Baaghi TV

Tag: زبان

  • ملک میں  سب سے زیادہ کونسی زبان بولی جاتی ہے؟رپورٹ جاری

    ملک میں سب سے زیادہ کونسی زبان بولی جاتی ہے؟رپورٹ جاری

    اسلام آباد: ادارہ شماریات نے ملک میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبانوں کی فہرست جاری کر دی ہے-

    باغی ٹی وی : ادارہ شماریات کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 8 کروڑ 89 لاکھ افراد کی مادری زبان پنجابی اور چار کروڑ 36لاکھ آبادی کی مادری زبان پشتو ہے جبکہ 3کروڑ 44 لاکھ آبادی کی مادری زبان سندھی ہے 2کروڑ 88 لاکھ افراد کی مادری زبان سرائیکی اور 2کروڑ 22لاکھ سے زائد آبادی کی مادری زبان اردو ہے جبکہ ملک میں 81 لاکھ 17ہزار آبادی کی مادری زبان بلوچی ہے۔

    ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان میں 55 لاکھ 90 ہزار افرادکی مادری زبان ہندکو، 27 لاکھ 78 ہزار آبادی کی مادری زبان براہوی، 10 لاکھ 39ہزار کی مادری زبان کوہستانی اور دو لاکھ 74ہزار آبادی کی مادری زبان کشمیری ہے ایک لاکھ 16ہزار افراد کی مادری زبان شینا، 52 ہزار 134 افراد کی مادری زبان بلتی اور 7 ہزار 466افرادکی مادری زبان کیلاش ہے جبکہ ملک میں 33لاکھ 37ہزار کی دیگر مادری زبانیں ہیں۔

    سنبھلتی معیشت پی ٹی آئی کو نہ”بھائی”عمران خان کی ایک بار پھر انتشار کی کوشش

    دوسرا ٹی ٹوئنٹی:آسٹریلیا نے پاکستان کو 13 رنز سے شکست دے دی

    وزیراعلیٰ سندھ کی قلات حملے کی شدید مذمت

  • اردو ہے جس کا نام وہ بے نام ہورہی ہے:سپریم کورٹ آف پاکستان کا بڑا حکم آگیا

    اردو ہے جس کا نام وہ بے نام ہورہی ہے:سپریم کورٹ آف پاکستان کا بڑا حکم آگیا

    اسلام آباد:اردو ہے جس کا نام وہ بے نام ہورہی ہے:سپریم کورٹ آف پاکستان کا بڑا حکم آگیا،اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ نے اردو زبان رائج نا کرنے پر وزارت تعلیم سے جواب طلب کرلیا۔

    سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج نہ کرنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کے حکم پر عمل ہونا چاہیے، تعلیم کے علاوہ ایک چیز تربیت بھی ہوتی ہے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنی زبان کو زندہ رکھیں، اردو کو عالمی زبان بنانا چاہیے، تعلیمی اداروں میں اردو زبان کو کوئی فروغ نہیں مل رہا، وفاقی حکومت نشاندہی کرے کہ اردو زبان رائج کرنے کے کون سے ادارے ہیں۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس میں کہا کہ باقی صوبے اپنی زبانوں کا تحفظ کر رہے ہیں تو پنجاب کیوں پیچھے ہے، اردو زبان رائج کرنے کے معاملے کو اب سنجیدگی سے دیکھیں گے۔

    عدالت نے اردو زبان رائج نہ کرنے پر وزارت تعلیم سے جواب طلب کر لیا، جبکہ پنجاب میں پنجابی لٹریچر نہ پڑھائے جانے پر پنجاب حکومت سے بھی جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

  • اردو  زبان میں جدید دور کے تمام تقاضے پورے کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، ناصر علی سید

    اردو زبان میں جدید دور کے تمام تقاضے پورے کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، ناصر علی سید

    پشاور: آئین پاکستان کا تقاضا ہے کہ اردو کو بحیثیت قومی زبان نافذ کیا جائے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز یوم نفاذ اردو کے موقع پر معروف ادیب و شاعر ناصر علی سید نے تحریک نفاذ اردو کے زیر اہتمام ایک تقریب میں کیا تقریب کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر فخرالاسلام کر رہے تھے..تقریب میں ماہرین تعلیم, ادباء شعرا اور سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی.تقریب سے اپنے خطاب میں ناصر علی سید کا کہنا تھا کہ اردو ہر لحاظ سے ایک معیاری زبان ہے جس میں جدید دور کے تمام تقاضے پورے کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے لہذا اردو کو بلا تاخیر نافذ کیا جائے.تقریب سے صدر مجلس اور پاکستان سڈی سنٹر کے چیئرمین ڈاکٹر فخرالاسلام کا کہنا تھا کہ اردو پورے ملک میں رابطے کی زبان ہے..قومی زبان کو نافذ نہ کر کے ہم آئین اور قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں.اس موقع پر تحریک نفاذ اردو پشاور کے صدر اور ماہر تعلیم مشتاق حسین بخاری.کالم نگار روشن خٹک, شاعر فاروق جان بابر آزاد, کالم نگار نیئر سرحدی, شاعرہ کلثوم زیب و دیگر نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا.

