Baaghi TV

Tag: ریفرنس

  • توشہ خانہ ریفرنس، عمران خان کا کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی استدعا مسترد

    توشہ خانہ ریفرنس، عمران خان کا کیس دوسری عدالت منتقل کرنے کی استدعا مسترد

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کی نئے توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    بانی پی ٹی آئی کے معاون وکیل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق پر اعتراض کر دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس منتقل کرنے کی استدعا مسترد کر دی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے کیس کی سماعت کی.وکیل انتظار پنجوتھہ نے کہا کہ آپ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا ہے، استدعا ہے کہ آپ بانی پی ٹی آئی کا کیس نہ سنیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ کوئی وجہ نہیں، اس طرح تو نیا ٹرینڈ شروع ہو جائے گا، سلمان اکرم راجہ صاحب سے کہیں کہ آ کر کیس پر دلائل دیں، جسٹس بابر ستار کا اس حوالے سے آرڈر پڑھ کر آئیے گا،آپ کا اس کیس میں وکالت نامہ بھی نہیں ہے،عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی

    واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی کے مقدمات میں اختیارات کا غلط استعمال کا الزام،چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر دیا گیا،ریفرنس بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے دائر کیا گیا،درخواست میں کہا گیا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے 11 نومبر 2022 کو عہدہ سنبھالا، جسٹس عامر فاروق شکایت کنندہ کے مقدمات میں غیر معمولی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہیں،جسٹس عامر فاروق نے شکایت کنندہ کے لگ بھگ تمام مقدمات اپنے سامنے سماعت کے لیے مقرر کیے،جسٹس عامر فاروق نے شکایت کنندہ کے مقدمات میں جان بوجھ کر تاخیری حربے استعمال کیے اور اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا، درخواست میں جسٹس عامر فاروق کے خلاف کاروائی کی استدعا کی گئی ہے

    قبل ازیں عمران خان اور بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ نئے ریفرنس میں گرفتاری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی ،عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف نے دائر کی،اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں چیئرمین نیب، ڈی جی نیب و دیگر نیب افسران کو فریق بنایا گیا ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ عمران خان، بشریٰ بی بی کی گرفتاری غیرقانونی ہے، رہا کرنے کے احکامات دیے جائیں، آئندہ کسی بھی مقدمے میں گرفتاری اسلام آباد ہائیکورٹ کے احکامات سے مشروط کی جائے،عمران خان، بشریٰ بی بی شامل تفتیش ہوئے،گرفتاری کی ضرورت نہیں، عدت کیس میں رہائی کے فوراً بعد عمران خان، بشریٰ بی بی کی گرفتاری کی ضرورت نہیں، اعلیٰ عدلیہ نے بار بار کہا صرف نامزد ہونے پر کسی بھی شخص کو فوراً گرفتار نہ کیا جائے، عمران خان، بشریٰ بی بی کی گرفتاری اعلیٰ عدلیہ کے احکامات کی بھی خلاف ورزی ہے.

    عبوری ضمانت "معصوم” فرد کا حق ہے،نومئی مقدمے،عمران کی ضمانت مسترد ہونے کا فیصلہ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    عمران خان کی 190 ملین پاؤنڈز کیس میں ضمانت منسوخی کی درخواست دائر

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • جسٹس ارباب محمد طاہر کیخلاف بھی ریفرنس دائر

    جسٹس ارباب محمد طاہر کیخلاف بھی ریفرنس دائر

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر کیخلاف بھی ریفرنس دائر کر دیا گیا

    جسٹس ارباب محمد طاہر کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا گیا، جسٹس ارباب محمد طاہر کے خلاف کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر شکایت کی گئی،کونسل سے جسٹس ارباب محمد طاہر کے خلاف شکایت پر کاروائی کی استدعا کی گئی ہے،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس ارباب محمد طاہر کے خلاف شیر افضل مروت کے وکیل نے ریفرنس دائر کیا ہے،ریفرنس کے متن میں کہا گیا ہےکہ بعض ججز کو سننے کے بجائے دلائل دینے کی عادت ہے، وکلا کے دلائل میں بار بار مداخلت کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وکلا کی آزادی سلب ہو رہی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چوتھے جج جسٹس ارباب طاہر کے خلاف بھی سپریم جوڈیشل کونسل میں مس کنڈکٹ کی شکایت داخل، وکیل ریاض حنیف راہی نے شکایت کی کہ جج صاحب دلائل کے دوران ریمارکس بہت دیتے ہیں اور وقت پر کیسز کی سماعت شروع نہیں کرتے عہدے سے ہٹایا جائے،جسٹس ارباب طاہر خط لکھنے والے اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 ججز میں شامل تھے اور ریفرنس دائر ہونے والے چوتھے جج ہیں جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار اور جسٹس جہانگیری کے خلاف پہلے ہی ریفرنس دائر ہے

