Baaghi TV

Tag: زرعی شعبے

  • سندھ: زراعت شماری 2024 مربوط ڈیجیٹل گنتی کا افتتاح

    سندھ: زراعت شماری 2024 مربوط ڈیجیٹل گنتی کا افتتاح

    پاکستان بالخصوص صوبہ سندھ میں زرعی شعبے کی ترقی کے لیے ایک اہم قدم کے طور پر، ساتویں زراعت شماری 2024 مربوط ڈیجیٹل گنتی کا سرکاری طور پر افتتاح کیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق صوبائی وزیر برائے لائیواسٹاک اینڈ فشریز محمد علی ملکانی نے کسانوں کی بہتری, مویشیوں کی پیداواری صلاحیتوں میں اضافے اور فوڈ سیکیورٹی کے لیے انقلابی قدم قرار دیا. سندھ سیکریٹریٹ کراچی میں منعقدہ اس تقریب میں اہم شخصیات نے شرکت کی، جن میں وزیر برائے لائیو اسٹاک اور فشریز محمد علی ملکانی، وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات اور توانائی سید ناصر حسین شاہ اور چیف اسٹیٹسٹیشن، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (PBS)، ڈاکٹر نعیم الظفر شامل تھے۔تقریب میں مختلف صوبائی محکموں کے سیکریٹریز، ڈائریکٹر جنرلز اور دیگر افسران نے بھی شرکت کی۔اپنے کلیدی خطاب میں ڈاکٹر نعیم الظفر نے اس زراعت شماری کی تبدیلی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا، "یہ صرف ایک ڈیٹا اکٹھا کرنے کی مشق نہیں ہے، بلکہ یہ شواہد پر مبنی فیصلے کرنے کی بنیاد ہے جو ہمارے زرعی شعبے کو پائیدار ترقی کی طرف لے جائے گی۔پہلی بار، ہم ایک مربوط اور مکمل طور پر ڈیجیٹل طریقہ اختیار کر رہے ہیں، جس میں زرعی، لائیو اسٹاک اور مشینری کے شمار کو ایک جامع آپریشن میں ضم کیا گیا ہے۔زراعت شماری کے مقاصد کو بیان کرتے ہوئے، ڈاکٹر نعیم الظفر نے مزید کہا، "یہ زراعت شماری پاکستان کے زرعی ڈھانچے، فصلوں کے نمونوں، لائیو اسٹاک کی آبادی، اور مشینری کے رجحانات کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرے گی۔جدید آلات جیسے کہ ٹیبلٹ پر مبنی ڈیٹا کلیکشن، جی آئی ایس ڈیش بورڈز، اور ریئل ٹائم مانیٹرنگ کا استعمال درستگی، اعتماد اور بروقت ڈیٹا کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے۔ یہ منصوبہ بین الاقوامی بہترین طریقوں اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے رہنما اصولوں کے مطابق ہے۔انہوں نے تیاریوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ سندھ میں 1,695 زراعت شماری کنندگان اور نگرانوں کو 30 مقامات پر تربیت دی گئی ہے تاکہ ڈیٹا کے معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے سندھ کی زرعی معیشت میں اہم کردار کی بھی تعریف کی, جس میں 82 لاکھ ایکڑ قابلِ کاشت زمین شامل ہے اور کپاس، چاول، گنا، اور گندم جیسی اہم فصلیں پیدا کی جاتی ہیں۔تقریب میں، وزیر برائے لائیو اسٹاک اور فشریز، محمد علی ملکانی نے اپنے خطاب میں کہا، "یہ زراعت شماری ہمارے زرعی طریقوں کو جدید بنانے اور خوراک کی یقین دہانی، ماحولیاتی بحران، اور دیہی ترقی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک تاریخی قدم ہے۔سندھ کا زرعی شعبہ اس کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، جو ہماری 37 فیصد آبادی کو سہارا دیتا ہے۔ اس زراعت شماری سے حاصل ہونے والی معلومات پالیسی سازوں کو بہتر فیصلے کرنے اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے کے قابل بنائے گی۔وزیر نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں، تعلیمی اداروں، اور دیگر متعلقہ شراکت داروں کی مشترکہ کاوشوں کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا، "ہم جو ڈیٹا اکٹھا کریں گے، اس کے دور رس اثرات ہوں گے، جو کسانوں کی بہتری، پیداواری صلاحیت میں اضافہ، اور خوراک کی حفاظت کو مضبوط بنائیں گے۔سید ناصر حسین شاہ، وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات اور توانائی نے بھی تقریب سے خطاب کیا اور کہا، "ہماری حکومت جدید طریقوں کے ذریعے زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ زراعت شماری اس وژن کو پورا کرنے کی ایک اہم کڑی ہے۔تقریب میں موجود صحافیوں نے معززین سے سوالات کیے، جن میں گزشتہ 16 سال سے زراعت شماری کے نہ ہونے کی وجوہات اور موجودہ شماریات کی درستگی، مطابقت اور کارکردگی پر سوالات شامل تھے، خاص طور پر ماحولیاتی بحران کے تناظر میں۔فیلڈ آپریشنز یکم جنوری سے 10 فروری 2025 تک جاری رہیں گے، جبکہ حتمی نتائج اگست 2025 تک متوقع ہیں۔ یہ منصوبہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون اور ٹیکنالوجی کے ذریعے گورننس کو بہتر بنانے اور زرعی شعبے کی پائیدار ترقی کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔

