Baaghi TV

Tag: ریپ

  • ریپ ملزموں کو سرعام پھانسی دینے سے متعلق بل سینیٹ سے مسترد

    ریپ ملزموں کو سرعام پھانسی دینے سے متعلق بل سینیٹ سے مسترد

    ریپ ملزموں کو سرعام پھانسی دینے سے متعلق بل سینیٹ سے مسترد کر دیا گئا

    14 ارکان نے سرعام پھانسی کے سزا کے حق میں، 24 نے مخالفت میں ووٹ دیا،جماعت اسلامی نے جنسی زیادتی پر سرعام پھانسی کا بل سینیٹ میں پیش کیا تھا،پی پی، ن لیگ اور نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتوں نے سرعام پھانسی کی مخالفت کی،جماعت اسلامی، ق لیگ، جے یو آئی، پی ٹی آئی کے بیشتر سینیٹرز نے بل کی حمایت کی،مشتاق احمد سمیت مہرتاج روغانی، کامران مرتضیٰ، مولانا فیض محمد، حافظ عبدالکریم، کامل علی آغا اور عبدالقادر نے بل کے حق میں ووٹ دیا،

    سر عام پھانسی سے کسی ملک میں ریپ کا جرم ختم نہیں ہوا ،شیری رحمان
    پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کا کہنا تھا کہ سرعام پھانسی ملک میں بربریت پھیلاتی ہے، سر عام پھانسی اکیسویں صدی کے معاشرے کو زیب نہیں دیتا،اس بل کی میں نے کمیٹی میں بھی مخالفت کی تھی، ریپ ایک سنگین اور سنجیدہ جرم ہے لیکن سر عام پھانسی سے کسی ملک میں ریپ کا جرم ختم نہیں ہوا ہے،پہلے بھی اس پر بات ہو چکی ہے، سرعام پھانسی مسئلے کا حل نہیں وہ معاشرے میں بربریت پھیلاتی ہے،ہم سب کی ایک ہی سوچ ہے کہ ریپ سے بدتر کوئی جرم نہیں، ہم پولیسنگ، بہتر کریں، سرعام پھانسی سے ریپ کیسز نہیں رک سکتے.

    سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے یہ اہم نہیں اسلام کیا کہتا ہے یہ اہم ہے،پی ٹی آئی نے بھی ریپ ملزمان کو سرعام پھانسی کی مخالفت کر دی، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ سزائے موت کی حمایت، سرعام پھانسی کی مخالفت کرتے ہیں،

    ایوان بالا میں ملک میں آبی وسائل ،سیلابوں،اور پانی کی بد انتظامی کے حوالے سے تحریک پر بحث کی گئی،سینیٹر ہمایوں مہمند نے کہا کہ 35 سے 50 فیصد پانی سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے، ہمارے پاس دریائے سندھ قدرتی وسائل ہیں لیکن ہم نے انہیں استعمال نہیں کیا ،دریاؤں میں پانی کی کمی کیوں آئی ہے ،کہیں بھارت تو ہمارے وسائل کو استعمال نہیں کر رہا؟ ، دیگر ممالک میں ضائع ہونے والے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے پلاننگ کی جاتی ہے ،2010 میں جو سیلاب ایا تھا اس میں 43 بلین نقصان ہوا تھا ،کیا یہ کہنا مناسب ہو گا کہ بھارت نے پانی چھوڑ دیا ہے ،ہمارے پاس بہت بڑا ایریا ہم اسے استعمال کر سکتے ہیں ، نیپرا کہتے ہے 1.2، 1.3 ہیڈرو بجلی استعمال کر رہے ہیں ،سندھ کو پنجاب سے شکایت ہےکہ جب ہم پانی مانگتے ہیں تو گڈو سے پانی پہنچنے تک سات روز لگتے ہیں،

    بیرسٹر علی ظفر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک آبادی کا بم ہے اور ایک پانی کا بم ہے،پانی کے حوالہ سے رپورٹس منگوا لیں،پانی کے بحران کو کس طرح حل کرنا ہے، سرتاج عزیز نے ایک رپورٹ بنائی تھی، وہ منگوائیں بڑی اہم باتیں ہیں اس پر عملدرآمد شروع کریں تو پانی کے مسئلے حل ہو سکتے ہیں،جو بھی حکومت آئے پانی کے مسائل پر سنجیدگی سے کام کرے،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کہا رپورٹس منگوا کر سب ممبران کو دے دیں،

