Baaghi TV

Tag: زرداری

  • سندھ ہاؤس پر حملہ:لگ رہا کہ کچھ ہونے جارہاہے:بلاول اور آصف زرداری کی شدید الفاظ میں مذمت

    سندھ ہاؤس پر حملہ:لگ رہا کہ کچھ ہونے جارہاہے:بلاول اور آصف زرداری کی شدید الفاظ میں مذمت

    اسلام آباد:سندھ ہاؤس پر حملہ:لگ رہا کہ کچھ ہونے جارہاہے:بلاول اور آصف زرداری کی شدید الفاظ میں مذمت ،اطلاعات کے مطابق سندھ ہاؤس پر پی ٹی آئی کارکنوں کی طرف سے دھاوے بولے جانے کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف علی زرداری نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    اپنے ایک بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے سندھ ہاؤس پر حملے کو دہشت گردی پر مبنی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محلہ منظم منصوبہ بندی سے ہوا، حملہ دراصل سندھ پر حملے کے مترادف ہے۔ اس حملے سے معلوم ہوتا ہےکہ کچھ نہ کچھ ضرور ہونے جارہا ہے، درجنوں پولیس چوکیوں کو عبور کرکے حملہ آوروں کا ریڈ زون میں واقع سندھ ہاؤس پہنچنا سوالیہ نشان ہے، وفاق میں سندھ ہاؤس دراصل سندھ کی شناخت ہے، عمران خان نے سندھ پر لشکر کشی کرواکر اپنا اصل بغض ظاہر کردیا۔

    انہوں نے کہا کہ ہم قانون کو ہاتھ میں لینے والے لوگ نہیں تاہم ہم جانتے ہیں کہ سرکش عناصر سے کیسے نمٹا جاتا ہے۔ عوامی نمائندوں کی رہائش گاہ پر حملہ کرواکر عمران خان نے چادر اور چار دیواری کا تقدس بھی پامال کیا ہے۔ پارلیمان، پی ٹی وی اور پارلیمنٹ لاجز پر حملہ کرنے والوں نے سندھ ہاؤس پر حملہ کرکے اپنی فسطائیت کا اظہار کیا، عمران خان اپنی شکست دیکھ کر بوکھلا چکے، اوچھے ہتھکنڈوں سے 172 کی حمایت حاصل نہیں ہوسکتی۔

    سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ سندھ ہاؤس پر پی ٹی آئی کارکنان کے حملے کی مذمت کرتے ہیں، عمران خان کے پاس اگر نمبرز پورے ہوتے وہ پارلیمنٹ لاجز اور سندھ ہاؤس پر حملوں کے بجائے ایوان میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے۔

    انہوں نے کہا کہ عمران خان نے سندھ ہاؤس پر نہیں بلکہ وفاق میں سندھ کی علامت پر حملہ کرواکر دراصل سندھ پر لشکر کشی کی کوشش کی، عمران خان نے آج پاکستان کے وفاقی تشخص کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے، یہ ناقابل برداشت ہے۔ پاکستان کے عوام دیکھ رہے ہیں کون جمہوری اقدار کا حامل ہے اور کون انتشار پھیلا کر ملک کو انارکی کی جانب دھکیلنا چاہتا ہے۔

  • ‏گزشتہ ساڑھے3سال سے سڑکوں پر کھڑا ہوں:اب موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا:فضل الرحمن

    ‏گزشتہ ساڑھے3سال سے سڑکوں پر کھڑا ہوں:اب موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا:فضل الرحمن

    اسلام آباد : ‏گزشتہ ساڑھے 3سال سے سڑکوں پر کھڑا ہوں:اب موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا:اطلاعات کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے حکومت کے خلاف اپنی جدوجہد کا ذکرکرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پچھلے ساڑھے تین سال سے سڑکوں پرکھڑے ہیں کہ کب وقت آئے اور عمران خان کی حکومت ختم ہو اور مجھے پھر موقع ملے

    لانگ مارچ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لانگ ‏مارچ کا آغاز تو 23مارچ کو ہی ہوگا، ‏اسلام آباد میں قافلوں کے داخلے کا وقت 25مارچ ہوگا،‏ہم ہر قربانی دینے کو تیار ہیں، طے کر لیا ہے کہ ہم اسلام آباد آئیں گے،

