Baaghi TV

Tag: ریل

  • تاریخی مدرسے دارالعلوم دیوبند میں خواتین اور لڑکیوں کے داخلے پر پابندی

    تاریخی مدرسے دارالعلوم دیوبند میں خواتین اور لڑکیوں کے داخلے پر پابندی

    بھارت کے معروف ،تاریخی دینی مدرسے دارالعلوم دیو بند میں خواتین اور لڑکیوں کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے، انتظامیہ کی جانب سے کہا ہے کہ مدرسے کے احاطے میں خواتین کو اب آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی

    دارالعلوم دیوبند کے سربراہ مفتی ابوالقاسم نعمانی نے اس ضمن میں ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ دارالعلوم کے احاطے میں خواتین اور لڑکیوں کا داخلہ سختی سے منع کر دیا گیا ہے سیکورٹی عملہ خواتین اور لڑکیوں کو اندر ہر گز نہ آنے دیں،دارالعلوم دیوبند میں خواتین اور لڑکیوں کے داخلے پر پابندی عوامی حلقوں کی جانب سے اس اعتراض کے بعد لگائی گئی کہ خواتین اور لڑکیاں ویڈیو بناتی ہیں، تصاویر بناتی ہیں اور پھر سوشل میڈیا پر ریل اور ٹک ٹاک پر اپلوڈ کرتی ہیں، جس سے دارالعلوم دیوبند کو نہ صرف بھارت بلکہ دنیا بھر میں بدنام کیا جا رہا ہے کہ خواتین اور لڑکیاں دارالعلوم دیوبند میں جا کر ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کر رہی ہیں

    دارالعلوم دیوبند کے سربراہ مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی کا کہنا ہے کہ راشدیہ مسجد میں خواتین اور لڑکیوں کے داخلے پر پہلے ہی پابندی تھی جسے اب پورے کمپلیکس میں نافذ کر دیا گیا ہے، سیکورٹی عملے کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خواتین اور لڑکیوں کو پابندی کے حوالہ سے آگاہ کریں اور کسی کو گیٹ سے اندر نہ آنے دیں،

    دارالعلوم دیوبندایک دینی مدرسہ ہے جہاں طلبا کی بڑی تعداد زیر تعلیم ہے، دینی مدرسے کے احاطے میں خواتین کی جانب سے آ کر ویڈیو بنانے کا معاشرے میں اچھا اثر نہیں جا رہا تھا،اب دارالعلوم دیوبند میں نیا تعلیمی سیشن بھی شروع ہو گیا ہے، زیادہ رش کی وجہ سے طلبا کی پڑھائی بھی متاثر ہوتی ہے، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دارالعلوم دیوبند تاریخی مقام ہے لیکن یہاں بے حیائی کی حدیں پار کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی،خواتین نے ریل میں نامناسب حرکات بھی کیں جس پر نہ صرف بھارت بلکہ بیرون ملک سے بھی دارالعلوم دیوبند کی انتظامیہ کو پیغامات موصول ہوئے تھے.

    بشریٰ بی بی کامیڈیکل چیک اپ کروایا جائے، تحریک انصاف کا مطالبہ

    بشریٰ بی بی کو زہر دے کر عمران خان کو جھکانے کی کوشش کی جارہی ہے،زرتاج گل

    کھانے میں زہر،کوئی ثبوت ہے؟ صحافی کے سوال پر بشریٰ بی بی "لال” ہو گئیں

    توشہ خانہ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزا معطل 

    زلفی بخاری میری بیٹیوں کو کالز کرتا ہے، خاور مانیکا عدالت میں پھٹ پڑے

    خاور مانیکا انٹرویو اور شاہ زیب خانزادہ کا کردار،مبشر لقمان نے اندرونی کہانی کھول دی

    ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    غیر شرعی نکاح کیس،سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی پر فرد جرم عائد

