Baaghi TV

Tag: ریکارڈ

  • سعود شکیل نے محمد یوسف کا 18 سالہ ریکارڈ برابر کردیا

    سعود شکیل نے محمد یوسف کا 18 سالہ ریکارڈ برابر کردیا

    قومی ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹر سعود شکیل نے محمد یوسف کا 18 سالہ ریکارڈ برابر کردیا ۔

    ملتان کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میں ویسٹ انڈیز کیخلاف پاکستان نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 143 رنز بنالیے۔ پہلے ٹیسٹ میچ کا ٹاس (دھند) خراب موسم کے باعث تاخیر کا شکار ہوا تاہم امپائرز نے گراؤنڈ فیلڈ کا جائزہ لینے بعد دوپہر 1 بجے ٹاس کوانے اور ڈیڑھ بجے میچ کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔قومی ٹیم کے کپتان شان مسعود نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ پہلی اننگز میں ڈیبیو کرنیوالے محمد ہریرہ 6، کپتان شان مسعود 11 اور کامران غلام 5، بابر اعظم 8 رنز کے مہمان ثابت ہوئے۔ پانچویں وکٹ پر سعود شکیل اور محمد رضوان نے 97 رنز کی ناقابل شکست شراکت قائم کرلی ہے، دونوں کھلاڑی اس دوران اپنی نصف سنچریاں مکمل کرنے میں بھی کامیاب رہے۔

    پہلے دن کے اختتام پر سعود شکیل 56 اور محمد رضوان 51 رنز کے ساتھ کریز پر موجود ہیں، ویسٹ انڈیز کے جیڈن سیلز نے 3 جبکہ گداکیش موتی نے 1 وکٹ اپنے نام کی ہے۔ سعود شکیل اب ملتان سٹیڈیم میں زیادہ ففٹی پلس سکور بنانے والے پاکستانی بیٹرز کی فہرست میں محمد یوسف کے ساتھ دوسرے نمبر پر آگئے ہیں، سعود شکیل اب تک ملتان سٹیڈیم میں 4 ففٹی پلس سکورز بنا چکے ہیں ۔ انضمام الحق اس میدان پر 5 ففٹی پلس سکورز (2 سنچریاں اور 3 نصف سنچریاں) کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں ۔ محمد یوسف 4 ففٹی پلس سکورز (3 سنچریاں اور ایک ففٹی ) سکور کرکے سعود شکیل کے ساتھ مشترکہ طور پر دوسرے جب کہ انگلینڈ کے بین ڈکٹ 3 ففٹی پلس سکورز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں ۔

    14سالہ لڑکی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانیوالا ملزم گرفتار

    14سالہ لڑکی کو مبینہ زیادتی کا نشانہ بنانیوالا ملزم گرفتار

    ڈونلڈٹرمپ کی حلف برداری کامقام تبدیل

    بشریٰ بی بی کی چوری کی وجہ سے بانی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے، مصطفی کمال

  • ٹی ٹوئنٹی کرکٹ: پاکستان کا نیشنل اسٹیڈیم میں منفرد ریکارڈ

    ٹی ٹوئنٹی کرکٹ: پاکستان کا نیشنل اسٹیڈیم میں منفرد ریکارڈ

    نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پاکستان ٹیم نے ویسٹ انڈیز کو شکست دے کر نیا ریکارڈ قائم کر دیا-

    باغی ٹی وی : پاکستان ٹیم نے نیشنل اسٹیڈیم پر ٹی ٹوئنٹی میچز میں مسلسل چار مرتبہ پہلی اننگز میں 200 یا اس سے زائد کا مجموعہ بنانے کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا اس اسٹیڈیم پر قومی ٹیم نے پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ بنگلادیش کے خلاف اپریل 2008 میں کھیلا تھا جہاں اس نے شعیب ملک کی قیادت میں 203 رنز بنائے تھے اور مہمان ٹیم کو 101 رنز پر آؤٹ کر کے میچ 102 رنز سے جیت لیا۔

