Baaghi TV

Tag: رینجرز

  • پانی کی منصفانہ تقسیم:سندھ حکومت کا رینجرز کی خدمات حاصل کرنےکا فیصلہ

    پانی کی منصفانہ تقسیم:سندھ حکومت کا رینجرز کی خدمات حاصل کرنےکا فیصلہ

    کراچی:پانی کی غیر منصفانہ تقسیم روکنے کےلیے سندھ حکومت کا رینجرز کی خدمات حاصل کرنےکا فیصلہ:سندھ حکومت کی جانب پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کی روک تھام کے لئے رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

    سندھ حکومت نے سندھ کے تقریباً تمام پانی کے کینالوں پر پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے رینجرز کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔سندھ حکومت کی ہدایات پر سندھ کے محکمہ داخلہ نے ڈی جی رینجرز سندھ سے سندھ کے مختلف پانی کینالز پر رینجرز کی تعیناتی کے لئے خط لکھ دیا۔

    خط میں بتایا گیا ہے کہ صوبے اور ملک بھر میں پانی کی شدید کمی کے سبب صوبے بھر میں پانی کی منصفانہ تقسیم کے لئے اریگیشن ایکٹ 1979 کی شق 27 سی کے تحت بندوبست کیا گیا۔روٹیشن پالیسی پر عمل درآمد کی کوشش کے دوران صوبے کے مختلف کینالز پر محکمہ آبپاشی کے عملے، ضلعی انتظامیہ اور پولیس پر پانی چوروں کی جانب سے حملے کئے گئے ہیں۔

    صورتحال سے نمٹنے کے لئے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ آبپاشی حکام نے رینجرز کی تعیناتی کی گزارش کی ہے، تاکہ پانی کی منصفانہ تقسیم میں رکاوٹ نہ آ سکے۔

    خط میں سندھ کے پھلیلی کینال، اکرم واھ، گونی کینال ڈویژن، روھڑی کینال سرکل، نصیر واھ، ھالا واھ، داد ڈویژن، کے بی فیڈر سمیت تقریباً تمام پانی کی کینالز پر رینجرز کی تعیناتی کا کہا گیا ہے۔اس سے قبل سندھ حکومت کی گزارش پر مئی کے پہلے ھفتے میں تھر ڈویژن کے جمرائو اور مٹھرائو کینالز پر رینجرز تعینات ہو چکی ہے۔

  • ن لیگیوں کی طرف سے پنجاب اسمبلی پرچڑھائی کا خدشہ:رینجرزطلب کرلی گئی

    ن لیگیوں کی طرف سے پنجاب اسمبلی پرچڑھائی کا خدشہ:رینجرزطلب کرلی گئی

    لاہور:ن لیگیوں کی طرف سے پنجاب اسمبلی پرچڑھائی کا خدشہ:رینجرزطلب کرلی گئی ،اطلاعات کے مطاق ن لیگ کی طرف سے پنجاب اسمبلی میں زبردستی گھسنے اور کسی بھی ممکمہ شرپسندی سے بچنے کےلیے میں پنجاب اسمبلی کے اطراف میں امن و امان کی ذمہ داری رینجرز کو سونپ دی گئی ہے۔

    رینجرز کی تعیناتی کا فیصلہ ڈپٹی کمشنر لاہور کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کےاجلاس میں کیا گیا، اس حوالے سے نوٹی فکیشن بھی جاری ہوگیا ہے جس کے مطابق پنجاب اسمبلی کے اطراف میں 500 میٹر فاصلے تک دفعہ 144 بھی لگادی گئی ہے۔

    نوٹی فکیشن کےمطابق پنجاب اسمبلی کے اطراف میں رینجرز کی تعیناتی 15 دن کے لیے ہوگی۔

    نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے سیشن کے حوالے سے سیاسی پارٹیوں میں جبکہ اسپیکراورڈپٹی اسپیکر کے اختیارات کا بھی تنازع چل رہا ہے ۔نوٹی فکیشن کےمطابق اسمبلی کےراستے میں ممبران اسمبلی کوبھی روکے جانے کا امکان ہے ۔

    خیال رہے کہ منگل کو ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے پہلے 6 اپریل کو ہونے والا اجلاس 16 اپریل کو بلانے کا اعلامیہ جاری کیا اور پھر رات دیر گئے اجلاس کی تاریخ دوبارہ تبدیل کرتے ہوئے 6 اپریل کی۔مسلم لیگ ق نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کی جانب سے اجلاس 6 اپریل کو بلانے کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

    یاد رہےکہ اس سے قبل مریم نواز ایک پریس کانفرنس میں‌ پنجاب بھرسے ن لیگیوں کو کال دے چکی ہیں کہ وہ آئیں اور حمزہ شہباز کو وزیراعلیٰ کے مسند پربٹھائیں‌،

     

     

  • رینجرز ٹریننگ سینٹر اور اسکول کراچی میں بنیادی ریکروٹس ٹریننگ کورس-29 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ

    رینجرز ٹریننگ سینٹر اور اسکول کراچی میں بنیادی ریکروٹس ٹریننگ کورس-29 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ

    کراچی :رینجرز ٹریننگ سینٹر اور اسکول کراچی میں بنیادی ریکروٹس ٹریننگ کورس-29 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ،اطلاعات کے مطابق کراچی میں رینجرز ٹریننگ سینٹر اور اسکول کراچی میں بنیادی ریکروٹس ٹریننگ کورس-29 کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کا انعقاد کیا گیا۔ لیڈی ریکروٹس بھی پاسنگ آؤٹ سکواڈ کا حصہ تھیں۔

    کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل محمد سعید اس موقع پر مہمان خصوصی تھے۔ تقریب میں ڈی جی رینجرز سندھ، زیر تربیت افراد کے لواحقین اور پولیس حکام نے شرکت کی۔ کور کمانڈر نے یادگار شہدا پر پھولوں کی چادر چڑھائی، پریڈ کا جائزہ لیا اور نمایاں تربیت حاصل کرنے والوں میں انعامات تقسیم کئے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے این جے ویگورنمنٹ ہائی سیکنڈری اسکول کراچی کی60 سے زائد طلبا اور اساتذہ پر مشتمل وفد نے سندھ ٹریننگ سینٹر اینڈ اسکول پاکستان رینجرز سندھ اور شوٹنگ اینڈ سیڈل کلب کراچی کا معلوماتی دورہ کیا۔

    وفد کے شرکا کو پاکستان رینجرز سندھ میں بھرتی کے لیے جسمانی اور فزیکل ٹریننگ کے مطلوبہ معیار اور اپلیت سے متعلق آگاہی فراہم کی گئی اور رینجرز کے افسران اور جوانوں کے فرائض اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے آگاہ کیا گیا۔

    معلوماتی دورے کے دوران شرکا کو رینجرز کے اسپیشل دستوں کی جانب سے ممکنہ دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے کی جانے والی مشقیں اور ڈرلز کے مظاہرے پیش کیے گئے۔ بعد ازاں شرکا نے رینرجز سیڈل کلب کا بھی دورہ کیا جہاں پر فائرنگ ، گھوڑوں اور اونٹوں کی سواری کے دلچسپ مظاہرے بھی دکھائے گئے۔ تقریب کے اختتام پر شرکا کی جانب سے والہانہ محبت کا اظہار پاکستان زندہ باد کے واشگاف نعروں سے کیا گیا اور شہر کراچی میں بحالی امن کے لیے رینجرز کی کاوشوں کو سراہا گیا

