Baaghi TV

Tag: ریسکیو

  • پشاور شہر میں 24 گھنٹوں کے دوران 11 ٹریفک حادثات ہوئے،ریسکیو 1122

    پشاور شہر میں 24 گھنٹوں کے دوران 11 ٹریفک حادثات ہوئے،ریسکیو 1122

    پشاور شہر اور مضافات میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مختلف نوعیت کے 131 واقعات رونما ہوئے، ترجمان ریسکیو1122 نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر نوید خان کی سربراہی میں پشاور نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 11 ٹریفک حادثات اور 1 آگ لگنے کے واقعے میں پیشہ وارانہ خدمات فراہم کیں، ٹریفک حادثات کے دوران 17 افراد زخمی، ٹریف حادثات قمردین گھڑی، رنگ روڈ چوک، بڈھ بیر چمکنی، خزانہ روڈ اور مختلف مقامات پر رونما ہوئے۔ جبکہ کہ پشاور شہر میں آگ لگنے کا واقعہ حیات آباد میں بجلی کے پل پر پیش آیا ، ریسکیو1122 فائر فائٹرز نے پیشہ وارانہ امدادی سرگرمیاں کرتے ہوئے مزید نقصانات سے بچاتے ہوئے آگ پر قابو پایا۔4 لڑائی جھگڑے کے دوران گولی لگنے کا واقعے پیش آئے اور حالیہ بارش کی وجہ سے 7 مختلف مقامات پر لوگوں کے گھروں اور مارکیٹوں سے بارش کا پانی نکالنے میں ریسکیو 1122 نے خدمات سرانجام دیں۔

  • پشاور رنگ روڈ پر گاڑی بے قابو ہو گئی

    پشاور رنگ روڈ پر گاڑی بے قابو ہو گئی

    پشاور رنگ روڈ پرائم ہسپتال کے قریب گاڑی بے قابو ہو کر سڑک کنارے نیچے کھائی میں گر گئی.حادثے میں ڈرائیور معمولی زخمی ہو گیا،
    پشاورریسکیو 1122 کو اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل اور ریکوری ٹیمیں موقعے پر پہنچ گئ۔ریسکیو 1122 کی ڈیزاسٹر ٹیم نے پیشہ وارانہ مہارت سے گاڑی کو کھائی سے نکال کر مالکان کے حوالہ کر دیا۔بروقت کارروائی اور پیشہ ورانہ مہارت پر علاقائی لوگوں نے ریسکیو 1122پشاور کی کارکردگی کو سراہا ۔جبکہ ڈرائیور کو طبی امداد فراہم کر دی گئی،

  • کوہ پیما کو ریسکیو کرنے کے لیے ہیلی مشن شروع

    کوہ پیما کو ریسکیو کرنے کے لیے ہیلی مشن شروع

    اسلام آباد یونیورسٹی کے پروفیسر اور پاکستان کے کوہ پیما آصف بھٹی نانگا پربت چوٹی سر کرنے کے مشن کے دوران برف کے اندھے پن میں مبتلا ہو گئے جبکہ کوہ پیما کو ریسکیو کرنے کے لیے ہیلی مشن شروع کردیا گیا ہے، آصف بھٹی نامی کوہ پیما 7500 میٹر کی بلندی پر نانگا پربت پر پھنسے ہیں۔ وہ برف کے اندھے پن کا شکار ہوئے اور خود نیچے اترنے سے قاصر ہیں۔

    شمشال میں قراقرم مہم کے کوہ پیماؤں کا ایک گروپ اس کی مدد کے لیے ایک ریسکیو مشن کی تیاری کر رہا ہے جبکہ وہ فی الحال انہیں اعلیٰ کیمپوں تک پہنچانے کے لیے ہیلی کاپٹروں کا انتظار کر رہے ہیں۔ تاہم خیال رہے کہ اسی مہم کے دوران دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی نانگا پربت سر کرنےکی کوشش میں ہسپانوی سیاح چل بسا ہے۔ ہسپانوی سیاح کی موت دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    انسانی اسمگلرز کے بینک اکاؤنٹس منجمد
    معروف پروفیسر بلقیس ملک سپردخاک

