Baaghi TV

Tag: ریپ

  • 6 ماہ کی حاملہ خاتون سے دیور اور اس کے 2 دوستوں کا گینگ ریپ، مقدمہ درج

    6 ماہ کی حاملہ خاتون سے دیور اور اس کے 2 دوستوں کا گینگ ریپ، مقدمہ درج

    فیصل آباد کے تھانہ سیہانوالہ پولیس نے 6 ماہ کی حاملہ خاتون کے گینگ ریپ کے الزام میں 3 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔

    متاثرہ خاتون کی والدہ نے درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ اس کا داماد روزگار کے سلسلے میں دوسرے گاؤں میں رہتا ہے، داماد کے چھوٹے بھائی اور اس کے 2 ساتھیوں نے یکم ستمبر کو چائے میں نشہ آور دوا ملا کر ان کی بیٹی کو بے ہوش کر کے گینگ ریپ اور غیر فطری جنسی عمل کا نشانہ بنایا،ملزمان اور ان کے گھر والوں نے متاثرہ خاتون کو ایک کمرے میں بند کر دیا اور ماں اور شوہر سے رابطہ بھی کرنے نہیں دیا، بیٹی کے ہمسایوں نے انہیں فون پر واقعے سے آگاہ کیا، جس کے بعد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے حکم پر پولیس نے خاتون کو بازیاب کرایا۔

    پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

  • 3 سالہ بیٹی سےمبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار باپ کی ضمانت منظور

    3 سالہ بیٹی سےمبینہ جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار باپ کی ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے 3 سالہ بیٹی سے مبینہ ریپ کے ملزم کی ضمانت منظور کر لی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 3 سالہ کمسن بچی سے جنسی زیادتی کے الزام میں گرفتار باپ کی ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرلی ہےاسلام آباد ہائیکورٹ نے قراردیا کہ ملزم ضمانت کا غلط استعمال یا ٹرائل میں تاخیرکا سبب بنے توضمانت کا حق واپس لیا جا سکتا ہے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری نے ضمانت منظور کی، فیصلے کے مطابق دفعہ 497 کے تحت مزید انکوائری کے کیس میں ملزم کو ضمانت دی جا سکتی ہے، صرف جرم کی سنگینی عدالت سے ضمانت کا اختیار چھیننے کے لیے کافی نہیں۔

    سیلابی ریلہ سندھ میں کب داخل ہوگا؟

    فیصلے میں سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا کہ ضمانت ملزم کی بریت نہیں بلکہ صرف کسٹڈی کی تبدیلی ہوتی ہے، ضمانت کا مطلب یہ ہے کہ ملزم کو حکومتی ایجنسیوں کی تحویل سے ضامن کے سپرد کیا جائے اور ضامن اس بات کا پابند ہو کہ ضرورت پڑنے پر ملزم کو عدالت کے سامنے پیش کرے، پٹیشنر محمد حسیب حفیظ 3 ماہ سے جیل میں تھا اور ٹرائل میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی، پٹیشنر کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ یہ گھریلو جھگڑے کا معاملہ ہے اور ملزم کو جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا ہے-

    انٹرویو میں پوچھے جانے والے سوال،آپ کی تنخواہ کتنی ہونی چاہیے؟کا بل گیٹس نے بہترین جواب بتادیا

    عدالت نے ریکارڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شکایت کنندہ بچی کی ماں ہے جس کی یہ دوسری شادی تھی اور اس نے خلع کا دعویٰ بھی دائر کر رکھا ہے، پمز اسپتال کی رپورٹ میں کہا گیا کہ بچی کی ماں نے ڈاکٹرز کو مبینہ زیادتی کے متعلق بتایا، تاہم متاثرہ بچی کے عدم تعاون کی وجہ سے طبی معائنہ ممکن نہیں ہو سکا، میڈیکو لیگل رپورٹ میں بھی کسی قسم کے زخم، رگڑ یا خون کے نشانات نہیں پائے گئے، اس بات کا کوئی معقول جواز موجود نہیں کہ ایک حساس ادارے سے تعلق رکھنے والا پڑھا لکھا شخص اپنی 3 سالہ بچی سے زیادتی کرے، تفتیشی افسر نے بھی اعتراف کیا کہ ملزم کا نفسیاتی معائنہ نہیں کرایا گیا۔

    سگی بیٹی سے زیادتی کا الزام : 12 سال سے جیل میں قید والد بری

    واضح رہے کہ پاکستان میں سخت قوانین موجود ہونے کے باوجود زیادتی کے مقدمات سامنے آتے رہتے ہیں، جن میں سزائے موت سے لے کر 10 سے 25 برس قید تک کی سزائیں دی جا سکتی ہیں،گزشتہ برس بچوں سے جنسی زیادتی کے کیسز پر کام کرنے والی این جی او ’ساحل‘ کے جمع کردہ اعداد و شمار میں انکشاف کیا گیا کہ اکثری مجرم یا تو رشتہ دار تھے یا پھر کمیونٹی میں شناسا افراد اور پڑوسی۔

