Baaghi TV

Tag: ریڈیو

  • ریڈیو پاکستان میں پنشنر کی تعداد ملازمین سے زیادہ،مالی معاملات کی وجہ سے متعدد پروگرام بند

    ریڈیو پاکستان میں پنشنر کی تعداد ملازمین سے زیادہ،مالی معاملات کی وجہ سے متعدد پروگرام بند

    ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس سینیٹر فوزیہ ارشد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاوس میں منعقد ہوا۔کمیٹی اجلاس میں 19 اکتوبر 2023 کو منعقدہ کمیٹی اجلاس میں 53 ڈیلی ویجز ملازمین کی بھرتیوں کے حوالے سے دی گئی سفارشات، پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان میں 9 اگست 2023 سے اب تک کی گئی بھرتیاں،ڈی جی پاکستان براڈ کارپوریشن سے ریڈیو پاکستان میں نئی اصلاحات اور بہتری کے حوالے سے کی گئی گفتگو پر عمل درامد کے علاوہ پاکستان براڈ کاسٹنگ ایسوسییشن کے کردار، کارکردگی اور فنکشنز کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

    ڈی جی ریڈیو پاکستان نے کمیٹی کو بتایا کہ قائمہ کمیٹی کی ہدایت پر ڈپٹی کنٹرولر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی تھی او ر اس کی رپورٹ قائمہ کمیٹی کو فراہم کر دی گئی ہے۔ اسٹاف کی ضرورت تھی ضرورت کی بنیاد پر 53 سٹاف کو عارضی طور پر رکھا گیا تھا۔ڈی جی ریڈیو نے بتایا کہ ریٹائرڈ ملازمین کی جگہ نئی بھرتیاں نہیں کی گئیں ہیں سٹاف کی بہت کمی ہے سوشل میڈیا کے لیے ضرورت کے تحت بھرتی کی گئی۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ ہم نے میرٹ اور سٹاف کے حوالے سے معلومات مانگی تھیں وہ فراہم نہیں کی گئیں کمیٹی کو بتایا گیا کہ 53 میں سے 18 لوگ کام پر موجود ہیں باقی تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے جا چکے ہیں جس پر اراکین کمیٹی نے کہا کہ اس طرح ملازمین رکھنا اور ہٹانا نا مناسب ہے اس سے ادارے کی بھی بدنامی ہوتی ہے۔ ڈی جی ریڈیونے کہا کہ ریڈیو پاکستان میں ضرورت پر بکنگ پر کام لیا جاتا ہے اور اس کے مطابق ادائیگی کی جاتی ہے۔چیئر پرسن کمیٹی فوزیہ ارشد نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کو ایڈہاک ا زم پر چلانے سے بہتری ممکن نہیں ہے مستقل حل کے لیے حکمت عملی تیار کی جائے۔ سینٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ حیدرآباد ریڈیو اسٹیشن ویران ہو چکا ہے ملک کے نامور فنکار وہاں کام کرتے تھے ڈی جی ریڈیو نے کہا کہ سٹاف کی شدید کمی ہے 2019 میں 1200 سے زائد کنٹریکٹ ملازمین فارغ ہو گئے تھے اور مالی مسائل کی وجہ سے بہت سے پروگرام بھی بند ہو گئے تھے آلات اور ٹرانسمیٹرز بہت پرانے ہیں۔بجٹ کا 76 فیصد تنخواہوں اور پینشن پر خرچ ہو جاتا ہے اور ریڈیو پاکستان سرکاری اداروں میں سب سے زیادہ پرانا ادارہ ہے۔پینشنرزکی تعداد ملازمین سے زائدہے۔وفاقی وزیر اطلاعت و نشریات مرتضی سولنگی نے کہا کہ ان اداروں میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ آئندہ اجلاسوں میں ماتحت اداروں سمیت تمام سٹیک ہولڈرز کو بلا کر جائزہ لیا جائے اور موثر تجاویز تیار کی جائیں۔ اس لیئے قائمہ کمیٹی جو ہدایات دی گی عمل کیا جائے گا۔سیکٹری اطلاعات نے کہا ریڈیو پاکستان کی بہتری کیلئے بجلی بلوں کی طرز پر ٹی وی فیس کے ساتھ 15روپے ریڈیو فیس لینے کی تجویز زیر غور ہے۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ غریب لوگوں سے پہلے بھی ٹی وی فیس وصول کی جا رہی ہے اور اب ریڈیو فیس لینا منا سب نہیں۔