    ان کا کہنا تھا کہ کوئی سیاسی پارٹی کسی کی ضامن نہیں ہوا کرتی، ‏مشاورت کے نظام میں مل کر چلنا ہوتا ہے، ‏ذاتی رائے یہ ہے کہ اگر کوئی اصلاحات ضروری ہیں تو وہ کرلی جائیں، سیاسی قوتوں کو ایک جگہ پر اکٹھا کرنا ہمارا فرض بنتا ہے،

    ‏پی ٹی آئی کے ممبران اپنے حلقوں میں بھی نہیں جاسکتے، ‏یہ کسی ممبر کو ہاتھ لگائیں ہم ان کو چھوڑیں گے نہیں، ‏دوست ممالک نے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا ہے،فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ ‏جلسوں میں لوگوں کو لایا جاتا ہے، ‏ایم این ایز کو یر غمال بنانا یہ ہمارا نہیں یہ آپ کا کام ہے، ‏وزراکی دھمکیوں کے پیش نظر ہم نے اپنے اراکین کو حفاظت میں رکھا ہوا ہے،

    ادھرپاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کی دعوت دینے سے قبل آصف زرداری نے کہا میں یہ پہلے ہی قبول کر چکا ہوں۔

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کی، اس دوران صحافی نے سوال کیا کہ لانگ مارچ کے بارے سنا ہے کہ دونوں جانب سے مارچ اور جلسہ منسوخ ہو جائے گا۔ جس پر جواب دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آپ اپنا سوال اپنے پاس رکھیں، لانگ مارچ کے حوالے سے کون کہاں سے نکلے گا اس سوال کا جواب ابھی آپکو نہیں ملے گا۔

    سربراہ پی ڈی ایم کا مزید کہنا تھا کہ آصف زداری کو لانگ مارچ می شرکت کی دعوت دینے جانا تھا، انکی مہربانی ہے وہ میرے پاس تشریف لائے اور کہا کہ میں یہ پہلے ہی قبول کر چکا ہوں۔

    قبل ازیں سابق صدر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کیلئے اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پہنچے جبکہ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال اور تحریک عدم اعتماد پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    دوسری جانب مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر اپوزیشن رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں سابق صدر آصف زرداری، شاہدخاقان عباسی اور دیگر رہنما شریک تھے۔

  • عدم اعتماد:آرٹیکل 63 اے:آصف زردای نے خط لکھ عمران خان کے خلاف سازش ناکام بنادی

    عدم اعتماد:آرٹیکل 63 اے:آصف زردای نے خط لکھ عمران خان کے خلاف سازش ناکام بنادی

    کراچی:عدم اعتماد:آرٹیکل 63 اے:آصف زردای نے خط لکھ عمران خان کے خلاف سازش ناکام بنادی ،اطلاعات کے مطابق اس وقت آئنی ماہرین نے سابق صدر آصف علی زرداری کی جانب سے پی پی ارکان اسمبلی کو لکھے جانے والے خط کو وزیراعظم عمران خان کی خاموش حمایت قراردیتے ہوئے اسے اہم قرار دیا ہے ،

    اس حوالے سے اہم ترین حقائق سامنے آرہےہیں کہ مقتدرحلقوں کو یہ یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ پی پی ریاست کو عدم استحکام کا شکار نہیں ہونے دی گی خاص کر ریاست کی بین الاقوامی خارجہ پالیسی کی تعریف کی گئی ،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اسی وجہ سے کافی مطمئن تھے کہ بالآخر وہ تمام سازشوں کو دبانے میں ناکام ہوجائیں گے ، شایدیہی وجہ ہےکہ آصف علی زرداری کی طرف سے لکھے گئے خط کو وزیراعظم عمران خان کی بہت بڑی کامیابی قراردیا جارہاہے ، اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جارہی ہے کہ زرداری کو یہ معلوم ہوگیا ہے کہ پارٹی سربراہ کے خلاف ووٹ دینے سے ارکان اپنی نشست سے محروم ہوجائیں گے ،اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ اسی قانون کا استعمال اسپیکر پی ٹی آئی سبربراہ عمران خان کی ہدیات پر کریں گے اور یوں عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے سے پہلے ہی دم توڑ جائے گی