  • سابق چیف جسٹس گلزاراحمد کورینجرز کی سیکورٹی کے حوالے سے اہم فیصلے

    سابق چیف جسٹس گلزاراحمد کورینجرز کی سیکورٹی کے حوالے سے اہم فیصلے

    اسلام آباد :حال ہی میں سبکدوش ہونے والے چیف جسٹس گلزار احمد نےحکومت سے فول پروف سیکیورٹی مانگ لی۔سابق چیف جسٹس کو سکیورٹی کیلئے وزارت داخلہ کو خط ریٹائرمنٹ سے قبل لکھا گیا ہے۔ خط میں رینجرز کی سیکورٹی برقرار رکھنے کی استدعا کی گئی ہے۔

    خط کے مطابق جسٹس گلزار احمد اور اہلخانہ کو چیف جسٹس والی سکیورٹی برقرار رکھی جائے۔ جسٹس (ر) گلزاراحمد نے دہشتگردی، ماورائے عدالت قتل سمیت کئی ہائی پروفائل مقدمات کےفیصلےکیے، اقلیتوں کے حقوق، تجاوزات سمیت کئی حساس مقدمات کے فیصلےکیےہیں۔

    خط میں استدعا کی گئی ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد گھر اور سفر کے دوران رینجرز فراہم کی جائے۔ خط ڈپٹی رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے27 جنوری کو لکھا گیا تھا۔جسٹس گلزاراحمد چیف جسٹس ہاؤس سے ریٹائرڈ ججز کیلئے مختص گھرمیں منتقل ہوگئے، چیف جسٹس گلزاراحمد یکم فروری کو مدت مکمل کرکے ریٹائر ہوگئے تھے.

    یاد رہے صدر مملکت نے جسٹس عمر عطا بندیال کو چیف جسٹس پاکستان مقرر کیا ، ان کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 175 اے کے تحت کی گئی۔

    خیال رہے سپریم کورٹ کے جج کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65سال مقرر ہے، چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد سینئر ترین جج کو چیف جسٹس کا عہدہ تفویض کیا جاتا ہے ، جسٹس عمر عطا بندیال سپریم کورٹ سینئر ترین جج ہیں۔

    جسٹس بندیال 18 ستمبر 2023 کو ریٹائر ہونے تک چیف جسٹس کے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

    دوسری طرف وزارت داخلہ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی فول پروف سیکیورٹی دی جائے گی۔

     

     

    ذرائع کے مطابق شابق چیف جسٹس گلزار احمد کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی گھر اور دوران سفر فول پروف سیکورٹی دی جائے گی۔

    اس حوالے سے سابق چیف جسٹس گلزار احمد نے کی ریٹائرمنٹ سے قبل 27 جنوری کو رجسٹرار آفس کی جانب سے وزارت داخلہ کو ایک خط لکھا گیا جس میں بتایا گیا کہ جسٹس گلزار احمد نے اپنے عہدے کی مدت کے دوران بہت سے ہائی پروفائل آئینی، فوجداری، بنیادی حقوق، سرکلر ریلوے، سرکاری افسران اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق مقدمات سنے اور ان پر فیصلے کئے ہیں۔

    خط میں مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ قواعد شق نمبر 25 (1) کے مطابق چیف جسٹس کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی سیکیورٹی دی جاتی ہے۔

    خط کے مطابق چیف جسٹس (ریٹائرڈ) گلزار احمد اور انکے اہلخانہ کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں اس لئے کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کیلئے لازمی ہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد اور انکے اہلخانہ کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی بطور چیف جسٹس پاکستان ملنے والی سیکورٹی (رینجرز، پولیس) فراہم کی جائے۔

    ذرائع کے مطابق رجسٹرار آفس کے خط پر وزارت داخلہ سے منظوری دی جا چکی ہے۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر شہباز گل بھی سابق چیف جسٹس جسٹس ریٹائرڈ گلزار احمد کی سیکیورٹی کے حق میں بول پڑے