    پی ٹی وی میں ہیڈ آف ڈرامہ اینڈ فلم پروڈکشن کا پیکج 8 لاکھ ،تفصیلات طلب
    ڈی جی ریڈیو پاکستان نے9 اگست سے اب تک کی بھرتیوں کے حوالے سے بتایا کہ 43 لوگ ایک پروجیکٹ کے لیے رکھے گئے تھے ۔ منصوبہ کی مدت ختم ہو گئی ہے اور PC-4 منطوری کے مراحل میں ہے۔ا منصوبے کو جاری رکھنے کے لیے 10 افراد موجود ہیں باقی جا چکے ہیں جن کو 32 سے 40ہزار تنخواہ ماہوار ملتی ہے۔ پی سی فور منظور ہونے کے بعد مستقل بھرتیاں کی جائیں گی۔پی ٹی وی کے حوالے سے بتایا کہ 70 نئے لوگ رکھے گئے تھے جس میں سے 8 اینکرز اور باقی ریسرچرزہیں پروگرامز کے مطابق لوگ بھرتی کیے جاتے ہیں جو عارضی ہوتے ہیں پروگرام ختم ہونے پر وہ فارغ ہو جاتے ہیں۔سینٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ دو لاکھ سے 8 لاکھ تنخواہ ادا کی جا رہی ہے ان کی تقرری اور پیکج کا طریقہ کار مقرر کرنا چاہیے وفاقی وزیر اطلاعت مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے لوگ رکھے جاتے ہیں اور اسی تناسب سے پیکج مقرر ہوتے ہیں۔ پی ٹی وی میں پیکج سب سے کم ہیں۔سینٹر عرفان الحق صدیقی نے کہا کہ ہیڈ آف ڈرامہ اینڈ فلم پروڈکشن کا پیکج 8 لاکھ ہے ان کی تقرری کے عمل کی تمام تر تفصیلات کمیٹی کو فراہم کی جائیں۔

    ٹی وی چینلز پر کچھ ڈرامے دکھائے جا رہے وہ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے کے قابل نہیں،سینیٹر فوزیہ ارشد
    ای ڈی پاکستان براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن نے کمیٹی کو پی بی اے کی کارکردگی اور فنکشنز بارے تفصیلی آگاہ کیا سینیٹر فوزیہ ارشد کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ پیمرا میں شکایات کا جائزہ لینے کیلئے کونسل آف کمپلینٹس ہوتی ہے جو 2.5سال سے غیر فعال ہے جس کی وجہ سے شکایات کا ازالہ ممکن نہیں ہے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی نے کہا کہ کونسل آف کمپلینٹس کے حوالے سے تمام کام مکمل ہو چکا ہے کیبنیٹ سے منظوری حاصل کرنا باقی ہے۔ سینیٹر فوزیہ ارشد نے کہا کہ ٹی وی چینلز پر کچھ ڈرامے دکھائے جا رہے ہیں وہ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر دیکھنے کے قابل نہیں ہیں۔ کچھ چیزیں ہماری روایات اور اخلاقیات کے خلاف ہیں۔موثر حکمت عملی اختیا ر کرکے اپنی ثقافت،روایات،رسم و رواج اور اخلاقیات کے مطابق ڈرامے چلانے چاہیے . آج کے اجلاس میں سینیٹرز عرفان الحق صدیقی،مولا بخش چانڈیو،محمد طاہر بزنجو،نسیمہ احسان کے علاوہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضیٰ سولنگی،سیکرٹری اطلاعات،چیئرمین پیمرہ،ڈی جی ریڈیو،ای ڈی پی بی اے اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی

    پی ٹی وی کے پاس پرانے کیمرے، سپیئر پارٹس نہیں ملتے،قائمہ کمیٹی اجلاس میں انکشاف

    پی ٹی وی سپورٹس پر اینکرز کی دس دس گھنٹے کی تنقید ، قائمہ کمیٹی نے تجزیوں کو غیر معیاری قرار دے دیا

