Baaghi TV

Tag: زراعت

  • زرعی آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا،اسحاق ڈار

    زرعی آمدن پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا،اسحاق ڈار

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہےکہ زرعی آمدن پر نہ کوئی وفاقی ٹیکس لگایا گیا اور نہ ہی لگایا جائےگا۔

    باغی ٹی وی : زراعت اور تعمیراتی شعبے پر ٹیکس کے حوالے سے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ میں نے زراعت اور تعمیراتی شعبے پر ٹیکس کے معاملے پر قومی اسمبلی میں بیان دیا تھا جس کامقصد اس تاثرکو ختم کرنا تھا کہ حکومت زراعت اور تعمیراتی شعبہ جات پر نئے ٹیکس لگائےگی میرے وضاحتی بیان کی غلط تشریح کی جا رہی ہے، جن ٹیکس اقدامات کا تذکرہ ہے وہ یہ ہیں جو 30 جون تک ملک میں لگائے جاچکے ہیں، ان کے علاوہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا۔

    قبل ازیں ایک بیان میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے یقین دہانی کرائی ہےکہ زراعت اور رئیل اسٹیٹ پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جائے گا وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں آئی ایم ایف معاہدے کی دستاویز پیش کیں اور کہا کہ آئی ایم ایف سے جو معاہدہ کیا ہے اس کی تفصیلات ایوان میں پیش کررہا ہوں، اس کا مقصد یہ ہے کہ اراکین پارلیمنٹ کو اس کی تفصیلات کا علم ہوسکے، یہ کام شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے کیا جارہا ہے-

    چئیرمین پی ٹی آئی توشہ خانہ کیس میں زیادہ دیرراہ فراراختیار نہیں کر سکیں گے

    اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ تمام دستاویزات وزارت خزانہ کی ویب سائٹ پر بھی موجود ہیں جب کہ ان دستاویزات کی نقول قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی لائبریری میں بھی بھجوائی جارہی ہیں پاکستانی ذخائر 14 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، 5.3 ارب ڈالر نجی بینکوں کے پاس ذخائر موجود ہیں جب کہ 8.7 ارب ڈالر ذخائر اسٹیٹ بینک کے ہیں، کوشش ہے ملک کو معاشی طور پر مستحکم کر کے چھوڑ کر جائیں۔

    شمالی کوریا نےمتعدد کروز میزائل فائر کردیئے

    انہوں نے کہا تھا کہ گزشتہ حکومت کی ناقص پالیسیوں کے سبب ملک کی معیشت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، آئی ایم ایف کا نواں جائزہ نومبر 2022 ، دسواں فروری 2023 اور گیارہواں بھی 2023 میں منعقد ہونا تھا لیکن کریڈیبیلیٹی گیپ کی وجہ سے نواں جائزہ تاخیر کا شکار ہوا۔