    دوسری طرف وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے سابق صدر آصف زرادری کے خط کو انکی گھبراہٹ قرار دے دیا ہے۔ وفاقی وزیر شبلی فراز نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم تو سمجھے تھے کہ بلاول کی کانپیں ٹانگ رہی تھی، اب تو انکے والد آصف زرداری کی بھی کانپیں ٹانگ رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ آصف زرداری کو اپنے ایم این ایز پر شک ہے جس کے باعث خط لکھنا پڑا، سابق صدر آصف زرداری نے گبھراہٹ میں آکر اراکین کو نااہلی سے متعلق متنبہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 اے سے متعلق خط سابق صدر آصف زرداری کی گھبراہٹ صاف ظاہر ہوتی ہے، آصف زرداری کے ساتھ انکے اپنے لوگ نہیں۔

    وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز نے مزید کہا کہ یہ ہمیں طعنہ دیتے ہیں مگر ہم نے کوئی خط نہیں لکھا، اراکین کو خط لکھنا ان کی گبھراہٹ کی عکاسی کرتا ہے۔

    پیپلزپارٹی نے اپنے ارکان پارلیمنٹرینز کی قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت لازمی قرار دیتے ہوئے غیر حاضر رکن اور پارٹی پالیسی کے خلاف ووٹ پر آرٹیکل 63 اے تحت کارروائی کا انتباہ جاری کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی قیادت نے پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی کے نام اجلاس میں لازمی شریک ہونے کے لیے مراسلہ جاری کردیا ہے، پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر آصف زرداری کی جانب سے ارسال کردہ خط پارٹی کے تمام اراکین قومی اسمبلی کو موصول ہو گیا ہے۔جس میں تحریک عدم اعتماد کے موقع پر ایوان میں حاضری یقینی بنانے اور ووٹنگ میں حصہ لینے کی ہدایت کی ہے۔

    مراسلے کے متن میں کہا ہے کہ وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرائی جا چکی ہے ۔ پیپلزپارٹی کے ایم این ایز تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کے دن ایوان میں حاضری یقینی بنائیں اور ووٹنگ میں حصہ لیں۔

    مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ پارٹی کی ہدایت کے برخلاف ووٹ کرنے یا ووٹنگ میں حصہ نہ لینے پر رکن کے خلاف آئین آرٹیکل 63 اے کے تحت کارروائی کی جائے گی۔

    دوسری جانب وزیر مملکت فرخ حبیب کا کہنا ہے کہ ان کے اپنے اراکین ان کےساتھ نہیں ، پی پی کس منہ سے تریسٹھ اےکےتحت خط لکھ رہی ہے، عمران خان نے آئندہ پانچ سال بھی وزیراعظم رہنا ہے۔

  • چوہدریوں کوپنجاب کی وزارت اعلیٰ پرنوازشریف نےکیا کہا؟اندرکی بات سامنےآگئی

    چوہدریوں کوپنجاب کی وزارت اعلیٰ پرنوازشریف نےکیا کہا؟اندرکی بات سامنےآگئی

    لاہور: چوہدریوں کوپنجاب کی وزارت اعلیٰ پرنوازشریف نے کیا کہا؟اندرکی بات سامنےآگئی ،اطلاعات کے مطابق شدید تحفظات کے باوجود مسلم لیگ (ن) پنجاب کی وزارت عظمیٰ (ق) لیگ کو دینے پر کیوں راضی ہوئی؟ اندورنی کہانی سامنے آگئی۔

    ذرائع کے مطابق (ق) لیگ کو وزرات عظمیٰ پنجاب دینے کے لئے مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری نے نواز شریف کو قائل کیا، آصف زرداری نے نواز شریف کو پیغام دیا کہ بڑے مقصد کیلئے چھوٹی قربانی دیں چند ماہ کی بات ہے۔جس پرنواز شریف نے کہا کہ چوہدری کسے دے وی سکے نہیں،یہ مفاد کی خاطر کچھ بھی کرسکتے ہیں مگرہمارے ساتھ ہاتھ بھی کرسکتے ہیں ان سے بچ کررہنا چاہیے میں ان کو بڑی اچھی طرح جانتا ہوں ، جس پرزرداری اور فضل الرحمن نے کہا کہ بس ایک مرتبہ نیازی جان چھڑوا لیں پھرچوہدریوں سے بھی دوہاتھ کرلیں گے ، گھبرانے کی کوئی بات نہیں