  • آسمان سے گرا۔ کھجور میں اٹکا

    آسمان سے گرا۔ کھجور میں اٹکا

    آسمان سے گرا۔ کھجور میں اٹکا

    تحریر۔ محمد انور بھٹی

    بچپن سے یہ محاورہ سنتے آئے ہیں کہ آسمان سے گرا کجھور میں اٹکا۔ یعنی ایک آفت سے نکلا تو دوسری میں پھنس گیا میں نے بچپن میں اس کے بارے میں زیادہ سوچا نہیں۔ لیکن آج یہ محاورہ پھر سے میرے ذہن میں آیا تو میں نے اس کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔تو مجھے اس کا اطلاق ریلوے کے ضعیف العمر پینشنرز،بیواؤں اور یتیم بچوں پر ہوتا نظر آیا۔کیونکہ ریلوے کے یہ ریٹائرڈملازمین آج کل کچھ اسی صورت حال سے دوچار ہوتے ہوئے نظر آرہےہیں۔پاکستان ریلوے ملازمین دورانِ سروس جن مشکلات،دشواریوں اور پریشانیوں کا سامنا کرتے ہیں شاید ہی کسی اور سرکاری ادارے کے ملازمین کو ایسی پریشانیوں اور تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہو۔یہ اپنے پیاروں سے سینکڑوں میل دور جنگلوں، تپتے صحراؤں ،ٹھٹھرتے ہوئے میدانوں اور سنگلاخ چیٹانوں کے درمیان اپنی ڈیوٹیاں سر انجام دیتے ہیں ۔یہاں دورانِ سروس انہیں جن دکھوں ،تکالیف اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کی ایک لمبی تفصیل ہے جس پر ایک پوری کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ ان تمام پریشانیوں اور تکالیف کے باوجود بھی یہ ملازمین اپنی ڈیوٹیاں خندہ پیشانی، عزم ،حوصلہ اور ایمانداری کے ساتھ سر انجام دیتے ہیں۔دوران سروس ہر ایک ملازم کی دو اہم ترجیحات ہوتی ہیں ۔ایک تو یہ اپنے ادارے کی ساکھ کو کبھی مجروح نہیں ہونے دیتے ہیں دوسرا ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا خاندان معاشرے میں اچھے سے اپنی زندگی گزار سکیں۔ اور جب یہ اپنی سروس مکمل کر چکیں تو یہ اس معاشرے میں عزت اور وقار کے ساتھ باقی مانندہ زندگی برابری کی سطع پر گزار سکیں۔ریٹائرڈ منٹ کے بعدان کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ اِن کے اہل خانہ کے سر پر بھی اپنی چھت ہوگی۔ یہ بھی اپنے جواں سال بیٹوں کے سروں پر سہرے سجائیں گے۔ اپنی بیٹیوں کے ماتھے پر جھومر سجاکرانکےہاتھوں پر مہندی رچاکر انکی ڈولیوں کو سجا کر اپنے گھروں کو باعزت طریقےسے روانہ کریں گے۔

    مگر انتہائی قابل افسوس امر بات ہے کہ جن محنت کشوں نے بڑی جاں فِشانی کے ساتھ اپنی زندگی کےتیس سے (30) سے چالیس (40) سال اپنے ادارے اور ملک وقوم کی خدمت میں قربان کئےاور اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ آج ان محنت کشوں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ادارے اور ریاست کی جانب سے جس بے اعتنائی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے جو ناروا سلوک روا رکھا گیا ہے اس کی انسانی معاشرے میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔اپنی سروس مکمل کرنے کے بعد اور دوران سروس وفات پاجانے والے ملازمین کے خاندانوں کوریاست کی جانب سے ان کے واجبات کی ادائیگی نہ کئے جانے کی وجہ سے یہ ضعیف العمرریٹائرڈ ملازمین، بیوائیں اور یتیم بچے معاشی اور معاشرتی طور پر انتہائی کسمپرسی اور بدحالی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ معاشی بدحالی کے سبب ذہنی دباؤ اور تناؤ کا شکار ہوکر یہ محنت کش مختلف قسم کی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوکرمعذوری کا شکار ہوکر ویل چیئر اور چارپائیوں پر آچکے ہیں اکثیریت بیماریوں کی تاب نہ لاکر اپنی آنکھوں میں اپنے جواں سال بچوں کے ماتھے پر سہرے سجانے ،بیٹیوں کو اپنے ہاتھوں سے ڈولی میں بٹھانے اور اپنے بچوں کے سروں پر اپنی چھت ہونےکے خواب سجائےہوئے بے بسی اور بے کسی کے ہاتھوں مجبور ہوکر اس دارِ فانی سے کوچ فرماچکے ہیں۔باقی ماندہ اپنے حقوق کے حصول کی مد میں ارباب اختیار کے دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔مگر ان کی داد وفریاد سننے والا کوئی نہیں ہے ۔ جبکہ یہ ریاست کی اولین ذمہ داری اور فرائض میں شامل ہے کہ ہے کہ وہ ان محنت کشوں کی جانب سے پیش کی جانے والی اعلٰی خدمات اور قربانیوں کے صلے میں ان کےحقوق کی ادائیگی بڑی خندہ پیشانی اور جذبہ ایثار کےساتھ ادا کرتی۔

    وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا

    کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

    زیاں اور خسارہ بلا شبہ ناکامی کی علامت ہے لیکن زیاں سے بھی بڑھ کرالمیہ یہ ہے کہ فرد یا ملت کے دل ودماغ سے (احساس زیاں)بھی جاتا رہے۔ چِہ جائےکہِ ریاست کی جانب سے اِ ن محنت کشوں کو ان کے جائز اور بنیادی حقوق کے حصول میں آسانیاں پیدا کی جاتی۔مگر ان کو ان کے حقوق حاصل کرنے کی مد میں اس قدر پیچیدگیاں پریشانیا ں اور مشکلات کھڑی کردی گئی ہیں ۔کہ ان محنت کشوں کو اپنے حقوق کے حصول کی خاطر اپنے جان جوکھوں میں ڈالنی پڑتی ہے۔ ان قانونی پیچیدگیوں اور بھول بھلیوں کے سبب ان کی عزت نفس بھی مجروح ہونے سے محفوظ نہیں رہ پاتی ہے۔ باقی تمام واجبات کی ادائیگیاں تو اپنی جگہ بے حسی، لا قانونیت اور مردہ ضمیری کی یہ حد ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے واضع ہدایات کے باوجود ان کو انکی ماہانہ پینشن کی ادائیگی بھی بروقت نہیں کی جارہی ہے ۔