  • ناروے کی ولی عہد کے بیٹے پر 4 خواتین کا ریپ کرنے کا الزام

    ناروے کی ولی عہد کے بیٹے پر 4 خواتین کا ریپ کرنے کا الزام

    ناروے کی ولی عہد شہزادی میٹے-ماریٹ کے 28 سالہ بیٹے پر 4 خواتین کے ساتھ ریپ کرنے اور متعدد پرتشدد کارروائیوں کا الزام عائد کیا گیا ہے-

    ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق استغاثہ نے پیر کو بتایا کہ ماریوس بورگ ہوئبی، گزشتہ سال 4 اگست کو اپنی گرل فرینڈ پر تشدد کے شبہے میں گرفتاری کے بعد سے تحقیقات کا سامنا کر رہے ہیں،ماریوس بورگ ہوئبی، ولی عہد شہزادی میٹے-ماریٹ کے ولی عہد شہزادہ ہاکون سے شادی سے پہلے ’ریلیشن شپ‘ کے دوران پیدا ہوئے تھے۔

    پبلک پراسیکیوٹر اسٹُرلا ہنرِکس بو نے صحافیوں کو بتایا کہ ولی عہد شہزادی کے بیٹے پر الزام ہے کہ انہوں نے 4 خواتین کے ساتھ اس وقت ریپ کیا، جب وہ سو رہی تھیں، کم از کم تین معاملات میں انہوں نے خواتین سے ملاقات کی اور رضامندی سے جنسی تعلق قائم کیا، لیکن بعد میں مبینہ طور پر زیادتی کی۔

    بھارت کے معروف اداکار 91 برس کی عمر میں چل بسے

    ہوئبی پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے خواتین کے جسم کے نجی حصوں کی ان کی لاعلمی میں ویڈیو اور تصاویر بنائیں، ہنرکس بو نے کہا کہ تفتیش کاروں کے پاس ویڈیو کلپس اور تصاویر بطور ثبوت موجود ہیں، مبینہ زیادتی کے یہ واقعات 2018، 2023 اور 2024 میں پیش آئے، جن میں سے آخری اُس وقت پیش آیا، جب پولیس نے پہلے ہی تحقیقات شروع کر دی تھیں،ان پر مزید الزامات میں ایک سابقہ ساتھی پر گھریلو تشدد، متعدد بار پرتشدد کارروائیاں کرنے، امن عامہ کو خراب کرنے، توڑ پھوڑ، اور ایک اور سابقہ ساتھی کے خلاف عائد عدالتی پابندیوں کی خلاف ورزی شامل ہیں۔

    قومی کرکٹرز کے سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان، اے کیٹیگری ختم کردی گئی

    استغاثہ کی جانب سے صرف ایک متاثرہ خاتون کی شناخت ظاہر کی گئی، جو ہوئبی کی سابقہ گرل فرینڈ نورا ہاؤکلینڈ ہیں، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2022 اور 2023 میں اس پر جسمانی اور نفسیاتی تشدد کیا، استغاثہ کے مطابق تشدد میں، دیگر باتوں کے علاوہ، بار بار چہرے پر مارنا، مکے سے ضرب لگانا، گلا گھونٹنا، لاتیں مارنا اور سختی سے پکڑنا شامل تھا،فردِ جرم میں شامل جرائم کی زیادہ سے زیادہ سزا 10 سال قید ہے،ہوئبی کو شاہی خاندان کے رکن کی حیثیت سے نرمی نہیں دی جائے گی، ان پر سختی بھی نہیں کی جائے گی، بلکہ عام شہری جیسا سلوک کیا جائے گا۔

    شاہی محل کی جانب سے کہا گیا کہ یہ انتہائی سنگین اقدامات ہیں جو زندگی بھر کے زخم چھوڑ سکتے ہیں اور زندگیاں تباہ کر سکتے ہیں،محل کی ترجمان سارا سوانیمیر نے کہا کہ یہ عدالتوں کا کام ہے کہ وہ اس معاملے پر غور کریں اور فیصلہ سنائیں۔

    سٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس پہلی بار ایک لاکھ 49 ہزار پوائنٹس سے تجاوز

  • سال2024، پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 4558 کیسز رپورٹ

