Baaghi TV

Tag: ریفرنڈم

  • امریکہ میں بھارت سے علیحدگی کیلئے ریفرنڈم

    امریکہ میں بھارت سے علیحدگی کیلئے ریفرنڈم

    واشنگٹن: امریکی ریاست سان فرانسسکو میں بھارت سے علیحدگی اور خالصتان کے قیام کے لیےریفرنڈم کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں ہزاروں سکھ ووٹ ڈالیں گے۔

    باغی ٹی وی: امریکہ میں خالصتان ریفرنڈم کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئیں جس کے لیے ریلیاں نکالی گئیں اور عوامی مقامات پر پمفلٹس تقسیم کیے گئے سکھ رہنماؤں نےعوامی اجتماعات سے خطاب میں بھارتی حکومت کی سکھوں سے امتیازی سلوک، غیر منصفانہ رویہ اور سکھوں کو کچلنے کے لیے کی جانے والے ہتھکنڈوں سے آگاہ کیا۔

    انتخابات 2024: ‏الیکشن کمیشن نے حتمی پولنگ اسکیم تیار کر لی

    واضح رہے کہ خالصتان ریفرنڈم کا آغاز 31 اکتوبر 2021 کو لندن سے ہوا تھا اور اب تک کینیڈا، سوئٹزرلینڈ اور اٹلی میں بھی ووٹنگ ہوچکی ہے،بھارتی حکومت پہلے ریفرنڈم کے بعد سے سکھ رہنماؤں کو بیرون ملک قتل کرنے کی سازش کر رہی ہے،کینیڈا کے وزیراعظم نے وہاں ایک خالصتان رہنما کے قتل میں بھارت کے ملوث ہونے کے شواہد پیش کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا تھا جب کہ امریکا نے بھی ایک سکھ رہنما کے قتل کی بھارتی سازش کو پکڑ کر اسے ناکام بنایا ہے۔

    پی ٹی آئی کی لاہور، کراچی ، پشاور سمیت مختلف علاقوں میں ریلیاں ،درجنوں …

    اس ملک کو صرف پاکستان پیپلزپارٹی ہی بچا سکتی ہے،بلاول

    روئٹرز خالصتان تحریک ایک آزاد سکھ ریاست کے لیے جدوجہد کی تحریک ہے جو کہ بھارت سے الگ اور 1947 میں بھارت اور پاکستان کی آزادی سے قبل کی طرح ہو جب یہ خیال بھارت اور پاکستان کے درمیان پنجاب کے علاقے کی تقسیم سے قبل ہونے والے مذاکرات میں پیش کیا گیا تھا۔

    سکھ مذہب کی بنیاد پنجاب میں 15ویں صدی کے آخر میں رکھی گئی تھی اور اس وقت دنیا بھر میں اس کے تقریباً2 کروڑ 50 لاکھ پیروکار ہیں، سکھ پنجاب کی آبادی کی اکثریت لیکن بھارت میں اقلیت ہیں، جو بھارت کی ایک ارب 40 کروڑ آبادی کا دو فیصد ہیں، سکھ علیحدگی پسندوں کا مطالبہ ہے کہ ان کا وطن خالصتان کو پنجاب سے الگ بنایا جائے اور اس کا مطلب خالص ہے۔

    یہ مطالبہ کئی بار سامنے آتا رہا ہے، سب سے نمایاں طور پر یہ مطالبہ 1970 اور 1980 کی دہائیوں میں ہونے والی بغاوت کے دوران سامنے آیا تھا، جس کی وجہ سے بھارتی پنجاب ایک دہائی سے زائد عرصے تک مفلوج ہو گیا تھا۔

  • کینیڈا میں خالصتان کےقیام کیلئےریفرنڈم کا نیا مرحلہ آج سےشروع

    کینیڈا میں خالصتان کےقیام کیلئےریفرنڈم کا نیا مرحلہ آج سےشروع

    وینکوور: سکھ فار جسٹس کے زیراہتمام کینیڈا میں خالصتان کے قیام کیلئے ریفرنڈم کا نیا مرحلہ آج شروع ہو گا-

    باغی ٹی وی :سکھ فار جسٹس کے زیراہتمام کینیڈا میں خالصتان کے قیام کیلئے ریفرنڈم کے نئے مرحلے کے تحت وینکوور میں 18 جون کو قتل کئے جانے والے خالصتان چیپٹر کے سربراہ ہردیپ سنگھ نجھر کے قتل کے مقام گرو نانک سکھ گورودوارہ میں آج ریفرنڈم منعقد ہوگا۔

    نجی خبررساں ادارے جیو سے بات کرتےہوئےوینکوورریفرنڈم سےمتعلق بات چیت کرتےہوئے کونسل آف خالصتان کے صدر ڈاکٹر بخشیش سنگ سندھو کا کہنا تھا کہ ہردیپ سنگھ کے قتل میں بھارت ملوث ہے، یہ ریفرنڈم اسی جگہ ہو رہا ہے جہاں بھارت نے ہردیپ سنگھ نجھر کو قتل کروایا تھا، 10 ستمبر کو لاکھوں کی تعداد میں کینڈین سکھ آزاد خالصتان کیلئے ووٹ دیں گے کینیڈا کے وزیراعظم نے بھی واضح طور پر کہا ہے کہ بھارت، کینیڈا کے معاملات میں مداخلت کر رہا ہے، ہم بھارت کے بھیانک چہرے کو دنیا کے سامنے لانے پر جسٹن ٹروڈو کے شکر گزار ہیں۔