    منی لانڈرنگ کیس:وزیراعظم شہبازشریف کی بیٹی اشتہاری قرار،دائمی وارنٹ گرفتاری جاری

  • صومالیہ بنتاپاکستان

    صومالیہ بنتاپاکستان

    تحریر :ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    2011ء میں صومالیہ کو بد ترین خشک سالی کاسامناکرنا پڑا جسے اقوامِ متحدہ نے قحط قرار دیا۔ شدید قحط کے باعث روزانہ سینکڑوں افراد ہلاک ہوتے رہے اوراس طرح 2011ء میں قحط سے ڈھائی لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہوگئے۔پھر2020ء میں صومالی حکومت نے بڑھتی ہوئی خشک سالی کی وجہ سے 23 نومبر کو ملک بھر میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا تھا۔صومالیہ میں بھوک کے بحران کی وجہ محض خراب فصلیں، سیلاب اور خشک سالی نہیں بلکہ کرپشن ، بد انتظامی اور ناقص حکومتی نظام کا بھی کا عمل دخل تھا۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا جبکہ اس کے پڑوسی ملک بھارت میں کمی ہوئی ہے۔موجودہ حالات میں پاکستان تیزی سے صومالیہ بننے کی طرف گامزن ہے ،اس کی کئی وجوہات ہیں ان میں سے چند وجوہات کاجائزہ لیتے ہیں۔ شہبازشریف کی حکومت نے مسلسل چوتھی مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پروزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ عمران خان کی سابقہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کاIMF سے معاہدہ کیاتھا اس لئے ہمیں مجبوراََ قیمتیں بڑھانی پڑیں،جس پر عوام اور اپوزیشن جماعت PTIنے مزمت کی اور کہاکہ اگرہم نے کوئی معاہدہ کیا ہے وہ قوم کے سامنے لایاجائے ،جس پر مفتاح اسماعیل نے پینترابدلاکہ آئی ایم ایف کی کوئی شرط نہیں بلکہ ڈالرکی بڑھتی قیمت اور عالمی منڈی میںتیل کی زیادہ ہوتی قیمتوں کوقراردیا،ان دوماہ میں ان سیاسی ارسطوئوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاکرعوام کومہنگائی کے سونامی کی خطرناک لہروں میں بیدردی سے پھینک دیا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ سے گڈزٹرانسپورٹ کومجبوراََ کرایوںمیں اضافہ کرنا پڑا، کرایوں کے اضافے سے ہرچیزکی قیمت بڑھ جاتی ہے اور حکومتی پنڈت یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ہم نے عام شہری پرکوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا۔
    حکومت کی جانب سے 13 بڑے صنعتی شعبوں سیمنٹ ، ٹیکسٹائل، شوگر ملز، آئل اینڈ گیس، فرٹیلائزر ، ایل این جی ٹرمینلز، بینکنگ، آٹو موبائل، بیوریجزور یسٹورنٹس، کیمیکلز، سگریٹ، سٹیل اور ایئر لائنز پر 10 فیصد پر ٹیکس کے نفاذ سے ان شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے منافع میں کمی واقع ہو گی جس کے نتیجے میں ملک میں مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے عمل میں کمی اور روز گار کے نئے مواقع نہ پیدا ہونے کے امکانات پیداہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے جبکہ ان 13 شعبوں کے علاوہ دیگر شعبہ جات پر 4 فیصد پر ٹیکس عائد ہے جبکہ وفاقی حکومت کے نئے اعلان کے مطابق مذکورہ 13 شعبوں پر 10 فیصد کی شرح سے ایک سال کیلئے سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے، اس وقت ملک میں کارپوریٹ اور دیگر مد میں ٹیکسوں کی شرح لگ بھگ 50 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ٹیکس نیٹ میں اضانے کی بجائے پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ ڈال دیا جس کے نتیجے میں ملک میں معاشی و اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔ نئے حکومتی اقدامات میں بڑے سیکٹرز پر سپر ٹیکس عائد کرنے کے ساتھ تنخواہ دار طبقے کو بجٹ میں دیا جانے والا ریلیف بھی واپس لے لیا گیا۔سپرٹیکس کے ثمرات عوام تک فوراََ پہنچ گئے،عوام سے ضروریات زندگی بھی چھین لی گئیں۔ملک میں بجلی نام کوبھی نہیں ہے اوپرسے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ عوام پرایٹم بم گرانے کے مترادف ہے۔
    پاکستان ایک زرعی ملک ہے،جس کی 70فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی اور زراعت سے وابستہ ہے اورزراعت کوپاکستان کی ریڑھ کی ہڈی قراردیاجاتا ہے موجودہ حکومت نے زراعت سے وابستہ کسان کو زندہ درگورکردیا۔اپنی مخلوط حکومت بچانے کیلئے جنوبی پنجاب کی نہروں کاپانی بند کرکے سندھ کودیاجارہاہے ،ہم یہ نہیں کہیں گے کہ سندھ کوپانی کیوں دیاجارہاہے سندھ بھی پاکستان ہے وہاں کے کسان بھی ہمارے اپنے ہیں لیکن ہم صرف اتنا گذارش کریں گے منصفانہ تقسیم کے فارمولاپرعملدرآمدکرتے ہوئے سندھ کواس کے حصے کاپانی دیاجائے اورجنوبی پنجاب کے کسان سے سوتیلی ماں کاسلوک روانہ رکھاجائے ،جس طرح سندھ،اپرپنجاب یادوسرے صوبوں کے کسانوں کوان کے حصے کاپانی دیاجارہا اِدھرکاکسان بھی اتناہی حقدار ہے ، ان کی زمینوں کوسیراب کرنے والی نہریں بند کیوں ہیں۔حکومت کی بے ترتیبی اورناکام حکمت عملی کی وجہ سے ہماراکسان زبوں حالی کاشکارہے۔بجلی مہنگی،پٹرول ،ڈیزل مہنگااورکھادنایاب ہوچکی ہے ،پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے کسان کی کمرتوڑدی گئی ہے ،پانی نہ ہونے کی وجہ سے اس باردھان ،کپاس،جوارودیگرفصلیں کاشت نہ ہوسکیں کیونکہ ہمارے 90فیصد کسان پیٹرانجن کے ذریعے ٹیوب ویل چلاکر اپنے کھیت سیراب کرتے ہیں،کھیتوں میں ہل چلانے کیلئے ٹریکٹراستعمال ہوتے ہیں کھیت سے منڈی تک سبزیوں اوراناج کی ترسیل بھی ٹریکٹرٹرالی کے ذریعے ہوتی ہے ،پیٹرانجن اورٹریکٹرڈیزل پرچلتے ہیں موجودہ حالات میں ہماراکسان مہنگے داموں ڈیزل خریدنے سے قاصر ہے،بجلی مہنگی ہے لیکن ہے ہی نہیں کئی کئی گھنٹوں کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نے رہی سہی کسربھی پوری کردی ہے ،حکومتی سرپرستی میں پلنے والے کھاد مافیاء نے کھاد اپنے گوداموں میں چھپارکھی ہے جوکسانوں کو من مانی قیمت پر بلیک میں فروخت کررہے یاپھرحکومتی اداروں کی سرپرستی میں سٹاک شدہ کھادافغانستان سمگل کی جارہی ہے۔اندھے حکمرانوں کوہمارے کسان کے مسائل نہیں دکھائی دے رہے،جب کسان کے پاس فصلیں کاشت کرنے کیلئے وسائل نہیں ہوں گے تووہ کس طرح فصلیں کاشت کریں گے ۔جب فصلیں کاشت نہیں ہوں گی تولازمی طورپرمارکیٹ میں اجناس کی قلت ہوگی اورقیمتیں بڑھ جائیں گی پہلے بھی غریب اور مزدور،دیہاڑی دار طبقہ اس ہوشرباء مہنگائی کے ہاتھوں پس چکا ہے وہ کس طرح بلیک مارکیٹ سے مہنگی اشیاء خرید پائیں گے ۔ اتحادی حکومت کوہوش کے ناخن لینے چاہئیں کسان اور دیہاڑی دارمزدورطبقے کااحساس کرتے ہوئے اس بے لگام مہنگائی کے آگے بند باندھنا بہت ضروری ہے ۔فصلیں کاشت کرنے کیلئے ہمارے کسان کیلئے علیحدہ سے بجلی ،ڈیزل اور کھادکیلئے سپیشل بجٹ مختص کیا جائے ورنہ فصلات کاشت نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں اناج کی قلت پیداہونے کا خطرہ ایک اژدھاکی طرح پھن پھیلائے کھڑاہے ،اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے توپاکستان کوقحط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔صومالیہ کو کئی سالوں کی خشک سالی اور بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے قحط کاسامنا کرناپڑا، اس وقت پاکستان صومالیہ بننے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ اگرپاکستان میں قحط آتاہے تویہ قحط قدرتی نہیں بلکہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کاشاخسانہ ہو گا۔