    مجلس وحدت مسلمین کا ملک بھر میں دھرنے ختم کرنے کا اعلان

    سندھ نے وفاقی اداروں سے پانی کے 20 ارب مانگ لیے

    دُھند کا راج برقرار، موٹر وے سیکشنز بند

  • لینڈ انفارمیشن اینڈ منیجمنٹ سسٹم کا افتتاح کردیا گیا

    لینڈ انفارمیشن اینڈ منیجمنٹ سسٹم کا افتتاح کردیا گیا

    وزیراعظم شہبازشریف نے لینڈ انفارمیشن اینڈ منیجمنٹ سسٹم کا افتتاح کردیا، جو پاکستان کی تاریخ میں زرعی شعبےکی ترقی کا پہلا جامع حکومتی اقدام ہے جبکہ اسلام آباد میں لینڈ انفارمیشن اینڈ منیجمنٹ سسٹم کی افتتاحی تقریب ہوئی، جس کے مہمان خصوصی وزیراعظم شہبازشریف تھے۔ وزیراعظم شہبازشریف نے ”لینڈ انفارمیشن اینڈ منیجمنٹ سسٹم“ کا افتتاح کردیا، اس موقع پر آرمی چیف جنرل عاصم منیر، وزیرخزانہ اسحاق ڈار اور وزیردفاع خواجہ آصف سمیت دیگر وفاقی وزراء بھی موجود تھے۔

    اعلامیے کے مطابق لِمز کے قیام کا مقصد فوڈ سکیورٹی اور زرعی برآمدات کو بڑھانا اور درآمدات کو کم کرکے قومی خزانے پربوجھ کم کرنا ہے۔ لمز جدید زراعت کے فروغ کیلئے حکومت پاکستان، پاک فوج کا بےمثال منصوبہ ہے، جس کا قیام پاکستان میں زراعت کے شعبے میں انقلاب کا باعث بنے گا۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں زرعی شعبےکی ترقی کا پہلا جامع حکومتی اقدام ہے، جو پاکستان کی فوڈ سیکیورٹی بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا، اور اس کے قیام سے کسانوں کو منڈیوں تک براہ راست رسائی حاصل ہوگی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بہکی بہکی باتیں،عمران کی ذہنی حالت تشویشناک، مبشر لقمان کا اہم ویلاگ
    آئی سی سی ورلڈ کپ سے پہلے دوسرا بڑا اپ سیٹ ہو گیا
    عمران خان کیخلاف مقدمات کی تفصیلات فراہمی تک کاروائی روکی جائے، وکیل
    یونان کشتی حادثہ کے بعد کاروائیاں،35 انسانی سمگلرز گرفتار
    نومئی واقعات،خواتین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو گا
    سویڈن واقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان نے فارن آفس میں مذمتی قرارداد جمع کرا دی
    پروگرام کے ذریعے ملک میں عوام کیلئے نوکریوں کے وسائل بھی پیدا ہوں گے، جب کہ منصوبے کے مقاصد میں ضائع کی ہوئی اورغیر کاشت شدہ زمین کی بحالی کرنا ہے، اور منصوبے کے تحت سیلابی پانی کو محفوظ کرنے کیلئے نئی نہریں بنائی جائیں گی۔

  • وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس, ملک کے زرعی شعبے کی اصلاحات پر جائزہ

    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس, ملک کے زرعی شعبے کی اصلاحات پر جائزہ

    اسلام آباد: 8 فروری 2021
    وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک کے زرعی شعبے کی بحالی کے حوالے سے اصلاحات پر جائزہ اجلاس۔
    اجلاس میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، وزیر برائے اقتصادی امور مخدوم خسرو بختیار، وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام، مشیر وزیر اعظم ڈاکٹر عشرت حسین، وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار، وزیر اعلی خیبر پختون خواہ محمود خان، معاونین خصوصی ڈاکٹر معید یوسف، ڈاکٹر وقار مسعود، گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر، پنجاب اور خیبر پختون خواہ کے صوبائی وزراء مخدوم ہاشم جواں بخت، محمد سبطین خان، حسین جہانیاں گردیزی، سید صمصام حسین بخاری، سردار حسنین بہادر دریشک، تیمور سلیم جھگڑا، سید محمد اشتیاق، نجی شعبے کے نمائندگان اور متعلقہ محکموں کے سینئر افسران شریک تھے۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ ملکی مجموعی پیداوار میں زرعی شعبے کا حصہ موجود استعداد سے کم ہے۔ اسی طرح گندم چاول، مکئی، کپاس اور گنے کی پیداوار بھی خطے کے مقابلے میں کم ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ موثر حکمت عملی اورکسانوں کو مالی و تکنیکی معاونت کی فراہمی سے زرعی پیداوار کے تناسب کو سال 2031تک 74ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ سال 2020 میں ملکی مجموعی پیداوار میں زرعی شعبے کا حصہ49ارب ڈالر رہا جس میں اکتیس ارب ڈالر لائیو سٹاک، ایک ارب فشریز جبکہ سترہ ارب ڈالر زرعی فصلوں کی مد میں ریکارڈ کیا گیا۔ سال2000میں یہ حصہ بیس ارب ڈالر تھا جس میں دس ارب ڈالر لائیوسٹاک جبکہ فصلوں کا حصہ دس ارب ڈالر تھا۔ اس اعتبار سے گذشتہ بیس سالوں میں زرعی فصلوں کی پیداوار میں صلاحیت کے مطابق استعداد کو برؤے کار نہیں لایا جا سکا۔
    ٭ مختلف اجناس کے حوالے سے بتایا گیا کہ گندم کی فصل میں ملکی اوسطاً پیداراو 29من فی ایکٹر، چاول 50من، مکئی57من، کاٹن18 اور گنے کی پیداوار 656من رہی ہے جبکہ بھارت میں یہ پیداوار بالترتیب گندم 51من، چاول64، مکئی42، کاٹن 18جبکہ گنے کی پیداوار اوسطاً 796من رہی ہے۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں پراگریسیو کسان کی اوسطاً پیداوار گندم 45من فی ایکڑ، چاول80من، مکئی، 80من، کاٹن 35 من جبکہ گنا میں اوسطاً پیداوار 950من ہے۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت کسان کو فی ایکڑ140ڈالر ایگری کریڈٹ دستیاب ہے جبکہ بھارت میں یہ 369ڈالر، امریکہ میں 192جبکہ چین میں 628ڈالر میسر آ رہا ہے۔ اسی طرح سبسڈی کی مد میں بھی ہمارے کسان کو دیگر ممالک کے مقابلے میں کم معاونت میسر ہے جو کہ اوسطاً 27ڈالر فی ایکڑ ہے۔ اجلاس کو زرعی شعبے میں موجود استعداد کو برؤے کار لانے کے حوالے سے مجوزہ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان 2021پر تفصیلی بریفنگ
