Baaghi TV

Tag: زرعی پیداوار

  • زرعی شعبے کی پیداوار میں بہتری  حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیرِ اعظم

    زرعی شعبے کی پیداوار میں بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے،وزیرِ اعظم

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ملک میں زرعی پیداوار میں اضافے اور زرعی اصلاحات کیلئے جامع لائحہ عمل طلب کر لیا،کہا کہ زرعی شعبے کی پیداوار میں بہتری، ویلیو ایڈیشن اور زرعی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے-

    وزیرِ اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق شہباز شریف کی زیر صدارت زرعی شعبے کی کارکردگی اور جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس منعقد ہوا،اجلاس کو ربیع و خریف کی بڑی فصلوں کی گزشتہ برس پیداوار، کسانوں کو درپیش مسائل، آئندہ کا لائحہ عمل اور تجاویز پیش کی گئیں، وزیرِ اعظم کی زیر صدارت زرعی شعبے کی کارکردگی اور جاری اصلاحات پر جائزہ اجلاس میں زرعی شعبے پر قائم ٹاسک فورس نے بریفنگ دی۔

    اجلاس کو حکومتی اصلاحات کے نفاذ پر پیش رفت اور زراعت پر موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے بارے بھی آگاہ کیا گیا ،اجلاس میں وفاقی وزیرِ غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، زرعی شعبے کے ماہرین اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

    وزیرِ اعظم نے زرعی شعبے کی مزید اصلاحات کیلئے جامع لائحہ عمل جلد پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ زرعی شعبے کی پیداوار میں بہتری، ویلیو ایڈیشن اور زرعی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

    شیخہ اسماء الثانی پاکستان کے پہاڑوں اور سیاحت کی برانڈ ایمبیسیڈر مقرر

    وزیرِاعظم نے اہم ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ جدید زرعی مشینری، معیاری بیج، فصلوں کی جغرافیائی منصوبہ بندی اور کسانوں کو آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی کیلئے اقدامات کا طویل و قلیل مدتی جامع لائحہ عمل پیش کیا جائے، زرعی اجناس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے زرعی شعبے کے تحقیقی مراکز کو مزید فعال بنایا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ زرعی تحقیقی مراکز میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت جدید تحقیق کو یقینی بنایا جائے اور زراعت میں مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کیلئے بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین کی خدمات سے استفادہ حاصل کیا جائے۔

    شہباز شریف نے ہدایت دی کہ زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن سے برآمدی اشیاء کی تیاری کیلئے چھوٹے اور درمیانے درجے کی زرعی صنعت کی ترقی کے حوالے سے اقدامات کا لائحہ عمل بھی پیش کیا جائے اور منافع بخش فصلوں کی کاشت اور پاکستان کو غذائی تحفظ کے حوالے سے خود کفیل بنانے کیلئے کسانوں کو ہر قسم کی راہنمائی فراہم کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔

    پی ٹی آئی سمیت 27 یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کا حکم

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ کسانوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ تجاویز کیلئے مشاورتی عمل کو یقینی بنایا جائے، زرعی شعبے کی ترقی کیلئے صوبائی حکومتوں سے روابط و تعاون مزید مربوط بنایا جائے موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچاؤ کیلئے کلائیمیٹ رزسٹینٹ بیج اور زراعت کے جدید طریقہ کار اپنانے میں کسانوں کی معاو نت کی جائے۔

    شہباز شریف نے کہا کہ بارشوں اور دیگر موسمیاتی تبدیلیوں کی پیش نظر نئے موزوں علاقوں بالخصوص سندھ اور بلوچستان میں کپاس کی کاشتکاری کیلئے صوبائی حکومت سے تفصیلی مشاورت کے بعد جامع منصوبہ بندی کی جائے اور نباتاتی ایندھن (Bio Fuels) کو ملک کے انرجی مکس میں شامل کرنے کیلئے تحقیق اور منصوبہ بندی کی جائے۔

  • مون سون بارشوں کی کمی، بھارت میں زرعی پیداوار متاثر ہونے کا امکان،خوراک کی افراط زر کاخدشہ

    مون سون بارشوں کی کمی، بھارت میں زرعی پیداوار متاثر ہونے کا امکان،خوراک کی افراط زر کاخدشہ

    نئی دہلی: بھارتی محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ رواں سال بھارت میں مون سون بارشیں 2018 کے بعد کی بارشوں میں سب سے کم تھیں جس سے زرعی پیداوار متاثر ہونے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی: دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک بھارت میں تقریباً نصف کھیتوں میں آبپاشی کی سہولت نہیں ہے، جس کی وجہ سے مون سون کی بارشیں زرعی پیداوار کے لیے اور بھی اہم ہیں بحرالکاہل کا پانی گرم ہونے کے عمل کو ”ال نینو“ کہا جاتا ہے جو عام طور پر برصغیر پاک و ہند میں خشک سالی کا باعث بنتا ہےہندوستان کی 3 ٹریلین ڈالرز کی معیشت کے لیے اہم مون سون ملک کی فصلوں کو پانی دینے اور آبی ذخائر کو بھرنے میں 70 فیصد سے زیادہ کردار ادا کرتا ہے۔

    انڈیا میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ (IMD) نے ایک بیان میں کہا کہ جون سے ستمبر تک ملک بھر میں بارش اس کی طویل مدتی اوسط کا 94 فیصد تھی، جو 2018 کے بعد سب سے کم ہےآئی ایم ڈی نے ایل نینو کے محدود اثرات کو مانتے ہوئے اس سیزن کے لیے 4 فیصد بارش کی کمی کا اندازہ لگایا تھا اگست پچھلی مرتبہ کے مقابلے 36 فیصد زیادہ خشک رہا، لیکن ستمبر میں دوبارہ بارشیں بحال ہوئیں اور ملک میں معمول سے 13 فیصد زیادہ بارش ہوئی۔

    کسان کی لگژی گاڑی اوڈی اے 4 میں سبزی بیچنے کی ویڈیو وائرل

    مون سون بارشوں کی بے ترتیب تقسیم دنیا کے سب سے بڑے چاول کے برآمد کنندہ ہندوستان کو چاول کی ترسیل کو محدود کرنے، پیاز کی برآمدات پر 40 فیصد ڈیوٹی لگانے،دالوں کی ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دینے اورممکنہ طور پر نئی دہلی کیجانب سے چینی کی برآمدات پر پابندی لگانے کا باعث بنی ہے-

    موسم گرما میں بارشوں کی کمی چینی، دالیں، چاول اور سبزیوں جیسی اہم چیزوں کو مزید مہنگی کر سکتی ہے اور مجموعی طور پر خوراک کی افراط زر کو بڑھا سکتی ہے کم پیداوار بھی چاول، گندم اور چینی کے دنیا کے دوسرے سب سے بڑے پروڈیوسر بھارت کو اشیائے خوردونوش کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کے درمیان ان اشیاء کی برآمدات پر مزید پابندیاں عائد کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔

    متحدہ عرب امارات میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ

    محکمہ موسمیات نے کہا کہ ملک میں اکتوبر سے دسمبر تک معمول کی بارشیں متوقع ہیں اکتوبر کے دوران ملک کے بیشتر حصوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