  • زراعت کے شعبے کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں. سید خورشید شاہ

    زراعت کے شعبے کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں. سید خورشید شاہ

    وفاقی وزیر برائے آبی وسائل خورشید شاہ نے کہا ہے کہ مشکل حالات سے مقابلہ کررہے ہیں ،

    خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ جوکام 4 سال میں نہیں کیے گئے وہ 4 دن میں بھی ہوئے ہیں،اتحادی حکومت دیگرامور پر بھی توجہ مرکوز رکھی ہوئی ہے، جو منصوبے روکے ہوئے تھے ان پر دوبارہ کام شروع کردیا گیا پاکستان کے کسانوں کو ان کا حق ملنا چاہیے 12جون کوبھاشا اورداسوڈیم کا دورہ کروں گا،رواں برس ہم گندم درآمدکررہے ہیں حال ہی میں مہمند اورتربیلا ڈیم کا دورہ کیا،زراعت کو آگے لانے کی کوشش کررہے ہیں کہ درآمد کرنا پڑے،دس پندرہ سال میں پاکستان مقروض ممالک میں نہیں ہوگا، خیبرپختونخواکو 2 فیصدپانی کم مل رہا ہے،زراعت کو آگے لانے کی کوشش کررہے ہیں کہ کوئی چیز درآمد نہ کرنا پڑے، پانی کے مسائل کو حل کرنے اور کمی کو ختم کرنے کے لیے نئے پروجیکٹ شروع کر رہے ہیں جن پروجیکٹ پر کام جاری ہے انہیں جلد مکمل کریں گے آج باتیں ہو رہی ہیں کہ ہم آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر اداروں کے پاس مدد کیلئے جاتے ہیں زراعت کے شعبے کو اتنا مضبوط کرنا چاہتے ہیں کہ ہم امپورٹ کرنے کے بجائے ایکسپورٹ کریں اور ہم قرضوں سے باہر نکلیں

    وفاقی وزیر سید خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ 2023 میں مہند ڈیم کا کام مکمل ہوجائے گا ،15جون سے مون سون بارشوں کا سلسلہ شروع ہوجائے گا، ہم خون ریزی نہیں چاہتے ،قانون خود راستہ اختیار کرے گا،

    ترجمان پیپلز پارٹی فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ زراعت پر تو جہ ہے اس پر مزید کام کریں گے، ہمارے دور میں گندم ایکسپورٹ کر رہے تھے اب ہم امپورٹ کر رہے ہیں،3ملین ٹن گندم بیرون ملک سے منگوائی جارہی ہے،

    عمران خان خود امپورٹڈ، بینظیر کو کس نے کہا تھا اس بچے کا خیال رکھنا؟ خورشید شاہ کا انکشاف

    خورشید شاہ،مولانا ملاقات کے بعد زرداری ہاؤس میں بڑی بیٹھک

    تحریک عدم اعتماد کب جمع ہو گی؟ خورشید شاہ نے سب بتا دیا

    عمران خان نے دھوکہ دیا، خورشید شاہ کا بڑا اعلان

  • دنیا  تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ، تحریر:عفیفہ راؤ

    دنیا تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ، تحریر:عفیفہ راؤ

    پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر کئی عجیب و غریب خبریں گردش کر رہی ہیں۔ کہیں انسان کے اندر خنزیر کا دل لگا کر اس کو نئی زندگی دے دی گئی ہے۔ تو کہیں ایک ویڈیو میں یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ چین نے مصنوعی سورج کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے جو اصل سورج سے کئی گنا زیادہ بڑا ہے۔ کہیں خلا سے ہی سائنسدان سٹوڈنٹس کو Space science
    پر لیکچر دے رہے ہیں تو کئی ممالک ایسے بھی ہیں جو کہ خلا میں جنگی مشقیں بھی کر چکے ہیں۔ ایک طرف دنیا کی طاقتور ترین دوربین کو خلا میں بھیجا گیا ہے تاکہ اس کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھایا جا سکے تو دوسری طرف اڑنے والی کاروں کا بھی تجربہ کر لیا گیا ہے۔

    لیکن جو خبر اس وقت سب سے زیادہ ڈسکس ہو رہی ہے وہ انسان کے اندر خنزیر کا دل لگانے کے حوالے سے ہے اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس ٹیم میں ایک پاکستانی ڈاکٹر بھی شامل ہے جس نے یہ تجربہ کیا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس تجربے کے لئے خنزیر کا دل ہی کیوں منتخب کیا گیا کسی حلال جانور کا دل کیوں نہیں استعمال کیا گیا۔اس سوال کا جواب تو بہرحال سائنس کی روشنی میں ہی مل سکتا ہے لیکن میں جس بات کی طرف آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ آج کل اس طرح کی عجیب و غریب خبریں اتنی زیادہ کیوں آ رہی ہیں۔اس وقت یہ تمام کام اتنی آسانی سے کیسے ہو رہے ہیں جو اب سے پہلے تک نا ممکنات میں سے تھے۔ اس کا آسان جواب تو یہ ہے کہ یہ سب اس لئے ممکن ہو گیا ہے کیونکہ سائنس نے بہت زیادہ ترقی کر لی ہے۔لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ سائنس کی یہ بے پناہ ترقی دراصل ہم انسانوں کے لئے ایک اشارہ بھی ہے کہ یہ دنیا اب بہت تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب گامزن ہے۔ سائنس کے یہ کرشمات دراصل وہ واقعات ہیں جن کا حوالہ ہمیں دجال کی آمد اور قیامت کی نشانیوں میں ملتا ہے۔دجال کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے ظہور کے بعد ہر طرف فتنہ و فساد برپا کردے گا۔ دجال کی شعبدہ بازیاںmesmarismدھوکے وغیرہ کو دیکھ کر بعض مسلمانوں کو اس کے جن ہونے کا گمان ہوگا لیکن دجال اپنے آپ کو سب سے پہلے مسیح، پھرنبی کہے گا اور اسکے بعد خدائی کا دعوی کرے گا۔ اور لاعلم لوگوں میں شکوک و شبہات پیدا کرکے ان کو پھانستا چلا جائے گا۔

