Baaghi TV

Tag: زرعی ملک

  • کئی کپتانوں نے ورلڈکپ جیتے کسی نے اپنے ملک کی تباہی نہیں کی،ناز بلوچ

    کئی کپتانوں نے ورلڈکپ جیتے کسی نے اپنے ملک کی تباہی نہیں کی،ناز بلوچ

    قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر کی صدارت میں ہوا،

    ممبر قومی اسمبلی ناز بلوچ نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ایک عظیم لیڈر تھیں انہوں نے اپنے خلاف ہونے والے عدم اعتماد کے معاملے کو انتہائی بردباری کے ساتھ ہینڈل کیا ،عدم اعتماد کے ووٹ کے باوجود انہون نے کہا کہ آئیے سب مل کر پاکستان کی خدمت کریں، آئیے مل کر پاکستان کی معیشت کو بہتر کریں آئیے مل کر اس ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں جبکہ کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ نفرت کے بیج بوئے ہیں جو کہ انتہائی خطرناک ہیں انہوں نے نوجوانوں کو گمراہی کے راستے میں دھکیلا ہے

    ناز بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کا شکار ہے، بھارت منفی پراپیگنڈا کرتا ہے ہمارے وزیر خارجہ نے بھارت کو منہ توڑ جواب دیا ہے،ہم سب پاکستانی پیدائشی طور پر محب وطن ہیں،جو شخص اس سے پہلے وزیر اعظم تھا وہ کہتا تھا مودی کے پاس کشمیر کے مسلئے کا حل ہے،بہت ملکوں کے کپتانوں نے ورلڈکپ جیتے لیکن کسی نے اپنے ملک کی اتنی تباہی نہیں کی،

    سابقہ حکومت کی نااہلی کا بول کر عوام پر بوجھ ڈالا گیا،ناصر خان موسیٰ زئی
    رکن قومی اسمبلی ناصر خان موسیٰ زئی نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کہا جاتا جس ملک، جس گھر ،جس فرد کی مالی حالت ٹھیک ہو تو اس کے دیگر معاملات بھی ٹھیک ہو جاتے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ یہ بجٹ اگر پاکستان کے مالی حالات کو ٹھیک کرتا ہے تو اس سے عوام ، اداروں اور پولیٹیکل استحکام اور دنیا میں ہماری اہمیت اور قدر ہوگی لیکن اگر یہ بجٹ پاکستان کے مالی حالات کو ٹھیک نہیں کرسکتا تو اس سے ہر شہری مہنگائی سے پریشان ہوگا ،بجٹ بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان میں جتنے بجٹ بھی آئے ان میں سابقہ حکومت کی نااہلی کا بول کر عوام پر بوجھ ڈالا گیا

    ہمیں بچپن میں پڑھایا گیا کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور پاکستان کی 70 سے 75 فیصد آبادی دیہی ہے، مگر آج 75 سال گز جانے کے باوجود پاکستان گندم، چینی اور دالیں درآمد کر رہا ہے،زراعت سے بنگلادیش، چین، برازیل، فرانس اور دیگر ممالک خود کو معاشی طور پر خودمختار بنارہے ہیں،ہونا تو یہ چاہئے ہے کہ پاکستان گندم، چینی، دالیں دنیا کو برآمد کرتا،ہمیں پاکستان کی قومی پالیسی کو فروغ دینا ہوگا،

