Baaghi TV

Tag: زرعی

  • زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر تبدیل کیا جائے گا،طارق بشیر چیمہ

    زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر تبدیل کیا جائے گا،طارق بشیر چیمہ

    وزیر برائے قومی غذائی تحفظ اور تحقیق طارق بشیر چیمہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ 1.2 ملین سے زائد زرعی ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی پر تبدیل کیا جائے گا تاکہ لاگت کو کم کیا جاسکے اور خاص طور پر چھوٹے زمینداروں کی زرعی آمدنی میں اضافہ کیا جاسکے۔

    حکومت نے بجلی کی قیمیت میں فی یونٹ 7 روپے91 پیسے مزید اضافہ کردیا

    پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ اس کے طریقہ کار کو حتمی شکل دینے اور اس سہولت کی مالی اعانت کے لیے کمرشل بینکوں کو شامل کرنے کے لیے ایک ٹاسک فورس بنائی جا رہی ہے۔ اس سہولت کے تحت کسانوں کو تین سال تک کی قسطوں میں قرض ادا کرنا ہوگا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر کیا گیا ہے جنہوں نے کم سے کم وقت میں ٹھوس نتائج کو یقینی بنانے کے لیے قلیل اور طویل مدتی پالیسیاں مرتب کرنے کے لیے کہا ہے، جس میں خاص طور پر غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے زرعی شعبے کی بحالی پر توجہ دی جا رہی ہے۔

     

    اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس؛ پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم کیلئے بولی کی منظوری

     

    کاشتکاروں کو ان کی پیداوار کے لیے مناسب شرح منافع کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ تمام بڑی اور چھوٹی فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کپاس کی مداخلتی قیمت کے لیے سفارشات کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور اسے کابینہ کے اگلے اجلاس کے ایجنڈے میں منظوری کے لئے رکھا جائے گا۔

    وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کاشتکاروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے تاکہ وہ اس اہم فصل کی زیادہ سے زیادہ رقبہ کو زیر کاشت لائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سیزن کے دوران فصل کی بوائی کے رقبے میں 37 فیصد کمی ہوئی جس کی جگہ چاول، مکئی اور گنے نے لے لی۔

    وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ حکومت بوائی کے سیزن کے آغاز سے قبل گندم کی کم از کم امدادی قیمت کا اعلان کرنے کی بھی خواہشمند ہے تاکہ کسانوں کو زیادہ گندم کی بوائی کی ترغیب دی جا سکے تاکہ وہ بنیادی اناج کی پیداوار میں خود کفالت حاصل کر سکیں اور درآمد شدہ گندم اور خوردنی تیل پر انحصار کم کر سکیں، جو غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عام آدمی کو درپیش مسائل سے آگاہ ہے اور مہنگائی کے دباؤ سے بچانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور مزید کیے جائیں گے ۔

    انہوں نے کہا کہ حکومت یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے نیٹ ورک کے ذریعے کنٹرول شدہ نرخوں پر اشیائے ضروریہ کی فراہمی کو یقینی بنا رہی ہے اور رمضان کے مقدس مہینے میں گندم، آٹا اور دیگر اشیاء فراہم کرتی رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ابھرتے ہوئے روس یوکرائن تنازعہ سے غذائی اجناس کی کسی بھی ممکنہ قلت کو روکنے کے لیے حکومت نے اپنے سٹریٹجک ذخائر کو بڑھا دیا ہے اور تمام صوبائی حکومتوں اور پاسکو کے گندم کی خریداری کے اہداف کو بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تقریباً 30 لاکھ ٹن درآمد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ گندم کی سال بھر ہموار فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    موجودہ حکومت کی جانب سے زرعی شعبے کے لیے متعارف کرائے گئے ریلیف اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس واپس لے لیا گیا اور کپاس اور کینولا کے بیجوں کو سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ کاشتکاروں کی سہولت کے لیے کھادوں پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت چھوٹے پیمانے پر کاشتکاروں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے کیونکہ وہ 12 ایکڑ سے کم اراضی رکھنے والی کاشتکار برادری کا تقریباً 92 فیصد ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قرض کی سہولت تک ان کی رسائی کو یقینی بنانے اور انہیں استحصال سے بچانے کے لیے اقدامات متعارف کرائے جائیں گے۔

    طارق بشیر نے کہا کہ پچھلی حکومت کی جانب سے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کے ساتھ سخت شرط کے باوجود اتحادیوں نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے سخت فیصلے کرنے کا فیصلہ کیا اور عوام کو حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے اعتماد میں لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

    وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ حکومت چین کے تجربے اور زراعت اور لائیو سٹاک میں مہارت سے استفادہ کے لیے دیگر اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین کے ساتھ بھینسوں کی نسل کی بہتری کے لیے معاہدے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین گائے کے گوشت کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے اور چین سے کہا گیا کہ وہ پاکستان میں ایسے فارمز قائم کرے جو مقامی لائیو سٹاک کے شعبے کو بھی ترقی دینے میں معاون ثابت ہوں گے۔

    وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ ایران کے ساتھ بارٹر تجارت جو کہ گزشتہ دو سال سے معطل تھی اس کو بھی بحال کر دیا گیا ہے اور رواں ماہ میں سیب کی پہلی کھیپ یہاں پہنچے گی اور پاکستان سے آم ایران کو برآمد کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ستمبر تک مکمل تجارت دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔ تقریباً 100,000 ٹن چاول ایران کو برآمد کیے جائیں گے۔

    اس کے علاوہ، علاقائی ممالک کے ساتھ تجارت کو بڑھانے کے لیے ٹرانزٹ ٹریڈ میں موجود دیگر رکاوٹوں کو بھی دور کیا گیا ہے، تاکہ مقامی زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں کو فروغ دیا جا سکے۔

    ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت معیاری بیجوں اور کیڑے مار ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور مونسانٹو کمپنی کے ساتھ مذاکرات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے دوسرے مرحلے کے تحت لائیو سٹاک اور تحقیق میں زرعی تعاون پر کام جاری ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں کہا کہ زراعت کے شعبے کو مزید قابل عمل اور مضبوط بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کی رائے لینے کے لیے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی جا رہی ہے۔

    وفاقی وزیر بشیر چیمہ نے کہا کہ حکومت تمام صوبوں کو ساتھ لے کر ایک طریقہ کار وضع کر رہی ہے تاکہ کھاد کی سستی قیمتوں فراہمی یقینی بنائی جا سکے، اس کے علاوہ ذخیرہ اندوزی اور اجناس کی بلیک مارکیٹنگ کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

    طارق بشیر چیمہ نے مزید بتایا کہ حکومت ملک میں تیل کے بیجوں کی کاشت کو فروغ دینے کے لیے خصوصی مراعات فراہم کرے گی کیونکہ تیل کی درآمد پر تقریباً 4.5 ڈالر سالانہ خرچ آ رہا ہے جو کہ اگلے سال تک 6 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔

  • پاکستان ایگری ایکسپو2022 کا افتتاح ،زراعت کی ترقی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں ،اویس لغاری

    پاکستان ایگری ایکسپو2022 کا افتتاح ،زراعت کی ترقی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں ،اویس لغاری

    صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار اویس احمد خان لغاری کا کہنا ہے کہ پاکستان ایگری ایکسپو2022 زرعی برآمدات میں اضافہ کے لئے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہو گی۔موجودہ حکومت زرعی شعبہ کوعالمی سطح پر مارکیٹ ڈریون سٹریٹجی کے مطابق بنانے کیلئے کوشاں ہے تاکہ ہماری ملکی زرعی برآمدات میں اضافہ ہو سکے اور ہمارے کاشتکار بھائیوں کو بھرپور منافع ملے .

    سردار اویس احمد خان لغاری نے ایکسپو سینٹر جوہر ٹاؤن لاہور میں دو روزہ زرعی نمائش ” پاکستان ایگری ایکسپو2022 "کے افتتاح کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت زراعت کی ترقی کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ موجودہ حکومت نے مالی مشکلات کے باوجودہ مالی سال 2022-23 کے بجٹ میں زرعی ترقی اور کاشتکاروں کی خوشحالی کیلئے53 ارب19 کروڑ روپے مختص کیے ہیں جس میں سے زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافہ کے لئے 3 ارب65 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت زرعی برآمدات میں اضافہ کے لئے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔یہ نمائش پاکستانی زرعی مصنوعات اور ہائی ویلیو ایگریکلچر کو بین الاقوامی سطح پر فروغ دینے میں معاون ثابت ہوگی جس سے ملکی زرعی برآمدات میں اضافہ ہوگااور یہ نمائش برآمد کنندگان کیلئے انتہائی فائدہ مند ثابت ہو گا۔

    اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب کیپٹن(ر) اسد اللہ خان نے کہا کہ محکمہ زراعت پنجاب نے پاکستانی زرعی مصنوعات کے فروغ اور برآمدات میں اضافہ کے لئے اس نمائش کا انعقاد کیا ہے جس میں ملکی و غیر ملکی کمپنیوں نے150 سٹالزلگائے ہوئے ہیں جبکہ 12مختلف ممالک سے70غیر ملکی وفود اورقریباً 2ہزار سے کاشتکاروں اس نمائش میں شریک ہیں۔