    ذرائع ن لیگ کے مطابق مذکورہ شرط نہ ماننے پر پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے تحریک عدم اعتماد کی حمایت نہ کرنے کی دھمکی دے ڈالی تھی۔

    ذرائع فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ نون لیگ کا اصرار تھا کہ ق لیگ پنجاب میں ن لیگ کیخلاف کوئی اقدام نہیں کریگی، جس پر مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری نے یقین دہانی کرائی، دونوں رہنماؤں کی ضمانت کےبعد ن لیگ بھی مشروط طور رضامند ہوئی۔

    واضح رہے کہ آج وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹ حاصل کرنے کے لئے متحدہ اپوزیشن نے مسلم لیگ قاف کو پنجاب کی وزارت اعلیٰ دینے پر اتفاق کرلیا ہے۔یہ طے ہوا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے بعد اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کو وزیراعلیٰ پنجاب بنایا جائے گا۔

    اس سے قبل گذشتہ روز ق لیگ کو اپوزیشن کی جانب سے وزارت اعلیٰ کی پیشکش پر لیگی رکن قومی اسمبلی عابد رضا سمیت 7 ارکان اسمبلی نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

    ن لیگی ارکان کا استفسار تھا کہ ق لیگ کو کس حیثیت سے وزارت اعلیٰ کی پیشکش کی گئی؟ پنجاب میں ن لیگ بڑی جماعت ہے اور ق لیگ چھوٹی جماعت ہے،عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب ہمارا ہونا چاہیے۔

  • شہریوں کی تضحیک،وزیراعظم کو عہدے سے ہٹایا جائے:درخواست

    شہریوں کی تضحیک،وزیراعظم کو عہدے سے ہٹایا جائے:درخواست

    شہریوں کی تضحیک،وزیراعظم کو عہدے سے ہٹایا جائے:درخواست
    کوئٹہ: ،اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینٹر امان اللہ کنرانی نے بلوچستان ھائی کورٹ کوئٹہ میں ایک آئینی درخواست میں کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان نے کراچی گورنر ھاوس میں منگل کے 9 مارچ کو ایک اجتماع میں قابل اعتراض تقریر کی ہے جس میں اس نے پاکستان کے تین معزز شہریوں جناب آصف علی زرداری صاحب کو اپنی بندوق کی تیر کے پہلے نشانے پر رکھنے کی دھمکی دی جبکہ جناب شہباز شریف صاحب کو بوٹ پالشی و چڑاسی قرار دیا اسی طرح مولانا فضل الرحمن صاحب کے نام کو بگاڑ کر فضلو کے نام سے پکار کر ان سب کا تمسخر اُڑایا و پھبتیاں کسی ہیں

    درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاکستان جو آئین کے تحت اس کے اندر حاکمیت اللہ کی ہے اور پاکستان آئین کے آرٹیکل 2 کے تحت اسلامی ریاست قرار دیا گیا ہے اور حکومت آئین کے آرٹیکل 31 کے تحت اسلامی اقدار کی پابندی و ترویج و نفاذ کا پابند ہے وزیر اعظم ملک کا آئین کے آرٹیکل 90 کے تحت چیف ایگزیکٹو ھونے کے ناطے اور آئین میں دی گئی بنیادی حقوق کے تحفظ کا ذمہ دار و قابل مواخذہ ہے مگر اس نے منگل کے روز اپنی تقریر میں شہریوں کی تضحیک کرتے ھوئے تمسخر اُڑا کر پھبتیاں کسی ہیں اور نازیبا القابات و الفاظ ادا کئے ہیں جس کی قرآن شریف کے سورہ الحجرات کے آیت 10 کے اندر ممانعت کے واضح احکامات موجود ہیں اس کے باوجود بحیثیت مسلمان و وزیر اعظم وہ قرآن کے احکامات کی سورہ بقرہ کے آیت 284 کے تحت پابند ہے لہذا وزیراعظم نے نس قرآن و آئین کے تحفظات آریٹکل 4,9,10 A,14,سمیت آئین کے آرٹیکل 5 کے تحت وفاداری و احترام ظاہر نہیں کی جس کی بنا پر وہ آئین کے آرٹیکل 62(1)d,e ,f آرٹیکل 62-b اور آرٹیکل 63 (g)کی خلاف ورزی کرتے ھوئے اپنے آئین کے آرٹیکل 91(5)جدول 3 میں درج اپنے حلف کی پاسداری کی بجائے پامالی کے مرتکب ھوئے ہیں