    سال2024، پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 4558 کیسز رپورٹ

    پاکستان میں 2024 میں صنفی بنیاد پر تشدد کے 4558 کیسز رپورٹ ہوئے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق پاکستان میں بڑھتے ہوئے صنفی بنیاد پر تشدد کی ایک پریشان کن عکاسی کے طور پر ساحل تنظیم نے ایک رپورٹ مرتب کی ہے جو خواتین اور بچوں کی حفاظت اور سلامتی کے لیے کام کر رہی ہے۔اس رپورٹ میں 2024 جنوری سے نومبر تک پاکستان بھر میں 4,112 کیسز رپورٹ ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے، ان کیسز میں قتل، ریپ، خودکشی، اغوا، غیرت کے نام پر قتل اور تشدد جیسے واقعات شامل ہیں، تشویش کی بات یہ ہے کہ تشدد خواتین کے لیے ہر عمر میں معمول بنتا جا رہا ہے۔یہ رپورٹ 81 اخباروں سے جمع کیے گئے ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے جو ملک کے تمام چار صوبوں، اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، آزاد جموں و کشمیر، اور گلگت بلتستان شامل ہیں۔اس رپورٹ میں پاکستان کی صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف جاری جدوجہد کی ایک سیاہ تصویر پیش کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان کیسز میں سے 1,273 قتل کے واقعات، 799 اغوا، 579 تشدد کے کیسز، 533 ریپ کے واقعات اور 380 خودکشی کی وارداتیں شامل ہیں۔مزید یہ کہ متاثرہ افراد کی ایک بڑی تعداد نوجوان خواتین کی ہے۔ اگرچہ صرف 5 فی صد متاثرہ افراد 18 سال سے کم عمر تھیں، تاہم یہ ڈیٹا نوجوان خواتین اور لڑکیوں کو مختلف قسم کے استحصال کے لیے کمزور ثابت کرتا ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ عمر کا گروپ 21 سے 30 سال کی خواتین کا تھا، جن کے 459 کیس رپورٹ ہوئے۔ اس کے بعد 11 سے 20 سال کی عمر کی خواتین کے 444 کیسز ہیں، اور 31 سے 40 سال کی خواتین کے 167 کیسز ہیں۔رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ زیادتی کرنے والے (33فی صد)افراد جاننے والے تھے، جبکہ 14 فی صد شوہر اور 10 فی صد اجنبی تھے۔ متعدد کیسز میں، ملزم کی شناخت معلوم نہیں ہو سکی یا رپورٹ نہیں کی گئی، جس کی شرح 22 فی صد ہے۔صوبوں کی بنیاد پر رپورٹ شدہ کیسز کی تقسیم میں صنفی بنیاد پر تشدد کی غیر متوازن تقسیم سامنے آئی ہے۔ سب سے زیادہ کیسز 73 فی صد پنجاب میں رپورٹ ہوئے جو ملک کا سب سے زیادہ آبادی والا صوبہ ہے۔ اس کے بعد سندھ 15 فی صد، خیبر پختونخوا 8 فی صد اور اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں 2 فی صد کیسز رپورٹ ہوئے۔

    سندھ ،قانون کے باوجود چائلڈ لیبر میں اضافہ کا انکشاف

    ملک میں انٹرنیٹ ایک بار پھر سست روی کا شکار

    تیونس میں تارکین وطن کی کشتی الٹنے سے 27 افراد ہلاک

    ایف آئی نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث منظم گینگ بے نقاب کر دیا

  • لاہور میں تھانیدار کی ملزم سے مبینہ جنسی زیادتی

    لاہور میں تھانیدار کی ملزم سے مبینہ جنسی زیادتی

    لاہور کے تھانہ کاہنہ میں تعینات تھانیدار کی جانب سے زیر حراست ملزم سے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا واقعہ سامنے آگیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق عدالتی حکم پر پولیس نے اے ایس آئی شہزاد شاہین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا جس میں پولیس تحویل سے ملزم کا فرار اور حبس بے جا میں رکھنے کی دفعات شامل ہیں۔ واقعہ سامنے آنے کے بعد پولیس نے اے ایس آئی شہزاد شاہین کو حراست میں لے کر نوکری سے برخاست کر دیا۔ مبینہ زیادتی کا شکار ملزم تھانے سے فرار ہو کر عدالت پہنچا اور شکایت کی۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد مقدمے میں جنسی زیادتی کی دفعات بھی شامل کی جائیں گی۔یاد رہے کہ 23 مئی کو راولپنڈی کے سینٹرل جیل اڈیالہ میں قیدی سے مبینہ اجتماعی جنسی زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھا جس کا مقدمہ تھانہ صدر بیرونی میں درج کر لیا گیا تھا۔متاثرہ قیدی کی شناخت ریحان خان کے نام سے ہوئی تھی جس کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ قیدی سے اجتماعی زیادتی کا واقعہ 18 مئی کی رات 11 بجے پیش آیا تھا۔ایف آئی آر کے مطابق سینٹرل جیل میں قید ذاکر اللہ اور سائل نے مل کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کو آگاہ کیا تو اگلی صبح سپرنٹنڈنٹ کے سامنے پیش کرنے کا کہا، اگلی صبح عدالت پیشی پر چلا گیا جہاں سے سزا پوری ہونے پر مجھے رہا کر دیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ فرانس میں سفیر تعینات