    ہماری درسگاہوں میں اخلاقی اقدار کی تعلیم دینی چاہیے ،وزیرِ دفاع
    وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے انہوں نے اسپیکر صاحب سے استدعا کی کہ میری 14 جون کو کی گئی تقریر سے وائس چانسلرز کے لیے استعمال کیے گئے ایک لفظ کو حذف کردیا جائے،میرے کہے لفظ سے کسی کی دل آزاری ہو تو میں معذرت خواہ ہوں، میرے دل میں اساتذہ اور تعلیمی درسگاہوں کی بڑی عزت ہے،میری تقریر کا مقصد کرپشن کے خلاف آواز اٹھانا تھا چاہے وہ حکومتی اداروں یا سیاست میں ہو، عدلیہ میں ہو یا بیوروکریسی میں یا ملک کے کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں ہو میں نے تمام کا احاطہ کیا،یہ کہنا زیادتی ہے کہ اس کرپشن کے سمندر میں ہماری درسگاہیں اور تعلیمی شعبہ ایک جزیرہ ہے،ہمارے ملک میں کرپشن اتنی عام ہوگئی ہے کہ وہ قابلِ قبول بن گئی ہے،ہماری درسگاہوں میں اخلاقی اقدار کی تعلیم دینی چاہیے،اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے خواجہ آصف کی جانب سے ذمہ دارانہ طرزِ عمل پر انہیں سراہا اور 14 جون میں وائس چانسلرز کے لیے استعمال کیے گئے لفظ کو حذف کردیا۔

    ایم این اے میر منور تالپورنے قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر سندھ کو فلڈ ریلیف فنڈز نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سندھ میں سیلاب سے 20 لاکھ سے زائد گھر متاثر ہوئے مگر وفاقی حکومت کی طرف سے ریلیف کے لئے قابل ذکر فنڈ نہیں رکھے گے اور نہ ہی پی ایس ڈی پی میں سی کوئی ایلوکیشن نظر آ رہی ہے وزیراعظم اس معاملے کا نوٹس لیں

    بجٹ کا پیسہ عوام کے مسائل حل کرنے کے بجائے اشرافیہ کی نذر ہوجاتا ہے. کیماڑی جلسہ عام سے خطاب
    پاکستان، ایران اورترکیہ کے مابین ریل روڈ نیٹ ورک کا منصوبہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ وزیر اعظم
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی

  • گوجرہ :زرعی ملک میں آٹے کا بحران لمحہ فکریہ ہے – رانا سعید راشد منج

    گوجرہ :زرعی ملک میں آٹے کا بحران لمحہ فکریہ ہے – رانا سعید راشد منج

    گوجرہ باغی ٹی وی( نامہ نگار عبدالرحمن جٹ )زرعی ملک میں آٹے کا بحران لمحہ فکریہ ہے – رانا سعید راشد منج
    تفصیل کے مطابق عوامی جسٹس پارٹی پاکستان کے مرکزی سینئر نائب صدر رانا محمد سعید راشد منج نے کہا کہ زرعی ملک میں آٹے کا بحران لمحہ فکریہ ہے۔آئے روز کسی نہ کسی چیز کا بحران جنم لے رہا ہے۔حکمرانوں کی ناقص پالیسوں کا خمیازہ عوام بھگت رہی ہے۔ریاست اپنی ذمہ داری نبھانے میں مکمل نا کام عوام مسائل کی چکی میں پس کر رہ گئی ذمہ داران کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آٹے کی فراہمی کو ہر ممکن یقینی بناتے ہوئے ترجیہی بنیادوں پر ریلیف فراہم کیا جائے۔لمبی قطاروں میں بزرگ،خواتین،مرد،بچے انتظار کے بعد کھلی ہاتھ لوٹ کر جانے پر مجبورسستے آٹے کے نام پر تذلیل باعث افسو س ہے۔ غریب، مزدور،دیہاڑی دار طبقہ محنت مزدوری کرے یا آٹا لینے کیلئے لائنوں میں سارا سارا دن کھڑے ہوں۔مہنگائی نے جینا محال کر دیا اوپر سے بنیادی سہولتیں بھی عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔سیاستدان قوم کے حال پر رحم کھائیں۔ اقتدار کی رسہ کشی،سیاسی نورا کشتی میں عوامی مسائل نظر اندازغریب کے منہ سے نوالہ بھی چھینا جا رہا ہے۔ملکی سیاست میں اپوزیش نام کا کوئی وجود نہیں ہر دور میں اقتدار میں رہنے والی پارٹیاں آج بھی کسی نہ کسی جگہ اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہیں۔عوامی جسٹس پارٹی پاکستان ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی،سابقہ اور موجودہ حکمرانوں کی ناقص پالیسوں کے خلاف احتجاج کرے گی۔