    مراکش :تباہ کن زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1037 ہو گئی

    انہوں نے کہا کہ نریندر مودی مسلمانوں سکھوں اور دیگر اقلیتوں کا دشمن ہے، خالصتان ریفرنڈم میں ایک ملین سے زائد سکھ دنیا بھر سے ووٹ ڈال چکے ہیں، بھارت کچھ بھی کر لے سکھوں کی تحریک کو روک نہیں سکتا۔

    واضح رہے کہ کینیڈا میں تقریبا ساڑھے سات لاکھ سے زائد سکھ آباد ہیں، یہ تعداد بھارت کے بعد کسی بھی ملک میں رہنے والے سکھوں کی سب سے بڑی تعداد ہے، خالصتان کے حامیوں کے مطابق کینیڈا میں سکھوں کی تعداد 10 لاکھ سے بھی زائد ہے خالصتان کے قیام کیلئے دنیا بھرمیں آباد سکھوں کی رائے جاننے کیلئے ریفرنڈم کا آغاز 2021 میں لندن سے ہوا تھا، لندن میں اکتوبر 2021 میں ہونے والے پہلے ریفرنڈم میں 30 ہزار سے زائد سکھوں نے شرکت کرکے ووٹ ڈالا تھا۔

    سمندرمیں مستقل انسانی اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ

    سکھ فار جسٹس کے زیراہتمام برطانیہ کے پانچ شہروں کے علاوہ پیرس، اٹلی، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا اور آسٹریلیا کے تین تین شہروں سمیت اب تک دنیا کے دو درجن سے زائد شہروں میں ریفرنڈم کا انعقاد ہوچکا ہے۔

  • ایران میں آئین پر ریفرنڈم کا مطالبہ

    ایران میں آئین پر ریفرنڈم کا مطالبہ

    تہران: ایران میں بلوچ رہنماؤں نے آئین پر ریفرنڈم کا مطالبہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق جمعہ کو ایران میں بلوچوں کے مذہبی رہنما مولوی عبدالحمید نے ایرانی حکومت سے بین الاقوامی نگرانی میں عوامی ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کیا۔

    ایران کی طرف سے سعودی عرب کو دی جانےوالی دھمکیوں پرتشویش ہے،امریکا

    عبدالحمید نے زور دے کر کہا کہ مظاہرین کو قتل، قید اور مار پیٹ سے خاموش نہیں کیا جا سکتا عبدالحمید نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جو لوگ 50 دنوں سے سڑکوں پر مظاہرے کر رہے ہیں، حکومت انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکے گی۔

    ادھرکل جمعہ کے روزجنوب مشرقی ایران کے صوبہ سیستان-بلوچستان میں مظاہرے پھوٹ پڑے یہ مظاہرے کئی ہفتوں کی ملک گیر بدامنی کے بعد تازہ واقعہ ہیں جنوب مشرقی صوبہ سیستان و بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان میں ایرانی سکیورٹی فورسز کی مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں تین بچوں سمیت مزید چھ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔

    اس سے قبل سکیورٹی فورسز نے شہر میں کم از کم 82 افراد کو ہلاک کیا تھا۔ ان میں سے 66 30 ستمبر کو ایک ہی واقعے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جسے اب "بلڈی فرائیڈے” کے نام سے جانا جاتا ہے۔

    لوگ اس دن زاہدان کے ایک پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہوئے تھے تاکہ صوبے کے علاقے چابہار میں ایک ایرانی پولیس کمانڈر کی جانب سے 15 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کا احتساب کیا جائے۔

    ایران میں امریکی سفارتکار راب میلی نے اپنے ٹوئٹ پر معافی مانگ لی

    ملک کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد حراست میں مہسا امینی کی موت کے بعد شروع ہونے والے ملک گیر مظاہروں سے مایوس، اور ان کے کمانڈروں کے مظاہرین کا ‘بے رحمی سے مقابلہ’ کرنے کے حکم سے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے، سیکورٹی فورسز نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا مناسب سمجھا۔ نہتے بلوچ مظاہرین کے خلاف براہ راست گولہ بارود استعمال کرکے۔

    انٹرنیٹ پر ریکارڈ شدہ کلپس کے ذریعے دکھائی گئی ویڈیوز کے مطابق لوگ ایک گورنری کی سڑکوں سے گزر رہے تھے، جن میں سے کچھ نے پس منظر میں گولیوں کی آواز کے درمیان پتھر پھینکے، پولیس نے ان پر آنسو گیس کے گولے برسائے۔ ویڈیوز میں کچھ مظاہرین کو زخمی حالت میں دکھایا گیا ہے۔

    درایں اثنا ایران کی سرکاری ’ارنا‘ نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ مظاہرین نے سیستان بلوچستان کے شہر خاش میں ایک پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی اور مقامی گورنر کے دفتر پر حملہ کیا صوبہ سیستان بلوچستان، جس میں سنیوں کی اکثریت ہے، ایران میں حکومت کے خلاف کئی ہفتوں سے مسلسل مظاہرے دیکھے جا رہے ہیں۔

