Baaghi TV

Tag: زحل

  • وہ سیارہ جسے ’چاندوں کا بادشاہ‘ قرار دیا گیا

    وہ سیارہ جسے ’چاندوں کا بادشاہ‘ قرار دیا گیا

    ماہرین فلکیات نے سیارہ زحل کے گرد چکر لگانے والے 128 نئے چاندوں کو دریافت کرلیا ہے جس کے بعد کُل تعداد 274 ہوگئی ہے۔

    باغی ٹی وی: اس دریافت شدہ نئی تعداد سے یہ سوال بھی پیدا ہوا ہے کہ سیارے کے اتنی بڑی تعداد میں چاند کیوں ہیں؟سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات سے ہمیں نظام شمسی کے ارتقاء کے بارے میں اہم معلومات مل سکتی ہیں۔

    دریافتوں سے زحل کے چاند کی کل تعداد 274 ہو گئی ہے جو مشتری سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے اور دوسرے سیاروں کے گرد معلوم چاندوں کی کل تعداد سے بھی زیادہ ہے،واشنگٹن میں کارنیگی انسٹی ٹیوشن فار سائنس کے ماہر فلکیات اسکاٹ شیپارڈ نے کہا کہ زحل چاندوں کا بادشاہ ہے۔

    9 مئی کے جوڈیشل کمیشن قیام کی یادہانی،کے پی حکومت کا ہائیکورٹ کو دوبارہ خط

    کینیڈا کی یونیورسٹی آف ریجینا کے ماہر فلکیات سمانتھا لالر جنہوں نے مشاہدات میں حصہ لیا، کا بھی کہنا تھا کہ یہ دریافت دلکش ہے، یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ وہاں کتنا کچھ موجود ہے۔

    خیبرپختونخوا میں2 الگ کارروائیوں میں 9 خوارج دہشتگرد ہلاک،2 جوان شہید

  • ماہرین کا سیارے  زحل کے چاند پر پانی دریافت کرنے کا دعویٰ

    ماہرین کا سیارے زحل کے چاند پر پانی دریافت کرنے کا دعویٰ

    فرانسیسی ماہرینِ فلکیات نے سیارے زحل کے چاند پر پانی دریافت کرنے کا دعوی کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: امریکی خبر رساں ادارے ”ایسوسی ایٹڈ پریس(اے پی)“ کے مطابق فرانسیسی ماہرینِ فلکیات کی ایک ٹیم نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ انہوں نے زحل کے چاند ”میماز“ کے مدار میں تبدیلیاں نوٹ کی ہیں اور ان کے تجزیے کے مطابق اس مردہ ستارے نما چاند کی منجمد سطح کے 20 سے 30 کلومیٹر نیچے ایک سمندر پایا جاتا ہے۔

    سائنس دانوں نے یہ تجزیے امریکی خلائی ایجنسی ”ناسا“ کے ”کیسینی اسپیس کرافٹ“ کے زریعے کیے گئے مشاہدات کی بنیاد پر قائم کیے ہیں،”کیسینی“ نامی اس خلائی جہاز نے 2017 سے قبل ایک دہائی کے دوران زحل کے 140 سے زائد چاندوں کا مشاہدہ کیا اور پھر یہ جہاز زحل میں گر کر تباہ ہو گیا۔

    کراچی کے نتائج کو کالعدم قرار دیا جائے، حافظ نعیم کا …

    زحل کے اس چاند کا قطر محض 400 کلومیٹر ہے اور اس کی سطح پر بڑے بڑے پتھروں کے ٹکرانے کے نشانات موجود ہیں،اس چاند پر زحل کے دیگر چاندوں کی طرح پانی کی زیرِ سطح موجودگی کی وجہ سے گرم فوارے نظر نہیں آتے،اس بات کا اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ سمندر ”میماز“ کے کل حجم کا نصف ہے لیکن میماز چوں کہ بہت چھوٹا سا چاند ہے اس لیے یہ سمندر زمین پر موجود پانی کے حجم کے 1.4 فی صد ہی برابر ہوگا-