    نگران وفاقی وزیر اطلاعات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا تھا کہ کسی بھی جماعت کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک روا نہیں رکھا گیا،
    نگران حکومت کو ہر ممکن تعاون کی فراہمی پر چیئرمین سینیٹ اور اراکین سینیٹ کے مشکور ہیں، نگران حکومت کی بنیادی ذمہ داری ملک میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرانا تھی،اس مقصد کے لئے تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کا تعاون درکار تھا،نگران حکومت نے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ یکساں تعلقات رکھنے کی کوشش کی،

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ نگراں وزیر پارلیمانی امور مرتضیٰ سولنگی نے سینیٹ اجلاسوں کو ہموار طریقے سے چلانے میں اہم کردار ادا کیا، وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے اراکین سینیٹ کے سوالات کو غور سے سنا اور ان کے تفصیلی جوابات دیئے جس پر ان کے مشکور ہیں،

    تحریک انصاف کے ارکان نےسینیٹ میں چیئرمین سینیٹ کے ڈائس کے سامنے پلے کارڈ اٹھا کر احتجاج کیا اور دھاندلی زدہ الیکشن نا منظور کے نعرے لگائے،

    کوئٹہ ویڈیو اسکینڈل،ہدایت خلجی کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،33 بل منظور،زیادتی کے مجرم کو سرعام پھانسی کی ترمیم مسترد

    خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی،سرعام پھانسی پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہو گا، سینیٹر فیصل جاوید

    بیوی طلاق لینے عدالت پہنچ گئی، کہا شادی کو تین سال ہو گئے، شوہر نہیں کرتا یہ "کام”

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی، ملزم کو کیسے نامرد بنایا جائیگا؟ تفصیل سامنے آ گئی

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    غیر ملکی خاتون کے سامنے 21 سالہ نوجوان نے پینٹ اتاری اور……خاتون نے کیا قدم اٹھایا؟

    وزیراعظم نے زیادتی کے مجرم کی سرعام پھانسی کی مخالفت کردی،

    بچوں کے ساتھ جنسی اورجسمانی تشدد کا حل سرعام پھانسی دینا نہیں بلکہ..عدالت نے کیا حل بتایا؟

  • ہنسنے کا مطلب پھنسنا، نہیں ہوتا…..

    ہنسنے کا مطلب پھنسنا، نہیں ہوتا…..

    بھارت میں خواتین کی آبادی مردوں سے زیادہ ہے، خواتین کو آبادی کے حساب سے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، زندہ رینے کی تگ و دو کے لئے خواتین نہ صرف گھروں سے نکلتی ہیں بلکہ محنت و مشقت بھی کرتی ہیں، خواتین کو گھروں سے باہر نکلنے کے لئے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے .معاشرے میں خواتین کو گھروں کی دیکھ بھال کرنے والی،ماں ، بہن، بیوی ، بیٹی سمیت دیگر کردار ادا کرنے ہوتے ہیں، بھارت کی ترقی میں خواتین کا کردار بھی نمایاں تا ہم انکے ساتھ صنفی امتیاز برتا جا رہا ہے

    بھارت میں خواتین کو جہاں ایک طرف دیوی کے طور پر جانا جاتا ہے وہیں، جہیز کے لئے خاتون کو جلا دیا جاتا ہے،لڑکیاں شادی کے لئے انتظار کرتے کرتے جوانی کھو دیتی ہیں تا ہم جہیز کی وجہ سے شادی نہیں ہو پاتی، خواتین کے ساتھ جب زیادتی، ریپ ، تشدد کے واقعات ہوں پھر بھی خواتین کو ہی اپنی عزت بچانے کے لئے بھی چپ ہی رہنا پڑتا ہے کیونکہ واویلا کرنے سے اسی کی عزت پر ہی حرف آنا ہے.

    مودی سرکار کی طرف سے بیٹی بڑھاؤ، بیٹی بچاؤ کا نعرہ تو لگایا گیا لیکن صنف نازک کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی، مجموعی طور پر دیکھا جائے تو خواتین کو ایک ’سامان‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے حد تو یہ ہوگئی ہے کہ کسی وقت یا موقع پراگر لڑکی نے کسی کو مسکرا کر دیکھ لیا تو وہ جناب فوری یہ تنیجہ آخذ کر لیتے ہیں کہ لڑکی ان پر فدا ہوگئی ہے