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے نو ماہ میں 3 ارب ڈالر ملیں گے. وزیر اعظم
    امریکا کے شہر ہیوسٹن میں پہلی عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد
    کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لئے پشاور پولیس کا موک ایکسر سائز جاری
    جبکہ واضح رہے کہ 8126 میٹر بلند نانگا پربت دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی ہے جسے گزشتہ روز پاکستان کی خاتون کوہ پیما نائلہ کیانی نے سر کیا ہے، وہ نانگا پربت سر کرنے والی پہلی پاکستانی کوہ پیما بن گئی ہیں۔ نائلہ کیانی کے علاوہ ثمینہ بیگ اور دیگر پاکستانی کوہ پیماؤں نے بھی نانگا پربت سر کیا۔

  • سوات،ایک ماہ میں 116 ٹریفک حادثات ،24 آتشزدگیاں، 24 گولی لگنے کے واقعات

    سوات،ایک ماہ میں 116 ٹریفک حادثات ،24 آتشزدگیاں، 24 گولی لگنے کے واقعات

    ریسکیو 1122 سوات نے جون کے مہینے میں مجموعی طور پر 1086 ایمرجنسیز میں عوامی خدمات سر انجام دیئے

    ریسکیو 1122 سوات کی ترجمان شفیقہ گل کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ریسکیو 1122 سوات نے گزشتہ مہینے مجموعی طور پر 1086 مختلف نوعیت کے ایمرجنسیز میں خدمات سر انجام دیئے جس میں سب سے زیادہ خدمات طبی شعبے میں دی گئی جنکی تعداد 868 ہیں۔اس کے علاوہ 116 ٹریفک حادثات ، 24 آتشزدگیاں، 24 گولی لگنے اور تشدد کے واقعات، 3 پانی میں ڈوبنے کے واقعات ، اور 51 دیگر متفرق واقعات میں خدمات سرانجام دئیے۔

    ریسکیو 1122 سوات نے مجموعی طور پر 1043 افراد کو بچایا جن میں 950 افرادکو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا اور 93 افراد کو موقع پر ہی طبی سہولیات فراہم کر دی جبکہ 11 افراد موقع پر ہی مختلف حادثات میں جانبحق ہو گئے تھے۔ریسکیو 1122 کی روزمرہ ایمرجنسیز کے علاوہ محکمہ صحت کے ایمبولینس سروس میں بھی جون کے مہینے میں 393 تک مریضوں اور زخمیوں کو ضلعے کے مختلف ہسپتالوں سے دوسرے ہسپتالوں کو منتقل کر دیئے گئے، جن میں 374 مریضوں کو ضلع کے اندر جبکہ 19 مریضوں کو ضلع سے باہر کے ہسپتالوں میں منتقل کر دیے گئے۔

    ‏‎ ڈائریکٹر جنرل خیبر پختونخوا ڈاکٹر خطیر احمد کی ہدایت پر اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی افیسر سوات ملک شیر دل خان کی سربراہی میں ریسکیو 1122 سوات 24 گھنٹے عوام کی ہر قسم ممکنہ خدمات کے لئے تیار ہیں۔ خیبر پختونخوا ایمرجنسی ریسکیو سروس 1122 کی بین القوامی معیار کے تربیت یافتہ ریسکیورز جو کہ ہرقسم حادثاتی اور امدادی واقعات میں استعمال ہونے والے مکمل مشینری سے لیس ہے ہر قسم حالات سے نمٹنے کے لئے چاق و چوبند حاضر خدمت ہیں۔

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    زمان پارک کی جادوگرنی، عمران پر دس سال کی پابندی حسان نیازی کہاں؟ پتہ چل گیا

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اورامریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