    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے بارے میں فرمایا۔۔
    جو دجال کی خبر سن لے وہ اس سے دور رہے، اللہ کی قسم! آدمی اپنے آپ کو مومن سمجھ کر اس کے پاس آئے گا اور پھر اس کے پیدا کردہ شبہات میں اس کی پیروی کرے گا۔
    قابل غور بات یہ بھی ہے کہ دجال اکیلا نہیں ہوگا بلکہ اس کے ساتھ اس کے ساتھی بھی ہوں گے یعنی یہ ایک ایسا فتنہ ہوگا جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔
    نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ
    دجال کے پیروکاروں کی اکثریت یہودی اورعورتیں ہوں گی۔۔۔
    دراصل یہودی جس مسیح کا انتظار کر رہے ہیں وہ وہی دجال ہوگا جس کے پاس غیر معمولی طاقتیں ہوں گی جس سے وہ لوگوں میں شر پھیلائے گا۔
    دجال کی طاقتوں کے حوالے سے احادیث میں لکھا ہے کہ۔۔
    اس کے پاس آگ اور پانی ہوں گے۔ جو آگ نظر آئے گی وہ ٹھنڈا پانی ہوگا اور جو پانی نظر آئے گا وہ آگ ہوگی۔۔۔
    اس دجال کے پاس روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کا دریا ہوگا۔۔ مطلب یہ کہ اس کے پاس پانی اور غذا وافر مقدار میں ہوں گے۔۔۔
    رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ وہ اس زمین پر کتنی تیزی سے چلے گا؟
    آپؐ نے فرمایا: جس طرح ہوا بادلوں کو اڑا لے جاتی ہے۔ وہ ایک گدھے پر سوار ہوگا۔ اس گدھے کے کانوں کے درمیان چالیس ہاتھوں کا فاصلہ ہوگا۔
    اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ شیاطین کوبھیجے گاجو لوگوں کے ساتھ باتیں کریں گے۔
    وہ ایک بدو سے کہے گا اگر میں تمہارے باپ اور ماں کو تمہارے لیے دوبارہ زندہ کروں تو تم کیا کروگے؟
    کیا تم شہادت دو گے کہ میں تمہارا خدا ہوں؟
    بدو کہے گا۔۔ ہاں۔۔ چنانچہ دو شیاطین اس بدو کے ماں اور باپ کے روپ میں اس کے سامنے آجائیں گے اور کہیں گے ہمارے بیٹے اس کا حکم مانو یہ تمہارا خدا ہے۔

    دجال کسی دیہاتی سے کہے گا کہ میں اگر تمہارے اونٹ کو زندہ کردوں تو کیا تم میرے رب ہونے کی گواہی دو گے؟
    وہ کہے گا: ہاں تو دجال کے ساتھی شیاطین اس دیہاتی کے اونٹ کی شکل اختیار کر کے آ جائیں گے۔
    دجال کسی علاقے میں سے گزرے گا اور اس علاقے کے لوگ دجال کی تکذیب کردیں گے تو اس کے نتیجے میں ان کا کوئی جانور نہیں بچے گا سب ہلاک ہو جائیں گے۔ دوسرے علاقے سے گزرے گا جہاں کے لوگ اس کی تصدیق کریں گے تو اس کے نتیجے میں دجال آسمان کو حکم دے گا اور وہ بارش برسانے لگے گا زمین کو حکم دے گا تو زمین خوب غلہ اگانے لگے گی ان ماننے والوں کے مویشی شام کو اس حال میں آئیں گے کہ وہ پہلے سے زیادہ بڑے اور فربہ ہوں گے ان کی کوکھ بھری ہوئی ہوں گی اور ان کے تھن دودھ سے بھرے ہوں گے۔
    دجال اپنے نہ ماننے والوں سے اس کا مال و متاع چھین لے گا اور اپنے ماننے والوں کو دنیا کے ہرایک ظاہری مال و دولت سے خوب نواز دے گا۔ مرے ہوئے انسانوں کو زندہ کر دے گا۔ پیدائشی اندھے اور کوڑھی کو تندرست کر دے گا۔
    اس کا قبضہ ان تمام وسائل پر ہوگا جو زندہ رہنے کے لئے ضروری ہیں مثلا پانی آگ اور غذا پر۔۔ اس کے پاس بے تحاشہ دولت اور زمین کے خزانے ہوں گے اس کی دسترس تمام قدرتی وسائل پر ہوگی مثلا بارش فصلیں قحط اور خشک سالی وغیرہ۔ وہ ایک نقلی جنت اور دوزخ بھی اپنے ساتھ لائے گا۔
    یعنی یہ انسانی تاریخ کا ایک ایسا فتنے کا دور ہوگا جس میں داخل ہونے سے لے کر باہر نکلنے تک بے شمار ہلاکتیں ہوں گی بھوک و پیاس کی آزمائشیں ہوں گی۔ بے انتہا سختیاں مصیبتیں پریشانیاں بیماریاں اور طرح طرح کے دھوکے ہوں گے۔ دجال کے ظاہر ہونے سے تین سال پہلے بارشوں کا سلسلہ ایسا ہوگا کہ پہلے سال آسمان سے ایک تہائی بارش رک جائے گی پھر دوسرے سال دو تہائی بارش رک جائے گی پھر تیسرے سال مکمل بارش رک جائے گی۔ اسی لیئے یہ فتنے بہت سخت ہو جائیں گے اور یہ آزمائشیں بھی سخت ہوں گی۔