    لہذا وہ اب اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے اھل نہیں رہے اس لئے عدالت عالیہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت کاروائ عمل میں لاتے ھوئے ان کی تقریر کو نس قرآن و آئین کے دفعات کی روشنی میں خلاف ورزی قرار دے کر آئین کے آرٹیکل کے 63-g کے تحت اختیارات کو بروئے کار لائے ان کو اس عہدے سے نااھل قرار دیکر پاکستان میں ایک نئے وزیراعظم کے انتخاب کرنے کا حکم صادر کرے

  • عدم اعتماد کے پچیھےکون کون؟علمائے دین خیرکا سبب ہوتے ہیں:وزیراعظم کا میلسی میں خطاب

    عدم اعتماد کے پچیھےکون کون؟علمائے دین خیرکا سبب ہوتے ہیں:وزیراعظم کا میلسی میں خطاب

    میلسی : عدم اعتماد کے پچیھےکون کون؟علمائے دین خیرکا سبب ہوتے ہیں:وزیراعظم کا میلسی میں خطاب،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اپوزیشن رہنماؤں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ چار ڈاکو ہمارے خلاف عدم اعتماد لارہے ہیں، جو بھی یہ کریں گے، اس کے لیے میں تیار ہوں، لیکن سوال پوچھتا ہوں کہ اگر آپ کی عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہوئی تو پھر آپ اس کے لیے تیار ہیں جو میں آپ کے ساتھ کروں گا۔

    میلسی میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آصف زرداری سنیما کی ٹکٹیں بلیک کرتا تھا، کرپشن پر آصف زرداری کو نواز شریف نے دو مرتبہ جیل میں ڈالا اور حدیبیبہ پیپر ملز کا کیس زرداری نے شریفوں پر بنایا۔

     

     

    ’فضل الرحمان کو کبھی مولانا نہیں کہوں گا‘
    اپنے خطاب میں سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمان کو ’فضلو‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ میں اس کو کبھی مولانا نہیں کہوں گا، مولانا پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں، جن کی ہم عزت کرتے ہیں۔علمائے دین خیر کا سبب بنتے ہیں لیکن فضل الرحمن شرکا مجموعہ ہے

     

    عمران خان نے سربراہ پی ڈی ایم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف پیسے نہیں بناتا بلکہ بلیک میل کرتا ہے۔

    انہوں نے مولانا فضل الرحمان کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’یہ بتاؤ کہ تمہیں اور تہمارے ڈاکوؤں کے ٹولے کے ہوتے ہوئے کسی کو پاکستان میں سازش کرنے کی کیا ضرورت ہے؟‘

    ’ماضی میں جیل سے جھوٹ بول کر نواز شریف بھاگا تھا‘
    عمران خان نے کہا کہ مجرم نمبر ون نواز شریف، جو جھوٹ کر بالی ووڈ کی ایکٹنگ کر کے ملک سے باہر چلا گیا، کبھی گیدڑ بھی لینڈ بن سکتا ہے، جو دم دبا کر ملک سے بھاگ جائے، ماضی میں اٹک جیل سے جھوٹ بول کر نواز شریف بھاگا تھا۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کا تین مرتبہ کا وزیر اعظم اور اس کے بچے اربوں روپے کے محل میں رہتے ہیں، جب پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں سے آیا تو کہتے ہیں کہ ہم تو ملک سے باہر رہتے ہیں، یہ لوگ صرف ملک کو لوٹنے کے لیے آتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔

    عمران خان نے کہا کہ دوسرا مجرم ہے شہباز شریف، اگر شہباز شریف کا پتہ کرنا ہے تو مقصود چپڑاسی کو لے آئیں جس کے اکاؤنٹ میں 375 کروڑ روپے آئے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ ان لوگوں نے کھیل لگایا ہوا ہے، بھگوڑا اور اس کی بیٹی فوج کو برا بھلا کہتے ہیں اور شہباز شریف کو جو بھی بوٹ نظر آتا ہے اس بوٹ کی پالش شروع کردیا کرتا ہے، شہباز شریف ڈرا ہوا ہے کہ اسے جیل جانا ہے اس لیے جلدی جلدی عدم اعتماد میں لگا ہوا ہے۔