  • پشاور کوہاٹ روڈ گیس لیکج دھماکہ،3 بچے جانبحق والدین زخمی

    پشاور کوہاٹ روڈ گیس لیکج دھماکہ،3 بچے جانبحق والدین زخمی

    پشاور کے علاقے کوہاٹ روڈ پر ایک گھر میں گیس لیکج دھماکے کے باعث مکان کی چھت منہدم ہو گئی جس کے نتیجے میں 3 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں اور 2 افراد زخمی ہیں۔ریسکیو 1122 کے مطابق کنٹرول روم کو اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل اور ڈیزاسٹر ریسکیو ٹیم موقع پر پہنچ گئیں اور سرچ آپریشن کے دوران ملبے تلے سے 5 افراد کو نکالا گیا۔ریسکیو 1122 نے بتایا کہ حادثے میں زخمی ہونے والے میاں بیوی مرنے والے بچوں کے والدین ہیں۔
    ریسکیو اہلکاروں نے زخمی ہونے والوں اور میتوں کو اسپتال منتقل کر دیا۔ ڈائریکٹر جنرل ریسکیو1122 ڈاکٹر خطیر احمد خود موقع پر آپریشن کی نگرانی کے لیے موجود رہے۔ریسکیو1122 کی 8 ایمبولینسز، 3 ریسکیو وہیکلز اور 72 ریسکیو اہلکاروں نے آپریشن میں حصہ لیاجاں بحق ہونے والوں میں زنیرہ عمر 8 سال، احمد عمر 4 سال، جلیل عمر 3 سال شامل ہیں جبکہ زخمی ہونے والے شخص کی شناخت شہزاد کے نام سے ہوئی ہے اور ان کی اہلیہ بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔

  • زمین کا تنازعہ پر چچا زاد بھائی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن گئے،

    زمین کا تنازعہ پر چچا زاد بھائی ایک دوسرے کے خون کے پیاسے بن گئے،

    ضلع دیر بالا تحصیل واڑی عمر الئی میں فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد جاں بحق جبکہ دو شدید زخمی ہو گئے، ریسکیو 1122 کے مطابق فائرنگ چچا زاد بھائیوں کے درمیان زمین کے تنازعے پر ہوئی جس میں 2 افراد جاں بحق ہوئے جو اپس میں سگے بھائی تھے،اور دو زخمی ہو گئے،ریسکیو کے مطابق دیر بالا کنٹرول روم کو اطلاع ملتے ہے ریسکیو 1122 موقع پر پہنچی جہاں انہوں نے زخمیوں کو فوری امداد کے لئے طبی عملہ جائے وقوعہ پر پہنچا،زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو واڑی ہسپتال پہنچا دیا گیا،دوسری جانب پولیس بھی موقع پر پہنچ کر واقع کی چھان بین کر رہی ہے،

  • کراچی:3 مزلہ رہائشی عمارت میں آگ لگنے سے بچوں سمیت 7 افراد زخمی

    کراچی: تین منزلہ رہائشی عمارت کے تیسرے فلور پر آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں 3 بچوں سمیت 7 افراد زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: فائر بریگیڈ کے مطابق لیاقت آباد 10 نمبر میں تین منزلہ رہائشی عمارت کے تیسرے فلورپر شارٹ سرکٹ کے باعث آگ لگی، آگ کی اطلاع ملتے ہی فائر فائٹر 2 فائرٹینڈر کے ہمراہ آگ بجھانے کے لیے پہنچ گئے اور آگ بجھائی۔

    اوچ شریف :غیرقانونی منی پٹرول پمپ کوآگ لگ گئی، دکان جل کر خاکستر

    فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ آگ کے باعث میاں بیوی اور 3 بچوں سمیت 7 افراد جھلس کر زخمی ہوگئے،جنہیں پولیس اور علاقہ مکینوں کی مدد سے گھر سے نکال کر سول اسپتال کے برنس وارڈ منتقل کیا گیا،زخمیوں کی شناخت سلیم،امبرین،حفظہ،مریم،سفیان،ارم فاطمہ اور ماہ نورکے ناموں سے ہوئی ہے۔

    صبح سویرے شہریوں کو لوٹنے والے ڈکیت پولیس کے ہتھے چڑھ گئے

    ریسکیو اہلکاروں کے مطابق عمارت میں آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔

  • سندھ کے مختلف علاقوں میں پاک فوج کا ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن

    سندھ کے مختلف علاقوں میں پاک فوج کا ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن

    راولپنڈی :سندھ کے مختلف علاقوں میں پاک فوج کا ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سندھ کے مختلف علاقوں میں پاک آرمی کی جانب سے ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ٹنڈوالہیار، عمر کوٹ، سانگھڑ، میرپور خاص میں پاک فوج کے جوان سیلاب زدگان کے لیے امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

    آئی ایس پی آر نے بتایا کہ خیرپور ، نوشہرو فیروز، قمبر شہداد کوٹ میں بھی سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مدد کیلئے پاک فوج سر فہرست ہیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فوج کے جوانوں کی جانب سے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں راشن و دیگر اشیاء ضروریہ کی تقسیم بھی جاری ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق راشن ، کپڑے اور بستروں کے علاوہ آرمی کے جوانوں کی جانب سے سیلاب زدگان کو میڈیکل کی مفت سہولیات بھی فراھم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

  • سوات،کمراٹ اور دیر میں پاک فوج کا ریسکیو آپریشن:درجنوں افراد محفوظ مقامات پرپہنچا دیئے

    سوات،کمراٹ اور دیر میں پاک فوج کا ریسکیو آپریشن:درجنوں افراد محفوظ مقامات پرپہنچا دیئے

    اسلام آباد:سوات،کمراٹ اور دیر میں پاک فوج کا ریسکیو آپریشن:درجنوں افراد محفوظ مقامات پرپہنچا دیئے ،اطلاعات کے مطابق پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز نے سوات میں محصور 110 افراد کو ریسکیو کر کے کانجو کینٹ منتقل کردیا، آئی ایس پی آر نے متاثرین کے لیے نمبرز بھی جاری کیے ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز نے سوات میں محصور خاندانوں کو نکالنے کے لیے کامیاب پروازیں کیں۔

     

     

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹرز کے ذریعےخوازہ خیلہ میں پھنسے 110 افراد کانجو کینٹ منتقل کردیے گئے، ریسکیو کیے گئے افراد کو کھانا اور ضروری طبی امداد فراہم کی گئی۔

    پاک فوج نے سیلاب کے باعث سوات میں پھنسے اسپین سے تعلق رکھنے والے سیاح جوڑے کو بحفاظت ریسکیو کرلیا ہے۔ہسپانوی جوڑے نے ویڈیو بیان میں بتایا کہ سیلاب کی وجہ سے وادی سوات میں پھنس گئے تھے، پاکستان آرمی کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمیں ریسکیو کیا۔

     

    انہوں نے بتایا کہ ہم بہت بُرے پھنس گئے تھے، بہت مشکل میں تھے، بارش زیادہ تھی اور دریا میں طغیانی تھی۔ جوڑے نے اردو میں اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا: ’شکریہ پاکستان آرمی‘۔

     

    دوسری جانب پاک فوج نے کمراٹ اور دیر میں ریسکیو آپریشن کیا اور کئی گھنٹے سے پھنسے سیاحوں کو بچالیا۔ایک خاتون سیاح نے پاک فوج سے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کے ساتھ ہم پھنس گئے تھے، پاک فوج نے ہمیں بچالیا، پاک فوج کے افسر اور جوان میرے بیٹے ہیں۔

    لاہور سے تعلق رکھنے والی سیاح نے پاک فوج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم منگل سے کالام میں پھنسے ہوئے تھے،ہمیں بتایا گیا کہ ہر زمینی راستہ منقطع ہوچکا ہے، ہمیں بتایا گیا کہ ہیلی کاپٹر کے علاوہ ریسکیو کا کوئی راستہ نہیں، ہم نے اپنے خاندان دوستوں کو کہا کہ میڈیا کے ذریعہ پاک فوج تک ہماری آواز پہنچائیں، سیاح لڑکی کا کہنا ہے اللہ کا شکر ہے کہ آرمی نے ہمیں ریسکیو کیا، میری ایک سسٹر ابھی بھی پھنسی ہوئی ہیں، انہیں ایک دوسرے ہیلی کاپٹر پر لایا جارہا ہے، شکریہ پاک آرمی اگر آج محفوظ ہیں تو پاک آرمی کی وجہ سے ہیں،