    نیول چیف کی بحرینی ولی عہد اور وزیراعظم سے ملاقات

    پی ایس ایل ٹیموں کے مالکان عمران خان کو فنڈنگ کرتے تھے، سابق رکن پی ٹی آئی

    لاہور ہائیکورٹ کی 25 آسامیوں کیلئے 47نام جوڈیشل کمیشن کو ارسال

  • بھارت میں سیاحتی مقام پر لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی

    بھارت میں سیاحتی مقام پر لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی

    بھارت کے سیاحتی مقام پر بوپ دیو گھاٹ پر 21 سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا واقعہ پیش آیا ہے۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست مہاراشٹرا کے شہر پونے میں جمعرات کی رات 3 افراد نے خود کو سماجی کارکن ظاہر کرکے لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی۔خاتون اپنے دوست کے ساتھ سیاحتی مقام بوپ دیو گھاٹ گئی ہوئی تھی، جہاں ملزمان نے ان پر حملہ کردیا جبکہ خاتون کے دوست کو شدید تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب متاثرہ خاتون اور اس کا دوست بوپ دیو گھاٹ میں موجود تھے۔ ملزمان میں سے ایک شخص کار میں آیا اور خود کو سماجی کارکن ظاہر کرنے لگا، جبکہ ملزم نے دعویٰ کیا کہ اس علاقے میں جوڑوں کے آنے پر پابندی ہے اور ان کی تصاویر بنائیں۔ بعد ازاں ملزم نے خاتون کو دھمکی دے کر زبردستی اپنی گاڑی میں بٹھایا اور اسے ایک اور مقام پر لے جا کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ متاثرہ لڑکی کے دوست کو بھی ملزمان نے تشدد کا نشانہ بنایا۔

    ملزمان بعد میں لڑکی کو چھوڑ کر فرار ہو گئے، جو زخمی حالت میں پائی گئی اور اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس نے پولیس میں شکایت درج کروائی۔متاثرہ لڑکی کی شکایت کے بعد کوندھوا پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کرلیا۔ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ خاتون کو جسم پر شدید چوٹیں آئی ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ افسران اور کرائم برانچ کی ٹیمیں کیس کی تحقیقات کر رہی ہیں، جبکہ باقی دو ملزمان کی تلاش شروع کردی ہے۔

    ہنگامی صورتحال، وفاق کی درخواست پر سندھ پولیس کی بھاری نفری اسلام آباد روانہ

  • بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    بھارت کے شہر کولکتہ میں خاتون ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی و قتل کیس کے بعد بھارت میں ڈاکٹروں کا احتجاج جاری ہے، بھارتی سپریم کورٹ نے واقعہ کا از خود نوٹس لیا ہے، سماعت کل ہو گی

    31 سالہ پوسٹ گریجویٹ ٹرینی ڈاکٹر کے والد نے بیٹی کی موت کے بعد ہسپتال پہنچنے کے بعد کا منظر میڈیا کو بتایا ہے،بھارتی میڈیا کو ایک انٹرویو میں ڈاکٹر کے والد کا کہنا تھا کہ مجھےاس رات 11 بجے کال آئی کہ آپ کی بیٹی نے خود کشی کر لی ہے، میں فورا ہسپتال کے لئے نکلا رات 12 بجے ہسپتال پہنچا، بیٹی کی لاش ڈھونڈتا رہا، رات ساڑھے تین بجے مجھے بیٹی کی لاش کے پاس لے جایا گیا، میں نے جب بیٹی کی لاش دیکھی تو میرے اوپر کیا گزری صرف میں جانتا ہوں، بیٹی کے جسم پر کپڑے نہیں تھے، وہ اک چادر میں لپٹی ہوئی تھیں، اسکی ٹانگیں الگ تھیں، ایک ہاتھ اس کے سر پر تھا،ہم نے سب کچھ کھو دیا ، ہمارے پاس کچھ نہیں بچا، ہم انصاف چاہتے ہیں،میری بیٹی کی پتلون اتری ہوئی تھی، اس کے جسم پر کپڑے کا صرف ایک ٹکڑا تھا۔ اس کا ہاتھ ٹوٹ چکا تھا، اس کی آنکھوں، منہ سے خون نکل رہا تھا۔ اسے دیکھ کر ایسا لگا کہ کسی نے اسے قتل کر دیا ہے۔ میں نے انہیں بتایا کہ یہ خودکشی نہیں، قتل ہے۔ ہم نے اپنی بیٹی کو ڈاکٹر بنانے کے لیے بہت محنت کی لیکن اسے قتل کر دیا گیا۔