  • مرکز قومی زبان اوکاڑہ کی جانب سے یوم نفاذ اردو منایا گیا۔

    مرکز قومی زبان اوکاڑہ کی جانب سے یوم نفاذ اردو منایا گیا۔

    صدر گوگیرہ(نامہ نگار) یہاں ایک مقامی سکول سسٹم میں مذاکرہ بسلسلہ یوم نفاذ اردو منعقد ہوا۔ مذاکرے کا اہتمام مرکز قومی زبان ضلع اوکاڑہ نے کیا۔ صدارت پروفیسر اللہ دتہ آزاد نے کی جبکہ مہمان خصوصی جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن ڈاکٹر لیاقت علی کوثر تھے۔ عمران جاذب ایڈووکیٹ ،پٹی جنرل سیکریٹری وسطی پنجاب مرکز قومی زبان، جناب افتخار حسین فاخر صدر مرکز قومی زبان ضلع اوکاڑہ اور دیگر نے اردو زبان کی اہمیت اور نفاذ پر زور دیا اور آٹھ ستمبر کے فیصلے جواد ایس خواجہ کے مطابق ملک میں حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ اردو کو نافذ کیا جائے ۔

  • ہم انگریزی کیوں بولتے ہیں — محمد عبداللہ

    ہم انگریزی کیوں بولتے ہیں — محمد عبداللہ

    گزشتہ شب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ایک دوست نے سوال کیا ہوا تھا کہ ہم انگلش کیوں بولتے ہیں. یہ ایشو صرف میرا اور آپ کا نہیں ہے بلکہ تقریباً سارے پاکستان کا ہی مسئلہ ہے کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ مختلف فورمز پر، مہمانوں اور اجنبی لوگوں کے سامنے، کالج و یونیورسٹی میں، میڈیا و سوشل میڈیا پر ہم انگریزی بول پائیں تاکہ سننے والوں پر رعب پڑ جائے کہ اس کو انگریزی آتی ہے. کچھ ہمارے جیسے انگریزی کے سفید پوش تو ایسے بھی ہوتے بلکہ اکثر ہی ایسے ہوتے کہ جن کو انگریزی تو بولنی نہیں آتی لیکن ہماری بھی کوشش بھی یہی ہوتی ہے کہ دوران گفتگو کوئی نہ کوئی لفظ انگریزی کا ضرور بولیں یہ اور بات ہے کہ لب و لہجہ مقامی ہوتا ہے اور سننے والے پر وہ تاثر نہیں پڑتا جو ہمیں مطلوب ہوتا ہے شرمندگی سی مقدر بنتی ہے.

    مزے کی بات یہ ہے کہ ہماری سوسائٹی کا رویہ بھی بڑا منافرت سموئے ہوئے ہوتا ہے کہ جب کوئی غیر ملکی اپنے لب و لہجے میں ہماری قومی زبان بولنے کی کوشش کرے اور اکثر الفاظ کی ادائیگی غلط ہی کرتا ہے تو ہم سبھی بڑے خوش ہوتے ہیں لیکن جب کوئی اپنا ہی دیسی بندہ مقامی لب و لہجے میں انگریزی بولنے کی کوشش کرے تو سبھی اس پر ہنسنا شروع ہوجاتے ہیں اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے. بہرحال ہم بات کرتے ہیں کہ ہم انگریزی کو اپنی قومی یا مقامی زبانوں پر ترجیح کیوں دیتے ہیں.

    ‏‎سب سے پہلی بات کیونکہ من حیث القوم ہم احساس کمتری کا شکار ہیں کہ شاید انگریزی ہی واحد معیار ہے اپنے آپ کو پڑھا لکھا اور مہذب دکھانے کا تو دہرے تہرے ہوکر بولنی انگریزی ہی ہے.

    دوسری بات موجودہ ایام میں چونکہ دنیا میں ڈنکا امریکہ اور یورپین ممالک کا بجتا ہے اور وہ سپر پاور سمجھے جاتے ہیں تو انہی کی کرنسی اور زبان اک معیار سمجھی جاتی ہے جب ان کی برتری ختم ہوجائے گی تو یہ کرنسی و زبان کا برتر ہونا بھی ‏‎ختم ہوجائے گا.

    یہ کوئی نئی بات نہیں ہے. کولڈ وار سے قبل اور کولڈ وار کے دوران، دوسرے لفظوں میں افغان جہاد سے قبل دنیا میں روسی کرنسی کا دور چلتا تھا بچے بچے کو پتا تھا کہ روس کی کرنسی کا نام روبل ہے. مگر جب افغان جہاد میں روس کو شکست ہوئی اور وہ ٹکڑوں میں بٹا تو آج دنیا کو روبل کا نام بھی یاد نہیں ہے. اسی طرح جب دنیا سے امریکہ و یورپ کی شکل میں سامراجیت کا خاتمہ ہوگا تو ان کی ثقافت، زبان، کرنسی وغیرہ کا بھی دنیا سے خاتمہ ہوجائے گا.

    کیونکہ سادہ سی بات ہے کہ جو دنیا میں برتر ہوتا ہے نظام بھی اسی کے چلتے ہیں وہ نظام چاہے معاشی ہوں، لسانی، عسکری یا علمی. ہم لاکھ نعرے ماریں امریکہ لیکن امریکہ ایک سپر پاور ہے تو ‏‎چونکہ ہم ذہنی طور پر اس کی برتری کو قبول کرچکے ہیں اگرچہ ہم ظاہری طور پر نعرہ تو لگاتے ہیں امریکہ و برطانیہ کی برتری ختم کرنے کالیکن ہمارے دل اس میں ہمارا ساتھ نہیں دیتے کیونکہ ہمیں اس بات کا یقین نہیں آتا کہ دنیا سے سامراجیت کا بھی خاتمہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی ہم اس کی کوئی واضح پلاننگ نہیں رکھتے ہیں نہ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں اور نہ عسکریت و معیشت کے میدان میں. نتیجہ اس کا یہی ہےکہ ہم ان کے نظاموں کو اپنانے میں مجبور ہیں اور آہستہ آہستہ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ ہم ان کے نظاموں اور ان کی ثقافتوں کو اپنانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے ہیں.