    کالام،کمراٹ، خوازہ خیلہ اور سوات کے دیگر علاقوں میں پاک آرمی ایوی ایشن ہیلی کاپٹرز کا ریسکیو آپریشن جاری ہے، ملک کے مختلف علاقوں سے سیاحت کیلئے سوات آنے والے شہری سوات میں پھنس گئے تھے،پھنسے ہوئے سیاحوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے

    یہ بھی یاد رہے کہ پاک فوج نے صرف سوات میں ہی 47 ریلیف کیمپس قائم کئے ہیںریسکیو کئے جانے والے افراد میں غیر ملکی،خواتین اور بچے شامل ہیں‌.ریسکیو کئے جانے والے افراد نے برقت کارروائی پر پاک فوج سے اظہار تشکر کیا

    اس موقع پر آرمی ایوی ایشن پائلٹس نے عزم مصمم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موسم کی خرابی کے باوجود ہم آرام سے نہیں بیٹھ سکتے تھے، ہماری مائوں، بہنوں، بھائیوں اور بچوں کے چہرے ہمارے سامنے تھے،

    آئی ایس پی آر کا مزید کہنا ہے کہ دیر اسکاؤٹس کی جانب سے فلڈ ریلیف سینٹر قائم کردیا گیا ہے، جبکہ دیر اسکاؤٹس کنٹرول رومز کے نمبر بھی جاری کردیے گئے ہیں۔

  • سیلاب میں پھنسے 38,143 سے زائد افراد ریسکیو،وزیراعلیٰ کی  ریلیف آپریشن مزید تیز کرنے کی ہدایت

    سیلاب میں پھنسے 38,143 سے زائد افراد ریسکیو،وزیراعلیٰ کی ریلیف آپریشن مزید تیز کرنے کی ہدایت

    پی ڈی ایم اے نے سیلاب میں پھنسے 38,143 سے زائد افراد کو سیلابی علاقوں سے بحفاظت ریسکیو کر لیا، سیلابی علاقوں میں 67,797 افراد کو علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، سیلاب متاثرین کے لیے 99 فلڈ ریلیف کیمپس قائم ہیں، حکومت پنجاب کی ہدایات کے مطابق سیلاب متاثرین تک تین وقت کا کھانا اور صاف پانی سمیت دیگر ضروری سہولیات کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق سیلاب متاثرین کے 64,974 بڑے اور 114,977 چھوٹے جانوروں کو بیماریوں سے بچاو کی ویکسین لگائی جا چکی۔ اب تک 39,437 گھرانوں میں ایک ماہ کے لیے خشک راشن تقسیم کیا جا چکا ہے جبکہ 22267 گھرانوں میں ٹینٹس تقسیم کیے جا چکے۔دور دراز اور کٹھن علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے سیلاب متاثرین تک خوراک پنچانے کا عمل جاری ہے۔ریسکیو ریلیف آپریشن میں پاک فوج ریسکیو 1122 سمیت دیگر ادارے حصہ لے رہے ہیں۔حکومت پنجاب کی ہدایت پر سیلاب متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے ۔ممکنہ سیلابی علاقوں سے لوگوں کے انخلاء کے لیے اقدامات بدستور جاری ہیں۔عوام مون سون بارشوں اور سیلاب سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ پی ڈی ایم اے کا عملہ 24/7 عوام الناس کی رہنمائی کے لیے کام کر رہا ہے۔

    دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت وزیراعلیٰ آفس میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ وزارتی کمیٹی کا اجلاس منعقدہوا،اجلاس میں راجن پور،تونسہ،ڈیرہ غازی خان میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیاگیا۔وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے چیف سیکرٹری کامران افضل کوآج ہی سیلاب متاثرہ علاقوں میں جانے کی ہدایت کی اور کہاکہ وہ متاثرین کی بحالی کے کاموں کی خود نگرانی کریں۔

    وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن کو مزید تیز کیا جائے اورتمام ادارے یکسو ہوکر متاثرین کی مدد کریں۔انہوں نے کہاکہ کوہ سلیمان میں شدید بارشوں کے باعث ندی نالوں میں غیر معمولی پانی آیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ موجودہ صورتحال میں پنجاب حکومت اپنے متاثرہ بہن بھائیوں کی مدد میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے گی۔