    عمر کے اس حصے میں ان ضعیف العمر پینشنرز ، بیواؤں اور یتیم بچوں کی زندگی گزارنے کا تمام تر دارمدار اس پینشن کی مد میں ملنے والی رقم پر ہے۔اس کے علاوہ ان کا اور کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔پینشن کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں انہیں اس معاشرے میں جن گھمبیر صورت حال سے دوچار ہونا پڑتا ہے یہ ادارے ،ریاست اور حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔پاکستان ریلوے کے پینشنرز کی ادائیگی کو اتنا طویل اور بوجھل بنادیا گیا ہے کہ پینشن کی ادائیگی پچھلے ایک سال سے مسلسل تاخیر کاشکار ہورہی ہے ۔وزارت ریلوے کی مالیاتی ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے پینشن کی مد میں درکار فنڈ کیلئے ہر ماہ کی 22 تاریخ کو وزارت خزانہ کو درخواست بھیجی جاتی ہے۔التجا کی جاتی ہے ۔کہ پینشنرز کو ان کی پینشن کی ادائیگی کے لیئے فنڈ جلد مہیا کئے جائیں تاکہ ان کی پینشن کی بروقت ادائیگی کردی جائے۔ وزارت خزانہ آفس اس درخواست پر عمل درآمد کرکے اس درخواست کو ایک ہفتہ میں نمٹا دے تو اس کو پینشنرز کے لیے خوش بختی کی علامت سمجھاجائے وگرنہ دوسرا ہفتہ بھی اسی کاروائی میں گزرجاتا ہے۔ اس کے بعد اے جی پی آر کی اپنی بھول بھلیوں والا کھیل شروع ہوجاتا ہےاس کھیل کو کھیلنے کے لیئے انہیں بھی دو سے تین روز درکار ہوتے ہیں ۔ان تمام مراحل سے گزرنے کے بعد کہیں جاکراس پینشن کی مد میں درکار فنڈ کو اسٹیٹ بینک کی رونق بننانصیب ہوتاہے ۔اسٹیٹ بینک کی راہداریوں سے ہوتا ہوا یہ فنڈ اب پاکستان میں موجود مختلف کمرشل بینکوں کو بھیج دیا جاتا ہے اور یہی وہ مرحلہ ہے جہانپر یہ مثال صادر آتی ہے کہ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا ۔ پاکستان کے کمرشل بینکوں نے اپنی اپنی ترجیحات کے مطابق اپنی اپنی پالیسیاں ترتیب دی ہوئی ہیں ۔کیونکہ ان کو پینشنرز کی ترجیحات کے مقابلے میں اپنی ترجیحا ت انتہائی عزیز ہیں ۔ بظاہر تو یہ رقم پینشنرز کی امانت ہوتی ہے مگر حقیقت اس کے یکسر مختلف ہے۔یہی وجہ ہے یہ پینشنرز کی پینشن اپنی سہولت کے مطابق ان کے اکاؤنٹ میں منتقل کرتے ہیں ۔شنید ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پینشنرز کے حقوق کے تحفظ کے لیئے کئی قانون اور قائدے بنائے گئے ہیں جن کے مطابق تمام کمرشل بینکوں کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ پینشنرز کو اولین ترجیح دیکر اُن کی پینشن کی رقم اُن کے اکاؤنٹ میں بروقت منتقل کرنے کے پابند ہونگے۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ احکامات لگتا ہے کہ کمرشل بینکوں کے نزدیک کسی اہمیت کے حامل نہیں ہیں یہ احکامات صرف کاغذ کے ٹکڑے کی زینت بننےتک محدود ہیں۔ ضعیف، لاغر ،بیمار اور معاشی حالات کےستائے ہوئے یہ پینشنرز جب اپنی پینشن کی حصولی کے لیئے بینکوں میں پہنچتے ہیں تو انہیں بینک انتظامیہ کی جانب سے جس بے توقیری اور ہتک آمیز رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اُس کی کسی بھی انسانی معاشرے میں مثال نہیں ملتی ہے۔کمر شل بینکوں کے برتاؤ اور سخت گیر رویوں سے یوں ظاہر ہوتاہے کہ ان ضعیف العمر پینشنرز، بیواؤں اور یتیم بچوں کا وجود ان کمرشل بینکوں پر ایک وزن کم نہیں ہے۔جبکہ کریڈٹ کارڈ سروس ، ایس ایم ایس اور باقی دوسری سہولیات کی مد میں ان کمرشل بینکوں کو پینشنرز سے لاکھوں روپے وصول ہوتے ہیں اس کے باوجوداسٹیٹ بینک سے پینشن کی مد میں درکار فنڈ ان بینکوں کو منتقل ہوجانے کے بعد کمرشل بینک اس رقم کو دو تین روز تک اپنے پاس رکھنے کو اپنا حق تصور کرتے ہیں ۔ یہ پینشنرز کے ساتھ جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام چلاتے ہیں ۔ پینشنرز کی پینشن کے فنڈ ان کےپاس موجود ہونے کے باوجود یہ مختلف حیلے اور بہانے تراش کر اُن کی پینشن کی رقم کبھی بھی بروقت ان کے اکاؤنٹ میں منتقل نہیں کرتے ہیں ۔جس کی وجہ سے ان مجبور ولاچار پینشنرز کو بیماری کی حالت میں بار بار بینکوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے انہیں ذہنی تناؤ کے ساتھ ساتھ جسمانی تکالیف اور معاشی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ مگر بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہ لوگ جنہوں نے اپنی تمام تر ذاتی خواہشات اور ترجیحات کو بالائے طاق رکھتے ہوئےاس ملک وقوم کی خدمت اور ادارے کے وقار کی بحالی کو فوقیت دی۔ و ہ لوگ آج بد ترین زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان کی داد رسی کرنے والا آج کوئی نہیں ہے انکی بیوائیں اور یتیم بچے جس طرح کسمپرسی اور بد حالی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہیں آج ان کے لیئے سوموٹو لینے والا کوئی نہیں ہےان بہتری اور فلاح کے لیئے کوئی قانون سازی کرنے والا نہیں ہے حد تو یہ ہے کہ جوتھوڑی بہت قانونی مراعات اِن کوتفویض کی گئی ہیں ان پر بھی عمل درآمد کرنے کی کسی میں سکت نہیں ہے۔آخر میں اتنا ضرور کہوں گا کہ ریاست ایک ماں کا درجہ رکھتی ہے ۔اورماں بے لوث محبت، شفقت، اپنائیت، قربانی کا دوسرا نام ماں ہے۔میری اس ریاست کے مطلق اختیار رکھنے والوں سے بدستہ عرض کرتا ہوں کہ خدارا یہ ضعیف العمر پینشنرز اس ملک اور قوم کے لیئے ایک قیمتی اثاثہ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ انہوں نے اس ملک اور قوم کے لیئےاپنی خدمات سر انجام دینے کے ساتھ ساتھ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ خداراانکی قدر کیجئے یہ اپنے حقوق کے حصول کی خاطر دو سال سے ادھر اُدھر مارے مارے پھر رہے ہیں ان کو انکے حقوق لوٹائے جائیں۔ وہ بیوائیں اور یتیم بچے جن کو انکے ڈیوز کی ادائیگی نہ ہونے کے سبب آج بے سرو سامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں انکو ان کے رکے ہوئے ڈیوز کی فوری طورپر ادائیگی کا بندوبست کیا جائے۔ آخر میں میری گورنر اسٹیٹ بینک سے التجا ہے کہ آپ کی طرف سے پینشنرز کی سہولیات کی مد میں کمرشل بینکوں کے لئے جو قانون/ ہدایات جاری کی گئی ہیں ان پر کمرشل بینکوں کو سختی کے ساتھ عمل درآمد کرنے کا پابند بنایا جائے۔تاکہ یہ ضعیف العمر پینشنرز، بیوائیں اور یتیم بچے بھی اس معاشرے میں باعزت اور باوقار زندگی گزار سکیں۔