    30 ستمبر کو اس صوبے کے شہر زاہدان میں مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کی مداخلت کے نتیجے میں درجنوں افراد مارے گئے تھے، جسے ’بلڈی فرائیڈے‘ کا نام دیا گیا تھا۔

    کینیڈا نے ایران پرانسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں نئی پابندیاں عائد کردیں

    انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اس وحشیانہ واقعے کے دوران 90 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے یا گرفتار کر لیے گئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے زاہدان میں بچوں سمیت کم از کم 82 افراد کے قتل عام کی تصدیق کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں سے زیادہ تر کو سر یا دھڑ میں گولیاں ماری گئی ہیں، جو اسنائپرز کے استعمال اور قتل کے ارادے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اس کی تصدیق ایک بااثر مقامی رہنما مولانا عبدالحمید اور زاہدان کے ایک نیورو سرجن نے بھی کی ہے۔

    یہ واقعہ 1994 میں اسی مقام پر ایک اور خونی دن کی یاد دلاتا ہے، جب سیکورٹی فورسز نے مشہد شہر میں حکومت کی جانب سے سنی شیخ فیض مسجد کو مسمار کرنے کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے زاہدان میں مکی مسجد کے باہر جمع ہونے والے مظاہرین پر حملہ کیا تھا۔ صوبہ خراسان۔ درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔ کئی دہائیوں کے دوران ایران میں اقلیتوں کے لیے بہت کم تبدیلی آئی ہے۔

    16 ستمبر سے 22 سالہ مہسا امینی کی موت کے بعد پورے ایران میں مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔ مہسا کو ایران کی اخلاقی پولیس کے ہاتھوں گرفتار کیے جانے کے 3 دن بعد پولیس کی حراست میں قتل کردیا گیا تھا جس کے بعد ملک میں حکومت کے خلاف شدید غم وغصے کی لہر اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔

    ایران کیساتھ جوہری معاہدےکی بحالی کی ناکامی پر وقتِ ضرورت فوجی آپشن…

  • روس سے الحاق کیلئے یوکرین کے 4 صوبوں میں ریفرنڈم:روس ہمارا مرکز ہوگا:شہریوں کی کثرت کا فیصلہ

    روس سے الحاق کیلئے یوکرین کے 4 صوبوں میں ریفرنڈم:روس ہمارا مرکز ہوگا:شہریوں کی کثرت کا فیصلہ

    ماسکو:روس سے الحاق کیلئے یوکرین کے 4 صوبوں میں ریفرنڈم ہو رہا ہے۔ عالمی رہنماؤں نے مذمت کرتے ہوئے اسے ’غیرقانونی الحاق کا پیش خیمہ‘ قرار دیا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یوکرین کے صوبوں لوہانسک، ڈونیٹسک، کھیرسن اور زاپوریزہیا جو ملک کے تقریباً 15 فیصد علاقے کی نمائندگی کرتے ہیں، میں روس سے الحاق کیلئے جمعہ کو ریفرنڈم کا آغاز ہوا ووٹنگ منگل تک جاری رہے گی۔یوکرین اور اس کے اتحادیوں نے واضح کیا ہے کہ ریفرنڈم کے نتائج کو تسلیم نہیں کریں گے۔

    رپورٹ کے مطابق روس سے الحاق کیلئے ریفرنڈم پر ماسکو کے حامی حکام کی طرف سے مہینوں تک بحث کی جاتی رہی ہے۔روس کا اس حوالے سے مؤقف ہے کہ یہ خطے کے لوگوں کیلئے اپنے خیالات کے اظہار کا ایک موقع ہے۔

    روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے رواں ہفتے بتایا تھا کہ آپریشن کے آغاز سے ہی ہم نے کہا تھا کہ متعلقہ علاقوں کے لوگوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنا چاہئے اور موجودہ صورتحال اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ وہ اپنی قسمت کے مالک بننا چاہتے ہیں۔

    عالمی رہنماؤں نے اس ریفرنڈم کی مذمت کی ہے، مذمت کرنیوالوں میں امریکی صدر جو بائیڈن، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کے ساتھ ساتھ نیٹو، یورپی یونین اور یورپ میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم شامل ہے۔روسی صدر پوتن نے بدھ کو مزید 3 لاکھ فوجیوں کو جنگ میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    انہوں نے کہا تھا کہ اگر مغرب نے تنازع پر اپنی ’جوہری بلیک میلنگ‘ دکھائی تو ماسکو اپنے تمام وسیع ہتھیاروں کی طاقت سے جواب دے گا، ہمارے ملک کی علاقائی سالمیت کو خطرہ لاحق ہوا تو ہم اپنے لوگوں کی حفاظت کیلئے تمام دستیاب ذرائع استعمال کریں گے۔

     

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • بھارت کو بڑی سفارتی ناکامی کا سامنا،کینیڈا میں ریفرنڈم آج ہوگا