    خاتون ڈاکٹر کے والد نے بیٹی کے بارے میں بتایا کہ ان کی بیٹی نے نائٹ شفٹ پر جانے سے قبل اپنی ڈائری لکھی تھی،ان کی بیٹی بہت پڑھنے والی لڑکی تھی، وہ اپنے خواب پورے کرنے کے لیے دن میں 10 سے 12 گھنٹے پڑھا کرتی تھی، اس نے ڈائری میں لکھا تھا کہ وہ اپنے ایم ڈی کورس کے امتحانات میں ٹاپ کر کے گولڈ میڈلسٹ بننا چاہتی ہے، ساتھ ہی اس نے اپنے میڈیکل کے شعبے میں ہمیشہ خدمات سرانجام دیتے رہنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا،ان کی بیٹی نے ڈاکٹر بننے کے لیے بہت لڑائیاں لڑیں اور بہت محنت کی، یہاں تک کہ اس کی پرورش کے لیے ہم نے بھی بہت قربانیاں دیں۔

    خاتون ڈاکٹر کے والدین نے میڈیا کو بتایا کہ وہ ریاستی حکومت کی کارروائی سے مطمئن نہیں ہیں اور انہوں نے وزیر اعلیٰ پر دوغلا پن کا الزام لگایا، غمزدہ والدین نے کہا کہ ان کا وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے اعتماد اٹھ گیا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جب وہ ’اپنی بیٹی کے معاملے میں انصاف کے مطالبے کے لیے احتجاج کر رہی ہیں‘، وہ عوامی غصے کو دبا رہی ہیں اور اس احتجاج کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں جو ان کی بیٹی کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہا ہے۔وزیراعلیٰ انصاف فراہم کرنے کی بات کر رہے ہیں، لیکن پھر انصاف کا مطالبہ کرنے والے عام لوگوں کو جیلوں میں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہم وزیراعلیٰ سے مطمئن نہیں ہیں۔ ہم نے کوئی معاوضہ لینے سے انکار کر دیا ہے

    شمشان گھاٹ میں تین لاشیں موجود تھیں تب بھی سب سے پہلے ان کی بیٹی کی لاش کو جلایا گیا۔والدین
    خاتون ڈاکٹر کے والدین کا کہنا تھا کہ پولیس نے بالکل بھی اچھا کام نہیں کیا اور کیس کو چھپانے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق، پولیس نے ان کی بیٹی کا پوسٹ مارٹم جلد کیا اور جلد از جلد اس کی لاش کو نکالنے کی کوشش کی۔ اس کے والد نے کہا کہ جب شمشان گھاٹ میں تین لاشیں موجود تھیں تب بھی سب سے پہلے ان کی بیٹی کی لاش کو جلایا گیا۔ محکمہ یا کالج سے کسی نے بھی ان کے ساتھ تعاون نہیں کیا، اس واقعے میں "پورا محکمہ” ملوث تھا۔

    خاتون ٹرینی ڈاکٹر کی والدہ کا کہنا تھا کہ ممتا بنرجی نے کہا کہ مجرم کو جلد از جلد گرفتار کر لیا جائے گا، لیکن ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔ ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس واقعے میں اور بھی بہت سے لوگ ملوث ہیں۔ میرے خیال میں اس واقعے کے لیے پورا محکمہ ذمہ دار ہے، پولیس نے بالکل بھی اچھا کام نہیں کیا۔ مجھے لگتا ہے کہ وزیر اعلیٰ احتجاج کو روکنے کی کوشش کر رہی ہیں، انہوں نے آج یہاں دفعہ 144 نافذ کر دی تاکہ لوگ احتجاج نہ کر سکیں۔

    بھارت میں خواتین کے بڑھتے ہوئے ریپ کے واقعات سے خطے میں تشویش کی لہر
    بھارت میں لیڈی ڈاکٹر کے ریپ اور قتل کے بعد ہڑتال،بی جے پی کی حکومت میں بھارت میں لا قانونیت کا راج ہے،بھارت میں خواتین کے بڑھتے ہوئے ریپ کے واقعات سے خطے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی،
    مودی سرکار کے تیسرے دور میں بھارت کو اب تک کے سب سے شدید مظاہروں کا سامنا ہے،
    بھارت میں کلکتہ کے آر۔جی۔کار ہسپتال میں زیرِ تربیت ڈاکٹر کے ریپ اور قتل کے بعد پورا ملک ہڑتالوں کی زد میں ہے،حال ہی میں دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق؛ "بھارت میں خواتین کے خلاف تشدد پر ہفتے کے دن ہونے والے احتجاج میں 10 لاکھ سے زیادہ ڈاکٹر کے شامل ہوئے”بھارت میں ڈاکٹروں کی کثیر تعداد کی ہڑتال کے باعث ہسپتالوں میں طبی خدمات مفلوج،بھارتی ہسپتالوں میں ایمرجنسی کے سوا ہر طرح کی طبی سہولت کو بند کردیا گیا، مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی، جس میں کولکتہ بھی شامل ہے، نے ریاست بھر میں ہونے والے مظاہروں کی حمایت کی اور مطالبہ کیا کہ تحقیقات کو تیز تر کر کے مجرموں کو سخت سے سخت سزا دی جائے،