    خدا رحم کرتا نہیں اس بشر پر

    نہ ھو درد کی چوٹ جس کے جگر پر

    کسی کے مصیبت گزر جاۓ سر پر

    پڑے غم کا سایہ نہ اس بے اثر پر

    کرو مہربانی تم اہل زمین پر

    خدا مہربان ھو گا عرش بریں پر

  • صدیوں پرانا روٹ بحال، چین نے انقلاب برپا کردیا:چین کی کارگو ٹرین افغانستان پہنچ گئی

    صدیوں پرانا روٹ بحال، چین نے انقلاب برپا کردیا:چین کی کارگو ٹرین افغانستان پہنچ گئی

    افغانستان اور چین کے مابین تجارت کا اہم سنگ میل اور افغان معیشت کیلئے بڑی خبر ہے کہ چین سے تجارتی کارگو ٹرین افغانستان پہنچ گئی۔

    چین سے روانہ ہونے والی تجارتی کارگو ٹرین کرغیزستان اور ترکمانستان سے ہوتے ہوئے صدیوں پرانے سلک روٹ استعمال کرتے ہوئے جمعرات کو تجارتی سامان لے کر چین سے افغان دارالحکومت کابل پہنچی۔

    یہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت میں ایک اہم سنگ میل ہے۔افغانستان میں چین کے سفیر، امارات اسلامیہ کے اعلیٰ حکام اور وزراء نے چین سے آنے والی تجارتی ٹرین کا استقبال کیا۔

    کرغیزستان اور ازبکستان سے سلک روٹ کو استعمال کرتی ہوئی یہ ٹرین 10 روز میں افغانستان پہنچی ہے، دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کے اس صدیوں پرانے روٹ کی بحالی سے معیشت میں بہتری کی قومی امید ہے۔

    صحافیوں کے خلاف مقدمات، شیریں مزاری میدان میں آ گئیں، بڑا اعلان کر دیا

    سرکاری زمین پر ذاتی سڑکیں، کلب اور سوئمنگ پول بن رہا ہے،ملک کو امراء لوٹ کر کھا گئے،عدالت برہم

    جتنی ناانصافی اسلام آباد میں ہے اتنی شاید ہی کسی اور جگہ ہو،عدالت

    اسلام آباد میں ریاست کا کہیں وجود ہی نہیں،ایلیٹ پر قانون نافذ نہیں ہوتا ،عدالت کے ریمارکس

  • زندگی کی دوڑ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    زندگی کی دوڑ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    وہ دونوں باپ بیٹا راستے میں ٹرین میں سوار ہوئے تھے ۔ باپ کھڑکی کے ساتھ خالی سیٹ پر جاکر خاموشی سے بیٹھ گیا اور باہر دیکھنے لگا جب کہ تین چار سال کا بچہ اس کے ساتھ والی سیٹ بیٹھ گیا۔

    بچہ تھؤڑی دیر تو بیٹھا رہا پھر سیٹ سے نیچے اتر کر دوسری جانب کی کھڑکی سے سر باہر نکال کر دیکھنے لگا لیکن اس کا باپ اس سے لاتعلق بیٹھا تھا۔ ڈبے میں بیٹھے ایک شخص نے بچے کو ایسا کرنے سے روکا تو بچہ اسے منہ چڑاہنے لگا اور بھاگ کر چلتی ٹرین کے ڈبے کے دروازے میں جا کھڑا ہو۔