    بھارت کو بڑی سفارتی ناکامی کا سامنا،کینیڈا میں ریفرنڈم آج ہوگا

    بھارت کو بڑی سفارتی ناکامی کا سامنا ،بھارت کی خالصتان ریفرنڈم رکوانے کی ساری کوششیں بے کار گئیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق سیاسی کشیدگی کے پیش نظر مشتعل افراد نے ریفرنڈم سے قبل ایک مندر میں توڑپھوڑ کی تھی جس پر بھارتی حکومت نے کینیڈا سے کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

    سکھوں کیلئےعلیحدہ ملک "خالصتان” کے قیام پر کینیڈا میں ریفرنڈم،مہم کی حمایت میں ہزاروں گاڑیوں کی ریلی

    کینیڈین حکومت نے خالصتان ریفرنڈم رکوانے سے انکار کردیا کینیڈین حکومت کا کہنا ہے کہ خالصتان ریفرنڈم کو روکا نہیں جاسکتا، لوگوں کو آزادی اظہار کی اجازت ہے۔

    کینیڈین حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ خالصتان ریفرنڈم سکھوں کا قانونی و جمہوری حق ہے۔ کینیڈا میں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر کوئی اپنا جمہوری حق استعمال کر سکتا ہے۔

    خیال رہے کہ بھارت سے آزادی اور سکھوں کے لیے علیحدہ وطن خالصتان کے مطالبے کے لیے کینیڈا میں آج ریفرنڈم ہونے جا رہا ہےاس سے قبل برطانیہ سمیت مختلف یورپی ممالک میں بھی سکھوں کے علیحدہ وطن کے لیے ریفرنڈم ہو چکے ہیں جس میں ہزاروں کی تعداد میں افراد نے شرکت کی تھی۔

    قرضہ واپس نہ کرنے پرفنانس کپمنی نے حاملہ خاتون پرٹریکٹرچڑھا کرکچل دیا

    قبل ازیں ایس ایف جے کے جنرل کونسلر اور اس کے سرکاری ترجمان گروپتونت سنگھ پنن نے کہا تھا کہ کینیڈا کےسکھوں نےدکھایا ہے کہ وہ خالصتان کے قیام کے اپنے مطالبے میں کہاں کھڑے ہیں،مغرب میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والی تیسری نسل کے سکھوں میں ایک نئی بیداری کی صبح ہے-

    انہوں نے کہا تھا کہ یہ سکھ نوجوان ہیں جو اب خالصتان کے لیے مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔ 18 ستمبر کو ہونے والی ووٹنگ میں کئی دن باقی ہیں لیکن جوش و خروش بے مثال ہے۔ یہ ہندوتوا انتہا پسند مودی انتظامیہ کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔

    بھارت میں 2 دلت بہنیں اجتماعی زیادتی کے بعد قتل،لاشیں درختوں سے لٹکا دیں

  • سکھوں کیلئےعلیحدہ ملک "خالصتان” کے قیام پر کینیڈا میں ریفرنڈم،مہم کی حمایت میں ہزاروں گاڑیوں کی ریلی

    سکھوں کیلئےعلیحدہ ملک "خالصتان” کے قیام پر کینیڈا میں ریفرنڈم،مہم کی حمایت میں ہزاروں گاڑیوں کی ریلی

    ٹورنٹو: کینیڈین سکھوں نے خالصتان تحریک کی حمایت میں کار ریلی نکال کر ایک نیا ریکارڈ درج کرایا ہے ریلی میں کاروں اور مشہور کینیڈین ٹرکوں سمیت 2000 سے زائد گاڑیاں شامل تھیں۔

    باغی ٹی وی : دی نیوز کے مطابق سکھوں کیلئے علیحدہ ملک خالصتان کے قیام پر برطانیہ، سوئٹزر لینڈ اوراٹلی میں ریفرنڈم کے بعد اب 18 ستمبر کو کینیڈا میں ووٹنگ ہوگی سکھ فار جسٹس کے زیرِ اہتمام 18 ستمبر کو ٹورنٹو کے نواحی علاقے برامپٹن سے ریفرنڈم شروع کیا جائے گا۔
    https://twitter.com/sikhsikhsikh61/status/1567040080992243714?s=20&t=HU9XPmhzj0mLuRlLTmLHeA
    خالصتان ریفرنڈم کی ووٹنگ 18 ستمبر کو ووٹنگ گورنمنٹ کی ملکیت میں چلائی جانے والی سہولت برامپٹن کے گور میڈوز ریکریشن سینٹر میں ہوگی لیکن بڑے پیمانے پر سرگرمیاں پہلے ہی زوروں پر شروع ہو چکی ہیں۔

    خالصتان کے قیام کے لیے پنجاب کی بھارت سے علیحدگی کی حمایت


    سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں خالصتان اور برامپٹن میں ہونے والے خالصتان ریفرنڈم ووٹ کی حمایت میں مالٹن، اونٹاریو سے ہزاروں خالصتان کے جھنڈوں سے سجی گاڑیوں کی ایک بڑی قطار دیکھا جا سکتا ہے-


    کینیڈا میں مقیم سکھوں کی جانب سے مقامی افراد کی توجہ حاصل کرنے اور ریفرنڈم سے متعلق آگاہی کیلئے 5 میل لمبی کار ریلی بھی نکالی گئی، ٹورنٹو میں اتوار کی شب نکالی گئی کار ریلی میں دو ہزار سے زائد گاڑیوں نے شمولیت اختیار کی۔