    پاکستان ایگری ایکسپو2022 میں بہتر کاروباری روابط کے لئے بزنس ٹو بزنس میٹنگ کے مواقع بھی موجود ہیں۔ اس نمائش سے عالمی منڈیوں میں پاکستانی زرعی مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ہوگا جس سے ہماری برآمدات بڑھیں گی اور ملکی معیشت مستحکم ہوگی۔انھوں نے مزید کہا کہ اس نمائش سے قبل محکمہ زراعت ایسی سات نمائشوں کا انعقاد کروا چکا ہے جس میں مجموعی طور پر15 ممالک سے100 وفود نے شرکت کی اور ان نمائشوں کے ذریعے پاکستانی برآمدات میں 10.2 ملین ڈالرز کا اضافہ ہوا تھا۔

    پاکستان ایگری ایکسپو2022 کی افتتاحی تقریب میں اسپشل سیکرٹری زراعت(مارکیٹنگ) پنجاب وقار حسین، ایڈیشنل سیکرٹری زراعت (پلاننگ) شریں ناز،ڈائریکٹر جنرل زراعت (توسیع)ڈاکٹر انجم علی،ڈائریکٹر جنرل زراعت (اصلاح آبپاشی) ملک محمد اکرم اور ڈائریکٹر زرعی اطلاعات پنجاب محمد رفیق اختر سمیت دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اس نمائش میں کاشتکاروں کی آگاہی کے لئے سیمینار کا انعقاد بھی کیا گیا۔یہ دو روزہ نمائش کل تک جاری رہے گی

  • ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگانے والے نوٹوں کی عزت کرتے ہیں، فردوس عاشق اعوان

    ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگانے والے نوٹوں کی عزت کرتے ہیں، فردوس عاشق اعوان

    ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا حکومت کا زرعی شعبے میں انقلاب لانے کت حوالے سے کہا کہ پنجاب بڑا بھائ ہونے کے ناطے قائدانہ کردار ادا کرتا ہے-مجودہ حکومت نے زرعی شعبے میں انقلاب لانے کے لیے ڈیجیٹللائز پالیسی تشکیل دی گئ ہے- وزیراعظم کے وئژن کے تحت محنت کر کے سابقہ دور کی شوبازیوں کا ملیہ میٹ کیا ہے اور کسانوں کے حقوق کے لیے عملی اقدامات کیے گئے ہیں-

    اس سے قبل زرعی زمینوں کو ہاوسنگ سوسائٹیز میں تبدیل کر کے کنکریٹ میں تبدیل کر دیا جاتا تھا- پنجاب میں پہلی زرعی پالیسی کا سہراموجودہ حکومت کے سر جاتا ہے- اٹھتر ہزار سے زائد ایکڑ بنجر زمین کا قابل کاشت بنایا ہے گیا ہے- پانچ لاکھ انتالیس ہزار سے زائد کسانوں کی فصلوں کی انشورنس کی گئ ہے-سرکاری ملازمین کا احتجاج جاری ہے اپنے حقوق کی جنگ لڑنے والوں کو پیغام دینا چاہتی ہوں کہ سرکار کا حسن اسکا ملازم ہے- سرکار اور سرکاری ملازم لازم ملزوم ہیں- وزیراعظم اور وزیراعلی آپکے جائز مطالبات کے پاسدار ہے- سول گریڈ تک جو ملازمین کے ساتھ کمٹمنٹ کو سترہ سے بائیس گریڈ کے بابوں نے ہائ جیک کر لیا ہے- ہمیں معلوم ہے مسائل کے تحت تنخواہ نہیں بڑھی ہمیں آپکا احساس ہے – اس طرح اگر آپ سڑکوں پر آجائیں گے تو اپ اپوِزیشن کے لیے ایندھن بن جائیں گے-

    اپوزیشن اور پی ڈی ایم جو عوان کا مسترد شدہ اپنے ایجنڈے کی بھینٹ نہ چڑھ جائیں- ہم جانتے ہیں آپکے بغیر ملک نہیں چل سکتا عوام کے مسائل کو نہ بڑھائیں – عوام کی مشکلات کو نہ بڑھائیں مل بیٹھ کر معاملات طے کریں- پی ڈی ایم کا نظر بٹو کہتا ہے مجھ سے سیاست کی شاگردی لیں- کیسی استادی ہے آپ دو سیاسی نابالغ کے کندھو پر بیٹھ کر ایوان میں جانا چاہتے ہیں- کیا سیاسی نااہل وزیراعظم شفاف طریقے سے تمام انتخابات کے میکنزم کو یقینی بنانا چاہتے ہیں- جو ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاتے تھے وہ اوپن بیلٹنگ کی مخالفت کر کے نوٹ کی عزت کر رہے ہیں- تمام سیاسی یتم عمران خان کے ہم پلہ نہیں ہے عمران خان کو چیلنج نہ کریں عمران خان نے ایک ہی پتخے سے آپکو زمیں بوس کیا ہے- عوام نسل در نسل غلامی سے نجات چاہتی ہے اپوزیشن مردہ سیاست کو زندہ کرنا چاہتی ہے-عمران خان انکے ہاتھوں سے بلیک میل نہیں ہوگا-