    انسان تو پھول، بادل، موسم، اپنے پسندیدہ جانور، چھوٹے بچوں، قوسِ قزح اور کسی بھی چیز کو مسکرا کر دیکھ سکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو بالکل نہ ہوا کہ اگر کسی حضرت کو مسکرا کر دیکھ لیا تو وہ خاتون یا لڑکی اس پر فریفتہ ہوگئی ہےسماج کو ’ہنسی تو پھنسی‘ والی مضحکہ خیز اور ہتک آمیز سوچ میں تبدیلی لانے کی اشد ضرورت ہے ایسا بھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کو بے وقوف سمجھ کر یا آپ کی سوچ کو ہنس کر ٹالنا چاہتی ہو یا پھر آپ کو ہنس کر نظر انداز کر رہی ہو یا آپ سے اپنی جان چھڑانا چاہتی ہو۔ خواتین کے خلاف ایسے رویے ہمارے معاشرے کا مشترکہ مسئلہ ہی نہیں، بلکہ المیہ ہیں

    تحریر:نواب علی اختر

    اعظم سواتی کو بلوچستان سے مقدموں میں رہائی ملنے کے بعد انہیں سندھ پولیس نے گرفتار کر لیا ہ

    عدالت نے اعظم سواتی کو مزید مقدمات میں گرفتار کرنے سے روک دیا

    گائے لان میں کیوں گئی؟ اعظم سواتی نے 12 سالہ بچے کو ماں باپ بہن سمیت گرفتار کروا دیا تھا

    پتا چل گیا۔! سواتی اوقات سے باہر کیوں ؟ اعظم سواتی کے کالے کرتوت، ثبوت حاظر ہیں۔

  • دوران واردات ریپ سمیت 30 سے زائد مقدمات میں ریکارڈ یافتہ فائرنگ سے ہلاک

    دوران واردات ریپ سمیت 30 سے زائد مقدمات میں ریکارڈ یافتہ فائرنگ سے ہلاک

    ملتان تھانہ مخدوم رشید کے علاقے نہر چاہ بھاولی والا کے قریب پولیس مقابلہ، ڈکیتی، رابری، موٹر سائیکل چوری، دوران واردات ریپ سمیت 30 سے زائد مقدمات میں ریکارڈ یافتہ ملزم خلیل اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا

    ترجمان پولیس کے مطابق رات ساڑھے 12 بجے کے قریب ایس ایچ او مخدوم رشید راشد ندیم اپنی ٹیم کے ہمراہ 2 ملزمان محمد شہزاد ولد محمد عارف قوم چاچک سکنہ درانہ نگانا اور خلیل ولد محمد شفیع کو زیر حراست پولیس مال مسروقہ کی برآمدگی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ نہر بھاولی والا کے قریب دونوں ملزمان کو مال مسروقہ کی برآمدگی کی نشاندہی کے لیے نیچے اتارا تو 3 مسلح موٹر سائیکل سواروں نے اپنے ساتھیوں کو چھڑوانے کی غرض سے پولیس پر فائرنگ کر دی ،پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی، فائرنگ کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا ،اسی دوران 2 زیر حراست ملزمان پولیس کی حراست سے فرار ہو گئے جن میں ایک ملزم اپنی ہی ساتھیوں کی فائرنگ کی ذد میں آ کر مضروب ہو کر گر گیا ،فائرنگ رکی تو جا کر دیکھا کہ ایک ملزم محمد خلیل اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ کی ذد میں آ کر مضروب گیا تھا جس کی ریسکیو 1122 نے موقع پر پہنچ کر ہلاکت کی تصدیق کر دی جبکہ ملزم محمد شہزاد اور تینوں حملہ آور ملزمان اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے علاقے کی ناکہ بندی کروا دی گئی اور فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں

    ترجمان پولیس کے مطابق ہلاک ڈاکو نے 3 ماہ قبل تھانہ مخدوم رشید کے علاقے چاہ بھاولی والا میں دوران واردات راہگیر خاتون کے ساتھ ریپ کیا تھا جس پر مقدمہ نمبر 622/23 بجرم 376iii/392 تھانہ مخدوم رشید درج کیا گیا تھا ہلاک ڈاکو محمد خلیل ڈکیتی رابری، موٹر سائیکل، اقدام قتل، دوران واردات ریپ سمیت 30 سے زائد مقدمات میں ریکارڈ یافتہ تھا ہلاک ہونے والے ڈاکو کی لاش کو پوسٹمارٹم کے لیے نشتر ہسپتال منتقل کر دیا گیا وقوعہ کا مقدمہ تھانہ مخدوم رشید میں درج کر کے مزید کارروائی پولیس عمل میں لائی جا رہی ہے

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

  • کراچی:سمندرمیں ڈوبنے والی لڑکی کےساتھ پہلے زیادتی کی گئی:ملزم گرفتار

    کراچی:سمندرمیں ڈوبنے والی لڑکی کےساتھ پہلے زیادتی کی گئی:ملزم گرفتار

    کراچی: سی ویو پر ڈوبنے والی لڑکی کی لاش برآمد، جنسی ہراسانی کے الزام میں 2 ملزمان گرفتارہوچکے ہیں، اطلاعات ہیں کہ مقتولہ کے والد کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے

    کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ سی ویو پر چھلانگ لگا کر ڈوبنے والی 23 سالہ لڑکی کے ساتھ ویٹرنری ہسپتال کے مالک نے مبینہ طور پر جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا جس کے بعد لڑکی نے مبینہ طور پرخودکشی کرلی۔ایس ایس پی ساؤتھ سید اسد رضا کا کہنا تھا کہ 7 جنوری کی رات کو پولیس نے جانوروں کے ہسپتال پر چھاپہ مارا جہاں لڑکی کام کرتی تھی، جس کے بعد ملزم سمیت عملے کے ایک اور شخص کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ مقتولہ کے والد کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    گوجر خان: بڑے بھائی کے ہاتھوں بیٹے کی شادی کیلئے برطانیہ سے آیا چھوٹا بھائی قتل

    ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ 23 سالہ لڑکی نے 6 جنوری کو فرحان شہید پارک کے قریب سی ویو پر سمندر میں چھلانگ لگا دی تھی، لڑکی کی لاش آج صبح برآمد کی لی گئی ہے۔ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لڑکی جس ہسپتال میں کام کرتی تھی اس ہسپتال کے مالک (ویٹرنری ڈاکٹر) نے لڑکی کو جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا، ساحل پولیس نے مقتولہ کے والد کی شکایت پر مقدمہ درج کر لیا ہے۔

    کراچی؛سمندرمیں ڈوب کرجاں بحق ہونیوالی نرس کی لاش نکال لی گئی:شرمناک رویےکا شکار

    سید اسد رضا نے بتایا کہ ’گرفتار مالک کے کمرے سے ٹشو، بال اور مانع حمل ادویات برآمد ہوئی ہیں۔‘پولیس نے بتایا کہ ہسپتال کے مالک نے ’اعتراف‘ کیا ہے کہ ان کا لڑکی کے ساتھ گزشتہ دو سال سے جنسی تعلقات تھے۔انہوں نے کہا کہ گرفتار ملزم کو اغوا اور دیگر دفعات کے تحت مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔سینئر پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ شاید لڑکی نے خودکشی کی ہے کیونکہ وہ جنسی ہراسانی کا شکار تھی‘۔

    امریکہ میں فائرنگ کا جنون جاری، ہالیوڈ میں فائرنگ سے متعدد ہلاک و زخمی

    خیال رہے کہ گزشتہ روز سی ویو پر 23 سالہ لڑکی کے سمندر میں چھلانگ لگاکر ڈوبنے کی اطلاعات کے پیش نظر ریسکیو آپریشن کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ لڑکی کی شناخت سارہ ملک دختر ابرار احمد کے نام سے ہوئی ہے جو کہ محمود آباد اعظم بستی کی رہائشی ہے۔پولیس کی جانب سے لی گئی جائے وقوعہ کی تصاویر میں ایک خاتون کا ہینڈ بیگ دیکھا گیا جس میں سے شناختی دستاویزات اور دیگر اشیا برآمد ہوئی تھیں

  • پنجاب ، دس ماہ میں ریپ کے 3088 ،بدفعلی کے 4503 واقعات

    پنجاب ، دس ماہ میں ریپ کے 3088 ،بدفعلی کے 4503 واقعات

    خواتین اور بچوں پر تشدد کی روک تھام کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا، مسرت چیمہ
    ترجمان حکومت پنجاب مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ خواتین اور بچوں پر تشدد کی روک تھام کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

    وہ پنجاب یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل سٹڈیز میں خواتین اور بچوں پر تشد پرکے حوالے سے جاری آگاہی مہم کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کررہی تھیں۔ اس موقع پر چیئرپرسن پنجاب ویمن پراٹیکشن کمیٹی رافعہ کمال، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ایس ایس ڈی او سید کوثر عباس، ڈائریکٹر انسٹیٹیوٹ آف سوشل اینڈ کلچرل سٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر روبینہ ذاکر، این جی اوز کے نمائندگان، فیکلٹی ممبران اور طلبا ؤ طالبات نے شرکت کی۔