    فلم پالیسی کو بہت جلد عملی جامہ پہنایا جائے گا، قائمہ کمیٹی تعاون کرے گی: سینیٹر فیصل جاوید

    پاکستان کے علاقے کو دشمن ملک کے ساتھ دکھانا بہت بڑا جرم،قائمہ کمیٹی نے پی ٹی وی سے کیا جواب طلب

    ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا کیا کر رہا ہے؟ قائمہ کمیٹی نے بریفنگ مانگ لی

    موجودہ دور کے ڈرامے صرف خواتین کیلئے بنائے گئے جو بے حیائی پھیلا رہے ہیں،قائمہ کمیٹی

    حکومت کے حق میں آرٹیکلز لکھنے پر اشتہارات ملتے ہیں، قائمہ کمیٹی میں انکشاف

    قائمہ کمیٹی کا اجلاس،تنخواہیں کیوں نہیں دی جا رہیں؟میڈیا ہاﺅسز کے اخراجات اور آمدن کی تفصیلات طلب

    میں نے صدر عارف علوی کا انٹرویو کیا، ان سے میرا جھوٹا افیئر بنا دیا گیا،غریدہ فاروقی

  • بی بی سی نے 82 سال مسلسل نشریات کے بعد فارسی ریڈیو بند کردیا

    بی بی سی نے 82 سال مسلسل نشریات کے بعد فارسی ریڈیو بند کردیا

    برٹش براڈکاسٹنگ کارپوریشن (بی بی سی) ورلڈ سروس نے اپنا 82 سال قبل شروع کیا گیا فارسی ریڈیو بند کر نے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی: افغان میڈیا کے مطابق برطانوی نشریاتی ادارے “بی بی سی”نے اعلان کیا ہے کہ ان کے فارسی ریڈیو کی آخری نشریات آج 26 مارچ 2023 کو نشر کی جائیں گے جس کے بعد فارسی ریڈیو کا 82 سالہ سفر اختتام پذیر ہوجائے گا۔

    اب صارفین واٹس ایپ سے بھی بات کر سکیں گے

    فارسی ریڈیو لندن سے نشر ہوتا تھا جسے فارسی بولنے والے کافی پسند کرتے تھے اور اس کے سامعین کی تعداد دنیا بھر میں لاکھوں میں ہے بالخصوص افغانستان، ایران اور تاجکستان میں کافی مقبول تھا۔

    بی بی سی ورلڈ سروس نے کہا کہ اس نے یہ فیصلہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مواد کی اشاعت پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے “اسٹریٹجک تبدیلیوں” کے حصے کے طور پر کیا ہے۔

    کارپوریشن نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مواد کی اشاعت پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے “اسٹریٹجک تبدیلیوں” کے حصے کے طور پر گزشتہ سال ستمبر میں بی بی سی فارسی اور عربی ریڈیو کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    ورلڈ سروس نے ستمبر 2022 میں کہا تھا کہ اس نے اپنے فارسی اور عربی ریڈیو اسٹیشن کو بند کر کے اخراجات کم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، لیکن آن لائن سروس جاری رہے گی بی بی سی ورلڈ سروس کے کم از کم 382 ملازمین اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ ورلڈ سروس نے کہا تھا کہ اس کا مقصد فارسی اور عربی ریڈیو اسٹیشنوں کو بند کر کے £28.5 ملین کی بچت کرنا ہے تاکہ سالانہ 500 ملین پاؤنڈ کی بچت کی جاسکے-

    بل گیٹس کا آرٹیفیشل انٹیلی جنس سے متعلق خطرناک خدشے کا اظہار

    براڈکاسٹر نے کہا ہے کہ یہ کٹوتی پروگراموں کی تیاری کی بڑھتی ہوئی لاگت کے علاوہ مہنگائی سے نیچے لائسنس فیس پر برطانیہ کی حکومت کی طرف سے عائد کردہ حدود کے برسوں کے نتیجے میں ہوئی ہے نیز، کارپوریشن چینی اور ہندی سمیت دس دیگر زبانوں میں ریڈیو مواد کی تیاری بند کر دے گی۔