    ڈبے میں موجود سب لوگ اس بچے کی شرارتوں سے تنگ ہونے لگے جو کبھی کسی مسافر کا جوتا اٹھا کر باہر پھینکنے کی ایکٹنگ کرتا تو کبھی کی عورت کی نقل اتارنے لگتا۔

    سب لوگوں کو اس کے باپ پر بہت غصہ آرہا تھا جو اس سارے ڈرامے سے لاتعلق کھڑکی کے باہر کے مناظر خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔

    ایک خاتون کہنے لگیں “ عجیب بدتمیز بچہ ہے ۔ اس کی ماں نے اس کی تربیت ہی نہیں کی”۔

    دوسرا مسافر بولا ل پتہ نہیں یہ لوگ بچے تو پیدا کر دیتے ہیں لیکن ان کی ذمہ داریوں سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔”

    الغرض ہر طرف سےقسم قسم کے تبصرے ہونے لگے لیکن اس کا باپ بہرا بن کر کھڑکی سے باہر کا منظر انجوائے کررہا تھا۔

    اس وقت تو بچے نے حد ہی کر دی جب اس نے شرارت سے منع کرنے پر ایک بزرگ کے منہ پر چانٹا جڑ دیا۔ اس بابے کے ساتھ بیٹھے نوجوان کے صبر کا پیمانہ اس حرکت پر لبریز ہوگیا۔

    وہ اپنی سیٹ سے اٹھا اور جاکر بچے کے باپ کو کندھوں کو زور سے پکڑ کر جھنجھوڑا اور بولا “ ایسی ناہنجار اولاد پیدا کر لیتے ہیں تو اس کا خیال بھی رکھتے ہیں؟”

    بچے کا باپ جو کہیں خیالوں میں گم تھا اس بے طرح کے جھنجھوڑنے پر اچانک خیالات سے واپس آیا اور پوچھا “ کیا ہوا بھائی؟ اتنا غصہ کس بات پر کر رہے ہو“

    اس کے اس سوال پر ڈبے میں بیٹھے سارے مسافر اس پر تف بھیجنے لگے۔نوجوان بھی اور زیادہ بپھر گیا اور غصے سے آگ بگولا ہوتے ہوئے اسے بتایا کہ آپ کے نا خلف بیٹے نے اس بزرگ کے منہ پر چانٹا رسید کردیا ہے۔

    یہ سنتے ہی اس کے باپ نے بزرگ کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور کہنے لگا” معاف کرنا بزرگو۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی دوسرے شہر میں اس بچے کی جواں سال ماں یعنی میری بیوی ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں گاڑی کے نیچے کچلی گئی ہے۔ اس بچے کو اپنی ماں کی موت کا ابھی تک پتہ بھی نہیں۔ میں اسے لے کر اپنی بیوی کی تدفین کے لئے روانہ ہوں۔ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ ماں کی موت کا اس معصوم کو کیسے بتاؤں گا”

    یہ جان کر سارے ڈے کے مسافروں کا اس بچے اور اس کے باپ کو دیکھنے کا انداز ہی بدل گیا۔عورتیں آگے بڑھ کر اس کو پیار کرنے لگیں۔ دوسرے مسافر اسے جوس اور ٹافیاں دینے لگے۔ وہ بزرگ اٹھے اور بچے کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے گلے لگا لیا۔

    ہر کسی کی خواہش تھی کہ سفر میں جتنا اس کا ساتھ ہے وہ کسی طریقے سے اس بچے کے ساتھ شفقت سے پیش آئے۔

    زندگی کی ٹرین میں بھی ہر مسافر کی اپنی کہانی ہوتی ہے جسے وہ لے کر چل رہا ہوتا ہے۔دیکھنے والے اس کی ظاہری حالت اور روئیے پر طرح طرح کے تبصرے کر رہے ہوتے ہیں اور لیبل لگا لیتے ہیں لیکن کسی کی اصل کہانی جاننے کا شوق یا وقت کسی کے پاس نہیں ہوتا۔

    زندگی کی دوڑ میں ہر بندہ ہر وقت کسی نہ کسی جنگ میں مصروف ہے۔ کوئی کس وقت کیسا کیوں کر رہا ہے یہ اسی کو پتہ ہے۔ اگر ہم کسی کے لئے آسانی پیدا نہیں کرسکتے تو کم ازکم اسے تنہا لڑنے دیں۔ اس پر بلاوجہ تبصروں سے گریز کریں۔ہو سکے تو ہم اس کے اس طرز عمل کی اصل وجہ جاننے کی کوشش کریں۔ اللہ ہم سے راضی ہو۔