    ریفرنڈم کے حوالے سے ٹرک ریلی کا بھی اہتمام کیا گیا جبکہ میگا بِل بورڈز پر خالصتان ریفرنڈم کی تشہیر بھی جاری ہے۔


    ان ویڈیوز میں خالصتان کے حامیوں کی ایک سے زیادہ کلومیٹر لمبی قطار دکھائی گئی ہے جو منفرد انداز میں سامنے آئے ہیں، جو کینیڈین ٹرک ڈرائیوروں کے حالیہ احتجاجی مظاہروں کی یاد دلاتا ہے جسے "آزادی قافلہ” کہا جاتا ہے جس میں ہزاروں ٹرک ڈرائیور اپنی گاڑیوں میں اپنے مطالبات کے لیے نکلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

    اٹلی میں خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد ، ووٹنگ کیلئے ہزاروں افراد کی شرکت

    18 ستمبر کو ہونے والی ووٹنگ سکھس فار جسٹس (SFJ) کی طرف سے منعقد کی گئی ہے،جو کہ ایک بین الاقوامی انسانی حقوق کی وکالت کرنے والی تنظیم ہے جو سکھوں کے حق خود ارادیت کے لیے مہم کی سربراہی کر رہی ہے۔

    ایس ایف جے کے جنرل کونسلر اور اس کے سرکاری ترجمان گروپتونت سنگھ پنن نے کہا کہ کینیڈا کےسکھوں نےدکھایا ہے کہ وہ خالصتان کے قیام کے اپنے مطالبے میں کہاں کھڑے ہیں۔


    گروپتونت سنگھ پنون نے کہا کہ کینیڈا کے سکھوں نے 5 کلومیٹر سےزیادہ کی کار ریلی کےلیےہزاروں کی تعداد میں نکل کرایک نیا ریکارڈ بنایا ہے۔ یہ ایک نیا واقعہ ہے اور مغرب میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والی تیسری نسل کے سکھوں میں ایک نئی بیداری کی صبح ہے-

    انہوں نے کہا کہ یہ سکھ نوجوان ہیں جو اب خالصتان کے لیے مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔ 18 ستمبر کو ہونے والی ووٹنگ میں کئی دن باقی ہیں لیکن جوش و خروش بے مثال ہے۔ یہ ہندوتوا انتہا پسند مودی انتظامیہ کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے۔

    برطانیہ کی نئی وزیراعظم لز ٹرس نے اپنی کابینہ کا اعلان کر دیا

    انہوں نے مزید کہا کہ سکھ خود ارادیت کا حق مانگ رہے ہیں جو اقوام متحدہ کے چارٹر میں ضمانت دیے گئے تمام لوگوں کے بنیادی حقوق میں سے ایک ہے بین الاقوامی معاہدہ برائے شہری اور سیاسی حقوق (ICCPR)۔

    18 ستمبر سے پہلے، ٹورنٹو میں خالصتان ریفرنڈم ووٹنگ سے پہلے، خالصتان کے حامی کارکن خالصتان بینرز کے ساتھ ٹرک ریلیاں نکال رہے ہیں، میگا بل بورڈز، نشانات پلستر کر رہے ہیں اور برامپٹن کے گردواروں میں تشہیری مواد تقسیم کر رہے ہیں۔

    خالصتان پرریفرنڈم کا آغاز گزشتہ برس 31 اکتوبر کو لندن سے ہوا تھاجسکےبعد سوئٹزرلینڈ اور اٹلی میں بھی ووٹنگ کرائی گئی ریفرنڈم میں اب تک بیرون ممالک میں مقیم ساڑھے چار لاکھ سے زائد سکھ حصہ لے چکے ہیں۔

    پنجاب ریفرنڈم کمیشن (PRC)، ریفرنڈم اور براہ راست جمہوریت پر غیر منسلک ماہرین کا ایک پینل، ووٹنگ کے طریقہ کار کی نگرانی کر رہا ہے تاکہ بیلٹنگ کے بین الاقوامی معیارات کی شفافیت اور تعمیل کو یقینی بنایا جا سکے۔


    ٹورنٹو، کینیڈا میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے 18 ستمبر کو ہونے والے ووٹنگ سینٹر کا نام شہید ہرجندر سنگھ پرہا کے نام پر رکھا گیا ہے تاکہ خالصتان کے حامی نوجوان سکھوں کے اعزاز میں رکھا جائے جو ہندوستان کے تناظر میں خالصتان کے لیے اس وقت کی جاری مسلح جدوجہد میں حصہ لینے کے لیے کینیڈا سے واپس انڈیا گئے تھے۔ فوج کا جون 1984 میں گولڈن ٹیمپل پر حملہ۔ ایک اسٹیجڈ پولیس مقابلے میں، بھارتی فورسز نے 1988 میں پرہا کو ماورائے عدالت قتل کر دیا تھا-

    امریکی ورلڈ آرڈرنہیں اب چلےگا’رشین ورلڈ:ولادیمیر پیوٹن نے نئی خارجہ پالیسی کی منظوری دیدی