    شعیب شاہین کی درخواست پر الیکشن کمیشن کی آراو سے 3 دن میں رپورٹ …

    پیرس قائم فرانسیسی آبزرویٹری کی جانب سے لکھی گئی رپورٹ کی شریک مصنف ویلیری لائینے نے ”اے پی“ کو بذریعہ ای میل بتایا کہ انہیں اس چاند پر پانی کی بالکل امید نہیں تھی،ان کا خیال ہے کہ اس چاند پر زندگی پیدا ہو سکتی ہے لیکن اس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ ایسا کب تک ہو سکتا ہے،یہ چاند 50 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ برس پہلے وجود میں آیا تھا اور اس میں موجود پانی نقطہ انجماد سے کچھ ہی گرم ہو سکتا ہے۔

    ‏مسلم لیگ ن کا وفد بلاول ہاؤس لاہور پہنچ گیا

    اس تحقیق کے دوسرے مصنف نک کوپر کا کہنا ہے کہ مائع پانی پر مشتمل یہ سمندر جسے وجود میں آئے بہت زیادہ وقت نہیں گزرا، زندگی کی ابتدا سے متعلق تحقیق کے لیے دلچسپ ہوسکتا ہے۔

  • نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد  چھلّے کیسے بنے؟

    نظام شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد چھلّے کیسے بنے؟

    سائنسدانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ نظامِ شمسی کے چھٹے سیارے زحل کے گرد موجود غبار کے چھلّے تقریباً 16 کروڑ سال قبل ایک قدیم چاند کے سیارے سے ٹکرانے کے سبب بنے۔

    باغی ٹی وی : امریکا کے میساچوسیٹس اِنسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے محققین کی جانب سے سیارے زحل کے محور میں وقت کے ساتھ ہونے والی تبدیلی کو شکل دینے کے لیے پیمائشیں لی گئیں۔

    100 نوری سال کے فاصلے پر دو نئے "سپر ارتھ” سیارے دریافت

    تحقیق کے نتائج میں بتایا گیا کہ سیارے کے گرد پہلے دوسری اجرام فلکی گردش کرتی تھی لیکن گیس کے گولے کے ساتھ فاصلہ نہایت کم ہوجانے کے سبب وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوکر بِکھر گئی اور تب یہ چھلے وجود میں آئے۔

    سائنس دانوں کے مطابق کریسالِس نامی یہ چاند سیارے سے ٹکرانے سے قبل اس کے گرد کئی ارب سالوں سے گردش کر رہا ہوگا۔اور چاند کا یوں تباہ ہوجانا بتاتا ہے کہ زحل کا گردشی محور 26.7 کے زاویے سے کیوں جُھکا ہوا ہے۔

    تحقیق کے سربراہ مصنف پروفیسر جیک وِزڈم کا کہنا تھا کہ کریسالِس عرصہ دراز سے غیر فعال تھا اور ایک دم فعال ہوا اور یہ چھلے وجود میں آگئے۔

    کارنیل یونیورسٹی میں سیاروں کی حرکیات کی ماہر مریم الموتمید کہتی ہیں کہ زحل کے حلقوں کی ابتدا کے بارے میں یہ دریافت ایک نئی راہ کھولتی ہے-

    ساؤتھ ویسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سیاروں کی حرکیات کے ماہر لیوک ڈونز کا کہنا ہے کہ یہ مطالعہ "قابل غور ” ہے لیکن اس کے بارے میں کچھ تحفظات بھی ہیں کہ مجھے یقین نہیں ہے کہ آپ اس خیال کی جانچ کیسے کریں گے-

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے ستاروں کی نرسری دریافت کر لی

    سائنس دانوں نے طویل عرصے سے بحث کی ہے کہ آیا زحل کے حلقے اربوں سال پرانے ہیں – جتنا قدیم خود نظام شمسی ہے – یا شاید صرف 100 ملین سال پرانا ہے یا اس سے زیادہ۔

    2000 کے ابتداء سے ماہرینِ فلکیات کا یہ ماننا ہے کہ زحل کا جھکاؤ سیارے نیپچون کے ساتھ مدار کے ارتعاش کے سبب تھا۔ اگر دونوں سیاروں کے مدار کے دورانیے مطابقت پا جائیں تو دونوں سیاروں میں ارتعاش ہوگااور دونوں مستقل ایک دوسرے کو کششِ ثقل سے متاثر کرتے رہیں گے۔

    سیارے کے متعلق ارتعاش کا نظریہ سامنے آنے کی وجہ یہ تھی کہ گردش کے سبب زحل بھی اس ہی طرح سے ڈگمگاتا ہے جیسے نیپچون ڈگمگاتا ہے۔

    نظامِ شمسی سورج اور ان تمام اجرام فلکی کے مجموعے کو کہتے ہیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سورج کی ثقلی گرفت میں ہیں۔ اس میں 8 سیارے، ان کے 162 معلوم چاند، 3 شناخت شدہ بونے سیارے(بشمول پلوٹو)، ان کے 4 معلوم چاند اور کروڑوں دوسرے چھوٹے اجرام فلکی شامل ہیں۔ اس آخری زمرے میں سیارچے، کوئپر پٹی کے اجسام، دم دار سیارے، شہاب ثاقب اور بین السیاروی گرد شامل ہیں۔

    سورج سے فاصلے کے اعتبار سے سیاروں کی ترتیب عطارد، زہرہ، زمین، مریخ، مشتری، زحل، یورینس اور نیپچون ہے ان میں سے چھ سیاروں کے گرد ان کے اپنے چھوٹے سیارے گردش کرتے ہیں جنہیں زمین کے چاند کی مناسبت سے چاند ہی کہا جاتا ہے۔ چار بیرونی سیاروں کے گرد چھوٹے چٹانی اجسام، ذرات اور گردوغبار حلقوں کی شکل میں گردش کرتے ہیں۔

    امریکی محکمہ ڈاک نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کا یادگاری ٹکٹ کا جاری کر دیا

    زحل کا نام انگریزی میں سیٹرن ہے جو ایک یونانی دیوتا کے نام پر رکھا گیا تھا زحل کا مدار زمین کے مدار کی نسبت 9 گنا بڑا ہے۔ تاہم اس کی اوسط کثافت زمین کی کثافت کا آٹھواں حصہ ہے۔ تاہم کمیت میں یہ سیارہ زمین سے 95 گنا بڑا ہے۔

    زحل کی کمیت اور نتیجتاً اس کی کششِ ثقل کی وجہ سے زمین کی نسبت زحل کے حالات بہت شدید ہوتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ زحل کے اندر لوہا، نکل، سیلیکان اور آکسیجن کے مرکبات پائے جاتے ہیں۔ ان کے گرد دھاتی ہائیڈروجن موجود ہے جبکہ ان کے درمیان مائع ہائیڈروجن اور مائع ہیلئم پائی جاتی ہے۔ بیرونی سطح گیسوں سے بنی ہے۔ دھاتی ہائیڈروجن میں بہنے والی برقی رو کی وجہ سے زحل کا مقناطیسی میدان پیدا ہوتا ہے جو زمین کی نسبت کچھ کمزور ہے۔ بیرونی فضاء زیادہ تر کمزور ہے تاہم طویل المدتی اثرات ہو سکتے ہیں۔ ہوا کی رفتار 1٫800 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے جو مشتری سے بھی زیادہ ہے۔

    زحل کے گرد نو دائرے ہیں جو زیادہ تر برفانی ذرات سے بنے ہیں جبکہ کچھ پتھر اور دھول بھی موجود ہے۔ زحل کے گرد 62 چاند دریافت ہو چکےہیں جن میں سے 53 کو باقائدہ نام دیاجا چکا ہے اس کے علاوہ چاند نما اجسام بھی ان دائروں میں موجود ہیں جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ زحل کا سب سے بڑا چاند ٹائیٹن ہے اور یہ ہمارے نظامِ شمسی کا دوسرا بڑا چاند ہے۔ یہ چاند عطارد سے بڑا ہے اور ہمارے نظام شمسی کا واحد چاند ہے جہاں مناسب مقدار میں فضاء موجود ہے۔

    2 بہت بڑے بلیک ہولز کے درمیان آئندہ 3 سال کے اندر تصادم متوقع