    پاکستان کی ویسٹ انڈیز کے خلاف شان دار بیٹنگ اور باؤلنگ،پہلا ٹی ٹوئنٹی 65 رنز سےجیت…

    دوسرا میچ دس سال بعد ویسٹ انڈیز کے خلاف یکم اپریل 2018 کو کھیلا تھا جہاں پاکستان ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پھر 203 رنز بنائے اور ویسٹ انڈیز کو صرف 60 رنز پر آؤٹ کرکے 143 رنز کے بڑے مارجن سے کامیابی سمیٹی۔

    تیسرا ٹی ٹوئٹنی میچ پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 2 اپریل 2018 کو کھیلا تھا اور اس میں بھی پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے قومی ٹیم نے 205 رنز کا پہاڑ کھڑا کیا جس میں بابر اعظم کے ناقابلِ شکست 97 رنز بھی شامل تھے اور ویسٹ انڈیز کو صرف 123 رنز پر آؤٹ کرکے میچ 82 رنز سے جیت لیا۔

    میچز اسٹیڈیم میں اسٹوڈنٹس کی انٹری مفت کردیں، اسد عمرکی رمیز راجہ سے درخواست

    چوتھا ٹی ٹوئنٹی 3 اپریل 2018 کو ویسٹ انڈیز کے خلاف ہی کھیلا گیا جہاں پہلی بیٹنگ تو پاکستان کے حصے میں نہیں آئی لیکن کامیابی قومی ٹیم نے ہی حاصل کی۔

    پانچویں ٹی ٹوئنٹی میں بھی پاکستان ویسٹ انڈیز کی میزبانی کررہا ہے، جہاں قومی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پھر 200 اسکورز بنائے اوراور ویسٹ انڈیز کو 137 رنز پر آؤٹ کر کے میچ 65 رنز سے جیت لیا-

    اسپورٹس اینکر زینب عباس کے ہاں بیٹے کی پیدائش

  • ریکارڈ غائب کرنے کیلئے آگ لگتی رہی .اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائےسپریم کورٹ کے ریمارکس

    ریکارڈ غائب کرنے کیلئے آگ لگتی رہی .اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائےسپریم کورٹ کے ریمارکس

    ریکارڈ غائب کرنے کیلئے آگ لگتی رہی .اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائےسپریم کورٹ کے ریمارکس

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ میں خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات میں پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر دیا،عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا اور دیگر فریقین کو عدالتی معاونت کا حکم دے دیا،جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فریقین کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہے،خوشدل خان ممبر صوبائی اسمبلی اور کامران مرتضٰی سینیٹر ہیں تمام فریقین عدالت کی معاونت کرتے ہوئے غیر جانبدار رہیں،تمام فریقین کا مقصد صاف و شفاف انتخابات ہونا چاہیے،کیس تین رکنی بینچ کے سامنے لگایا جائے،سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 30 نومبر تک ملتوی کر دی جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی

    جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیاد پر کیوں نہیں ہو سکتے؟ ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں وجوہات نہیں دیں،پشاور ہائیکورٹ نے 19 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کا حکم دے رکھا ہے، پشاور ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے میں وجوہات کا انتظار کر لیتے ہیں، ،ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ جماعتی بنیاد پر الیکشن کرانے کا قانونی طریقہ کار موجود نہیں ،حکومت جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرانے کیلئے راضی ہو بھی جائے تو قانون میں گنجائش نہیں، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ ارڈیننس لے آئیں، باقی تینوں صوبے بھی بلدیاتی انتخابات جماعتوں بنیادوں پر کراتے ہیں،باقی صوبوں کا میکینزم اپنانے میں کیا مسئلہ ہے؟ ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ ہائیکورٹ کو حکم دیتے ہوئے شیڈیول دینے کے بجائے انتخابات کیلئے وقت دینا چاہیے تھا،شمائل بٹ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ اپنی نوعیت کا پہلا الیکشن ہو گا جس میں ایک ہی بیلٹ پیپر پر ایک پارٹی کے تین امیدواروں کے انتخابی نشانات ہوں گے،ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ جو ووٹر پڑھنا لکھنا نہیں جانتا وہ کیسے فرق کرے گا کہ ایک ہی پارٹی کے کون سے نشان پر ٹھپہ لگانا ہے؟ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کون سے قانون میں ترمیم سے ولیج کونسل کے انتخابات جماعتی بنیاد پر ہو سکیں گے؟ وکیل کامران مرتضی نے کہا کہ مانتے ہیں اتنے کم وقت میں جماعتی بنیادوں پر انتخابات کا میکنزم نہیں بن سکتا،الیکشن کمیشن نے اس مسئلے کا حل نکال کر بیلٹ پیپر جاری کرنے کا کام شروع کیا ہے، جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ
    الیکشن کمیشن نے کیا حل نکال کر بیلٹ پیپر جاری کرنے شروع کیے ہیں؟جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایک حل یہ ہو سکتا ہے کہ بیلٹ پیپرز پر امیدواروں کی تصاویر لگا دی جائیں، ایڈوکیٹ جنرل کے پی نے کہا کہ حل جو بھی ہو الیکشن کمیشن تب تک کچھ نہیں کر سکتا جب تک صوبائی حکومت رولز میں ترمیم نا کر لے، جسٹس عمر عطابندیال نے کہا کہ ایک ہفتے کا وقت دیتے ہیں تمام فریقین اپنی تجاویز سے عدالت کی معاونت کریں، جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ صاف شفاف انتخابات الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، اگر الیکشن کمیشن آ کر کہے کہ انہیں انتخابات کرانے میں وقت درکار نہیں تو مسئلہ ختم ہو جائے گا

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں ایف ڈبلیو او کے زمینوں کے حصول سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی سپریم کورٹ نے ایف ڈبلیو او کی تشکیل کا صدارتی حکم طلب کرلیا ، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ کیا حکم دیتے وقت جنرل یحییٰ ہوش و حواس میں تھے ؟ جسٹس سردار طارق نے کہا کہ ملک میں مختلف عمارتوں سے ریکارڈ غائب کرنے کیلئے تو آگ لگتی رہی ہے،ایوان صدر میں تو آج تک آگ بھی نہیں لگی ،ایف ڈبلیو او تو یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ آگ لگ گئی صدارتی حکم نہیں مل رہا ،اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائے ایف ڈبلیو او کے وکیل بتائیں کہ صدارتی حکم کی اہمیت ہے یا نہیں؟ کہتے ہیں تو کیس کو صدارتی حکم کے بغیر ہی چلا کر فیصلہ کرتے ہیں، ایف ڈبلیو او کا وجود اور اختیارات کیس کے بنیادی نقطے ہے،وکیل احسن بھون نے کہا کہ صدارتی حکم کی تلاش کیلئے مزید مہلت دی جائے،عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں تھرپارکر میں غذائی قلت سے بچوں کی ہلاکتوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی . جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے خود سول اسپتال مٹھی کا دورہ کیا ،کوئی سہولت نہیں تھی ، آپریشن تھیٹر مارچری لگ رہا تھا اسپتال میں ایک ڈاکٹر تھا جس نے کہا رات کو بتایا گیا ہے کل آجانا ،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تھرپارکر میں بہت برا حال ہے ،لوگ اللہ کے سہارے پڑے ہیں بجلی بھی 2 گھنٹے کیلئے آتی ہے ،پانی کیلئے بارش کا انتظار کرتے ہیں ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آر او پلانٹس پر کروڑوں روپے لگادیئے جو سب خراب ہیں ،چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ تھرپارکر میں صرف بھرتیاں ہورہی ہیں ،وہاں کوئی کام کرنے والا نہیں دس، پندرہ ہزار صحت کا عملہ ہوگا مگر کوئی نظر نہیں آتا ،