    بی بی سی نے اپنی پہلی فارسی ریڈیو سروس اپنی ایمپائر سروس کے حصے کے طور پر 29 دسمبر 1940 کو دوسری جنگ عظیم کے دوران دفتر خارجہ کے تعاون سے شروع کی بی بی سی فارسی براڈکاسٹنگ سروس افغانستان، ایران اور تاجکستان سے متعلق تازہ ترین سیاسی، سماجی، اقتصادی اور کھیلوں کی خبریں فراہم کرتی ہے۔

    خیال رہے کہ بی بی سی نے 28 جنوری کو عربی ریڈیو کی نشریات بھی بند کردی تھیں۔ بی بی سی عربی ریڈیو کا یہ سفر 85 برسوں پر محیط تھا تاہم بی بی سی ویب سائٹ کے ذریعے عربی کی سروس فراہم کرتا رہے گا۔

    امریکی ریاست مسی سپی میں تباہ کن طوفان اور بگولہ،23 افراد ہلاک اور درجنوں لاپتا

  • ریڈیوپاکستان لاہور کے سفر کی دلچسپ کہانی

    ریڈیوپاکستان لاہور کے سفر کی دلچسپ کہانی

    ریڈیو پاکستان لاہور پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کے ماتھے کا جھومر ہےجس نےعلم وادب اور پاکستانی ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے

    محمد طاہر حسن ڈی جی ریڈیو پاکستان نےان خیالات کا اظہار ریڈیو پاکستان لاہور کے تمام ذمے داران اور کارکنان کو اسٹیشن کی 85ویں سالگرہ پر مبارکباد پیش کرتےہوےکیا۔

    اسلامیہ کالج کے طلبہ کی سڑکوں پر ڈیسک لگا کر کلاس شروع

    انہوں نے کہا 1965کی جنگ میں ریڈیو پاکستان لاہور کامثالی کردار دشمن کو بھی ہمیشہ یاد رہے گا

    انہوں نے کہا کہ اس اسٹیشن نے اپنے قیام سے اب تک صرف ایک براڈ کاسٹنگ ہاؤس کا فریضہ ہی انجام نہیں دیا بلکہ ایک اکادمی کا کردار بھی ادا کیا ہے۔انہوں نےکہاکہ اس اکادمی نے ادب، ثقافت اور ڈرامہ سمیت متعدد اصناف ادب کی ترویج و ترقی میں ہی بنیادی کردار ادا نہیں کیا بلکہ کردار سازی اور ادارہ سازی کو بھی بنیاد فراہم کی۔انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان لاہور کا یہ تاریخی کردار باعث فخر ہ

    آغاز سے اختتام تک تحریک انصاف کی حکومت کرپشن سکینڈلز کی زد میں رہی.شیری رحمان

    ڈائریکٹر جنرل محمد طاہرحسن نے مزیدکہاکہ لاہور اسٹیشن قد آور فن کاروں اور مصنفوں کا جانشین ہے جنھوں نے روایات قائم کیں۔ ان کے جانشین کی حیثیت سے اس پر ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ ان عظیم بزرگوں کی جلائی ہوئی شمع نہ صرف روشن رکھیں بلکہ اس کی لو میں مزید اضافہ بھی کریں۔

  • ریڈیو پاکستان ڈائمنڈ جوبلی ایوارڈز2022،ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی اثاثہ ہیں،مریم اورنگزیب

    ریڈیو پاکستان ڈائمنڈ جوبلی ایوارڈز2022،ریڈیو پاکستان اور پی ٹی وی اثاثہ ہیں،مریم اورنگزیب

    ریڈیو پاکستان کا مایہ نازیہ فنکاروں کی خدمات کے اعتراف میں ڈائمنڈ جوبلی ایوارڈز2022 ء کی تقریب کا انعقاد کیا گیا.

    فردوس جمال، ضیاء جالندھری، خالد عباس ڈار، ڈاکٹر رشیدہ حسن، طلعت حسین، روبینہ قریشی اور ڈاکٹر نسیمہ خاتون نے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ حاصل کیے.
    مہمان خصوصی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے فنکاروں کو ایوارڈز دیئے.