    اپنے خطاب میں مسرت چیمہ نے کہا کہ خواتین اور بچوں پر تشدد کے خاتمے کیلئے قوانین پر سختی سے عملد رآمد ہونا چاہیے۔ خواتین کوامیر غریب، تعلیم یافتہ یا ان پڑھ ہر طرح کے افراد پر مشتمل سوسائٹی میں جنسی ہراسگی اور تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والی عورت کو عورت ہونے کے طعنے برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ہماری بچیاں بہت باصلاحیت ہیں اگر انہیں مضبوط کرنے کیلئے اقدامات نہ کئے گئے تو ملک میں کبھی سیاسی و معاشی استحکام نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنسی ہراسگی اور تشدد کے مسائل کا سامنا ترقی یافتہ ممالک کو بھی ہے لیکن وہاں جزا اور سزا کا قانون موجود ہے۔

    رافعہ کما ل نے کہا کہ خواتین اور بچوں پر ہونے والے تشدد کی روک تھام کیلئے تعلیمی اداروں میں سیمینارزا ورکشاپس کے ذریعے آگاہی کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور شعبہ صحت کے تعاون سے خواتین اور بچوں پر تشدد کے واقعات میں کمی لائیں گے۔ مرداور خواتین مل کر مہذب معاشرے کی تشکیل کرتے ہیں انٹرٹینمنٹ کے نام پر خواتین کو مظلوم دکھانے والے مائنڈ سیٹ کو بدلنا ہوگا۔

    سید کوثر عباس نے موضوع کے حوالے سے تحقیقی رپورٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے شرکاء کو بتایا کہ گزشتہ دس ماہ میں پنجاب میں 3088 خواتین کے ساتھ ریپ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں جبکہ صرف لاہور میں 446 خواتین زیادتی کا شکار ہوئی ہیں۔ بچوں کے ساتھ بد فعلی کے 4503واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن1221 واقعات کے ساتھ لاہور سر فہرست ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں کیسز کا رپورٹ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے نصاب میں آگاہی کے حوالے سے مضامین شامل ہونے چاہیے۔گھریلو تشدد کو روکنے کیلئے پولیس میں خواتین کی نمائندگی میں اضافہ کرنا ہوگا۔

    ڈاکٹر روبینہ ذاکر نے کہا کہ خواتین اور بچوں پر تشد د کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے جس کے لئے مزید اقدامات کئے جانے چاہیے خواتین پرمختلف وجوہات کی بناء پر جسمانی، ذہنی، معاشی اور سیاسی تشد د کیا جاتا ہے۔ یہ صرف سماجی مسئلہ نہیں بلکہ صحت عامہ کا مسئلہ بھی ہے۔ کزن میرج، چائلڈ میرج کے رجحان میں کمی لانے کے لئے سب کو کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے طلباء طالبات کو نصیت کی وہ جو باتیں سیکھ کر جائیں اپنے اردگردلوگوں کو آگاہی فراہم کریں۔

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

    شوہرکے موبائل میں بیوی نے دیکھی لڑکی کی تصویر،پھر اٹھایا کونسا قدم؟

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

  • نستہ کے علاقہ میں اندھے قتل کیس کا ڈراپ سین۔ملزمان گرفتار

    نستہ کے علاقہ میں اندھے قتل کیس کا ڈراپ سین۔ملزمان گرفتار

    پشاور:نستہ کے علاقہ میں اندھے قتل کیس کا ڈراپ سین۔ملزمان گرفتارکرلیا گیا ہے ،اطلاعات کے مطابق پولیس نے جدید سائنسی خطوط پر واقعہ میں ملوث 3 ملزمان گرفتار کئے۔ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف کرلیا ہے۔مزید تفتیش جاری ہے

    ایس ایچ او تھانہ نستہ بسم اللہ جان کا کہنا تھا کہ مقتول کے بھانجے کے ساتھ ملزم کے ناجائز تعلقات تھے، جن کی خوف سے ملزم نے مقتول کو قتل کیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق تھانہ نستہ کے رہائشی عدنان خان نے اپنے والد افتخار خان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ والد جوکہ شوگر کا مریض ہے، اج صبح واک کے لئے نکلے تھے اور واپس نہیں ائے۔ پولیس کو انکوائری کے دوران گمشدہ شخص کی نعش ڈھیری زرداد دریائے کابل میں ملی۔ تھانہ نستہ میں مقتول کے بیٹے کی مدعیت پر نامعلوم ملزم/ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔

    افسوسناک واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او چارسدہ سہیل خالد نے ایس پی انوسٹی گیشن سجاد خان کی سربراہی میں ڈی ایس پی سرڈھیری صنوبر خان، ایس ایچ او تھانہ نستہ بسم اللہ جان، انوسٹی گیشن افیسر نستہ اور دیگر پولیس افسران پر مشتمل ٹیم تشکیل دے کر واقعہ میں ملوث ملزم/ملزمان کی گرفتاری اور اصل حقائق منظر عام لانے کا ٹاسک حوالہ کیا۔