    اب آپ ان تمام نشانیوں پر غور کریں تو وہ کونسا ایسا کام ہے جو اس وقت نہیں ہو رہا۔ ایک طرف انسان میں خنزیر کا دل ڈال کر زندگی اور موت کو اپنے ہاتھ میں لینے کا تجربہ ہو چکا ہے۔دوسری طرف انسانی دماغ میں چپ ڈالنے کی بات ہو رہی ھے۔چینی ساختہ ایک نیوکلیئر فیوژن ری ایکٹر جسے مصنوعی سورج کا نام دیا گیا ہے اس نے 17 منٹ سے زیادہ دیر تک مسلسل سورج سے پانچ گنا زیادہ گرم چلنے کے بعد بلند درجہ حرارت کا نیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔اور اب مصنوعی سورج کے بعد وہ مصنوعی چاند پر بھی کام کررہے ہیں۔لیکن انسانی ترقی نے جہاں تیزی سے Ecosystem کو تباہ کر دیا ھے وہیں دنیا تیزی سے گلوبل وارمنگ کی تباہ کاریوں کی طرف بھی بڑھ رہی ھے سال2021 پانچواں لگاتار سال تھا جو گرم ترین رہا اور دنیا کے اوسط درجہ حرارت میں اضافہ ہوا۔ آسمان سے بارشیں برسنا پہلے ہی بہت کم ہو چکی ہیں اور اس سے ماحول پر جو اثر پڑ رہا ہے اس کو دور کرنے کے لئے مصنوعی طریقوں سے اب بارشیں برسائی جاتیں ہیں۔چین سال2021
    میں 55 خلائی مشنز انجام دے کردنیا میں سب سے زیادہ خلائی مشن مکمل کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی چین کا ہی کارنامہ ہے کہ اس نے پہلی مرتبہ اپنے خلائی اسٹیشن سے تدریسی سرگرمیوں کا بھی آغاز کر دیا ہے۔اور اس
    Space classکی سب سے خاص بات یہ ہے کہ تینوں ٹیچرز زمین سے تقریبا چار سو کلومیٹر کی بلندی سے بچوں کو سبق پڑھا رہے تھے اور چین کے پانچ مختلف شہروں میں قائم کئے گئے پانچ کلاس رومز میں کل 1420 سٹوڈنٹس نے ایک ساتھ اس خلائی لیکچر میں شرکت کی۔امریکہ، جرمنی، فرانس اور چین خلاء میں فوجی مشقیں بھی کر چکے ہیں۔ اڑنے والی گاڑیاں جو آج تک ہم نے فلموں یا کارٹونز میں دیکھیں تھیں مگر اب دبئی میں اس اڑنے والی سوپرگاڑی کا کامیاب تجربہ کرلیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ قدرتی وسائل پر پہلے ہی چند کمپنیوں کا قبضہ ہو چکا ہے پانی جیسی نعمت بھی اب عام انسانوں کو بازار سے خرید کر پینا پڑتی ہے۔ زراعت میں بھی مختلف تجربات کرکے مصنوعی طریقوں سے اب پیداواروں کو کئی گنا زیادہ کر لیا جاتا ہے۔ جانوروں کے فارم بنا کر اور مختلف Steroidsکا استعمال کرکے ان کو وقت سے پہلے کھانے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ گائے بھینسوں کو انجیکشنز لگا کر ڈبل مقدار میں دودھ حاصل کیا جاتا ہے۔جانور تو جانور انسانوں پر بھی Genetic تبدیلیوں کی طرف تیزی سے ریسرچ کرکے انسان کی ساخت میں تبدیلی لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ In shortیہ کہ وہ تمام نشانیاں جو کہ ہم دجال کی آمد کے ساتھ منسوب کرتے ہیں وہ ایک طرح سے پوری ہوتی چلی آ رہی ہیں۔ ہم ان تمام فتنوں کا سامنا کر رہے ہیں جو کہ احادیث میں دجال کی نشانیاں بتائے گئے ہیں۔