    ریفرنس کے متن میں کہا گیا ہے کہ جب بھی ججز قانون کے مطابق انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔وکلاء کو یکطرفہ طور پر ان کی ناقص امداد کے لیے ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔اصل حقائق کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہ وہ مکمل اور منصفانہ سماعت فراہم کرنے میں ناکام رہے۔ کچھ ججوں کو اکثر سننے کے بجائے بحث کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔وکلاء کے دلائل میں مداخلت ہوتی ہے،جس کی وجہ سےوکالت کو دبایا جا رہا ہے اور وکلاء کی آزادی سلب ہو رہی ہے۔رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے حالانکہ وہ افسر ہونے کے ناطے برابر کے شریک ہیں۔

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    ریفرنس کے متن میں کہا گیا کہ درخواست گزار سپریم کورٹ بار کا تاحیات رکن ہے۔ پاکستان کا ذمہ دار شہری ہے، وہ اپنی ذمہ داری پوری کرنا چاہتا ہے۔آئین کے آرٹیکل 5(2) اور سپریم کے قاعدہ 2(e) کے تحت کورٹ بار ایسوسی ایشن رولز، 1989 قانون کی بالادستی کے لیے کام کرنا،اور دفاع کی کوشش کرتے ہوئے انصاف کے مقصد کو آگے بڑھانا،قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے وکالت کی آزادی ہے،پختہ یقین کے ساتھ کہ اگر وکلاء اپنے حقوق کے لیے نہیں لڑ سکتے۔پھر، وہ دوسروں کی وکالت کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔ لہذا، یہ معلومات کہ شکایت کنندہ 8-07 کو مدعا علیہ کے سامنے پیش ہوا، فاضل جج نے اس پر زبانی اعتراض کیا۔شکایت کنندہ نے مقدمہ میں بحث کرنے کے پہلے حق کو ختم کر دیا ہے۔لیکن اپنی باری کا انتظار نہیں کیا اور کیس کو اگلے ہفتے تک ملتوی کر دیا۔ جواب دہندہ نے پہلے کیس میں بھی ایسا ہی کیا تھا۔ عدالت وقت کی پابندی نہ کرتے ہوئے نہ صرف انصاف کو یقینی بنانے میں ناکام رہی،کیا گیا لیکن یہ ہوتا دیکھا اور اس طرح نقصان پہنچا،براہ کرم انکوائری شروع کی جائے۔مذکورہ الزام کے پیش نظر اور قانون کے مطابق کارروائی کریں۔

    [pdf-embedder url=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2024/07/Referance-against-Arbab-Mohammad-Tahir.pdf” title=”Referance against Arbab Mohammad Tahir”]

  • آصف  زرداری کو صدارتی استثنیٰ حاصل ، کیس  کارروائی آگے نہیں بڑھائی جاسکتی،وکیل

    آصف زرداری کو صدارتی استثنیٰ حاصل ، کیس کارروائی آگے نہیں بڑھائی جاسکتی،وکیل

    احتساب عدالت اسلام آباد: صدر پاکستان آصف علی زرداری و دیگر کیخلاف پارک لین ریفرنس کی سماعت ہوئی

    وکیل نے کہا کہ آصف علی زرداری صدر پاکستان منتخب ہوگئے ہیں، اب آصف علی زرداری کو صدارتی استثنیٰ حاصل ہے، صدر مملکت کیخلاف کیس کی کارروائی آگے نہیں بڑھائی جاسکتی، عدالت نے استفسار کیا کہ باقی ملزمان کیخلاف بھی کیس آگے نہیں بڑھے گا؟ وکیل نے کہا کہ باقی ملزمان کیخلاف کیس تو چلایا جاسکتا ہے،نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ یہ پرائیویٹ بنک کا کیس ہے، پہلے طے ہوگا کہ موجودہ قانون کے مطابق اس عدالت میں کیس چلایا جاسکتا یا نہیں ،معاون وکیل نے کہا کہ آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک گیارہ بجے آئیں گے،وکیل نے استدعا کی کہ عدالت کیس کی سماعت گیارہ بجے تک ملتوی کردے، احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا سماعت کی ،