    قبل ازیں رواں سال جون میں تاریخی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سکھ رہنماؤں نے بتایا تھا کہ ریفرنڈم میں حصہ لینے والوں سے صرف ایک سادہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ آپ کی رائے میں کیا بھارت کے زیرِانتظام پنجاب کو علیحدہ ملک ہونا چاہئے یا نہیں-

    انہوں نے بتایا تھا کہ برطانوی حکومت نے لندن میں ہمارے اظہار رائے کے اس جمہوری حق کا اس حد تک احترام کیا کہ ریفرنڈم کے انعقاد کے لئے سرکاری سنٹر بھی پیش کر دیا‘ اٹلی میں ریفرنڈم کے موقع پر بھارتی حکومت نے ہمارے لئے کافی مشکلات کھڑی کیں لیکن اٹلی میں بسنے والے سکھوں نے بڑی تعداد میں ریفرنڈم میں حصہ لیا۔

    سکھ رہنما گْرپتونت پَنوں نے کہا تھا کہ ہمیں کینیڈین اتھارٹیز کی جانب سےکسی قسم کی رکاوٹ کھڑے کئےجانے کا کوئی اندیشہ نہیں۔ انہوں نے واشگاف الفاظ میں چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے آئندہ وزیراعظم بننا ہے تو انہیں ہمارے ریفرنڈم والے معاملے پر بات کرنا ہوگی۔

    ایک سوال کے جواب میں علیحدگی پسند سکھ رہنماؤں نے کہا تھا کہ خالصتان کے معاملے پر بھارتی حکومت پاکستان اور پاکستانی اداروں پر بے بنیاد الزام لگاتی رہی ہےتو وہ امریکی سی آئی اے پر الزام کیوں نہیں لگاتے جہاں میں گرپتونت سنگھ اور ڈاکٹر بخشیش سنگھ بیٹھے ہیں۔ ہم امریکہ سے اپنی خالصتان کی ریفرنڈم تحریک کو آپریٹ کر رہے ہیں-

    ٹرمپ کا فاکس نیوز پرڈیموکریٹس کےایجنڈے کو آگے بڑھانے کا الزام، سی این این کو قدامت…

  • اسکاٹ لینڈ کا برطانیہ سے آزادی کے لیے ریفرنڈم کا شیڈول جاری کرنے کا اعلان

    اسکاٹ لینڈ کا برطانیہ سے آزادی کے لیے ریفرنڈم کا شیڈول جاری کرنے کا اعلان

    اسکاٹ لینڈ نے برطانیہ سے آزادی کے لیے ریفرنڈم کا شیڈول جاری کر دیا۔

    باغی ٹی وی :” الجزیرہ” کے مطابق اسکاٹش وزیر اعظم نکولا اسٹرجن نے برطانیہ سے علیحدگی کے حوالے سے پارلیمان میں ایک نئے ریفرنڈم کے لیے اپنا روڈ میپ پیش کر دیا ہے۔

    ایک چارج پر 1200 کلو میٹر طے کرنے والی مرسیڈیز نے اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

    اسکاٹش نیشنل پارٹی (ایس این پی) کی سربراہ سن 2023 کے موسم خزاں میں ایک ریفرنڈم کروانے کا منصوبہ رکھتی ہیں ریفرنڈم میں ملک کے تقریباً 5.5 ملین باشندے برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے یا برطانیہ کے ساتھ رہنے کے لیے ووٹ ڈالیں گے۔

    سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن نے اگلےسال اکتوبرمیں سکاٹ لینڈ کی آزادی پر دوسرے ریفرنڈم کےانعقاد کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے، جس میں برطانوی حکومت نے اسے روکنے کی کوشش کی تو ووٹ کو یقینی بنانے کے لیے قانونی کارروائی کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    اسٹرجن نے منگل کے روز کہا کہ اسکاٹش حکومت، جس کی قیادت اس کی حامی اسکاٹش نیشنل پارٹی کر رہی ہے، بعد میں ایک ریفرنڈم بل شائع کرے گی، جس میں 19 اکتوبر 2023 کو ہونے والے علیحدگی کے ووٹ کے منصوبوں کا خاکہ پیش کیا جائے گا۔

    ترک ڈاکٹرز کا کارنامہ، 9 گھنٹے میں دھڑ جڑے بچوں کو الگ کرکے عالمی ریکارڈ بنا دیا

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کو ایک مشاورتی ریفرنڈم کے انعقاد کی اجازت کے لیے خط لکھیں گی، لیکن اگر وہ ان منصوبوں کو روکتے ہیں تو قانونی اختیار حاصل کرنے کے لیے پہلے سے ہی حرکت میں آ چکے ہیں۔

    اسٹرجن نے منحرف سکاٹش پارلیمنٹ میں قانون سازوں کو بتایا کہ "میں جو کرنے کو تیار نہیں ہوں، جو میں کبھی نہیں کروں گا، سکاٹش جمہوریت کو بورس جانسن یا کسی بھی وزیر اعظم کا قیدی بننے کی اجازت نہیں دے گا-