    پولیس ٹیم نے جدید سائنسی خطوط پر تفتیش شروع کرتے ہوئے چند مشتبہ افراد کو شامل تفتیش کیا۔ تفتیش کے دوران پولیس نے تمام ملزمان تک رسائی حاصل کرتے ہوئے گرفتار کیا۔دوران انٹاروگیشن ملزمان تیموس ولد غفار خان سکنہ خویشکی نوشہرہ، سوئیدزادہ ولد مسلم زادہ سکنہ سردریاب، داؤد ولد کفایت اللہ سکنہ سردریاب نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔ ملزم تیموس نے پولیس کو بتایا کہ مقتول کے بھانجے کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے جن کی ڈر و خوف سے مقتول افتخار کو قتل کیا۔ ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔

    پاک فوج ملکی سلامتی کی ضامن۔ شہدا کی قربانیوں پر فخر
    پاکستانی طلبا و طالبات نے 14 ممکنہ نئے سیارچے دریافت کرلیے
    ہمت ہے تو کھرا سچ کا جواب دو، پروپیگنڈہ مبشر لقمان کو سچ بولنے سے نہیں روک سکتا

  • پاکستان:جون میں 157 خواتین کا اغوا:91 کا ریپ کیا گیا

    پاکستان:جون میں 157 خواتین کا اغوا:91 کا ریپ کیا گیا

    اسلام آباد:جون میں 157 خواتین کا اغوا، 91 کا ریپ کیا گیا ،اطلاعات کےمطابق سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن اور سینٹر فار ریسرچ، ڈیولپمنٹ اینڈ کمیونیکیشن کی جانب سے مرتب کی گئی رپورٹ کے مطابق جون میں پاکستان بھر میں کم از کم 157 خواتین کو اغوا کیا گیا، 112 کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور 91 کا ریپ کیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق پاکستانی خواتین کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان کو مرکزی دھارے کے ذرائع ابلاغ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافے پر بھی غور کیا گیا، انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ گھریلو تشدد کے کم از کم 100 واقعات رپورٹ ہوئے۔

    اسی طرح جون میں ملک بھر میں تقریباً 180 بچے جنسی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنے جس میں بچوں سے زیادتی کے 93 واقعات، اغوا کے 64 واقعات اور جسمانی تشدد کے 37 واقعات شامل ہیں۔

    پنجاب میں اغوا کے سب سے زیادہ واقعات رپورٹ ہوئے کیونکہ 157 واقعات میں سے کم از کم 108 جون میں صوبے میں ہوئے، سندھ میں 22 کیسز رپورٹ ہوئے، اس کے بعد خیبرپختونخوا میں چھ کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ بلوچستان میں اغوا کے چار واقعات رپورٹ ہوئے، اسلام آباد میں ایک ہی ماہ میں اغوا کی 17 وارداتیں ہوئیں۔

    خواتین پر جسمانی تشدد کے واقعات میں بھی پنجاب سرفہرست ہے، 112 کیسز میں سے 66 پنجاب، 27 سندھ، 11 خیبرپختونخوا اور 8 اسلام آباد میں ہوئے، بلوچستان میں کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا، گھریلو تشدد کے 100 کیسز میں سے کم از کم 68 پنجاب، 17 سندھ، 13 خیبر پختونخوا اور دو کیس اسلام آباد میں رپورٹ ہوئے، بلوچستان نے پھر کوئی کیس رپورٹ نہیں کیا۔

    جون میں میڈیا میں ریپ کے کم از کم 91 واقعات رپورٹ ہوئے، ایک بار پھر پنجاب میں سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے جہاں 53 واقعات رپورٹ ہوئے، خیبرپختونخوا میں 16 کیسز، سندھ میں 14 اور اسلام آباد میں 6 کیسز سامنے آئے، بلوچستان میں ایک ہی عرصے میں دو ریپ کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

    جون میں غیرت کے نام پر قتل اور کام کی جگہ پر ہراساں کرنے کے سات واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔

    جون میں ملک بھر میں بچوں سے زیادتی کے 93 واقعات رپورٹ ہوئے۔

    پنجاب میں زیادتی کے 36 واقعات ہوئے، اس کے بعد خیبر پختونخوا میں 28 اور سندھ میں 18 واقعات ہوئے، سب سے کم تعداد اسلام آباد میں 6 اور بلوچستان میں پانچ رپورٹ ہوئے۔