    واضح رہے کہ  صدر آصف زرداری نے پچھلے کئی مقدمات کے بعد پارک لین ریفرنس کو بھی نیب قوانین میں ترمیم کے تحت چیلنج کردیا تھا۔آصف زرداری نے وکیل کے توسط سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ترمیمی ایکٹ کے بعد پارک لین ریفرنس پر احتساب عدالت کا دائرہ اختیار نہیں رہا، عدالت پارک لین ریفرنس واپس کرے یا بری کردے،واضح رہے کہ آصف زرداری کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کے دو ریفرنس پہلے ہی واپس ہو چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ آصف زرداری نے نیب کو پارک لین کے حوالہ سے جواب میں کہا تھا کہ پارک لین کمپنی 1989 میں صدرالدین ہاشوانی سے خریدی، اقبال میمن، کم عمر بلاول، رحمت اللہ، محمد یونس، الطاف حسین میرے شراکت دار تھے۔پارک لین کمپنی میں صرف 25 فیصد حصص کا مالک تھا، صدر بننے سے پہلے یکم ستمبر 2008 کو کمپنی ڈائریکٹرشپ سے مستفیٰ ہوا تھا

    پارک لین ریفرنس،فرد جرم سے بچنے کا آخری حربہ ناکام،آصف زرداری پر فرد جرم عائد

    فرد جرم عائد ہونے کے بعد جج اور سابق صدر آصف زرداری میں ہوئی بحث

    میں نے یہ کام کیا اسلئے میرے خلاف مقدمات بنائے جا رہے ہیں، آصف زرداری

    وکلا کی غیر موجودگی میں زرداری پر فرد جرم،پیپلز پارٹی کا خدشات کا اظہار،شیری رحمان بول پڑیں

  • احتساب عدالت نے احد چیمہ کو ریفرنس سے بری کر دیا

    احتساب عدالت نے احد چیمہ کو ریفرنس سے بری کر دیا

    احتساب عدالت لاہور،احتساب عدالت میں مشیر وزیراعظم احد چیمہ کے خلاف امدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے مشیر وزیراعظم احد چیمہ کو بری کر دیا،عدالت نے احد چیمہ کی بریت کی درخواست کو منظور کر لیا,عدالت نے گزشتہ سماعت پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،احتساب عدالت کے جج ملک علی ذولقرنین اعوان نے فیصلہ سنایا،احد چیمہ کے وکلاء کی جانب سے بریت کی درخواست دائر کی گئی تھی،نیب کی جانب سے رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی

    عدالتی فیصلہ کے بعد عدالت سے باہر نکلتے ہوئے احد چیمہ کا کہنا تھا کہ مجھے آج انصاف ملا آج بڑی خوشی کا دن ہے، جب یہ سب ہو رہا تھا تو سول سیکریٹریٹ افسران نے مجھ پر اعتماد کیا، چیئرمین نیب کی بات خوش آئند ہے جہاں غلطی ہو اس کو تسلیم کیا جائے، ادارے کے سربراہ کا کام ہے غلطی کو درست کیا جائے

    محنتی سرکاری افسران کو سیاسی بنیادوں پر جھوٹے مقدمات میں الجھا یا گیا،شہباز شریف
    سابق وزیراعظم شہباز شریف نےاحد چیمہ کی بریت پر خوشی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ احد چیمہ کو آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس سے بریت پر انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں،چیمہ صاحب جیسے انتہائی قابل اور محنتی سرکاری افسران کو سیاسی بنیادوں پر جھوٹے مقدمات میں الجھا یا گیا، نہ صرف احد چیمہ، ان کی والدہ مرحومہ، اور بچوں کو نا قابل برداشت تکلیف پہنچائی گئی ،بیوروکریسی میں دل لگی سے کام کرنے والے افسران کی بھی حوصلہ شکنی کی گئی، امید ہے کہ آج کے انصاف پر مبنی فیصلے سے ایک مثبت روایت دوبارہ سے قائم ہو گی،