    @MumtaazAwan

    کراچی کو مسائل کا گڑھ بنا دیا گیا،سرکاری زمین پر قبضہ قبول نہیں،کلیئر کرائیں، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ کا کراچی کا دوبارہ ڈیزائن بنانے کا حکم،کہا آگاہی مہم چلائی جائے

    وزیراعظم کو بتا دیں چھ ماہ میں یہ کام نہ ہوا تو توہین عدالت لگے گا، چیف جسٹس

    تجاوزات ہٹانے جائینگے تو لوگ گن اور توپیں لے کر کھڑے ہوں گے،آرمی کو ساتھ لیجانا پڑے گا، چیف جسٹس

    سرکلر ریلوے، سپریم کورٹ نے بڑا حکم دے دیا،کہا جو بھی غیر قانونی ہے اسے گرا دیں

    ہم نے کہا تھا کیسے کام نہیں ہوا؟ چیف جسٹس برہم، وزیراعلیٰ کو فوری طلب کر لیا

    آپ کی ناک کے نیچے بحریہ بن گیا کسی نے کیا بگاڑا اس کا؟ چیف جسٹس کا استفسار

    آپ کو جیل بھیج دیں گے آپکو پتہ ہی نہیں ہے شہر کے مسائل کیا ہیں،چیف جسٹس برہم

    کس کی حکومت ہے ؟ کہاں ہے قانون ؟ کیا یہ ہوتا ہے پارلیمانی نظام حکومت ؟ چیف جسٹس برس پڑے

    شہر قائد سے تجاوزات کے خاتمے کیلئے سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    کراچی میں سپریم کورٹ کے حکم پرآپریشن کا آغاز،تاجروں کا احتجاج

    سو برس بعد بھی قبضہ قانونی نہیں ہو گا،سپریم کورٹ کا بڑا حکم

    ہزاروں اراضی کے تنازعات،زمینوں پر قبضے،ہم کون سی صدی میں رہ رہے ہیں ؟ چیف جسٹس

    نسلہ ٹاور گرانے سے متعلق نظر ثانی اپیلوں پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آ گیا

    پاک فوج کے پاس مشینری موجود، جائیں ان سے مدد لیں،نسلہ ٹاور گرائیں، سپریم کورٹ

    عہدہ چھوڑ دیں، آپ کے کرنے کا کام نہیں،نسلہ ٹاور نہ گرانے پر سپریم کورٹ برہم

    کنٹونمنٹ والوں پر قانون لاگو نہیں ہوتا ؟ کھمبوں پر سیاسی جماعتوں کے جھنڈے کیوں؟ پاکستان کا پرچم لگائیں ،سپریم کورٹ

    دفاعی اداروں کی جانب سے کمرشل کاروبار ،سیکریٹری دفاع کونوٹس جاری

    ریاست فیل،مکمل تباہی، کیا آپ ہی کو فارغ کردیں؟ سپریم کورٹ کے اہم ترین ریمارکس

  • ادویات مہنگی ہونے کا سلسلہ جاری،موجودہ حکومت میں ریکارڈ لگ گئے

    ادویات مہنگی ہونے کا سلسلہ جاری،موجودہ حکومت میں ریکارڈ لگ گئے

    قصور
    ادویات مہنگی کرنے کا سلسلہ نا رک سکا ،ایک بار پھر ادویات مہنگی، موجودہ دور حکومت میں تاریخ میں پہلی بار ادویات کی قیمتوں میں 300 فیصد تک اضافہ

