور جا رہی تھی۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 مظفرگڑھ کی چار ایمبولینسز اور ریسکیو وہیکل نے جائے حادثہ پر بروقت رسپانس دیا اور فوری ریسکیو آپریشن جاری کرتے ہوئے زخمیوں کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال مظفرگڑھ منتقل کیا جا رہا ہے۔

705310 کالز موصول ہوئیں
قصور
سال 2020 میں 22101ایمرجنسی متاثرین کو ریسکیو کیا گیا،انجینئر سلطان محمود
قصور
تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسرانجینئر سلطان محمودنے ریسکیو 1122قصور کی سالانہ کارگردگی رپورٹ جاری کرتے ہوئے میڈیا نمائندگان کوبتایاکہ گزشتہ سال ریسکیو کنٹرول روم کو 705310 کالز موصول ہوئیں جن میں سے 20713 ایمر جنسی کالز تھیں جبکہ غیر ضروری اور غیر متعلقہ کالز کی تعداد 619763 تھی معلومات کے حصول کے لیے31443 کال موصول ہوئیں رانگ کالز14847کی گئیں 2428 جھوٹی کالز کی گئی جبکہ کسی بھی جھوٹی کال پر ریسپانس نہیں کیا گیا ریسکیو1122قصور نے سال2020میں 20713 ریسکیوآپریشن سرانجام دیئے جس میں روڈٹریفک حادثات کی تعداد8256رہی،میڈیکل ایمرجنسی کی تعداد 9094رہی،آگ لگنے کے414واقعات رونماہوئے،لڑائی جھگڑے کے653واقعات ہوئے،عمارتیں گرنے کے45واقعات ہوئے،پانی میں ڈوبنے کے 27واقعات ہوئے ہوا اس کے علاوہ2124مختلف قسم کے واقعات ہوئے ان حادثات میں میں 22101ایمرجنسی متاثرین کو ریسکیو کیا گیا گزشتہ سال18099مریضوں کواسپتال منتقل کیا۔3359افرادکو موقع پر طبی امداد دی گئی جبکہ643افراد مختلف حادثات میں جابحق ہوئے اس دوران ریسکیو1122قصور کا اوسط ریسپانس ٹائم سات منٹ رہا