    جون کے مہینے میں پاکستان بھر میں کم از کم 64 بچوں کو اغوا کیا گیا اور 37 کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، پچھلے مہینے مئی میں چائلڈ لیبر اور چائلڈ میرج سے متعلق کوئی کیس سامنے نہیں آیا لیکن جون میں بالترتیب پانچ اور سات کیس رپورٹ ہوئے۔

    سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس نے کہا کہ اس ڈیٹا کو باقاعدگی سے شائع کرنے کا مقصد خواتین اور بچوں کے خلاف تشدد میں تیزی سے اضافے کی طرف توجہ دلانا ہے۔

    ان کے مطابق جون میں کیسز میں پچھلے مہینے کے مقابلے میں اضافہ ہو اور امید ظاہر کی کہ میڈیا کی بڑھتی ہوئی توجہ اور رپورٹنگ کے ساتھ، حکومت، پولیس اور عدلیہ اپنی توجہ مقدمات کی تیز رفتار کارروائی، ان کے حل اور سزا کے لیے وقف کریں گے۔

  • بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپراستعمال کر رہاہے:کشمیری رہنما

    بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپراستعمال کر رہاہے:کشمیری رہنما

    سرینگر: بھارت مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی آبروریزی کو جنگی ہتھیار کے طورپراستعمال کر رہاہے:کشمیری رہنما ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی تذلیل اور انکی جدوجہدآزادی کو دبانے کے لیے کشمیری خواتین کی عصمت دری کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔

    حریت رہنماوں نے 1991 کے کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کی شدید مذمت کی اور اسے جموں و کشمیر کی تاریخ کا سب سے المناک واقعہ قرار دیا۔ انہوں نے ایسے تمام واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ ملوث بھارتی فوجیوں کو سزا دی جا سکے۔ بھارتی فوجیوں نے23 فروری 1991 کی رات کو ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران تقریباً سو خواتین کی اجتماعی عصمت دری کی تھی۔

    کل جماعتی حریت کانفرنس کے نائب چیئرمین غلام احمد گلزار نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ کنن پوش پورہ میں بھارتی فوجیوں کی طرف سے اجتماعی عصمت دری ایک شرمناک فعل ہے جس کی دنیا کے تمام انسانوں کو مذمت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کے مجرم سزائے موت کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیرکے لوگوں کا بھارتی عدلیہ پر سے اعتماد ختم ہو چکا ہے اور وہ ایسے دلخراش واقعات میں انصاف کی توقع نہیں رکھتے۔

    غلام احمد گلزار نے اجتماعی عصمت دری کے تمام متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کشمیریوں کی جاری مزاحمتی تحریک کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور بین الاقوامی فوجداری عدالت پر زور دیا کہ وہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری جیسے انسانیت کے خلاف سنگین جرائم پر بھارت کے خلاف کارروائی کرے اور مجرموں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لائے۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما مولوی بشیر احمد عرفانی نے سرینگر میں ایک بیان میں افسوس کا اظہار کیا کہ کنن پوش پورہ سانحہ کے متاثرین کو تین دہائیوں سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود انصاف فراہم نہیں کیا گیا۔

    حریت رہنما محمد یوسف نقاش نے سرینگر میں اپنے بیان میں کہا کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کشمیری خواتین کو تحریک آزادی سے دور رکھنے کے لیے بھارتی حکام کی طرف سے رچی گئی ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی رہنما زمرودہ حبیب نے سرینگر میں ایک بیان میں اس اندوہناک واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار اور کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کیس کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا

    حریت رہنما یٰسمین راجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی اور فاشزم کی ایک واضح مثال ہے۔۔حریت رہنما عبدالصمد انقلابی نے سرینگر میں ایک بیان میں کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کو بھارتی فورسز اہلکاروں کے ہاتھوں عصمت دری، جنسی زیادتی اور چھیڑ چھاڑ کی ہولناکیوں کا سامنا ہے

    کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموںوکشمیر شاخ کی رہنما، شمیم شال نے اسلام آباد میں ایک بیان میں کنن پوش پورہ اجتماعی عصمت دری کے متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہر سال 23 فروری کشمیریوں کو مقبوضہ جموںوکشمیرمیں بھارتی فوجیوں کی طرف سے کی جانے والی ایک بھیانک حرکت کی یاد دلاتا ہے۔

  • لاہور: نوکری کے بہانے لڑکی سے اجتماعی زیادتی:وزیراعلیٰ سخت غُصّے میں آگئے

    لاہور: نوکری کے بہانے لڑکی سے اجتماعی زیادتی:وزیراعلیٰ سخت غُصّے میں آگئے

    لاہور:گلبرگ لاہور میں نوکری کے بہانے لڑکی سے اجتماعی زیادتی کی گئی ہے۔اس واقعہ نے معاشرے کے چولیں ہلا کر رکھ دیں تھیں