  • ہاتھی دانت سے پلاسٹک تک!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ہاتھی دانت سے پلاسٹک تک!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پلاسٹک کا لفظ یونانی زبان کے لفظ "پلاسسٹیکوس” سے نکلا ہے جسکے معنی مختلف اشکال میں تبدیل ہونے کی صلاحیت کے ہیں۔

    انیسویں صدی کے وسط تک صنعتی ترقی کے باعث جانوروں سے حاصل کردہ مصنوعات کی کھپت میں اضافہ ہونے لگا۔ اُس زمانے میں ہاتھی دانت کا استعمال مختلف اہم اشیا میں ہوتا جیسے کہ پیانو کے کی بورڈ میں یا سنوکر بالز میں۔ اسی طرح کچھوؤں کے خول سے کنگھی بنائی جاتی۔ اور دیگر جانوروں کی ہڈیوں یا سینگوں سے مختلف طرح کی روزمرہ کے استعمال کی اشیاء ۔ ایسے میں کئی جانوروں کی نسل معدوم ہونے کا خطرہ بڑھتا گیا۔

    اس مسئلے کے حل کے لیے مصنوعی میٹریل کی تلاش تھی جو پائیدار اور مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ سستا بھی ہو۔ یہ بات آپکو حیران کن لگے مگر پلاسٹک کی ایجاد دراصل ماحول اور جانوروں کو بچانے کے لیے کی گئی۔ 1862 میں برطانیہ کے ایک کیمیاء دان الییکسنڈر پارکِس نے ایسا میٹریل ایجاد کیا جسے دنیا کا سب سے پہلا پلاسٹک کہا جا سکتا ہے۔ (ویسے فطرت میں بھی کچھ قدرتی پلاسٹک پائے جاتے ہیں). اس پلاسٹک کا نام پارکیسائن رکھا گیا۔ اسے مختلف اشیاء میں ہاتھی دانت اور کچھوے کے خول کے متبادل کے طور پر استعمال کرنا مقصود تھا۔ یہ پلاسٹک دراصل کپاس کے دھاگوں کو گندھگ اور نائیٹرک ایسیڈ میں حل کر کے بنایا جاتا جسکے بعد اس میں سبزیوں سے نکلا تیل شامل کیا جاتا۔ بعد میں اس پلاسٹک کا استعمال سینما گھروں کی ریلز میں، کنگھوں میں اور بلیئرڈ کی گیندوں میں عام ہونے لگا۔ سستا ہونے کے باعث اب یہ عوام میں مقبول ہونے لگا۔ مگر اسکا استعمال ابھی بھی محدود تھا۔

    1907 میں بیلجیم کے ایک کیمیا دان لیو بائیکی لینڈ نے پہلا ستنھیٹک پلاسٹک متعارف کرایا۔ یہ محض دو کیمیکلز کے کو لیبارٹری میں حرارت اور دباؤ کے زیرِ اثر لا کر بنایا گیا۔

    دوسری جنگِ عظیم کے بعد خام تیل اور پلاسٹک انڈسٹری کے اشتراک سے پلاسٹک ٹیکنالوجی مزید بہتر آئی اور اسکا استعمال پیکنک اور روزمرہ کی اشیاء میں بڑھتا گیا۔

    بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ تمام طرح کا پلاسٹک ماحول کے لئے برا ہے۔ یہ بت مکمل نہیں ۔ دراصل ایک بار استعمال ہونے والا پلاسٹک ماحول کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہے۔