    (مرکزی خیال اسٹیفن کووے کی کتاب “پر اثر لوگوں کی سات عادات” سے ماخوذ)

  • سکھر:گیس سلنڈر کی دکان میں دہماکوں کے بعد آگ لگ گئی

    سکھر:گیس سلنڈر کی دکان میں دہماکوں کے بعد آگ لگ گئی

    سکھر:گیس سلنڈر کی دکان میں دہماکوں کے بعد آگ لگ گئی ،اطلاعات کے مطابق سکھر ،روہڑی ریلوے اسٹیشن پر گیس سلنڈر کی دکان میں دہماکوں کے بعد آگ لگ گئی،اس آگ کے شعلے دور دور تک دکھائے دینے لگے

    سکھر سے پولیس ذرائع کے مطابق دکان میں لگنے والی آگ نے قریبی دو ہوٹلز اور دو دکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ، جس کے بعد دکانوں میں آتشزدگی سے تین افراد معمولی زخمی ہوئے لیکن ان پر حرارت کے سخت اثرات بھی مرتب ہوئے

    ادھر پولیس ذرائع کے مطابق اس دھماکے میں ہونے والے زخمی افراد کو روہڑی اسپتال لے جایا گیا ،واقعہ کی اطلاع پر ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پینچ گئیں ،فائربریگیڈ گاڑیوں نے بڑی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پالیا

    پولیس کے مطابق آتشزدگی سے معمولی نقصان ہوا ہے ،گیس سلنڈر پھٹنے کے دہماکے کی آوازی دور تک سنی گئی ، واقعہ کی اطلاع پر شہریوں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر پہنچی ،

    ادھر ٹھٹھہ میں کوئلے کی کان میں دبنے سے 2 مزدور جاں بحق جبکہ 2 شدید زخمی ہو گئے ہیں۔

    یہ واقعہ ٹھٹھہ میں جھرک کے قریب پیش آیا جہاں کوئلے کی کان میں دب کر 2 مزدور جاں بحق جبکہ دو شدید زخمی ہو گئے۔

    ایس ایچ او جھرک زاہد شیخ کا کہنا ہے کہ مزدور کوئلے کی کان سے کوہ نکال رہے تھے، تودہ گرنے سے ملبے تلے دب گئے۔

  • میاں چنوں سے پریشان کن خبرآگئی :لاہور سے کراچی جانے والی خیبر میل ایکسپریس کو حادثہ

    میاں چنوں سے پریشان کن خبرآگئی :لاہور سے کراچی جانے والی خیبر میل ایکسپریس کو حادثہ

    میاں چنوں:میاں چنوں سے پریشان کن خبرآگئی :لاہور سے کراچی جانے والی خیبر میل ایکسپریس کو حادثہ ،اطلاعات کے مطابق لاہور سے کراچی آنے والی خیبر میل ایکسپریس کے میاں چنوں کے قریب بریک فیل ہوگئےکئی بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں ۔

     

     

    کراچی جانے والی 2 ڈاؤن خیبر میل ایکسپریس کی کئی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں تاہم حادثے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ رپورٹ کے مطابق خیبر میل کے ڈرائیورز حنیف غازی نے قریبی عزیز کے انتقال پر چارج چھوڑا اور ٹرین کا چارج ڈرائیور محمد زبیر کے حوالے کر کے روانہ ہوگیا۔

     

     

    ڈرائیورزبیر نے بریکنگ پاور کو چیک نہیں کیا، بریکنگ پاور چیک نہ ہونے کی وجہ سے ڈرائیور بریک پر کنٹرول نہ رکھ سکا۔حادثے سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔

     

    پاکستان میں حادثات کی ایک لمبی تاریخ ہے ، اسی سال جون کے مہہینے میں گھوٹکی میں حادثہ پیش آیا جہاں اس حادثےمیں 60 سے زائد افراد جانبحق ہوگئے تھے اور بڑی تعداد میں زخمی بھی ہوئے