    کلکتہ میں ہونے والے احتجاج کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیل چکا ہے ،آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر پربھاس رنجن ترپاٹھی نے کہا کہ؛”ریاست اڈیشہ میں ریذیڈنٹ ڈاکٹرز مکمل ہڑتال پر ہیں، اور اس کی وجہ سے تمام فیکلٹی ممبران، یعنی سینئر ڈاکٹرز پر دباؤ بڑھ رہا ہے”آئی ایم اے کے صدر، آر وی اسوکن کا کہنا ہے کہ؛ "بھارت میں خواتین کسی بھی پیشے میں اور خاص کر میڈیکل کے شعبے میں غیر محفوظ ہیں”نئی دہلی میں پارلیمنٹ کے قریب جمع ہونے والے مظاہرین نے مودی سرکار سے جوابدہی کا مطالبہ کیا اور "ہمیں انصاف چاہیے” اور "کوئی حفاظت نہیں، کوئی خدمت نہیں” کے نعرے لگائے،بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد ایک وسیع مسئلہ ہے، نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 2022 میں، پولیس نے عصمت دری کی 31,516 رپورٹیں ریکارڈ کیں، جو کہ 2021 سے 20 فیصد زیادہ ہے۔مودی سرکار بھارت میں امن وامان کی صورتِ حال سے نمٹنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    واضح رہے کہ اس سے قبل 9 اگست کو آر جی کار میڈیکل کالج کے سیمینار ہال میں ایک خاتون ٹرینی ڈاکٹر کی لاش ملی تھی۔ خاتون کی عصمت دری کی گئی اور پھر بے دردی سے قتل کر دیا گیا کیس کی تحقیقات کی ذمہ داری سی بی آئی کو سونپی گئی ہے،پولیس نے اب تک 12 ملزمان کو گرفتار کیا ہے، بھارت بھر میں ڈاکٹر واقعہ کو لے کر سراپا احتجاج ہیں.

    خاتون ٹرینی ڈاکٹر سے زیادتی اور قتل کے واقعے کے خلاف پورے بھارت میں احتجاج شروع ہوگیا ہے، واقعے کے خلاف کلکتہ میں ہزاروں ڈاکٹرز نے احتجاج کیا، ریاست مہاراشٹرا کے 8 ہزار سے زائد سرکاری ڈاکٹروں نے میڈیکل سروسز کا بائیکاٹ کیا، نئی دہلی میں بھی ڈاکٹرز نے احتجاج کیا اور ایک سرکاری اسپتال کے باہر دھرنا دیا،لکھنو، اتر پردیش اور گوا میں بھی ڈاکٹروں نے احتجاج کیا اور مقتول خاتون ڈاکٹر کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا،ممبئی کے ہسپتالوں میں بھی رہائشی ڈاکٹروں کا احتجاج جاری ہے،

    فیض حمید کی گرفتاری پر خلیل قمر،عمر عادل خوش،اڈیالہ جیل سے جاسوس گرفتار

    گرفتاری کا خوف،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بیرون ملک فرار

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید کے مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا یہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے ، حافظ نعیم

    9 مئی کے واقعات کی تحقیقات صرف جنرل فیض حمید تک محدود نہیں رہیں گی. وزیر دفاع خواجہ آصف

    فیض حمید 2024 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی حمایت میں سرگرم تھے،سینیٹر عرفان صدیقی کا انکشاف

  • ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    بھارت میں ٹرینی ڈاکٹر کے ساتھ 20 افراد کی جنسی زیادتی اور قتل کیس میں پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آئی ہے، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جنسی زیادتی کی تصدیق بھی ہوئی ہے

    کولکتہ کے آر جی کار میڈیکل کالج اور ہسپتال میں مردہ پائی گئی ٹرینی ڈاکٹر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ دل دہلا دینے والی ہے،بھارتی میڈیا کے مطابق ٹرینی ڈاکٹر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جنسی زیادتی کی بھی تصدیق ہوئی ہے، خاتون ڈاکٹر کے جسم پر زخموں کے 14 نشانات تھے، ٹرینی ڈاکٹر کے سر، ہونٹوں، ناک، دونوں گالوں، ٹھوڑی، گردن، کندھے، گھٹنے، شرمگارہ، ٹخنے پر زخموں کے نشانات تھے، ملزمان نے خاتون ڈاکٹر کے ساتھ انتہائی بہیمانہ طریقے سے تشدد کے دوران ریپ کیا،خاتون ڈاکٹر کے جسم کے کئی حصوں میں خون کے لوتھڑے جمنے کے ساتھ ساتھ پھیپھڑوں میں خون بہنے کا ثبوت بھی ملا ہے۔