  • آصف زرداری نوازشریف سے ذرا بچ اورذرا ہٹ کررہیں:کہیں استعمال نہ ہوجائیں:اہم شخصیت کی نصیحت

    آصف زرداری نوازشریف سے ذرا بچ اورذرا ہٹ کررہیں:کہیں استعمال نہ ہوجائیں:اہم شخصیت کی نصیحت

    لاہور:آصف زرداری نوازشریف سے ذرا بچ اورذرا ہٹ کررہیں:کہیں استعمال نہ ہوجائیں:اہم شخصیت کی نصیحت ،اطلاعات کے مطابق آصف زرداری صاحب کو احتیاط برتنی چاہیے، اب بھی نواز شریف سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے،ملک کی بڑی سیاسی شخصیت نے آصف زرداری کو نواز شریف سے محتاط رہنے کا مشورہ دے دیا۔

    تفصیلات کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اعتزاز احسن نے آصف علی زرداری کو نواز شریف سے محتاط رہنے کا مشورہ دے دیا۔لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اعتزاز احسن نے پی پی شریک چیئرمین کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آصف زرداری صاحب کو احتیاط برتنی چاہیے، اب بھی نواز شریف سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

    صحافی کے اعتزاز احسن سے سوال پر کہ وزیر اعظم گھر جا رہے ہیں؟ انھوں نے کہا لوگوں کو رویہ دیکھ کر اندازہ ہو جائے گا کہ عمران خان گھر جا رہے ہیں یا نہیں، ملک اور اداروں کے لیے وزیر اعظم ناگزیر ہوتا ہے، اگر عمران خان وزیر اعظم نہیں ہوں گے تو کوئی اور وزیر اعظم ہوگا، اگلی حکومت کسی اور کی نہیں بلکہ عوام کی حکومت ہوگی۔

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے سابق ترجمان ندیم افضل چن نے دوبارہ پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے، انھوں نے شمولیت کا اعلان بلاول بھٹو کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کے بعد کیا، میڈیا سے گفتگو کے موقع پر خورشید شاہ، شیری رحمان، قمر زمان کائرہ، بیرسٹر اعتزاز احسن سمیت کئی اہم رہنما موجود تھے۔اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے ندیم افضل چن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی آپ کا گھر ہے واپس آنے پر خوش آمدید کہتا ہوں، اب اسلام آباد پہنچنے سے پہلے سلیکٹڈ اپنے گھر کی راہ لے گا کیونکہ پیپلزپارٹی عوامی طاقت پر یقین رکھتی ہے اب عوام ہی فیصلے کریں گے۔

    لیکن دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف سے راہیں جدا کر کے واپس پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے ندیم افضل چن کے بھائی اور تحریک انصاف کے رکن اسمبلی وسیم چن نے بڑے بھائی کے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

    ندیم افضل چن نے لاہور میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کر کے دوبارہ پیپلز پارٹی میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔اس موقع پر ندیم افضل چن کا کہنا تھا کہ کچھ مجبوریوں کی وجہ سے تحریک انصاف میں شامل ہونے کا غلط فیصلہ کیا لیکن اپنے گھر میں واپس آنے پر خوش ہوں۔

    ندیم افضل چن کے تحریک انصاف سے پیپلز پارٹی میں شمولیت کے فیصلے پر ان کے چھوٹے بھائی اور پی ٹی آئی رکن اسمبلی وسیم چن نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

     

     

    وسیم چن کی جانب سے جاری ویڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہ ندیم افضل چن کا پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے، اس فیصلے میں والد صاحب یا ہم بھائیوں کی تائید حاصل نہیں ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ افضل چن نے بہتر سمجھا کہ وہ پیپلز پارٹی کے ساتھ بہتر چل سکتے ہیں، انہوں نے اپنی سیاسی راہیں ہم سے جدا کر لیں، ہم اس فیصلے میں ان کے بالکل بھی ساتھ نہیں ہیں۔

    وسیم چن کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس تحریک انصاف کا مینڈیٹ ہے اور ہم اپنے مینڈیٹ کی پاسداری کریں گے، ہم تحریک انصاف کے ساتھ ہیں اور ہمیں عمران خان پر مکمل اعتماد ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کسی کے ذاتی اختلافات اپنی جگہ مگرعمران خان عالم اسلام کا ایک مقبول لیڈر ہے