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق گزشتہ ہفتے پیش آنے والے واقعے میں پولیس ٹیم نے 2 مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا، گرفتار ملزمان میں رمضان اور ولید شامل ہیں جبکہ تیسرے ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں۔

    ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے مقدمہ درج کیا اور ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنایا۔

    آئی جی پنجاب نے واقعے کا نوٹس لے لیا اور کہا کہ خواتین پر تشدد اور زیادتی کے مرتکب ملزمان کسی رعائیت کے مستحق نہیں، متاثرہ لڑکی کو انصاف کی فراہمی ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائی جائے گی۔وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے گلبرگ لاہور میں نوکری کے بہانے لڑکی سے اجتماعی زیادتی کے واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔

    سردار عثمان بزدار نے سی سی پی او لاہور سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی اور ملزمان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی کا حکم بھی دے دیا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ مفرور ملزم کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے، متاثرہ لڑکی کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے گلبرگ لاہور میں نوکری کے بہانے لڑکی سے اجتماعی زیادتی کی گئی تھی۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق گزشتہ ہفتے پیش آنے والے واقعے میں پولیس ٹیم نے 2 مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا، گرفتار ملزمان میں رمضان اور ولید شامل ہیں جبکہ تیسرے ملزم کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں۔

    ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے مقدمہ درج کیا اور ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنایا۔

    آئی جی پنجاب نے واقعے کا نوٹس لے لیا اور کہا کہ خواتین پر تشدد اور زیادتی کے مرتکب ملزمان کسی رعائیت کے مستحق نہیں، متاثرہ لڑکی کو انصاف کی فراہمی ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائی جائے گی۔

  • ہندوستان :ریپستان بن گیا:اجتماعی زیادتی کیس میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد گرفتار

    ہندوستان :ریپستان بن گیا:اجتماعی زیادتی کیس میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد گرفتار

    نئی دہلی :ہندوستان :ریپستان بن گیا:اجتماعی زیادتی کیس میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد گرفتار،اطلاعات کے مطابق بھارتی پولیس نے حال ہی میں ایک خاتون کے مبینہ اغوا اور اجتماعی زیادتی کے الزام میں کئی خواتین سمیت 11 افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

     

    بھارت میں خاتون سے جنسی زیادتی کا یہ تازہ ترین واقعہ ہے جس کی ملک بھر میں مذمت کی جا رہی ہے۔ نئی دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے اس واقعے کو شرمناک قرار دیا تھا۔

    گینگ ریپ کے بعد خاتون کو نئی دہلی کی سڑکوں پر بھی گھمایا گیا۔ اس واقعے کی فوٹیج سوشل میڈیا پر بھی گردش کر رہی ہے۔

    وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون کے چہرے پر سیاہی مل دی گئی اور ان کے بال بھی کاٹے گئے جبکہ کئی خواتین ان کو دھکیل رہی ہیں اور ان پر جملے کس رہی ہیں۔ راہگیر اس واقعے پر خوشی کا اظہار کر رہے تھے اور اپنے موبائل فون سے وڈیو بھی بنا رہے تھے۔

    پولیس کے ڈپٹی کمشنر آر ستھیا سندرام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ مشرقی دہلی کے علاقے شاہدرہ میں بدھ کے روز پیش آیا تھا اور یہ ہمسایوں کے درمیان پرانی دشمنی کا نتیجہ ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزمان کے ایک 16 سالہ رشتہ دار نے مبینہ طور پر اس خاتون کی وجہ سے ٹرین کے سامنے کُود کر خودکشی کرلی تھی۔

    ڈپٹی کمشنر آر ستھیا سندرام کا کہنا ہے کہ دو کم عمر افراد سمیت تمام 11 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے جن کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ وڈیو میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ خواتین سب سے آگے تھیں۔

    متاثرہ خاتون نے پولیس کو بتایا کہ اس خاندان کے افراد نے اُن کو اغوا کیا، کئی مردوں اور نابالغ لڑکوں نے ان کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا، اُن پر انڈے پھینکے گئے، لاٹھیوں سے مارا اور سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔

    پولیس دیگر ملزمان کی شناخت کے لیے وڈیوز کا جائزہ لے رہی ہے جبکہ متاثرہ خاتون جو دو برس کے بچے کی ماں ہے، کی کونسلنگ کی جا رہی ہے۔