    انہوں نے کہا کہ جسٹس (ریٹائرڈ) گلزار احمد کافی بولڈ چیف جسٹس رہے ہیں، انہوں نے کافی اچھے اور بڑے فیصلے دیے ہیں، تجاوزات کے خلاف آپریشن اور اقلیتوں کے حقوق سے متعلق فیصلے دیے گئے۔

    جسٹس ریٹائرڈ گلزار احمد سمیت تمام ججز محترم ہیں، انہیں سیکیورٹی ملنی چاہیے، یہ بھی کہا کہ رانا ثنا اللہ نے بیان دیا شہباز شریف کو سزا دینے والے ججز کا گھیراوٗ کریں گے، ججز یا عدلیہ کو دھمکانے والے رویے برداشت نہیں کریں گے۔

  • رینجرز کی کارروائی،دو اسمگلر ہلاک

    رینجرز کی کارروائی،دو اسمگلر ہلاک

    قصور میں پاکستان رینجرز کی انٹرنیشنل بارڈر پر کاراوئی سرحد پار سے آنے والے دو اسمگلر ہلاک

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات انٹرنیشنل بارڈر منڈی احمد آباد
    لسوڑی کے مقام پر باڈر کراس کرتے ہوئے دو مبینہ سمگلرز رینجرز نے مار دئیے
    دو سمگلروں کو رینجرز نے رکنے کا کہا جنہوں نے رینجرز پر فائرنگ شروع کر دی جوابی فائرنگ میں دونوں اسمگلر ہلاک ہو گئے جن میں سے ایک کی شناخت محمد عاشق ولد احمد دین قوم شیخ سکنہ سعد تھانہ کھڈیاں قصور کے نام سے ہوئی ہے
    پاکستان رینجرز نے لاشیں متعلقہ تھانہ کے حوالے کر دیں ہیں

  • ضابطے بدل گئے یا رابطےبدل گئے:پولیس کورینجرز ہیڈ کوارٹرکی تلاشی کا حکم

    ضابطے بدل گئے یا رابطےبدل گئے:پولیس کورینجرز ہیڈ کوارٹرکی تلاشی کا حکم

    کراچی :ضابطے بدل گئے یا رابطےبدل گئے:پولیس کورینجرز ہیڈ کوارٹرکی تلاشی کا حکم،اطلاعات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر پولیس کو رینجرز ہیڈ کوارٹرز جاکر لاپتا افراد کی معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کردی

    جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں جسٹس عبد المبین لاکھو پر مشتمل بینچ کے روبرو لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

    درخواستگزاروں کے وکلا نے موقف دیا کہ شہری وقار رحمان، شمشاد علی اور دیگر کو 6 سال پہلے رینجرز نے حراست میں لیا۔

    جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے لاپتا افراد کے اہلخانہ الزام لگا رہے ہیں رینجرز والے اٹھا کر لے گئے ہیں۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ ہم نے خط لکھے ہیں مزید بھی لکھیں گے۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے خط نہیں لکھنا خود جاکر رینجرز والوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ڈریں مت جائیں اور جاکر پوچھیں آخر کار کون لے گیا ہے؟ اگر رینجرز والے شہریوں کو نہیں لے کر گئے تو پھر کون لے گیا ہے؟ اگر رینجرز کی ودری میں کوئی اور لے گیا ہے تو یہ اور بھی خطرناک صورتحال ہے۔ تعزیرات پاکستان اجازت دیتا ہے پولیس کہیں جاکر کسی سے بھی تحقیقات کرسکتی ہے۔

    رینجرز پراسیکیوٹر حبیب احمد نے موقف دیا کہ رینجرز نے تحریری جواب جمع کرادیا ہے کسی کو حراست میں نہیں لیا۔

    عدالت نے کہا چیک کرنے میں کیا ہے تفتیشی افسر جائیں اور رینجرز ہیڈ کوارٹرز چیک کریں۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ تفتیشی افسران کے رینجرز ہیڈکوارٹر جانے سے بڑا فرق پڑے گا۔ جسٹس عبد المبین لاکھو نے ریمارکس میں کہا کہ ہم 15 دن کا وقت دے رہے ہیں ہر طرح سے تحقیقات کرکے رپورٹ جمع کرائیں۔عدالت نے دیگر اداروں سے بھی پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