    لیکن جہاں ہمیں ہماری احادیث کی کتابوں میں دجال کے فتنوں کے بارے میں بتایا گیا ہے وہیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دجال آئے گا لیکن اس کے لیے مدینہ میں داخل ہونا ممنوع ہوگا وہ مدینہ کے مضافات میں کسی بنجرعلاقے میں خیمہ زن ہوگا۔ اس دن بہترین آدمی یا بہترین لوگوں میں سے ایک اس کے پاس آئے گا اور کہے گا کہ میں تصدیق کرتا ہوں تم وہی دجال ہو جس کا حلیہ ہمیں اللہ کے نبیؐ نے بتایا تھا دجال لوگوں سے کہے گا کہ اگر میں اسے قتل کردوں اور پھر زندہ کردوں؟ تو کیا تمہیں میرے دعوی میں کوئی شبہ رہے گا؟ وہ کہیں گے نہیں۔۔ پھر دجال اسے قتل کر دے گا اور پھر اسے دوبارہ زندہ کر دے گا تب وہ آدمی کہے گا کہ اب میں تمہاری حقیقت کو پہلے سے زیادہ بہتر جان گیا ہوں۔ دجال اسے دوبارہ قتل کرنا چاہے گا لیکن ایسا نہیں کرسکے گا۔ وہ اس مومن کو دوبارہ نہیں مار سکے گا اور دوبارہ مارنے کی طاقت کھو بیٹھے گا۔
    ایمان والوں کا وہ کچھ نہ بگاڑ سکے گا۔ وہ اس کے فتنے سے محفوظ رہیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ جو سب ترقیاں ہو رہی ہیں وہ اللہ کے حکم اور مرضی سے ہو رہی ہیں۔ اور یہ ہم سب کے لئے آزمائش ہیں کہ ہم اس ترقی کو ہی سب کچھ نہ مان لیں بلکہ اپنے ایمان پر ثابت قدم رہیں کہ جو ہو رہا ہے وہ اللہ کے حکم اور مرضی سے ہو رہا ہے۔

  • زراعت پرتوجہ نہیں،وسائل کااستعمال درست نہیں:حکمت عملی:پھرخلوص نیت سےعملداری ضروری:مبشرلقمان

    زراعت پرتوجہ نہیں،وسائل کااستعمال درست نہیں:حکمت عملی:پھرخلوص نیت سےعملداری ضروری:مبشرلقمان

    لاہور:زراعت پرتوجہ نہیں،وسائل کا استعمال درست نہیں : پہلے حکمت عملی اورپھرخلوص نیت سے عملداری ضروری ہے:اطلاعات کے مطابق ٹویٹر کے سپیس فورم پرجہاں اوپن ڈسکشن ہوتی ہے اس فورم پرآج پاکستان کے سینئر صحافی تجزیہ نگار مبشرلقمان نے پاکستانی معیشت کودرپیش مسائل کے حوالے سے بہت اچھے جوابات دیئے ،

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ میری اتنی عمر اور تجربہ ہے کہ کچھ باتوں کا پتہ ہے ۔ دو سیکٹرز ایسے ہیں پاکستان میں ایک بیک بون ہے دوسرا بچت پاکستان جب بنا تھا تو زراعت ہماری بہتر تھی ۔آج تک ہم نے کسی بھی حکومت نے یہ نہیں کوشش کی کہ اس کو ریسرچ کریں کہ 56 فیصد جو اسوقت تھی اسکو بہتر کریں ۔ہمارے پاس سرٹیفائیڈ بیج ہی نہیں ۔

    سپیس میں اس موضوع پر بھی بات ہوئی کہ زراعت پر ہم نے محنت نہیں کی ۔زراعت کی ایک یونیورسٹی پاکستان میں وہ بھی یو ایس ایڈ سے بنی ۔ ہم کوشش کریں گے تو آئی ایم ایف کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ آئی ٹی میں ہم بہت پیچھے ہیں اسکو پروموٹ کرنا ہے تا کہ فاءدہ اٹھا سکیں ۔تیسری چیز پاکستان چائنہ کا فری ٹریڈ کا بہت پرانا کنٹریکٹ ہے اس میں بارہ سو آئٹم ہیں ابھی تک ہم 273 کور کر ہے ہمیں ہزار ایٹم کا پتہ ہی نہیں ۔ہماری حکومت میڈیا کی نالائقی ہے کہ ہم عوام کو بتا نہیں سکے کہ کیسے اور کس پر بزنس کرنا ہے

    اس خوبصورت معاشی سوچ وبچار کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ جب تک پاکستان میں سٹوڈںٹ یونین اور لوکل باڈیز بحال نہیں ہوتی جمہوریت میں بہتری نہیں آ سکتی ۔ ان دونوں کو بحال اور ایکٹو کرنا ہو گا اس سے نئے لیڈر نکلیں گے ۔ منی لانڈرنگ کرپٹو کے تھرو ہو رہی ہے چند سال تک کرپٹو کئی چیزوں کو ری پلیس کرے گی ہم جتنا جلدی قانون بنائیں گے اتنا جلدی فایدہ اٹھا سکتے ہیں

    اس موقع پر مبشرلقمان نے کہا کہ زراعت میں بہت کچھ آتا ہے پنجاب میں وزیر رہا ہوں تو پنجاب کا مجھے زیادہ پتہ ہے اگلی بار مفتاح اسماعیل شاہد خاقان عباسی اسحاق ڈار کو بھی دعوت دین گے

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق سات ملین جانور ذبح ہوتے ہیں ہر سال قربانی ہوتی ہمارے جانور ایکسپورٹ نہیں ہوتے ،چارہ اگانے کے لیے لوگوں کے پاس زمینیں ہیں اگر ونڈہ دینا شروع کر دیں کہ حکومت فری دے تو پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔گوشت ایکسپورٹ کریں تو اسکا کتنا فائدہ ہے لیکن توجہ نہیں ہے

    مبشرلقمان نے پھر کہا کہ سیاحت کے لیے کیا کر رہے ہیں کتنے انتظامات کیے پہلے انفراسٹرکچر بنانے کی ضرورت ہے اسکے بعد سیاحوں کو سہولیات دیں پھر فایدہ ہو گا ہم نے سیاحوں کو کوئی سہولیات نہیں دی ہوئی صرف ٹول ٹیکس لے کر خوش ہونے سے کوئی فایدہ نہیں

    ان بہت قوانین موجود ہیں ان پر عملدرآمد کی ضرورت ہے ۔ اوورسیز والوں کو جس طرح ایئر پورٹ پر ٹریٹ کیا جاتا ہے لگ پتہ جاتا ہے جب تک بزنس مین کو اعتماد نہیں ہو گا کوئی بزنس نہیں کرے گا ۔