    چند اور اہم مسائل بھی پلاسٹک سے جڑے ہیں۔جن میں اس کی تیار ہونے کے عمل میں زیریلی اور مضرِ صحت گیسوں اور کیمکلز کا اخراج اور قدرتی ماحول میں ڈی کمپوز نہ ہونا شامل ہے۔ پلاسٹک کی عمر بے حد طویل ہوتی ہے۔ایک پلاسٹک کے ٹکڑے کو جو بوتلوں، پییکنگ یا گھریلو استعمال کے کام اتا ہے، ماحول میں ڈی کمپوز جعنی گلنے سڑنے ہونے میں صدیاں لگ جاتی ہیں۔وجہ یہ کہ اسےقدرت میں موجود بیکٹریا یا دیگر مائیکروب آسانی سے کیمیائی طور پر توڑ نہیں سکتے۔اسکے علاوہ یہ آکسیجن یا فضا میں موجود دیگر گیسوں یا پانی میں موکود کئی کیمکلز سے کیمیائی تال میل نہیں رکھتا۔

    یہی وجہ ہے کہ پلاسٹک کے فضلے کو صحیح طور پر ٹھکانے لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔یہ نکاسی آب کے راستے دریاؤں، ندی نالوں سے ہوتا ہوا سمندروں تک جا پہنچتا ہے۔

    ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سالانہ 80 لاکھ ٹن پلاسٹک سمندروں میں جاتا ہے۔

    پلاسٹک محض سمندروں میں نہیں، اسکے چھوٹے چھوٹے ذرات ہماری خوراک، ہوا اور پینے کے پانی میں بھی موجود ہوتے ہے۔ اسے مائیکرپلاسٹک کہتے ہیں۔ یہ محض انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں بلکہ اس سے پودوں اور جانوروں کی نشونما پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

    دنیا بھر میں پلاسٹک کی آلودگی کے حوالے سے آج سنجیدگی سے کام ہو رہا ہے۔اسکے استعمال کو روکنے یا کم کرنے کے لئے پلاسٹک کی آلودگی کے حوالے سے بہت سی حکومتیں اور فلاحی تنظیمیں آگاہی مہم چلا رہی ہیں ۔ اسکے علاہ پلاسٹک کی ری سائیکلنگ کے حوالے سے حکومتی اور پرائیویٹ سطح پر پلانٹس لگائے جا رہے ہیں۔

    کولڈ ڈرنک اور دیگر خوراک بنانے والی کمپنیوں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی مصنوعات میں استعمال ہونے والے پلاسٹک کی زیادہ سے زیادہ ری سائیکلنگ کریں۔

    مثال کے طور پر جرمنی یا دیگر یورپی ممالک میں آپ کولڈ رنکس یا پانی کی بوتلیں خریدنے جائیں تو اس کی کل قیمت پر آپکو اضافی 25 سے 30 سینٹ دینے پڑتے ہیں۔ یہ رقم پلاسٹک کی بوتل کی ہوتی ہے جو بوتل خالی ہونے کے بعد جب آپ سپر مارکیٹ کے باہر لگی مشین میں ڈالتے ہیں تو آپکو واپس کر دی جاتی ہے۔ مقصد گاہک کو مجبور کر کے پلاسٹک کی بوتلوں کی ری سائیکلنگ کو یقینی ںنانا ہوتا ہے ۔
    بالکل ایسے ہی کئی ممالک میں پلاسٹک، پیپر اور کھانے پینے کے کوڑے کے لیے جگہ جگہ الگ رنگ کے کوڑے دان موجود ہوتے ہیں۔ تاکہ بہتر طریقے سے مختلف قسم کے کوڑے کو الگ کر کے اسے ری سائیکل کیا جا سکے۔