    تفصیلات کے مطابق اشیاء ضروریات کی ہر چیزیں مہنگائی کی حدوں کو چھو رہی ہیں خاص کر ادویات سب سے زیادہ مہنگی ہوئی ہیں اور خاص بات یہ ہے کہ دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے مگر ملکی تاریخ گواہ ہے کہ ایک بار ادویات مہنگی ہو جائیں پھر اس کی قیمتیں کبھی کم نہیں ہوئیں اب ایک بار پھر نزلہ زکام،کھانسی،بخار کی ادویات میں اضافہ کر دیا گیا ہے جن میں بیسوکوئین،ایرینیک،بروفن،سیپٹران،سپروفلاکساسین و دیگر ادویات شامل ہیں مگر ان ادویات کی قیمتوں بارے گورنمنٹ آنکھ بند کئے ہوئے ہے جبکہ ملکی تاریخ میں موجودہ گورنمنٹ واحد ہے جس کے دور حکومت میں ادویات 200 سے 300 فیصد تک مہنگی کی گئی ہیں اور تاحال یہ سلسلہ رکا نہیں مذید بڑھتا ہی جا رہا ہے جس پر غریب لوگ سخت پریشان ہیں کیونکہ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات نا ہونے کے برابر ہیں زیادہ تر ادویات لکھ کر ہی دی جاتی ہیں

  • ڈاکیومینٹیش لازمی، مگر کیوں؟ ؟؟ فرحان شبیر

    ڈاکیومینٹیش لازمی، مگر کیوں؟ ؟؟ فرحان شبیر

    اگر ہماری اکانومی ایک ڈاکیومینٹڈ اکانومی ہوتی جس میں برسوں سے لوگوں کا سارا ڈیٹا ان کی ساری انکم اور اثاثے یعنی منی ٹریل ہر لمحہ مرتب ہورہی ہوتی تو کسی بھی جعلی رسید ، اووربلنگ یا انڈر انوائیسنگ کو ایک دو چیکس لگا کر کراس چیک کیا جانا مشکل نہ ہوتا اور ہمارے لین دین کے معاملات میں اتنے گھپلے ، اتنی دو نمبریاں اور اتنی پیچیدگیاں نہ ہوتیں ۔

    سب سے پہلے تو اس طرح سے ملزم عاطف کے پاس کروڑوں روپے جمع ہی نہیں ہو پاتے ۔ بینکنگ چینل سے اتنی اتنی بڑی بڑی رقوم کا ایک ہی شخص کے اکاونٹ میں ٹرانسفر ہونا پہلے دن ہی نوٹس میں آجاتا ۔ FBR سے لیکر اسٹیٹ بنک کے اینٹی منی لانڈرنگ یونٹ تک نوٹسز آچکے ہوتے کہ میاں کونسا کام ہورہا ہے کہ ڈیڑھ دو سالوں میں ہی آپکے اکاونٹ میں یہ پانچ کروڑ ، دس کروڑ یا پچپن کروڑ تک کیسے آگئے۔ دوسری طرف دینے والوں کے پاس بھی پہلے تو اس طرح اتنا پیسہ جمع ہی نہیں ہوتا اور اگر کسی کے پاس گھر یا گاؤں کی زمین بیچ کر آتا بھی تو وہ اسے اس طرح بغیر کسی لکھت پڑھت کبھی کسی عاطف کے حوالے نہ کرتا ۔

    مرید کا دوسرا قاتل ہمارا اخلاقی طور پر زوال پذیر معاشرہ بھی ہے جس نے نفسا نفسی کو اس قدر زور دے رکھا کہ ہر شخص بہت کچھ بہت جلدی کرنے کے چکر یا خواہش میں ہے ۔ سب کو بہت کچھ فورا فورا چاہیے ۔ کیونکہ معاشرے نے یا ریاست نے بنیادی ذمہ داریوں کو اپنی ترجیح نہیں بنایا لہذا مستقبل کے خدشات نے ہم سب کو پروفیشنل وولچرز بنا دیا ہے ایک عاطف ہی کیا یہاں پر شخص ہی ایک دوسرے کا مال غلط طریقے سے کما رہا ہے No wonder کے ہم دنیا کی چند بدعنوان ترین قوموں میں سرفہرست ہیں باوجود اسکے کہ سب سے زیادہ زکوۃ ، خیرات ، صدقات، حج ، عمرے ، کرنے میں بھی ہماری ہی قوم آگے ہے ۔ سارا رمضان زیادہ پرافٹ لینے والے حاجی صاحب شب قدر کی راتوں میں حرم شریف میں بھی سب سے آگے ہوتے ہیں ۔ اور اسکے ساتھ ساتھ ڈاکیومینٹیشن سے بھی انکاری ہیں ۔