    احد چیمہ کی بریت کی درخواست پر نیب کی جمع کرائی گئی رپورٹ سامنے آ گئی،نیب رپورٹ میں کہا گیا کہ احد چیمہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کانیب ریفرنس نہیں بنتا۔ احد چیمہ کے تمام اثاثے انکی آمدن سے مطابقت رکھتے ہیں۔احد چیمہ کے مبینہ بے نامی داروں نے اپنی ذاتی انکم سے پراپرٹیز بنائیں۔ احد چیمہ کے مبینہ بے نامی داروں کی پراپرٹیز کو احد چیمہ سے لنک نہیں کیا جا سکتا۔ احد چیمہ کے رشتہ داروں سعدیہ منصور،منصور احمد اور نازیہ اشرف کے اکاونٹس احد چیمہ کے بے نامی اکاونٹس نہیں۔ری انوسٹی گیشن کے مطابق احد چیمہ کی کل آمدن 213 ملین اور اخراجات 131 ملین ہیں۔ احد چیمہ کے بنائے گئے اثاثے انکی آمدن کے مطابق ہی ہیں۔ری انوسٹی گیشن کے دوران احد چیمہ نے اپنی انکم اور منافع سے متعلق ریکارڈ نیب کو فراہم کیا۔

    احد چیمہ کی جانب سے جمع کرائے گئے ریکارڈ کی تصدیق کی گئی، ریکارڈ درست ثابت ہوا۔ احد چیمہ کے اثاثے انکی آمدن سے مطابقت رکھتے ہیں،نیب کیس نہیں بنتا۔

    احسن اقبال کے خلاف ریفرنس کب تک دائر کیا جائے؟ عدالت نے نیب کو بڑا حکم دے دیا

    نیب کی غفلت سے میرا بازو مستقل ٹیڑھا ہو گیا، احسن اقبال نیب اور حکومت پر برس پڑے

    ناروال اسپورٹس کمپلیکس کیس،ریفرنس دائر ہونے کے بعد احسن اقبال نے کیا مطالبہ کر دیا؟

  • نیب نے احد چیمہ کو کلین چٹ دے دی

    نیب نے احد چیمہ کو کلین چٹ دے دی

    نیب نے وزیر اعظم کے مشیر احد چیمہ کو آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس میں کلین چٹ دے دی۔

    احد چیمہ کی بریت کی درخواست پر نیب کی جمع کرائی گئی رپورٹ سامنے آ گئی،نیب رپورٹ میں کہا گیا کہ احد چیمہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کانیب ریفرنس نہیں بنتا۔ احد چیمہ کے تمام اثاثے انکی آمدن سے مطابقت رکھتے ہیں۔احد چیمہ کے مبینہ بے نامی داروں نے اپنی ذاتی انکم سے پراپرٹیز بنائیں۔ احد چیمہ کے مبینہ بے نامی داروں کی پراپرٹیز کو احد چیمہ سے لنک نہیں کیا جا سکتا۔ احد چیمہ کے رشتہ داروں سعدیہ منصور،منصور احمد اور نازیہ اشرف کے اکاونٹس احد چیمہ کے بے نامی اکاونٹس نہیں۔ری انوسٹی گیشن کے مطابق احد چیمہ کی کل آمدن 213 ملین اور اخراجات 131 ملین ہیں۔ احد چیمہ کے بنائے گئے اثاثے انکی آمدن کے مطابق ہی ہیں۔ری انوسٹی گیشن کے دوران احد چیمہ نے اپنی انکم اور منافع سے متعلق ریکارڈ نیب کو فراہم کیا۔

    احد چیمہ کی جانب سے جمع کرائے گئے ریکارڈ کی تصدیق کی گئی، ریکارڈ درست ثابت ہوا۔ احد چیمہ کے اثاثے انکی آمدن سے مطابقت رکھتے ہیں،نیب کیس نہیں بنتا۔نیب نے احتساب عدالت سے احد چیمہ کی بریت کی درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کی استدعا کردی

    احسن اقبال کے خلاف ریفرنس کب تک دائر کیا جائے؟ عدالت نے نیب کو بڑا حکم دے دیا

    نیب کی غفلت سے میرا بازو مستقل ٹیڑھا ہو گیا، احسن اقبال نیب اور حکومت پر برس پڑے

    ناروال اسپورٹس کمپلیکس کیس،ریفرنس دائر ہونے کے بعد احسن اقبال نے کیا مطالبہ کر دیا؟

  • سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس،جسٹس سردار طارق مسعود کیخلاف شکایت خارج

    سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس،جسٹس سردار طارق مسعود کیخلاف شکایت خارج

    چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی زیر صدارت سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا

    اجلاس میں جس میں جسٹس سردار طارق مسعود ،جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف شکایت کا جائزہ لیا گیا،جسٹس مظاہر نقوی سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں پہنچ گئے ،سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کے اعتراضات پر غور کر رہی ہے۔ جسٹس نقوی بھی ایس جے سی اجلاس میں موجود ہیں۔ خواجہ حارث نے سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کی نمائندگی کی۔ جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل کی کاروائی روکنے کی استدعا کر دی، وکیل خواجہ حارث نے جسٹس مظاہر نقوی کا خط سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے رکھ دیا. جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف شکایت پر کارروائی آج مکمل نہ ہو سکی. سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کل تین بجے تک ملتوی کر دی گئی

    قبل ازیں سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس طارق مسعود کے خلاف شکایت کو خارج کر دیا گیا، سپریم جوڈیشل کونسل نے شکایت کنندہ آمنہ ملک کو بھی نوٹس جاری کیا تھا، اجلاس کے دوران سپریم کورٹ کے جسٹس سردار طارق مسعود کیخلاف جوڈیشل کمیشن میں دائر ہونیوالی شکایت متفقہ طور پر خارج کی گئی جس کے بعد اجلاس میں وقفہ کر دیا گیا

    جسٹس مظاہرعلی اکبر نقوی کے خلاف شکایت کنندہ میاں‌داؤد ایڈوکیٹ کو بھی نوٹس جاری کیا گیا تھا وہ سپریم کورٹ پہنچ چکے ہیں، اور جوڈیشل کمیشن کے اجلاس میں اپنا بیان دیں گے،میاں داؤد ایڈوکیٹ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ثبوت لے کر پہنچے ہیں

    جسٹس مظاہر نقوی نے سپریم جوڈیشل کونسل پر اٹھائے اعتراضات

    ہائیکورٹ نے کیس نمٹا کرتعصب کا مظاہرہ کیا،عمران خان کی سپریم کورٹ میں درخواست

    جسٹس سردار طار ق مسعود کیخلاف ریفرنس صدر سول سوسائٹی نیٹ ورک آمنہ ملک کی طرف سے دائر کیا گیا تھا ،ریفرنس میں جسٹس سردار طارق کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کاروائی کی استدعا کی گئی ہے، ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ کفر والا معاشرہ قائم رہ سکتا ہے لیکن وہ نہیں جہاں ناانصافی ہو،سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج کے لیے اپنے مالیاتی،ٹیکس معاملات کو قوم اور ریونیو ڈویژن سے چھپانا غیر مناسب بلکہ حیران کن ہے،معلومات کے مطابق جسٹس سردار طارق مسعود نے اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں دو کروڑ 46 لاکھ روپے کا دعویٰ کیا، انکم ٹیکس کے قواعد کے تحت کسی دستاویزی ثبوت کے ساتھ اس رقم کی تائید نہیں ہوتی،معزز جج قانونی طور پر رقم سے متعلق دستاویزی ثبوت ظاہر کرنے اور فراہم کرنے کا پابند ہے،رقم کس سے اور کیسے حاصل کی گئی یہ بتانا ضروری ہے،رقم کی حقیقت ثابت کرنے کے لیے بینکنگ چینل، دستاویزات سے ثابت کرنا ضروری ہے، اتنی بڑی رقم کے ثبوت فراہم نہ کرنے پر سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے فوری کارروائی کی ضرورت ہے

    ریفرنس میں جسٹس اخلاق حسین کیس کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے سینئر جج کے عہدے پر بیٹھے ایک شخص کا سے یہ عمل حیران کن ہے، کوئی بھی ملک کے قوانین سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے،سپریم جوڈیشل کونسل کسی جج کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی رائے قائم کرنے کے لیے مزید مواد/ڈیٹا/ثبوت حاصل کر سکتی ہے،پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کی نمائندگی کرنے والا شخص جان بوجھ کر مکمل طور پر غیر آئینی، غیر قانونی اقدام کا انتخاب کر رہا ہے،ریفرنس میں ججز کے حلف کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ آئین پاکستان ججز سمیت سب کو اپنی حدود میں رہنے کا حکم دیتا ہے،جج کی طرف رقم اکے ذرائع چھپانا عملی طور پر آرٹیکل 4 اور 5(2) کی صریح خلاف ورزی ہے جسٹس سردار طارق مسعود سنگین مس کنڈڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں،سپریم کورٹ کے سینئر جج کے طور پر بیٹھے جسٹس سردار طارق مسعود نے مالی مجرمانہ ذہنیت دکھائی،اثاثے اور ذرائع چھپانے پر سردار طارق مسعود کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے، جسٹس سردار طارق مسعود کو عہدے سے ہٹایا جائے،