    تقریباً 5.5 ملین کی آبادی والے سکاٹ لینڈ کے ووٹروں نے 2014 میں آزادی کو مسترد کر دیا تھا۔ لیکن سکاٹ لینڈ کی نیم خودمختار حکومت نے کہا ہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کا مطلب ہے کہ اسکاٹ کی اکثریت نے اس کی مخالفت کی تھی۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم اسٹرجن بریگزٹ کے بعد اسکاٹ لینڈ کو ایک آزاد ملک کے طور پر یورپی یونین میں واپس لانے کی خواہاں ہیں-

    امریکا نے چین اور پاکستان سمیت دیگر ممالک کی 36 کمپنیوں کو تجارتی بلیک لسٹ میں…

  • اٹلی میں خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد ، ووٹنگ کیلئے ہزاروں افراد کی شرکت

    اٹلی میں خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد ، ووٹنگ کیلئے ہزاروں افراد کی شرکت

    اٹلی میں سکھ فار جسٹس کی جانب سے خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا-

    باغی ٹی وی : بھارت سے خالصتان کی آزادی کی تحریک اٹلی پہنچ گئی ہے جہاں سکھ فار جسٹس کی جانب سے خالصتان ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا اٹلی کے شہر بریشیا میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا، خالصتان ریفرنڈم میں تقریباً 40 ہزار ووٹ کاسٹ کیےگئے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق خالصتان پر ووٹنگ صبح 9 سے شام 5بجےتک بغیر وقفےکےجاری رہی، تقریباً 10 ہزار لوگ وقت ختم ہونے کےباعث ووٹ نہ ڈال سکے، اٹلی کے مختلف شہروں میں تقریباً 2 لاکھ سکھ آباد ہیں۔

    سکھ برادری سے تعلق رکھنے والوں کی بڑی تعداد ووٹنگ سینٹر کے باہر موجود تھی، ووٹنگ میں حصہ لینے والوں کا مطالبہ تھا کہ بھارت خالصتان کو آزاد کرے اور اقوام عالم بھارت میں سکھوں پر ہونے والے مظالم کا نوٹس لے۔

    خالصتان ووٹنگ سے ایک روز قبل ہزاروں سکھوں نے مارچ کیا جس کا مقصد بیساکھی کے موقع پر خالصتان کی اہمیت کو اجاگرکرنا تھا خالصتان مارچ میں عورتوں ، بچوں اور مردوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی، سکھوں نے بھارت سے آزادی کے لیے نعرے لگائے۔

    نائجیرین ایئر لائن نے اپنی پروازیں معطل کر دیں

    واضح رہے کہ علیحدہ سکھ وطن کے لیے ریفرنڈم کا آغاز گزشتہ سال 31اکتوبر کو لندن سے ہوا تھا اور اب تک برطانیہ اور دیگر ممالک کے مختلف شہروں میں ہونے والی پولنگ میں ہزارسکھوں نے حصہ لیا ہےاس عمل کے ذریعے بھارت کو سکھوں کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کرنے کا سخت پیغام بھی دیاگیا۔

    ریفرنڈم کے نتائج کو اقوام متحدہ اور دیگربین الاقوامی اداروں کو پیش کیا جائے گا تاکہ بھارت میں سکھوں کے لیے علیحدہ وطن کے حوالے سے وسیع تر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔سکھوں کا علیحدہ وطن کا مطالبہ اقوام متحدہ کے چارٹر سے مکمل مطابقت رکھتا ہے اور بھارت انہیں آزادی کا پیدائشی حق حاصل کرنے سے نہیں روک سکتا۔

    سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز علیل،اسپتال منتقل

  • خالصتان ریفرنڈم کا آٹھواں مرحلہ آج برطانیہ بھرمیں شروع ہوچکا:بھارت سخت پریشان

    خالصتان ریفرنڈم کا آٹھواں مرحلہ آج برطانیہ بھرمیں شروع ہوچکا:بھارت سخت پریشان

    اسلام آباد:خالصتان ریفرنڈم کا آٹھواں مرحلہ آج برطانیہ بھرمیں شروع ہوچکا:بھارت سخت پریشان ،اطلاعات کے مطابق خالصتان ریفرنڈم کا آٹھواں مرحلہ آج برطانیہ کے شہروں لیڈز اور لوٹن میں ہونے جا رہا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے آج جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکھوں کے علیحدہ وطن کے لیے ریفرنڈم 31 اکتوبر 2021 کو لندن سے شروع ہوا اور لندن میں خالصتان ریفرنڈم کے پہلے مرحلے میں 30ہزار سے زائد سکھوں نے حصہ لیا۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خالصتان ریفرنڈم میں ڈالے گئے ووٹوں کی مجموعی تعداد اب تک 200,000 سے تجاوز کر چکی ہے، ریفرنڈم میں سکھوں کی بڑے پیمانے پر شرکت نے مودی کی فسطائی بھارتی حکومت کو بے چین کر دیا ہے۔رپورٹ میں کہا گیاہے کہ مودی نے برطانیہ میں ریفرنڈم کو روکنے کی بھرپور کوشش کی تھی اور سکھوں کے ریفرنڈم کو روکنے کی بھارتی کوششیں بری طرح ناکام ہوچکی ہیں ۔