  • ضابطے بدل گئے یا رابطےبدل گئے:پولیس کورینجرز ہیڈ کوارٹرکی تلاشی کا حکم

    کراچی :ضابطے بدل گئے یا رابطےبدل گئے:پولیس کورینجرز ہیڈ کوارٹرکی تلاشی کا حکم،اطلاعات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر پولیس کو رینجرز ہیڈ کوارٹرز جاکر لاپتا افراد کی معلومات حاصل کرنے کی ہدایت کردی

    جسٹس محمد اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں جسٹس عبد المبین لاکھو پر مشتمل بینچ کے روبرو لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

    درخواستگزاروں کے وکلا نے موقف دیا کہ شہری وقار رحمان، شمشاد علی اور دیگر کو 6 سال پہلے رینجرز نے حراست میں لیا۔

    جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے لاپتا افراد کے اہلخانہ الزام لگا رہے ہیں رینجرز والے اٹھا کر لے گئے ہیں۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ ہم نے خط لکھے ہیں مزید بھی لکھیں گے۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے خط نہیں لکھنا خود جاکر رینجرز والوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ڈریں مت جائیں اور جاکر پوچھیں آخر کار کون لے گیا ہے؟ اگر رینجرز والے شہریوں کو نہیں لے کر گئے تو پھر کون لے گیا ہے؟ اگر رینجرز کی ودری میں کوئی اور لے گیا ہے تو یہ اور بھی خطرناک صورتحال ہے۔ تعزیرات پاکستان اجازت دیتا ہے پولیس کہیں جاکر کسی سے بھی تحقیقات کرسکتی ہے۔

    رینجرز پراسیکیوٹر حبیب احمد نے موقف دیا کہ رینجرز نے تحریری جواب جمع کرادیا ہے کسی کو حراست میں نہیں لیا۔

    عدالت نے کہا چیک کرنے میں کیا ہے تفتیشی افسر جائیں اور رینجرز ہیڈ کوارٹرز چیک کریں۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ تفتیشی افسران کے رینجرز ہیڈکوارٹر جانے سے بڑا فرق پڑے گا۔ جسٹس عبد المبین لاکھو نے ریمارکس میں کہا کہ ہم 15 دن کا وقت دے رہے ہیں ہر طرح سے تحقیقات کرکے رپورٹ جمع کرائیں۔عدالت نے دیگر اداروں سے بھی پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

  • ضلع کورنگی میں جرائم کے سدباب کا عزم: پولیس اور رینجرز کا مشترکہ کومبنگ آپریشن

    ضلع کورنگی میں جرائم کے سدباب کا عزم: پولیس اور رینجرز کا مشترکہ کومبنگ آپریشن

    ضلع کورنگی پولیس اور سندھ رینجرز کا مشترکہ کومبنگ آپریشن

    ایس ایس پی ضلع کورنگی کی خصوصی ہدایات پر سعود آباد ماڈل پی ایس پولیس نے ایس ڈی پی او سعود آباد کی نگرانی میں آج رات سندھ رینجرز کیساتھ مشترکہ کومبنگ آپریشن کیا -ضلع کورنگی میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے ، جرائم پیشہ افراد کے خاتمے اور ضلع کورنگی میں کرائم کا سدباب کرنے کے لئے کومبنگ آپریشن کیا گیا. دوران کومبنگ آپریشن کل 40 مکانات اور 60 مشتبہ افراد کو چیک کیا گیا-دوران کومبنگ آپریشن دو منشیات فروش عادی جرائم پیشہ ملزمان کو مع بڑی مقدار میں اعلی کوالٹی چرس برآمدگی کے گرفتار کیا گیا. دوران کومبنگ آپریشن گرفتار شدہ ملزمان کا نام برآمدگی اور پولیس کاروائی کی تفصیل ذیل ہے