    پلاسٹک کی آلودگی کو روکنے کے لیے 30 مائیکرمیٹر سے موٹے تھیلے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ وہ اُڑ نہ سکیں، پائیدار ہوں اور بار بار استعمال کیے جا سکیں۔ جبکہ ہماری ہاں عوام دہی کے لیے بھی کہتے ہے کہ شار ڈبل کروا رہی ہوتی ہے اور زرا سی ہوا چلنے سے شاپر قوم کی مہنگائی کو دیکھ کر اُڑنے والی نیندوں کیطرح اُڑ رہے ہوتے ہیں۔

    پاکستان میں پلاسٹک کی آلودگی ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ چونکہ یہ زرعی ملک ہے لہذا یہاں ایک وسیع آب پاشی کا نظام ہے۔

    شہروں میں آبادی بڑھنے، ، پہاڑی علاقوں کی سیاحت اور عوام میں بے حسی کے اضافے کے باعث ہماری آبی گزرگاہیں، شہر، دیہات سب پلاسٹک کی لپیٹ میں ہیں۔۔یوں لگتا ہے کچھ عرصے بعد پورا ملک پلاسثک کا بن جائے گا۔

    مگر اس آلودگی کو لیکر حکومتی سنجیدگی، واضح پالیسی یا حکمت عملی کا مکمل فقدان ہے۔اشرافیہ میں بیٹھے "محترم” بابے خود شاپر کی شکل کے ہوتی جا رہے ہیں۔ توندیں اور بے حسی بڑھتی اور عقل اور سر کے بال گھٹتے جا رہے ہیں۔

    پلاسٹک کے تھیلوں پر کسی خاص علاقے یا شہر میں پابندی لگا دینا ہی کافی نہیں ۔ اس حوالے سے آگاہی مہم چلانا، پلاسٹک کے تھیلوں کی کوالٹی کو بہتر بنانا، ایک سے زائد بار پلاسٹک کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرنا، پلاسٹک کے متبادل ماحول دوست پیپر یا کپڑے کے تھیلے استعمال کرنا، غیر ضروری طور پر پلاسثک کے استعمال کو روکنا وغیرہ وغیرہ یہ وہ سنجیدہ اقدامات ہیں جن سے ملک میں پلاسٹک کی آلودگی کو کم کر کے انسانوں، اور دیگر جانداروں کے لیےرہنے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔

    ملک کو صاف رکھ کر اسکی خوبصورتی میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اور دنیا کے سامنے پاکستان کا ایک مثبت اور ماحول دوست چہرا سامنے لا کر اسے غیر ملکی سیاحت کے لیے پُر کشش بنایا جا سکتا ہے۔ غیر ملکی سیاحوں کو مفت کی روٹیاں اور "گورے کمپلیکس” کے علاوہ بھی کئی طریقے ہیں سیاحت کے فروغ کے لیے جو تادیر اثر رکھتے ہیں۔جن میں سب سے اہم یہ پلاسٹک کی آلودگی کا خاتمہ اور ملک کو صاف کرنا ہے۔

    ضرورت واضح حکمت عملی اور شعور کی ہے۔

  • ٹماٹر کی کہانی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    ٹماٹر کی کہانی!!! — ڈاکٹر حفیظ الحسن

    پاکستان میں اس وقت ٹماٹر بے حد مہنگا بک رہا ہے۔ بڑے شہروں میں غالباً 500 روپے کلو سے بھی زیادہ۔ آئے روز ملک میں روزمرہ کی مختلف سبزیوں کی مارکیٹ میں شارٹیج یا کمی رہتی ہے جس سے انکی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو جاتا ہے۔ مگر رکیے ٹماٹر سبزی نہیں بلکہ ایک پھل ہے۔ ویسے بینگن بھی پھل ہے۔ ٹماٹر کا سائنسی نام Solanum lycopersicum L ہے۔ گھبرائے نہیں آپ اسے ٹماٹر ہی کہیئے۔