    اجلاس میں سیلاب وبارشوں سے جاں بحق افراد کے لواحقین کے لئے مالی امداد بڑھانے کا فیصلہ کیاگیا۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے مالی امدا د میں اضافے کی منظوری دے دی ہے۔انہوں نے کہاکہ گھروں،فصلوں اورمال مویشی کے نقصانات کا ازالہ کریں گے۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ امدادی کیمپوں میں لوگوں کو بروقت کھانا پہنچایا جائے اورامدادی کیمپوں میں موجود افراد کیلئے خشک راشن اورفوڈ ہیمپرزکی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

    انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض کی روک تھام کیلئے میڈیکل کیمپس کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اورمحکمہ لائیوسٹاک جانوروں کے لئے چارے کا وافرانتظام کرے۔متاثرین کو امدادی کیمپوں میں ضروری سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔اجلاس میں صوبائی وزراء راجہ محمد بشارت،سید عباس علی شاہ،سردار آصف نکئی،علی افضل ساہی، ڈاکٹر اختر ملک، بریگیڈئر(ر)اعجاز شاہ، چیف سیکرٹری کامران افضل اورمتعلقہ حکام نے شرکت کی۔

    علاوہ ازیں وزیر پارلیمانی امور محمد بشارت راجہ کی زیر صدارت وزارتی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹی کا پہلا اجلاس منوقد ہوا.اجلاس میں پنجاب کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی صورتحال اور ریسکیو آپریشن کا جائزہ لیا گیا.اجلاس میں صوبائی وزرا محسن لغاری، نوابزادہ منصور علی خان، علی افضل ساہی، چیف سیکرٹری نے شرکت کی.ایس ایم بی آر، ڈی جی پی ڈی ایم اے کی ریسکیو آپریشن پر بریفنگ دی.

    راجہ بشارت نےاجلاس میں بتایا کہ سیلاب میں جاں بحق افراد کے ورثا کیلئے امدادی پیکیج میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے ہر جاں بحق فرد کے ورثا کو 10 لاکھ روپے دیئے جائیں گے جبکہ انتہائی زخمی کو 3 لاکھ، شدید زخمی کو ایک لاکھ روپے دینے کی منظوری دی گئی ہے.

    راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ زخمی اور معمولی زخمی افراد کو بالترتیب ایک لاکھ اور 50 ہزار ملیں گے،وزارتی کمیٹی نے مکانات کو نقصان کے امدادی پیکیج پر بھی نظرثانی کی، امدادی پیکیج کے تحت متاثرین کو فوری ادائیگی کی جائے گی.

    راجہ بشارت نے کہا کہ مکمل پکا مکان تباہ ہونے پر پنجاب حکومت 4 لاکھ روپے دے گی،جزوی پکے مکان کو نقصان پر امدادی رقم 40 ہزار سے بڑھا کر 2 لاکھ کر دی گئی، مکمل کچے اور جزوی کچے مکان کو نقصان پر بالترتیب 2 لاکھ اور 50 ہزار ملیں گے،بڑے مویشی کی ہلاکت پر 50 ہزار، بھیڑ بکری کی ہلاکت پر 5 ہزار دینے کی تجویزدی گئی ہے
    ،کمیٹی کی چھوٹے مویشیوں کے نقصان پر ازالے کی رقم بڑھانے کی بھی تجویززیر غور ہے،فصلوں کے نقصان پر ساڑھے بارہ ایکڑ تک فی ایکڑ 15 ہزار دینے کا فیصلہ کای گیا ہے.وزیراعلی پنجاب پہلے ہی سیلاب زدہ علاقوں آفت زدہ قرار دے چکے ہیں، وزیر خزانہ محسن لغاری نے کہا کہ ہر سال امدادی پیکیج دینے کی بجائے مسئلے کا مستقل حل نکالنا ہوگا،بلوچستان سے اس بار غیر معمولی سیلابی ریلے ڈی جی خان میں آئے، چیف سیکرٹری نے بتایا کہ کارپوریٹ سیکٹر کو امدادی سرگرمیوں میں شامل کرنے کیلئے کام جاری ہے.