  • فرض کریں کہ اگرعدم اعتماد کامیاب ہوگئی توپھر شہبازشریف وزیراعظم ہوں گے :آصف علی زرداری

    فرض کریں کہ اگرعدم اعتماد کامیاب ہوگئی توپھر شہبازشریف وزیراعظم ہوں گے :آصف علی زرداری

    لاہور:فرض کریں کہ اگرعدم اعتماد کامیاب ہوگئی توپھر شہبازشریف وزیراعظم ہوں گے :آصف علی زرداری نے پتہ پھینک دیا ،اطلاعات کے مطابق متحدہ اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اچانک لانے کا فیصلہ کر لیا اور کامیابی کی صورت میں سابق صدر آصف علی زرداری نے شہباز شریف کا نام بطور وزیراعظم کے پیش کر دیا، مولانا فضل الرحمن اور نواز شریف نے بھی لیگی صدر کے نام پر اتفاق کر لیا۔

    حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان شہبازشریف کی رہائش گاہ ماڈل ٹاؤن وفد کے ہمراہ پہنچے، وفد میں اکرم درانی، مولانا اسعد الرحمان اور مولانا امجد سمیت دیگر شامل تھے۔

    تھوڑی دیر بعد سابق صدر آصف علی زرداری بھی وفد کے ہمراہ ماڈل ٹاؤن پہنچے، ان کے وفد میں پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری، سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، پارلیمانی لیڈر سید حسن مرتضیٰ سمیت دیگر شامل تھے۔

    آصف علی زرداری کی آمد سے قبل مولانا فضل الرحمان اور شہبازشریف کی ملاقات ہوئی، جس میں شہبازشریف نے سربراہ پی ڈی ایم کو گزشتہ روز پیپلزپارٹی سے ہونے والی ملاقات میں اعتماد میں لیا۔ دونوں رہنماؤں نے تحریک عدم اعتماد سمیت حکومت کے خلاف مختلف امور پر غور کیا۔دوسری طرف تین بڑی جماعتوں کی بیٹھک کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی ہے،

    ذرائع کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری، پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف اپوزیشن کی حکمت عملی پر مشاورت کی۔

    ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی اور حکومت مخالف اتحاد پی ڈی ایم نے پہلے وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے پر اتفاق کر لیا، سپیکر اور وزیراعلی پنجاب کے خلاف تحریک عدم اعتماد بعد میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا ٹاسک سابق صدر آصف علی زرداری کے سپرد کر دیا گیا۔

    اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرداری کو حکومتی اتحادی جماعتوں سے معاملات طے کرنے کا بھی اختیار دے دیا گیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد اچانک لانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کی صورت میں سابق صدر آصف علی زرداری نے شہباز شریف کا نام بطور وزیراعظم کے پیش کر دیا، مولانا فضل الرحمن اور ویڈیو لنک پر موجود نواز شریف نے بھی لیگی صدر شہباز شریف کے نام پر اتفاق کر لیا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں دونوں قائدین نے اپنے اپنے سیاسی کارڈز ایک دوسرے سے شیئر کئے، شہباز شریف نے نمبر گیم کے حوالے سے اجلاس کے شرکا کا تفصیلی بریفنگ دی۔

  • نہ جی بھرکےدیکھانہ کچھ بات کی:بڑی آرزوتھی ملاقات کی    :شہبازشریف،آصف زرداری ملاقات:بےنقاب ہوگئی

    نہ جی بھرکےدیکھانہ کچھ بات کی:بڑی آرزوتھی ملاقات کی :شہبازشریف،آصف زرداری ملاقات:بےنقاب ہوگئی

    لاہور:نہ جی بھرکےدیکھا نہ کچھ بات کی :بڑی آرزو تھی ملاقات کی:شہبازشریف کی آصف علی زرداری سے ملاقات بے نتیجہ ختم ،اطلاعات کے مطابق بلاول ہاؤس میں اپوزیشن رہنماؤں کی بیٹھک ختم ہو گئی، آصف زرداری سےملاقات کےبعد اپوزیشن رہنما واپس روانہ ہو گئے۔

    ن لیگ کے صدر شہبازشریف نے بلاول ہاؤس میں آصف زرداری سے ملاقات کی جس میں احسن اقبال، راناثنااللہ، سعد رفیق شامل تھے جب کہ جے یوآئی کے اکرم درانی اور مولانااسعدنے بھی شرکت کی۔