    دیکھا جائے تو ڈاکیومینٹیشن کا ایمانداری سے براہ راست اور گہرا تعلق ہے۔ اور یہ دین اسلام کا بڑا شدید تقاضہ بھی ۔ آپکو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ قرآن کریم میں سب سے طویل آیت مبارک مبارکہ ، سورہ بقرہ کی آیت نمبر 282 ہے اور یہ نماز روزہ حج یا زکوۃ سے متعلق نہیں بلکہ لین دین ، قرض دینے لینے ، یعنی پیسے کی ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقلی کی Documentaion یعنی باقاعدہ لکھت پڑھت کے متعلق ہے ۔ زبانی قول و قرار نہیں بلیک اینڈ وائٹ میں کاغذ کے اوپر تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت ثبوت کے طور پر کام آئے ۔ اسی سے کام کاج میں شفافیت پیدا ہوتی ہے اور کسی کے لیے بھی اپنی بات سے پھرنا یا مکرنا مشکل ہوتا ہے ۔ قرآن کریم نے لکھنے کے ساتھ ساتھ گواہوں کی موجودگی کی بھی شرط رکھی ہے گواہوں کو کہا گیا کہ کبھی شہادت نہ چھپانا اور گواہوں کا معیار تک بتایا ہے لکھنے والے کاتب تک حکم کہ جو قرض لینے والا لکھے ویسا ہی ایمانداری سے لکھو ۔ کیونکہ ڈاکیومینٹیشن کو اپنا کر ہی کوئی سوسائٹی ہر وقت کی جھک جھک سے بچ سکتی ہے اور افراد معاشرہ بھی ایک دوسرے سے لوٹے جانے یا ڈز کھانے کے ڈر سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔

    جس معاشرے میں ہر چیز ڈاکیومینٹڈ اور written فارم میں ہوگی وہاں بے ایمانی اور دھوکے بازی کے چانسز اتنے ہی کم ہوں گے ۔ چھوٹے سے چھوٹے فرد سے لیکر بڑے سے بڑے عہدیدار کو بھی اگر یہ احساس ہو کہ اس سے کسی بھی وقت چیک اینڈ بیلنس سے گزرنا پڑ سکتا ہے تو وہ بھی کسی بلیک اکانومی کا حصہ بننے سے کنی کترائے گا ۔ اس لینڈ کروزر کا کیا فائدہ جسے روڈ پر لے کر نکلتے ہی پوچھا جائے کہ SHO صاحب رسیداں کڈھو ، کدھر سے لی اور کیسے لی تو پھر کون جلتی میں ہاتھ ڈالے گا ۔ ظاہر ہے مکمل خاتمہ شاید نہ ہو پائے لیکن ایک بند تو بندھے گا ۔ بات لمبی ہونے کا ڈر ہے ورنہ تو اپنے گلی محلوں میں ہونے والی بے ہنگم تعمیرات، پارکوں کے اجڑنے یا اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں اضافے کے پیچھے جائیں تو کہیں نہ کہیں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا رشوت خور اہلکار یا تھانے کا ایس ایچ او ہی ہوگا ۔ کیونکہ ان سب کو پتہ ہے بھلے ان کی تنخواہیں تیس پینتیس چالیس پچاس ہزار روپے ہیں اور ان کا لائف اسٹائل کسی بھی طرح لاکھوں روپے کمانے والے لوگوں سے کم نہیں بلکہ کئی سولہ سترہ گریڈ کے اہلکاروں کو بادشاہوں والی زندگی گذارتے ہوئے تو ہم سے اکثر لوگ دیکھتے ہی رہتے ہیں ۔ بابو کو بھی ڈر نہیں کہ کوئی پوچھے گا کیونکہ کوئی پوچھتا ہی نہیں تھا ۔ اور اگر پوچھے تو گاڑی اماں کے نام پلاٹ ، بنگلہ بیوی کے نام فلاں چیز اس کے نام تو فلاں چیز اسکے نام دکھا کر کھاتا پورا کرکے دکھا دو ۔ دو کروڑ کی گاڑی تیس لاکھ کی شو کر دو ۔ کون پوچھے گا پلٹ کر ۔
    جو بیچنے والا ہے وہ بھی ڈبل ڈبل کھاتے بنا کر چل رہا ہے ۔ ایک گنگا ہے جس میں ہر کوئی ہاتھ دھو رہا ہے ۔