    (1)اقبال ولد محمد اکرم
    (2) علی اکبر ولد محمد اکرم

    برآمدگی
    (1)اقبال ولد محمد اکرم سے ایک کلو دو سو گرام چرس برآمدکرلی گئی-
    (2) علی اکبر ولد محمد اکرم سے ایک کلو 350 گرام چرس برآمد کرلی گئی-

    پولیس کاروائی
    گرفتار بالا ملزمان کی باقاعدہ گرفتاری تھانہ سعود آباد ماڈل پی ایس میں ذیل مقدمہ کے تحت عمل میں لائی گئی ہے.

    (1) مقدمہ الزام نمبر 60/2021 بجرم دفعہ 6/9C نارکوٹیکس ایکٹ۔

    گرفتار بالا ملزمان کا سابقہ کریمنل ریکارڈ ذیل ہے

    سابقہ کریمنل ریکارڈ ملزم محمد اقبال
    مقدمہ الزام نمبر 91/2020 بجرم دفعہ 6/9B نارکوٹیکس ایکٹ تھانہ ملیر سٹی ضلع ملیر۔

    سابقہ کریمنل ریکارڈ ملزم علی اکبر
    مقدمہ الزام نمبر 18/2019 بجرم دفعہ 6/9B نارکوٹیکس ایکٹ تھانہ ماڈل کالونی

    گرفتار بالا ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے.

  • کراچی میں رینجرز کا ایک اور معرکہ، انتہائی مطلوب ڈکییت گرفتار

    کراچی میں رینجرز کا ایک اور معرکہ، انتہائی مطلوب ڈکییت گرفتار

    کراچی۔ رینجرز کی کامیاب کاروائی،انتہائی مطلوب دو ڈکیت گرفتار،ترجمان۔ ملزمان میں مصطفی خان اور عمران عرف مراد شامل،ترجمان
    دونوں ملزمان نے 29 دسمبر 2020 کو قصبہ کالونی میں واقع نائی کی دکان لوٹی،ترجمان ملزمان نائی کی دکان سے 4 موبائل فونز لوٹ کر فرار ہوئے تھے،ترجمان واقع کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہو ئی تھی،ترجمان فوٹیج میں ملزمان کو با آسانی شناخت کیا جا سکتا ہے،ترجمان

    گرفتار ملزمان نے گزشتہ دو ماہ کے دوران شہریوں سے 80 ہزار سے زائد نقدی اور متعدد موبائل فونز چھینے،ترجمان ملزم مصطفی خان پہلے بھی گرفتار ہو کر جیل جا چکا ہے،ترجمان

  • رینجرز اور پولیس کی بڑی کاروائی

    رینجرز اور پولیس کی بڑی کاروائی

    قصور
    تھانہ گنڈاسنگھ پولیس اور ستلج رینجرز اہلکاران کی مشترکہ کاروائی بھاری منشیات برآمد

    تفصیلات کے مطابق تھانہ گنڈہ سنگھ قصور اور ستلج رینجرز نے مشترکہ کاروائی کرتی ہوئے 3 ملزمان کو انڈین شراب سمیت پکڑ کر حوالات میں بند کردیا گیا جبکہ ملزمان کی شناخت اقبال ، افتخار اور نوید کے ناموں سے ہوئی ہے تینوں کا تعلق قصور کے علاقہ چونیاں سے ہے
    ملزمان انڈین شراب کی بوتلیں لے کر چوک حسین خانوالا سے پیدل آ رہے تھے ملک نصیر احمد اے ایس آئی اور رینجرز کے اہلکاران نے روک لیا اور تلاشی کے دوران انڈین شراب کی بوتلیں برآمد ہوئیں تو ملزمان کو حراست میں لیا گیا پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے