Baaghi TV

Tag: زخم

  • آکاس بیل کے پودے سے زخموں کو مندمل کرنے والا قدرتی مرہم تیار

    آکاس بیل کے پودے سے زخموں کو مندمل کرنے والا قدرتی مرہم تیار

    ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ آکاس(امربیل) بیل کی نسل کے پودے پر گوند بردار بیریوں میں موجود گوند سے زخموں کو مندمل کرنے والا قدرتی مرہم بنایا جاسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی : اس پودے کو مسلٹو کہا جاتا ہے جو درختوں پر بطور پیراسائٹ پیدا ہوتے ہیں اور اس پر چھوٹے سفید بیر اگتے ہیں۔ اس کے پھول کرسمس آرائش پر بھی کام آتے ہیں لیکن بیریوں میں موجود خاص گوند ’وِسکِن‘ کے نئے خواص دریافت ہوئے ہیں مِک گِل یونیورسٹی کے پروفیسر میتھیو ہیرنگٹن نے جرمن ماہرین کے تعاون سے اس پر غور کیا تو اس میں باریک سہ ابعادی (تھری ڈائمینشنل) ساخت دکھائی دی۔

    خواتین کے دماغ کا درجہ حرارت مردوں سے زیادہ ہوتا ہے ،تحقیق

    ماہرین نے اس کے ریشوں کو دھات، شیشے اور پلاسٹک پر لگایا تو وہ مضبوطی سے چپکے۔ پھرانکشاف ہوا کہ اگر اس گوند میں تھوڑی نمی بڑھائی جائے تو یہ پھیل جاتا ہے اور کمزورہوکر چپکنے کی صلاحیت کھودیتا ہے۔ ایک جانب تو اس کے چپکنے کی صلاحیت سامنے آئی تو دوسری جانب اس سے چھٹکارا پانے کا طریقہ بھی معلوم ہوا تو دوسری جانب یہ ہرطرح سے حیاتیاتی طور پر موزوں (بایو کمپیٹیبل) بھی ہے۔

    اگلے مرحلے میں مسلٹو بیریوں کی گوند کو کچھ بدل کر جانوروں کے زخموں پر آزمایا گیا اور اس کی پتلی پرت کسی پٹی کی طرح زخم کے دونوں کناروں سے جڑگئی جس کے بہترین نتائج سامنے آئے ہیں۔ اگلے مرحلے میں اس پر مزید تحقیق کرکے اسے انسانوں پر آزمایا جائے گا۔

    دنیا کے سب سے بڑے طیارے نے بلندی کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا

    آکاس بیل (cuscuta reflexa) موسم سرما کے ختم ہوتے ہیں درختوں پر نمودار ہوتی ہے۔ یہ جن درختوں پر پھیلتی ہے انہیں سکھا دیتی ہے۔ اس کی جڑ نہیں ہوتی، درختوں پر ہی پیچ در پیچ پھیلتی ہے۔ جیسے درخت نے کیسری رنگ کی چادر اوڑھ لی ہے۔ یہ کانٹے دار درختوں پر زیادہ پھیلتی ہے۔ اس (cuscuta reflexa) کا رنگ پیلا ہوتا ہے مگر شروع میں گہرے سبز رنگ کے ساتھ پیلا پن ملا ہوتا ہے۔ سوکھنے پر یہ سیاہی مائل ہوجاتی ہے۔ یہ عام طور پر بیری، کیکری یا جانڈ پر پھیل جاتی ہے۔ جس درخت پر بھی اسے چھوڑ دیا جائے ہیں بڑھنا شروع کر دیتی ہے۔ ہندوستان و پڑوسی دیشو کے جنگلات میں زیادہ تر ملتی ہے-

    ماہرین کی تحقیق یہ کہتی ہے کہ باریک دھاگوں، ریشوں کی شکل والی اس جڑی بوٹی کا کیمیائی مزاج سخت گرم، انتہائی کڑوا ہے۔ اس کے طبی فوائد کا تو کچھ خاص اندازہ نہیں لیکن ماہرین کے بیان کردہ حقائق سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جڑی بوٹی نہ نگلی جاتی ہے نہ اُگلی جاسکتی ہے۔

    تاہم اب ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ اس کی نسل کے پودے مسلٹو پر گوند بردار بیریوں میں موجود گوند سے زخموں کو مندمل کرنے والا قدرتی مرہم بنایا جاسکتا ہے۔

    1 کروڑ 80 لاکھ سال قبل زمین پر پائے جانیوالے دیو ہیکل مگرمچھوں کی نئی اقسام دریافت

  • پرانے اور گہرے زخموں پر نظر رکھنے والی” پٹی” وی کئیر

    پرانے اور گہرے زخموں پر نظر رکھنے والی” پٹی” وی کئیر

    سائنسدانوں نے پرانے اور گہرے زخموں کی جانچ کے لئے ایک اسمارٹ پٹی بنائی ہے جو صرف پندرہ منٹ میں اس کا مکمل احوال پیش کرسکتی ہے۔

    باغی ٹی وی : بعض زخم اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ پٹی لگنے کے باوجود بار بار ان کی خبرگیری کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ وہ ناسور بن سکتے ہیں۔ اب اس کے لیے سائنسدانوں نے ایک سمارٹ پٹی بنائی ہے جسے ” وی کئیر” کا نام دیا گیا ہے سنگاپورنیشنل یونیورسٹی نے اسمارٹ بینڈیج کو زخم کا سینسر بھی کہا ہے جسے ایک ایپ کے ذریعے حقیقی وقت مین اس کا ڈیٹا حاصل کیا جاسکتا ہے۔

    پاکستان دیکھتا رہ گیا:اور بھارت بازی لے گیا،بھارتی حکومت ملک کی خاطر ڈٹ گئی:پاکستان میں بلیک میلرڈٹ…

    اس پٹی کی بدولت نہ بھرنے والے زخموں اور ناسور کی بحالی کو نوٹ کیا جاسکتا ہے صرف 15 منٹ میں یہ زخم میں موجود بیکٹیریا اورجراثیم کی اقسام،درجہ حرارت، پی ایچ، اور اندر سوزش (انفلیمیشن) کے عناصر کو بھی نوٹ کرسکتی ہے۔ اس کی ساری تفصیلات ایپ تک حقیقی وقت میں پہنچتی رہتی ہے۔

    وی کیئرنامی یہ پٹی ڈاکٹروں کو فوری طور پر مفید معلومات دیتی ہے جس کی بنا پر وہ ناسور کے علاج کا درست فیصلہ کرسکتے ہیں زخم ٹھیک نہ ہونے سے خود مریض پریشان، تکلیف میں گرفتار اور ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے پھر ذیابیطس کے زخم سے خود ہاتھ یا پیر کاٹنے کی نوبت بھی آجاتی ہے-

    ناسا نےمشتری کے چاند کی پراسرار آوازوں کی ریکارڈنگ جاری کر دی

    جدید ترین بینڈیج میں نصب حساس سینسر زخم کے مائع کو اپنے اندر سموکر زخم کی تیزابیت اور درجہ حرارت کے علاوہ دیگر بایومارکرز بھی نوٹ کرتے ہیں یہ زخم کی جسامت نوٹ کرکے فوری طور پر ایپ کو آگاہ کرتا ہے۔ اس کے اندر موجود بیٹری کو بار بار ریچارج کیا جاسکتا ہے اس پٹی کی مدد سے مریض خود بھی اپنے ناسور کا جائزہ خود لے کر مزید تکالیف سے بچ سکتا ہے۔

    برطانیہ سے 9 فٹ لمبے کنکھجورے کی باقیات دریافت