    خالصتان ریفرنڈم میں سکھوں کے علیحدہ وطن کے لیے تاریکن وطن سکھوں سے رائے معلوم کی جارہی ہے۔رپورٹ میں مزید کہاگیا کہ سکھ ریفرنڈم مستقبل میں امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور بھارتی پنجاب میں بھی ہوگا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خالصتان ریفرنڈم سے سکھوں کے خلاف امتیازی سلوک کے خاتمے کے لیے بھارت کو سخت پیغام دیاگیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق ریفرنڈم کے نتائج کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کوپیش کیاجائے گا تاکہ وسیع تر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکھوں کا علیحدہ وطن کا مطالبہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہے اور بھارت سکھوں کو ان کا پیدائشی حق آزادی حاصل کرنے سے نہیں روک سکتا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خالصتان کے نام سے سکھوں کا علیحدہ وطن دیوار پر لکھا جاچکا ہے۔

  • برطانیہ میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ مکمل

    برطانیہ میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ مکمل

    برطانیہ میں خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ مکمل ہوگئی، جس کے نتائج کا اعلان پنجاب ریفرنڈم کمیشن ووٹنگ کے تمام مراحل مکمل ہونے پر کرے گا۔

    باغی ٹی وی : مقامی وقت کے مطابق ووٹنگ صبح 10 سے شام 5 بجے تک جاری رہی جس میں خواتین سمیت بزرگ سکھوں نے بھی حصہ لیا۔

    خالصتان ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ کا انعقادسکھ فار جسٹس کے زیراہتمام کیا گیا جبکہ سلاو اور اس کے گردونواع کے 10 ہزار سے زاہد سکھوں نے ووٹنگ میں حصہ لیا اس کے علاوہ سارا دن سکھ رہنما آزاد خالصتان کے حق میں نعرے بھی بلند کرتے رہے۔

    بھارت: سکھوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی کا الزام،چوبیس گھنٹوں میں دو افراد قتل

    سکھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ سکھ برادری بھارت کے ناروا اور انسانیت سوز سلوک کے آگے ڈٹ کر کھڑی ہوگئی بھارت سکھوں کی آزادی کی تحریک کو طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کررہا ہے۔

    اس سے قبل برطانیہ میں خالصتان کے قیام کے لیے ریفرنڈم کے تیسرے مرحلےکی ووٹنگ کیلئے ووٹ ڈالنے والوں کا کہنا تھا کہ سکھ آزادی کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، سکھ کمیونٹی نے آزادی کےلیےگولی کے بجائے ووٹ کو ترجیح دی ہے۔

    ووٹرز کا کہنا تھا کہ بھارت سکھوں کی حق کی آواز کو زیادہ دیر نہیں دبا سکتا، پنجاب میں رہنے والے تمام مذاہب کے لوگ بھارت سے آزادی چاہتے ہیں، ریفرنڈم کے ذریعے اپنا وطن حاصل کرنے کا بہترین موقع ملا ہے، سکھوں کی آزادی کا خواب جلد پورا ہوگا۔

    بھارت میں مذہبی اقلیتیں خوف ودہشت کے عالم میں:بقااوراحیا بھی خطرےمیں:رپورٹ جاری

    سکھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پنجاب کی آزادی پر مہر لگانے کے لیے صبح سے ہزاروں سکھ اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں، ریفرنڈم کرواکر کئی ممالک نے آزادی حاصل کی ہے، جونا گڑھ بھی ریفرنڈم کے ذریعے بھارت کا حصہ بنا تھا۔

    دوسری جانب بھارتی حکام خالصتان ریفرنڈم سے خوفزدہ ہیں جس کے پیش نظر بھارتی حکام نے سکھوں کو ریفرنڈم میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے این آر آئی کارڈ اور ویزے منسوخ کرنے کی دھمکیاں دیں-

    واضح رہے کہ کینیڈا میں سکھ فار جسٹس بھارت میں سکھوں کے علیحدہ وطن سے متعلق مقدمے کے پہلے مرحلے میں کامیابی حاصل کرچکی ہے, کینیڈا کی عدالت کے فیصلے میں پاکستان پر سکھوں کی ریفرنڈم کیمپین کی پشت پناہی کا الزام غلط ثابت ہوا تھا۔

    سکھوں کے مقدس مقامات گولڈن ٹمپل کی بے حرمتی کرنے والا نوجوان ہلاک کر دیا گیا

    یاد رہےکہ اندرا گاندھی کو آپریشن بلیو اسٹار کا حکم دینے پر ان کے سکھ باڈی گارڈز نے 31 اکتوبر کو ہلاک کردیا تھا، اس قتل کے بعد بھارت میں ہزاروں سکھوں کو چن چن کر قتل کیا گیا جب کہ پولیس اہلکار ہنگامہ آرائی کرنے والوں کو روکنے کے بجائے تماشہ دیکھتے تھے۔

    یہی نہیں بعض واقعات میں پولیس اہلکاروں نے ووٹر لسٹیں بھی حملہ آوروں کو فراہم کیں، اس کے پیش نظر سکھوں نے 31 اکتوبر کی مناسبت سے آزادی کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

    بھارت: ہم جنس پرست جوڑے نے شادی کرلی