    ریڈیوپاکستان نے اپنے مایہ ناز فنکاروں کی خدمات کے اعزاز اوراعتراف میں اسلام آباد میں ڈائمنڈ جوبلی ایوارڈز 2022 کی رنگا رنگ تقریب کا اہتمام کیا ۔ طویل عرصے کے وقفے کے بعد ریڈیوپاکستان نے ایوارڈز تقریب کا اہتمام کیا ۔

    مہمان خصوصی وزیراطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب نے ریڈیوپاکستان اور پی ٹی وی کو ملک کا اثاثہ قراردیا اورکہاکہ دونوں اداروں نے معاشرے میں رواداری اور امن کے فروغ میں شاندار کردارادا کیا ہے۔ وزیراطلاعات نے کہاکہ ریڈیوپاکستان کے فنکاروں نے اپنی آوازوں کے ذریعے اچھی شخصیت کے اوصاف پیداکرنے اور سازگار ماحول کے قیام میں اہم کردارادا کیا انہوں نے کہاکہ ہرخاندان کے پاس ریڈیوپاکستان کی یادیں موجود ہیں۔

    مریم اورنگزیب نے کہاکہ ڈائمنڈ جوبلی ایوارڈ2022کے انعقاد کا مقصد ان فنکاروں کی خدمات کوخراج تحسین پیش کرنا تھا انہوں نے کہاکہ ایوارڈز کی اس تقریب کو مستقل بنایاجائے گا اورکہاکہ صرف وہی معاشرے ترقی کرتے ہیں جو اپنے فنکاروں کو عزت دیتے ہیں ۔
    وزیراطلاعات نے اس بات کو بھی سراہا ہے کہ مشکل معاشی حالات کے دوران ریڈیوپاکستان اورپاکستان ٹیلی ویژن ثابت قدم رہے اور اپنی موجودگی کوبرقراررکھا ان کی مضبوط اورٹھوس بنیاد کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہم اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ یہ ادارے قائم رہیں گے انہوں نے کہاکہ ریڈیوپاکستان اور پی ٹی وی محض ادارے نہیں ہیں بلکہ وہ ایک گھر کی طرح ہیں۔

    وزیراطلاعات نے نئے فنکاروں سے یہ بھی کہاکہ وہ سیکھنے اور تربیت حاصل کرنے کے مقصد سے ریڈیوپاکستان اورپی ٹی وی کے آرکائیوز سے فائدہ اٹھائیں انہوں نے کہاکہ ایک ایپ تیار کی جارہی ہے جس سے عوام پی ٹی وی کے پروگرام دیکھ سکیں گے۔

    اس موقع پر اپنے خطاب میں ڈائریکٹر جنرل ریڈیوپاکستان سہیل علی خان نے کہاکہ ریڈیو پاکستان نے گزشتہ 75 سال سے نظریہ پاکستان کی حقیقی ترجمانی کی ہے اور قومی یکجہتی کے فروغ میں بھرپور کردارادا کیا ہے انہوں نے کہاکہ جنگ کے زمانے میں بھی ریڈیوپاکستان دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے کیلئے مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑا رہا ہے۔

    ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ ریڈیو پاکستان کی نشریات کُل علاقے کے95 فیصد حصے میں پہنچ رہی ہیں، قومی اور علاقائی دونوں زبانوں میں پروگرام نشر کئے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ ریڈیو پاکستان خصوصاً ہنگامی صورتحال اور قدرتی آفات کے دوران اپنی نشریات کے دورانیے میں اضافہ کرتا ہے، انہوں نے کہا کہ قومی نشریاتی ادارے کی ٹویٹر ، فیس بک، یوٹیوب اور انسٹا گرام سمیت سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر بھرپور موجودگی ہے۔ریڈیو پاکستان کی پوری ٹیم کی جانب سے سہیل علی خان نے پاکستان کی ترقی کی کوششوں میں حکومت کے ساتھ کھڑا ہونے کا یقین دلایا۔

    علمائے کرام، قراء کرام، انائونسرز، خصوصاً ادبی حالات حاضرہ، کھیلوں اور زراعت کے مختلف پروگراموں کے اینکرز ، ڈرامہ فنکاروں، لکھاریوں، موسیقاروں اور نیوز ریڈرز سمیت19 کیٹیگریز میں اعزازات دیئے گئے۔32 شخصیات کو اعزازات سے نوازا گیا، علمائے کرام اور قراء کرام کی کیٹیگری میں قاری محمد اقبال اور عبد الرحمن فاروقی کو ایوارڈز دیئے گئے۔