    حسین جہانیاں گردیزی کہتے ہیں کہ ماضی کی حکومتیں زبانی طور پر زراعت کو ترجیح دیتی رہی لیکن عملی اقدام نہیں کیا گیا- وزیراعظم دلچسپی لیتے ہیں زراعت میں اور زرعی شعبے کی ترقی کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں- میری وزارت بھی اس لیے بدلی گئ کہ زراعت میں بہترین کام کیا جا سکے- وزیراعظم نے تین سو ارب کا زراعت کا پیکج دیا تھا- چار میجر فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے پیسے خرچ کیے جا رہے ہیں- ان فصلوں میں گنا گندم چاول اور تیل والی اجناس پر کام جاری ہے- سورج مکھی لگانے والے کسان کو پانچ ہزار فی ایکڑ سبسڈی دی جا رہی ہے- کھادوں اور بیجوں پر سبسڈی دی جا رہی ہے تاکہ پیداوار کو بڑھایا جا سکے- ہندوستان نے عالمی عدالت میں باسمتی چاول کی ملیکت کے لیے کیس کیا تھا- وزیراعظم کی ہدائت پر اس دعوے کو چیلنج کیا گیا ہے امید ہے ہم اس میں کامیاب ہونگے – وزیراعظم کے پیکج کے تحت کاشتکاروں میں مشینری تقسیم کی جا رہی ہے – بارہ سو لیزر مشینیں تقسیم کی جاچکی ہے- زرعی مشینری کو امپورٹ کرنے کے لیے ٹیکس کم کیا جائے اور زرعی قرضہ کے شرائط آسان بنائیں گے- ہمارا کاشتکار آڑھتی کا محتاج ہوتا ہے ہم الیکٹرونک رسیڈ کا سلسلہ شروع کرنے لگے ہیں- اس بار گندم پہلے سے زیادہ کاشت کی گئ ہے- ماضی میں گنے کے کاشتکاروں کا استحصال ہوتا رہا ہے- سینیٹ کی افادیت کے تحت ہر شخص سمجھتا ہے کہ وفاق کی اکئیوں کو اکٹھا کرنے ولا ادارہ سینیٹ ہے- ماضی میں مال و دولت والے لوگوں نے خود کا تعارف کروانے کے لیے پیسہ استعمال کیا- نوٹوں والے لوگوں نے سینیٹ کا رخ کیا پہلی دفعہ پی ٹی آئ نے عام آدمی کو سینیٹ میں بٹھایا-

    عمران خان اکیلا اس طریقے کو نہیں بدل سکتا آئینی ترامینم اسکا واحد حل ہے سپریمم کورٹ ستے درخواست ہے ہماری رہنمائ کرے نوٹوں کی خریدو فروخت والوں کو کیسے روکا جائے کے پی حکومت نے وڈیو پر تحقیقاتی کمیشن بنایا ہے کردار اگر وڈیو کے مطابق ممثالت رکھتے ہیں تو کوئ بھی قانون سے بالا تر نہیں- وزیراعظم نے وڈیو میں آنے والے وزیر سے استعفی لے کر گھر بھیجاّ- وزیراعظم کو وڈیو کا بتایا گیا تھا لیکن وزیراعظم نے وڈیو اب دیکھی ہ- عدالتیں آئین اور قانون کے دباو میں ہوتی ہیں کسی شخصیات کے دباو میں نہیں- ہم نے کالی بھڑوں کا بے نقاب کیا ہے چھپایا نہیں ہے جس نے جو بویا ہے وہ کاٹے گا- ڈی جی آئ ایس پی آر نے اہنے موقف میں خود احاطہ کیا ہے – بریف کیس سیاست کی نفی ہمارا عزم ہے اسکے بانی لندن مین بولیاں لگانے کے لیے انڈر نائینٹین کو چھوڑ گئے ہیں- اگر شفاف میکنزم نہ بنایا گیا تو اپوزیشن کو چہیے حکومت کے ساتھ کھڑے ہوکر چور دروازے کو روکا جا سکے