    مبشرلقمان کا کہنا تھا کہ دو دن پہلے احسن بھون کا انٹرویو کر رہا تھا ان سے پوچھا ہائیکورٹ کے ججز کی تقرری کیسے ہوتی ہے تو اسکا کوئی امتحان نہیں جس کو ججز لگا دیا جائے ۔ میڈیا میں کسی کو اکانومی کی سینس ہی نہیں جنکو اکانومی کا پتہ ہے ایک شاہزیب خانزادہ ہے اور ایک شہزاد اقبال ۔یہ دونوں اچھا پروگرام کرتے ہیں رپورٹنگ بھی کرتے رہے ہیں ۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلی بار مہاتیر محمد کو پاکستان عمران خان نے انوائیٹ کیا تو عمران خان نے کافی شکایات کی کہ پاکستان میں کرپشن بڑھی تو انہوں نے کہا کہ کرپشن اکانومی بہتر کرنے کا طریقہ ہے اسکو لیگل کر دیں جس کو جو دینا ہے پرمٹ کے پیسے ملیں گے بزنس سیو ہو گا تو اکانومی بہتر ہو گی

    اس حوالے سے انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین نے چالیس سال میں کوئی لڑائی نہیں کی یہ اسکی کامیابی ہے انڈیا کو صرف اسکی حیثیت یاد کرواتا ہے امریکہ نے چالیس سال میں جنگیں کیں مریکہ کا وہ سٹیٹس نہیں جو چین کا ہے ۔ پالیسیز کو ری وزٹ کرنے کی ضرورت ہے

    مبشرلقمان نے کہا کہ سبسڈیز غریب کو نہیں ملتی ۔ غریب کو ملنی چاہیے ۔ بجلی کا بل جھگی والے کا اور تین کنال والے کا سبسڈیز میں فرق کیوں نہیں ۔ تین مرلے سے کم والے گھر کو بجلی فری ملنی چاہیے

    مبشرلقمان نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا گالی دینے میں آزاد ہے میڈیا اس دن آزاد ہے جس دن کمرشل انٹرسٹ سے آزاد ہو گا جب تک ہم یہ پروگرام نہیں کر سکتے کہ دنیا کی کوئی کریم جلد گورا نہیں کر سکتی میڈیا آزاد نہیں ۔اسمبلی میں جب کسی کو ٹریکٹر ٹرالی کہا جایے آڈیو لیک ہو جائے کتابیں پھینکی جایے تو پھر میڈیا کیا کرے ۔ڈر لگ رہا ہے کسی کی عزت ہی نہیں رہی ۔ لوز ٹاک کو بھی کنٹرول کرنا ہے ۔جسدن میڈیا ریٹنگ اور اشتہار کو چھوڑ کر بات نہیں کرے گا میڈیا آزاد نہیں ۔

    ان کا کہنا تھا کہ بے حیائی والے ڈرامہ کی ریٹنگ آتی ہے کشمیر پر ریٹنگ نہیں کیونکہ ریٹنگ ایجنسی سنگاپور کی ہے پاکستان میں ریٹنگ ایجنسی بنانی پڑے گی ۔میڈیا پر مادر پدر آزادی بہت خوفناک ہے اس سے مجھے بھی ڈر لگتا ہے

    مبشرلقمان نے اس موقع پر گفتگو کو سمیٹتےہوئے کہا کہ اچھے آئی ٹی کے لوگ نوکریوں میں نہیں آئیں گے حکومت کو ایسے لوگوں کو استعمال کرنا چاہیے اگر بل گیٹس پاکستان ہوتا تو میں میں ب حساب کتاب دے رہے ہوتے کہ کہان سے پیسہ ایا۔ دنیا کہاں جا رہی ہے اور ہم کیا کر رہے ہیں ۔جمہوریت میں عوام ووٹ دیتی ہے اور حکومت بدل جاتی ہے لیکن اداروں پر چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے ۔ میرا رائیٹ ہے کہ میں خط لکھوں تو جواب ملے لیکن نہیں ملے گا یہ جمہوریت نہیں ۔

  • ” پاکستان اور چین کے درمیان زرعی مصنوعات کی تجارت میں اضافے نے خوش کردیا”

    ” پاکستان اور چین کے درمیان زرعی مصنوعات کی تجارت میں اضافے نے خوش کردیا”

    اسلام آ با د:پاکستان اور چین کے درمیان زرعی مصنوعات کی تجارت میں اضافے نے خوش کردیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان میں چین کے سفیر نونگ رونگ نے کہا ہے کہ 2011 سے 2019 تک چین اور پاکستان کے درمیان زرعی مصنوعات کی تجارت کا حجم 490 ملین امریکی ڈالر سے بڑھ کر 830 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے جس میں شرح اضافہ تقریبا 70 فیصد ہے۔

    اسلام آباد سے ذرائع کے مطابق ہمسایہ ملک چین پاکستان آزاد تجارتی معاہدے کے دوسرے مرحلے کا پروٹوکول یکم جنوری 2020 سے نافذ العمل ہو چکا ہے اور دونوں فریقوں کی 75فیصد مصنوعات پر بتدریج "زیرو ٹیرف” تک کمی لائی جائے گی، جس سے چینی منڈی کے مواقع کے ساتھ پاکستان میں اعلی معیار کی زرعی مصنوعات فراہم کی جا سکیں گی۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کی تعمیر صنعتی اور زرعی تعاون پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اعلی معیار کی ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے.