    یہ بات سن کر آپ شاید حیران ہوں کہ ہمارے آباؤ اجداد اور پُرکھوں کے کھانوں میں ٹماٹر نہیں ڈلتا تھا۔ زیادہ نہیں تین چار صدیاں پیچھے چلے جائیں تو برصغیر میں ٹماٹر تھا ہی نہیں۔ ٹماٹر دراصل لاطینی امریکہ اور میکسیکو میں اُگا کرتے تھے۔ پندرویں اور سولہویں صدی میں جب ہسپانویوں نے ان علاقوں پر قبضہ کیا تو یہاں کے مقامی لوگ ٹماٹروں کو اپنے کھانوں میں استعمال کیا کرتے تھے مگر یہ ٹماٹر سائز میں آج کے ٹماٹروں سے بے حد چھوٹے اور مٹر کے دانوں جتنے ہوتے۔ سولویں صدی میں ٹماٹر یورپ آئے مگر انہیں کھانوں میں نہیں بلکہ زیادہ تر سجاوٹ کے طور پر اُگایا جاتا۔ برِ صغیر میں بھی ٹماٹر سولہویں صدی میں پرتگالیوں نے متعارف کرایا۔ پرتگالیوں نے ہی یہاں آلو اور مرچیں بھی متعارف کرائیں گویا برِ صغیر میں پہلے نہ ٹماٹر تھا، نہ آلو اور نہ مرچیں۔ یہ تصور کرنا کچھ مشکل ہے کہ ہمارے پّرکھوں کے کھانے ان تمام سبزیوں اور پھلوں کے بغیر کیسے ہوتے ہونگے۔

    مگر برِ صغیر کے کھانوں میں بھی سولہویں یا سترویں صدی میں ٹماٹر نہیں ڈلتا تھا۔ انیسویں صدی تک جب یورپ اور برطانیہ میں ٹماٹروں کو کھانوں میں استعمال کیا جانے لگا اور یہ مقبول ہوئے تو انگریزوں کو ٹماٹروں کی ضرورت پڑی۔ ایسے میں برِ صغیر کا موسم اور یہاں کی آب و ہوا ٹماٹر اُگانے کے لیے موافق تھی۔ لہذا انگریزوں نے بھارت میں ٹماٹر کو بڑے پیمانے پر کاشت کروانا شروع کیا جسے برطانیہ اور یورپ کی منڈیوں میں بھیجا جاتا۔ اُس زمانے میں بھی ہندوستانی کھانوں میں ٹماٹر محض ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا مگر آہستہ آہستہ یہ کھانوں کا بنُیادی جُز بنتا گیا۔

    آج بھارت اور پاکستان میں 8 ہزار سے بھی اوپر کی ورائٹی کے ٹماٹر اُگتے ہیں۔ 2015 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ٹماٹروں کی کل سالانہ پیداوار تقریباً 57 ہزار ٹن ہے اور اسکی کاشت ملک کے ڈیڑھ لاکھ ہیکٹر کے رقبے پر ہوتی ہے۔ دنیا بھر کی کل ٹماٹروں کی پیدوار میں پاکستان کا حصہ محض 0.3 فیصد ہے۔ پاکستان میں ٹماٹروں کی تقریباً چالیس فیصد پیداور سندھ میں ہوتی ہے جسکے بعد بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب شامل ہیں۔ پنجاب میں ٹماٹروں کی پیداوار دوسرے صوبوں کی نسبت کم ہے۔ ٹماٹر کی سب سے زیادہ پیداوار فی ایکڑ بلوچستان میں ہوتی ہے۔