    بھارتی سپریم کورٹ نے خاتون ڈاکٹر کے ساتھ ریپ و قتل کا از خود نوٹس لے لیا
    بھارتی سپریم کورٹ نے کولکتہ میں ڈاکٹر کے ساتھ زیادتی و قتل کے واقعہ کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ سپریم کورٹ میں 20 اگست کو سماعت ہو گی، بھارتی سپریم کورٹ میں 17 اگست کو ایک درخواست بھی دائر کی گئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ واقعہ کا از خود نوٹس لے، سپریم کورٹ میں‌ درخواست وکیل اجول گوڑ نے دائر کی جس میں کہا گیا کہ یہ ہماری قوم کی روح پر حملہ ہے کیونکہ یہ انصاف اور انسانیت کے نظریات کی خلاف ورزی ہے، یہ آئین کی سنگین توہین ہے،خاتون ڈاکٹر کی زندگی کا جس وحشیانہ طریقے سے خاتمہ کیا گیا اس نے ہماری قوم کے اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے،سپریم کورٹ از خود نوٹس لے اور ملزمان کو سزائیں دے.

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    واضح رہے کہ اس سے قبل 9 اگست کو آر جی کار میڈیکل کالج کے سیمینار ہال میں ایک خاتون ٹرینی ڈاکٹر کی لاش ملی تھی۔ خاتون کی عصمت دری کی گئی اور پھر بے دردی سے قتل کر دیا گیا کیس کی تحقیقات کی ذمہ داری سی بی آئی کو سونپی گئی ہے،پولیس نے اب تک 12 ملزمان کو گرفتار کیا ہے، بھارت بھر میں ڈاکٹر واقعہ کو لے کر سراپا احتجاج ہیں.

    خاتون ٹرینی ڈاکٹر سے زیادتی اور قتل کے واقعے کے خلاف پورے بھارت میں احتجاج شروع ہوگیا ہے، واقعے کے خلاف کلکتہ میں ہزاروں ڈاکٹرز نے احتجاج کیا، ریاست مہاراشٹرا کے 8 ہزار سے زائد سرکاری ڈاکٹروں نے میڈیکل سروسز کا بائیکاٹ کیا، نئی دہلی میں بھی ڈاکٹرز نے احتجاج کیا اور ایک سرکاری اسپتال کے باہر دھرنا دیا،لکھنو، اتر پردیش اور گوا میں بھی ڈاکٹروں نے احتجاج کیا اور مقتول خاتون ڈاکٹر کے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا،ممبئی کے ہسپتالوں میں بھی رہائشی ڈاکٹروں کا احتجاج جاری ہے،

    فیض حمید کی گرفتاری پر خلیل قمر،عمر عادل خوش،اڈیالہ جیل سے جاسوس گرفتار

    گرفتاری کا خوف،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار بیرون ملک فرار

    فیض حمید کا نواز،شہباز کو پیغام،مزید گرفتاریاں متوقع

    فیض حمید پر ڈی ایچ اے پشاور کو 72 کروڑ کا نقصان کا الزام،تحقیقات

    قوم کا پاک فوج پر غیر متزلزل اعتماد ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے،آرمی چیف

    فیض حمید "تو توگیا”،ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گا، مبشر لقمان

    فیض حمید کی گرفتاری،مبشر لقمان نے کیا کئے تھے تہلکہ خیز انکشافات

    بریکنگ،فیض حمید گرفتار،کورٹ مارشل کی کاروائی شروع

    فیض حمید ہمارا اثاثہ تھا جسے ضائع کر دیا گیا ،عمران خان

    فیض حمید کے مسئلے پر بات نہیں کرنا چاہتا یہ فوج کا اندورنی معاملہ ہے ، حافظ نعیم

    9 مئی کے واقعات کی تحقیقات صرف جنرل فیض حمید تک محدود نہیں رہیں گی. وزیر دفاع خواجہ آصف

    فیض حمید 2024 کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی حمایت میں سرگرم تھے،سینیٹر عرفان صدیقی کا انکشاف

  • آن لائن ٹیکسی ڈرائیور نے خاتون کو گھر میں گھس کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    آن لائن ٹیکسی ڈرائیور نے خاتون کو گھر میں گھس کر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات میں کمی نہ آ سکی