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ،مصطفیٰ کمال عدالت پیش،سماعت ملتوی

    پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ،مصطفیٰ کمال عدالت پیش،سماعت ملتوی

    کراچی: احتساب عدالت, ایم کیو ایم رہنما مصطفی کمال سمیت 11 ملزمان کے خلاف پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ کا ریفرنس کی سماعت ہوئی

    مصطفیٰ کمال ، افتخار قائمخانی، لالہ فضل الرحمن سمیت گیارہ ملزمان عدالت میں پیش ہوئے،عدالت نے ریفرنس پر مزید کاروائی کے لیے سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کردی،سپریم کورٹ کے حکم کے بعد پہلی بار ریفرنس کی سماعت ہوئی،

    مصطفی کمال اور دیگر کے خلاف 2019 میں مذکورہ ریفرنس دائر کیا گیا تھا،نیب کی جانب سے احتساب عدالت میں دائر ریفرنس میں نیب نے کہا کہ ملزم سرکاری پلاٹوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ میں ملوث ہیں، ملزموں نے قومی خزانے کو ڈھائی ارب سے زائد کا نقصان پہنچایا، مصطفیٰ کمال ودیگرپرساحل سمندر پر 5500مربع گززمین کی غیرقانونی الاٹمنٹ کاالزام ہے ،مصطفیٰ کمال نے بلڈر کو کثیرالمنزلہ عمارت تعمیر کرنےکی غیرقانونی اجازت دی

    ایم کیو ایم رہنما مصطفیٰ کمال نے عدالت پیشی کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس طرح نظام نہیں چل سکتا جہاں اختیار ایک وزیراعظم اور چار وزراء اعلیٰ کے پاس ہوں اور نیچے نہ جا رہے ہوں، صوبائی خود مختاری سے ملک کو نقصان پہنچا ہے، این ایف سی ایوارڈ آنے کے بعد چوالیس فیصد وفاق کے پاس بچتا ہے،اتنے پیسے نہیں بچتےکہ لون کا سود دے سکے، پی آئی اے، سٹیل مل کو دینے کے لئے لون لیا جا رہا ہے، 56 فیصد جو صوبوں میں آ رہا، وزراء اعلیٰ ہاؤسز مالا مال ہو گئے، سندھ میں 156 ارب کا بجٹ تھا کراچی کو 37 ارب مل گئے، ابھی 1452 ارب سندھ کا بجٹ تھا اور ہمارے شیئر میں ایک بلین کا اضافہ ہوا ، جب بجٹ بڑھ گیا تو کراچی کا شیئر کیوں نہیں بڑھا، 815 فیصد صوبائی خود مختاری کے بعد سندھ کے بجٹ میں اضافہ ہوا، وہ کرپشن کی نذر ہو گیا.ہم ایسی اٹھارہویں ترمیم کو نہیں مانتے جس سے صوبے کو وسائل نیچے تک نہ ملیں، کل ختم ہونی ہے تو ہو جائے، ہم تین آئینی ترامیم چاہتے ہیں، این ایف سی ایوارڈ سے پی ایف سی ایوارڈ چاہتے ہیں، وفاق حصہ صوبوں کو دینے کی بجائے پی ایف سی ایوارڈ دے تا کہ وزیراعلیٰ کے ہاتھ میں پیسہ نہ جائے،

    مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ الیکشن کا اعلان ہو گیا، آئینی ترامیم چاہتے ہیں، پاکستان میں اب مخلوط حکومت آئے گی، ایم کیو ایم بھی جیتے گی، ہم 2013 کی سیٹوں پر واپس جائیں گے، اور پھر جب کوئی ہم سے ووٹ لینے آئے گا تو ہم وزارت نہیں آئینی ترامیم مانگیں گے،پاکستان کا مستقبل اس سے ہو گا، ملک کے نوجوانوں کی طرف دیکھنا ہو گا، وہ تعلیم دینی ہو گی جو دنیا میں ڈیمانڈ ہے،ہمار ے ہاں بے روزگار لوگوں کی فیکٹری یونیورسٹیز ہیں، ہمیں جاب ڈھونڈنے والا نہیں جاب پیدا کرنے والا چاہئے.آج انڈیا کی یوتھ دیگر ملکوں میں ہیں، کمپنیز کے سی ای او ہیں، ہماری آئی ٹی کی انڈسٹری کدھر ہے،