    وزیرِاعظم کو پیش کردہ ایگری کلچر ٹرانسفارمیشن پلان کے پہلے مرحلے میں سیڈ (بیج) سیکٹر میں اصلاحات، ڈیجیٹل سبسڈی کا نظام متعارف کرانے، مشینری کے استعمال کے فروغ، پانی کا موثر استعمال، کاشتکاروں کو کریڈٹ کی فراہمی، ایکسٹینشن سروسز کی تنظیم نو، سٹوریج کی سہولیات اور تحقیقاتی شعبوں میں اصلاحاتی پروگرام متعارف کرانے سمیت آٹھ بڑے اقدامات کی نشاندہی۔
    پلان کے تحت کپاس، زیتون، مال مویشیوں میں جنیٹک امپروومنٹ اور فشریز (ماہی گیری) کو ترجیحاتی شعبے کے طور پر لیا جائے گا۔
    مندرجہ بالا شعبہ جات میں اصلاحات پر عمل درآمد کے حوالے سے مجوزہ ٹائم لائنز وزیرِ اعظم کو پیش
    کسانوں کو ٹارگیٹیڈ سبسڈی کی فراہمی کے لئے ڈیجیٹل طریقہ کار پر تفصیلی بریفنگ
    اجلاس کو بتایا گیا کہ موجود اعداد وشمار کے مطابق صوبہ پنجاب میں 67فیصد کسانوں (تقریبا سینتیس لاکھ) کا ڈیٹا موجود ہے۔ جن میں سے اٹھارہ لاکھ کسان کسی نہ کسی صورت میں ڈیجیٹل نظام سے سروسز استعمال کر چکے ہیں۔ نو لاکھ کسانوں کو سبسڈی فراہم کی گئی ہے۔ جبکہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں چار لاکھ کسان ڈٖیجیٹل پلیٹ فارم پر ریجسٹرڈ ہیں۔
    زرعی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے مشینری کے استعمال کے فروغ کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ جس میں گورنمنٹ کی جانب سے درکار معاونت کے حوالے سے مجوزہ اعدادو شمار پیش کیے گئے
    وزیرِ اعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانا، زرعی شعبے کا فروغ اور کسان کو اس کا جائز حق دلواناموجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ملکی معیشت میں زراعت کی اہمیت کے باوجود ماضی میں اس شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور ٹیکنالوجی کے فروغ کو نظر انداز کیاگیا جس کا خمیازہ ہمارے کسان اور ملکی معیشت کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
    وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی بڑھتی آبادی کے پیش نظر فوڈ سیکیورٹی کے چیلنجز سے نبرد آزما ہونے، خوراک کی درآمدات پر آنے والے اخراجات میں کمی لانے اور شعبے میں موجود پوٹینشل کو برؤے کار لانے کے لئے زرعی شعبے کی بحالی اور ترقی ایک قومی ترجیح ہے
    اجلاس میں زرعی شعبے کے فروغ کے حوالے سے وزیرِ اعظم کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام کا فیصلہ
    کمیٹی وفاقی و صوبائی حکومتوں کے نمائندگان، نجی شعبے اور ماہرین پر مشتمل ہوگی جو ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پلان کو حتمی شکل دیکر وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی تاکہ اس پر ترجیحی بنیادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