    لاہور کےعلاقے سبزہ زارمیں آن لائن ٹیکسی ڈرائیور نے رائیڈ بک کرنے والی خاتون کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بناڈالا،خاتون نے واقعہ کے بعد پولیس کو اطلاع دی، پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے، پولیس کے مطابق خاتون سے زیادتی کا واقعہ سبزہ زار کراچی پلی کے قریب پیش آیا، آن لائن ٹیکسی ڈرائیور نے دو خواتین کو رائیڈ پوری ہونے پر گھر اتارا اور اس کے بعد خود ان خواتین کے پیچھے گھر میں گھس گیا اور ایک خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی،پولیس نے خاتون کی درخواست پر مقدمہ درج کر لیا ہے ،پولیس نے رائیڈر کی تفصیلات بھی خاتون سے لے لیں،پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ملزم کو گرفتار کر لیا جائے گا

    پیشہ ور خطرناک ڈکیت گینگ کے 2ملزمان ملزمان گرفتار
    دوسری جانب ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان اصغر کی ہدایت پر جرائم پیشہ عناصر کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے،انچارج انویسٹی گیشن داتا دربار ثقلین گوندل کی پولیس ٹیم کے ہمراہ کارروائی، پیشہ ور خطرناک ڈکیت گینگ کے 2ملزمان ملزمان کو گرفتار کر لیا،گرفتار ملزمان میں پرویز خان اور اس کا ساتھی تنویر شریف شامل ہے،ملزمان شاپ رابری کے دوران دستانوں کا استعمال کرتے اور واردات کے بعد ڈی وی آر بھی اتار کر لے جاتے، اس کے علاوہ ملزمان دوران واردات موٹر سائیکلز پر جعلی نمبر پلیٹ کا استعمال بھی کرتے تھے،ملزمان سے شہریوں سےچھینےگئے لاکھوں مالیت کے موبائل فونز، ڈی وی آر سمیت دیگر قیمتی سامان برآمد کرلیا گیا،اس کے علاوہ ملزمان سے وارداتوں میں استعمال کیے گئے دستانے،جعلی نمبر پلیٹیں 4عدد پسٹل بھی برآمد کر لیے،ملزمان نے دوران تفتیش شہر کے مختلف علاقوں میں درجنوں وارداتوں کا انکشاف بھی کیا ہے،

    بارش کی کوریج کے لیے پانی میں "گھسنے” والی خاتون رپورٹر کی ویڈیو وائرل

    نازیبا ویڈیو”لیک” ہونے سے میری ساکھ کو نقصان پہنچا،خلیل الرحمان قمر کا دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر کو زنا کے جرم میں کیوں نہیں پکڑا جارہا؟صارفین برہم

    خلیل الرحمان قمر کی ایک اور "ویڈیو "آنے والی ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    میری ویڈیو وائرل ہو گئی،دل کرتا ہے عدالت کے باہر خود کشی کر لوں،آمنہ عروج

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

  • پنجاب میں ریپ کی سزا بڑھانے کی تجویزپر غور

    پنجاب میں ریپ کی سزا بڑھانے کی تجویزپر غور

    وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف کی زیر صدارت ایلیٹ پولیس فورس ہیڈ کوارٹر کے کمیٹی روم میں اجلاس منعقد ہوا،جس میں صوبہ بھر میں امن وامان سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔ آئی جی پنجاب نے امن وامان کی صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

    پولیس اور پراسیکیوشن کی ڈیجیٹل مانیٹرنگ میں بہتری کے لئے اقدامات پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ریپ کی سزا دس سے پندرہ سال تک بڑھانے کی تجویز پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں گینگ ریپ، بچوں سے زیادتی اور گھریلو ملازمین پر تشدد کے واقعات کے سدباب کے لئے موثر اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں پولیس کو کوراڈ کاپٹر ڈرون اور دیگر جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کرنے فنڈز کے اجرا کے لئے اصولی منظوری دی گئی۔ پولیس افسروں کے بارے میں رپورٹ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کو پیش کر دی گئی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پولیس کیلئے سائبر کرائم انوسٹی گیشن ٹریننگ مکمل کرلی گئی۔ پولیس افسروں اور اہلکاروں کو جدید ٹیکنالوجی پر دسترس کے لئے ٹریننگ جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے کہا کہ پولیس کو پورے وسائل مہیا کریں گے،کرائم کو ہر صورت میں ختم کرنا ہے۔سینیٹر پرویز رشید، سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب، وزیر اطلاعات عظمیٰ زاہد بخاری،معاون خصوصی ذیشان ملک، ایم پی اے ثانیہ عاشق، چیف سیکرٹری، ہوم سیکرٹری، آئی جی،ایڈیشنل آئی جی اور دیگر حکام نے شرکت کی۔