    یہ بھی یاد ر ہے کہ اس سے قبل چین کے سفیر نونگ رونگ نے چین کی کسٹمز جنرل ایڈمنسٹریشن کی نما ئند گی کرتے ہوئے پاکستان کی وزارت برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے ساتھ ” پاکستانی پیاز کی چین برآمد کے لیے معائنہ اور قرنطینہ کی ضروریات کے پروٹوکول” پر باضابطہ دستخط کیے۔یہ اسلام آباد میں زرعی برآمدات کے لیے پہلا معاہدہ ہے جس سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ پاکستانی پیاز نے چینی مارکیٹ تک رسائی حاصل کر لی ہے.

    دوسری طرف اس موقع پر وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے وزیر سید فخر امام نے اس موقع پر کہا کہ چین کے پاس انتہائی وسیع اور مضبوط صارف مارکیٹ ہے اور امید ہے کہ پروٹوکول پر دستخط کے بعد پاکستان چین کو مختلف اعلی اقسام کی پیاز برآمد کر سکتا ہے۔ اس وقت چین پاکستان اقتصادی راہداری دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان زرعی تعاون اس مرحلے کی ترقی کا مرکز ہے۔ مستقبل میں، پاکستان چین کے ساتھ زرعی تعاون کو مزید بڑھانے اور چین میں آم، چیری اور ڈیری سمیت دیگر زرعی مصنوعات کی برآمد کو ترقی دینے کی امید رکھتا ہے:

     

  • اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے  جامع قومی زراعت کا پلان نمائندوں کے حوالے کیا،  ترقياتی پلان کیا ہیں؟

    اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے جامع قومی زراعت کا پلان نمائندوں کے حوالے کیا، ترقياتی پلان کیا ہیں؟

    Iاسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے زرعی ترقی کی حکمت عملی حکومتی نمائندوں کے حوالے کر دی گئی۔
    اسلام آباد ، 8 فروری، 2021: اسپیکر قومی اسد قیصر نے اگلے 7 سالوں کے لئے جامع اور مربوط ساختی اصلاحات پر مبنی زرعی نمو کی حکمت عملی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ اینڈ ریسرچ اور زراعت سے متعلق کابینہ کی ذیلی کمیٹی کے حوالے کردی۔

    اس حکمت عملی کے اہم اجزاء میں بلوچستان، جنوبی پنجاب ، کے پی ، تھرپارکر ، کاٹن بحالی پروگرام ، تیل بیج کی ترقی, ڈیجیٹل زرعی فنانس اور دیگرنکات شامل ہیں۔ معیاری بیج کی فراہمی ، زرعی انشورینس (کاشتکار رسک ٹرانسفر میکانزم) سیٹلائٹ کے ذریعے فصل کی رپورٹنگ)، زرعی اصلاحات کیلئے زرعی ترقیاتی اتھارٹی کا قیام ، احساس، کامیاب جوان پروگراموں اور سی پیک کے ساتھ روابط اور زرعی شعبہ میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لئے مراعات کاشتکار اور کسان تنظیمیوں سے روابط بڑھانا شامل ہیں۔
    انہوں نے مزید کہا کہ اس حکمت عملی کا اہم مقصد زراعت کی 7.5 فیصد شرح نمو حاصل کرنا ہے۔ مالی سال 2027-28 تک کسانوں کی ملکیت میں مربوط مارکیٹ پر مبنی زرعی اجناس میں ویلیو میں اضافہ اور کسانوں کو جدید پیداواری ٹکنالوجی کی فراہمی، کاشت شدہ اراضی کے رقبے میں توسیع اور ویلیو ایڈڈ سرگرمیوں میں سرمایہ کاری جاری رکھنے کی ترغیب دیتی ہے۔

    اس حکمت عملی میں مزید کہا گیا کہ مجوزہ حکمت عملی کا اہم مقصد زرعی برآمدات کو فروغ دینا، دیہی ترقی میں معاشی نمو کو تیز کرنا، دیہی غربت کو کم کرنا، زرعی شعبے میں مالی اور صنفی شمولیت کو بڑھانا بھی شامل ہے۔
    اس حکمت عملی میں مزید کہا گیا کہ مجوزہ ماڈل میں ترقی کی حکمت عملی کا تصور کیا گیا ہے جس میں 7.4 ملین چھوٹے کسانوں کے کاروباری ماڈل کی تبدیلی پر توجہ دی گئی ہے جو کل کاشت کی جانے والی اراضی کا 48 فیصد کاشت کرتے ہیں۔
    اسپیکر نے مزید کہا کہ اس حکمت عملی کے ذریعہ زراعت کے شعبے کو جدید بنانے میں تیزی لانا ہے تاکہ یہ شعبہ معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے وسائل پیدا کرسکے اور خود انحصاری کے ساتھ معاشی استحکام حاصل کر سکے۔

  • جاپان پاکستانی کسانوں کی مدد کو تیار

    جاپان پاکستانی کسانوں کی مدد کو تیار

    اسلام آباد: جاپان یو این کے ایگرو فوڈ پروجیکٹ کے تحت پاکستان میں زراعت اورصنعتی ترقی کیلئے 5.2 میلن ڈالر کی سرمایہ کرے گا، پاکستان میں یواین کی نمائندہ برائے صنعتی ترقی نادیہ آفتاب نے وفاقی وزیر برائے فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ صاحبزادہ محبوب سلطان سے ملاقات کی اور جاپان کی طرف سے شروع کیے جانے والے میگا پروجیکٹ کے بارے میں آگاہ کیا،
    اس پروجیکٹ کے تحت پاکستان میں حلال گوشت اور پھلوں کی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پروڈکشن اور پیکنگ کے پروجیکٹ شامل ہیں ، ماہرین کے مطابق پاکستان کے کسانوں کی زندگیاں بدلنے میں یہ پروجیکٹ اہم کردار ادا کرے گا