    خبروں اور حالات حاضرہ کے چینل کے بہترین اینکر کا ایوارڈ نسرین نقوی، مردوں میں بہترین نیوز ریڈر دمن زمان، خواتین میں بہترین نیوز ریڈر تسکین ظفر، مردوں میں انائونسر خالد ملک اور خواتین میں بہترین انائونسر کا ایوارڈ شازیہ عندلیب کو دیا گیا۔ خواتین پروگرام کی کیٹیگری میں نوشابہ ظفر، بچوں کے پروگرام میں تنویر سلیم اور زرعی پروگرام میں ناظم حسین نے ایوارڈز وصول کیے۔ نوجوان مردوں میں ساحل خا ن اور نوجوان خواتین میں شیبہ ملک کی آوازوں کو بہترین قرار دیا گیا۔حفیظ فاطمہ کو بہترین ڈرامہ آرٹسٹ، ناصر بلوچ کو بہترین ڈرامہ نویس، مجاہد حسین بہترین موسیقار اور لوک موسیقی کی کیٹیگری میں محمد ملوک نے ایوارڈ وصول کیا۔

    خیال محمد نے مہدی حسن ایوارڈ اور تاج مستانی نے نور جہاں ایوارڈ وصول کیا۔ سپر سٹار ایوارڈز اعجاز قیصر، فاروق سرور، توثیق حیدر، شیر باز خان برچھا، مسز نجم آرا، مہدی ظہیر، گلوکارہ سائرہ نسیم، گلوکارہ محمد علی اورگلوکار غلام عباس نے وصول کیے۔

    لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈز وصول کرنے والوں میں فردوس جمال، ضیاء جالندھری، خالد عباس ڈار، ڈاکٹر رشیدہ حسن، طلعت حسین، روبینہ قریشی اور ڈاکٹر نسیمہ خاتون شامل ہیں۔

  • عثمان بزدار کا  ریڈیو کے عالمی دن کے موقع پر  اہم پیغام۔

    عثمان بزدار کا ریڈیو کے عالمی دن کے موقع پر اہم پیغام۔

    وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا ریڈیو کے عالمی دن کے موقع پر پیغام ہے کہ ریڈیو ابلاغ عامہ کا بہترین اور موثر ذریعہ ہے۔الیکٹرانک و سوشل میڈیا کی تیزی سے ترقی کے باوجود ریڈیو کی اہمیت اب بھی مسلمہ ہے۔بلاشبہ ریڈیو مستند انفارمیشن کا اہم ترین ذریعہ ہے۔وقت کے ساتھ ریڈیو میں بھی جدت آئی ہے۔ زمانہ جنگ ہو یا امن، ریڈیو پاکستان نے ہر دور میں نہایت احسن انداز میں ذمہ داری نبھائی۔ ریڈیو پاکستان نے زمانہ جنگ میں اپنے سامعین کو ہر پل کی خبر سے باخبر رکھا۔ 1965 اور 1971 کی جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان کا کردار نہایت اہم رہا۔ میرے اپنے علاقے میں جب بجلی کی سہولت نہیں تھی، میں ریڈیو کی نشریات سے مستفید ہوتا رہا ہوں۔ ریڈیو پاکستان سے جاری ہاکی اور کرکٹ میچوں کی کمنٹری نے کھیلوں کے شائقین تک ہر لمحے کی صورتحال پہنچائی۔ ریڈیو سے جاری ہونے والے پروگرامز مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے دلچسپی کے حامل ہیں۔ شعبہ زراعت، صحت، کھیل الغرض تمام شعبوں سے متعلق ریڈیو اپنے سامعین کی آج بھی رہنمائی کر رہا ہے۔پولیو مہم ہو، ڈینگی کے خلاف جنگ ہو یا کوویڈ19 سے آگاہی مہم، ریڈیو پاکستان نے بھرپور انداز میں حصہ لیا۔ ریڈیو پاکستان کا مثالی کردار آج بھی قابل ستائش ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ عوام تک حکومتی اقدامات اور مختلف پروگرامز سے آگاہی کیلئے آج بھی ریڈیو کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