    گو ٹماٹر ایک منافع بخش فصل ہے مگر کئی اہم مسائل کی وجہ سے کسانوں تک اسکا مناسب منافع نہیں پہنچتا۔ بلوچستان کے ٹماٹر اّگانے والا کاشتکار کو فی ایکڑ منافع پنجاب کے کاشتکار سے زیادہ ملتا ہے۔ اسکی ایک وجہ تو زیادہ پیداور فی ایکڑ جو سستی مزدوری اور مناسب موسم سے جّڑی ہے جبکہ دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ پنجاب کا ٹماٹر مارکیٹ میں کٹائی کے سیزن کے عروج پر آتا ہے جس سے مارکیٹ میں زیادہ رسد ہونے کے باعث اسکی قیمت کم لگتی ہے۔ جبکہ بلوچستان اور سندھ کا ٹماٹر باقی موسموں میں بھی آتا ہے۔

    چونکہ پاکستان کی آبادی کا ایک بڑا حصہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ہے لہذا سندھ اور بلوچستان سے آنے والے ٹماٹر کی ترسیل اور فاصلے کے باعث منڈیوں تک پہنچتے اسکی قیمت میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ اسی لئے ٹماٹر کی قیمت سارا سال بدلتی رہتی ہے کیونکہ مناسب سپلائی چین، سٹوریج اور منڈیوں میں حکومت کی جانب قیمتوں پر مناسب کنٹرول نہ ہونے کے باعث ناجائز منافع خوری کے نتیجے میں اسکی قیمت عام شہری اور کسان کو ادا کرنی پڑتی ہے۔

    ٹماٹر کے کاشتکاروں کے مسائل دیکھیں جائیں تو بہتر کوالٹی کا بیج نہ ہونا، ہائیبریڈ یا امپورٹڈ بیج کا مقامی موسم کی تبدیلیوں کو برداشت نہ کرنا، جڑی بوٹیوں اور کیڑوں کے تدارک کی ادوایات کی خراب کوالٹی، کھاد کی خراب کوالٹی اور قیمتوں میں اضافہ، پیکجنگ کے مسائل، مناسب تربیت اور جدید طریقوں کا فقدان اور کٹائی کے دنوں میں مزدورں کی کمی جیسے اہم مسائل پاکستان میں ٹماٹر کی کاشت پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

    ِان مسائل کا حل کیا ہے؟ حکومت کی کسان دوست پالیسیاں!!

    1. کاشتکاروں کو مناسب اور جدید تربیت فراہم کرنا جس میں بیج کے چناؤ سے لیکر پیکجنگ تک تمام عوامل شامل ہوں۔

    2.مقامی بیج پر تحقیق اور اسکی پیداوار کو مزید بہتر بنانا۔ شدید گرمی اور موسمیاتی تبدیلوں سے مزاحمت کرنے والے بیج پر کام

    3. امپورٹڈ اور ہائبریڈ بیج کی کوالٹی کی حکومت کی جانب سے مناسب جانچ کے بعد ہی اسے مارکیٹ میں فروخت کی اجازت

    4. کھاد اور کیڑے مار ادوایات کی کوالٹی اور قیمت پر کنٹرول

    5. آڑھتی اور کمیشن ایجنٹوں پر کنٹرول اور اس حوالے واضح قانون سازی اور حکمتِ عملی جس سے کسانوں کے استحصال کو روکا جا سکے

    6. خوراک کی مصنوعات پیدا کرنے والی پرائیویٹ کمپنیاں مثال کے طور پر نیسلے یا اینگرو وغیرہ سے معاہدے جو کسانوں کو اُنکی فصل کی مناسب قیمت بلا تاخیر ادا کریں۔

    7. مارکیٹ میں ٹماٹروں کی قیمت کے اُتار چڑھاؤ کو روکنے کے لیے اس بات پر غور کہ اگر بھارت سے ٹماٹر درآمد کیے جائیں تو اسکے کیا فوائد اور نقصان ہو سکتے ہیں؟

    پاکستان جیسے زرخیز اور زرعی ملک میں مقامی پیداوار ہونے کے باوجود سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں کا غریب عوام کی پہنچ سے دور ہونا اپنے آپ میں ایک سوالیہ نشان اور ریاستی اداروں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