    اگرکسی پرمقدمات ہیں توانہیں ایک دفعہ معاف کردیں،مصطفیٰ کمال

    اختیارات گلی کوچوں تک پہنچنے چاہئیں،مصطفیٰ کمال

    ملکی ترقی کے لیے عام آدمی کا بااختیار ہونا ضروری ہے. مصطفیٰ کمال

    جو جیسا کرے گا ویسا ردعمل دیا جائے گا، مصطفیٰ کمال کا دبنگ اعلان

    اقتدار نہیں مسائل کا حل چاہئے، مصطفیٰ کمال کا دھرنے سے خطاب

  • جسٹس سردار طارق مسعود کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر

    جسٹس سردار طارق مسعود کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر

    سپریم کورٹ کے جسٹس سردار طارق مسعود کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر کر دی گئی
    ریفرنس صدر سول سوسائٹی نیٹ ورک آمنہ ملک کی طرف سے دائر کیا گیا ہے ،ریفرنس میں جسٹس سردار طارق کے خلاف آرٹیکل 209 کے تحت کاروائی کی استدعا کی گئی ہے، ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ کفر والا معاشرہ قائم رہ سکتا ہے لیکن وہ نہیں جہاں ناانصافی ہو،سپریم کورٹ کے ایک سینئر جج کے لیے اپنے مالیاتی،ٹیکس معاملات کو قوم اور ریونیو ڈویژن سے چھپانا غیر مناسب بلکہ حیران کن ہے،معلومات کے مطابق جسٹس سردار طارق مسعود نے اپنی ویلتھ اسٹیٹمنٹ میں دو کروڑ 46 لاکھ روپے کا دعویٰ کیا، انکم ٹیکس کے قواعد کے تحت کسی دستاویزی ثبوت کے ساتھ اس رقم کی تائید نہیں ہوتی،معزز جج قانونی طور پر رقم سے متعلق دستاویزی ثبوت ظاہر کرنے اور فراہم کرنے کا پابند ہے،رقم کس سے اور کیسے حاصل کی گئی یہ بتانا ضروری ہے،رقم کی حقیقت ثابت کرنے کے لیے بینکنگ چینل، دستاویزات سے ثابت کرنا ضروری ہے، اتنی بڑی رقم کے ثبوت فراہم نہ کرنے پر سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے فوری کارروائی کی ضرورت ہے

    ریفرنس میں جسٹس اخلاق حسین کیس کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے سینئر جج کے عہدے پر بیٹھے ایک شخص کا سے یہ عمل حیران کن ہے، کوئی بھی ملک کے قوانین سے بالاتر نہیں ہونا چاہیے،سپریم جوڈیشل کونسل کسی جج کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی رائے قائم کرنے کے لیے مزید مواد/ڈیٹا/ثبوت حاصل کر سکتی ہے،پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کی نمائندگی کرنے والا شخص جان بوجھ کر مکمل طور پر غیر آئینی، غیر قانونی اقدام کا انتخاب کر رہا ہے،

    ریفرنس میں ججز کے حلف کا بھی حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ آئین پاکستان ججز سمیت سب کو اپنی حدود میں رہنے کا حکم دیتا ہے،جج کی طرف رقم اکے ذرائع چھپانا عملی طور پر آرٹیکل 4 اور 5(2) کی صریح خلاف ورزی ہے جسٹس سردار طارق مسعود سنگین مس کنڈڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں،سپریم کورٹ کے سینئر جج کے طور پر بیٹھے جسٹس سردار طارق مسعود نے مالی مجرمانہ ذہنیت دکھائی،اثاثے اور ذرائع چھپانے پر سردار طارق مسعود کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے، جسٹس سردار طارق مسعود کو عہدے سے ہٹایا جائے،

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    دوسری جانب بار کونسل نے جسٹس سردار طارق کے خلاف دائر کیے گئے ریفرنس کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ جسٹس سردار مسعود انتہائی قابل، راست باز اور آزاد جج ہیں اور ان کی دیانت کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے، پاکستان بار کونسل نے ہمیشہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی کے لیے جدو جہد کی، ریفرنس کو فوری طور پر واپس نہ لینے پر قانونی برادری ہر سطح پر اس کی بھرپور مخالفت کرے گی۔

  • پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں نواز شریف بری

    پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں نواز شریف بری

    احتساب عدالت لاہور نے غیر قانونی پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں نواز شریف کو بری کردیا

    احتساب عدالت لاہور میں نواز شریف کے خلاف غیر قانونی پلاٹس الاٹمنٹ کیس کی سماعت ہوئی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو مقدمہ سے بری کر دیا ۔نواز شریف کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ نیب نے بدنیتی کی بنیاد پر ریفرنس بنایا تھا سابق وزیراعظم کا پلاٹوں کی الاٹمنٹ میں کوئی کردار نہیں نئے قانون کے تحت یہ کیس نہیں بن سکتا ،
    احتساب عدالت کے جج راؤ عبدالجبار خان نے فیصلے میں کہا کہ اس کیس میں میر شکیل الرحمٰن سمیت تمام ملزمان بری ہو چکے ہیں سابق وزیراعظم نواز شریف کو بھی بری کیا جاتا ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کو اس کیس میں اشتہاری قرار دیا گیا تھا ،

    نوازشریف کی جائیداد نیلامی کیخلاف حکم امتناعی سے متعلق درخواستیں دائر تھیں ،عدالت نے ان درخواستوں کو واپس نیب کو بھجوانے کا حکم دیا تھا وکلاء کی درخواست پر عدالت نے میاں نواز شریف کی بریت کا فیصلہ سنایا

    اس کیس میں نواز شریف کی تمام جائیدادیں بھی قرق کی گئی تھیں، ریفرنس میں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف، جنگ جیو نیوز کے مالک میر شکیل الرحمان کو نامزد کیا گیا تھا، سابق ڈی جی ایل ڈی اے ہمایوں فیض رسول اور ڈائریکٹر لینڈ ڈویلپمینٹ میاں بشیر احمد کو نامزد کیا گیا تھاا،پراسکیوٹر کے مطابق ملزم میر شکیل الرحمن نے 1، 1کنال کے 54 پلاٹ جوہر ٹاؤن کے ایچ بلاک میں میاں نواز شریف سے ایگزمپشن پر حاصل کئے ملزم میر شکیل نے نواز شریف کی ملی بھگت سے 2 گلیاں بھی الاٹ شدہ پلاٹوں میں شامل کرلیں میر شکیل نے اپنا جرم چھپانے کیلئے پلاٹ اپنی اہلیہ اور کمسن بچوں کے نام پر منتقل کرواٸے تھے،

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

  • چیف الیکشن کمشنر کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    چیف الیکشن کمشنر کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر

    تحریک انصاف نے چیف الیکشن کمشنر کیخلاف سپریم جوڈیشیل کونسل میں باضابطہ ریفرنس دائر کردیا۔

    تحریک انصاف کی جانب سے دائر ریفرنس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ جانبدار ہیں،مبینہ جانب داری کے باعث وہ اس عہدے کے اہل نہیں ہیں ، چیف الیکشن کمشنر کو اس کے عہدے سے ہٹایا جائے،

    ریفرنس دائر کرنے کے بعد تحریک انصاف کے رہنما اعجاز چودھری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ریفرنس دائر کرکے قوم کا قرض چکا دیا، اب فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل نے کرنا ہے،

    واضح رہے کہ عمران خان نے ہی سکندر سلطان راجہ کو چیف الیکشن کمشنر تعینات کیا تھا، اب عمران خان کی جماعت ہی اپنے لگائے گئے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کر رہی ہے، عمران خان جب سے وزیراعظم ہاؤس سے نکالے گئے ہیں تب سے وہ مسلسل چیف الیکشن کمشنر کے خلاف بیانات دے رہے ہیں ، گزشتہ روز بھی عمران خان نے بنی گالہ میں پریس کانفرنس کی اور چیف الیکشن کمشنر پر الزامات لگائے

    چیف الیکشن کمشنر کا پنجاب حکومت کیخلاف سپریم کورٹ میں ریفرنس بھجوانے کا اعلان

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے، ویڈیو وائرل

    نوجوان جوڑے پر تشدد کرنیوالے ملزم عثمان مرزا کے بارے میں اہم انکشافات