    افسوس کی بات یہ ہےکہ حادثات کی صورت میں بڑےبڑے صدمات سے گزرتے ہیں لیکن ریلوے کے نظام میں بہتری کے آثار ابھی تک نظر نہیں‌آرہے ، یہی وجہ ہے کہ لوگ اب ریل پرسفر کرنے کی بجائے دیگرذرائع سے سفر کرلیتے ہیں لیکن ریلوے پراعتبار نہیں کرتے

    آج کے واقعہ کے بعد بھی شاید یہی صورت حال ہے ، مسافر میاں چنوں میں پریشان بیٹھے ہیں اور انکا کوئی پرسان حال نہیں لیکن ریلوے حکام کو کوئی پرواہ تک نہیں کہ وہ مسافروں کی دل جوئی ہی کرسکیں‌

  • طیارے اور ریل گاڑیاں موسم کی تبدیلی کی لپیٹ میں‌آگئیں‌،سب کو دیر ہوگئی

    طیارے اور ریل گاڑیاں موسم کی تبدیلی کی لپیٹ میں‌آگئیں‌،سب کو دیر ہوگئی

    لاہور : طیارے اور ریل گاڑیاں موسم کی تبدیلی کی لپیٹ میں‌آگئیں‌،سب کو دیر ہوگئی ، اطلاعات کے مطابق ریلوے اور فضائی مسافروں کی مشکلات کم نہ ہو سکیں، ٹرین سمیت فلائٹ آپریشن میں حسب معمول بہتری نہ آ سکی، لاہور آنے جانے والی 15 پروازیں جبکہ 12 ٹرینیں متاثر ہوئیں۔

    جہاں تک تعلق ہے ہواوں میں‌سفر کرنے والوں کا تو وہ بھی تاخیر کا شکار ہوگئے ، پاکستان سول ایوی ایشن ذرائع کے مطابق تفصیلات کے مطابق علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 15 پروازیں متاثر ہوئیں جن میں سے 13 پروازوں کومنسوخ کیا گیا جبکہ 2 تاخیر کا شکار رہیں،

    “خاتون کے ہاتھوں خاوند قتل اپنے ہی بچوں کو یتیم کردیا ،” لاک ہے

    خاتون کے ہاتھوں خاوند قتل اپنے ہی بچوں کو یتیم کردیا ،

    فلائٹ انکوائری کے مطابق ایئر بلیو کی کراچی جانے اور آنے والی پرواز 401، 402، سعودی ایئر کی جدہ جانے والی پرواز 735اور 734، پی آئی اے کی ملتان جانے والی پرواز 683اور 684،ایئر بلیو کی جدہ جانے والی پرواز 470اور471، پی آئی اے کی ابوظہبی جانے والی پرواز 295اور 296، پی آئی اے کی کراچی سے آنے والی پرواز 582 اور پی آئی اے کی میلان سے آنے والی پرواز72 کو منسوخ کر دیا گیا۔

    وطن واپسی پرسفیر کشمیر وزیراعظم پاکستان عمران خان مطالعہ کرتے رہے،خوبصورت انداز، یادگار لمحے ،

    زمینی سفر کرنےوالے بھی ہوائی سفر کرنے والوں‌کی طرح دیر کا شکار ہوگئے ، پاکستان ریلوے حکام کےمطابق ٹرینوں کا شیڈول بحال نہ کیا جاسکا، کراچی اور دوسرے شہروں سےلاہور آنے اور جانے والی ٹرینیں تاخیر کا شکار رہیں، کراچی سے لاہور آنے والی پاک فرید ایکسپریس 2 گھنٹے، شالیمار ایکسپریس 1 گھنٹہ، جناح ایکسپریس 2 گھنٹے تاخیر کا شکار ہوگئیں‌ہیں‌

    آو چلیں مقبوضہ کشمیر کے محاصرے کی تحقیقات کرنے ،دولت مشترکہ کے فیصلے سے بھارت سخت پریشان

    پاکستان ریلوے حکام کے مطابق فرید ایکسپریس 2 گھنٹے، کراچی سے لاہور آنے والی پاک بزنس ایکسپریس 4 گھنٹے، قراقرم ایکسپریس 4گھنٹے 40 منٹ، شاہ حسین 2 گھنٹے 15 منٹ، گرین لائن 1 گھنٹہ 35 منٹ، تیزگام 2گھنٹے، علامہ اقبال ایکسپریس 4 گھنٹے، خیبر میل 1 گھنٹہ 45 منٹ اورعوام ایکسپریس 4 گھنٹے تاخیر کا شکار رہی۔