    آصف زرداری نےشہبازشریف کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔ عشائیے میں شرکت کے بعد جےیوآئی(ف)کا وفدبھی واپس روانہ ہو گیا۔اہم ملاقات کی کوریج کے لیے شام سے ہی بلاول ہاؤس کے باہر میڈیا کی ٹیمیں موجود تھیں تاہم تمام اپوزیشن رہنما میڈیا سے گفتگو کیے بغیر روانہ ہو گئے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانافضل الرحمان کی عدم موجودگی کے باعث ملاقات بےنتیجہ رہی اسی لیے تحریک عدم اعتماد سے متعلق حکمت عملی فائنل نہ ہوسکی۔ملاقات میں شہبازشریف کی رہائش گاہ پرکل دوبارہ بیٹھک پراتفاق کیاگیا ہے۔ کل ہونےوالی ملاقات میں مولانافضل الرحمان بھی شرکت کریں گے۔

    ادھر جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سابق وزیراعظم نوازشریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے۔

    وزیراعظم عمران کے خلاف عدم اعتماد کے حوالے سے اپوزیشن کافی متحرک دکھائی دے رہی ہے اور خاص طور پر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے سیاسی رابطوں کا سلسلہ شروع کررکھا ہے جس میں انہوں نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف سے بھی ملاقات کی۔

    جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز سابق صدر آصف زرداری سے ملاقات کی جس میں انہوں نے پیپلزپارٹی سے لانک مارچ ملتوی کرنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ الگ الگ لانک مارچ سے اپوزیشن تقسیم ہوگی۔

  • مولانا فضل الرحمن کی اعلیٰ ظرفی ! اپنے تمام مخالفین کو”گلی محلے کے لفنگے” کہہ دیا

    مولانا فضل الرحمن کی اعلیٰ ظرفی ! اپنے تمام مخالفین کو”گلی محلے کے لفنگے” کہہ دیا

    ڈیرہ اسماعیل خان:مولانا فضل الرحمن کی اعلیٰ ظرفی ! اپنے مخالفین کو”گلی محلے کے لفنگے” کہہ دیا ،اطلاعات کے مطابق پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے تمام سیاسی مخالفین کو”گلی محلے کے لفنگے”کہہ کراعلیٰ ظرفی کا تیر چلا دیا

    مولانا فضل الرحمٰن نے کہاکہ پی ڈی ایم کا مقابلہ نااہل حکمرانوں سے ہے، اب یہ ملک میں نہیں ٹھہر سکتے، ہم ان کو بھگائیں گے اور عوام کی نمائندہ حکومت بھی لائیں گے۔ جس گھرانے میں پیدا ہوا گلی محلوں کے لفنگوں کو میں جواب دے نہیں سکتا، صوبہ کے بلدیاتی انتخابات کو دومراحل میں کراکے اپنے حق میں نتائج حاصل کرنے کی سازش کی گئی۔

    پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ نااہلوں کا مقابلہ کر رہے ہیں،عمران خان واقعی باہر کا ایجنڈالیکر آیا، اسکے حق میں پروپیگنڈا کرنے والے آج شرمندہ ہیں ، اب یہ ملک میں نہیں ٹھہر سکتے انکو ہم بھگائیں گے، جعلی وزیر اعظم کے چین میں ہوتے ہوئے بھی چین کی قیادت نے وڈیو لنک سے بات کی اور براہ راست ملاقات نہیں کی۔

    پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ شہباز شریف نے بلاول، زرداری سے ملاقات پر مجھے اعتماد میں لیا، پی ڈی ایم کبھی بھی صدارتی نظام کی حمایت نہیں کرے گی۔

    قبل ازیں پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے میانوالی کے علاقے کندیاں میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں، وہ اس حیثیت سے دیگر جماعتوں سے مل سکتے ہیں، کے پی الیکش میں کامیابی حاصل کر کے تبدیلی کی بنیاد رکھ دی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا جمعیت پی ٹی آئی کی ناجائز حکومت کو تسلیم نہیں کرتی، ہم جلد عوام کو اس ناجائر حکومت سے چھٹکارا دلوائیں گے، پارلیمنٹ عوام کا عہدہ ہے، ان کے بغیر آمریت ہی ہے۔