    اب بھی وقت ہے کہ ہم نوشتہ دیوار کو پڑھ لیں اور اپنی اکانومی کو ڈاکیمینٹڈ بنانے میں پورا ساتھ دیں ۔ کیونکہ اس بلیک یا undocumented economy کے دیمک نے ہمارے معاشرے کے اخلاقی وجود کے تار و پود کو بکھیر کر رکھ دیا ۔ اسی بلیک اکانومی کی وجہ سے رشوت لینے والے ، زیادہ منافع کما کر کم ٹیکس دینے والے اور کسی بھی غلط طریقے سے زیادہ سے زیادہ wealth accumulateکرنے والے کو کوئی پریشانی نہیں ہوتی کہ وہ اتنی ویلتھ کہاں پارک کرے گا ۔ یہ اسی بے فکری کا ہی نتیجہ ہے کہ پولیس سے لیکر عدلیہ اور تعلیم سے لیکر صحت تک کے ادارے میں اس کرپشن کے ناسور نے ایسے پنجے گاڑے ہیں کہ ڈاکیومینٹیشن کا سوچ کر سب کی جان نکلے جارہی ہے ۔ ڈاکیومینٹیشن ہوگی تو ریاست اور ادارے کسی بھی بندے سے پوچھ سکیں گے کہ بھائی آپ کی تنخواہ ، دکان کی کمائی ، سرکاری نوکری میں تو آپ کا یہ طرز زندگی یہ ہائی فائی لائف اسٹائل اور بڑی بڑی Gatted societies میں رہنا تو افورڈ ہی نہیں ہو سکتا تو یہ سب کیسے چل رہا ہے ؟ ذرا وضاحت کردیجیے ۔ اور دل پر ہاتھ رکھ کر سوچا جائے تو اس میں کیا برا ہے ؟ ۔ کسی بھی صحیح انسان کو اس میں تو کوئی مسئلہ ہونا ہی نہیں چاہئیے کہ وہ ڈاکیومینٹڈ اکانومی کا حصہ بنے اور ہر ٹرانسیکشن کا ایک بلیک اینڈ وائٹ ثبوت لے بھی اور دے بھی ۔

    اس کوشش اور جدوجہد میں سیاسی وابستگی یا لبرلز اور مذہبی کی تخصیص رکھنا اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ ظلم کرنا ہوگا ۔ ڈاکیومینٹیشن تو ہر معاشرے کی ضروت ہے چاہے سیکولر ہو یا وحی کا ماننے والا ۔ ڈاکیومینٹشن تو ہر طرح کی سوچ رکھنے والے کی زندگی کو امن سکون تحفظ اور بہتر ماحول دے سکے گی ۔امن اور سکون ہوگا تو سب کو اپنی دوسری خامیوں کو دور کرنے اور اپنے اندر نئی خصوصیات پیدا کرنے کا وقت بھی مل سکے گا اور حوصلہ بھی ہوگا کہ اب مقابلہ محنت کا محنت ، ذہانت کا ذہانت اور Creativity کا Creativity سے ہوگا ۔